02/03/2026
پریس ریلیز
پیما شمالی وزیرستان کے علاقے میرانشاہ میں لیڈی ڈاکٹر کو زد و کوب کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔
حکومت ڈاکٹروں کو تحفظ دینے میں سنجیدہ نہیں اسی لئے ڈاکٹرز ایک سافٹ ٹارگٹ بن چکے ہیں۔
میرانشاہ کے ڈسٹرکٹ ہسپتال میں لیڈی ڈاکٹر گائنی وارڈ میں اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہی تھی جب ایک مریضہ کو ڈیلیوری انڈکشن کیلئے لایا گیا لیکن انڈکشن میں ابھی وقت تھا اور اٹینڈینٹ وقت سے پہلے انڈکشن کرانا چاہتے تھے جس پر لیڈی ڈاکٹر نے منع کردیا تو اٹینڈینٹ نے لیڈی ڈاکٹر کو ہراساں کرنا شروع کردیا اور ایک صحافی نور بہرام کو بلایا گیا جس نے لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ بدتمیزی کی ، ہراساں کیا اور گالیاں دی۔
اس طرح کے رویے کے ذمہ دار سہیل آفریدی ہیں جنہوں نے لوگوں کو اکسایا ہے کہ ڈاکٹروں کی ویڈیوز بنائیں۔
پیما حکومت وقت کو متنبہ کرتی ہے کہ جلد از جلد سیکورٹی ایکٹ بل کو نافذ کرکے اس قسم کے واقعات کا قلع قمع کردیں۔
پیما حکومت وقت سے یہ بھی مطالبہ کرتی ہے کہ ڈاکٹر مہوش کے قاتلوں کے چہرے آج بھی زیر نقاب ہیں ان کو جلد از جلد میڈیا کے سامنے لا کر ان کو بے نقاب کیا جائے۔
ڈاکٹر مہوش کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر وردہ کیس کو جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچایا جایے اور ملزمان کو نشان عبرت بنایا جائے۔
اگر حکومت مزید تاخیری حربے استعمال کرتی رہی تو پیما تمام ڈاکٹرتنظیموں اور پوری کمیونٹی کو اعتماد میں لے کر پورے صوبے کے ساتھ ساتھ وزیر اعلی ہاوس کے سامنے احتجاج تک جائے گی۔
میڈیا سل
پیما خیبر پختونخواہ