13/11/2025
کل کلینک پر ایک پچہ اپنے والد صاحب کے ساتھ چیک اپ کے لئے آیا۔
میں نے پوچھا کہ بچے کو کیا مسئلہ ہے جو آپ نے میرے کلینک پر آنے کی ضرورت محسوس کی۔
والد صاحب نے بتایا:
بچہ بات نہیں کرتا۔ہم نے پہلے بہت جگہ بچے کو چیک کرایا لیکن فرق نہیں پڑا۔
میں نے پہلے چیک اپ کی رپورٹس طلب کیں۔
والد نے ایک فائل مجھے تھما دی۔میں نے فائل کو تسلی سے پڑھنے کے بعد سوال کیا کہ۔۔۔کیا آپ کو ان سب ڈاکٹرز نے کچھ نہیں بتایا۔
والد نے نفی میں سر ہلایا۔مزید پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ وہ تیس ہزار روپے کے عوض ڈاکٹر کی اپائنمنٹ لیتے تھے۔ڈاکٹر آدھے گھنٹے کی جانچ کے بعد چار پانچ صفحوں کی رپورٹ دیتا تھا۔اس رپورٹ کے ساتھ وہ ہمیں کچھ بھی نہیں بتاتے۔ہم نئے ڈاکٹر اور علاج کی تلاش میں دو سالوں سے مارے مارے پھر رہے ہیں۔
بچے کی والدہ کچھ مسائل کی وجہ سے طلاق لے چکی ہیں۔بچہ والد صاحب کے ساتھ ہی رہتا ہے۔
میں نے ساری کہانی سننے کے بعد ان کی جانچ کا سیشن کینسل کر دیا اور انکو بتایا کہ میں انکے بچے کا چیک اپ نہیں کروں گی کیونکہ بچے کا تفصیلی چیک اپ پہلے ہو چکا ہے۔لیکن آپکو کسی نے سمجھایا نہیں ہے۔
میں نے انکو رپورٹ پڑھ کر سنائی اور بتایا کہ بچہ آٹسٹک ہے۔جلد ہی بچے کو کسی اچھے تھراپی سینٹر میں داخل کرائیں۔چیک اپ کرا کے وقت اور پیسہ ضائع مت کریں۔
آٹزم کے متعلق کے تمام ٹیسٹ ہو چکے تھے۔یہ وہی ٹیسٹ ہیں جو پاکستان میں چند ڈاکٹرز ہی کرتے ہیں۔
میرا ان ڈاکٹرز سے سوال ہے کہ اگر آپ اپنی فیس پوری لیتے ہیں تو غریب مریضوں کو کم سے کم گائیڈ لائن تو فراہم کریں۔انکو بتائیں کہ انہوں نے اب کس حکمت عملی سے بچے کا علاج شروع کرانا ہے۔
اسپیشل نیڈز والدین اور بچوں کے ساتھ ظلم مت کریں۔اپنے رویوں میں نرمی لائیں۔
شکریہ