Matab Hakeem Rehan Salik

Hebal physician

Operating as usual

14/11/2022
14/11/2022
26/10/2022
15/10/2022

ساگودانہ: تمام گھرانے کی صحت کا قدرتی محافظ
ساگو دانہ چھوٹے چھوٹے سفید رنگ کے موتیوں جیسے دانے ہوتے ہیں۔ جنہیں دودھ یا پانی میں پکایا جاتا ہے۔یہ ایک درخت کے تنے سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ یہ کھجور سے مشابہت رکھنے والا ایک پام نما درخت ہوتاہے۔ جسے ساگو پام ( Sago Palm) کہا جاتا ہے۔ ہندی، پنجابی اور بنگالی میں سابو دانہ کہا جاتا ہے۔
درخت پر پھل آنے سے پہلے اس کا گودا کاٹ کر الگ کر لیا جاتا ہے اور پھر اسے خشک کر کے محفوظ کرتے ہیں۔ یہ گول دانے ہوتے ہیں جو بے بو اور سفید رنگ کے ہوتے ہیں۔ اس کا ذائقہ پھیکا ہوتا ہے۔

حکما اور اطبا نے ساگو دانہ کی افادیت اور بطور غذا اس کے استعمال کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔

ساگو دانہ ملاکو کے جزیروں میں کثرت سے پایا جاتا ہے۔جبکہ فلیگا نامی جزیرہ ساگو دانہ کی کاشت اور پیداوار کے حوالے سے مشہور ہے۔ اس کے علاوہ ساگو دانہ نیو گنی میں بھی کاشت کیا جاتا ہے۔

ساگو دانہ میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
ساگو دانہ کاربوہائیڈریٹ فراہم کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔اس میں پروٹین کی بھاری مقدار پائی جاتی ہے۔ یہ وٹامن کے، وٹامن بی کمپلیکس، کیلشیم،پوٹاشیم، زنک، آئرن اورفائبر، فولک ایسڈسے بھرپور ہوتا ہے۔

ساگو دانہ کے طبی فوائد:
غذائیت سے بھر پور ساگودانہ کی افادیت سے سب ہی واقف ہے۔ یہ تقریباً دو ہزار برس سے انسان استعمال کرتا چلا آ رہا ہے۔ اس کے حیرت انگیز طبی فوائد بہت سے ہیں۔

ہڈیوں کی نشوونما:
کیلشیئم، آئرن اور فائبر سے بھر پور ساگودانہ ہڈیوں کی صحت اور مرمری ہڈیوں کی لچک کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے استعما ل سے تھکاوٹ دور ہوتی ہے۔ ساگودانہ کو بچوں کی ابتدائی غذا میں شامل کرنے سے بچوں کی ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں اور قد میں اضافہ ہوتا ہے۔

پیدائشی نقائص:
غذائی اجزا کی کمی اور غلط ادویات کا استعمال اکثر بچوں میں پیدائشی نقائص کا سبب بن جاتا ہے۔ ساگو دانہ میں پایا جانے والا فولک ایسڈ اور وٹامن بی 6 بجوں کی بہترین نشونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسی وجہ سے ماہرین حاملہ خواتین کو ساگو دانہ کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔

پٹھوں کی افزائش:
ساگودانہ پروٹین کی بھر پور مقدار فراہم کرتا ہے۔ ساگودانہ کے استعمال سے پٹھے مضبوط ہوتے ہیں اور متاثرہ پٹھوں کی افزائش ہوتی ہے۔ ساگو دانہ کو روز مرہ کی غذا میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

متوازن بلڈ پریشر:
ساگو دانہ پوٹاشیم کی بھر پور مقدار پائے جانے کے سبب خون کی گردش متوازن رکھتا ہے جس سے دل کی صحت بہتر ہوتی ہے۔ ساگو دانہ کے استعمال سے بلڈ پریشر کنٹرول میں رہتا ہے۔ بی پی کے مریضوں کے لیے ایک دن میں ایک کپ سادہ پکا ہوا ساگو دانہ تجویزکیا جاتا ہے۔ اس کے باقاعدگی کے استعمال سے با آسانی بلڈ پریشر کے مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

طاقت و توانائی کا ذریعہ:
ورزش یا دیگر سخت جسمانی سرگرمیوں میں زیادہ دیر تک مشغول رہنے والے افراد کے لیے ساگو دانہ بے حد مفید ہے۔ اس کے استعمال سے تھکن کم ہوتی ہے اور کمزوری دور ہوتی ہے۔ مسلز بنانے کے شوقین افراد اسے اپنے ناشتے میں شامل کر سکتے ہیں۔ دن کے آغاز میں اسے کھانے سے تا دیر بھوک کا احساس نہیں ہوتا اور انسان خود کو ہلکا اور طبیعت مثبت محسوس ہوتی ہے۔

وزن میں اضافہ:
وزن بڑھانے کے خواہشمند افراد ساگودانہ کا دودھ کے ساتھ روزانہ استعمال کر سکتے ہیں۔ ساگودانہ کھانے سے وزن میں اضافہ ہوتا ہے۔ جبکہ غذائی ماہرین ساگو دانے کو سپلیمنٹس سے بھی زیادہ صحت کے لیے مفید قرار دیتے ہیں۔

قد میں اضافہ:
اگر آپ بڑھنے والے بچو ں کوساگودانہ کھلائیں تو اسکے باقاعدہ استعمال سے آپکے بچوں کے قدمیں اضافہ ہوسکتاہے۔بچوں کے لئے یہ بے حد فائدہ منداورقد میں اضافہ کے لیے بہترین غذا ہے۔

نظام ہاضمہ:
نظام ہاضمہ اور آنتوں کی صحت کے لیے ساگو دانہ بے حد مفید ہے۔ اس سے معدے کے مسائل جیسے کہ قبض، بدہضمی اور گیس وغیرہ کے ساتھ کولیسٹرول کی سطح کو بھی بہتر بنا تا ہے۔ ساگودانہ جسم کی اضافی چربی بھی پگھلانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

ساگودانہ کے استعمال کے طریقے:
اسے کھیر، پڈنگ، سوپ، کیک، پین کیک، بریڈ، کھچڑی اور بائنڈنگ یعنی کسی بھی غذا کو گاڑھا کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
خالی دودھ یا پانی میں پکا کر بھی استعمال کیاجاسکتاہے اورگاڑھاہونے پر حسب ضرورت چینی ملا کر استعمال کریں۔
بچے اگر اسے کھانا پسند نہ کریں تو ساگو دانہ کو دودھ میں ابال کر چھان کر الگ کر لیں، اب یہ دودھ بچوں کو پلایا جا سکتا ہے۔
اسے آلو میں ملا کر اس کے کٹلس بھی بنائے جا سکتے ہیں۔!

