Dr jasim manhaz afridi

Dr jasim manhaz afridi doctor 💊💊💊

02/09/2025

عطائی کون ھے۔
اگرچہ یہ ڈسپنسر ،فارمیسی ٹیکنیشن ڈپلومہ ہولڈر ہوتے ہیں لیکن ابتدائی طبی امداد کے بارے میں خوب جانتے ہیں اور اسی پر ان کو اگاہی دی جاتی اور پریکٹیکل کروایا جاتا ہے،درحقیقت ہر وہ شخص عطائی ہے جس کے پاس نہ تو کسی بھی قسم کا،ہومیو پیتھک ڈاکٹر کا ڈپلومہ ،پیرامیڈک ڈپلومہ نرسنگ،ڈسپنسر،فارمیسی ٹیکنیشن ،فارماسسٹ،میڈیکل اسسٹنٹ یا میڈیکل کی کوئی ڈگری ہے بلکہ چند میڈیکل سے منسلک شعبہ کے لوگوں کے ساتھ کام کرنے کے بعد اپنے آپ کو ڈاکٹر کہلانے والا عطائی ہے جو ابتدائی طبی امداد کے ساتھ ساتھ بڑے سے بڑے مرض کو اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے اور میڈیکل کے شعبہ کو کمائی کا ذریعہ بنا لیتا ہے۔ بہت عرصہ دراز سے پاکستان میں ڈسپنسر یا فارمیسی ٹیکنیشن حضرات کو صحت کے شعبے میں اہمیت حاصل رہی ہے اور ان کا ایک کلیدی کردار رہا ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا حتی کہ آج کے دور میں بھی پاکستان کے تمام صوبوں میں مختلف اضلاع میں آج بھی ڈسپنسر یا فارمیسی ٹیکنیشن کسی گاؤں گلی محلے میں یا گورنمنٹ کی ڈسپنسری میں گورنمنٹ کی زیر نگرانی اپنی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں لیکن دوسری طرف عوام کو صحت کی سہولیات گھر گھر پہنچانے کی بجائے اعلی تعلیم یافتہ ایم بی بی ایس ڈاکٹر حضرات اور اسی طرح ادویات سے منسلک لوگ ڈسپنسر اور فارمیسی ٹیکنیشن حضرات کے خلاف ہر وقت سراپہ احتجاج ہیں جبکہ ان میں سے کوئی بھی کسی گاؤں گلی یا محلے میں جا کر اپنی ذمہ داریاں انجام دینے کے لیے تیار نہیں کیونکہ ان کا مقصد صرف مال کمانا ہے نہ کہ عوام کو سستی معیاری ابتدائی طبی امداد دینا ہے لہذا عطائی کی حقیقت کیا ہے جانتے ہیں۔
آج کے دور میں میڈیکل شعبہ میں عطائی کون ھے۔گاؤں میں بیٹھا ڈسپینسر/فارمیسی ٹیکنیشن،پریکٹیشنر چند میڈیسن رکھ کر اپنے بچوں کی حلال رزق کمانے والا عطائی کہلاتا ھے۔جو مریض کو ایم بی بی ایس ڈاکٹر صاحبان کے کافی تعداد میں لکھ کردیئے گھر جا کر انجیکشن لگاتا ھے۔راستہ میں کسی اجنبی کا ایکسیڈنٹ ھو جائےتو فرسٹ ایڈ دے دیتا ھےاور بغیر پیسوں کے انسانیت زندہ رکھتا ھے۔کسی کے پاس پیسے نہیں تو ادھار میڈیسن دے دیتا ھے۔فری میں اپنا وقت ضائع کرتا ھے گھرگھر جا کر بلڈپریشر چیک کرتا ھے ۔ڈسپنسر/فارمیسی ٹیکنیشن اپنے تجربہ کی بنیاد پر مریض کو فرسٹ ایڈ دیتا نہ کہ غیر تجربہ شدہ ادویات کا تجربہ کرتا ھے ،50،100روپے میں بھی میڈیسن دے دیتا ھے۔وہ اپنے بچوں کی روذی،روٹی کی فکر کئیے بغیر انسانیت کو زندہ رکھتا ھے۔دوسری طرف نام نہاد بڑے بڑے سڑکوں پر بورڈ اویزاں کرنے والے ڈاکٹر پروفیسر ایم بی بی ایس ،ڈاکٹر صاحبان کے پاس مریض اپنی تکلیف کے ساتھ بڑے ھسپتال میں جاتا ھے۔پہلے اکانٹر پر بھاری فیس جمع کرواتا ھے پھر اپنی باری کا انتظار کرتا ھےچاھے کتنی ھی تکلیف میں کیوں نہ ھو۔جب ڈاکٹر کے پاس پہنچتا ھے تو پوچھ گچھ کرنے کے بعد ڈاکٹر لیب ٹیسٹ لکھ دیتا ھے جس میں ڈاکٹر کا نصف حصہ ھوتا ھے۔پھر ڈاکٹر کے پاس حاضر ھوتا ھے ڈاکٹرمیڈیسن لکھ کر دیتا ھے جو صرف اسی ھسپتال سے دستیاب ھوتی ھے جن ادویات کا کمیشن کمپنی سے لیتا ھے۔