03/04/2026
Child psychology
ذہنی و قلبی صحت میں تربیت اور گھر کا ماحول بہت زیادہ کردار ادا کرتا ہے۔
آج تربیت کے مسائل کیوں بڑھتے ہوئے نظر آرہے ہیں والدین بچوں کی وجہ سے پریشان نظر آتے ہیں ۔
دراصل یہ سب شروع ہوتا ہے وقت کو اہمیت نا دینے سے یعنی والدین نے اپنی جاب سے آنے کے بعد گھر کے معاملات میں بچوں کو ساتھ کام کرنے کے لیے شامل نا کیا اور ان کو سست آرام دہ بنا دیا یہی وجہ ہے بچوں کو جب والدین کوئی کام نہیں تو وہ چڑ جاتے ہیں ۔
دوسری وجہ والدین کا یا گھر والوں کا طرز عمل ہے ۔ بچوں کے سامنے ان کے ساتھ بات چیت یا کھیل میں شامل ہونے کے بجائے موبائل اٹھا کر استعمال کرنا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ یہی سمجھتے ہیں کہ بڑے استعمال کر رہے ہیں تو ہم بھی کر سکتے ہیں اور رفتہ رفتہ موبائل بچوں کو وقت گزاری کے لیے اچھا لگنے لگ جاتا ہے ۔
جب والدین وقت نہیں دینگے اور اپنے مسائل کی وجہ سے بلا وجہ بچوں کو ڈانٹ دینگے تو پھر بچوں بھی والدین کے ساتھ ایسا کرنے لگ جاتے ہیں اور پھر والدین کی شکایت ہوتی ہے بچہ ادب نہیں کرتا اور اس کو مارنے لگتے ہیں جس کی وجہ سے اس کو شدید ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا ہوتا ہے اور اس کا اثر بچے کی تعلیمی سماجی کاکردگی پر پڑتا ہے ۔
ان سب کا حل بتاتی ہوں اگر واقعی ہی آپ چاہتے ہیں آپ کے بچے آگے بڑھیں آپ کے اچھے بہترین ساتھی ہوں آپ کا ادب کرنے والے احساس کرنے ہوں تو یاد رکھیں کہ سب ممکن ہے جب آپ اپنی چند خواہشات کی قربانی دینگے ۔
قربانی کس چیز کی۔۔۔۔۔۔
بچوں کے سامنے موبائل استعمال کرنے کی ۔۔۔
بچوں کی سخت یا غلط بات پر کچھ وقت کے لیے ردعمل نا دینے کی تاکہ وہ محسوس کریں کہ کیا ہوا
بچوں کے فیصلے خود مکمل نا کرنے کی قربانی ۔۔۔
وقت کو مثبت انداز میں بدلنے کی قربانی۔
بچے جو دیکھتے ہیں وہی کرتے ہیں ۔
اپنے بچوں کو محسوس کریں جیسے آپ بھی ان کی طرح بچے ہوں تو کیا کرتے کسی مشکل میں ان کو محبت تحفظ کا یقین دلائی
یاد رکھیں جب آپ سوال کر کے بچوں کو کچھ سمجھاتے ہیں تو وہ سمجھ جاتے ہیں
لیکن اگر ایک تقریر کی صورت میں لگے رہیں گے تو ان کا دماغ اس کو قبول نہیں کر پاتا۔
ان کی باتوں کو راز رکھیں ان کے سامنے یا ان کے پیچھے کسی کو نا بتائیں تاکہ ان کو محسوس ہو کہ آپ ان کے دوست ہیں
تھوڑی سی توجہ نرمی بچوں میں کردار کی تعمیر ہے
بچے اپنے ماحول سے بہت زیادہ سیکھتے ہیں اسی لیے کہا گیا ہے آپ جیسی شخصیت چاہتے ہیں ویسے لوگوں میں بیٹھنا شروع کر دیں ۔
ازقلم
ماہر نفسیات ایمن شہزادی