پوسٹ اچھی لگے تو پیج کو لائیک کریں اور صدقہ جاریہ سمجھ کر آگے لوگوں کو بھی بتائیں ۔
*❣ﺧَﻴﺮُﺍﻟﻨَّﺎﺱِ ﻣَﻦ ﻳًﻨﻔَﻊُ ﺍﻟﻨَّﺎﺱ❣*

15/10/2022
15/10/2022
04/10/2022

طبی جواھرات

مختلف اجزاءکی چائے اور فوائد

سیب کے چھلکے کی چائے
سیب کے چھلکے جنہیں ہم ضائع کر دیتے ہیں۔ ان میں بھی قدرت نے غذائیت، لذت اور بے شمار فوائد رکھے ہیں۔ ان کو تازہ یا خشک شدہ لے کر حسب دستور کھولتے ہوئے پانی میں ڈال کر چائے تیار کریں۔ اگر دودھ اور چینی کی بجائے شہد اور لیموں کا رس ملا کر نوش فرمائیں تو اور بھی مفید ہے۔ جسمانی طور پر کمزور افراد اور بوڑھوں کے لیے حد درجہ صحت بخش ہے۔ پیچش اور ٹائیفائیڈ کی کمزوری دور کرنے کے لیے اوولٹین سے بڑھ کر ہے۔ جوڑوں کا درد رفع کرنے کے لیے اس کا مسلسل استعمال نہایت مفید ہے۔

آم کے پتوں کی چائے

آم کے پتے سایہ میں خشک کر کے بطور چائے استعمال کریں۔ دودھ اور چینی بھی شامل کریں۔ نزلہ، زکام، ضعفِ دماغ، کھانسی، ہچکی، خونی بواسیر، سل، لیکوریا اور کثرت حیض کے لیے شافی ہے۔ پیچش، دشت اور سنگرہنی میں بھی دودھ ملائے استعمال میں لائیں۔

بادام کی چائے

میرے ایک دوست نے اپنا ذاتی تجربہ بیان کیا جس کے استعمال سے انہیں تبخیر معدہ اور عینک دونوں سے نجات مل گئی۔ صبح شام چائے بناتے وقت بجائے دودھ کے اکیس عدد باداموں کو پانی میں پیس کر اس میں شامل کریں۔ سرد مزاج والے چینی کی بجائے شہد کا اضافہ کر لیں اور حسب دستور چائے بنا کر استعمال کریں۔ غذا کی غذا اور دوا کی دوا۔

لیموں کی چائے

یورپ اور امریکہ میں عرصۂ دراز سے عام چائے میں دودھ کی بجائے لیموں اور برف ڈال کر پینے کا رواج ہے۔ اعصابی کمزوری کے لیے یہ بے حد مفید ہے۔ اگر برف ڈالے بغیر چائے میں لیموں نچوڑ کر گرم گرم مریض کو پلا دیں تو ان شاء اللہ درد سر فوری طور پر دور ہو گا۔

سونف کی چائے

نزلہ، زکام اور نظر کی کمزوری کے لیے سونف کی چائے بڑی عجیب چیز ہے۔ ایک تولہ سونف کو آدھ سیر پانی میں جوش دیں جب چوتھا حصہ پانی باقی رہ جائے تو چھان کر چینی آمیز کر کے صبح شام ایک ایک کپ پئیں۔ اگر اس میں ۳، ۴ لونگ ڈال لیں تو اور بھی مفید ہے۔

لہسن کی چائے

فالج ایک خوفناک مرض ہے جس کے لیے بہت طویل علاج اور کثیر رقم کی ضرورت ہوتی ہے، مگر قدرت نے لہسن کو اس کے لیے اکسیر بنا کر بھیجا ہے۔ جب اس مرض کا آغاز ہو تو مریض کو کھانے کے لیے کوئی چیز نہ دیں۔ صرف چائے پکا کر اس میں دودھ کی بجائے لہسن کا پانی نکال کر ۳ ماشہ اور شہد شامل کر کے پلائیں۔ بھوک برداشت کر کے ۴، ۵ دن صرف لہسن والی چائے استعمال کریں۔ تو بحکم خدا اکثر فائدہ ہو جاتا ہے۔

برگد کی چائے

برگد ایک ایسا درخت ہے جو صحیح طور پر چائے کا نعم البدل ثابت ہو سکتا ہے اور اس کے ذریعے ہم ملکی زرمبادلہ بچا سکتے ہیں۔ اس کے ہر جزو کو جوش دینے سے چائے جیسا رنگ پیدا ہوتا ہے۔ اس کے نرم نرم پتے جو سرخ رنگ کے ہوتے ہیں سایہ میں خشک کر کے کوٹ کر ڈبوں میں پیک کر کے تجارتی پیمانے پر فروخت کیے جا سکتے ہیں۔ ۶ ماشہ یہ پتے آدھ سیر پانی میں جوش دیں جب آدھ پائو پانی باقی رہ جائے تو حسب دستور چینی اور دودھ شامل کر کے پئیں۔ نزلہ، زکام، کھانسی اور ضعف دماغ کے لیے بے حد مفید ہے۔ اگر برگد کے درخت کے چھلکے کو اس طرح خشک کر کے چینی کی بجائے نمک آمیز کر کے دن میں تین بار بطور چائے استعمال کرائیں تو ملیریا بخار دور ہو جاتا ہے۔ اس کی داڑھی کی چائے پیاس کی زیادتی، گرمی سے ہونے والے بخار، سن سٹروک، نزلہ، زکام اور مردوں کی تمام امراض کے لیے بے حد کار آمد ہے۔ ایک صاحب نے بیان کیا کہ جب سے میں نے برگد کی چائے کا استعمال شروع کیا ہے تب سے ہر مرض سے محفوظ و مامون ہوں۔

کیکر کی چائے

کیکر کے درخت کی چھال اتار کر سایہ میں خشک کریں اور بوقت ضرورت آدھ سیر پانی میں ڈال کر جوش دیں جب چوتھا حصہ رہ جائے تو صرف چینی شامل کر کے صبح شام گرم گرم پئیں۔ چند روز کے استعمال سے پرانی سے پرانی کھانسی رفع ہو گی۔ اگر کیکر کی گوند چھ ماشہ پانی میں جوش دے کر ذرا سرد ہونے پر چینی ملا کر چائے کی طرح گھونٹ گھونٹ پئیں تو پیچش رفع کرنے کے لیے اکسیر ہے۔

پیپل کی چائے

پیپل کے درخت کی چھال، نرم پتے یا کونپلیں بطور چائے استعمال ہو سکتے ہیں۔ ان کو تازہ یا خشک کر کے رکھ لیں اور جو چیز بھی میسر ہو ۴ ماشہ لے کر پاؤ بھر پانی میں جوش دیں۔ آدھا پانی خشک ہونے کے بعد کھانڈ اور دودھ ملا کر بطور چائے استعمال کریں۔ حافظہ کی کمزوری، نسیان اور ضعفِ دماغ کے لیے بے حد مفید ہے۔ خاص طور پر اساتذہ، طلبا، علماء، وکلاء، صحافیوں اور ادیبوں کے لیے کام کی چیز ہے۔

گل بنفشہ کی چائے

کھولتے ہوئے پانی کو آگ سے اتار کر چائے دانی میں ڈالیں جس میں ۲، ۳ ماشہ فی کپ کے حساب سے گل بنفشہ پہلے سے ڈال رکھا ہو۔ پانچ منٹ تک دم دے کر اسے چھان لیں اور اس میں حسب مرضی چینی اور گرم دودھ شامل کر کے پئیں۔ بلا دودھ بطور قہوہ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ گل بنفشہ کو جوش دینے سے اس کے فوائد میں کمی آ جاتی ہے۔ اس لیے مندرجہ بالا طریقہ پر ہی تیار کرنا چاہیے۔ اس میں ذائقہ، خوشبو اور دل لبھانے والی رنگت، ہر چیز موجود ہے۔ بنا بریں دل اور دماغ کو فرحت بخشتی ہے۔ بھوک لگاتی ہے۔ قبض کشا ہے۔ نزلہ زکام، کھانسی، دمہ، ورم حلق، منہ اور زبان کے پکنے، خناق، پیشاب کی بندش، نیند کی کمی، نظر کی کمزوری اور ضعف دماغ وغیرہ کے لیے بہت اچھی دوا ہے۔

اس کے کچھ مدت کے استعمال سے چائے کی عادت بھی چھوڑی جا سکتی ہے۔ اس موقعہ پر ایک آپ بیتی بھی سن لیجئے۔ مارچ ۱۹۵۳ء میں اپنے ایک دوست سردار سید زمان خان مرحوم ریٹائرڈ ڈپٹی کمشنر کے گاؤں کلا بساند جانے کا اتفاق ہوا، جہاں آج کل اسلام آباد کا خوبصورت شہر واقع ہے ۔موسم کی تبدیلی کی وجہ سے جاتے ہی نزلے کی لپیٹ میں آ گیا۔ انہوں نے تازہ تازہ، اُودے اُودے پھول بنفشہ منگوا کر ان کا قہوہ تیار کیا اور اس کی ایک پیالی پلا دی۔ یقین جانیئے رات کو یہ خوش ذائقہ چائے پی کر لیٹا اور صبح بالکل تندرست تھا۔ اس کے بعد مزید تجربات ہوئے۔ گل بنفشہ میں برابر وزن گندم ملا کر بطور چائے استعمال کیا تو پرانے نزلہ و زکام کے لیے تیر بہدف علاج ثابت ہوا۔

گندم کی چائے

گندم اور اس کی بھوسی کی چائے سے کافی اور چائے کا اتنا اچھا کام لیا جا سکتا ہے کہ پھر ہمیں کسی چائے، کافی کو یا قہوہ کی ضرورت نہیں پڑتی۔ سستی بھی، مفید بھی۔ خوش ذائقہ بھی اور چائے اور کافی کی مضرتوں سے سراسر پاک بھی۔ گندم کے چھلکے سے تیار ہونے والی چائے کے بارے میں مولانا محمد علی جوہرؒ نے فرمایا تھا اگر یہ نسخہ مجھے عالم جوانی میں میسر آ گیا ہوتا تو میں سرے سے بوڑھا ہی نہ ہوتا۔ گندم سے تیار ہونے والی کافی کا نسخہ مہاتما گاندھی نے اپنی سوانح میں تحریر کیا اور اسے اپنا معمول بتایا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ اچھی قسم کی گندم لے کر اسے آگ پر اس حد تک رکھیں کہ وہ سرخی مائل سیاہ ہو جائے۔ اسے اتار کر باریک پیس لیں اور بوقت ضرورت کھولتے ہوئے پانی میں کافی کی طرح ڈال کر کیتلی کو ذرا دیر دم دیں اور چینی ملا کر نوش فرمائیں۔ گندم کی چائے کے بارے میں طریقہ یہ ہے۔ ڈیڑھ پاؤ پانی میں نصف چھٹانک گندم کو جوش دیں۔ جب تیسرا حصہ پانی رہ جائے تو اس میں ایک ماشہ نمک ملا کر چھان کر گرم گرم بطور چائے پئیں۔ چند روز کے استعمال سے کھانسی دور ہو جائے گی۔ نزلہ زکام دفع ہو جائے گا اور اعصاب مضبوط ہو جائیں گے۔

کھجور کی چائے اور کافی

کھجور ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پیارے وطن کا تحفہ ہے۔ اسے بطور چائے ناشتہ کے وقت استعمال کر کے دیکھئے۔ یہ تمام مضرات سے پاک اور غذائیت سے بھرپور ہے۔ موسم سرما میں معمول بنا لیجئے۔ ماء اللحم اور وٹامنز کی کمی محسوس نہیں ہو گی۔ کھجور عمدہ قسم ۷ عدد لے کر اسے ٹکڑے ٹکڑے کریں اور پیالہ بھر پانی میں ڈال کر آگ پر پانچ منٹ تک کھولائیے۔ بعد ازاں اتار کر اچھی طرح پھینٹ لیجئے اور دوبارہ جوش دے کر مناسب مقدار میں دودھ شامل کر کے نوش جان فرمائیے۔ اس کی گٹھلیوں کو بھی ضائع نہ کریں۔ وہ کافی کے لیے کام آ سکتی ہیں۔ گٹھلیوں کو لوہے کے تابہ پر رکھ کر نیچے آگ جلائیں اور کسی کھرچنے وغیرہ سے اُلٹتے جائیں۔ جب یہ جلنے کے قریب ہو جائیں تو اتار کر باریک پیس لیں اور بطور کافی استعمال کریں۔

السی کی چائے

اگرچہ اس چائے کو روزانہ پینے والی چائے کا درجہ تو نہیں دیا جا سکتا، البتہ اطباء نے اسے بعض امراض میں مبتلا مریضوں کے لیے تجویز کیا ہے اور وہ نزلہ زکام کھانسی کے مریضوں کے لیے بے حد مفید ثابت ہو گی۔ اگر اسے نیم گرم حالت میں پلایا جائے تو پہلی ہی خوراک سے پیشاب کی جلن میں تخفیف ہو گی۔ نسخہ تیاری یہ ہے۔

ایک تولہ السی لے کر ہاتھوں میں مل کر پھونک سے اس کی مٹی دور کریں اور اسے چائے دانی میں ڈال کر اوپر سے آدھ سیر ابلتا ہوا پانی ڈال کر ڈھانپ دیں اور پندرہ منٹ تک پڑا رہنے دیں۔ بعض ازاں حسب ضرورت چینی ڈال کر ایک کپ پئیں۔

پودینہ کی خوشبودار چائے

یہ نسخہ مجھے مولانا عبدالقادر صاحب گجراتی نے ۱۹۳۰ء میں عطا فرمایا تھا۔ اس کے چند روز کے مسلسل استعمال سے خون کی اصلاح ہو جاتی ہے۔ پھوڑے پھنسی، خارش کو دور کرتی ہے اور چہرے کے رنگ و روپ کو نکھارتی ہے۔ ہیضہ اور پیٹ درد کے لیے بھی مفید ہے۔ پودینہ خشک پاؤبھر۔ مجیٹھ عمدہ پانچ تولہ۔ مرچ سیاہ ایک تولہ۔ تینوں کو کوٹ کر محفوظ کرلیں اور بوقت ضرورت ۳ ماشہ ایک کپ پانی میں ڈال کر پکائیں۔ جب رنگ حسب خواہش سرخ ہو جائے تو چینی اور دودھ ملا کر پی لیں۔

تلسی کی چائے

تلسی ایک ایسی بوٹی ہے جسے مجموعۂ اوصاف کہنا چاہیے۔ یہ خوش رنگ، خوش ذائقہ اور خوشبودار ہے اور تنہا یہ بوٹی بے شمار بیماریوں کے لیے مفید ہے۔ اسی بنا پر ہندو لوگ اس کو ہر مندر میں رکھتے اور اس کی پوجا کرتے ہیں۔ اس کے باقی فوائد کو چھوڑ کر ہم اس کی چائے کا تذکرہ کرتے ہیں جو ملیریا کے لیے تریاق ہے۔ اگر وباء کے دنوں میں تمام اہل خانہ تلسی کی چائے پئیں تو حافظ حقیقی کی مہربانی سے بخار کی وبا سے محفوظ رہیں گے۔ تلسی کی پتیاں حسب ضرورت سایہ میں خشک کر کے رکھ لیں بوقت ضرورت ایک ماشہ پتیاں فی پیالی کے حساب سے جوش دے کر اتار لیں اور پن چھان کر دودھ چینی شامل کر کے صبح و شام پئیں۔ اگر ملیریا کا حملہ ہو چکا ہو تو بخار اتارنے کے لیے تلسی کے ایک ماشہ خشک پتوں کے ساتھ گندم کا چھان چھ ماشہ، مرچ سیاہ پانچ عدد اور نمک ایک ماشہ ڈال کر جوش دیں اور چینی دودھ شامل کر کے گرم گرم پلائیں اور کپڑا اوڑھا دیں۔ بفضلہ پسینہ آ کر فوراً بخار اُتر جائے گا۔ تلسی میں قادرِ مطلق نے یہ خوبی بھی رکھی ہے کہ جہاں اس کی کاشت ہوتی ہے وہاں مچھر نہیں آتا۔

گورکھ پان کی چائے

گورکھ پان ایک مشہور بوٹی ہے جو برصغیر پاک و ہند میں تقریباً ہر علاقہ میں پائی جاتی ہے۔ یہ بوٹی زمین پر بچھی ہوتی ہے۔ اس کے چھوٹے چھوٹے پتے اور پیالی کی طرح گول چھوٹے چھوٹے سفید پھول، ذائقہ پھیکا اور بو سبز چائے سے ملتی جلتی ہوتی ہے۔ برسات کے موسم میں مینارِ پاکستان لاہور کے ارد گرد عام ہوتی ہے۔ اس کی چائے نظر کو تیز، خونی اور بادی بواسیر کو رفع کرتی ہے۔ جگر کی اصلاح کے لیے، صالح خون پیدا کرتی ہے اور فاسد خون کی اصلاح کر کے آتشک، کوڑھ، خنازیر اور سوزاک کو دور کرتی ہے۔ مقوی معدہ ہے، بھوک لگاتی ہے۔ پیشاب کی جلن دور کرتی ہے۔ بعض مردانہ امراض کا شرطیہ علاج ہے۔ تھکاوٹ دور کرنے کے لیے عام چائے کی نسبت بہت زیادہ مفید ہے۔ اگر چائے میں ہم وزن شامل کر کے پئیں تو چائے کے ضرر رساں اثرات کی اصلاح ہو جاتی ہے۔ گورکھ پان کے پھول یا پتیاں تازہ یا خشک ۱ ت ۲ ماشہ فی پیالی کے حساب سے چائے دانی میں ڈالیں اور پانچ سات منٹ تک پانی کو جوش دیں۔ جب سرخی مائل رنگ جھلکنے لگے تو اتار لیں۔ موسم سرما میں اگر اس میں دارچینی، لونگ اور الائچی کلاں شامل کر لیں تو اور بھی مفید ہے۔ میرے شاگرد پنڈت کرشن کنوردت شرما مصنف ’’عرب کا چاندؐ‘‘ نے اس نسخہ کی بہت پبلسٹی کی تھی۔

ترپھلہ کی چائے

جولائی ۱۹۳۰ء میں وید دھجا رام نے اپنی زیر ادارت شائع ہونے والے طبی رسالے امرت پٹیالہ میں چائے کے مضر اثرات اور اس کے بدل کے طور پر ترپھلہ کی چائے پر ایک مضمون شائع کیا تھا، جو ہندی زبان میں تھا۔ اس کی تلخیص پیش خدمت ہے۔ چائے پہلے پہل دل، دماغ اور دیگر اعضائے جسمانی میں کسی قدر اکساہٹ پیدا کرتی ہے مگر جوں ہی اس کا اثر زائل ہوتا ہے تمام اعضاء بالکل سست پڑ جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ چائے کا عادی انسان بار بار چائے پی کر ہی کام کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ اس موقعہ پر چائے کے صرف ایک بدل کا ذکر کرنے لگا ہوں جو چائے سے بدرجہا بہتر ہے۔ میری مراد ترپھلہ سے ہے۔ ترپھلہ کے معنی ہیں تین پھل یعنی ہرڑ، بہیڑہ، اور آملہ۔ ان تینوں دواؤں کو آیورویدک کے عالم رسائن کا درجہ دیتے ہیں یعنی ہر مرض کا تریاق۔ اس کے استعمال سے دائمی قبض، بدہضمی، کھٹے مٹھے ڈکار آنا، دائمی نزالہ، دائمی سر درد، پیٹ میں ہوا بھرنا، تبخیر معدہ، نیند نہ آنا، کھانسی، ابتدائی دمہ، اونچا سننا، دماغ اور آنکھوں کی کمزوری، خونی اور ابدی بواسیر، آنتوں کا دق، ہسٹیریا، پاگل پن، وسواس، وہم، جنون، گردہ، تلی اور جگر کے امراض۔ گردہ اور مثانہ کی پتھری، ان سب بیماریوں کے لیے اکیلی یہ چائے مفید ہے۔ علاوہ ازیں بالوں کو قبل از وقت سفید ہونے سے بھی روکتی ہے۔ بحالت تندرستی اس کا استعمال بہت ساری وبائی بیماریوں سے بچائے رکھتے ہے خصوصاً وبائی نزلہ انفلوئنزا اور ملیریا کی وبا کے دنوں میں اسے ضرور استعمال کرنا چاہیے۔ نیز وہ لوگ جو کسی نشہ کے عادی ہوں مثلاً بھنگ، چرس، افیون وغیرہ۔ اس چائے کے عوض ان بد عادتوں سے جان چھڑا سکتے ہیں۔ اگر آدمی وطن چھوڑ کر کہیں چلا گیا ہو اور وہاں کی آب و ہوا موافق نہ ہو تو اس چائے کے پینے سے وہاں کی آب و ہوا راس آ جائے گی۔ نسخہ درج ذیل ہے۔ ہرڑ، بہیڑہ، آملہ کا چھلکا برابر برابرلے کر موٹا موٹا کوٹ لیں اور بوقت ضرورت اس میں سے چھ ماشہ لے کر آدھ سیر پانی میں پکائیں۔ جب آدھا پانی باقی رہ جائے تو چھان کر تھوڑا سا دیسی گھی کڑکڑا کر لونگ یا زیرہ سیاہ کا بگھار دے کر چائے میں ڈالیں اور بقدر ضرورت نمک ملا کر چائے کی طرح نوش کریں۔ موسم گرما ہو تو چھ ماشہ سفوف ترپھلہ مٹی کے کورے کوزے میں ڈال کر آدھ سیر پانی میں بھگو کر رات پڑا رہنے دیں۔ صبح اس کو آگ پر دو چار جوش دے کر اتار لیں اور پن چھان کر نمک شامل کر کے پئیں۔

انفلوئنزا کے لیے ایک بیش بہا چائے

میرے بدوِ شعور میں جبکہ میری عمر بمشکل بارہ تیرہ سال تھی یہ بیماری وباء کے طور پر پھیلی۔ غالباً ۱۹۱۶ء کی بات ہے۔ میں ان دنوں مدرسہ خیر العلوم سرسہ ضلع حصار میں تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ اس بیماری کی وجہ سے ہمیں رخصت دے دی گئی۔ اپنے گاؤں روڑی پہنچا تو گھر کے گھر اوندھے پڑے تھے۔ اور یہ خدا کی عجیب مصلحت تھی کہ ہر گھر میں ایک دو آدمی اس موذی مرض سے بچے ہوئے تھے جو تمام گھر والوں کی تیماری داری کرتے تھے۔ چنانچہ ہمارے گھر میں صرف والد بزرگوار تندرست تھے جو گھر میں صاح ب فرش مریضوں کی خبر گیری اور دارو درمن کر رہے تھے۔ مرض کا حملہ اس شدت کا تھا کہ ہمارے چھوٹے سے گاؤں میں بھی روزانہ دسیوں اموات ہو جاتی تھیں۔ اس کے بعد متعدد مرتبہ اس مرض کا حملہ ہوا، مگر اب یہ جن کافی حد تک قابو میں آ گیا ہے۔ اس مرض کو زیر دام لانے کے لیے جو تدابیر کارگر ثابت ہوئیں۔ ان کے ذکر سے صرف نظر کرتے ہوئے صرف ایک نسخہ بیان کیے جانے کے قابل ہے جو دورہ مرض میں بفضل ایزدی مفید ثابت ہوا ہے۔ اور وبا کے زمانہ میں اگر تندرست افراد کو یہ چائے صبح شام پلائی جائے تو وہ اس کے حملے سے محفوظ رہتے ہیں۔ لطف کی بات یہ ہے کہ یہ چائے بدمزہ ہرگز نہیں بلکہ بے حد لذیذ اور پسندیدہ مشروب ہے۔

سبز چائے کی پتی ۳ ماشہ، سونف رومی (انیسوں) ۶ ماشہ، الائچی خورد سبز ۳ عدد، دار چینی ایک ماشہ، ان چیزوں کو معمولی سا کوٹ لیں اورپاؤ بھر پانی میں جوش دیں۔ تین چار جوش آنے کے بعد اسے خوب پھینٹ کر رنگ نکالیں اور چھان کر قدرے چینی آمیز کر کے بلا دودھ ملائے قہوہ کے طور پر صبح و شام پئیں۔ ان شاء اللہ حالت مرض میں بھی مفید ثابت ہو گی اور مرض کے حملہ سے محفوظ و مامون رہنے کے لیے تندرست اشخاص کو پلایا کریں۔

دمہ کے لیے خصوصی چائے

اطباء کی ایک مجلس میں چائے کے نعم البدل کے طور پر اپنی تحقیقات کا ذکر کیا تو حاضرین میں سے ایک صاحب نے مجھے بتایا کہ لاہور میں ایک صاحب دمہ کا شرطیہ علاج چائے سے کرتے ہیں مگر اس احتیاط سے کہ چائے کے اجزاء کو اخفاء میں رکھ کر اپنے ہاتھ سے چائے تیار کرتے ہیں اور مریض کو کہتے ہیں کہ ۴۰ روز تک روزانہ آ کر چائے پیو۔ نہ وہ کسی کو نسخہ بتاتے ہیں اور نہ بنا کر دیتے ہیں۔ چنانچہ نسخہ موثر ہے اس لیے خود ان کے ہاں جاتے ہیں اور چائے کی چسکیاں لے کر آتے ہیں۔ کافی تگ و دو کے بعد بالآخر نسخہ ہاتھ آ گیا جو پیش خدمت ہے۔

برگد کی داڑھی سوا تولہ، سونف چھ ماشہ، عام چائے پانچ ماشہ، مرچ سیاہ چار عدد۔ برگد کی داڑھی کو کوٹ کر باقی چیزیں شامل کر کے چائے کی طرح پکائیں اور دو کپ چائے بنا کر آمیز کر کے سوا ماہ تک روزانہ استعمال کریں۔ ان شاء اللہ دمہ جڑ سے اکھڑ جائے گا۔

مقوی بدن چائے

اس چائے کا نسخہ ہمیں ایک بہت پرانے رسالے ماہنامہ ’’تجارت‘‘ شاہ جہان پور کے دسمبر ۱۹۱۹ء کے ایک خاص شمارہ سے حاصل ہوا۔ اس میں تجارت کے خاص خاص گر اور تجارتی نسخہ جات درج تھے۔

چائے کے ہم وزن دارچینی کا سفوف شامل کر لیں اور اس مقوی چائے کی تجارت کریں۔ آپ دیکھیں گے کہ اس چائے کے استعمال سے پورے بدن کو طاقت حاصل ہو گی ، خاص طور پر مردانہ قوت میں اچھا خاصا اضافہ ہو گا۔‘‘ میری رائے میں یہ چائے مذکورہ بالا فوائد کے علاوہ مقوی معدہ ہے۔ آواز کو سریلا کرتی ہے اور نزلہ و زکام کے لیے مفید ہے۔ گرم مزاج والے افراد اس میں دودھ زیادہ مقدار میں شامل کریں۔

قبل از وقت بڑھاپے سے بچنے کے لیے ایک بہترین چائے

جن بچوں یا نوجوانوں کے عین عالم طفولیت یا عالم شباب میں بال سفید ہونے لگیں ان کے لیے اس چائے سے بہتر شاید ہی کوئی اور دوا ہو۔ ان شاء اللہ قبل از وقت ہونے والے سفید بال نکلنا بند ہو جائیں گے اور تین ماہ کے مسلسل استعمال سے سفید بال بھی پھر سے سیاہ ہونے لگیں گے۔ علاوہ ازیں قوت حافظہ میں روز بروز اضافہ ہوتا جائے گا۔ بھولی ہوئی باتیں یاد آنے لگیں گی۔ ہلی ہلکی کھانسی اور نزلہ سے نجات مل جائے گی۔ نظر کو تقویت ہو گی۔

بھنگرہ سفید عام ملنے والی بوٹی ہے۔ پانی کے کنارے چھوٹے چھوٹے سفید پھولوں کی شکل میں ہر جگہ مل جاتا ہے۔ اسے سایے میں خشک کریں اور روزانہ ایک ماشہ پتیاں ایک کپ چائے کے حساب سے حسب دستور چائے تیار کریں۔ اگر شہد میسر ہو تو چینی کی جگہ استعمال کریں۔

خونی امراض سے بچنے کے لیے چائے

حکیم عبدالغفور حویلی کابلی مل ایک شریف الطبع اور منکسر المزاج شخص ہیں۔ ان کے ہاں جانے کا اتفاق ہوا تو انہوں نے ایک نہایت خوش رنگ اور خوش ذائقہ چائے پیش کی۔ نسخہ پوچھا تو فرمانے لگے یہ لاہور کے ایک معروف شیخ گھرانے (مٹ والے) کا نسخہ ہے وہ اپنے تمام گھرانوں میں یہی چائے استعمال کرتے ہیں، اور اس کا فائدہ یہ ہے کہ اگر مریض کے گلے یا اندرونی اعضاء سے خون آ رہا ہو، خونی بواسیر کی شکایت ہو، خواتین کو ایام کی زیادتی کی تکلیف ہو سب کے لیے بے خطا چیز ہے۔ انفلوئنزا کی وبا کے دنوں میں بطور حفظ ما تقدم اس کا استعمال بہتر ہے۔ گلا بیٹھا ہوا ہو تو اس تکلیف کو بھی رفع کرتا ہے۔ صاحب نسخہ نے تو دو ہی اجزا بتائے تھے، انجبار کی جڑ اور پان کی جڑ۔ لیکن میں نے اس میں الائچی خورد کا اضافہ کر لیا ہے۔ ان تینوں چیزوں کو ہم وزن لے کر موٹا موٹا کوٹ لیں اور آدھ سیر پانی میں ایک ماشہ دوا ڈال کر جوش دیں۔ رنگ نکل آنے پر پھینٹ لیں اور دودھ چینی شامل کر کے نوش فرمائیں۔
منقول

29/09/2022
16/09/2022
16/09/2022
04/09/2022
03/09/2022

03115545963 WhatsApp

28/07/2022
28/07/2022
ہماری ناف ایک خاص تحفہ ہے 16/07/2022

ہماری ناف ایک خاص تحفہ ہے

https://undergroundnews.co.uk/?p=15562
www.matabhrs.com

ہماری ناف ایک خاص تحفہ ہے تحریر:حکیم رہحان سالک کیا آپ کو معلوم ہے؟ ہماری ناف اللہ سبحان تعالیٰ کی طرف سے ایک خاص تحفہ ہے۔ 62سال کی عمر کے ایک بوڑھے آدمی کو لیفٹ آنکھ سے صحیح نظر نہیں آ رہا تھا،خ....

16/07/2022
16/07/2022
14/07/2022

کیا آپ کو معلوم ہے؟

ہماری ناف اللہ سبحان تعالیٰ کی طرف سے ایک خاص تحفہ ہے۔ 62سال کی عمر کے ایک بوڑھے آدمی کو لیفٹ آنکھ سے صحیح نظر نہیں آ رہا تھا،خاص طور پر رات کو تو اور نظر خراب ہو جاتی تھی۔

ڈاکٹروں نے انہیں بتایا کہ آپ کی آنکھیں تو ٹھیک ہیں بس ایک پرابلم ہے کہ جن رگوں سے آنکھوں کو خون فراہم ہوتا ہے وہ سوکھ گئی ہیں۔

سائنس کے مطابق سب سے پہلے ماں کے اندر اللہ کی تخلیق میں بچے کی ناف بنتی ہے جو پھر ایک کارڈ کے ذریعے ماں سے جڑ جاتی ہے۔
اور اس ہی خاص تحفے سے جو بظاہر ایک چھوٹی سی چیز ہے ایک پورا انسان فارم ہو جاتا ہے۔ سبحان اللہ

ناف کا سوراخ ایک حیران کن چیز ہے۔ سائنس کے مطابق ایک انسان کے مرنے کے تین گھنٹے بعد تک ناف کا یہ حصہ گرم رہتا ہے وجہ اس کی یہ بتائی جاتی ہے کہ یہاں سے بچے کو ماں کے ذریعے خوراک ملتی ہے۔ بچہ پوری طرح سے 270 دن میں فارم ہو جاتا ہے یعنی 9 مہینے میں۔

یہ وجہ ہے کہ ہماری تمام رگیں اس مقام سے جڑی ہوتی ہیں یہ پوری باڈی کا واحد بڑا انرجی پوائنٹ ھے ۔ اس کی اپنی ایک خود کی زندگی ہوتی ہے۔

پیچوٹی ناف کے اس سوراخ کے پیچھے موجود ہوتی ہے جہاں تقریبا 72،000 رگیں موجود ہوتی ہیں۔ہمارے جسم میں موجود رگیں اگر پھیلائی جائیں تو زمین کے گرد دو بار گھمائی جا سکتی ہیں۔

علاج

آنکھ اگر سوکھ جائے، صحیح نظر نا آتا ہو، پتہ gallblader صحیح کام نا کر رہا ہو ، پاؤں یا ہونٹ پھٹ جاتے ہوں ، چہرے کو چمک دار بنانے کے لیے ، بال چمکا نے کے لیے ، گھٹنوں کے درد ، سستی دور کرنے کیلئے ، جوڑوں میں درد ، سکن کا سوکھ جانا ، عضو اور بریسٹ کی گروتھ بھی اسی پوائنٹ میں چھپی ھے لیکن وقت لگتا ھے ایک سال یا پھر دو سال تک بھی لگ سکتا ھے مگر یہ انرجی پوائنٹ اپنا کام کرتا ھے الحمدللہ ۔۔۔

طریقہ علاج

آنکھوں کے سوکھ جانا، صحیح نظر نہیں آنا،گلونگ کھال اور بال کے لیے روز رات کو سونے سے پہلے تین قطرے خالص دیسی گھی کے یا ناریل کے تیل کے ناف کے سوراخ میں ٹپکائیں اور تقریبا ڈیرھ انچ سوراخ کے ارد گرد لگائیں۔

گھٹنوں کی تکلیف دور کرنے کےلیے تین قطرے ارنڈی کے تیل کے تین قطرے سوراخ میں ٹپکائیں اور ارد گرد لگائیں جیسے اوپر بتایا ہے۔

کپکپی اور سستی دور کرنے کے لیے اور جوڑوں کے درد میں افاقے کے لیے اور سکن کے سوکھ جانے کو دور کرنے کے لیے سرسوں کے تیل کے تین قطرے اوپر بتائے گئے طریقے کے مطابق استعمال کریں۔

ناف کے سوراخ میں اللہ نے یہ خاصیت رکھی ہے کہ جو رگیں جسم میں اگر کہیں سوکھ گئی ہیں تو ناف کے ذریعے ان تک تیل پہنچایا جا سکتا ہے۔ جس سے وہ دوبارہ کھل جاتی ہیں .

14/07/2022

کیا آپ کو معلوم ہے؟

ہماری ناف اللہ سبحان تعالیٰ کی طرف سے ایک خاص تحفہ ہے۔ 62سال کی عمر کے ایک بوڑھے آدمی کو لیفٹ آنکھ سے صحیح نظر نہیں آ رہا تھا،خاص طور پر رات کو تو اور نظر خراب ہو جاتی تھی۔

ڈاکٹروں نے انہیں بتایا کہ آپ کی آنکھیں تو ٹھیک ہیں بس ایک پرابلم ہے کہ جن رگوں سے آنکھوں کو خون فراہم ہوتا ہے وہ سوکھ گئی ہیں۔

سائنس کے مطابق سب سے پہلے ماں کے اندر اللہ کی تخلیق میں بچے کی ناف بنتی ہے جو پھر ایک کارڈ کے ذریعے ماں سے جڑ جاتی ہے۔
اور اس ہی خاص تحفے سے جو بظاہر ایک چھوٹی سی چیز ہے ایک پورا انسان فارم ہو جاتا ہے۔ سبحان اللہ

ناف کا سوراخ ایک حیران کن چیز ہے۔ سائنس کے مطابق ایک انسان کے مرنے کے تین گھنٹے بعد تک ناف کا یہ حصہ گرم رہتا ہے وجہ اس کی یہ بتائی جاتی ہے کہ یہاں سے بچے کو ماں کے ذریعے خوراک ملتی ہے۔ بچہ پوری طرح سے 270 دن میں فارم ہو جاتا ہے یعنی 9 مہینے میں۔

یہ وجہ ہے کہ ہماری تمام رگیں اس مقام سے جڑی ہوتی ہیں یہ پوری باڈی کا واحد بڑا انرجی پوائنٹ ھے ۔ اس کی اپنی ایک خود کی زندگی ہوتی ہے۔

پیچوٹی ناف کے اس سوراخ کے پیچھے موجود ہوتی ہے جہاں تقریبا 72،000 رگیں موجود ہوتی ہیں۔ہمارے جسم میں موجود رگیں اگر پھیلائی جائیں تو زمین کے گرد دو بار گھمائی جا سکتی ہیں۔

علاج

آنکھ اگر سوکھ جائے، صحیح نظر نا آتا ہو، پتہ gallblader صحیح کام نا کر رہا ہو ، پاؤں یا ہونٹ پھٹ جاتے ہوں ، چہرے کو چمک دار بنانے کے لیے ، بال چمکا نے کے لیے ، گھٹنوں کے درد ، سستی دور کرنے کیلئے ، جوڑوں میں درد ، سکن کا سوکھ جانا ، عضو اور بریسٹ کی گروتھ بھی اسی پوائنٹ میں چھپی ھے لیکن وقت لگتا ھے ایک سال یا پھر دو سال تک بھی لگ سکتا ھے مگر یہ انرجی پوائنٹ اپنا کام کرتا ھے الحمدللہ ۔۔۔

طریقہ علاج

آنکھوں کے سوکھ جانا، صحیح نظر نہیں آنا،گلونگ کھال اور بال کے لیے روز رات کو سونے سے پہلے تین قطرے خالص دیسی گھی کے یا ناریل کے تیل کے ناف کے سوراخ میں ٹپکائیں اور تقریبا ڈیرھ انچ سوراخ کے ارد گرد لگائیں۔

گھٹنوں کی تکلیف دور کرنے کےلیے تین قطرے ارنڈی کے تیل کے تین قطرے سوراخ میں ٹپکائیں اور ارد گرد لگائیں جیسے اوپر بتایا ہے۔

کپکپی اور سستی دور کرنے کے لیے اور جوڑوں کے درد میں افاقے کے لیے اور سکن کے سوکھ جانے کو دور کرنے کے لیے سرسوں کے تیل کے تین قطرے اوپر بتائے گئے طریقے کے مطابق استعمال کریں۔

ناف کے سوراخ میں اللہ نے یہ خاصیت رکھی ہے کہ جو رگیں جسم میں اگر کہیں سوکھ گئی ہیں تو ناف کے ذریعے ان تک تیل پہنچایا جا سکتا ہے۔ جس سے وہ دوبارہ کھل جاتی ہیں .

12/07/2022

عید قربان پر گوشت کیسے کھائیں

کوشش کریں کہ گوشت میں سرخ مرچ کم استعمال کریں
.
گوشت شوربے والا پکائیں جو کے زیادہ فائدے مند ہے

گوشت کے ساتھ دہی کا ستعمال زیادہ کریں۔یہ آپ کے جسم میں دوست بیکٹیریا کی تعداد کو بڑھاتی ہے اور انفیکشن پیدا ہونے سے روکتی ہے۔

ادرک ادرک صدیوں سے نظام انہضام کی بیماریوں کی روک تھام کے لیئے استعمال کیا جاتا ہے۔اور آج بھی اس کا ستعمال خوراک کو جلد ہضم کرتا ہے۔اور جزو بدن بنانے میں مدد کرتا ہے
سرکہ
۔سرکہ صفرا کو ختم کرتا ہے۔اور گوشت جیسی دیر ہضم غذاؤں کو جلد ہضم کرتا ہے۔کولیسٹرول کو کم کرتا ہےیعد قربان پر انگور کا سرکہ گوشت کے ساتھ استعمال کیا جائے تو گوشت جلد ہضم ہو گا اور اس کے مضر اثرات پیدا نہیں ہوں گ

گوشت کھانے سے اگر بلڈ پریشر بڑھے تو
( سونف + زیرہ سفید+ الائچی سبز) کا قہوہ لیا جائے

گوشت کھانے سے جسم پر دھپڑ نکل جائیں تو فوراََ
( گلاب کی پتی + زیرہ سفید+ الائچی سبز + سونف + ثابت دھنیا) کا قہوہ لیں

گوشت کھا کر اگر بدہضمی پیٹ درد ھو تو
( اجوائن دیسی + پودینہ+ تیز پات) قہوہ لیں

گوشت کھا کر اگر لوز موشن متلی لگے تو ( لونگ + دار چینی + لیمن چند قطرے) کا قہوہ لیں

گوشت کھا کر اگر پیچش ھو تو
( ہلدی + ملٹھی + سونف)
یا
( سونف + زیرہسفید + ہلدی) پوڈر کرکے آدھی چمچ پانی سے لیں

گوشت کھا کر اگر پائلز خونی شروع ھو جائے تو
( زیرہ سفید + سونف + گلاب کی پتی + ) کا قہوہ 2 چٹکی ہلدی پھانک کر قہوہ پی لیں

گوشت کھا کر
( ادرک + پودینہ+ اجوائن دیسی) کا قہوہ
معمول سے لیا جائے تو بدہضمی ڈکاریں درد اپھارہ لوز موشن وغیرہ سے محفوظ رکھے گا

گوشت کھا کر اگر مسوڑوں پر ورم آجاے دانت درد کریں تو
( نمک + سونٹھ + سرسوں کے تیل سے لیپ) تیار کر کے دانتوں مسوڑوں پر ملا جائے تو سکون حاصل ھوتا ھے

گوشت کھا کر اگر قبض ھو تو ( منقہ 8/10 دانے)
ادھے کپ پانی میں ابال کر منقہ کھالیں اور پانی پی لیں انشاءاللہ قبض رفع ھو جائے گا۔
نوٹ۔۔ہر کھانے کے بعد خلال کریں۔تاکہ دانتوں میں پھنسے ذرات اندر موجود رہ کر انفیکشن نہ کریں۔رات سوتے وقت مسواک یا برش لازمی کریںwww.matabhrs.com

Videos (show all)

Location

Category

Website

Address


Hakeem Rehan Salik 531 B Block Near Madni Masjid Satellite Town
Rawalpindi
46300

Other Family Doctors in Rawalpindi (show all)
Dr Muhammad Farhan Khan Dr Muhammad Farhan Khan
Islamabad Diagnostic Center And Specialist Clinic Mall Road Saddar Opposite AFIC
Rawalpindi, 45000

Dr. Muhammad Farhan Khan MBBS, MCPS, RMP General Physician, Diabetologist 8 years of vast clinical

Homeopathic Treatment For Critical Diseases. Homeopathic Treatment For Critical Diseases.
Al-Syed Homeopathic Clinic JT Road Treat Murree
Rawalpindi, 12345

Homeopathic Medicines.

DR.Kainat DR.Kainat
Scheme 3
Rawalpindi, 46200

family physician ap k har problem ka behtreen haal sirf dr kainat k pas

Naseem Homeopathic Family Center And Digital Research Center Naseem Homeopathic Family Center And Digital Research Center
Rawalpindi, 46000

Professor Dr.Asif Majeed Pal(Gold Medalist). BSC(Punjab),DHMS,NCH,IBP1,BSC Homeopathic,RHMP,Homeopat

Herbal & Spiritual Treatment by Dr. Kazmi-drmrskazmi Herbal & Spiritual Treatment by Dr. Kazmi-drmrskazmi
Rawalpindi

Dr. Mrs. Major Kazmi k FB Page se Herbal,Spiritual,Rieki,Mind Power,Gems & Lucky Stones se Elaj k Tareky Perh kr Gher Beth K Elaj Kren. Visit http://www.facebook.com/DrMrsKazmi https://www.Twitter.com/DrMrsKazmi http://www.Instagram.com/DrMrsKazmi

DrQamar Ahmed Shahzada DrQamar Ahmed Shahzada
Mohan Pora
Rawalpindi

Medical Director at Amin medical center New scheme Mohan pora rawalpindi Senior vice president and m

farooq clinic farooq clinic
Adamjee Road
Rawalpindi

Family Physcians serving since 1960. providing consultation, investigations and treatment to all kin

Health & Healing Health & Healing
Saidpur Road
Rawalpindi, 46000

Under the Supervision of Prof. Hakeem Sardar Khan since 1998. For further info: Contact at 033151908

Jehanzaib Clinic Jehanzaib Clinic
Rawalpindi

Dr Mushtaq Ahmed Malik (Homoeo Physcian) M.A (PU) DHMS(Rwp) D-AC DEMS(Lhr RHMP(PAK) Ex.Lecturer NHMC

Dental Chalet Dental Chalet
Shop # 5 Center Point Plaza , Spring North Commercial Near Shaheen Chowk , Phase
Rawalpindi, 46000

Canadian Diabetes Clinic Canadian Diabetes Clinic
Chaklala Scheme 3
Rawalpindi

At CDC our mission is to provide superior treatment and compassionate care. We are providing the highest level of care in a peaceful and healing environment. We ensure each patient receives the highest level of care possible.

Bestlife Pakistan Bestlife Pakistan
Office 101. First Floor. Plaza 111, Eastern Boulevard Civic Center Phase 4
Rawalpindi

SERVICE PROVIDER COMPANY

x

Other Family Doctors in Rawalpindi (show all)

DR.Kainat Dr Muhammad Farhan Khan Adyala Veterinary Clininc and Animal Care Center Bestlife Pakistan Aaisha hospital Jehanzaib Clinic Ahmed homeopathic clinic and research centre