Dr Huma

Dr Huma I'm Dr

12/06/2019
22/05/2019

حضرت موسی علیہ السلام نے ایک مرتبہ اللہ تعالی سے پوچھا
یا اللہ میری امت کا سب سے بدترین شخص کون سا ھے؟
اللہ تعالی نے فرمایا !
کل صبح جو شخص تمھیں سب سے پہلے نظر آئے وہ آپ کی امت کا بد ترین انسان ھے
حضرت موسی علیہ السلام صبح جیسے ہی گھر سے باہر تشریف لائے
ایک شخص اپنے بیٹے کو کندھے پر بٹھائے ھوئے گزرا
حضرت موسی علیہ السلام نے دل میں سوچا
اچھا تو یہ ھے میری امت کا سب سے برا انسان
پھر آپ اللہ تعالی سے مخاطب ھوئے اور کہا
یا اللہ !
میری امت کا سب سے اچھا انسان کون سا ھے اسے دکھائیں
اللہ تعالی نے فرمایا !
شام کو جو شخص سب سے پہلے آپ سے ملے وہ آپکی امت کا سب سے بہترین انسان ھے
حضرت موسی علیہ السلام شام کو انتظار کرنے لگے کہ
اچانک انکی نظر صبح والے بد ترین انسان پر پڑی
یہ وہی شخص جو صبح ملا تھا
حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ سے کلام کیا
یا اللہ یا رب کریم
یہ کیا ماجرہ ھے
جو شخص بدترین تھا وہی سب سے بہترین
کیسے ھوسکتا ھے ؟
اللہ تعالی نے فرمایا !
صبح جب یہ شخص اپنے بیٹے کو کندھے پر بٹھائے جنگل کی طرف نکلا تو اس کے بیٹے نے اس سے پوچھا
ابا کیا اس جنگل سے بڑی کوئی چیز ھے
اس نے کہا
ہاں بیٹا
یہ پہاڑ جنگل سے بھی بڑے ہیں
بیٹا بولا
ابا ان پہاڑوں سے بھی بڑی کوئی شئے ھے
وہ بولا
ہاں بیا
یہ آسمان پہاڑوں سے بھی بہت بڑا بہت وسیع و عریض ھے
بیٹے نے کہا
ابا اس آسمان سے بڑی بھی کوئی چیز ھے
باپ نے ایک سرد آہ بھری اور دکھ بھری آواز میں بولا
ہاں بیٹا اس آسمان سے بھی بڑے تیرے باپ کے گناہ ہیں
بیٹے نے کہا
ابا ! تیرے گناہ سے بڑی بھی کوئی چیز ھے
باپ کے چہرے پر ایک چمک سی اگئی اور بولا
ہاں بیٹا
تیرے باپ کے گناھوں سے بہت بہت بڑی
میرے رب کی رحمت اور اسکی مغفرت ھے
اللہ رب العزت نے فرمایا
اے موسی ! مجھے اس شخص کا اعتراف گناہ اور ندامت اس قدر پسند آیا کہ
میں نے اس بدترین شخص کو تیری امت کا بہترین انسان بنا دیا
میں نے اسکے تمام گناہ ناصرف معاف کر دئیے بلکہ
گناھوں کو نیکیوں سے بدل دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سبق
۔
۔
۔
۔
اپنے رب کے سامنے رونا اور اعتراف گناہ کرنا
عاجزی سے اسکے سامنے خود کو جھکا دینا
بہت بڑا عمل ھے ...........!!
سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم

22/05/2019

بیوی شوہر سے : تم میرے لئے بہت محترم ہو تم جہاں بیٹھو گے میں اس سے نچلے مقام پر بیٹھوں گی ۔
شوہر: اگر میں بیڈ پر بیٹھوں تو ؟
بیوی : میں سٹول پر بیٹھوں گی
شوہر : اگر میں سٹول پر بیٹھوں تو ؟
بیوی ؛ میں پیڑھی پر بیٹھوں گی ۔
شوہر : اگر میں پیڑھی پر بیٹھوں تو ؟
بیوی : میں زمین پر بیٹھوں گی ۔
شوہر : اگر میں زمین پر بیٹھوں تو ؟
بیوی : میں گڑھا کھود کر بیٹھوں گی
شوہر : اور اگر میں گڑھے میں بیٹھوں تو ؟
بیوی :

۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔ مِیں تیرے تے مٹی پوا دیاں گی ۔ تینوں عزت راس نئیں آندی ؟

22/05/2019

میرا یار اور اس کا یار

بغداد کے بازار میں ایک حلوائی صبح صبح اپنی دکان سجا رہا تھا کہ ایک فقیر آنکلا تو دکاندار نے کہا کہ باباجی آؤ بیٹھو
فقیر بیٹھ گیا تو حلوائی نے گرم گرم دودھ فقیر کو پیش کیا. فقیر نے دودھ پی کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور اس حلوائی کو کہا کہ بھائی تیرا شکریہ اور یہ کہہ کرفقیرچل پڑا۔

بازار میں ایک فاحشہ عورت اپنے دوست کے ساتھ سیڑھیوں پر بیٹھ کر موسم کا لطف لے رہی تھی۔ ہلکی ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی، بازار میں کیچڑ تھا، فقیر اپنی موج میں بازار سے گزر رہا تھا کہ فقیر کے چلنے سے ایک چھینٹا اڑا اورفاحشہ عورت کے لباس پر گر گیا۔ جب یہ منظر فاحشہ عورت کے دوست نے دیکھا تو اسے بہت غصہ آیا۔ وہ اٹھا اور فقیر کے منہ پرتھپڑ مارا اور کہا کہ فقیر بنے پھرتے ہو، چلنے پھرنے کی تمیز نہیں؟

فقیر نے ہنس کر آسمان کی طرف دیکھا اور کہا
مالک تو بھی بڑا بے نیاز ہے، کہیں سے دودھ پلواتا ہے اور کہیں سے تھپڑ مرواتا ہے.. یہ کہہ کر فقیر آگے چل پڑا،

فاحشہ عورت چھت پر چل رھی تھی تو اس کا پاؤں پھسلتا ہے اور زمین پر سر کے بل گر جاتی ہے، اس کو ایسی شدید چوٹ لگتی ہے کہ موقع پر ہی فوت ہوجاتی ہے۔

شور مچ گیا کہ فقیر نے آسمان کی طرف منہ کر کے بدعا دی تھی، جس کی وجہ سے یہ قیمتی جان چلی گئی

فقیر ابھی بازار کے دوسرے کونے تک نہیں پہنچ پائے تھے کہ لوگوں نے فقیر کو پکڑ لیا اور کہا کہ بڑے فقیر بنے پھرتے ہو، حوصلہ بھی نہیں رکھتے ہو

فقیرنے کہا کہ کیا ہوا میاں؟ لوگوں نے کہا کہ تم نے بددعا دی اور عورت کی جان چلی گئی

فقیرنے کہا کہ واللہ میں نے تو کوئی بددعا نہیں دی تو لوگوں نے ضد کی اور کہا کہ نہیں تیری بددعا کا کیا دھرا ہے۔

جب لوگوں نے ضد کی تو فقیر نے کہا کہ اصل بات پوچھتے ہو تو میں نے کوئی بددعا نہیں کی، یہ یاروں یاروں کی لڑائی ہے.

لوگوں نے کہا کہ وہ کیا؟ فقیر نے کہا کہ جب میں گزر رہا تھا اور میرے پاؤں سے چھینٹا اڑا اور اس عورت کے لباس پر پڑا تو اس کے یار کو غصہ آیا، اس نے مجھے مارا تو پھر میرے یار کو بھی غصہ آگیا....

22/05/2019

جب تیرے درد سے دل دکھتا ہے ہم تیرے حق میں دعا کرتے ہیں

22/05/2019

‏کل سنی گفتگو حیوانوں کی چھپ کر میں نے ۔ ۔ ۔
سبھی کہہ رہے تھے انسانوں سے ڈر لگتا ہے ۔ ۔ ۔ !!!

22/05/2019

"اماں کس کے گھر جائیں گی؟" تینوں بیٹوں اور دونوں بیٹیوں کے چہرے پر ایک ہی سوال تھا اور وہ سب کے سب گزشتہ ایک گھنٹے سے ہسپتال کے برآمدے میں ٹہل ٹہل کر اس سوال کا جواب سوچ رہے تھے.
"میرا خیال ہے ..... اظفر بھائی سب سے بڑے ہیں ..... ان کا فرض ہے ... کہ وہ اماں کو .... اپنے گھر لے بائیں" صائمہ نے بڑی دیر کے بعد اٹکتے ہوئے کہا.
اظفر نے اپنی بیوی کی طرف دیکھا جو مسلسل تسبیح کے دانے رول رہی تھی اور اماں کی سلامتی کی دعائیں مانگ رہی تھی.
"میں اپنے فرض سے انکار نہیں کرتا ، لیکن تم سب جانتے ہو حرا سروس کرتی ہے اور اماں کیلئے اب فل ٹائم عورت کی صرو ہے . میرا خیال ہے تم گھر پر رہتی ہو . تم اماں کی دیکھ بھال اچھی طرح کر لو گی. خرچے کی فکر نہ کرنا ، وہ میں دوں گا." اظفر نے خرچے پر زرو دے کر کہا.
"میری تو بڑی خواہش ہے کہ میں اپنی اماں کی خدمت کروں ، مگر آپ تو جانتے ہیں کہ میرے ساس سسر کس طرح کے ہیں اور میں یہ سب برداشت نہیں کر سکتی کہ میرے بھائیوں کو کوئی برا کہے."
"پھر؟" ...... کچھ لمحوں کیلئے پھر سکوت چھا گیا.
"میرا خیال ہے ، ظفر بھائی ..... کے پاس .... اماں ... زیادہ آرام سے .... رہ سکتی ہیں." سائرہ نے ہکلاتے ہوئے منجھلے بھائی ک طرف دیکھا.
"میرا بھی یہی خیال ہے " اظفر نے فورا چھوٹی بہن کی تائید کی.
ظفر اور اسکی بیوی نے آنکھوں میں ایک دوسرے سے کچھ کہا. "اصل میں .... اماں کا .... کبھی بھی ..... ہمارے گھر میں دل نہیں لگا. وہ تو ہمارے گھر دو دن سے زیادہ رہتی ہی نہیں ....." "بیماری میں تو ویسے بھی انسان تنہائی سے گھبراتا ہے." شاہینہ نے شوہر کے کچھ کہنے سے قبل ہی صفائی پیش کردی.
"پھر ..... اب..... کیا ہوگا؟"
"میری تو مجبوری ہے ...... میری آمدنی بھی کم ہے ..... پھر میرے گھر ..... میں تو بالکل .... جگہ ہی نہیں ہے ." اظہر نے منمنا کر کہا.
"پھر ..... پھر .... اماں کس کے گھر جائیں گی؟"
سب مجبور تھے اور سوچوں میں غرق تھے.
"آپ سب وارڈ نمبر ۲ کی مریضہ کے رشتہ دار ہیں؟"
نرس کی پھٹی ہوئی آواز پر ان سب نے گھبرا کر سر اٹھایا.
"جی .... جی....."
"آپ کو وارڈ میں ڈاکٹر بلارہے ہیں" اس نے غصے سے کہا اور تیزی سے پلٹ گئی.
"خدا خیر کرے" وہ سب تیزی سے وارڈ میں داخل ہوئے.
"آئی ایم سوری! شی از expired "
ڈاکٹر نے اظفر کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا.
سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا. سب کے چہروں پر ظاہری غم کے ساتھ ہی ایک کمینی سی مسرت کا عکس بھی تھا. "

22/05/2019

لے کر ہاتھوں میں ہاتھ😍😘
عمر بھر کا سودا کر لیں😘😍
تھوڑی سی محبت تم کر لو
تھوڑی سی محبت ہم کر لیں💑😍

22/05/2019

بیٹھ کر سایہ اے گل میں ناصر
ہم بہت روئے وہ جب یاد آیا
حال دل ہم بھی سناتے لیکن
جب وہ رخصت ہوا تب یاد آیا

22/05/2019

12 مئی کو Mother's day تھا،
امی کی بہت یاد آئی ۔

جب میں چھوٹا تھا تو کوئی بھی عورت میری تعریف کرتی تو امی فوراً کہتی ۔ "لے جا، اور چار دن رکھ کر دیکھ، تب پتا چلے گا" ۔

کل بیوی کی خوبصورت سہیلی گھر آئی تھی، مجھے دیکھ کر بار بار کہہ رہی تھی " کتنے اچھے ہیں نا تمہارے میاں "۔

پر صاحب بیوی کے منہ سے ایک بار بھی نہیں نکلا کہ " لے جا، رکھ کے دیکھ "


*آخر ماں، ماں ہوتی ہے صاحب ۔*

Address

Peshawar
8006

Telephone

+923029169191

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Huma posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category