Healthy Heart by Arham

Healthy Heart by Arham Dedicated Cardiologist,
Innovating Heart Treatments, Compassionate Care for Every Patient,
Saving Lives One Beat at a Time,
Embracing Cutting-edge Cardiology

Next to meDr Musadiq.. Consultant Physician (MBBS,FCPS,MRCP)Opposite..Dr Zaeem Ali Khan.. Consultant Otorhinolaryngology...
07/05/2026

Next to me
Dr Musadiq.. Consultant Physician (MBBS,FCPS,MRCP)

Opposite..Dr Zaeem Ali Khan.. Consultant Otorhinolaryngology/ENT.. celebrations of Success.. Mashallah..
In Shaa Allah more in the line..💯😍

02/05/2026
01/05/2026

بچپن میں جب فون پر گیم کھیلتے تھے تو گھر والوں کو لگتا تھا کہ یہ لڑکیوں سے باتیں کرتا رہتا ہے…

اب بڑے ہو گئے ہیں تو یہی شک ہمارے مریضوں کو ہسپتال میں ہو گیا ہے۔

“Blaming the Doctor… or Understanding the System?”ایک تلخ مگر سچی آواز ، جسے سننا ضروری ہے۔حالیہ پوسٹ پر ایک کمنٹ آیا… ا...
01/04/2026

“Blaming the Doctor… or Understanding the System?”
ایک تلخ مگر سچی آواز ، جسے سننا ضروری ہے۔

حالیہ پوسٹ پر ایک کمنٹ آیا… اور سچ یہ ہے کہ وہ صرف ایک کمنٹ نہیں تھا، بلکہ ایک پورے نظام کی تھکن، غصہ اور بے بسی کی عکاسی تھا۔

بات سیدھی ہے:
ایک ڈاکٹر سے یہ توقع رکھنا کہ وہ ایک ڈیوٹی میں 150–200 مریض دیکھے، ہر مریض کو سنے، معائنہ کرے، تشخیص کرے اور علاج دے… کیا یہ حقیقت میں ممکن ہے؟

یہاں مسئلہ نیت کا نہیں،
صلاحیت اور نظام کی حد کا ہے۔

جب ایک ڈاکٹر کے پاس وقت ہی چند منٹ ہو، تو وہ یا تو رفتار بڑھائے گا یا معیار قربان ہوگا۔ دونوں چیزیں ایک ساتھ نہیں چل سکتیں۔ پھر ہم اسی ڈاکٹر پر الزام لگاتے ہیں کہ اس نے “صحیح طرح نہیں دیکھا”۔

حقیقت یہ ہے کہ ہم ایک ایسے نظام میں رہ رہے ہیں جہاں:
مریض زیادہ ہیں، وسائل کم ہیں، اور توقعات غیر حقیقی ہیں۔

دوسری طرف ایک اور اہم نکتہ بھی سامنے آیا:
ہم نے quackery کو سالوں سے برداشت کیا ہے۔
لوگ پہلے حکیم، عطائی، میڈیکل سٹور اور غیر مستند ذرائع سے علاج کرواتے ہیں، اور جب بیماری بگڑ جاتی ہے تو آخر میں ڈاکٹر کے پاس آتے ہیں — اور پھر ذمہ داری بھی اسی پر ڈال دیتے ہیں۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہم نے مریض کے رویے پر کبھی بات نہیں کی۔
بار بار ڈاکٹر بدلنا، ادویات ادھوری چھوڑ دینا، ہر دوسرے دن نئی رائے لینا، اور پھر نظام کو ناکام قرار دینا — یہ سب اس بحران کا حصہ ہیں۔

اور پھر ایک تلخ سچ:
ہم “مفت علاج” کو حق سمجھتے ہیں، مگر اس کے ساتھ آنے والی حدود کو نہیں سمجھتے۔
دنیا کے کئی ممالک میں اپوائنٹمنٹ سسٹم ہے، وقت مقرر ہوتا ہے، اور ایمرجنسی کے علاوہ فوری رسائی ممکن نہیں ہوتی۔
یہاں ہمیں فوری، مفت، اور بہترین — تینوں ایک ساتھ چاہیے ہوتے ہیں۔
جبکہ حقیقت میں کوئی بھی نظام اس دباؤ کو مستقل برداشت نہیں کر سکتا۔

یہ پوسٹ کسی ایک فریق کے دفاع میں نہیں،
بلکہ ایک حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے ہے:

مسئلہ صرف ڈاکٹر نہیں…
اور نہ ہی صرف مریض۔
مسئلہ ایک غیر متوازن، کمزور اور نظرانداز کیا گیا نظام ہے۔

جب تک ہم:

پرائمری ہیلتھ کیئر کو مضبوط نہیں کرتے،
quackery کے خلاف سنجیدہ اقدامات نہیں لیتے،
مریض اور ڈاکٹر دونوں کی ذمہ داری کو نہیں سمجھتے،

تب تک یہی بحث چلتی رہے گی… اور مسئلہ جوں کا توں رہے گا۔

کیونکہ
آسان راستہ الزام دینا ہے…
مشکل راستہ نظام کو سمجھنا اور ٹھیک کرنا ہے۔

ڈاکٹر سید شکیل بادشاہ
سلسلہ: صحت، ریاست اور معاشرہ

30/03/2026

Sometimes I feel the need to detach from the superiority attached to this title.
Because the same word that gives you respect… also attracts pressure, judgment, and silent jealousy from those who couldn’t reach it.
This “Dr.” isn’t just a title—it’s a weight I carry every day.

