Popular Homoeopathic Clinic

Popular Homoeopathic Clinic Homoeopathy: A natural alternative, A safer medicine

*ڈاکٹر کو معائنہ کروانے سے قبل برائے مہربانی اس کو ایک بار پڑھ لیں..*آپ کو دو یا تین دن بخار رہا۔ اگر آپ نے کوئی دوا نہ ...
26/09/2025

*ڈاکٹر کو معائنہ کروانے سے قبل برائے مہربانی اس کو ایک بار پڑھ لیں..*
آپ کو دو یا تین دن بخار رہا۔ اگر آپ نے کوئی دوا نہ بھی لی ہوتی، تو کچھ دنوں میں آپ کا جسم خود بخود ٹھیک ہو جاتا۔
لیکن آپ ڈاکٹر کے پاس چلے گئے۔
شروع میں ہی ڈاکٹر نے کئی ٹیسٹ لکھ دیے۔
ٹیسٹ کے نتائج میں بخار کی کوئی خاص وجہ نہیں ملی۔ البتہ، کولیسٹرول اور شوگر کی سطح تھوڑی سی زیادہ نظر آئی.. جو کہ عموماً عام ہے..
بخار تو اتر گیا، لیکن اب آپ صرف بخار کے مریض نہیں رہے....
ڈاکٹر صاحب نے آپ کو بتایا:
> "آپ کا کولیسٹرول زیادہ ہے۔ شوگر بھی تھوڑی بڑھی ہوئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ *پری-ڈائیبیٹک* ہیں۔ آپ کو کولیسٹرول اور شوگر کنٹرول کرنے کی دوائیں لینی پڑیں گی۔"
اس کے ساتھ ہی کھانے پینے کی متعدد پابندیاں لگ گئیں....
ہو سکتا ہے آپ نے کھانے کی پابندیاں سختی سے نہ بھی مانی ہوں — لیکن دوائیں کھانا آپ نے نہیں بھولنا تھا......
تین ماہ گزر گئے۔ پھر ٹیسٹ ہوئے۔
آپ کا کولیسٹرول تھوڑا کم ہوا، لیکن اب آپ کا **بلڈ پریشر** تھوڑا بڑھ گیا۔
ایک اور دوا لکھ دی گئی۔
اب آپ **تین دوائیں** کھا رہے تھے۔
یہ سب سن کر آپ کی پریشانی بڑھ گئی۔
> "اب کیا ہوگا؟"
> اس فکر کی وجہ سے آپ کی نیند اڑ گئی۔
> ڈاکٹر نے **نیند کی گولی** لکھ دی — اور اب آپ کی دوائیں **چار** ہو گئیں۔
یہ سب دوائیں کھانے کے بعد آپ کو **تیزابیت اور سینے کی جلن** ہونے لگی۔
ڈاکٹر نے مشورہ دیا:
> "کھانے سے پہلے خالی پیٹ گیس کی گولی کھا لیا کریں۔"
> اب آپ **پانچ دوائیں** کھا رہے تھے۔
چھ ماہ گزر گئے۔ ایک دن آپ کو **سینے میں درد** ہوا اور آپ ایمرجنسی میں پہنچ گئے۔
مکمل چیک اپ کے بعد ڈاکٹر نے کہا:
> "اچھا ہوا آپ بروقت آ گئے۔ ورنہ سنگین ہو سکتا تھا۔"
مزید ٹیسٹ تجویز کیے گئے۔
کئی مہنگے ٹیسٹ کروانے کے بعد ڈاکٹر نے بتایا:
> "اپنی موجودہ دوائیں جاری رکھیں۔ لیکن اب دل کے لیے دو مزید دوائیں شامل کر لیں۔ نیز، آپ کو اینڈوکرائنولوجسٹ کو بھی دکھانا چاہیے۔"
> اب آپ **سات دوائیں** کھا رہے تھے۔
کارڈیالوجسٹ کے مشورے پر آپ اینڈوکرائنولوجسٹ کے پاس گئے۔
انہوں نے ایک اور **شوگر کی دوا** اور تھائیرائیڈ کی گولی شامل کر دی، کیونکہ تھائیرائیڈ کی سطح تھوڑی بڑھی ہوئی تھی۔
اب آپ کی کل دوائیں **نو** ہو گئیں۔
آہستہ آہستہ آپ یہ ماننے لگے کہ آپ واقعی بیمار ہیں:
* دل کے مریض
* ذیابیطس
* بے خوابی
* گیس کے مسائل
* تھائیرائیڈ کے مسائل
* گردے کے مسائل
... اور فہرست جاری رہی۔
کسی نے آپ کو نہیں بتایا کہ آپ **ارادہ، خود اعتمادی اور طرزِ زندگی** میں تبدیلی لا کر اپنی صحت بہتر بنا سکتے ہیں۔
بلکہ آپ کو بار بار بتایا گیا کہ آپ ایک **سنگین مریض** ہیں، کمزور ہیں، ناکارہ ہیں اور ٹوٹے ہوئے انسان ہیں۔
چھ ماہ بعد، ان تمام دواؤں کے مضر اثرات کی وجہ سے آپ کو **پیشاب کے مسائل** ہونے لگے۔
مزید ٹیسٹ سے **گردوں کے مسائل** کا پتہ چلا۔
ڈاکٹر نے مزید ٹیسٹ کیے۔ رپورٹ دیکھ کر کہا:
> "کریٹینین کی سطح تھوڑی بڑھ گئی ہے۔ لیکن فکر نہ کریں — جب تک آپ باقاعدگی سے دوائیں لیتے رہیں گے۔"
> انہوں نے **دو مزید دوائیں** شامل کر دیں۔
اب آپ **گیارہ دوائیں** کھا رہے تھے۔
اب آپ **کھانے سے زیادہ دوائیں** کھا رہے تھے، اور ان دواؤں کے مضر اثرات کی وجہ سے آپ آہستہ آہستہ **موت** کی طرف بڑھ رہے تھے۔
اگر ابتدا میں، جب آپ پہلی بار بخار کی وجہ سے ڈاکٹر کے پاس گئے تھے، ڈاکٹر نے صرف یہ کہہ دیا ہوتا:
> "پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ یہ صرف ہلکا بخار ہے۔ دوائی کی ضرورت نہیں۔ آرام کریں، زیادہ سے زیادہ پانی پیئیں، تازہ پھل اور سبزیاں کھائیں، صبح کی سیر کریں — بس۔ کسی دوا کی ضرورت نہیں۔"
لیکن پھر… ڈاکٹر اور دواساز کمپنیاں اپنی روزی کیسے کماتیں؟
* # # # سب سے بڑا سوال:*
ڈاکٹر کس بنیاد پر مریضوں کو ہائی کولیسٹرول، ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، دل کی بیماری یا گردے کی بیماری کا مریض قرار دیتے ہیں؟یہ معیارات کون طے کرتا ہے؟
*آئیے اس پر تھوڑا گہرائی سے جائیں:*
* **1979 میں**، شوگر کی سطح **250 mg/dl** کو ذیابیطس سمجھا جاتا تھا۔ اس وقت دنیا کی صرف **3.5%** آبادی ٹائپ 2 ذیابیطس میں شمار ہوتی تھی۔
* **1997 میں**، انسولین بنانے والی کمپنیوں کے دباؤ میں، ذیابیطس کی حد۔ *200 mg/dl** تک گرا دی گئی، جس سے اچانک ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد **3.5% سے 8%** ہو گئی — یعنی **4.5% زیادہ لوگوں کو بغیر کسی اصل علامت کے ذیابیطس کا لیبل لگا دیا گیا**۔
* 1999 میں دوا ساز کمپنیوں کے اصرار پر 126 کردیا گیا
**1999 میں**، عالمی ادارہ صحت (WHO) نے اس گائیڈلائن کو قبول کر لیا۔
انسولین کمپنیوں نے بھاری منافع کمایا اور مزید فیکٹریاں کھول لیں۔
**2003 میں**، **امریکن ڈائیبیٹز ایسوسی ایشن (ADA)** نے فاسٹنگ شوگر کی سطح کو **100 mg/dl** تک کم کر کے پری-ڈائیبیٹک کا معیار بنا دیا۔
نتیجے میں، **27%** لوگ بلاوجہ ذیابیطس کے زمرے میں آ گئے۔
* فی الحال، ADA کے مطابق، **کھانے کے بعد شوگر 140 mg/dl** کو ذیابیطس سمجھا جاتا ہے۔
اس کی وجہ سے، دنیا کی تقریباً **50% آبادی** کو اب ذیابیطس کا لیبل لگ چکا ہے... جن میں سے بہت سے واقعی بیمار نہیں ہیں۔
بھارتی دوا ساز کمپنیاں اسے مزید کم کر کے **HbA1c 5.5%** کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، تاکہ مزید لوگوں کو مریض بنا کر دواؤں کی فروخت بڑھائی جا سکے..
بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ HbA1c **11%** تک کو ذیابیطس نہیں سمجھنا چاہیے..
* # # # ایک اور مثال:*
**2012 میں**، ایک بڑی دوا ساز کمپنی پر **امریکی سپریم کورٹ** نے **3 ارب ڈالر** کا جرمانہ عائد کیا.. ان پر الزام تھا کہ 2007–2012 کے درمیان، ان کی ذیابیطس کی دوا نے **دل کے دورے کا خطرہ 43%** تک بڑھا دیا تھا۔
کمپنی کو **یہ پہلے سے معلوم تھا** لیکن **منافع کے لیے جان بوجھ کر چھپایا گیا**۔
اس عرصے میں کمپنی نے پہلے ہی **300 ارب ڈالر** کا منافع کمالیا تھا چنانچہ صرف 3 بلین ڈالر کا جرمانہ بھر کر کمپنی پھر بھی 297 ارب ڈالر کے فائدے میں رہی۔۔۔۔۔۔

**یہ آج کا"جدید ترین میڈیکل سسٹم" ہے!**
**سوچیں… غور کرنا شروع کریں…**

(منقول)

01/06/2025

جلدی اور عارضی آرام پانے کی خاطر دھڑا دھڑ ایلو پیتھک ادویات (انگریزی ادویات) کا استعمال کرنا کتنا خطرناک ثابت ہوا ہے؟
ایلوپیتھک ڈاکٹر نے سب کچھ خود بتا دیا۔۔۔۔!

جلد آرام پانے کی خواہش کی بجائے بیماری کا مستقل بنیادوں پر باقاعدہ علاج کروانے کو ترجیح دیں
اپنے لائف سٹائل اور معمولات زندگی کی اصلاح کریں
مضر اثرات سے پاک ہومیوپیتھک علاج اپنائیں
تاکہ
بیماری آپ کے جسم سے پوری طرح نکل جائے
اور
آپ کو ملے حقیقی آرام کا پر لطف و پائیدار احساس۔۔۔۔!

صحت سے بھرپورزندگی کا راز1۔ روزانہ ایک دیسی لہسن ضرور کھائیں.2۔ ناشتے میں ابلے ہوئے انڈے کا استعمال لازمی کریں۔3۔ ناشتے ...
24/04/2025

صحت سے بھرپورزندگی کا راز
1۔ روزانہ ایک دیسی لہسن ضرور کھائیں.
2۔ ناشتے میں ابلے ہوئے انڈے کا استعمال لازمی کریں۔
3۔ ناشتے کے وقت ایک سیب کا استعمال کریں۔
4۔ گھی کی روٹی کی بجائے خشک روٹی استعمال کریں۔
5۔ دن میں 12 گلاس پانی ہر صورت پیئں۔
6۔ ایک دن چھوڑ کر تخم ملنگہ یا اسپغول چھلکا کا استعمال کریں۔

7۔ادرک۔ سونف۔ دار چینی۔ پودینہ۔ چھوٹی الائچی۔
تمام چیزیں تھوڑی مقدار میں لیں۔زیادہ نہ لیں۔انکا قہوہ بنا کے ایک ایک کپ پیئں۔ آدھا لیموں ملا لیں۔ایک دن چھوڑ کر ایک دن پیئں۔

8- روزانہ پانچ یا سات کجھوریں کھائیں.
9- صبح کے وقت بھگو کے رکھے ھوئے بادام چھیل کر کھائیں 12 عدد
10- بوتل اور ڈبے والے juices ترک کر دیں۔ بہت نقصان دہ ہیں۔ان کی جگہ گھر میں Fresh juice بنا کر پیئں۔

11- روزانہ اپنے ہاتھ کی ہتھیلیوں اور پاؤں کے تلووں پر تیل لگا کر سوئیں۔ ناف میں تین قطرے تیل ڈالیں۔ کافی بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔

12- تلاوت قرآن پاک، پانچ وقت نماز پابندی سے پڑھیں اور جو تھوڑا سا وقت جب بھی ملے اللہ کا ذکر کریں۔
(منقول)

ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں 73 فیصد سے زیادہ مرد ، خواتین اور بچے بچیاں کسی نہ کسی درجے میں بواسیر(Haemorrhoid...
11/01/2025

ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں 73 فیصد سے زیادہ مرد ، خواتین اور بچے بچیاں کسی نہ کسی درجے میں بواسیر(Haemorrhoids)، خروج مقعد(Prolapsus Ani)، شقاق مقعد(Anal Fissure) ، بھگندر (Fistula) وغیرہ امراض میں مبتلا ہیں۔
بواسیراور بڑی آنت کے دیگر امراض جہاں پیتھالوجی کے نکتہء نظر سے پیچیدہ تر ہیں وہاں ہومیوپیتھک میڈیکل سائنس میں ان کا معالجاتی پہلو اتنا ہی سادہ اور آسان ہے۔ ایک تجربہ کار اور ماہر ہومیوپیتھک ڈاکٹر آپ کی بتائی گئی درست علامات کے مجموعے کا تجزیہ کرکے ہی معلوم کر لیتا ہے کہ آپ کے مرض کی نوعیت کیا ہے اور اس کا علاج کن بنیادوں پر اور کن کن دواؤں سے کرنا زیادہ مناسب ہے!

ہومیوپیتھک طریقہ علاج کی اسی خصوصیت کی وجہ سے مریضوں اور بالخصوص خواتین کو اکثر و بیشتر مقعد کی پوشیدہ اور پیچیدہ بیماریوں کے حوالے سے جسمانی معائنے کے ناگوار مراحل سے نہیں گزرنا پڑتا بلکہ وہ ڈاکٹر کو اپنی صحیح اور درست علامات بتا کر بھی ہومیوپیتھک علاج سے بھرپور طریقے سے مستفید ہو سکتی ہیں جو کہ بطور ایک منفرد طریقہ علاج، کسی بھی مرض کو جڑ سے ختم کرکے مریض / مریضہ کو شفایابی سے ہمکنار کرنے میں اپنی مثال آپ ہے۔
(ان شاء اللہ)

کلینک ایڈریس:
پاپولر ہومیوپیتھک کلینک اینڈ فارمیسی
دکان نمبر 3، 4/ فیصل کالونی بی آر ٹیBRT سٹیشن۔(انڈرپاس/بیسمنٹ)جی ٹی روڈ پشاور

کلینک لوکیشن:
https://maps.app.goo.gl/vczBf1w2i8s5jfkw8

نوٹ: نیچے اشتہار میں دئیے گئے فون /واٹس ایپ نمبروں پر صرف نمبر لینے کے لئے رابطہ فرمائیں:

06/01/2025

"مکئی کی روٹی"
"سرسوں کا ساگ"
اور
"دیسی گھی" واقعی ایسی خوراکیں ہیں جن کیلئے ڈاکٹرز بھی ترستے رہتے ہیں😍🤩

دیسی اور قدرتی غذاؤں کو اپنائیں اور بھرپور صحت💪 بنائیں❤️💜💚🩵💙🖤

زمین کے نیچے ہم سب برابر ہونگے!  غرور تکبر سے گریز کریں 🙏یہ دن ہر انسان پر آنے والا ہے۔۔۔اللہ تعالیٰ ہم پر اپنا خصوصی رح...
03/11/2024

زمین کے نیچے ہم سب برابر ہونگے!
غرور تکبر سے گریز کریں 🙏
یہ دن ہر انسان پر آنے والا ہے۔۔۔
اللہ تعالیٰ ہم پر اپنا خصوصی رحم کرے.
آمین ثم آمین یا ربّ العالمین
۔
۔
۔
۔
۔
۔

We are Celebrating 3rd year of Popular Homoeopathic Clinic on Facebook. Thank you for your continuing support. We could ...
24/10/2024

We are Celebrating 3rd year of Popular Homoeopathic Clinic on Facebook. Thank you for your continuing support. We could never have made it without you. 🙏🤗🎉

Success of   A European Journal of Paediatrics has published a research study....!
21/10/2024

Success of
A European Journal of Paediatrics has published a research study....!

موٹاپا Obesity/Fatness / Corpulence کیا ہے؟اس کی وجوہات کیا ہیں؟اس کے نقصانات کیا ہیں؟  اور اس کا علاج کیوں ضروری ہے؟🔴مو...
04/10/2024

موٹاپا Obesity/Fatness / Corpulence کیا ہے؟
اس کی وجوہات کیا ہیں؟اس کے نقصانات کیا ہیں؟ اور اس کا علاج کیوں ضروری ہے؟

🔴موٹاپے (Obesity) سے مراد جسم میں غیر معمولی یا اضافی چربی کی مقدار ہے، جو صحت کے لیے مضر ہو سکتی ہے۔ یہ عام طور پر اس وقت ہوتا ہے جب ایک شخص کا جسمانی وزن اُس کی قد کی نسبت بہت زیادہ ہو، اور یہ وزن چربی کی شکل میں جسم میں جمع ہو جاتا ہے۔ موٹاپا کو عام طور پر Body Mass Index (BMI) کے ذریعے ناپا جاتا ہے:
بی ایم آئی (BMI) ایک پیمانہ ہے جو وزن اور قد کی مناسبت سے جسم میں چربی کی مقدار کا اندازہ لگاتا ہے۔
ایک صحت مند اور آئیڈیل BMI کا اندازہ 25 کلوگرام فی مربع میٹر ہے۔

• اگر کسی مر د یا خاتون کا BMI 25 سے زیادہ ہو تو اسےصرف وزن زیادہ ہونا (Overweight) کہا جاتا ہے۔ جس کا علاج علامات اور ہسٹری کے مطابق منتخب شدہ واحد دوا اور کچھ لائف سٹائل کی ضروری اصلاح سے ہو جاتا ہے۔
• اگر BMI 30 یا اس سے زیادہ ہو تو اسے موٹاپا (Obesity) گریڈI کہا جاتا ہے۔ اس کے علاج کے لئے ایک مدّت مقرّرہ تک باقاعدہ علاج ، پرہیز ، ایکسرسائز وغیرہ کرنا ضروری ہے۔
• اگر BMI 35 یا اس سے زیادہ ہو تو اسے گریڈII موٹاپا (Obesity Grade II) کہا جاتا ہے۔ یہاں سے موٹاپاانسانی صحت بلکہ جان کے لئے بھی خطرناک ثابت ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اس کے علاج کے لئے کئی مہینوں یا سال تک باقاعدہ علاج ، سخت پرہیز ، ریگولر ایکسرسائز اور عمومی صحت کی باقاعدہ مانیٹرنگ وغیرہ کرنا ضروری تجویز کیا جاتا ہے۔
• اگر BMI 40 یا اس سے زیادہ ہو تو اسے موٹاپا گریڈIII (Obesity III) کہا جاتا ہے۔ یہ بہت خطرے والی حد ہے۔ اس کے علاج کے لئے ایک لمبی مدّت تک باقاعدہ علاج ، سخت پرہیز ، نظام الاوقات کے مطابق خوراک، ریگولر ایکسرسائز اور دل ، گردوں ، آنکھوں ، بلڈپریشر ، شوگر لیول وغیرہ پر کڑی نظر رکھنا بہت ضروری ہوجاتا ہے۔

لاغری/کمزوری؟
اگر کسی مرد یا خاتون کا BMI کہیں 18.5 سے کم ہو تو اسے وزن کم ہونا (Underweight) کہتے ہیں۔
اگر کسی کا BMI کا درجہ 17 سے نیچے گر جائے تو اسے درمیانی لاغری (Moderate thinness/leanness) کہا جاتا ہے ۔
اور اگر کسی مرد اور خاتون کا BMI کا درجہ 16 سے بھی کم ہو جائے تو یہ انتہائی لاغری اور کمزوری (Severe Thinness/leanness) کی نشاندہی کرتا ہے۔

موٹاپے کی نشانیاں:
• جسم میں اضافی چربی کا جمع ہونا۔
• وزن کی حد سے زیادہ مقدار۔
• جسمانی فعالیت و سرگرمی میں کمی۔
• صحت کے مختلف مسائل جیسے ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، اور دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھنا۔

موٹاپا نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی اور سماجی مسائل کا بھی سبب بن سکتا ہے، اس لیے اس کا علاج اور روک تھام ضروری ہے۔

🔴 موٹاپے میں جسم میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں؟

اس مرض میں جلد کے نیچے اور اندرونی اعضاء کے ارد گرد چربی کی مقدار بہت بڑھ جاتی ہے جس سے مریض اٹھتے بیٹھتے خود کو بے آرام (Uncomfortable) محسوس کرنا شروع کرتا ہے
ظاہری طور پر جسم وزنی اور بے ڈول ہو جاتا ہے جبکہ اندرونی اعضاء کی کارکردگی میں بھی فرق آجاتا ہے۔ ہاضمے کا نظام غیر متوازن ہوجاتا ہے ، جگر کا فعل بگڑ جاتا ہے۔ جوڑوں کے درد کے ساتھ نیند میں بھی خلل آتا ہے اور پر سکون نیند سے انسان محروم ہوجاتا ہے۔ اس کے ساتھ موٹاپا دیگر کئی بیماریوں کو بھی دعوت دینے کا سبب بنتا ہے۔

🔴وجوہات مرض
موٹاپا (Obesity) مختلف وجوہات کی بنا پر ہو سکتا ہے، جن میں درج ذیل عوامل شامل ہیں:
1. غذائی عادات:- زیادہ کیلوریز، چکنائی اور شکر والی غذائیں کھانے سے موٹاپا ہو سکتا ہے۔ غیر متوازن غذا اور جنک فوڈ کا زیادہ استعمال وزن بڑھانے کا سبب بنتا ہے۔
2. ورزش کی کمی:- جسمانی سرگرمی نہ کرنا یا ورزش نہ کرنا جسم میں فاضل چربی جمع ہونے کا باعث بنتی ہے۔
3. جینیاتی عوامل:- کچھ افراد کی فیملی جینز میں موٹاپے کی طرف رجحان ہوتا ہے جس سے ان میں موٹاپے کا امکان زیادہ ہو جاتا ہے۔
4. ہارمونز کی بے ترتیبی:- جیسے کہ تھائیرائڈ گلینڈ کی خرابی (Hypothyroidism) یا انسولین کی حساسیت میں کمی، جسم میں چربی کو جمع کرنے کا باعث بنتی ہے۔
5. نفسیاتی مسائل:- ذہنی دباؤ، تناؤ اور ڈپریشن کے دوران کچھ لوگ زیادہ کھانا کھانے لگتے ہیں، جو موٹاپے کا سبب بنتا ہے۔
6. ادویات:- کچھ ادویات جیسے کہ اسٹیرائڈز یا اینٹی ڈپریسنٹس، وزن میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں۔
7. عمر:- بعض خواتین و حضرات میں عمر بڑھنے کے ساتھ جسم کا میٹابولزم سست ہو جاتا ہے ، جس سے کیلوریز جلنے کی رفتار کم ہوتی ہے اور موٹاپا ہو سکتا ہے۔
8. نیند کی کمی:- کم نیند لینے سے ہارمونز میں تبدیلیاں آتی ہیں جو بھوک بڑھاتی ہیں اور وزن میں اضافہ کرتی ہیں۔
9. غیر متحرک طرزِ زندگی:- طویل وقت تک بیٹھے رہنا یا جسمانی سرگرمیوں سے دور رہنا موٹاپے کی ایک بڑی وجہ ہے۔
ان تمام عوامل کا مل کر وزن بڑھنے میں کردار ہو سکتا ہے۔

🔴 موٹاپے کے علاج میں پیچیدگی کیا ہے؟
علاج کے حوالے سے دو وجوہات سے لاحق شدہ موٹاپا پیچیدہ اور سنجیدہ معاملہ خیال کیا جاتا ہے
1. جینیاتی مسئلہ یا خاندانی طور پرموٹاپے کی طرف رجحان۔
2. ہارمونز کی بے ترتیبی اور خرابی سے پیدا شدہ موٹاپا۔

🔴موٹاپے کی وجہ سےصحت اور انسانی جان کو درپیش خطرات کیا کیا ہیں؟
موٹاپا انسانی صحت کے لیے بہت سے سنگین خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ مختلف جسمانی، ذہنی، اور جذباتی مسائل کا سبب بن سکتا ہے، اور بعض صورتوں میں جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ ذیل میں موٹاپے سے جڑے اہم خطرات بیان کیے گئے ہیں:

🚩1. دل کی بیماریاں
• موٹاپے کی وجہ سے جسم میں خون کی نالیاں تنگ ہو جاتی ہیں، جس سے ہائی بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھتا ہے، جیسے دل کا دورہ (Heart Attack) اور فالج (Stroke)۔

🚩2. ذیابیطس (Diabetes)
• موٹاپا خاص طور پر ٹائپ 2 ذیابیطس کے خطرے کو بہت زیادہ بڑھا دیتا ہے۔ جسم میں اضافی چربی انسولین کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے، جس سے خون میں شوگر کی سطح غیر معمولی طور زیادہ ہو جاتی ہے۔
🚩3. ہائی بلڈ پریشر (High Blood Pressure)
• موٹے افراد میں خون کا دباؤ بڑھ سکتا ہے، جسے ہائی بلڈ پریشر کہا جاتا ہے۔ یہ دل، دماغ اور گردوں پر منفی اثرات ڈالتا ہے۔
🚩4. کولیسٹرول اور شریانوں کی بندش
• موٹاپا خون میں خراب کولیسٹرول (LDL) کی سطح کو بڑھا کر اور اچھے کولیسٹرول (HDL) کی سطح کو کم کر کے شریانوں میں چربی کے جمع ہونے کا سبب بنتا ہے، جس سے دل کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔
🚩5. سانس کی بیماریاں
• اضافی وزن کی وجہ سے پھیپھڑوں پر دباؤ بڑھتا ہے، جس سے سلیپ ایپنیا Sleep Apnea (نیند کے دوران سانس رکنا) اور سانس لینے میں دشواری جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
🚩6. جوڑوں کی بیماریاں
• وزن کی زیادتی سے گھٹنے، کمر اور جوڑوں پر زیادہ دباؤ پڑتا ہے، جو گٹھیا (Arthritis) اور جوڑوں کے درد جیسے مسائل کو جنم دیتا ہے۔
🚩7. کینسر
• موٹاپا کچھ اقسام کے کینسر جیسے بریسٹ کینسر، کولون کینسر، اور جگر کے کینسر کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔
🚩8. پتے کی بیماریاں
• موٹاپا پتھری (Gallstones) اور پتے کی سوزش (Cholecystitis) کے خطرے کو بڑھاتا ہے، جو پتے کی بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔
🚩9. نفسیاتی مسائل
• موٹاپا ذہنی دباؤ (Depression)، احساس کمتری، اور اعتماد کی کمی کا باعث بن سکتا ہے، خاص طور پر سماجی دباؤ اور امتیاز کی وجہ سے۔
🚩10. حمل اور تولیدی مسائل
• خواتین میں موٹاپے کی وجہ سے بانجھ پن ، حمل کی پیچیدگیاں، اور پولی سسٹک اووری سنڈروم (PCOS) جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں.
🚩11. زندگی کی کوالٹی میں کمی
• موٹاپے کی وجہ سے روزمرہ کی سرگرمیاں انجام دینا مشکل ہو جاتا ہے، جس سے زندگی کی کوالٹی پر منفی اثر پڑتا ہے اور زندگی کی مدت کم ہو سکتی ہے۔

موٹاپا ان تمام مسائل کا سبب بن سکتا ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے مناسب علاج، وزن کم کرنے کی تدابیر، اور صحت مند طرزِ زندگی کو اپنانا ضروری ہوتا ہے۔

🟢ہومیوپیتھک علاج🔵 کی اہمیت:
دیگر کئی پرانی بیماریوں کی طرح موٹاپے کے علاج میں بھی ہومیوپیتھک طریقہء علاج کو برتری حاصل ہے۔ اس لحاظ سے کہ یہ بغیر سائیڈایفیکٹس کے بہت فطری طریقے سے آپ کو نارمل جسم اور وزن کا حامل بنا دیتا ہے۔
اگرچہ خالص اور کلاسیکل ہومیوپیتھک علاج کے کوئی سائیڈ افیکٹس نہیں ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود ہمارا مشورہ ہوتا ہے کہ موٹاپے یا کسی بھی مرض کے علاج کیلئے مستقل دوا کھاتے رہنا کوئی پسندیدہ بات نہیں ہے ۔ بلکہ آپ کا وزن علاج کے بعد اگر ان شاءاللہ نارمل ہوجائے تو اس کے بعد آپ کو اپنا علاج ڈاکٹر کی ہدایات کی روشنی میں اور بتدریج بند کرنا چاہیئے۔ اس کے بعد آپ اپنا بہتر لائف سٹائل اور ڈائیٹ پلان ترتیب دے کر اپنا وزن اپنی مرضی کے مطابق بغیر دوا کے بھی برقرار رکھ سکتے ہیں۔

🔵ہومیوپیتھک سسٹم آف میڈیسن بالکل نیچرل طریقے سے آپ کے تھائی رائیڈ اور سیبیشئس گلینڈز کے افعال کو درست کرتا ہے۔ جس سے چربی بننے کا پروسیس سست جبکہ ہاضمے کا عمل (میٹابولزم) تیز ہوجاتا ہے۔ جو آپ کو بے ضرر طریقے سے وزن کم کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

⚠️احتیاطی تدابیر:⚠️
موٹاپا کنٹرول کرنے کے لئے ڈائٹنگ نہیں کرنی چاہئے ۔ اس سے خون کی کمی، عام جسمانی کمزوری اور معدے اور آنتوں کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ اس لئے موٹاپا کنٹرول کرنے کا طریقہ یہ نہیں کہ خوراک کم کھایا جائے بلکہ ایسی خوراک کھانی چاہیے جس میں کم سے کم کیلوریز پیدا ہوں۔ میٹھے کھانے، میٹھے مشروب ، مرغن غذائیں، تازہ اور پیکج جوسز ، آئس کریم ، فاسٹ فوڈز، کولا ڈرنکس وغیرہ یہ سب چیزیں زیادہ کیلوریز والی ہیں اور وزن بڑھانے والی ہیں۔ چائے میں قہوہ پئیں لیکن چینی بہت کم یا بغیر چینی کے۔مٹن ، بیف اور چکن کی بجائے مچھلی کا گوشت کھائیں۔ روٹی کی مقدار کم سے کم کردیں۔
کھانا صرف دو وقت پیٹ بھر کر کھائیں۔ صبح کا ناشتہ اور عصر کے بعد کھانا۔ رات کا کھانا بند کردیں۔ یہ ہاضمے کے نظام پر ایک بوجھ ہے۔

🔵وزن کم کرنے کی ترکیبیں:
جسم کے اندر میٹابولزم کو تیز رکھنا وزن پر کنٹرول کا سب سے بہتر اور آسان طریقہ ہے۔ میٹابولزم کو درست رکھنے کیلئے کئی ایک غلطیوں سے بچنا ضروری ہے:
1. کھانے کے بعد چائے یا پانی پینا ، یا کھانے کے بعد جلدی سو جانا میٹابولزم کو کمزور کرتا ہے جس کی وجہ سے وزن بڑھتا ہے۔
2. کھانے میں سب سے زیادہ ناشتہ ضروری ہے۔ یہ معدے کو مصروف رکھتا ہے جس سے میٹابولزم کی رفتار زیادہ ہوجاتی ہے۔ جو کہ وزن کی کمی کا سبب ہے۔
3. بسکٹ اور بیکری کے دیگر آئٹم بہت زیادہ کیلوریز والی ہوتی ہیں ، انہیں ہلکا سمجھ کر کھانا وزن کو کم کرنے کی بجائےبڑھانے کا باعث ہے۔
4. ایک وقت میں 50 یا 60 گرام سے زیادہ ابلے چاول کھانا بھی میٹابولزم کو سست کردیتا ہے۔
5. ذہنی تناؤ یا سٹریس (Stress) آپ کے میٹابولک سسٹم کو متاثر کرتا ہے جس سے وزن بڑھتا ہے یا باوجود علاج کے کم نہیں ہوتا۔ اس لئے سٹریس کو اگر چہ مکمل طور ختم نہیں کیا جاسکتا لیکن کم کیاجاسکتا ہے۔ جیسے واک کرنا، ایکسرسائز کرنا، کوئی آؤٹ ڈور گیم کھیلنا، معتدل اور صحتمند خوراک کرنا، اچھے اور مخلص دوستوں کے ساتھ خوش مزاجی سے وقت گزارنا سٹریس کو کم کرنے میں معاون (Helpful) ہے۔

♌نوٹ:۔ پاپولر ہومیوپیتھک کلینک میں روزانہ صرف 10 مریضوں کا معائنہ کیا جاتا ہے۔ اس لئے بغرض علاج تشریف لانے سےقبل فون /واٹس ایپ/مرہم ایپ پر اپنی اپوائنٹمنٹ کی تاریخ اور وقت بُک کرلیجئے۔ شکریہ

آنلائن اپوائنٹمنٹ کیلئے "مرہم" ایپ
https://www.marham.pk/doctors/peshawar/homeopath/dr-mukhtar-ahmad

کلینک کا لوکیشن
https://maps.app.goo.gl/vczBf1w2i8s5jfkw8

فیس بک پیج
https://www.facebook.com/PHCPeshawar?mibextid=hIlR13

Youtube: یوٹیوب چینل
https://youtu.be/ij5bE3OIUgo?si=EWhr1gcD6QwceOlO

یہ جگر کی دوا نہیں بلکہ DMA ہومیو لیب کا پیک کردہ ایتھانول (Ethanol) ہے جو ہومیوپیتھک دوا سازی میں بطور وہیکل (vehicle) ...
25/02/2024

یہ جگر کی دوا نہیں بلکہ DMA ہومیو لیب کا پیک کردہ ایتھانول (Ethanol) ہے جو ہومیوپیتھک دوا سازی میں بطور وہیکل (vehicle) اور Preservative کے استعمال ہوتا ہے نہ کہ بطور دوا کے۔ سکرین شاٹ والے پوسٹ میں جو کچھ بتایا ہے وہ اس کی غیر قانونی دستیابی ، فروخت اور استعمال سے متعلق ہے۔ اور اس پر جو لیبل (Live-T Drops) بطور جگر کی دوا کے لگا ہوا ہے وہ بھی بالکل فرضی ہے۔

ایتھانول صرف ہومیوپیتھک فارماسیوٹیکل کمپنیوں اور ڈاکٹرز کے کلینک اور فارمیسی ضروریات کے لئے ہوتا ہے کیونکہ ان کو دوا بنانے کیلئے اس کی ضرورت پڑتی ہے۔ اسے ہر کس و ناکس کو بیچنا خلاف قانون ہے۔

ہومیوپیتھک سسٹم کو بدنام کرنے کیلئے جہاں اس کے مخالفین کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے وہاں اس کے منافق علمبردار (یا پھر غدار) بھی چند پیسوں کیلئے اس کا بیڑا غرق کرنے میں مصروف ہیں۔

حکومتی اداروں اور بالخصوص ہیلتھ کیئر اتھارٹیز کو چاہئیے کہ وہ ہومیوپیتھک سٹورز کو پابند بنائیں کہ ڈاکٹر کی پرچی پر آرڈر ملنے کے بغیر ایتھانول قطعاً فروخت نہ کریں۔

👈یہ اصول یاد رکھیں کہ بغیر ڈاکٹر کی پرچی (Prescription) کے کوئی مستند دوا بھی درحقیقت دوا نہیں کہلا سکتی ، اور یہ تو دوا بھی نہیں ہے۔ باالخصوص جس طرح اس کے استعمال کی بات اس منسلک پوسٹ میں کی گئی ہے وہ تو سراسر جرم ہے اور سرے سے استعمال دوا (Medication) کے زمرے میں ہی نہیں آتی!!!

25/12/2023

مرگی(Epilepsy)کا کامیاب علاج
ہومیوپیتھی میں موجود ہے!
(ہومیوپیتھک ڈاکٹر مختاراحمد ڈی ایچ ایم ایس ، آر ایچ ایم پی)

"مرگی" یا Epilepsy دراصل ایک (Neurological Disorder) یعنی نظام اعصاب اور دماغ کے روابط میں خلل اور بے ترتیبی کا نام ہے۔ ٖاس دماغی اور اعصابی خلل اوراس کے نتیجے میں پیدا ہونےوالی Nervous System کی بدنظمی و بے ترتیبی کیوجہ سے مریض کے عضلات میں غیرارادی حرکات پیدا ہوجاتی ہیں۔ مریض پر بے ہوشی کے دورے پڑتے ہیں۔ دورے سےکچھ لمحے، گھنٹے یا دو چار دن پہلے جسم کے کسی خاص حصے سے مرگی کی سرسراہٹ(Aura Epileptica) شروع ہوجاتی ہے، پھر یہ سرسراہٹ بڑھتے بڑھتے بالآخر دماغ اور نظام اعصاب پر حملہ کرتی ہے چنانچہ نظامِ عضلات (Musculature) میں تشنج (Spasm)واقع ہوتا ہے۔قوائے حس و حرکت بے ترتیب ہوجاتے ہیں۔ اور مریض چیخ مارتے ہوئے بے ہوش ہوکر گر پڑتا ہے۔

٭مرگی کا مرض اپنی شدت کی بنیاد پر دو قسم کا ہوا کرتاہے:

1)خفیف مرگی (Petit-Mal/Epilepsia Minor) جس میں مرگی کی تمام علامات ہلکی ہوتی ہیں۔ہلکا تشنج ہوتا ہے، چہرہ تھوڑا سا زرد پڑجاتا ہے ، اور تھوڑے ہی لمحوں کے لئے مریض کے ہوش و حواس بگڑجاتے ہیں لیکن نہ تو مریض اپنی زبان چبا کرکاٹتا ہے اور نہ ہی اس کے منہ سے جھاگ نکلتی ہے۔ بعض اوقات مرض کا دورہ خواب میں پڑجاتا ہے جس کی خبر مریض کے سوا کسی کو نہیں ہوتی، یا پھر خود اس کو بھی نہیں ہوتی۔
لیکن کبھی کبھی یہی خفیف مرگی بڑھ کر شدید مرگی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔

2)شدید مرگی (Grand Mal/Epilepsia Major – Generalized Epilepsy)
شدید مرگی کے دورے میں مریض /مریضہ کا جسم کمان کی طرح اکڑ جاتا ہے۔ سر، گردن ، اور ریڑھ کی ہڈی پیچھے کی طرف جھک جاتی ہے،آنکھوں کے ڈھیلے اوپر کی طرف چڑھ جاتے ہیں، چہرہ بدل سا جاتا ہے، رنگ پیلا پڑجاتا ہے ، منہ سے بکثرت جھاگ آنے لگتے ہیں، زبان دانتوں کے بیچ میں آکربری طرح زخمی ہوجاتی ہے۔بعض اوقات پیٹ پھول جاتا ہےاور سانس زور زور سے چلنے لگتی ہے۔ سینے میں خرخراہٹ بھی مشاہدہ کی جا سکتی ہے۔ مریض بری طرح تڑپتا ہے۔کئی ایک کا پیشاب اور پاخانہ بھی غیرارادی طور خارج ہوجاتے ہیں۔دورہ چار پانچ منٹ یا پھرنصف گھنٹہ تک بھی طویل ہو سکتا ہے۔اور جب دورہ ختم ہوکر ہوش بحال ہوجاتے ہیں تو مریض کو کچھ یاد نہیں رہتا کہ کیا ہوا تھا؟ ہوش میں آنے کے بعد کئی گھنٹے یا کئی ایک روز تک مریض یا تو دیوانگی کا شکار رہتا ہے یا پھر شدید کمزوری اور اضمحلال کی وجہ سے بستر کا ہوکر رہ جاتاہے۔

٭سبب مرض:
اس مرض کا ایک اہم سبب موروثیت ہے۔ یعنی مرگی کا مرض جن لوگوں میں شدید یا خفیف کسی بھی طور پایا جاتا ہے ان کی اولاد پر بھی اس کا حملہ ہو سکتا ہے۔لہٰذا مرگی کے مریض /مریضہ کو بعض ڈاکٹرز شادی نہ کرنے کا مشورہ بھی دیتے ہیں تاکہ ان کے ہاں مرگی سے متاثرہ بچے نہ پیداہوں۔ عام طور پر اس مرض کا سبب دماغ اور نظام اعصاب کی کوئی خراش یا بے نظمی (Neurological Disorder) ہوتی ہے جو ممکنہ طور پر کسی جسمانی ،دماغی چوٹ یا ذہنی و اعصابی صدمے کے زیراثر پیدا ہوتی ہے مثلا : سر پر چوٹ لگنا اور دماغ میں خون جمنا، نوجوانوں میں جلق (Masturbation)، کثرت سے دماغی محنت ، ناقابل برداشت رنج و غم کا سامنا، کثرت شراب نوشی، آتشک ، پرانی گنٹھیا (Gout) یعنی جوڑوں کے امراض کی وجہ سے خون کا زہریلا ہونا، اندرونی و بیرونی اعضائے تناسلی کی فعلی و جسمانی خرابیاں وغیرہ وغیرہ؛
لیکن بعض اوقات اس مرض کاکوئی معیّن سبب معلوم نہیں ہوتا۔

٭مرگی کا مرض کس کو لاحق ہوتا ہے؟

عموماَ کم عمر بچوں /بچیوں کو ہوتا ہے۔لیکن نوجوان لڑکوں /لڑکیوں کو بھی ہوجاتا ہے۔ بچوں کا مرض بعض اوقات جوان ہونے پر خود بخود ٹھیک ہوجاتا ہے لیکن بعض اوقات بڑھاپے یا موت تک پیچھا نہیں چھوڑتا۔

٭احتیاطی تدابیر:

1.مرگی کے مریض /مریضہ کوآگ کے قریب نہیں جانے دینا چاہئے ، اسی طرح دریا، کنویں، چھت یا سڑک پر اکیلے نہیں جانے دینا چاہئے۔ڈرائیونگ/رائیڈنگ کسی صورت نہیں کرنے دینا چاہئے۔ بلکہ سائیکل ، موٹرسائیکل اور گھڑسواری کرتے ہوئے اسے اپنے پیچھے بھی نہیں بٹھانا چاہئے۔ کیونکہ مرگی کا مریض کسی بھی وقت دورے کی وجہ سے حادثے کا شکار ہوسکتا ہے اور آپ بھی اس کے ساتھ حادثے کا شکار ہو سکتے ہیں۔

2.دورہ پڑنے پر فوراَ مریض /مریضہ کو ہوادار جگہ پر آرام دہ بستر پرکروٹ پر لٹائیں۔اس کے گلے اور سینے کے بٹن کھول دیں۔ سر کے نیچے نرم تکیہ ضرور رکھیں۔اور زبان کو زخمی ہونے سے بچانے کے لئے اس کے منہ میں صاف کپڑا رول کرکے دانتوں کے بیچ میں رکھ دیں۔

3.چہرے اور سر پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مارے جائیں۔لیکن بے ہوش مریض کو لیٹے رہنے دیں۔

4.بہتر ہوگا کہ دورے کے دوران اس کی تمام حرکات اور سکنات کی واضح ویڈیو بنا کر معالج کو دکھائی جائے۔

٭ہومیوپیتھک معالجاتی رہنمائی برائے ڈاکٹرز:
1.سر پر چوٹ کی ہسٹری میں Arnica.Mont اور Nat.Sulphکو نہیں بھولنا چاہئے ۔ جبکہ کمر اور حرام مغز کی چوٹ میں Hypericum کو بھی آپ آرڈر میں لگاسکتے ہیں۔
2.اگر پہلے ایلوپیتھک علاج کرایا گیا ہو توسب سے پہلے پوٹاشیم برومائیڈوغیرہ کے استعمال سے پیداشدہ سائیڈایفیکٹس کو جسم سے نکالنا(Antidote) کرنا ضروری ہے۔اس مقصد کیلئے:
Nux Vom, Thuja, Zinc.Met, Camphorوغیرہ حسب موقع اور حسبِ علامات استعمال کرنے چاہئیں۔
3.بچوں میں زیادہ تر Cicuta Virosa-30 روزانہ ایک خوراک صبح خالی پیٹ دینی چاہئے۔
(ڈاکٹر کیپٹن(ر) غیوراحمد خان مرحوم کا آزمودہ)
4.قابل ذکر ادویات یہ ہیں جن میں سے بہتر دوا کےانتخاب کیلئے ضروری ہے کہ مریض کا معائنہ اور اس کے لواحقین سے تفصیلی احوال معلوم کئے جائیں:۔
Cicuta Virosa, Oenanthe Crocata, Absinthium, Mag.Phos, Valeriana, Indigo, Calc.Carb, Silicea, Bufo.Rana, Cup.Met, Arg.Nit, Sulphur, Agaricus, Kali.Phos, Kali.Brom, Artemisia.Vulgaris, Cimicifuga, Secale.Cor, Zinc.Met

اگر آپ کے گھر یا خاندان میں بھی کوئی ایسا مریض/مریضہ ہے جس کی زندگی مرگی کے ان تکلیف دِہ دوروں کی وجہ سے اذیّت میں گزر رہی ہے تو مشورے اور علاج معالجے کے لئے پاپولر ہومیوپیتھک کلینک پشاور تشریف لائیں۔ انشاء اللہ العزیز اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے آپ کا عزیز مستقل شفایاب ہوگا اور آپ ہمیں دُعائیں دیں گے۔

پاپولر ہومیو پیتھک کلینک آنے کے لئے ہمارا پتہ بہت آسا ن ہے ۔ پشاور BRT بس سٹیشن فیصل کالونی جی ٹی روڈپشاور۔ BRT ٹکٹ کاؤنٹر کے بالکل سامنے ہی ہمارا کلینک ہے ۔

ضروری بات نوٹ کریں: ہم روزانہ محدود تعداد میں ہی مریض دیکھتے ہیں۔اس لئے ضروری ہے کہ مشورے کے لئے تشریف لانے سے کم از کم ایک یا دو دن پہلے فون پر نمبرلے لیں اور مشورے کا معیّن وقت بھی ضرور لیں۔
یا پھر مرہم ایپ پر اپوائنمنٹ بک کریں جس کا لنک یہ ہے۔
https://www.marham.pk/doctors/peshawar/homeopath/dr-mukhtar-ahmad

ہمارایوٹیوب ، فیس بک ، انسٹاگرام اکاؤنٹ فالو کیجئے اور واٹس ایپ پربھی جوائن کیجئے:
www.youtube.com/PopularHomoeopathicClinic

#مرگی #دورے #ہومیوپیتھک #پاپولرہومیوپیتھک #علاج #پشاورکلینک #اعصاب #بیماری #صحت #ڈاکٹرہومیوفزیشن

Address

BRT Station No. 4 Faisal Colony, G. T. Road Peshawar
Peshawar
25000

Opening Hours

Monday 09:00 - 13:00
15:30 - 21:30
Tuesday 09:00 - 13:00
15:30 - 21:30
Wednesday 09:00 - 13:00
15:30 - 21:30
Thursday 09:00 - 13:00
15:30 - 21:30
Friday 09:00 - 12:30
16:00 - 21:00
Saturday 09:00 - 13:00
15:30 - 20:00

Telephone

+923159111822

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Popular Homoeopathic Clinic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Popular Homoeopathic Clinic:

Share