Dr Azhar - Cardiologist

Dr Azhar - Cardiologist "Strong hearts beat longer: Invest in cardiac fitness today for a healthier tomorrow."

08/05/2026

وہ خواب جو سفید کوٹ کے ساتھ دفن ہو گیا 🩺

90 کی دہائی میں پاکستان میں ڈاکٹر بننا صرف ایک پیشہ نہیں تھا۔
یہ ایک خواب تھا۔ ایسا خواب جو تقریباً ہر گھر میں پلتا تھا۔

مڈل کلاس خاندان اس کا خواب دیکھتے تھے۔ لوئر مڈل کلاس خاندان اس کے لیے اپنی ہر خوشی قربان کر دیتے تھے۔ یہاں تک کہ امیر گھرانے بھی فخر سے چاہتے تھے کہ ان کا بچہ سفید کوٹ پہنے۔

اس وقت دنیا نسبتاً سادہ تھی۔ لوگوں کی دنیا ٹی وی، اخبار اور فلموں تک محدود تھی۔ ہر علاقے میں ایک ایسا ڈاکٹر ہوتا تھا جسے سب عزت دیتے تھے۔ ڈاکٹر صرف انسان نہیں سمجھے جاتے تھے، بلکہ مسیحا سمجھے جاتے تھے۔ پڑھے لکھے، مہذب، نرم مزاج، باوقار لوگ۔ نہ دکھاوا، نہ غرور۔ بس ایسے لوگ جنہوں نے محنت سے زندگی میں مقام بنایا ہو۔

اور پھر ایک پوری نسل کے والدین نے اپنے خواب اپنے بچوں کی آنکھوں میں ڈال دیے۔

ہر گھر میں پری میڈیکل کے طالب علم پیدا ہونے لگے۔ مائیں تہجد میں دعائیں مانگتیں:
“یا اللہ میرا بیٹا ڈاکٹر بن جائے۔”

باپ اپنی جمع پونجی کوچنگ، اکیڈمی، کتابوں، ہوسٹل اور ٹیوشن پر لگا دیتے۔ خاندان فخر سے تعارف کرواتے:
“یہ ہمارا بیٹا ڈاکٹر بن رہا ہے۔”

بہت سے خاندانوں کے لیے یہ صرف تعلیم نہیں تھی۔
یہ غربت سے نکلنے کا راستہ تھا۔
یہ محرومی سے آزادی تھی۔
یہ نسلوں کی بے بسی ختم کرنے کی امید تھی۔

اور یہ بوجھ بچے خاموشی سے اٹھاتے رہے۔

سترہ اٹھارہ سال کی عمر میں ہی انہیں لگنے لگتا کہ اب پورے گھر کی قسمت ان کے کندھوں پر ہے۔

پھر انٹری ٹیسٹ آئے۔

اور حقیقت نے پہلی بار زور سے دروازہ کھٹکھٹایا۔

ہزاروں ذہین بچے اچانک سمجھ گئے کہ ہر کوئی ڈاکٹر نہیں بن سکتا۔ کچھ لوگوں نے اپنی پوری جوانی اس خواب پر لگا دی۔ وہ بچے جو راتوں کو جاگتے رہے جب باقی دنیا سو رہی تھی۔ جنہوں نے دوستیاں، عیدیں، شادیوں کی خوشیاں، کرکٹ، چھٹیاں، سب کچھ قربان کر دیا۔

اور جب یہ خواب ٹوٹا، تو صرف کیریئر نہیں ٹوٹا۔ اندر کچھ اور بھی ٹوٹ گیا۔

کیونکہ جب ایک خاندان آپ کو دس بارہ سال یہ یقین دلاتا رہے کہ آپ کی اصل قیمت صرف “ڈاکٹر” بننے میں ہے، تو ناکامی صرف تعلیمی ناکامی نہیں رہتی۔ وہ انسان کے وجود پر حملہ بن جاتی ہے۔

پھر پرائیویٹ میڈیکل کالجز کا دور آیا۔

جن گھروں میں استطاعت تھی، وہاں لاکھوں کروڑوں روپے لگا دیے گئے۔ زمینیں بکیں۔ زیور بکا۔ ریٹائرمنٹ کی جمع پونجی ختم ہوئی۔ صرف ایک امید پر:

“ایک دن ہمارا بچہ ڈاکٹر بن کر سب بدل دے گا۔”

پانچ سال بعد یہی بچے ہاؤس جاب میں داخل ہوئے۔

اور بہت سوں کے لیے وہ پہلا دن تھا جب انہیں احساس ہوا کہ دور سے سبز نظر آنے والی گھاس حقیقت میں اتنی سبز نہیں تھی۔

لمبی ڈیوٹیاں۔
بے خوابی۔
کم یا بغیر تنخواہ کے کام۔
ٹریننگ کے نام پر ذلت۔
سینئرز کا سخت رویہ۔

نوجوان ڈاکٹر وارڈز میں مشینوں کی طرح بھاگتے رہتے جبکہ ان کے اندر کی تھکن لفظوں سے باہر ہوتی۔

اسی دوران انٹرنیٹ آیا۔
سوشل میڈیا آیا۔

لوگوں نے ڈاکٹروں کو انسان سمجھنا چھوڑ دیا۔ ایک ڈاکٹر کی غلطی پورے شعبے کی پہچان بن گئی۔ جانیں بچانے کی کہانیاں کبھی وائرل نہ ہوئیں، لیکن ایک ناکامی لمحوں میں پورے ملک میں پھیل جاتی۔

آہستہ آہستہ وہی معاشرہ جس نے کبھی ڈاکٹروں کو عزت دی تھی، انہی پر شک کرنے لگا۔

اور پاکستانی millennial ڈاکٹر دو ٹوٹتی ہوئی دنیاؤں کے درمیان پھنس گئے۔

کچھ سمجھدار لوگ جلد باہر چلے گئے۔ انہوں نے بیرون ملک امتحان دیے، نئی زندگیاں بنائیں، اور شاید دوبارہ سکون سے سانس لینا سیکھ لیا۔

کچھ یہیں رہ گئے۔

کچھ بوڑھے والدین کی وجہ سے۔
کچھ مالی مجبوریوں کی وجہ سے۔
کچھ امید کی وجہ سے۔
اور کچھ اس لیے کہ جانا غداری لگتا تھا۔

پھر specialization کا مرحلہ آیا۔

چار پانچ سال مزید۔

36 گھنٹے کی کالز۔
زہریلا ماحول۔
سیاست۔
کم تنخواہیں۔
مہینوں delayed salaries۔
ذہنی دباؤ۔
کوئی ذاتی زندگی نہیں۔
کوئی سکون نہیں۔

لیکن پھر بھی وہ چلتے رہے کیونکہ وہ خود کو یہی کہتے رہے:

“بس training ختم ہو جائے… پھر زندگی ٹھیک ہو جائے گی۔”

پھر ایک دن training ختم ہو گئی۔

اور بہت سوں نے دیکھا کہ آگے کچھ بھی ویسا نہیں تھا جیسا انہیں دکھایا گیا تھا۔

نوکریاں کم تھیں۔
Consultant seats saturated تھیں۔
گورنمنٹ تنخواہ عزت سے جینے کے لیے ناکافی تھی۔
Private setups نوجوان consultants کا استحصال کر رہے تھے۔

اور پھر انہوں نے اپنے اردگرد دیکھا۔

وہ classmate جو کبھی MCAT میں ناکام ہوا تھا، آج کامیاب businessman تھا۔
کوئی چھوٹی سی دکان کھول کر سکون، آزادی اور مالی استحکام حاصل کر چکا تھا۔
جو دوست پاکستان چھوڑ گئے تھے، وہ اب پورے خاندان چلا رہے تھے۔

اور یہاں بہت سے ڈاکٹر آج بھی duty پر جانے سے پہلے پٹرول کا حساب لگاتے ہیں۔

پھر شروع ہوتا ہے وہ خاموش دکھ جس کے بارے میں کوئی بات نہیں کرتا۔

اب والدین بوڑھے ہو چکے ہیں۔

وہی والدین جو کبھی فخر سے کہتے تھے:
“ہمارا بیٹا ڈاکٹر بن رہا ہے۔”

وہی ماں جس نے اپنی خواہشیں قربان کر دیں۔
وہی باپ جس نے اپنی جمع پونجی ختم کر دی۔
وہی والدین جو یہ سوچتے تھے کہ ایک دن ان کا بچہ انہیں سکون، عزت اور آسان زندگی دے گا۔

ایک ماں آج بھی دروازے کی طرف دیکھتی ہے۔
دل میں ایک تصویر لیے:
اس کا بیٹا شام چار بجے ایک بڑی گاڑی سے اترے گا، صاف ستھرے سوٹ میں، مطمئن، کامیاب اور خوش۔

ایک باپ آج بھی رشتہ داروں کے سامنے مضبوط بنتا ہے، مگر اپنی دوائیں چھپا لیتا ہے کیونکہ وہ اپنے بیٹے کی آنکھوں کی تھکن دیکھ چکا ہوتا ہے۔

چھوٹے بہن بھائی خاموشی سے سوچتے ہیں:
“امی ابو نے سب کچھ آپ پر لگا دیا تھا… پھر ہمارے لیے کیا بچا؟”

اور شاید سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے:

ڈاکٹر خود جانتا ہے کہ وہ اپنے والدین کو وہ زندگی نہیں دے سکا جس کا خواب انہوں نے ساری عمر دیکھا تھا۔

اس لیے نہیں کہ اس نے محنت کم کی۔

بلکہ اس لیے کہ کہیں لمبی ڈیوٹیوں، ٹوٹے ہوئے نظام، مہنگائی، humiliation، endless exams اور emotional burnout کے درمیان… وہ خواب خاموشی سے مر گیا۔

مریض ناخوش ہیں۔
Administration ناخوش ہے۔
حکومت ناخوش ہے۔
خاندان ناخوش ہے۔

اور ان سب کے بیچ میں…

ڈاکٹر خود بھی اندر سے ٹوٹ چکا ہے۔

اس لیے نہیں کہ اسے طب سے نفرت ہو گئی ہے۔

بلکہ اس لیے کہ جو خواب اسے بچپن میں بیچا گیا تھا… وہ اب حقیقت میں موجود ہی نہیں۔

یہ پاکستانی millennial ڈاکٹروں کا المیہ ہے۔

ایک پوری نسل جسے یہ یقین دلا کر بڑا کیا گیا کہ وہ عزت، استحکام اور کامیابی کی علامت بنے گی… مگر آخر میں اسے تھکن، بے یقینی، emotional burnout اور تنہائی ملی۔

اور شاید سب سے افسوسناک بات یہ ہے:

آج بھی ہزاروں بچے اسی 90s والے خواب کے ساتھ میڈیکل کالج میں داخل ہو رہے ہیں… جبکہ پرانی نسل کے ڈاکٹر خاموشی سے سوچ رہی ہے:

“کیا اس profession کا مستقبل واقعی باقی بھی ہے؟”

شاید اب سوال یہ نہیں رہا کہ:
“ہم مزید ڈاکٹر کیسے پیدا کریں؟”

شاید اصل سوال یہ ہے:

“ہم ان ڈاکٹروں کو کیسے بچائیں… جو پہلے ہی موجود ہیں؟”

*پاکستان میں کارڈیالوجی کے منتخب اداروں کو ہارٹ اینڈ ویسکولر انسٹی ٹیوٹس میں تبدیل کرنا*دل، دماغ اور جسم کی خون کی نالیو...
19/04/2026

*پاکستان میں کارڈیالوجی کے منتخب اداروں کو ہارٹ اینڈ ویسکولر انسٹی ٹیوٹس میں تبدیل کرنا*

دل، دماغ اور جسم کی خون کی نالیوں کی بیماریاں دنیا بھر میں موت اور معذوری کی بڑی وجوہات ہیں۔ پاکستان میں دل کے علاج کے لیے کافی بڑے بڑے ادارے بن چکے ہیں، لیکن دماغ (فالج) اور ہاتھ پاؤں کی نالیوں کی بیماریوں کے علاج کی سہولیات، خاص طور پر سرکاری ہسپتالوں میں، ابھی بھی کم ہیں اور فوری توجہ کی ضرورت ہے۔

فالج دنیا میں موت کی دوسری بڑی وجہ اور مستقل معذوری کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ اگر بروقت علاج ہو جائے تو اس معذوری کو کافی حد تک روکا یا واپس لایا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے نہ صرف لوتھڑا توڑنے والا انجیکشن (تھرومبولائسز) بلکہ اینجیوگرافی کے ذریعے دماغ کی نالی سے لوتھڑا نکالنا (مکینیکل تھرومبیکٹومی) بھی بہت مؤثر علاج ہے۔

اسی طرح بہت سے مریض ہاتھ یا پاؤں کٹوانے پر مجبور ہو جاتے ہیں، حالانکہ بروقت علاج سے ان کے اعضا بچائے جا سکتے ہیں۔ بعض مریض ایک ہی وقت میں دل اور دماغ دونوں کے مسئلے کے ساتھ آتے ہیں، جنہیں فوری اور مشترکہ علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔

دنیا میں ایک کامیاب طریقہ یہ ہے کہ “ہارٹ اینڈ ویسکولر انسٹی ٹیوٹس” بنائے جائیں، جہاں دل، دماغ اور ہاتھ پاؤں کی نالیوں کے تمام ماہر ڈاکٹر ایک ہی جگہ کام کریں۔ اس میں کارڈیالوجسٹ، نیورولوجسٹ، ریڈیالوجسٹ اور دیگر سرجن ماہرین شامل ہوتے ہیں۔ اس سے مریض کو ایک ہی جگہ مکمل علاج مل جاتا ہے اور علاج بہتر اور محفوظ ہو جاتا ہے۔
ایسے نظام میں تمام ڈاکٹر ایک ہی کیتھ لیب اور آپریشن تھیٹر کمپلیکس استعمال کرتے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد بھی کر سکتے ہیں، جس سے مشکل کیسز میں مریض کی جان بچانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

اس وقت سرکاری ہسپتالوں میں انٹروینشنل نیورولوجسٹ اور ریڈیالوجسٹ بہت کم ہیں، جبکہ زیادہ تر مریض انہی ہسپتالوں میں آتے ہیں۔ نجی ہسپتالوں میں علاج موجود ہے لیکن وہ زیادہ تر لوگوں کی پہنچ سے باہر ہے۔ اس لیے ان شعبوں کو سرکاری نظام میں مضبوط بنانا ضروری ہے۔

اگرچہ مکمل نئے ادارے بنانا بہترین حل ہے، لیکن اس کے لیے بہت زیادہ پیسہ اور وقت درکار ہے۔ اس وقت سب سے بہتر یہ ہے کہ موجودہ کارڈیالوجی کے اداروں کو ہی آہستہ آہستہ ہارٹ اینڈ ویسکولر انسٹی ٹیوٹس میں تبدیل کیا جائے، کیونکہ وہاں پہلے سے کیتھ لیب، آپریشن تھیٹر اور سی ٹی / ایم آر آئی جیسی سہولیات موجود ہیں۔

اس مقصد کے لیے تجویز ہے کہ منتخب اداروں میں کم از کم ہر شعبے کے لیے دو دو آسامیوں بنائی جائیں:

• انٹروینشنل ریڈیالوجی
• نیورولوجی / نیورو انٹروینشن
• ویسکولر سرجری
• نیوروسرجری

موجودہ سہولیات کو استعمال کرتے ہوئے فوری طور پر فالج اور ہاتھ پاؤں کی نالیوں کی بیماریوں کا علاج شروع یا بہتر کیا جا سکتا ہے، خاص طور پر ان مریضوں کے لیے جو نجی علاج کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے۔
اس طرح کم خرچ میں بڑے فائدے حاصل کیے جا سکتے ہیں، جبکہ وقت کے ساتھ مزید سہولیات بھی بڑھائی جا سکتی ہیں۔

آج کے چھوٹے اقدامات کل ہزاروں زندگیاں بچا سکتے ہیں اور معذوری سے بچا سکتے ہیں۔

*ڈاکٹر عاصم جاوید*
راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی
19th April 2026.

*Transforming selected Institutes of Cardiology into “Heart and Vascular Institutes” in Pakistan*

Vascular diseases of the heart, brain, and limbs are among the leading causes of death and disability worldwide. Over the years, Pakistan has developed a strong network of tertiary care cardiac institutes. However, facilities for the treatment of vascular diseases affecting other organs—particularly the brain and limbs—remain limited, especially in the public sector, and require urgent prioritization.

Stroke is the second leading cause of death and the leading cause of long-term disability. Importantly, much of this disability is preventable—and often reversible—if timely intervention is provided, not only through thrombolysis (clot-busting injection) but also mechanical thrombectomy (removal of clots through cerebral angiography). Similarly, many patients undergo limb amputation due to vascular disease despite the possibility of limb salvage through timely angiographic or surgical intervention. In emergency settings, patients may present with combined cardiac and neurovascular events, requiring simultaneous multidisciplinary care.

A proven international model is the establishment of *Heart and Vascular Institutes*, where all vascular specialties—including cardiology, cardiac surgery, interventional radiology, vascular surgery, neurology, and neurosurgery—are integrated under one roof. This model improves efficiency, coordination, and patient outcomes.
In such systems, interventional specialties share cath lab complexes, while surgical disciplines operate within integrated theatre facilities. This multidisciplinary approach enhances safety, as specialties can support each other in complex cases and manage complications effectively.

Currently, there is limited availability of interventional neurologists and interventional radiologists in the public sector, despite the highest patient burden being managed there. Private sector services are limited and unaffordable for most patients. There is, therefore, a critical need to develop these specialties within the public healthcare system.

While the ideal long-term goal is to establish purpose-built Heart and Vascular Institutes, this requires significant investment. In the interim, cardiology offers a strong existing platform, with nationwide availability of cath labs, operation theatres, and advanced imaging (CT/MRI). Some centers are already performing peripheral and neurovascular interventions, indicating readiness for expansion.

The most practical and cost-effective approach is to gradually transform selected Institutes of Cardiology into Heart and Vascular Institutes by creating dedicated posts for interventional radiology, vascular surgery, interventional neurology, and neurosurgery within existing facilities. This will also help attract highly skilled Pakistani specialists from abroad back into the public sector.

Given urgent needs and limited resources, it is proposed that the government initially allocate at least two posts each for these specialties in selected Institutes of Cardiology.

By leveraging existing cath labs, operation theatres, imaging facilities (CT scans/MRI), and support systems, immediate and meaningful expansion of services can be achieved. This will provide life-saving and limb-saving treatments to patients suffering from stroke and peripheral vascular disease, particularly those from low socioeconomic backgrounds.

In this manner, the foundation of comprehensive Heart and Vascular Institutes can be established at minimal additional cost and with limited burden on national resources. Infrastructure expansion—including additional cath labs, hybrid theatres, and dedicated wards—can be undertaken gradually as funding becomes available.

*Small, strategic steps today can prevent lifelong disability and save thousands of lives tomorrow.*

*Dr. Asim Javed*
Interventional Cardiologist,
Rawalpindi Institute of Cardiology,
19 April 2026.

Honored to present again in the morning session at PakLive 2026, Lahore.Shared a challenging case of a renal transplant ...
11/04/2026

Honored to present again in the morning session at PakLive 2026, Lahore.

Shared a challenging case of a renal transplant patient with calcific coronary disease, where a planned PCI was complicated by distal vessel perforation, successfully managed with coil embolization.

A privilege to present in front of such an esteemed panel of local and international interventional cardiologists—a truly enriching learning experience.

Grateful for the opportunity to present at PakLive 2026, Lahore—a platform that truly celebrates learning, skill, and sh...
10/04/2026

Grateful for the opportunity to present at PakLive 2026, Lahore—a platform that truly celebrates learning, skill, and shared experience in interventional cardiology.

Presented a challenging case of longitudinal stent deformation during bifurcation PCI, successfully managed with a rotablation bailout strategy, with meaningful long-term follow-up guided by IVUS.

Moments like these remind me that in our field, growth often comes from the complications we overcome.

26/02/2026

افطاری کے بعد نیند کیوں آتی ہے اور فوراً سونا محفوظ ہے یا نہیں؟

26/02/2026

Why do you feel sleepy after Iftari?
افطاری کے بعد نیند کیوں آتی ہے اور فوراً سونا محفوظ ہے یا نہیں؟

24/02/2026

Iftari mein heart attack zada kyun hoty hain?

19/02/2026
01/02/2026

کیا ہے؟ ETT
Exercise Tolerance Test دل کا ایک سادہ ٹیسٹ ہے جس میں مریض کو ٹریڈمل پر چلایا جاتا ہے تاکہ دیکھا جائے کہ ورزش کے دوران دل کی دھڑکن، بلڈ پریشر اور ECG کیسا ردِعمل دیتے ہیں۔
یہ ٹیسٹ دل کی شریانوں کی بیماری، سینے کے درد اور ورزش برداشت کرنے کی صلاحیت جانچنے کے لیے کیا جاتا ہے۔
دل کی صحت جانچنے کا آسان طریقہ! 🫀🏃‍♂️

Address

Nazeer Hospital, Peshawar Road
Rawalpindi

Telephone

+923075793387

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Azhar - Cardiologist posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr Azhar - Cardiologist:

Share