Prime health care clinic

Prime health care clinic healthy society

*مرد حضرات! آئیں اُس چھوٹی سی گلٹی کی بات کریں جسے آپ مسلسل نظر انداز کر رہے ہیں۔*یہ گلٹی *"پروسٹیٹ"* کہلاتی ہے۔  یہ آپ ...
02/12/2025

*مرد حضرات! آئیں اُس
چھوٹی سی گلٹی کی بات کریں جسے آپ مسلسل نظر انداز کر رہے ہیں۔*

یہ گلٹی *"پروسٹیٹ"* کہلاتی ہے۔
یہ آپ کے مثانے کے نیچے موجود ہوتی ہے اور اُس نالی (tube) کے گرد لپٹی ہوتی ہے جس سے آپ پیشاب اور مادہ منویہ خارج کرتے ہیں۔

*اس کا کام؟*
ایسا سیال پیدا کرنا جو آپ کے اسپرم کو طاقت دیتا ہے — جیسے بیٹری کا جوس!

*اب مسئلہ یہ ہے...*

عمر کے ساتھ ساتھ یہ گلٹی بڑھنے لگتی ہے۔
یہ کینسر کی وجہ سے نہیں، بلکہ ایک حالت جسے *BPH* (Benign Prostatic Hyperplasia) کہا جاتا ہے، کی وجہ سے ہوتا ہے۔

*نام مشکل، لیکن مسئلہ عام ہے۔*

جب پروسٹیٹ سوجھنے لگتا ہے تو:
— آپ کھل کر پیشاب نہیں کر پاتے
— پیشاب کی دھار کمزور ہو جاتی ہے
— رات کو بار بار (3–4 مرتبہ) اٹھ کر پیشاب آتا ہے
— پیشاب کرنے کے بعد بھی مثانہ "بھرا ہوا" محسوس ہوتا ہے
— بعض اوقات پیشاب رِسنے لگتا ہے

اگر آپ سوچتے ہیں کہ یہ "عام بڑھاپا" ہے تو دوبارہ سوچیں۔
پروسٹیٹ کا بڑھنا صرف عمر کا مسئلہ نہیں، یہ ایک *میٹابولک مسئلہ* بھی ہو سکتا ہے۔

*وجوہات:*
— انسولین کا مزاحم ہونا (insulin resistance)
— ہارمونی عدم توازن (DHT کا بڑھ جانا)
— ناقص غذا
— جسم میں سوزش
— مسلسل بیٹھے رہنا
— شراب نوشی

*یاد رکھیں:*
اچھا جینا ممکن نہیں جب تک آپ آرام سے پیشاب نہ کر سکیں۔

پروسٹیٹ کا تعلق صرف پیشاب سے نہیں بلکہ *کارکردگی، دباؤ اور خوداعتمادی* سے بھی ہے۔

*ابھی سے خیال رکھیں:*
— زنک سے بھرپور غذا کھائیں (گوشت، کدو کے بیج، سیپ وغیرہ)
— چینی اور پراسیسڈ تیل سے پرہیز کریں
— ٹماٹر کھائیں (لائکوپین سے بھرپور)
— روزانہ چہل قدمی کریں
— سارا دن مت بیٹھے رہیں
— علامات کو نظر انداز مت کریں

*یہ پوسٹ لازمی شیئر کریں تاکہ کسی اور کو آپ کی وجہ سے فائدہ ہو جائے۔*

انفلوئنزا اے (Influenza A) ایک انتہائی متعدی سانس کی بیماری ہے جو انفلوئنزا اے وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے جو انسانوں اور جا...
23/11/2025

انفلوئنزا اے (Influenza A) ایک انتہائی متعدی سانس کی بیماری ہے جو انفلوئنزا اے وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے جو انسانوں اور جانوروں دونوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس کی علامات میں اچانک بخار، کھانسی، گلے کی خرابی، اور جسم میں درد شامل ہیں۔ یہ وائرس بہت تیزی سے تبدیل ہو سکتا ہے، جس کی وجہ سے یہ وبا پھیلانے کا سبب بن سکتا ہے۔
خصوصیات اور علامات
متعدی بیماری: یہ وائرس کھانسی اور چھینک کے ذریعے پھیلنے والے قطروں سے پھیلتا ہے۔
اچانک علامات: عام زکام کے برعکس، انفلوئنزا کی علامات اچانک ظاہر ہوتی ہیں۔
عام علامات: بخار، کھانسی، ناک بہنا یا بند ہونا، گلے کی سوزش، سر درد، پٹھوں میں درد اور تھکاوٹ شامل ہیں۔
شدید علامات: کچھ صورتوں میں، یہ شدید بیماری کا سبب بن سکتا ہے، جس میں نمونیا اور سانس لینے میں دشواری شامل ہو سکتی ہے۔
وبا کا سبب بن سکتا ہے: چونکہ یہ وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہو سکتا ہے اور تیزی سے تبدیل ہوتا ہے، اس لیے یہ انسانی آبادی میں وبائی امراض کا سبب بن سکتا ہے۔
علاج اور بچاؤ
دوا: انفلوئنزا کا علاج اینٹی بائیوٹکس سے نہیں ہوتا، لیکن ڈاکٹر کی ہدایت پر اینٹی وائرل ادویات استعمال کی جا سکتی ہیں۔
دیکھ بھال: کافی آرام کریں اور خوب پانی پئیں۔ زیادہ تر لوگ بغیر طبی امداد کے ایک ہفتے میں صحت یاب ہو جاتے ہیں۔
ویکسین: انفلوئنزا سے بچاؤ کا بہترین طریقہ سالانہ فلو ویکسین لگوانا ہے۔
طبی مشورہ: اگر علامات سنگین ہوں تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