Alhamdulillah for Everything..
(For the Public being judgemental on social media videos/tiktoke/family vloggers/influencers)

19/03/2026

آج کل جب ہم ہسپتال جاتے ہیں تو وہاں علاج کم اور ایک "جنگ" کا سماں زیادہ نظر آتا ہے۔ وہ رشتہ جو کبھی اندھے اعتبار اور دعا پر ٹکا تھا، آج شک، خوف اور پیسوں کی نذر ہو چکا ہے۔ لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا کہ یہ نوبت یہاں تک پہنچی کیسے؟
پرانے وقتوں میں ڈاکٹر مریض کی نبض پکڑ کر یا پیٹ پر ہاتھ رکھ کر بتا دیتا تھا کہ تکلیف کیا ہے۔ آج کا ڈاکٹر بھی جانتا ہے کہ یہ "اپینڈکس" کا درد ہے یا یہ ہرنیا یا پتے میں پتھری کا درد ہے ، لیکن وہ اپنی زبان سے کہنے کی ہمت نہیں کرتا۔ کیوں؟ کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اگر کل کو عدالت یا میڈیا میں کھڑا ہونا پڑا تو اس کی مہارت نہیں بلکہ "لیب یا الٹراساؤنڈ رپورٹ" بولے گی۔ مریض کا اعتبار ڈاکٹر کے تجربے سے زیادہ لیبارٹری اور مشینوں کا مرہون منت رہ گیا ہے۔

​آج ایک ڈاکٹر مریض کو دوسرے سپیشلسٹ کے پاس صرف اس لیے نہیں بھیجتا کہ کیس پیچیدہ ہے، بلکہ اکثر اس لیے بھیجتا ہے کہ اگر کوئی انہونی ہو گئی تو مریض اور یہ نظام ڈاکٹر کو مورد الزام ٹھہراۓ گا اور دوسری وجہ یہ کہ اگر کوئ پیچیدگی ہو تو اکیلا اس ڈاکٹر کو ذبح نہ کیا جائے۔ جب "ڈاکٹر یہ سوچے گا کہ نظام میں رہتے ہوۓ خود کو کیسے بچانا ہے تو مرہض اسی طرح رولنگ سٹون بنتا رہے گا

​حکومتوں نے نہ ڈاکٹر کو تحفظ دیا، نہ ہسپتالوں کو سیکیورٹی۔ رہی سہی کسر میڈیا کے منفی پروپیگنڈے نے پوری کر دی۔ نتیجہ؟ آج نجی ہسپتال "سیریس کیس" لینے سے کتراتے ہیں۔ وہ مریض کو ایک فٹ بال کی طرح ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیج دیتے ہیں کیونکہ انہیں ڈر ہے کہ اگر مریض کی جان چلی گئی تو مشتعل ہجوم ہسپتال جلا دے گا اور ڈاکٹر کی تذلیل ہوگی۔

​یہ تلخ حقیقت ہے کہ کچھ ڈاکٹرز کے لیے پیسہ ہی سب کچھ ہو گیا ہے، جس نے اس پیشے کو بدنام کیا۔ لیکن دوسری طرف مریضوں کا رویہ بھی بدل گیا ہے۔ عدم برداشت، گالی گلوچ اور معمولی بات پر ہاتھ اٹھانا اب عام ہے۔ جب مسیحا "مریض سے زیادہ خود کو بچانے " پر توجہ دے گا، تو نقصان صرف اور صرف مریض کا ہوگا۔

​اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں علاج کے لیے در بدر نہ بھٹکنا پڑے، تو ہمیں چند چیزیں بدلنی ہوں گی:
​ڈاکٹرز کو اپنے کام میں خلوص اور رحم دلی واپس لانا پڑے گی ، صرف پیسہ ہی سب کچھ نہیں ہوتا۔
​عوام کو سمجھنا ہو گا کہ ڈاکٹر بھی انسان ہے، اسے خدا نہ سمجھیں ، اسے دشمن نہ سمجھیں ۔
​حکومت کو چاہیے ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کو سیکیورٹی دیں تاکہ وہ بے خوف ہو کر جانیں بچا سکیں۔
​ یاد رکھیں... جب ڈاکٹر "محفوظ" نہیں ہوگا، تو مریض کبھی "صحت یاب" نہیں ہوگا۔

