01/05/2020
آج 1st MAY یوم مذدورہ کے طور پر پوری دنیا میں منایا جاتا ہے۔ ہمارے وطن عذیذ پاکستان میں بھی یہ دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد مذدور طبقے کی محنت مشقت اور ہمت کو سلام پیش کرنا ہے۔ لکین کیا اس دن کا مطلب یہ نہیں ہہ کے مذدور کا خیال رکھا جاے اس کی مدد کی جاے اس کی مشکلات کو کم کیا جاے ہمارا دین مذدور کے حقوق اور اس کے حق ادا کرںے پر ذور دیتا ہے اور پھر یہ تو انسانیت کا فرض بھی ہے کہ غریب مذدور کی مشکل کم کی جاے اور اس کی مدد کی جاے موجودہ صورتحال میں سب سے ذیادہ جس طبقے کو نقصان پہنچا وہ مذدور ہی ہے جو کرونا سے تو نہیں البتہ بھوک سے ضرور مرہ ہو گا ہم نے کیا کیا ہے مذدور طبقے کے لیے ہم نے کتنا ان کا خیال رکھا کتنی ان کی مدد کی؟ یہ سب ہمارے اپر سوالیہ نشان ہیں ہم حکومت پر تو سوالیہ نشان اٹھاٹے ہیں خود پر کب اٹھایں گے اگر ہر شخص خود پر سوالیہ نشان اٹھاٹا ہوتا تو ہمیں حکومتوں پر سوالیہ نشان اٹھانے کی ضرورت نہ محسوس ہوتی لکین خیر آج ہم سب عہد کرتے ہیں کہ ہم ان محنت کش مذدوروں کے عالمی دن پر اپنی استطاعت کے مطابق ان کی ضرورت پوری کریں گے۔ ہم لوگ اپنے گھر کے لیے کھانا لاتے ہی ہیں پکاتے بھی ہیں اپنے بچوں کی ہر ضرورت پوری کرتے ہیں تو پھر ہم کیوں نہیں اپنے ہی روذ مرہ کی ان اشیا۶ سے ان کی مدد کر دیں اگر ہر شخص یہ بات سمجھ جاے اور پھر اسی طرح اپنے حصے میں سے ان کی ضرورت پوری کرنا شروع کر دے تو ہمیں حکومت کی مدد کی ضرورت ہی نہ محسوس ہو آج عذم کرتے ہیں اور اپنے گھر محلے کے مذدوروں کی مدد اور ان کا خیال رکھیں گے
منجانب غلام اسحاق شاہ چیئرمین نوبل فاؤنڈیشن فور ڈسیبل پرسن راولپنڈی ڈویژن