02/09/2025
عطائی کون ھے۔
اگرچہ یہ ڈسپنسر ،فارمیسی ٹیکنیشن ڈپلومہ ہولڈر ہوتے ہیں لیکن ابتدائی طبی امداد کے بارے میں خوب جانتے ہیں اور اسی پر ان کو اگاہی دی جاتی اور پریکٹیکل کروایا جاتا ہے،درحقیقت ہر وہ شخص عطائی ہے جس کے پاس نہ تو کسی بھی قسم کا،ہومیو پیتھک ڈاکٹر کا ڈپلومہ ،پیرامیڈک ڈپلومہ نرسنگ،ڈسپنسر،فارمیسی ٹیکنیشن ،فارماسسٹ،میڈیکل اسسٹنٹ یا میڈیکل کی کوئی ڈگری ہے بلکہ چند میڈیکل سے منسلک شعبہ کے لوگوں کے ساتھ کام کرنے کے بعد اپنے آپ کو ڈاکٹر کہلانے والا عطائی ہے جو ابتدائی طبی امداد کے ساتھ ساتھ بڑے سے بڑے مرض کو اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے اور میڈیکل کے شعبہ کو کمائی کا ذریعہ بنا لیتا ہے۔ بہت عرصہ دراز سے پاکستان میں ڈسپنسر یا فارمیسی ٹیکنیشن حضرات کو صحت کے شعبے میں اہمیت حاصل رہی ہے اور ان کا ایک کلیدی کردار رہا ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا حتی کہ آج کے دور میں بھی پاکستان کے تمام صوبوں میں مختلف اضلاع میں آج بھی ڈسپنسر یا فارمیسی ٹیکنیشن کسی گاؤں گلی محلے میں یا گورنمنٹ کی ڈسپنسری میں گورنمنٹ کی زیر نگرانی اپنی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں لیکن دوسری طرف عوام کو صحت کی سہولیات گھر گھر پہنچانے کی بجائے اعلی تعلیم یافتہ ایم بی بی ایس ڈاکٹر حضرات اور اسی طرح ادویات سے منسلک لوگ ڈسپنسر اور فارمیسی ٹیکنیشن حضرات کے خلاف ہر وقت سراپہ احتجاج ہیں جبکہ ان میں سے کوئی بھی کسی گاؤں گلی یا محلے میں جا کر اپنی ذمہ داریاں انجام دینے کے لیے تیار نہیں کیونکہ ان کا مقصد صرف مال کمانا ہے نہ کہ عوام کو سستی معیاری ابتدائی طبی امداد دینا ہے لہذا عطائی کی حقیقت کیا ہے جانتے ہیں۔
آج کے دور میں میڈیکل شعبہ میں عطائی کون ھے۔گاؤں میں بیٹھا ڈسپینسر/فارمیسی ٹیکنیشن،پریکٹیشنر چند میڈیسن رکھ کر اپنے بچوں کی حلال رزق کمانے والا عطائی کہلاتا ھے۔جو مریض کو ایم بی بی ایس ڈاکٹر صاحبان کے کافی تعداد میں لکھ کردیئے گھر جا کر انجیکشن لگاتا ھے۔راستہ میں کسی اجنبی کا ایکسیڈنٹ ھو جائےتو فرسٹ ایڈ دے دیتا ھےاور بغیر پیسوں کے انسانیت زندہ رکھتا ھے۔کسی کے پاس پیسے نہیں تو ادھار میڈیسن دے دیتا ھے۔فری میں اپنا وقت ضائع کرتا ھے گھرگھر جا کر بلڈپریشر چیک کرتا ھے ۔ڈسپنسر/فارمیسی ٹیکنیشن اپنے تجربہ کی بنیاد پر مریض کو فرسٹ ایڈ دیتا نہ کہ غیر تجربہ شدہ ادویات کا تجربہ کرتا ھے ،50،100روپے میں بھی میڈیسن دے دیتا ھے۔وہ اپنے بچوں کی روذی،روٹی کی فکر کئیے بغیر انسانیت کو زندہ رکھتا ھے۔دوسری طرف نام نہاد بڑے بڑے سڑکوں پر بورڈ اویزاں کرنے والے ڈاکٹر پروفیسر ایم بی بی ایس ،ڈاکٹر صاحبان کے پاس مریض اپنی تکلیف کے ساتھ بڑے ھسپتال میں جاتا ھے۔پہلے اکانٹر پر بھاری فیس جمع کرواتا ھے پھر اپنی باری کا انتظار کرتا ھےچاھے کتنی ھی تکلیف میں کیوں نہ ھو۔جب ڈاکٹر کے پاس پہنچتا ھے تو پوچھ گچھ کرنے کے بعد ڈاکٹر لیب ٹیسٹ لکھ دیتا ھے جس میں ڈاکٹر کا نصف حصہ ھوتا ھے۔پھر ڈاکٹر کے پاس حاضر ھوتا ھے ڈاکٹرمیڈیسن لکھ کر دیتا ھے جو صرف اسی ھسپتال سے دستیاب ھوتی ھے جن ادویات کا کمیشن کمپنی سے لیتا ھے۔اور اس میڈیسن کا تجربہ غریب مریض پر کرتاھے۔اس ایم بی بی ایس ڈاکٹر کو اتنا علم نہیں ھوتا یہ میڈیسن دو نمبر ھے یا اصل ھے۔ڈاکٹر صاحب اپنےکمیشن کی خاطر وھی میڈیسن لکھتاھےجس سے ڈاکٹر کا مفاد ھوتاھے۔مریض تکلیف سے چیخ رھا ھوتاھے3سے4گھنٹے بعد5سے10ھزار لٹانے کےبعدمریض گھر لوٹتاھےڈاکٹر صاحبان ساتھ میڈیسن کے کافی انجیکشن تھمادیتے ھیں کے اپنے گاؤں میں بیٹھےڈسپینسر سے روزانہ لگوالینا۔حکومت کے بنائے ادارے صرف ڈسپینسر کو عطائی ثابت کرنے میں آئے روز ان کے گلی محلوں میں بنے کلینک سیل کرنےکےلئیےدن رات ایک کیئے ھوئےھیں۔اور ھزاروں لاکھوں کا چالان کردیتےھیں۔ڈسپینسر بیچارہ نہ تو اپنے اھل محلہ کو جواب دےسکتاھےاوپرسےبھاری بھر جرمانےاداکرکے خود ذھنی مریض بن جاتاھے۔جو اس مسیحا سے حکومت اور اداروں کی سرا سر زیادتی ھے۔حکومت کے بنےاداروں کا اصل مقصد جعلی ادویات بنانے والی کمپنیوں کو کنٹرول کرنا ھے۔ادویات کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا ھے۔جن کا اصل مقصدعوام تک ادویات پہنچاناھے۔اداروں کا کام اب صرف پیسہ اکٹھا کرنا ھے۔8سے10سال بڑے ھسپتالوں میں وقت ضائع کرنے کے بعد ڈسپینسر جب اپنے گلی،محلےمیں چھوٹا سا کلینک کھولتا ھے تو اپنے اوپر عطائی کالیبل لگا لیتاھے،حالانکہ عطائی کو بنانےوالے خود عطائیت کا گھر ھیں۔خدارا ھوش کے ناخن لو،گلی محلوں میں بیٹھے ڈسپینسر/فارمیسی ٹیکنیشن،پریکٹیشنرایک مسیحا ھیں یہ عطائی نہیں ھیں۔یہ غریب کے ھمدرد ھیں لوٹیرے نہیں ھیں۔یہ عطائی،عطائی والا ڈرامہ بند کرکے کمیشن دینے والی میڈیسن کمپنیوں اور کمیشن دینے والی لیب ،اور کمیشن لے کر ادویات لکھنے والوں کے خلاف کروائی کرو۔نہ کے غریب عوام کو 50,100میں میڈیسن دینے والے کے خلاف کاروائی کرو۔گورنمنٹ آف پاکستان اور صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ ڈسپنسر فارمیسی ٹیکنیشن یا پیرامیڈک سٹاف کا ڈپلومہ رکھنے والے لوگ جو عرصہ دراز سے لوگوں کو صحت کی سہولت پہنچا رہے ہیں ان کے کلینکس کو رجسٹر کیا جائے اور باہر بورڈ آویزاں کیا جائے کہ یہاں صرف ابتدائی طبی امداد دی جاتی ہے۔
نوٹ:
اس تحریر کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ ڈسپنسر یا فارمیسی ٹیکنیشن کو کسی ہسپتال کا یا ادویات کے شعبے میں کسی مینوفیکچرر کا ڈسٹری بیوٹر کا انچارج لگا دیں بلکہ مقصد صرف یہ ہے کہ اگر پاکستان بننے سے لے کر ابھی تک عوام کو یہ لوگ سستی معیاری ابتدائی طبی امداد دے رہے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ،بصورت دیگر پاکستان بھر میں شہری آبادیوں کے علاوہ دیہی آبادی میں بھی ایم بی بی ایس ڈاکٹر اور فارماسسٹ حضرات نیک نیتی سے اپنے کلینک اور فارمیسی گاؤں گاؤں بنائیں تاکہ لوگوں کو پتہ چل سکے کہ ڈسپنسر یا فارمیسی ٹیکنیشن سے بھی اوپر کام کرنے والے لوگ اور خدا ترس لوگ موجود ہیں اگر آپ گاؤں گاؤں سہولت نہیں پہنچا سکتے تو جن لوگوں کی یہ ڈسپنسر اور فارمیسی ٹیکنیشن حضرات ابتدائی طبی امداد دے کر جان بچا رہے ہیں ان کو داد دینی چاہیے کسی بڑے آپریشن یا بڑی مرض کے ساتھ کھیلنے کی ان کو بھی اجازت نہیں اور نہ ہی ایسا کرتے ہیں باقی ہر فیلڈ میں اچھے اور برے لوگ ہوتے ہیں اس چیز کا اندازہ ہر شخص کو ہے
والسلام
Dr jasim manhaz afridi