اور اس میڈیسن کا تجربہ غریب مریض پر کرتاھے۔اس ایم بی بی ایس ڈاکٹر کو اتنا علم نہیں ھوتا یہ میڈیسن دو نمبر ھے یا اصل ھے۔ڈاکٹر صاحب اپنےکمیشن کی خاطر وھی میڈیسن لکھتاھےجس سے ڈاکٹر کا مفاد ھوتاھے۔مریض تکلیف سے چیخ رھا ھوتاھے3سے4گھنٹے بعد5سے10ھزار لٹانے کےبعدمریض گھر لوٹتاھےڈاکٹر صاحبان ساتھ میڈیسن کے کافی انجیکشن تھمادیتے ھیں کے اپنے گاؤں میں بیٹھےڈسپینسر سے روزانہ لگوالینا۔حکومت کے بنائے ادارے صرف ڈسپینسر کو عطائی ثابت کرنے میں آئے روز ان کے گلی محلوں میں بنے کلینک سیل کرنےکےلئیےدن رات ایک کیئے ھوئےھیں۔اور ھزاروں لاکھوں کا چالان کردیتےھیں۔ڈسپینسر بیچارہ نہ تو اپنے اھل محلہ کو جواب دےسکتاھےاوپرسےبھاری بھر جرمانےاداکرکے خود ذھنی مریض بن جاتاھے۔جو اس مسیحا سے حکومت اور اداروں کی سرا سر زیادتی ھے۔حکومت کے بنےاداروں کا اصل مقصد جعلی ادویات بنانے والی کمپنیوں کو کنٹرول کرنا ھے۔ادویات کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا ھے۔جن کا اصل مقصدعوام تک ادویات پہنچاناھے۔اداروں کا کام اب صرف پیسہ اکٹھا کرنا ھے۔8سے10سال بڑے ھسپتالوں میں وقت ضائع کرنے کے بعد ڈسپینسر جب اپنے گلی،محلےمیں چھوٹا سا کلینک کھولتا ھے تو اپنے اوپر عطائی کالیبل لگا لیتاھے،حالانکہ عطائی کو بنانےوالے خود عطائیت کا گھر ھیں۔خدارا ھوش کے ناخن لو،گلی محلوں میں بیٹھے ڈسپینسر/فارمیسی ٹیکنیشن،پریکٹیشنرایک مسیحا ھیں یہ عطائی نہیں ھیں۔یہ غریب کے ھمدرد ھیں لوٹیرے نہیں ھیں۔یہ عطائی،عطائی والا ڈرامہ بند کرکے کمیشن دینے والی میڈیسن کمپنیوں اور کمیشن دینے والی لیب ،اور کمیشن لے کر ادویات لکھنے والوں کے خلاف کروائی کرو۔نہ کے غریب عوام کو 50,100میں میڈیسن دینے والے کے خلاف کاروائی کرو۔گورنمنٹ آف پاکستان اور صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ ڈسپنسر فارمیسی ٹیکنیشن یا پیرامیڈک سٹاف کا ڈپلومہ رکھنے والے لوگ جو عرصہ دراز سے لوگوں کو صحت کی سہولت پہنچا رہے ہیں ان کے کلینکس کو رجسٹر کیا جائے اور باہر بورڈ آویزاں کیا جائے کہ یہاں صرف ابتدائی طبی امداد دی جاتی ہے۔
نوٹ:
اس تحریر کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ ڈسپنسر یا فارمیسی ٹیکنیشن کو کسی ہسپتال کا یا ادویات کے شعبے میں کسی مینوفیکچرر کا ڈسٹری بیوٹر کا انچارج لگا دیں بلکہ مقصد صرف یہ ہے کہ اگر پاکستان بننے سے لے کر ابھی تک عوام کو یہ لوگ سستی معیاری ابتدائی طبی امداد دے رہے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ،بصورت دیگر پاکستان بھر میں شہری آبادیوں کے علاوہ دیہی آبادی میں بھی ایم بی بی ایس ڈاکٹر اور فارماسسٹ حضرات نیک نیتی سے اپنے کلینک اور فارمیسی گاؤں گاؤں بنائیں تاکہ لوگوں کو پتہ چل سکے کہ ڈسپنسر یا فارمیسی ٹیکنیشن سے بھی اوپر کام کرنے والے لوگ اور خدا ترس لوگ موجود ہیں اگر آپ گاؤں گاؤں سہولت نہیں پہنچا سکتے تو جن لوگوں کی یہ ڈسپنسر اور فارمیسی ٹیکنیشن حضرات ابتدائی طبی امداد دے کر جان بچا رہے ہیں ان کو داد دینی چاہیے کسی بڑے آپریشن یا بڑی مرض کے ساتھ کھیلنے کی ان کو بھی اجازت نہیں اور نہ ہی ایسا کرتے ہیں باقی ہر فیلڈ میں اچھے اور برے لوگ ہوتے ہیں اس چیز کا اندازہ ہر شخص کو ہے
والسلام
Dr jasim manhaz afridi

