Laparoscopic Surgeon Dr Muhammad Ibrahim Marwat

Laparoscopic Surgeon Dr Muhammad Ibrahim Marwat Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Laparoscopic Surgeon Dr Muhammad Ibrahim Marwat, Surgeon, Health Net hospital Hayatabad, Peshawar.

پشاور ہیلتھ نیٹ ہسپتال اور لکی مروت کے بعد اب اسلام آباد میں بھی کیمرے ( لیپرسکوپ ) کے جدید طریقے کے علاوہ لیزر کے ذریعے بواسیر وغیرہ کے آپریشن شروع کر دیے ہیں۔
لیپروسکوپک اینڈ لیزر سرجن ڈاکٹر محمد ابراہیم

25/03/2026
22/03/2026

امید ہے آپ کی عید تو اچھی گززرہی ہوگی۔۔!!
ذرا ان کی فکر بھی کریں جنہوں نے برسوں سے عید کی خوشیاں نہیں دیکھیں

اس نوجوان کا نام اسامہ ہے اور والد کا نام میاں خان ہے۔
اسامہ دو دہائیوں سے زائد عرصہ قبل بچپن میں گھر سے نکلا تھا بھٹک کیا۔ روتا ہوا کسی نے دیکھ کر اپنی حفاظت میں لیا اور ملتان کے ایک شیلٹر میں جمع کروادیا۔
اسامہ کا کہنا ہے کہ ملتان شیلٹر سے پانچ ماہ بعد مجھے کراچی کے شیلٹر منتقل کردیا۔یہاں کی بند چار دیواری میں جوان ہوا۔ راتوں کو اٹھ اٹھ کر روتا تھا،امی ابو کی بہت یاد آتی تھی۔
آج عید کے پہلے روز اسامہ نے رابطہ کرکے اپنا بتایا تو میں نے اسے اپنے پاس بلاکر اسٹوری پوچھی۔ پہلے کافی دیر تک وہ روتا رہا گال جیسے آنسو سے دھل گئے۔بہت مشکل سے بات شروع کی اور اپنے متعلق بتایا۔
والد کا نام میاں خان،والدہ کا نام یاسمین تھا۔ والدہ کی گود میں ایک نومولود بھائی تھا جسکا نام حسیب یاد ہے۔
اسکے علاوہ اسامہ کو اپنے شہر کا نام اور علاقے کا نام یاد نہیں ہے۔
ملتان جب منتقل کیا جارہا تھا تو لمبا سفر طے کیا تھا جسکا مطلب یہ ہے کہ ملتان سے باہر کسی علاقے میں رہائش تھی۔محلے میں گھر پکے بنے تھے۔گھر کے قریب کوئی کالج یا اسکول تھا۔
مادری زبان پنجابی ہے۔
پنجاب بھر کے تمام دوست اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں ان شاءاللہ انکی فیملی بآسانی مل سکتی ہے۔
یہ عظیم نیکی ہاتھ سے جانے مت دیں۔اسامہ کی عید کروادیں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829

21 Mar 2026

19/03/2026

اس بچے کا نام عبداللہ ہے اور والد کا نام امجد علی ہے-
عبداللہ کا تعلق ہری پور ہزارہ سے ہے۔
عبداللہ کے والد صاحب مولانا امجد علی اسلام آباد کے پاکستان ٹاؤن کی ایک مسجد میں امامت فرماتے ہیں،عبداللہ کی والدہ وفات پاچکی ہے۔امجد علی صاحب اپنے تینوں بچوں کے لئے بیک وقت باپ اور ماں دونوں ہیں-ہر مشکل کا مقابلہ کرکے بچوں کو سنبھال رہے ہیں-
آٹھ جنوری 2026 کو 14 سالہ عبداللہ صبح نو بجے والد کی مسجد سے باہر نکلا اور واپس نہیں لوٹا-
سی سی ٹی وی کیمرے میں دیکھا گیا وہ تنہا جارہا تھا، کہاں گیا نہیں معلوم۔
اسلام آباد سمیت ارد گرد شہروں کے تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ برائے مہربانی اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔عبداللہ کی تلاش کے لئے مدد کریں۔ دو بہنوں کو بھائی کا سہارا دلوائیں۔
تمام شیلٹرز اور لاوارث بچوں کے ادارے چلانے والوں سے اپیل ہے اگر عبداللہ آپ کے پاس ہو تو خدارا اسے والد کے حوالے کردیں۔
تمام ہوٹل مالکان اور چائے کے ڈھابے چلانے والوں سے بھی اپیل ہے اگر بچہ آپ کے پاس کام کررہا ہو تو جلد والد تک پہنچائیں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
03162529829