📌 آج کل پھیلنے والی وبا کیا ہے؟ Influenza A — ایک اہم آگاہی پوسٹآج کل پورے پاکستان میں ایک ایسی وبا پھیلی ہوئی ہے جو بال...
23/11/2025

📌 آج کل پھیلنے والی وبا کیا ہے؟ Influenza A — ایک اہم آگاہی پوسٹ
آج کل پورے پاکستان میں ایک ایسی وبا پھیلی ہوئی ہے جو بالکل ڈینگی کی طرح محسوس ہوتی ہے، مگر ڈینگی ٹیسٹ ہمیشہ نیگیٹو آتا ہے۔
اصل مسئلہ ڈینگی نہیں… بلکہ Influenza A (خاص طور پر H3N2) ہے، اور اس وقت ہر دوسری OPD میں یہی کیسز نظر آ رہے ہیں۔

شروع میں مریض کو بالکل عام نزلہ زکام ہوتا ہے، چھینکیں، گلا خراب، ہلکا بخار اور بدن ٹوٹنا۔ پھر آہستہ آہستہ پیٹھ کی ہڈیوں اور جوڑوں کا درد بڑھنے لگتا ہے، سر بھاری ہوتا جاتا ہے، چکر آتے ہیں اور متلی محسوس ہوتی ہے۔

اس کے بعد بخار یک دم تیز ہونا شروع ہوتا ہے اور بہت سے مریضوں میں 103–104 تک پہنچ جاتا ہے۔ 3–6 دن تک بخار کا نہ ٹوٹنا اب عام بات ہو چکی ہے۔ مریض جسمانی طور پر ٹوٹ جاتا ہے، بھوک ختم، منہ کا ذائقہ خراب، اور ہر وقت کمزوری اور بےچینی۔

جب بخار کا فیز گزر جاتا ہے تو آغاز ہوتا ہے دوسری مشکل کا:
ناک کا نزلہ گاڑھا ہو کر **Sinusitis** میں بدل جاتا ہے۔ بلغم بدبودار، سر بھاری، ناک بند، اور کھانسی بھی شامل ہو جاتی ہے۔ اس ساری کیفیت میں مریض کی کمزوری اتنی بڑھ جاتی ہے کہ کئی کئی دن تک اٹھنے کو دل نہیں کرتا۔

ڈینگی ٹیسٹ نیگیٹو اس لئے آتا ہے کہ یہ ڈینگی ہے ہی نہیں۔ Influenza A بخار، بون پین اور شدید کمزوری تو دیتا ہے، مگر platelets خطرناک حد تک نہیں گراتا۔ اسی لئے لوگ کنفیوز ہوتے ہیں کہ “علامات تو ڈینگی والی ہیں مگر رپورٹس کیوں نارمل؟”

اس وقت سب سے اہم چیز یہ ہے کہ مریض آرام کرے، پانی زیادہ پئے، steam لے، اور علامات کے مطابق symptomatic care کرے۔
اگر بلغم بدبو دار ہو یا سر بہت بھاری ہو تو یہ واضح سائن ہے کہ سائنوسائٹس ہو چکا ہے اور اس کا علاج ساتھ چلانا لازم ہے۔

شدید کمزوری میں multivitamins فائدہ دیتے ہیں۔
اگر سانس میں دقت، بہت زیادہ بخار، یا پانی کی کمی محسوس ہو تو فوراً ڈاکٹر کو دکھانا چاہیے۔

مختصر یہ کہ پاکستان میں اس وقت Influenza A کا زور ہے، اور اسی کی وجہ سے ہر طرف یہی بخار، نزلہ، کمزوری اور سائنوسائٹس والے کیسز نظر آ رہے ہیں۔

21/11/2025

جو شخص اپنے بیٹے سے غافل ہے وه اپنے گھر میں مستقبل کا ایک مجرم پال رہاہے

ڈاکٹرز یا قصائی! یورپ میں چار مہینے بعد پہلا الٹراساؤنڈ ہوتا ہے اور اگر کوئی جاننا چاہتا ہو تو بچے کی جنس بتا دی جاتی ہے...
06/03/2025

ڈاکٹرز یا قصائی!

یورپ میں چار مہینے بعد پہلا الٹراساؤنڈ ہوتا ہے اور اگر کوئی جاننا چاہتا ہو تو بچے کی جنس بتا دی جاتی ہے۔
ڈیلیوری کے وقت خاوند عورت کے پاس ہوتا ہے اور کمرے میں ایک یا دو نرسیں ہوتی ہیں۔ کسی قسم کی دوائی نہیں دی جاتی، عورت درد سے چیختی ہے مگر نرس اسے صبر کرنے کا کہتی ہے اور %99 ڈیلیوری نارمل کی جاتی ہے۔ نہ ڈیلیوری سے پہلے دوا دی جاتی ہے نہ بعد میں۔ کسی قسم کا ٹیکہ نہیں لگایا جاتا۔

عورت کو حوصلہ ہوتا ہے کہ اس کا خاوند پاس کھڑا اس کا ہاتھ پکڑے ہوئے ہے۔ ڈیلیوری کے بعد بچے کی ناف قینچی سے خاوند سے کٹوائی جاتی ہے اور بچے کو عورت کے جسم سے ڈائریکٹ بغیر کپڑے کے لگایا جاتا ہے تاکہ بچہ ٹمپریچر مینٹین کر لے۔ بچے کو صرف ماں کا دودھ پلانے کو کہا جاتا ہے اور زچہ یا بچہ دونوں کو کسی قسم کی دوائی نہیں دی جاتی سوائے ایک حفاظتی ٹیکے کے جو پیدائش کے فوراً بعد بچے کو لگتا ہے۔

پاکستان میں لیڈی ڈاکٹر ڈیلیوری کے لئے آتی ہے اور خاتون کے گھر والوں سے پہلے ہی پوچھ لیتی ہے کہ آپ کی بیٹی کی پہلی پریگنینسی ہے، اس کا کیس کافی خراب لگ رہا ہے جان جانے کا خطرہ ہے، آپریشن سے ڈیلیوری کرنا پڑے گی۔ %99 ڈاکٹر کوشش کرتی ہے کہ نارمل ڈیلیوری کو آپریشن والی ڈیلیوری میں تبدیل کر دیا جائے۔

ڈیلیوری سے پہلے اور بعد میں کلوگرام کے حساب سے دوائیاں دی جاتی ہیں ڈیلیوری کے وقت خاوند تو دور کی بات خاتون کی ماں یا بہن کو بھی اندر جانے کی اجازت نہیں ہوتی اور اندر ڈاکٹر اور نرس کیا کرتی ہیں یہ خدا جانتا ہے یا وہ خاتون۔

نارمل ڈیلیوری بیس تیس ہزار میں اور آپریشن والی ڈیلیوری اسی نوے ہزار میں ہو تو ڈاکٹر کا دماغ خراب ہے نارمل کی طرف آئے آخر اس کے بھی تو خرچے ہیں بچوں نے اچھے سکول میں جانا ہے نئی گاڑی لینی ہے بڑا گھر بنانا ہے۔ اسلام کیا کہتا ہے انسانیت کیا ہوتی ہے سچ کیا ہوتا ہے بھاڑ میں جائے، صرف پیسہ چاہئیے۔۔99%ڈاکٹر مافیا جن کو لوگ مسیحا سمجھتے ہیں اصل میں قصائی ہے. جن کومریض،انسانیت،دین ،اخلاقیات ،نہیں صرف کاروبارکا پتہ ہوتا ہے۔

21/02/2025
ڈینگی بخار کی آمد - خبردار رہیں ⚠️ہمارے ہاں جیسے مختلف بیماریوں کی بروقت تشخیص نہیں ہو پاتی اور خود ساختہ یا غلط علاج سے...
12/10/2024

ڈینگی بخار کی آمد - خبردار رہیں ⚠️

ہمارے ہاں جیسے مختلف بیماریوں کی بروقت تشخیص نہیں ہو پاتی اور خود ساختہ یا غلط علاج سے بیماری کو خطرناک بنا دیا جاتا ہیں ان بیماریوں میں ڈینگی بھی شامل ہے روزانہ کی بنیاد پر ایسے کیسز آتے ہیں جو ہوتے تو ڈینگی کے ہیں لیکن غلط ادویات استعمال کرکے بیماری کو پیچیدہ بنادیتے ہیں سب سے پہلے اس کو سمجھیں ۔۔۔۔

ڈینگی بخار مچھر سے پھیلنے والی بیماری ہے مچھروں کی ایک قسم ایڈیز (Aedes) کے کاٹنے سے ہوتا ہے جو خود ڈینگی وائرس کا شکار ہوتا ہے اور انسان کو کاٹتے ہی خون میں وائرس کو منتقل کردیتا ہے۔ جس سے ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال 40 کروڑ افراد متاثر ہوتے ہیں۔
پاکستان بھر میں ڈینگی کے وار تیزی سے جاری ہیں تمام صوبوں میں یہ مرض تیزی سے بڑھ رہا ہے بلکہ ایک وبائی شکل اختیار کررہا ہے۔

ڈینگی بخار کی علامات؟

ڈینگی بخار کی علامات میں تیز بخار کے ساتھ ساتھ ہڈیوں میں شدید دردیں شامل ہیں درد کی شدت خاص طور پر ٹانگوں اور کمر میں پائی جاتی ہے جسم پر سرخ دھبے یا نشانات کا بن جانا ، اس کے ساتھ ساتھ مریض کو متلی اور الٹیوں کی ساتھ ساتھ غنودگی کی شکایت ہوجاتی ہے اور پلیٹلیٹس کی کمی کے باعث ناک اور مسوڑھوں سے خون رسنا بھی شامل ہے بعض اوقات مریض کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دل کی دھڑکن کا تیز ہونا بھی پایا جاتا ہے۔ آنکھوں میں دھکن کا احساس پایا جاتا ہے۔ جوڑوں اور ہڈیوں میں شدید درد ہوجانا علامت عام شمار کی جاتی ہے۔

احتیاطی تدابیر کیا ہیں؟

صفائی اور مچھر مار سپرے کا بروقت استعمال ہی اس بیماری کا خاتمہ کرسکتی ہے ڈینگی بخار سے بچاؤ کے لیے سب سے ضروری یہ ہے کہ کسی بھی جگہ پانی جمع نہ ہونے پائے۔ چاہے پانی صاف ہو یا گندہ، گھروں میں خاص طور پر جگہ جگہ پانی کا جمع ہونا کسی خطرے سے کم نہیں ہوتا ۔ بارشوں کے بعد گھروں میں جگہ جگہ پانی جمع ہوجاتا ہے لہٰذا اسے صاف کرکے سپرے کیا جائے۔ اس کے علاوہ ضروری ہے کہ مچھر دانیوں اور سپرے کا استعمال متواتر کیا جائے کیونکہ ڈینگی بخار ملیریا سے کئی زیادہ خطرناک بیماری ہے جس میں مریض کی حالت نازک ہوسکتی ہے کیونکہ وائرس کو جسم سے ختم ہونے میں دو سے تین ہفتوں تک کا دورانیہ لگ سکتا ہے۔

تشخیص کیسے کی جائے؟

ڈینگی بخار کی تصدیق کے لیے این ایس ون (NS-1) یا پی سی آر (PCR) نامی خون کے تجزیوں سے ہوتی ہے۔ عام طور پر خون کا تجزیہ (CBC) سے اس مرض کی تشخیص میں مدد لیا جاتا ہے جس میں پلیٹلیس کی مقدار کم پائی جاتی ہے ۔

ادویات؟

اس بیماری کا کوئی حتمی علاج موجود نہیں محض علامات کو کم کرنے کےلیے ادویات کا استعمال کیا جاتا ہے جیسے درد کش اور بخار کو کم کرنے کے لیے پیناڈول کا سہارہ لیا جاتا ہے جس سے وقتی طور پر بخار کم ہوجاتا ہے لیکن اس بیماری سے خون میں پلیٹلیٹس کا کم ہوجانا عام پایا جاتا ہے یعنی کہ خون پتلا ہوجاتا ہے جو کہ نہایت خطرناک صورتحال پیدا کرسکتی ہے جس کے لیے بعض اوقات مریض کو خون اور فلیوڈز کی ڈرپ لگائی جاتی ہے

تجزیہ:
ڈاکٹر سمیعﷲ .

Address

Khan Khel Sarkha
Peshawar

Opening Hours

Monday 15:00 - 20:00
Tuesday 15:00 - 20:00
Wednesday 15:00 - 20:00
Thursday 15:00 - 20:00
Friday 15:00 - 20:00
Saturday 15:00 - 20:00
Sunday 15:00 - 20:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Prime health care clinic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram