15/05/2026
کہانی 1: چچی سے نکاح… مگر دل ابھی تک تیار نہیں
السلام علیکم
میری عمر 24 سال ہے۔ تین ماہ پہلے میرا نکاح میری اپنی چچی سے ہوا۔ دو سال پہلے میرے چاچو کا انتقال ہوگیا تھا، اور ان کی تین بیٹیاں ہیں۔ گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ خاندان کی ذمہ داری خاندان کے اندر ہی رہے، اس لیے مجھ سے میری چچی کا نکاح کروا دیا گیا۔
میری بیوی کی عمر 32 سال ہے۔ وہ نہایت باوقار، سمجھدار اور ذمہ دار خاتون ہیں۔ بچپن سے میں انہیں “چچی” کہہ کر پکارتا آیا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی انہیں بیوی کے طور پر قبول کرنا میرے لیے آسان نہیں۔
نکاح کو تین ماہ ہو چکے ہیں مگر ہم دونوں کے درمیان ابھی تک ازدواجی تعلق قائم نہیں ہو سکا۔
میں ملازمت کے سلسلے میں دوسرے شہر میں رہتا ہوں۔ مہینے میں ایک یا دو بار گھر جاتا ہوں۔ جب گھر جاتا ہوں تو دل میں ارادہ کرتا ہوں کہ اس بار ان سے کھل کر بات کروں گا، مگر جیسے ہی ان کے سامنے جاتا ہوں، زبان ساتھ چھوڑ دیتی ہے۔
پچھلی بار جب میں گھر گیا تو مجھے شدید بخار تھا۔ رات کو وہ میرے کمرے میں آئیں، دوائی دی، میرے سر پر ہاتھ رکھا، ماتھا چیک کیا، اور کافی دیر تک میرا خیال رکھتی رہیں۔
پھر انہوں نے نرمی سے میرا ہاتھ پکڑا۔
میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔
میں نے فوراً اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔
انہوں نے دوبارہ ہاتھ پکڑا۔
اس بار بھی میں نے شرم کے مارے ہاتھ ہٹا لیا۔
اس لمحے میں نے ان کی آنکھوں میں ایک عجیب سی خاموشی دیکھی… جیسے وہ کچھ کہنا چاہتی تھیں مگر کہہ نہ سکیں۔
صبح جب میری آنکھ کھلی تو وہ حسبِ معمول ناشتا تیار کر رہی تھیں۔ چہرے پر مسکراہٹ تھی، مگر آنکھوں میں ہلکی سی اداسی بھی۔
میں سمجھ گیا کہ میں صرف خود کو نہیں، انہیں بھی اذیت دے رہا ہوں۔
ان تین مہینوں میں میں نے صرف چند بار خرچہ دیا، وہ بھی چپکے سے ان کے پرس پر رکھ دیا۔ آج تک میں نے ان کے ہاتھ میں پیسے دے کر یہ نہیں کہا کہ “یہ آپ کے لیے ہے۔”
وہ میری بیوی ہیں۔
میرے گھر کی عزت ہیں۔
تین یتیم بچیوں کی ماں ہیں۔
اور شاید میری ایک مسکراہٹ، ایک اعتماد بھرے لفظ، اور ایک نرم ہاتھ کے لمس کی منتظر ہیں۔
اب میں سوچ رہا ہوں کہ اگلی بار گھر جاؤں تو سب سے پہلے ان سے معافی مانگوں۔
ان سے کہوں:
“مجھے وقت چاہیے تھا، مگر اب میں کوشش کرنا چاہتا ہوں۔ آپ میری ذمہ داری ہی نہیں، میری شریکِ حیات بھی ہیں۔”
کیا میرا یہ قدم ہمارے رشتے کو نئی شروعات دے سکتا ہے؟
آپ میری جگہ ہوتے تو کیا کرتے؟