02/02/2024

‏1992 میں ایک عزیز کے ساتھ نشتر ھسپتال میں مریض لے گیا تھا چار پانچ دن وہاں رھا روزانہ صبح کے وقت 16 سال کا ایک بچہ گرم انڈے لے اتا پورے وارڈ میں ھر بیڈ کے قریب جاکر انڈے خریدنے کی التجا کرتا مریضوں کے لواحقین انڈے لیتے میں بھی اس سے گرم انڈے خرید لیتا کچھ دیر بعد یہ چائے لاتا لوگ اس سے چائے پیتے میں بھی اس سے چائے پیتا گھنٹے تک وہ پھر واپس اتا تازہ اخبار دکھاتا چند لوگ اس سے اخبار لیتے میں بھی اس سے اخبار لیتا دوپہر کو یہ محنتی بچہ دال روٹی لاتا سر پہ دال کا پتیلا بغل میں گرم روٹیوں کا بنڈل لئے ھر بیڈ سے گزرتا لوگ اس سے کھانا لیتے میں بھی اس سے سستا کھانا کھالیتا کچھ دیر بعد وہ فروٹوں کا ٹوکرا لیئے پھر نمودار ھوتا اکثر مریضوں کے لواحقین اس سے فروٹ خریدتے میں بھی اس سے فروٹ خرید لیتا یہ مجھ سےمانوس ھوگیا ایک دن میں نے اس سے پوچھ لیا دن میں کتنا کمالیتے ھو کہنے لگا یہ روزانہ ایک ھزار سے 14 سو تک بن جاتے ہیں میں نے پوچھا والد صاحب کہاں پہ ہیں کہنے لگا وہ جنت کے مکین بن گیئے پھر پوچھا کتنے بہن بھائی ھو کہنے لگا چھ چار بہنیں دو بھائی میں سب سے بڑا ھوں باقی سب چھوٹے ہیں میں نے اسے محنت کرنے پہ شاباش دی اور ھمدردی کرتے ھوئے 100روپے کانوٹ دیا اس نے میرے پیسے یہ کہہ کر واپس کردیئے کہ والدہ نے کہا ھے جب کوئی بندہ تمکو یتیم سمجھ کر پیسے دے تو ھرگز نہ لینا کیونکہ پھرتم محنت کرنا چھوڑ دو گے اور بھیک مانگنے کے عادی بن جاو گے اور اللہ پاک تم سے برکت واپس لے لے گا
پرانا واقعہ اس لئے لکھا کہ جب مائیں اپنے بچوں کی تربیت ایسے کریں گی تب یہ معاشرہ سدھر سکتا ھے ، پاکستانیوں کو محنت کی ضرورت ھے.
محنت میں عظمت ھے برکت ھے ترقی ھے .
سوچنے کی باتیں 🤔
Dr jasim menhaz Dr jasim manhaz afridi
کی وال سے

