GIMS Peshawar

GIMS Peshawar You will find everything on this page related to Medical and health
Educational medical videos. Learn more about how to be healthy. Health and fitness tips..

آج غزہ کے بچے جسم سمیت  آسمان تک اُڑ کر گئے تاکہ وہ نابینا اُمت کو دکھائی دے سکیں
06/04/2025

آج غزہ کے بچے جسم سمیت آسمان تک اُڑ کر گئے تاکہ وہ نابینا اُمت کو دکھائی دے سکیں

 Vit DVit EVit K..... etc
16/11/2021


Vit D
Vit E
Vit K..... etc

ایڑھیوں میں درد کی وجوہات اور علامات  بعض افراد کو صبح بستر سے اٹھنے کے بعد جیسے ہی وہ قدم فرش پر رکھیں تو اسی لمحے ایڑھ...
23/05/2021

ایڑھیوں میں درد کی وجوہات اور علامات


بعض افراد کو صبح بستر سے اٹھنے کے بعد جیسے ہی وہ قدم فرش پر رکھیں تو اسی لمحے ایڑھیوں میں شدید دردمحسوس ہوتاہے ۔ اسی طرح جاگنگ،یا دوسری کسی بھی سرگرمی کے بعد ایڑھی میں ناقابل برداشت درد محسوس ہوتاہے ۔اگر آپ ایسی ہی کسی علامت کا شکار ہیں تو ممکن ہے کہ آپ پلانٹرفیشی آئی ٹس(Plantar Fasciitis)کا شکار ہوں ۔کیونکہ عام طور پر ایڑھی کا درد اسی وجہ سے ہوتاہے۔پلانٹرفیشیا دراصل چپٹی بافتوں کی ایک تہہ ہوتی ہے جو ایڑھی کی ہڈی کو پاؤں کی انگلیوں سے جوڑتی ہے۔ پٹھوں کے ان ریشوں سے پاؤں کے خمدار محراب کو بھی سہارا ملتاہے ۔اگرآپ اپنے پلانٹرفیشیا پر دباؤبڑھاتے رہیں تو یہ کمزور ،متورم اور سوزش کا شکار ہوسکتاہے۔ اور ایسی صورت میں کھڑے ہونے یا چلنے میں ایڑھی یا تلوے میں شدید درد محسوس ہوتاہے۔

ایڑھیوں میں درد اور تکلیف طویل عرصے تک متعلقہ ریشوں پر پڑنے والے دباؤ کی وجہ سے ہوتاہے۔ پلانٹرفیشی آئی ٹس کی شکایت ادھیڑ عمر لوگوں میں عام ہوتی ہے لیکن آجکل خواتین اس مسئلے کا شکار زیادہ نظر آتی ہیں۔جو خواتین زیادہ چلنے یا زیادہ دیر کھڑے رہنے کا کام کرتی ہیں،اضافی وزن کا شکار ہوں یا حاملہ ہوں وہ اس مسئلہ سے دوچار ہوسکتی ہیں۔اضافی وزن اور مسلسل حرکت کے باعث ایڑھیوں میں سوزش اور درد ہوتاہے۔یہ تکلیف ایک یا دونوں پاؤں میں ہوسکتی ہے۔

ایڑھیوں میں درد کی وجوہات
پلانٹر فیشی آئی ٹس کی تکلیف اس وقت ہوتی ہے ،جب آپکے پاؤں کی خم دار کمان کو سہارا دینے والی جھلی پر بہت زور پڑنے لگے۔ اگر یہ دباؤ مسلسل جاری رہتاہے تو جھلی کی بافتیں کٹنے ،اور پھٹنے لگتی ہیں۔اس سے پاؤں میں درد یا ورم کی شکایت ہونے لگتی ہے ۔
یہ شکایت مندرجہ ذیل صورتوں میں زیادہ ہوسکتی ہے۔
اگر آپ چلتے ہوئے اپنے پاؤں کی انگلیوں کو اندر کی طرف موڑ کر چلنے کے عادی ہوں۔
آپ سخت سطحوں پر بہت زیادہ دیر تک چلتے ،کھڑے ہوتے یا دوڑتے ہوں۔

آپکا وزن زیادہ ہو۔پاؤں کی خمیدہ کمان نسبتاً اونچی ہو یا تلوے برابریعنی فلیٹ ہوں۔

آپکے جوتے آرام دہ نہ ہوں۔یا ایڑھی کو پنڈلی سے ملانے والا پٹھایا عضلہ تنا ہوا رہتاہو یا پنڈلیوں کے پٹھے کنچھے رہتے ہیں۔

ایڑھیوں کے درد کی علامات
پلانٹر فیشی آئی ٹس کے زیادہ تر مریضوں کو اس وقت بہت زیادہ ناقابل برداشت درد محسوس ہوتاہے، جب وہ بستر سے اٹھنے کے بعد اپنا پہلا قدم نیچے رکھتے ہیں۔ یا دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد کھڑے ہوتے ہیں ۔چند قدم چلنے کے بعد ممکن ہے کہ پاؤں کی اکڑن یا درد میں کچھ کمی آجائے ۔لیکن دن گزرنے کے ساتھ پاؤں میں تکلیف بڑھتی ہے، اور یہ تکلیف اس وقت شدت اختیار کرلیتی ہے جب آپ سیڑھیاں چڑھیں یا آپکو زیادہ دیر تک کھڑا رہنا پڑے ۔اگر آپکے پاؤں میں خصوصاً رات کے وقت درد ہو تو بہت ممکن ہے کہ یہ پلانٹر فیشی آئی ٹس نہ ہوبلکہ ٹارسل ٹیونل سنڈروم کا مسئلہ ہو۔

علاج
اسکے لئے آپ چند اقدامات کرسکتے ہیں۔
صحت مند وزن برقرار رکھیں۔مناسب وزن سے آپکے جسم کاوزن آپکے پیروں پر نہیں پڑے گا ۔ آپکے جسم کا غیر ضروری دباؤ ایڑھیوں کے درد کی بڑی وجہ ہے۔
اپنے پاؤں کو آرام پہنچائیں ،ایسی سرگرمیاں کم کردیں جن سے آپ کے پاؤں میں تکلیف ہوتی ہے۔ سخت سطحوں پر چلنے اور دوڑنے سے گریز کریں۔
درد دور کرنے کیلئے ایڑھی پر برف سے سینکائی کریں ۔
اپنے پاؤں کو آرام دیں ۔اگر آپ اس مرض کا شکار ہیں تو اپنے پیروں کو مسلسل تحریک میں نہ رکھیں ۔
ایسے جوتے منتخب کریں جو نرم اور آرام دہ ہوں تاکہ تلوے کے خمیدہ کمان کو سہارا مل سکے۔
ایڑھی کا درد دور کرنے والی ورزشیں کریں۔
ہمیشہ ورزش یا دیگر جسمانی سرگرمیوں سے پہلے اپنے جسم کو وارم اپ کریں ضرورت سے زیادہ جمپنگ موومنٹ انجری کا سبب بن سکتے ہیں۔
اگر آپ اس مرض میں مبتلا ہیں تو اسے نظر انداز مت کریں اپنی غذا اور ورزش میں تبدیلی سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں۔

ایڑھیوں کے درد سے نجات کی ورزش
بیٹھ کر ورزش کریں بیٹھ کو مشقیں کرنے سے زیادہ آپ زیادہ مستفید اور کامیاب ہوسکتے ہیں۔
۱۔پانی کی بوتل یاایسی ہی شیپ کی کسی دوسری چیز پر ایک منٹ کیلئے پاؤں کو رول کریں اور دوسرے پاؤں پر بھی یہی عمل دہرائیں۔

۲۔ایک پاؤں کو دوسرے پاؤں پر کراس کرکے رکھیں اور انگوٹھے کو اوپر کی طرف کھینچیں پندرہ سیکنڈ کیلئے اسی پوزیشن میں ہولڈ کریں پھر چھوڑ دیں اور تین دفعہ دہرائیں ۔پھر دوسرے پاؤں پر بھی یہی عمل دہرائیں۔
۳۔تولیہ تہہ کرکے تلووں کے نیچے آرچ شیپ پر رکھیں ۔اور آہستہ آہستہ تولیہ کے دونوں سروں کو اوپر کی طرف کھینچیں ۔اس دوران اپنا گھٹنا بالکل سیدھا رکھیں۔اس سے آپکا پاؤں اسٹریچ ہوگا اور اوپر کی طرف آئے گا پندرہ سے تیس سیکنڈ تک ہولڈ کریں اور تین دفعہ دہرائیں۔

پنڈلی کو اسٹریچ کریں ۔پنڈلی کو اسٹریچ کرنے سے ایڑھیوں کی صحت کو فروغ دے سکتے ہیں۔ بس اپنے ایک پاؤں کو اوپر اٹھائیں اور تیس سیکنڈ کے لئے ہولڈ کریں ۔تین دفعہ دونوں ٹانگوں پر یہ عمل دہرائیں۔

AsthmaLike and share
15/05/2021

Asthma
Like and share

 #صرف ایک دن کسی پولیس اسٹیشن یا آرمی ایریا میں جا کر ایسی بدمعاشی کریں تو آپکو نانی اماں یاد دلائیں چھتر اور ڈنڈے مار م...
03/05/2021

#صرف ایک دن کسی پولیس اسٹیشن یا آرمی ایریا میں جا کر ایسی بدمعاشی کریں تو آپکو نانی اماں یاد دلائیں چھتر اور ڈنڈے مار مار کے۔۔۔
are not made for غنڈہ گردی.
We want safe and secure environment to treat the patients.
Full fill our demands otherwise strike will continue.
No need of any dialogue with any party.
غنڈہ گردی نا منظور

What disease name??????And   ????     ND
25/03/2021

What disease name??????
And ????

