17/04/2023
اس اندھیرے کے ذمہ دار وہ انسٹی ٹیوٹ مافیاز اور سینئر فزیوتھراپسٹس ہیں جنھوں نے اپنی مفادات کی خاطر ڈی پی ٹی گریجوایٹ کو ایچ ای سی ھدایات کے مطابق اپنے گریجوایٹ کو پیڈ ہاوس جاب نہیں دی جس سے ان کی پراپر پروفیشنل پریکٹس نا ہوئی اور وہ اس فلڈ اور اس کی کی ڈگری کو ایک بوجھ سمجھ رہے۔
دوسری بات یہ کہ جہاں ایک طرف یہ سینئرز انسٹی ٹیوٹس کے ایچ او ڈیز بنے یا بڑے عہدیدار بنے تو انھوں نے کمیونٹی اور فیلڈ کا نہیں سوچا جس سے فزیوتھراپسٹ بیروزگاری کے ضد میں آتے رہے اور یہ آج یہ حال ہے کہ مشکل سے 20 ہزار کی جاب ملتی ہے۔
میرے صوبے پختونخوا کا حال دیکھ لے جہاں مئی 2021 میں پیڈ ہاوس جاب کیلئے دھرنا دیا گیا ۔ 274 گریجویٹس میں سے صرف 72 جو کے ایم یو کے اپنے گریجویٹس تھے ان کو ہاوس جاب دی گئی جبکہ باقی پرائیویٹ انسٹی ٹیوٹس والے انٹرنشپ کیلئے دھکے کھاتے رہے اور آج تک بھی کھا رہے ہیں۔ اب جب ان کا ایک سال ہاوس جاب ہوگیا تو اب وہ 62 ہزار کی تنخواہ سے 15 20 ہزار کی تنخواہوں پر کام ڈھونڈ رہے۔
ہاوس جاب کے نام پر اب انسٹی ٹیوٹس سٹوڈنٹس کو داخلے دے رہے لیکن حالت ہے کہ پختونخوا کا کوئی بھی انسٹی ٹیوٹ اپنے 10 تک کے گریجویٹس کو ہاوس جاب آفر نہیں کررہا۔
اس صورت حال کے ذمہ دار وہ سٹوڈنٹس اور ان کو گایئڈ کرنے والے سینئرز بھی ہیں جنھوں نے ایک سالہ ہاوس جاب کا تو سوچا لیکن اس کے بعد آنے والے حالات کو اگنور کیا اور اگنور کرتے آرہے ہیں۔
ڈاکٹر عدنان خان