Happy new year
01/01/2024

Happy new year

مریض تین طرح کے ہوتے ہیں1۔ جو گھر بیٹھے اپنے اندر بیماری کی علامات دیکھتے رہیں گے لیکن اس وقت تک ہسپتال نہیں جائیں گے جب...
05/11/2023

مریض تین طرح کے ہوتے ہیں
1۔ جو گھر بیٹھے اپنے اندر بیماری کی علامات دیکھتے رہیں گے لیکن اس وقت تک ہسپتال نہیں جائیں گے جب تک ان کو اٹھا کر ہسپتال لے جانے کی نوبت نہ آ جائے
2۔ دوسری قسم والے بیماری کی تشخیص کے بعد ڈاکٹر سے ضد باندھ لیں گے کہ جی ڈاکٹر کی دوائی نہیں کھانی دنیا جہاں کے ٹوٹکے آزما لیں گے۔ یہ لوگ ٹوٹکے آزما آزما کے خود نیم حکیم سے بن جاتے ہیں۔ آخر میں آتے معالج کے پاس ہی ہیں
3۔ تیسری قسم ان لوگوں کی ہے جو اپنی بیماری کے بعد معالج کی ہدایات پر مکمل عمل کرتے ہیں۔ اپنی بیماری کے متعلق علم حاصل کرتے رہتے ہیں اور اپنے معالج سے اس علم کو ڈسکس کر کے کنفرم بھی کرتے ہیں
آپ اپنے اردگرد نظر دوڑا لیں آپ ان تینوں قسم کے مریضوں کو جانتے ہوں گے ۔ صحت مند اور بغیر پیچیدگیوں کے اچھی زندگی ہمیشہ تیسری قسم والے مریض گزارتے ہیں
کیونکہ وہ اپنی بیماری سے ضد نہیں باندھتے
نہ اپنی صحت کو دائو پر لگاتے ہیں
اگر آپ خدانخواستہ بیمار ہیں تو تیسری قسم والے مریض بنیں
خود کو عزت دیں اور وہ افراد جن کے پاس آپ کی بیماری کا علم ہے ان پر بھروسہ رکھ کر ہدایات پر عمل کریں۔
Dr jasim menhaz afridi

05/09/2023

Dr jasim menhaz afridi
کیا آپ کو پتہ ہے جب ایک سپیشلسٹ ڈاکٹر آپ کا معائنہ کرتے ہوئے مختلف سوالات کر رہاُ ہوتا ہے تو اسکا دماغ کمپیوٹر کی سپیڈ سے چل رہا ہوتا ہے۔ہر سوال کے جواب میں وہ اپنی تعلیم قابلیٹ اور تجربے کو بیک وقت استعمال کرتے ہوے ہزاروں بیماریوں کو فلٹر کرتے ہوے چند بیماریوں تک پہنچ جاتا ہے۔
مزید معائنے اور کے بعد اسکی تشخیص صرف دو یاتین بیماریوں تک پہنچ چکی ہوتی ہے۔پھر وہ مزید معائنہ کر تے ہوے اپنے آلات جسمیں سٹیتھو سکوپ،بلڈ پریشر اپریٹس وغیرہ کی مدد لیتا ہے اور تقریباً فائنل تشخیص کر لیتا ہے۔اگر مزید ضروری سمجھے تو وہ آپ کو کچھ ٹیسٹ لکھتا ہے۔آخر میں ڈاکٹر اپنا کاغذاور قلم اٹھاتا ہے اب یہ سب سے اہم مرحلہ ہے،میڈیکل کی پانچ سالہ تعلیم ،سپیشلائیزیشن کے پانچ سےسات سال کی کڑی محنت پھر مزید تجربہ ،زخیم کتابوں کی بھرمار ہزاروں ادویات کا علم کو بروئے کار لاتے ہوئے اس نے یہ سوچنا ہے کونسی دوائی اس مریض کے لیے بہترین ہے،اسکے سائڈ افیکٹس،جسم پہ اثرات اور اور باقی دوائیوں کے ساتھ انکا ری ایکشن مریض کے لیے کتنا مفید ہوگا ،کتنی ڈوز مریض کے وزن اور عمر کے حساب سے دینی ہے یہ بھی اسنے ہی سوچنا ہے۔اس ٹوٹل مشقت میں اسکا دماغ کا میٹا بولزم پیک پہ ہوتا ہے۔اور پھر جب وہ نسخہ تجویز کرzدیتا ہے تو وہ اپنے مریض کی ہر زمہ داری لے چکا ہوتا ہے۔یوں تو اس میں دس سے پندرہ منٹ صرzف ہوتے ہیں لیکن ایک انتہائی پروفیشنل شخص اپنی قابلیت اور صلاحیت کے تمام جوہر بروئے کار لا چکا ہوتا ہے۔
مریض فیس وقت کی نہیں بلکہ اس قابلیت اور مہارت کی ادا کرتا ہے

انسانی جسم کے بارے میں اہم معلومات1: ہڈیوں کی تعداد: 2062: پٹھوں کی تعداد: 6393: گردوں کی تعداد: 24: دودھ کے دانتوں کی ت...
07/04/2023

انسانی جسم کے بارے میں اہم معلومات

1: ہڈیوں کی تعداد: 206
2: پٹھوں کی تعداد: 639
3: گردوں کی تعداد: 2
4: دودھ کے دانتوں کی تعداد: 20
5: پسلیوں کی تعداد: 24 (12 جوڑی)
6: ہارٹ چیمبر نمبر: 4
7: سب سے بڑی دمنی: شہ رگ
8: عام بلڈ پریشر: 120/80 Mmhg
9: بلڈ پی ایچ: 7.4
10: ریڑھ کی ہڈی کے کالم میں کشیریا کی تعداد: 33
11: گردن میں کشیریا کی تعداد: 7
12: درمیانی کان میں ہڈیوں کی تعداد: 6
13: چہرے میں ہڈیوں کی تعداد: 14
14: کھوپڑی میں ہڈیوں کی تعداد: 22
15: سینے میں ہڈیوں کی تعداد: 25
16: بازوؤں میں ہڈیوں کی تعداد: 6
17: انسانی بازو میں پٹھوں کی تعداد: 72
18: دل میں پمپوں کی تعداد: 2
19: سب سے بڑا عضو: جلد
20: سب سے بڑی غدود: جگر
21: سب سے بڑا سیل: مادہ انڈا
22: سب سے چھوٹا سیل: نطفہ
23: سب سے چھوٹی ہڈی: درمیانی کان کے حصے میں ہے
24: پہلا ٹرانسپلانٹڈ عضو: گردے
25: چھوٹی آنت کی اوسط لمبائی: 7 میٹر
26: بڑی آنت کی اوسط لمبائی: 1.5 میٹر
27: نوزائیدہ بچے کا اوسط وزن: 3 کلو
28: ایک منٹ میں پلس کی شرح: 72 بار
29: عام جسم کا درجہ حرارت: 37 C ° (98.4 f °)
30: اوسطا خون کا حجم: 4 سے 5 لٹر
31: زندگی کے سرخ خون کے خلیات: 120 دن
32: زندگی کے سفید خلیات: 10 سے 15 دن
33: حمل کی مدت: 280 دن (40 ہفتے)
34: انسانی پیروں میں ہڈیوں کی تعداد: 33
35: ہر کلائی میں ہڈیوں کی تعداد: 8
36: ہاتھ میں ہڈیوں کی تعداد: 27
37: سب سے بڑی انڈروکرین غدود: تائرائڈ
38: سب سے بڑا لمفا عضو: تللی
40: سب سے بڑی اور مضبوط ہڈی: فیمر
41: سب سے چھوٹا پٹھوں: سٹیپیڈیس (درمیانی کان)
41: کروموسوم نمبر: 46 (23 جوڑی)
42: نوزائیدہ بچے کی ہڈیوں کی تعداد: 306
43: خون کی واسعثاٹی: 4.5 سے 5.5
44: عالمی ڈونر بلڈ گروپ: O
45: یونیورسل وصول کنندہ بلڈ گروپ: اے بی
46: خون کا سب سے بڑا خلیہ: مونوکیٹ
47: سب سے چھوٹا سفید خون کا خلیہ: لیمفوسائٹ
48: بڑھتے ہوئے سرخ خون کے خلیوں کی گنتی کو کہتے ہیں: پولیسیتھیمیا
49: جسم میں بلڈ بینک ہے: تللی
50: دریائے حیات کہا جاتا ہے: خون
51: خون میں عام کولیسٹرول کی سطح: 100 ملی گرام / ڈی ایل
52: خون کا سیال حصہ: پلازما

ایک عمدہ ڈیزائن مشین جو آپ کو اس مہم جوئی سے لطف اندوز کرنے کی اجازت دیتی ہے جسے زندگی کہتے ہیں۔ اسکا خیال رکھنا. اس کو نقصانات اور زیادتیوں سے نقصان نہ پہنچائیں۔dr jasim manhaz Afridi

01/04/2023
13/12/2022

‏گھر کا بستر ہسپتال کے بیڈ سے بہتر ہے ۔ اور رزق کی تنگی سانس کی تنگی سے بہتر ہے ۔ لہٰذا ہمیشہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں ۔

.📌ہم وہ آخری پیڑھی ہیں کہ جن کی ماؤں کا کوئی شوشل میڈیا اکاؤنٹ نہیں ہے. جنکی ماؤں کو سمارٹ فونز کے لاک کھولنا نہیں آتے.📌...
12/12/2022

.📌ہم وہ آخری پیڑھی ہیں کہ جن کی ماؤں کا کوئی شوشل میڈیا اکاؤنٹ نہیں ہے. جنکی ماؤں کو سمارٹ فونز کے لاک کھولنا نہیں آتے.

📌 ہم وہ آخری پیڑھی ہیں کہ جن کی مائیں فلٹرز سے دور ہیں بس صابن کی ٹکیہ، دنداسہ، تبت، سنو کریم اور تبت پاؤڈر ہی جنکا ٹوٹل میک اپ ہے.

📌 ہم وہ آخری پیڑھی ہیں کہ جن کی مائیں اتنی سادہ ہیں کہ انہیں اپنی سالگرہ کا بھی پتہ نہیں ہوتا.

📌 ہم وہ آخری پیڑھی ہیں کہ جن کی ماؤں نے صبر شکر کیساتھ انتہائی کم ضرورتوں میں اپنی زندگی گزار دی ہے.