ND

Like and share
22/03/2021

Like and share

A 65 year patient was admitted with 4 days history of right upper quadrant(RUQ) pai associated with nausea, vomiting and...
22/03/2021

A 65 year patient was admitted with 4 days history of right upper quadrant(RUQ) pai associated with nausea, vomiting and rigors. He is known to have gallstones. On examination, he was pyrexic at 38.6 temp., Tachycardic at 120 BPM and has a blood pressure of 143/87. His abdomen is soft wit RUQ tenderness elicited on palpation. On closer observations, you notice the following abnormality as seen in the picture below.

What's this condition you can see in the image? What are your differential diagnosis???

😍
28/01/2021

😍

کرونا کا ٹیسٹ پازیٹو آگیاہے۔ یا کرونا کی علامات ظاہر ہوں تو ۔ پریشان ہونے سے کچھ نہیں ہونے والا۔اسلئے پریشان ہونا چھوڑیں...
31/12/2020

کرونا کا ٹیسٹ پازیٹو آگیاہے۔ یا کرونا کی علامات ظاہر ہوں تو ۔ پریشان ہونے سے کچھ نہیں ہونے والا۔
اسلئے پریشان ہونا چھوڑیں اور ان ہدایات پر عمل کریں ۔
فوری طور پر خود کو ایک کمرے تک محدود کرلیں تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جاسکے اور گھر کے باقی لوگ وائرس سے متاثر نہ ہوں۔
بخار کی صورت میں صرف پیرا سیٹامول /پیناڈول استعمال کریں۔ اسپرین ، پونسٹان یا بروفن کا استعمال “ہرگز نہ کریں”۔
روز وٹامن سی (1000mg) لیں۔
وٹامن ڈی 5000IU (Sunny D) کیپسول کا استعمال روزانہ کریں۔
ایک ٹیبلٹ Surbex Z کی روزانہ لیں ۔
گرم مشروبات زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔
دن میں کم از کم تین مرتبہ نمک ملے گرم پانی سے غرارے کریں۔
جتنا ممکن ہو تازہ پھل /فریش جوسسز استعمال کریں۔
کوشش کریں کہ خشک میوہ جات خصوصا کاجو (صرف ایک مٹھی کے برابر مقدار میں ) روزانہ استعمال کریں ۔
اگر آپ کی طبعیت زیادہ خراب ہو یا سانس لینے میں دشواری ہو تو پریشان نہ ہوں اور قریبی ہسپتال سے رابطہ کریں ۔ جتنا ہوسکے اس مسیج کو فیسبک گروپس میں شیئر ضرور کریں شکریہ

COVID-19 Positive - Don’t panic

In case you test positive for Covid-19...
Don't panic and Stay strong! You can defeat it!
1. Isolate yourself immediately! Protect others from contracting it from you.
2. Take only Paracetamol (Panadol) for fever. No Aspirin or Ponstan or Brufen!
3. Take Vitamin C 1000 mg daily
4. Take vitamin D 5000 (Sunny D) IU cap once daily.
5. Take Tab. Surbex Z once daily.
6. Drink hot fluids many times a day.
7. Gargle with salted warm water 3 X a day.
8. Eat fresh fruits as much as you can.
9. Drink fresh fruit juices.
10. Add lots of nuts, especially cashew and other dry fruits to your diet.
11. If your symptoms worsen, please don't panic and call your nearest hospital right away!

ایسا پیغام جو شئیر کرنا اور پڑھنا صدقہ جاریہ کے برابر ہے۔ ریبیز Rabies یا باولے کتے کا کاٹنا موت ہے! ریبیز سے ہر سال تقر...
29/12/2020

ایسا پیغام جو شئیر کرنا اور پڑھنا صدقہ جاریہ کے برابر ہے۔
ریبیز Rabies یا باولے کتے کا کاٹنا موت ہے! ریبیز سے ہر سال تقریبا 55 ہزار لوگ مر جاتے ہیں۔
کتا اگر آپ کو کاٹتا ہے تو اس سوچ بچار میں وقت ضائع مت کیجیے کہ وہ پاگل تھا یا گھریلو تھا، پہلی فرصت میں قریبی سرکاری ہسپتال جائیے۔ وہاں ایمرجیسنی والے اس صورت حال کو پرائیویٹ ڈاکٹروں سے سو گنا زیادہ بہتر طریقے سے جانتے ہیں، روزانہ ایسے مریض دیکھتے ہیں۔ مرچیں لگانا، سکہ باندھنا، یہ سب تکے لگانے جیسا ہے۔ اگر کتا پاگل نہیں تھا تو یہ سب ٹوٹکے کام کریں گے، اگر پاگل تھا تو موت یقینی ہے!
ہسپتال دور ہے تو صابن اور بہتے پانی سے دس پندرہ منٹ تک اچھی طرح زخم کو دھوئیے اس کے بعد پٹی مت باندہیں۔ اسے کھلا رہنے دیجیے اور ہسپتال چلے جائیے۔ چودہ ٹیکوں کا زمانہ گزر گیا۔ ایک مہینے میں پانچ ٹیکوں (شیڈول: 0-3-7-14-28) کا کورس ہو گا، بہت سی کمپنیوں کی بنائی سیل کلچرڈ ویکسینز مارکیٹ سے مل سکتی ہیں۔ جو چیز یاد رکھنے کی ہے وہ یہ کہ کسی اچھی فارمیسی سے ویکسین خریدی جائے کیوں کہ اس کا اثر تب ہی بہتر ہو گا جب یہ مسلسل کولڈ چین میں رہے گی۔ کوئی بھی ویکسین (سوائے پولیو اورل کے) بننے سے لے کر دوکان پر آنے تک دو سے آٹھ ڈگری کا ٹمپریچر مانگتی ہے، جب بھی یہ سلسلہ ٹوٹے گا، بہرحال اس کا اثر ویکسین کی کوالٹی پر ہو گا۔ ویکسین کے ساتھ ساتھ ریبیز امیونوگلوبیولین RIG لگوانے بھی اکثر ضروری ہوتے ہیں۔
اگر کتا آپ کا اپنا پالتو نہیں ہے تو کوئی رسک لینے سے بہتر ہے کہ ریبیز امیونوگلوبیولین RIG ضرور لگوائیں۔ اسی طرح کتا جتنا سر کے قریب کاٹے گا، وائرس اتنی تیزی سے دماغ تک جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ پاؤں پر یا ٹانگ پر کاٹا ہے تب بھی جلدی ہسپتال جانا ضروری ہے لیکن کندھے یا گردن والے معاملے میں بے احتیاطی ہرگز نہیں ہونی چاہئیے، فوری طور پر ہسپتال کا رخ کرنا اور ویکسین کے ساتھ ساتھ ریبیز امیونوگلوبیولین RIG (یہ بھی کئی کمپنیوں کے موجود ہیں) لگوانا بہتر ہے۔ کتے کا پنجہ لگے، کوئی خراش ہو جائے، یا آپ کے کسی زخمی حصے کو کتا چاٹ جائے، ریبیز کا ٹیکہ لگوا لیجیے، احتیاط لازم ہے۔
اگر کتا آپ کے یہاں پالتو ہے، یا آپ جانوروں کے ڈاکٹر ہیں، یا آپ فوج میں ہیں، یا دیہی علاقے کی پولیس میں ہیں، یا کسی بھی ایسی جگہ ہیں جہاں دوران ملازمت آپ کھلے میدانوں کا رخ کر سکتے ہیں، یا کتوں والے کسی بھی علاقے میں جانا پڑ سکتا ہے تو آپ ریبیز سے بچاؤ کا حفاظتی کورس بھی کر سکتے ہیں۔
ریبیز سامنے آنے کے بعد پوری دنیا میں آج تک پانچ سے زیادہ لوگ بچ نہیں سکے۔ وہ بھی دس بارہ سال پہلے ایک تجربہ شروع کیا گیا تھا جس میں مریضوں کو مصنوعی طریقے سے کئی ماہ تک بے ہوش رکھا گیا، انہیں مختلف دوائیں دی گئیں اور آہستہ آہستہ جب وائرس ختم ہو گیا تب ہوش میں لایا گیا۔ لیکن یہ طریقہ بھی کئی سو میں سے صرف پانچ لوگ بچا سکا۔ ان پانچ کے بارے میں بھی ڈاکٹر یہ خیال کرتے ہیں کہ ان میں والدین سے ریبیز کے خلاف قوت مدافعت آئی ہو گی۔
بلی، گائے، بھینس، گھوڑا، گدھا، چمگادڑ، ہر وہ جانور جو دودھ پلانے والا ہے، وہ ریبیز کا شکار ہو سکتا ہے۔ پاگل کتا جب انہیں کاٹتا ہے تو وہ اپنے جراثیم ان میں منتقل کر دیتا ہے۔ وہی جراثیم انسانوں میں منتقل ہو سکتے ہیں اگر یہ جانور کاٹ لیں۔ یہ وائرس متاثرہ جانور کے لعاب میں بھی پایا جاتا ہے۔
پبلک سروس میسج

Address

Peshawar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when GIMS Peshawar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram