Pharmacists Association Balochistan

Pharmacists Association Balochistan Real vision , hope efforts for pharmacists and pharmacy proffession and truely saymbol of best movem

28/11/2025
26/11/2025
18/11/2025

🤝✅

*: فارماسسٹس کی قیادت کا بحران اور یونین سیاست کا زوال*بلوچستان میں فارماسسٹس کا شعبہ ایک ایسا پیشہ ہے جو انسانی صحت کی ...
29/09/2025

*: فارماسسٹس کی قیادت کا بحران اور یونین سیاست کا زوال*

بلوچستان میں فارماسسٹس کا شعبہ ایک ایسا پیشہ ہے جو انسانی صحت کی بقا، ادویات کے محفوظ استعمال، اور صحت کے نظام میں مؤثر معاونت کا ضامن ہے۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ آج یہ شعبہ بدترین زوال اور استحصال کا شکار ہے، اور اس زوال کی بڑی وجہ پیشہ ورانہ قیادت کا فقدان ہے۔

پاکستان فارماسسٹس ایسوسی ایشن (PPA) بلوچستان، جو کبھی فارماسسٹس کے حقوق کی علمبردار تھی، آج قیادت کے بحران کا شکار ہے۔ ایک وقت تھا جب اس تنظیم کی باصلاحیت، تجربہ کار اور سیاسی طور پر باشعور قیادت نے نہ صرف فارماسسٹس کے اجتماعی مفادات کی حفاظت کی، بلکہ ایک واضح حکمت عملی، مؤثر مزاحمت، اور ادارہ جاتی سطح پر سرگرم کردار کے ذریعے فارماسسٹس کی قدر و منزلت میں اضافہ کیا۔

*ماضی کی قیادت: عملی مزاحمت اور موثر مذاکرات*
ماضی میں، PPA بلوچستان کی قیادت نے حقوق کے تحفظ کے لیے سڑکوں پر آواز بلند کی۔ ہمیں یاد ہے جب فارماسسٹس نے:

- پریس کلب کے سامنے مظاہرے کیے،
- اسمبلیوں کے سامنے دھرنے دیے،
- بھوک ہڑتالی کیمپ لگائے،
- تھانوں کی سلاخوں کے پیچھے مزاحمت کی قیمت ادا کی۔

یہ محض احتجاج نہیں تھے، بلکہ ان کے پیچھے ایسی قیادت تھی جو ہر قدم پر سیاسی بصیرت سے کام لیتی تھی۔ وہ لوگ ایوانوں تک رسائی رکھتے تھے۔ وزراء، سیکریٹریز، وزیر اعلیٰ اور یہاں تک کہ عدالتوں میں فارماسسٹس کا مقدمہ دلیل اور وقار سے لڑتے تھے۔

نتائج:*
فارماسسٹس کی بہت سی آسامیاں پیدا کی گہیں
ہیلتھ پروفیشنل الاونس کا اجراء کیا گیا
سپریم کورٹ نے فارماسسٹس کو فورٹییر سروس اسٹرکچر دینے کا حکم صادر کیا-ا
- لیبارٹریز، ڈرگ کورٹ، اور دیگر اداروں میں ان کا کردار تسلیم کیا گیا،
- حکومت اور بیوروکریسی فارماسسٹس کے خلاف منفی پالیسی بنانے سے کتراتی تھیں

*موجودہ صورتحال:

قیادت کا فقدان، استحصال کا راج*

لیکن گزشتہ دو ڈھائی سال سے پی پی اے بلوچستان کی قیادت ، غیر سیاسی، اور قائدانہ صلاحیتوں سے اور مزاحمتی جرات سے محروم افراد کے ہاتھ میں ہے۔ یہ قیادت:

- زمینی حقائق سے نابلد ہے،
- حکومتی پالیسیوں کے سامنے خاموش ہے،
- بیوروکریسی کی من مانی کا مؤثر جواب دینے سے قاصر ہے،
- احتجاج، لابنگ، یا عدالتی فورمز پر کوئی سنجیدہ اقدام کرنے میں ناکام ہے۔

نتیجہ یہ نکلا کہ:

فوڈ لیبارٹری کو مکمل طور پہ ختم کیا گیا
- فارماسسٹس کو ڈرگ لیبارٹری سے نکال دیا گیا،
-فارماسسٹس کو ڈرگ کورٹ سے بیدخل کر دیا گیا،
- کلینیکل فارماسسٹس کو وارڈز سے ہٹا کر ڈسپنسنگ پر بٹھا دیا گیا،
- کمیونٹی فارمیسیز میں پرائیویسی پامال ہو رہی ہے،
- فارماسسٹس کے ادارے غیر متعلقہ افراد کو الاٹ کیے جا رہے ہیں،
- بیروزگار فارماسسٹس مسلسل نظرانداز ہو رہے ہیں۔

*مستقبل کی راہ:*
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ فارماسسٹس اپنی تنظیمی صفوں میں اصلاح کریں۔ باشعور، تجربہ کار، اور فعال قیادت کو سامنے لائیں۔ یونین صرف الیکشن جیتنے اور گروہ بندی کے لیے نہیں، بلکہ ادارہ جاتی تحفظ، پالیسی

فارماسسٹس کے وقار کی بحالی، پیشہ ورانہ شناخت کے تحفظ، اور صحت کے نظام میں مؤثر کردار کے لیے ضروری ہے کہ یونین سیاست کو دوبارہ اس کی اصل روح میں زندہ کیا جائے۔ بصورت دیگر، فارماسسٹ مزید پسماندگی، تنزلی، اور استحصال کا شکار ہوتے رہیں گے۔

*عنوان: ڈرگ کورٹ سے فارماسسٹس کی بیدخلی — ماہرینِ ادویات کے ساتھ دانستہ ناانصافی*بلوچستان میں فارمیسی پروفیشن کو بتدریج ...
23/09/2025

*عنوان: ڈرگ کورٹ سے فارماسسٹس کی بیدخلی — ماہرینِ ادویات کے ساتھ دانستہ ناانصافی*

بلوچستان میں فارمیسی پروفیشن کو بتدریج ختم کرنے کی جو پالیسی خاموشی سے نافذ کی جا رہی ہے، اس کی تازہ ترین مثال *ڈرگ کورٹ سے فارماسسٹس کی بیدخلی* ہے۔ یہ اقدام نہ صرف تکنیکی بنیادوں پر غلط ہے، بلکہ فارمیسی پروفیشن کو بد نیتی سے دیوار سے لگانے کی کوشش ہے۔

*ڈرگ ایکٹ 1976* کے تحت قائم ڈرگ کورٹ میں اب تک *دو ٹیکنیکل ممبران فارماسسٹس شامل ہوتے تھے*، جو ادویات سے متعلق امور میں عدالت کو سائنسی اور پیشہ ورانہ معاونت فراہم کرتے تھے۔ مگر اب، خاموشی سے یہ کردار *ایک ایسے فرد کو دے دیا گیا ہے جو نہ فارماسسٹ ہے، نہ ادویات کا ماہر

یہ حقیقت ریکارڈ پر لائی جانا ضروری ہے کہ *یہ فرد اس وقت بیک وقت ڈائریکٹر ہیومن ریسورس ڈیویلپمنٹ، ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ بی ایم سی، متعدد مانیٹرنگ کمیٹیوں کا رکن ہے۔ افسوسناک طور پر، *اسی شخص نے پہلے ڈرگ لیبارٹری میں تعینات چیف پبلک انالسٹ (فارماسسٹ) کی سرکاری گاڑی زبردستی چھینی، پھر لیبارٹری کی خودمختاری پر حملہ کیا،فارماسسٹس کی ٹرانسفر میں کلیدی کردار ادا کررہا ہے اور اب ڈرگ کورٹ کے ٹیکنیکل ممبر کا کردار بھی ہتھیا لیا*۔

یہ ایک فردِ واحد کا معاملہ نہیں، یہ ایک *بدنیتی پر مبنی نظام کی عکاسی* ہے جس میں *ادویات کے اصل ماہرین — فارماسسٹس — کو شعوری طور پر کنارے لگایا جا رہا ہے*۔

فارماسسٹ: ادویات کے حقیقی ماہر

فارماسسٹ وہ واحد پروفیشنلز ہیں جن کی *تعلیم، تجربہ اور عملی تربیت* ادویات کی تیاری، معیاری جانچ، فارمولیشن، کمپوزیشن، مانیٹرنگ، اور قانونی پہلوؤں پر مرکوز ہوتی ہے۔ *ڈرگ کورٹ جیسا فورم* جہاں ادویات کے معیار، جعلسازی اور عوامی صحت سے جڑے فیصلے ہوتے ہیں، وہاں *غیر متعلقہ افراد کی شمولیت نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ عوامی صحت کے لیے خطرناک بھی*۔

تکنیکی اور قانونی دلائل:

1. *ڈرگ ایکٹ 1976* میں ٹیکنیکل ممبر کا تقرر اس کی متعلقہ مہارت کی بنیاد پر کیا جانا ہے۔ ڈاکٹرز کی عمومی تعلیم انہیں ادویات کی مینوفیکچرنگ یا تجزیے کا ماہر نہیں بناتی۔

2. *فارماسسٹ پاکستان فارمیسی کونسل سے رجسٹرڈ ماہرین ہیں*، جن کے بغیر کسی بھی دوا کی جانچ، تیاری یا سرٹیفیکیشن ممکن نہیں۔.
3. ڈاکٹرز اپنے شعبے کے بہترین ماہر ہوتے ہیں لیکن ڈرگ کورٹ میں اگر ڈاکٹرز بطور ٹیکنیکل ممبر شامل ہوں گے تو نہ صرف یہ کہ یہ اصولی اور اخلاقی طور پہ درست نہیں * بلکہ انکے فیصلے تکنیکی علم سے خالی ہونے کی وجہ سے مفاد عامہ کے خلاف ہوسکتے ہیں

تجویز کردہ اقدامات:

- *عدالت سے رجوع* کیا جائے کہ ٹیکنیکل ممبر کی تقرری میں اہین کے بنیادی روح کو پامال کرنے والے قوانین کا از سر نو جائزہ لیا جائے
- *عدالتی طور پہ سوال اٹھایا جائے* کہ ایک شخص کو بیک وقت کئی کلیدی عہدے کیسے دیے جا سکتے ہیں؟
- *فارماسسٹس متحد ہو کر مشترکہ موقف اپنائیں* اور اپنی نمائندہ تنظیموں کو جوابدہ بنائیں۔

اختتامیہ:

آج فارمیسی پروفیشن ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ جہاں اس کے *تجربہ کار فارماسسٹس کو عدالتوں، لیبارٹریوں، اور پالیسی میکنگ سے ہٹا کر غیر متعلقہ افراد کو ان کی جگہ دی جا رہی ہے*۔ یہ ظلم صرف افراد کے ساتھ نہیں بلکہ *عوامی صحت، شفافیت اور قانون کی حکمرانی* کے ساتھ ہے۔

اب وقت ہے کہ *فارماسسٹس اپنے کردار، علم، اور قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک ہو جائیں*۔ بصورت دیگر، وہ نہ صرف اپنے مقام سے محروم ہو جائیں گے بلکہ *عوام کو بھی معیاری دوا اور شفاف نظام* سے دور کر دیا جائے گا۔

*عنوان: فارمیسی پروفیشن کے خلاف منظم حکومتی رویہ اور داخلی تقسیم — اصلاح کی فوری ضرورت*بلوچستان میں فارمیسی پروفیشن آج ش...
21/09/2025

*عنوان: فارمیسی پروفیشن کے خلاف منظم حکومتی رویہ اور داخلی تقسیم — اصلاح کی فوری ضرورت*

بلوچستان میں فارمیسی پروفیشن آج شدید دباؤ، غیر یقینی اور ناہموار پالیسیوں کا شکار ہے۔ ایک طرف حکومت کی جانب سے مسلسل ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جو اس پورے شعبے کی پیشہ ورانہ شناخت کو نقصان پہنچا رہے ہیں، تو دوسری طرف فارماسسٹس اور ان کے ذیلی کیڈرز — بالخصوص *ڈرگ انسپکٹرز* — کے درمیان پائی جانے والی باہمی بداعتمادی اور غیر مربوط موقف نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

ڈرگ انسپکٹرز کا بحران: ایک قابل تشویش صورتحال

حالیہ دنوں میں ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ بلوچستان کے دفتر سے *ڈرگ انسپکٹرز کو بے دخل* کر دیا گیا ہے۔ ان سے نہ صرف دفاتر خالی کروائے گئے، بلکہ انہیں کبھی ڈائریکٹر ہیومن ریسورس، اور کبھی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کے ماتحت رپورٹ کرنے کے متضاد احکامات دیے جا رہے ہیں۔ یہ تمام اقدامات کسی واضح قانون یا پالیسی فریم ورک کے بغیر کیے جا رہے ہیں، جس سے نہ صرف انسپکٹرز کی ساکھ متاثر ہوئی بلکہ پورے *ڈرگ ریگولیٹری نظام* کو خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔

ایک تاریخی حقیقت: ڈرگ انسپکٹرز بھی فارماسسٹ ہیں
یہ حقیقت فراموش نہیں کی جا سکتی کہ ڈرگ انسپکٹرز بھی *فارمیسی پروفیشن کا حصہ* ہیں۔ ان کی بنیادی تعلیمی اہلیت B-Pharmacy یا Pharm-D ہے، اور ان کی تعیناتی کا مقصد ادویات کی نگرانی، ریگولیشن، اور عوامی صحت کا تحفظ ہے۔ یوں، ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافی نہ صرف ایک ذاتی مسئلہ ہے بلکہ *پورے فارمیسی شعبے پر حملہ* تصور کی جا سکتی ہے۔

اندرونی تضاد: ماضی کے رویے اور سیکھنے کی ضرورت

مبینہ طور پہ چند ڈرگ انسپکٹرز کی جانب سے فارماسسٹس کی بعض کلیدی پوسٹوں پر *غیر منصفانہ دعوے یا متنازعہ مؤقف* اپنایا گیا، جس سے فارمیسی کی داخلی یکجہتی متاثر ہوئی ہے ۔ اس رویے نے فارماسسٹ برادری میں خلیج کو گہرا کیا، اور اتحاد کو نقصان پہنچایا۔ مگر اب وقت آ چکا ہے کہ ان تلخ تجربات سے سیکھا جائے، اور *ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر اجتماعی مفاد پر مبنی حکمت عملی* اپنائی جائے۔اور فارماسسٹس اور ڈرگ انسپکٹرز کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کو ختم کرنے کی کوشش کی جاے اور ایک دوسرے کے داہرہ کار کا احترام کرتے ہوے جیو اور جینے دو کی پالیسی اپنائی جاے

حکومتی رویہ: مسلسل دیوار سے لگانے کی کوشش

بلوچستان میں نہ صرف وراڈذ ،۔ڈرگ کورٹ اور فوڈ لیبارٹری سے فارماسسٹس کو بیدخل کیا گیا، بلکہ ان کے سروس اسٹرکچر، ، اور ترقی کے حوالے سے بھی تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ *فور ٹئیر سروس اسٹرکچر* کابینہ سے منظوری کے باوجود تاحال لاگو نہیں ہو سکا۔ دوسری جانب فوڈ لیبارٹری سے فارماسسٹس کو بیدخل کرنا ، کلینیکل فارمیسی کا مکمل خاتمہ ، وراڈذ میں داخل مریضوں اور فارماسسٹس کا رابطہ منقطع کرنا ، ڈرگ کورٹ سے بیدخل کرنا اور فارماسسٹس کو محض ڈسپنسنگ تک محدود کر دینا اور ڈرگ انسپکٹرز کو دفاتر خالی کرکے ریکارڈ روم میں داخل کرنے کا فرمان واضح پیغام ہے کہ حکومت فارمیسی پروفیشن کو مکمل غیر مؤثر بنانا چاہتی ہے۔

تجزیہ و تجاویز: نیا راستہ، نیا بیانیہ

1. *اتحاد و اتفاق*:
2. ڈرگ انسپکٹرز اور فارماسسٹس کو ماضی کے اختلافات کو پس پشت ڈال کر، باہمی احترام، تعاون اور حدود کے تعین کے ساتھ ایک نئی حکمت عملی اپنانی چاہیے۔

2. *مشترکہ وکالت*:
پی پی اے اور دیگر نمائندہ تنظیموں کو ایک متفقہ بیانیہ بنا کر حکومت کے سامنے رکھنا چاہیے تاکہ فارمیسی کے تمام شعبے ایک ساتھ مضبوط ہوں۔

3. *قانونی و ادارہ جاتی تحفظ*:
ڈرگ انسپکٹرز کے دفاتر کی بحالی اور ان کے اختیارات کے تحفظ کے لیے عدالتی یا ایڈمنسٹریٹو فورمز سے رجوع کیا جائے۔