19 Mar 2026

17/03/2026

اس نوجوان کا نام سجاد ہے اور والد کا نام رمضان ہے۔

سجاد کی عمر چار یا پانچ سال تھی اپنے گھر سے بچھڑ گیا تھا اور آج تک اپنوں سے دور ہے۔
سجاد کو اپنے اور والد کے نام کے علاوہ کسی کا نام یاد نہیں ہے۔
سجاد کہتا ہے میرے والد موچی کا کام کرتے تھے۔
اپنے علاقے کا نام یاد نہیں ہے،نقشہ یاد ہے۔
سجاد کا کہنا ہے کہ ہمارے گھر کے قریب گول گراؤنڈ تھا،گراؤنڈ کے ساتھ دو اسکول تھے اور سامنے مسجد بنی ہوئی تھی۔
قریب میں سبزی منڈی تھی،منڈی کے ساتھ ریلوے اسٹیشن کا راستہ تھا۔ ریلوے اسٹیشن نزدیک تھا۔بائی پاس اور قبرستان بھی قریب میں موجود تھا۔
والد کے ساتھ کسی رشتےدار کے ہاں شادی پر گئے تھے وہاں والد نے رکنے کا کہا اور وہ دوسرے بھائی کو لینے نکلے۔ والد نے دیر کردی تو میں نکل گیا اور راستہ بھول کر بھٹک گیا۔
کچھ دنوں تک لوگوں نے رکھا پھر ملتان کے ایدھی سینٹر میں جمع کرادیا۔
مجھے کچھ عرصے بعد ملتان سے کراچی شفٹ کردیا گیا اور یہاں کے شیلٹر میں ماں باپ کے سائے سے دور رہ کر بڑا ہوا۔
سجاد اس وقت کراچی کے ایک شادی ہال میں کام کرتا ہے اور وہیں سوتا ہے۔ ہال کے گارڈ نے مجھے الگ کرکے بتایا کہ “رات کو تقاریب کے بعد جب سب اپنے اپنے گھر جاتے ہیں،سجاد رات کو ہال میں اکیلا رہ کر بہت روتا ہے،خدا کے لئے اس کے گھر والوں کو ڈھونڈیں”۔
سجاد کو اپنا نام یاد ہے والد کا نام یاد ہے۔اور اتنا یاد ہے کہ والد موچی تھے۔ اور سب سے بڑی نشانی چہرے کے داغ ہیں۔
یہ کیس بہت آسان ہے،اگر آپ اللہ کا نام لیکر شئیر کریں گے تو ان شاءاللہ راتوں کو رونے والا یہ انسان راتوں تو اٹھ کر دعاؤں میں روکر آپکو یاد کرےگا۔
قوی امکان ہے کہ انکا تعلق پنجاب سے ہو۔
اگر کسی کا بچہ سالوں قبل گم ہوا ہو اسکے چہرے پر یہ نشان ہوں،نام سجاد ولد رمضان نا بھی ہو وہ بھی رابطہ کریں،ڈی این اے میچ کرکے دیکھ تصدیق کرسکیں گے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں۔
+923162529829

17 Mar 2026

12/03/2026

بالاکوٹ کے اس غمزہ فرزند کے زخموں پر مرہم رکھیں۔۔۔!

آٹھ اکتوبر دوہزار پانچ کس کو یاد نہیں ہوگا۔قیامت تھی قیامت!
کتنے لوگ لقمہ اجل بن گئے۔ کتنے لوگ تنہا رہ گئے۔ پوری کی پوری بستیاں ملیامیٹ ہوئیں۔
عابداللہ نے اپنی زبانی وہ بیان کیا جو اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
وہ کہتا ہے:
میرا نام عابداللہ ہے،میرے والد کا نام وسیم اللہ اور میری والدہ کا نام آمنہ بی بی ہے۔
میں ایک بھائی تھا دو چھوٹی بہنیں تھیں،ایک سات سال کی رقیہ اور دوسری بہن پانچ سال کی فاطمہ۔
میرے دادا کا نام سعید تھا۔چچا کا نام محمد شیر تھا۔ چچا بیرون ملک ہوا کرتے تھے۔
ایک ماموں کا نام گل احمد اور دوسرے ماموں کا نام زیارت احمد تھا۔
میری عمر نو یا دس سال تھی،میں گورنمٹ پرائمری اسکول میں کےجی ٹو کا بچہ تھا۔
آٹھ اکتوبر دوہزار پانچ کو معمول کے مطابق صبح اسکول گئے۔ اسمبلی کے وقت شدید زلزلہ شروع ہوا،کمرے زمین بوس ہوگئے ،ساری عمارتیں زمین پر ہموار ہوگئیں۔قیامت کا منظر تھا۔
نفسا نفسی کا عالم تھا۔ سب دیوانہ وار دائیں بائیں بھاگنے لگے۔
ہم اپنے گھروں کی طرف دوڑے اپنے محلے میں آیا تو محلہ نہیں تھا۔ سارا علاقہ ملیامیٹ تھا۔
میں نے بہت سارے لڑکوں کو دیکھا جو اپنے گھروں کو دیکھ کر ذہنی توازن کھو بیٹھے۔ گھنٹوں گھنٹوں بےہوش ہوتے۔ کافی بچوں نے دریا میں کود کر اپنی جانیں دیں۔
ہمارا گھر دریائے کنہار کے آس پاس تھا۔
میں تین روز تک اپنے گھر کے ملبے پر بیٹھا رہا،جتنے بچے لاوارث رہ گئے تھے انکو رضاکار آکر کیمپوں میں لیجاتے۔مجھے بہت کوشش کی گئی میں کیمپ نہیں گیا۔ میں اس امید سے ملبے پر بیٹھا رہا شاید امی یا ابو آجائے ۔
تین روز بعد لوگ آئے ہمارے گھر کا ملبہ اٹھایا تو میرے ابو امی اور دونوں بہنوں کی لاشیں نکلیں۔اجتماعی قبروں میں انکو دفنا دیا گیا۔
میں نے اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھا تو اسکے بعد مجھے ہوش نہیں رہا۔
مجھ جیسے لاتعداد بچوں کو کیمپ میں رکھا گیا۔ کافی سارے بچوں کے رشتے دار آئے اپنے بچے لیکر گئے۔ ایک سے ڈیڑھ سال بعد ہم ڈیڑھ دوسو بچے ایسے رہ گئے جنکا کوئی نہیں آیا۔
ہم تین لڑکے رات کے وقت کیمپ سے بھاگ گئے۔ گرتے پڑتے کراچی پہنچ گئے۔
وہ دو لڑکے کام ڈھونڈنے کا کہہ رہے تھے میں چھوٹا تھا کام نہیں کرسکتا تھا میں نے مدرسے میں پڑھنے کا کہا۔ انہوں نے مجھے کسی مسجد میں جانے کا کہا اور وہ کام کی تلاش کے لئے نکل گئے۔ ان کے ساتھ آج تک دوبارہ میں نہیں مل سکا۔ میں حافظ بنا۔درس نظامی مکمل کی۔ دوران تعلیم کافی عرصے تک میں گھنٹوں گھنٹوں بےہوش ہوجاتا تھا۔
سال دوہزار تیرہ میں بالاکوٹ اپنے گاؤں گیا۔ آٹھ ماہ تک رہا لیکن میرا کوئی رشتےدار نہیں ملا۔
ایسے لوگ ملے جو میرے خاندان کو جانتے تھے لیکن کسی نے خاص میرا ساتھ نہیں دیا۔
ہم دریائے کنہار کے پاس رہتے تھے۔ مجھے ایک صاحب نے کہا کہ آپکے آبا و اجداد توڑا نامی کسی علاقے سے یہاں دریائے کنہار کے پاس آئے تھے۔
میں تنہائی کی زندگی بسر کررہا ہوں۔میرا کوئی خونی رشتےدار نہیں ہیں۔ سوچتا ہوں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔
میرے چچا محمد شیر ملک سے باہر تھے شاید وہ زلزلے سے محفوظ رہ گئے تھے۔
میں چاہتا ہوں میرے چچا اور خاندان کے کسی بھی فرد سے میرا رابطہ ہوجائے اور میں ان سے مل لوں۔
بالاکوٹ کے تمام دوست اس پوسٹ کو اپنے تمام علاقوں میں عام کردیں۔ عابداللہ کے خاندان کے کسی بھی فرد تک یہ پوسٹ پہنچے تو نیچے درج نمبر پر واٹس ایپ کریں۔
+923162529829

12 Mar 2026

08/03/2026
For those who don't know Health Net hospital. May Allah keep you healthy.
01/03/2026

For those who don't know
Health Net hospital. May Allah keep you healthy.

Dr Muhammad Ibrahim
General Laparoscopic
& Laser Proctologist
MBBS (gold medalist)FCPS , FALS , ATLS ,
member IFSO , POMSS, ISOLP
Health net Hospital near Shaukat Khanum Hospital Peshawar
Ex ISLAMIAN
2000-2002

28/02/2026

Planing for a hands on workshop for residents on splenectomy
Will need suggestions

17/02/2026

Address

Health Net Hospital Hayatabad
Peshawar

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Telephone

+923119995232

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Laparoscopic Surgeon Dr Muhammad Ibrahim Marwat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Laparoscopic Surgeon Dr Muhammad Ibrahim Marwat:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category