22/02/2026

1min..
پاکستان میں ایک خاموش تبدیلی آ چکی ہے، مگر شاید ہم نے اسے محسوس نہیں کیا۔
آج بہت سے ڈاکٹر مریض کے علاج سے زیادہ ایک اور چیز کے بارے میں سوچتے ہیں — خود کو بچانا۔
اسے دنیا میں Defensive Medicine کہا جاتا ہے۔

یعنی ایسا علاج جو صرف مریض کی ضرورت کے مطابق نہیں بلکہ ممکنہ شکایات، مقدمات، سوشل میڈیا ٹرائل یا انتظامی دباؤ سے بچنے کے لیے کیا جاتا ہے۔

ظاہر ہے سننے میں یہ عجیب لگتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جب کسی نظام میں اعتماد کمزور ہو جائے تو فیصلے طبّی اصولوں کے بجائے خوف کے تحت ہونے لگتے ہیں۔

پاکستان میں گزشتہ چند سالوں میں اسپتالوں پر حملے، ڈاکٹرز کے خلاف تشدد، سوشل میڈیا پر بغیر تحقیق الزامات، اور فوری سزا کے مطالبات نے ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جہاں ڈاکٹر ہر فیصلہ کرتے وقت یہ سوچنے پر مجبور ہوتا ہے کہ اگر نتیجہ توقع کے مطابق نہ نکلا تو کیا ہوگا۔

نتیجہ کیا نکلتا ہے؟

غیر ضروری ٹیسٹ بڑھ جاتے ہیں کیونکہ “کچھ رہ نہ جائے”۔
مریض کو جلدی ریفر کر دیا جاتا ہے کیونکہ “خطرہ نہ لیا جائے”۔
مشکل کیس لینے سے گریز کیا جاتا ہے کیونکہ “رسک زیادہ ہے”۔

بظاہر یہ احتیاط لگتی ہے، مگر اصل میں اس کا نقصان مریض اور نظام دونوں کو ہوتا ہے۔

عالمی تحقیق بتاتی ہے کہ defensive medicine صحت کے اخراجات کو نمایاں طور پر بڑھا دیتی ہے۔ غیر ضروری ٹیسٹ، اضافی داخلے، اور بار بار ریفرل نہ صرف مریض کی جیب پر بوجھ بنتے ہیں بلکہ اسپتالوں کی صلاحیت بھی کم کر دیتے ہیں۔ ایمرجنسی وارڈ بھرے رہتے ہیں، انتظار کا وقت بڑھتا ہے، اور اصل ضرورت مند مریض پیچھے رہ جاتے ہیں۔

سب سے خطرناک اثر اعتماد کا ٹوٹنا ہے۔

جب ڈاکٹر خوف میں فیصلہ کرتا ہے اور مریض شک میں علاج لیتا ہے تو علاج ایک انسانی تعلق نہیں رہتا بلکہ ایک قانونی لین دین بن جاتا ہے۔ طب جو کبھی ہمدردی اور اعتماد پر کھڑی تھی، آہستہ آہستہ دفاعی رویوں میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

دنیا کے کامیاب صحت نظاموں نے اس مسئلے کو صرف قوانین سے نہیں بلکہ توازن سے حل کیا۔ واضح میڈیکل پروٹوکول، آزاد میڈیکل ریویو بورڈز، ڈاکٹرز کے لیے قانونی تحفظ، اور مریضوں کے لیے شفاف شکایتی نظام تاکہ انصاف بھی ہو اور خوف بھی نہ ہو۔

پاکستان میں مسئلہ یہ نہیں کہ احتساب نہیں ہونا چاہیے۔ احتساب ضروری ہے۔ مگر جب احتساب نظام کے ذریعے نہیں بلکہ ہجوم، دباؤ یا جذبات کے ذریعے ہونے لگے تو بہترین ڈاکٹر بھی خطرہ لینے سے ہچکچانے لگتے ہیں۔

اور طب میں بعض اوقات زندگی بچانے کے لیے خطرہ لینا پڑتا ہے۔

اگر ہم واقعی بہتر صحت نظام چاہتے ہیں تو ہمیں ایک بنیادی سوال کا جواب دینا ہوگا:

کیا ہم ایسا ماحول بنا رہے ہیں جہاں ڈاکٹر بہترین طبی فیصلہ کر سکے؟
یا ایسا ماحول جہاں وہ صرف محفوظ فیصلہ کرے؟

کیونکہ محفوظ فیصلہ ہمیشہ بہترین علاج نہیں ہوتا۔

جب ڈاکٹر خوف میں کام کرے گا تو نظام مہنگا بھی ہوگا اور کمزور بھی۔
اور جب اعتماد واپس آئے گا تو علاج بھی بہتر ہوگا اور انسانیت بھی۔

ڈاکٹر سید شکیل بادشاہ
سلسلہ: صحت، ریاست اور معاشرہ

Address

Rehman Medical Complex, Opposite Government Girls College
Okara

Opening Hours

Monday 11:00 - 13:00
Tuesday 11:00 - 13:00
Wednesday 11:00 - 13:00
Friday 11:00 - 13:00
Saturday 11:00 - 13:00

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Healthy Heart by Arham posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Healthy Heart by Arham:

Share

Category