4. *پیشہ ورانہ شناخت کا تحفظ*:
فوڈ لیبارٹری، ڈرگ انسپکشن، اسپتال فارمیسی، اور ریسرچ — تمام شعبے فارماسسٹ پروفیشن کے ستون ہیں۔ کسی ایک کا نقصان سب کے لیے خطرہ ہے۔

5. *پی پی اے کی ازسرنو تشکیل*:
بلوچستان میں پی پی اے کی ناقص کارکردگی اور مسلسل خاموشی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ تنظیمی ڈھانچے کا ازسرنو جائزہ لیا جائے، اور نئی قیادت سامنے آئے جو مؤثر وکالت کر سکے۔

*اختتامی کلمات*

فارمیسی ایک متحد پروفیشن ہے، جس کی بقا باہمی احترام، دانشمندی اور مربوط حکمت عملی میں ہے۔ آج جب ہر جانب سے فارماسسٹس کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے، تو یہی وقت ہے کہ *ڈرگ انسپکٹرز اور دیگر فارماسسٹس ایک صف میں کھڑے ہو کر اس پیشے کے تحفظ کے لیے آواز بلند کریں* — ورنہ آئندہ کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔

میں آج زد پہ اگر ہوں تو خوش گمان نہ ہو

چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔

*"فوڈ لیبارٹری سے فارماسسٹس کی بیدخلی: ناانصافی یا ناعاقبت اندیشی؟"*بلوچستان میں محکمہ صحت کے تحت قائم *فوڈ ٹیسٹنگ لیبار...
20/09/2025

*"فوڈ لیبارٹری سے فارماسسٹس کی بیدخلی: ناانصافی یا ناعاقبت اندیشی؟"*

بلوچستان میں محکمہ صحت کے تحت قائم *فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری* ایک طویل عرصے سے صحتِ عامہ کی حفاظت میں کلیدی کردار ادا کرتی آ رہی ہے۔ اس لیبارٹری کا بنیادی مقصد خوراک، مشروبات، اور دیگر اشیاء کے معیار اور پاکیزگی کو یقینی بنانا ہے، تاکہ شہری مضرِ صحت اجزاء سے محفوظ رہ سکیں۔ اس حساس ادارے میں *ماہر فارماسسٹس* گزشتہ کئی دہائیوں سے خدمات سر انجام دے رہے تھے جنہوں نے عدالتی کیسز، لیبارٹری رپورٹس اور پالیسی سازی میں اہم کردار ادا کیا۔

تاہم حالیہ حکومتی فیصلے کے تحت نہ صرف ان فارماسسٹس کو فوڈ لیبارٹری سے ہٹا دیا گیا ہے بلکہ لیبارٹری کو فوڈ ٹیسٹنگ سے روک دیا گیا ہے، جو کہ ایک شدید پیشہ ورانہ زیادتی ہے۔ مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ *فوڈ لیبارٹری کا مرکزی دفتر بھی ایک غیر متعلقہ فرد کو الاٹ کر دیا گیا ہے*، جو فارماسسٹ یا فوڈ اینالسٹ نہیں ہے۔ یہ اقدام کئی قانونی، سائنسی اور اخلاقی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

*فارماسسٹس کا قانونی کردار*
بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے *سروس رولز 2017* کے مطابق، *لیبارٹری انالسٹ (BPS-17)* کی اسامی کے لیے *D-Pharmacy یا B-Pharmacy* کی ڈگری اور *پاکستان فارمیسی کونسل کی رجسٹریشن* لازم ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ فوڈ ٹیسٹنگ کے لیے فارماسسٹس نہ صرف اہل بلکہ قانونی طور پر لازمی ہیں۔

لہٰذا اگر فوڈ اتھارٹی کے رولز خود فارماسسٹس کو فوڈ ٹیسٹنگ کا اہل قرار دیتے ہیں، تو محکمہ صحت کی فوڈ لیبارٹری میں موجود ماہر فارماسسٹس کو ہٹانا *قانونی تضاد* اور بدانتظامی کی بدترین مثال ہے۔

*فارماسسٹس کا تجربہ: ایک اثاثہ یا بوجھ؟*

محکمہ صحت کی لیبارٹری میں تعینات بیشتر فارماسسٹس کے پاس *15 سے 20 سال تک کا تجربہ* ہے۔ وہ نہ صرف فوڈ کیمسٹری اور ٹاکسیکولوجی میں ماہر ہیں، بلکہ کئی فارماسسٹس نے عدالتوں میں ماہر گواہ کے طور پر بھی خدمات دی ہیں۔ ان ماہرین کو ہسپتال کے ڈسپنسنگ کاؤنٹرز پر منتقل کرنا ان کی صلاحیتوں کی توہین ہے، اور اس کے نتیجے میں ریاستی وسائل، تربیت اور مہارت کا ضیاع ہو رہا ہے۔

