25/01/2026
کل رات گئے میرے پاس ایمرجنسی میں ایک 6 ماہ کا بچہ لایا گیا، جسے سانس لینے میں شدید دشواری ہو رہی تھی۔ظاہری طورپربچےکی حالت بہت تشویشناکل لگ رہی تھی، لیکن جب میں نے اس کا معائنہ شروع کیا تو مجھے ایک بات بہت عجیب لگی؛ معائنہ کے دوران جو علامات سامنے آئی اور اس کی سانس کی وہ شدید تکلیف آپس میں میل نہیں کھا رہی تھیں۔
اصل صورتحال تب واضح ہوئی جب میں نے مکمل معائنے کے لیے بچے کے کپڑے کھولے۔ میں یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا کہ بچے کا سینہ کپڑوں کے ذریعے انتہائی سختی کے ساتھ جکڑا ہوا تھا۔ جیسے ہی میں نے وہ بندھن کھولا اور ضروری طبی امداد دی، بچے کی حالت فوراً بہتر ہونے لگی اور وہ سکون سے سانس لینے لگا۔ صرف ایک غلط طریقے سے سینہ باندھنے کی وجہ سے اس معصوم کی جان خطرے میں پڑ گئی تھی۔
والدین کے لیے میرا خاص پیغام
اکثر مائیں یہ کہتی ہیں کہ "بچے کے سینے میں درد ہے (جسے پشتو میں " بریخ یا بریخونہ" بھی کہتے ہیں) "یا
اسے پسلی چلنے کی تکلیف ہے، اس لیے ہم نے سینہ کس کے باندھا ہے تاکہ اسے آرام ملے۔"
بطور ڈاکٹر آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہ سوچ نہ صرف غلط
ہے بلکہ انتہائی خطرناک ہے:
درد میں اضافہ: اگر بچے کے سینے میں انفیکشن یا درد ہے، تو اسے سختی سے جکڑنے سے اس کا درد کم نہیں ہوتا بلکہ سانس لینے میں مزید دشواری پیدا ہوتی ہے جس سے بچہ موت کے منہ میں بھی جا سکتا ہے۔
پھیپھڑوں پر دباؤ: چھوٹے بچوں کی پسلیاں بہت نازک ہوتی ہیں۔ جب آپ سینہ باندھتے ہیں تو پھیپھڑوں کو پھیلنے کی جگہ نہیں ملتی اور جسم میں آکسیجن کی کمی ہونے لگتی ہے۔
صحیح طریقہ کیا ہے؟ اگر آپ کو لگے کہ بچے کا سینہ خراب ہے یا اسے درد ہے، تو اسے باندھنے کے بجائے فوراً ڈاکٹر کو دکھائیں۔ اسے گرم رکھیں، لیکن کپڑے ہمیشہ ڈھیلے اور آرام دہ پہنائیں تاکہ وہ آسانی سے سانس لے سکے۔
میری التجا ہے: خدارا! سنی سنائی باتوں اور پرانی غلط روایات پر عمل کر کے اپنے جگر گوشوں کی زندگی کو داؤ پر
نہ لگائیں
Dr Hamza Hameed ,resident pediatrician Hayatabad medical complex.