📌 ہم وہ آخری پیڑھی ہیں کہ جن کی مائیں انہیں گھر سے رخصت کرتے وقت See you soon نہیں بلکہ فی امان اللہ کہہ کر اللہ کے حوالے کرتی ہیں اور چہرہ چادر کی اوٹ میں چھپا کر ہلکا سا دروازے سے باہر سرک کر تب تک دیکھتی رہتی ہیں جب تک بچہ نظروں سے اوجھل نہ ہو.

📌 ہم وہ آخری پیڑھی ہیں کہ جن کی ماؤں کا لباس بس شلوار قمیض، ازار چادر، سینہ بند اور برقعے پر ختم ہو جاتا ہے وہ ٹائٹس، پلازو، کرتی، گھاگھرا، پٹیالہ کچھ بھی نہیں جانتیں.

📌 ہاں ہم وہ آخری پیڑھی ہیں جن کی مائیں ان کی پیدائش پر چھوٹی چھوٹی تلائیاں سیتی ہیں چارپائی کے ساتھ جھولا باندھتی ہیں اور ڈھائی سال ہمیں اپنے سینوں سے پلا کر سینے لٹکوا لیتی ہیں.

📌 جی ہاں ہم وہ آخری پیڑھی ہیں جن کی مائیں فجر سے پہلے جانور کا دودھ نکال لیتی ہے فجر کی نماز کے متصل بعد چاۓ کی پتیلی چولہے پر چڑھا کر آٹے کے پیڑے کوٹ کر ہوا میں اچھال کر توۓ پر دھر چکی ہوتی ہیں.

📌 باخدا ہم وہ آخری پیڑھی ہیں کہ جن کی مائیں ہمیں کھو دینے کے بعد پھولوں میں لِپٹے ہماری تصویریں فیس بک وٹس اپ پر ڈال کر دعاۓ مغفرت کی التجاء نہیں کریں گی بلکہ اپنی پینشن نکلوا کر مہینہ بھر دودھ بیچ کر چار پیسے کما کر وہ پیسے ہمارے نام کے مان کر کسی مسجد مدرسے میں دے آئیں گی.

📌 اور ہاں یہ اکیلی کتابوں کی ہی نہیں ایسی ماؤں کی بھی آخری صدی ہے باخدا ہماری اولادیں اگلی صدی میں ایسی ماؤں کو ترسیں گی اور تب تک ایسی ساری ماؤں کی ہڈیاں قبر میں چُورا چُورا ہو چکی ہوگی....░d░░r░ ░j░░a░░s░░i░░m░░n░m░░e░░n░░h░░a░░z░ ░a░░f░░r░░i░░d░░i░

یہ تصویر تقریباً 70 سال پہلے کی ہے۔ تصویر میں موجود جو لوگ چٹائیوں پر نماز جمعہ پڑھ رہے ہیں یہ سب مر چکے ہیں۔جو لوگ اپنی...
11/12/2022

یہ تصویر تقریباً 70 سال پہلے کی ہے۔
تصویر میں موجود جو لوگ چٹائیوں پر نماز جمعہ پڑھ رہے ہیں
یہ سب مر چکے ہیں۔

جو لوگ اپنی دکانوں،گاڑیوں اور ریڑھیوں کے آگے نماز پڑھے بغیر انتظار میں ہیں
کہ کب لوگ نماز سے فارغ ہوں گے
اور ہم اپنی چیزیں فروخت کریں گے
یہ سب بھی مر چکے ہیں۔
یہ سب اب مٹی کے نیچے ہیں
ان میں سے ہر کوئی اپنے کام کا انجام بھگت رہا ہے۔
جس نے نماز پڑھی وہ بھوک سے نہیں مرا
اور جس نے نماز نہ پڑھ کر تجارت کی وہ مال لیکر قبر نہیں گیا۔
ہاں مگر روز قیامت ان دونوں فریق سے پہلا سوال نماز کا ہی ہو گا۔

*اللّٰـــــهﷻ ہم سب کو پنچگانہ نماز کی پابندی عطا فرمائے آمیـــــــــــــــــن ياربی۔۔🤲*

Address

Batatal Bara
Peshawar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr jasim manhaz afridi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category