*فوڈ اتھارٹی اور محکمہ صحت: دائرہ اختیار کا ابہام*

یہ واضح ہونا چاہیے کہ *بلوچستان فوڈ اتھارٹی* ایک الگ ادارہ ہے جو *محکمہ خوراک* کے تحت کام کرتا ہے، جبکہ *فوڈ لیبارٹری محکمہ صحت کا ذیلی ادارہ* ہے۔ ان دونوں اداروں کے کام میں باہمی ربط تو ہو سکتا ہے، لیکن ایک کا دوسرے کی جگہ لینا *غلط حکمت عملی* اور *ادارہ جاتی توازن کو برباد کرنے* کے مترادف ہے۔

*کیا حل کیا جا سکتا ہے؟

*1. *فوڈ لیبارٹری کو جدید بنایا جائے*: اگر فوڈ اتھارٹی کے پاس جدید سہولیات ہیں، تو محکمہ صحت کی فوڈ لیبارٹری کو بھی اسی معیار کے مطابق *بجٹ، ٹیکنالوجی اور مشینری* فراہم کی جائے تاکہ وہ اپنا کردار بخوبی نبھا سکے۔

2. *فارماسسٹس کو بحال کیا جائے*: تجربہ کار فارماسسٹس کو واپس ان کی لیبارٹری میں تعینات کیا جائے تاکہ ان کی مہارت عوامی صحت کے لیے استعمال ہو سکے۔

3. *فوڈ اتھارٹی کے ساتھ اشتراک*: فوڈ لیبارٹری کو فوڈ اتھارٹی کے ساتھ *سٹریٹجک پارٹنر* کے طور پر منسلک کیا جائے، نہ کہ اس کا متبادل قرار دے کر بند کیا جائے۔

4. *دفتر کی واپسی*: فوڈ لیبارٹری کا مرکزی دفتر واپس لیا جائے اور متعلقہ اہلکاروں کو ہی اس کا کنٹرول دیا جائے۔

*نتیجہ: ایک غلط فیصلہ، کئی نقصانات*

فارماسسٹس کو ان کے بنیادی کردار سے دور کرنا، لیبارٹری کو غیر فعال کرنا، اور ادارے کی جگہ پر قبضہ دینا صرف چند افراد کے فائدے کا سبب ہو سکتا ہے، مگر اس کے نتائج *عوامی صحت، عدالتی کارروائیوں، اور ادارہ جاتی وقار* کے لیے نقصان دہ ہیں۔

ہم حکومت بلوچستان، محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے پر فوری نظرِ ثانی کریں، فارماسسٹس کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا ازالہ کریں، اور فوڈ لیبارٹری کو جدید خطوط پر استوار کر کے *صحتِ عامہ کے تحفظ* کو یقینی بناہیں

*"یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان فارماسسٹس ایسوسی ایشن (پی پی اے) بلوچستان کی کابینہ جو اپنی مدت پوری کرنے کے باوجود فارماسسٹس کی نماہندہ ہونے کی دعویدار ہے، مسلسل اہم محاذوں پر فارماسسٹس کے حقوق کا مؤثر دفاع کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔ سروس اسٹرکچر کی منظوری کے بعد اس کے نفاذ میں تاخیر، فوڈ لیبارٹری جیسے اہم ادارے کی بندش، تجربہ کار فارماسسٹس کی بے دخلی، اور کمیونٹی فارمیسی کے نام پر فارماسسٹس کی پیشہ ورانہ تضحیک—ہر مسئلے پر پی پی اے بلوچستان کی خاموشی، غیر فعالیت یا غیر سنجیدگی نے اس کے کردار پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ یہ تنظیم نہ تو عدالتوں میں موثر قانونی چارہ جوئی کر سکی، نہ ہی پالیسی سطح پر حکومت کو سائنسی اور قانونی بنیادوں پر قائل کر سکی۔

-

Address

Quetta Cantonment

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pharmacists Association Balochistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Pharmacists Association Balochistan:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram