Marriage Proposal Rwp,Isb,Attock,Fathy jang

Marriage Proposal Rwp,Isb,Attock,Fathy jang Nikah is Sunnah .

Beautiful cupboards designs ideas.
06/05/2021

Beautiful cupboards designs ideas.

بریسٹ_ٹائیٹ کرنے کے   : یہ نسخہ گروپ میں لوگوں کی فرمائش پر دیا بہت لوگ ان بوکس میں اس مسئلے کے حوالے سے میسج کرتے ہیں ک...
06/05/2021

بریسٹ_ٹائیٹ کرنے کے :

یہ نسخہ گروپ میں لوگوں کی فرمائش پر دیا بہت لوگ ان بوکس میں اس مسئلے کے حوالے سے میسج کرتے ہیں
کسی کا نام نہیں لکھ رہا کیوں کے راز اولین ترجیح ہے

زیتون کا آئل :

زیتون کا تیل لیکر گائے کے دودھ کے ساتھ ملا لیں اور ہلکے ہاتھوں سے اوپر کی طرف مساج کریں _ کچھ دن ایسا کرنے سے بریسٹ ٹائیٹ ہو جائیں گے اور قدرتی تناو آئے گا

سرسوں کا تیل :

روزانہ سرسوں کے تیل سے مساج کرنے سے بریسٹ سخت ہو جاتے ہیں _

لہسن :

لہسن کو خوراک میں شامل کرنے سے بریسٹ ٹائیٹ ہو جاتے ہیں اور ڈھیلا پن ختم ہوجاتا ہے _

کھیرا اور انڈا کی زردی :

کھیرا کا گودا اور انڈے کی زردی ملا کر پیسٹ بنا لیں اور تیس منٹ تک ہاتھوں سے گولائی میں مساج کریں پھر واش کر لیں _ یہ نسوانی حسن میں اضافہ کرے گا _

انار کے چھلکے:

ان کا لیپ بنا کر تمام رات لگائیں اور کپڑا لپیٹ لیں _ مارننگ میں واش کر لیں _ چھاتی میں سختی آئے گی

خدارا کوئی کریم یا جل استعمال کریں اس میں کیمیکل شامل ہوتے ہیں جو سکن کو نقصان پہنچاتے ہیں
مزید رہنمائی کے لیے انباکس میں رابطہ کریں

گوادر کی ہیرو ۔۔۔۔ایک مادر مہربان۔۔جس کے بارے میں آج کی نسل کو جاننا بہت ضروری ہے۔۔ (لالہ صحرائی)آج کون کون جانتا ہے کہ ...
13/04/2021

گوادر کی ہیرو ۔۔۔۔ایک مادر مہربان۔۔جس کے بارے میں آج کی نسل کو جاننا بہت ضروری ہے۔۔
(لالہ صحرائی)
آج کون کون جانتا ہے کہ پاکستان کیلئے لازوال محبت و ایثار کا جذبہ رکھنے والی ایک عظیم خاتون نے اپنی مدمقابل چار عالمی طاقتوں سے ایک قانونی جنگ لڑ کر 15 لاکھ ایکڑ سے زائد رقبے پر مشتمل گوادر جیسی اہم ترین کوسٹل اسٹیٹ پاکستان میں ضم کروائی تھی۔

دو بلوچی الفاظ گوات بمعنی کھلی ہوا اور در بمعنی دروازہ کا مرکب جو عرف عام میں گوادر کہلاتا ہے یہ 1956 تک عالمی استعمار کے اس ناجائز قبضے میں تھا جس کی داستان احسان فراموشی اور عیاری کا ایک نادر نمونہ ہے۔

گوادر اسٹیٹ اٹھارہویں صدی کے، خان آف قلات، میر نصیر نوری بلوچ کی ملکیت تھی لیکن اس علاقے پر اپنا تسلط قائم رکھنا خان صاحب کیلئے کافی مشکل ثابت ہو رہا تھا جس کی وجہ گچکی قبائل کی شورشیں تھیں کیونکہ ماضی میں وہ بھی اس علاقے کے حکمران رہ چکے تھے اور اسے واپس حاصل کرنا چاہتے تھے۔

خان صاحب نے اس کا حل یہ نکالا کہ ایک معاہدے کے تحت اس علاقے کا کنٹرول ہی گچکی قوم کے ہاتھ میں دے دیا تاکہ اس علاقے میں امن قائم رہے، معاہدے کے تحت یہ طے پایا کہ یہ علاقہ خان آف قلات کی جاگیر میں ہی شامل رہے گا اور اس کا آدھا ریوینیو بھی خان صاحب کو دیا جائے گا لیکن اس کا انتظام سارا گچکی قبائل کے ہاتھ میں رہے گا، یہ معاہدہ 1783 تک قائم رہا۔

1783 میں عمان کا حکمران اپنے بھائی سے شکست کھا کر دربدر ہوا تو اس نے خان آف قلات سے جائے پناہ کی درخواست کی، اس کی درخواست قبول کرتے ہوئے ایک نئے معاہدے کے تحت 2400 مربع میل پر پھیلا ہوا یہ اینکلیو سلطان آف عمان کو سونپ دیا گیا۔

اس نئے معاہدے کی رو سے یہ طے پایا تھا کہ گوادر حسب دستور خان آف قلات کی جاگیر میں ہی شامل رہے گا اور اس کا کنٹرول بھی حسب سابق گچکی سرداروں کے پاس ہی رہے گا البتہ ریوینیو کا وہ آدھا حصہ جو خان صاحب کو جاتا ہے وہ اب خیر سگالی کے طور پر سلطان آف عمان کو دیا جائے گا تاکہ وہ اپنی گزر اوقات باآسانی کر سکے تاہم جب سلطان کو اس جائے پناہ کی ضرورت نہ رہے تو اس کے تمام حقوق بھی حسب سابق خان آف قلات کے پاس واپس چلے جائیں گے۔

قریباً پندرہ سال بعد عمان پر دوبارہ فتح پانے کے بعد سلطان اپنے پایۂ تخت واپس لوٹ گیا لیکن گوادر کو حسب معمول اس نے اپنے ہاتھ میں ہی رکھا، خان صاحب شائد اس دوران فوت ہو گئے تھے یا مروتاً قبضہ نہیں مانگا بہرحال تقریباً دس سال بعد جب سلطان کی وفات بھی ہوگئی تو خان صاحب کے ورثاء نے گوادر کی حوالگی کا مطالبہ کر دیا۔

حکومت عمان کے انکار پر انہوں نے بزور قوت قبضہ کرلیا جسے سلطان کی سپاہ نے آکر چھڑا لیا، اگلے بیس سال میں یہ چشمک جب زیادہ بڑھ گئی تو اس قضیے کو نمٹانے کیلئے برٹش کالونیل ایڈمنسٹریشن نے ثالثی کے بہانے مداخلت کی لیکن انصاف کرنے کی بجائے اسوقت کے سلطان آف عمان سے اپنے لئے کچھ مراعات لیکر قلات خاندان کا دعویٰ یہ کہہ کر عارضی طور مسترد کر دیا کہ بعض دیگر گواہیاں بھی ان کے سامنے آرہی ہیں جن کے مطابق یہ علاقہ عرصہ دراز سے سلطنت آف عمان کی جاگیر ہے بہرحال حتمی فیصلہ کسی کے حق میں بھی نہیں کیا۔

اس خدمت کے عوض برطانوی پولیٹیکل ایجنٹ نے سلطنت عمان سے یہ ایگریمنٹ کیا کہ حتمی فیصلے تک گوادر کا انتظام برطانیہ کے پاس رہے گا اور حسب سابق عمان کو گوادر کا آدھا ریونیو ادا کیا جائے گا اور اپنی افواج گوادر میں داخل کر دیں یوں تقریباً سوا سو سال تک برطانیہ اس علاقے پر قابض رہا۔

قیام پاکستان کے بعد اس وقت کے خان آف قلات نے جب اپنی جاگیر پاکستان میں ضم کر دی تو پاکستان نے اسٹیک ہولڈرز سے گوادر کا معاملہ اٹھایا مگر کوئی شنوائی نہ ہوئی، پھر جب ایک امریکی سروے کمپنی نے بتایا کہ گوادر کی بندرگاہ بڑے جہازوں کے لنگر انداز ہونے کیلئے بہت آئیڈیل ہے، علاوہ ازیں اس بندرگاہ سے سالانہ لاکھوں ٹن ایکسپورٹ ایبل سمندری خوراک بھی حاصل کی جا سکتی ہے جس میں 35 اقسام کی مچھلیاں پائی جاتی ہیں۔

اس بات کی بھنک جن ایران کو پڑی تو انہوں نے اسے چاہ بہار کیساتھ ملانے کا فیصلہ کر لیا، ایران میں ان دنوں شاہ ایران کا طوطی بولتا تھا اور سی۔آئی۔اے اس کی پشت پناہ تھی جو صدر نکسن کے ذریعے برطانیہ پر مسلسل دباؤ ڈالنے لگی کہ گوادر کو شاہ ایران کے حوالے کر دیا جائے۔

1956 میں ملک فیروز خان نون نے جب وزارت خارجہ سنبھالی تو ہر قیمت پر گوادر کو واگزار کرانے کا عہد کیا اور باریک بینی سے تمام تاریخی حقائق و کاغذات کا جائزہ لیکر یہ مشن محترمہ کو سونپ دیا۔

ان نازک حالات میں یہ پیکرِ اخلاص خاتون ایک چیمپئین کی طرح سامنے آئیں اور برطانیہ میں پاکستان کی لابنگ شروع کی، انہوں نے بھرپور ہوم ورک کرکے یہ کیس برطانیہ کے سامنے رکھا تاکہ ہاؤس آف لارڈز سے منظوری لیکر گوادر کا قبضہ واپس لیا جائے کیونکہ قلات خاندان کی جاگیر اب پاکستان کی ملکیت تھی لہذا ان کی جاگیر کے اس حصے کی وراثت پر بھی اب پاکستان کا حق تسلیم ہونا چاہئے نیز یہ کہ پاکستان وہ تمام جاگیریں منسوخ کر چکا ہے جو ریوینیو شئیرنگ یا معاوضے کی بنیاد پر حکومت برطانیہ نے بانٹیں تھیں، نیز یہ کہ اگر ہم اپنے قانون سے گوادر کی جاگیر منسوخ کرکے فوج کشی سے واگزار کرا لیں تو کامن ویلتھ کا ممبر ہونے کی وجہ سے برطانیہ ہمارے اوپر حملہ بھی نہیں کر سکتا۔

محترمہ نے دو سال پر محیط یہ جنگ تلوار کی بجائے محض قلم، دلائل، اور گفت و شنید سے جیتی، جس میں برطانیہ کے وزیراعظم میکملن جو ملک صاحب کے دوست تھے انہوں نے کلیدی رول ادا کیا، عمان کے سلطان سعید بن تیمور نے حامی تو بھر لی مگر سودے بازی کا عندیہ دیا۔

ملک صاحب جب وزیراعظم بنے تو انہوں نے گوادر کے معاملے میں “ابھی نہیں یا کبھی نہیں” کا نعرہ لگایا، چھ ماہ کے اعصاب شکن مزاکرات کے بعد عمان نے تین ملین ڈالر کے عوض گوادر کا قبضہ پاکستان کے حوالے کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی، اس رقم کا بڑا حصہ پرنس کریم آغا خان نے بطور ڈونیشن دیا اور باقی رقم حکومت پاکستان نے ادا کی، بعض جگہ یہ ہے کہ ساری رقم ہی ہز ہائینیس پرنس کریم آغا خان نے ہی ادا کی تھی۔

اس سلسلے میں ملک صاحب اپنی خود نوشت سوانح حیات “چشم دید” میں لکھتے ہیں کہ جہاں ملک کی حفاظت اور وقار کا مسئلہ درپیش ہو وہاں قیمت نہیں دیکھی جاتی، ویسے بھی یہ رقم گوادر کی آمدنی سے محض چند سال میں ریکوور ہو جائے گی، آج جب برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر اکرام اللہ نے گوادر منتقلی کی دستخط شدہ دستاویز میرے حوالے کی تو اس وقت مجھے جو خوشی ہوئی آپ اس کا اندازہ نہیں کرسکتے، اسلئے کہ گوادر جب تک ایک غیر ملک کے ہاتھ میں تھا تب مجھے یوں محسوس ہوتا تھا گویا ہم ایک ایسے مکان میں رہتے ہیں جس کا عقبی کمرہ کسی اجنبی کے تصرف میں ہے اور یہ اجنبی کسی وقت بھی اسے ایک پاکستان دشمن کے ہاتھ فروخت کر سکتا ہے اور وہ دشمن بھی اس سودے کے عوض بڑی سے بڑی رقم ادا کر سکتا ہے۔

یوں دو سال کی بھر پور جنگ کے بعد 8 ستمبر 1958 کو گوادر کا 2400 مربع میل یا 15 لاکھ ایکٹر سے زائد رقبہ پاکستان کی ملکیت میں شامل ہو گیا۔

سن 2002 میں جنرل مشرف نے گوادر پورٹ تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا جو مختلف مراحل سے گزرتا ہوا اب سی۔پیک کی شکل اختیار کر چکا ہے اور بلاشبہ پاکستان کیلئے ایک روشن مستقبل کی نوید ہے۔

آج ہر کوئی گوادر پورٹ اور سی۔پیک کا کریڈٹ تو لینا چاہتا ہے مگر اس عظیم محسن پاکستان کا نام کوئی نہیں جانتا جس نے دنیا کے چار طاقتور اسٹیک ہولڈرز، برطانوی پارلیمنٹ، سی۔آئی۔اے، ایران اور عمان سے چومکھی جنگ لڑ کے کھویا ہوا گوادر واپس پاکستان کی جھولی میں ڈال دیا۔

مطالعہ پاکستان سے چڑنے والے لوگ پاکستان کے خلاف پیش گوئیاں کرنیوالے بابوں کو صرف اسی لئے پروموٹ کرتے ہیں کہ تعمیر پاکستان کو اپنا ایمان بنا کر انمٹ نقوش چھوڑ جانے والی تحریک پاکستان کی ان بیمثال ہستیوں سے نئی نسل کہیں متاثر نہ ہونے لگے، یہ وہ خوفناک مطالعہ پاکستان ہے جس سے کچھ لوگوں کو پسینے آجاتے ہیں۔

ایک اور اعلیٰ ظرفی دیکھئے کہ اس ملک میں جہاں ایک نلکا لگا کر بھی اس کا ڈھول پوری قوم کے آگے پیٹا جاتا ہے وہاں ان اعلیٰ ظرف ہستیوں نے اپنی اس بیمثال کامیابی کا ملک گیر جشن محض اسلئے نہیں منایا کہ سلطان آف عمان کی عزت نفس مجروح نہ ہو، یہی وجہ ہے کہ قوم آج اس نابغہ روزگار کپل کو جانتے ہیں نہ ان کے اس عظیم کارنامے سے واقف ہیں۔

گوادر فتح کرنیوالی ملک و قوم کی یہ محسن محترمہ وقارالنساء نون ہیں جو پاکستان کے ساتویں وزیراعظم ملک فیروخان نون کی دوسری بیوی ہیں جن کی اس عظیم کاوش کا اعتراف نہ کرنا احسان فراموشی اور انہیں قوم سے متعارف نہ کرانا ایک بے حسی کے سوا کچھ نہیں۔

محترمہ کا سابقہ نام وکٹوریہ ریکھی تھا، آسٹریا میں پیدا ہوئیں، تعلیم و تربیت برطانیہ میں ہوئی، ملک فیروز خان نون جب برطانیہ میں حکومت ہند کے ہائی کمشنر تھے تب ان سے ملاقات ہوئی، ملک صاحب کی دعوت پر حلقہ بگوش اسلام ہو کر بمبئی میں ان کیساتھ شادی کی اور اپنا نام وکٹوریہ سے وقارالنساء نون رکھ لیا، پیار سے انہیں وکی نون بھی کہا جاتا ہے۔

محترمہ نے تحریک پاکستان کو اجاگر کرنے کیلئے خواتین کے کئی دستے مرتب کئے اور سول نافرمانی کی تحریک میں انگریز کی خضر حیات کابینہ کیخلاف احتجاجی مظاہرے اور جلوس منظم کرنے کی پاداش میں تین بار گرفتار بھی ہوئیں۔

قیام پاکستان کے بعد انہوں نے لْٹے پٹے مہاجرین کی دیکھ بھال کیلئے بڑا متحرک کردار ادا کیا، خواتین ویلفئیر کی اولین تنظیم اپوا کی بانی ممبران میں بھی آپ شامل ہیں، وقارالنساء گرلز کالج راولپنڈی اور وقارالنساء اسکول ڈھاکہ کی بنیاد بھی انہوں نے رکھی، ہلال احمر کیلئے گرانقدر خدمات انجام دیں، ضیاء الحق کے دور میں، بطور منسٹر، ٹورازم کے فروغ کیلئے دنیا بھر کو پاکستان کی طرف بخوبی راغب کیا، پاکستان ٹؤرازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن انہی کی ایک نشانی ہے۔

پاکستان کی محبت میں ان کا جذبہ بڑھاپے میں بھی سرد نہ پڑا، برطانیہ میں مقیم ان کی بے اولاد بہن کی جائیداد جب انہیں منتقل ہوئی تو اس فنڈ سے انہوں نے “وکی نون ایجوکیشن فاؤنڈیشن” قائم کیا جو آج بھی سماجی خدمات کا چراغ جلائے ہوئے ہے۔

محترمہ کی وصیت کے مطابق اس فنڈ کا ایک حصہ ان نادار مگر ذہین طلبہ کو آکسفورڈ جیسے اداروں سے تعلیم دلوانے پر خرچ ہوتا ہے جو واپس آکر اس مملکت کی خدمت کرنے پر راضی ہوں۔

محترمہ وقارالنساء نون طویل علالت کے بعد 16 جنوری سن 2000ء میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں، ایک عمرہ کرنے کے بعد انہوں نے وصیت کی تھی کہ مجھے غیر سمجھ کے چھوڑ نہ دینا بلکہ میری تدفین بھی ایک کلمہ گو مسلمان کی طرح انجام دینا۔

محترمہ کی اپنی کوئی اولاد نہ تھی، ان کی حقیقی اولاد وہ پاکستانی ہیں جو حب الوطنی میں ان کے نقش قدم پر چلنے والے ہیں۔

محترمہ کو گوادر فتح کرنے پر 1959 میں سرکار کا سب سے بڑا سول اعزاز نشان امتیاز عطا کیا گیا مگر ان کا اصل انعام وہ عزت و احترام ہے جو ہم بطور قوم انہیں دے سکتے ہیں۔

آور بیکنز اور نوائے وقت کے ایک مضمون کے مطابق محترمہ وقارالنساء نون کے سوا کوئی پرائم منسٹر، کوئی صدر، کوئی جرنیل، کوئی وزیر، مشیر، سفیر ایسا نہیں جو گوادر فتح کرنے کا یہ عظیم کریڈٹ لے سکے۔

سابق وفاقی سکریٹری اطلاعات رشید چودھری صاحب کہتے ہیں وہ “مادر مہربان” تھیں جو ہمارے ساتھ سگی ماں سے بھی بڑھ کر پیار کرتی تھیں انہوں نے گوادر ہمیں دلوایا، وہ گوادر جو آج ساری دنیا میں مرکزِ نگاہ ہے۔

سلام محترمہ وقارالنساء نون
سلام اے مادرِ مہربان

خدا تیری لحد پر ہمیشہ شبنم افشانی کرے۔آمین

Small Room Design Ideas
13/04/2021

Small Room Design Ideas

اپنے خیال کے بارے  کمینٹ سکشن میں  ضرور بتائیں۔ شئر کرتے جائیں تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں  تک آگاہی پھیلے۔
09/02/2021

اپنے خیال کے بارے کمینٹ سکشن میں ضرور بتائیں۔
شئر کرتے جائیں تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک آگاہی پھیلے۔

اپنے خیال کے بارے  کمینٹ سکشن میں  ضرور بتائیں۔ شئر کرتے جائیں تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں  تک آگاہی پھیلے۔
09/02/2021

اپنے خیال کے بارے کمینٹ سکشن میں ضرور بتائیں۔
شئر کرتے جائیں تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک آگاہی پھیلے۔

شئر کرتے جائیں تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو فائدہ حاصل ہو سکے۔
09/02/2021

شئر کرتے جائیں تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو فائدہ حاصل ہو سکے۔

سونے کی خرید و فروخت کو سمجھنے کا حساب!ایک تولہ سونا میں 11.664 گرام ھوتے ہیںاسی طرح 1 تولہ سونے میں 12 ماشے ھوتے ہیںاگر...
02/02/2021

سونے کی خرید و فروخت کو سمجھنے کا حساب!

ایک تولہ سونا میں 11.664 گرام ھوتے ہیں
اسی طرح 1 تولہ سونے میں 12 ماشے ھوتے ہیں

اگر آپ 1 تولہ زیور بنا سونا فروخت کرتے ہیں تو سنیارا اگر تو اس نے زیور آپ کو خود بنا کر دیا ھے 2 ماشے کٹوتی کرتا ھے اور اگر آپ نے کسی اور سے بنوایا اور فروخت کسی اور سنیارے کو کر رھے تو وہ ایک تولہ سونے کی 3 ماشے کٹوتی کرے گا

نوٹ: اس اوپر بیان کیے گئے داو کو سنیارا ایک رتی ماشہ یا 2 رتی ماشے کا نام دے گا

آپ نے اگر 1 تولہ سونا زیور فروخت کیا تو کٹوتی کے نام پہ آپ کے زیور سے 3 ماشے گئے
ایک ماشے کی اندازہ قیمت 9000 روپے ھے آج کل
یعنی ایک تولہ سونا زیور بیچنے سے سنیارے نے آپ کے 27000 کٹوتی کے نام پہ کاٹ لیے

اب دوسری طرف آتے ہیں یعنی اگر آپ زیور بنواتے ہیں تو 👇
ایک تولہ سونا 24 قیراط ھوتا ھے
پہلے آپ کو سمجھاتا ھوں کہ قیراط کس بلا کا نام ھے

#قیراط
قیراط (Carat) سونے کے خالص پن کو ناپنے کا معیار کا نام ھے۔
تقریبا سو فیصد خالص سونا 24 قیراط ھوتا ھے جتنے قیراط کم ھوں گے مطلب اتنی اس سونے میں ملاوٹ شامل ھے
ویسے یہ 99.99 ٪ خالص ہوتا ھے۔
12 قیراط مطلب 50 فیصد ملاوٹ اور 18 قیراط 75 فیصد خالص اور 25 فیصد ملاوٹ ھے۔
قیراط کمیت (وزن) کے پیمانے کے لیے بھی استعمال ہوتا ھے
ہیرے جواہرات اور قیمتی پتھروں کا وزن عام طور پر قیراط میں ناپا جاتا ہے۔

اب آتے ہیں اصل بات کی جانب کہ جب آپ سونا بنواتے / خریدتے ہیں تو
سنیارے عام طور پہ 15 یا 18 قیراط سونا بنا کے دیتے ہیں اور پاکستان میں چند ایک بڑے جیولرز کو چھوڑ کر کسی کے پاس 21 قیراط سے زیادہ سونا بنانے کی مشین نہیں ہیں
22 قیراط بس کراچی میں ایک 2 جیولرز بنا کے دیتے ہیں

اگر سنیارے نے آپ کو 18 قیراط زیور بنا کر دیا ھے تو اس نے سونے میں 25 فیصد ملاوٹ کی ھے
مطلب اگر ایک تولہ زیور بنا کر دیا ھے تو مثلا ایک تولہ ایک لاکھ کا ھے تو سنیارا آپ کو 75000 کا سونا دے کر ریٹ ایک لاکھ روپے لگا رھا ھے

اسی طرح اگر سنیارے نے آپ کو 21 قیراط زیور بنا کر دیا ھے تو اس کا مطلب یہ ھے کہ زیور آپ کو 87500 کا دے رھا جبکہ قیمت آپ کو 1 لاکھ سونے کی لگا رھا ھے

سیدھی سے بات ھے کہ ایک تولہ زیور ملاوٹ کر کے آپ کو بس 75000 سے 87500 کا دیں گے اور قیمت پورے تولے کی ایک لاکھ لگائیں گے

دوسرا داو ان کا پالش کے نام پہ ھوتا ھے ایک آدھ ماشہ الگ سے لگا لیں گے کہ اتنا ہمارا سونا زیور بناتے ھوئے ضائع ھو گیا ھے جس کی ایک تولے کے پینچھے قیمت 9000 سے 10000 ھو گی
یاد رھے کہ سنیارے کی دوکان کا کوڑا بھی لاکھوں میں بکتا ھے اور ان کا کچھ ضائع نہی ھوتا

آخر پہ انہوں نے مزدوری ڈالی ھوتی ھے
آپ کے بہت زیادہ اصرار پہ آپ کو مزدوری کا 2000 سے 4000 چھوڑ کر آپ پہ بہت بڑا احسان کریں گے اور کہیں گے آپ نے ہمیں بچنے کچھ نہی دیا اور یہ مزدوری بس آپ کو چھوڑ رھے ہیں کیونکہ آپ کے ساتھ ہمارا دوسری یا تیسری نسل سے تعلق ھے بلا بلا بلا بلا

سونا بیچتے وقت سونے کی ڈلی بنوائیں (وہ بھی اعتماد والے بندے سے ۔ رعایت خیر وہ بھی نہی کرتا) مطلب ملاوٹ نکال دی جاتی ھے اور خالص 24 قیراط سونا رہ جاتا ھے

پھر اس ڈلی یعنی خالص 24 قیراط سونے کو اس دن کے سرکاری ریٹ پہ بیچیں
ورنہ آپ کو بہت بڑا چونا لگ جائے گا

زیور بنواتے وقت پہلے طے کریں کہ سونا 21 قیراط بناو گے 18 یا 15
جتنا خالص وہ سونا بنائے اس حساب سے 15، 18 یا 21 قیراط کے مطابق قیمت دیں نا کہ 24 قیراط کی قیمت ادا کریں

ساتھ دھمکی دیں کہ میں ابھی اسی مشین پہ چیک بھی کرواوں گا کہ یہ 15، 18 ھے یا 21 قیراط
اور وقت یا سہولت میسر ھو تو اس کو مشین پہ چیک بھی کروا لیں کے کتنے قیراط بنا اور آپ نے کتنے قیراط کے حساب سے قیمت ادا کی

میری ان سب باتوں سے ھو سکتا میرے چند دوست ناراض ھوں لیکن میرا بتانا فرض تھا تاکہ لوگ Educate ھوں
یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کے سارے انگلیاں برابر نہی چند ایک اچھا کاروبار کرنے والے بھی ھوں گے لیکن میرے خیال میں ان کی تعداد شاید 1 فیصد سے زیادہ نا ھو۔۔

خود اعتمادی کو بڑھانے کے دس طریقے(1)آپ اپنے ذہن اور خیالات کے آئینے میں اپنے آپ کو ہمیشہ ایک کامیاب شخص کی حیثیت سے دیکھ...
01/09/2020

خود اعتمادی کو بڑھانے کے دس طریقے

(1)آپ اپنے ذہن اور خیالات کے آئینے میں اپنے آپ کو ہمیشہ ایک کامیاب شخص کی حیثیت سے دیکھیں۔ اس تصویر کو کبھی اوجھل نہ ہونے دیں۔ کبھی اپنی ناکامی کے بارے میں کوئی خیال اپنے ذہن میں نہ لائیں۔ اپنی ذاتی تصویر کی حقیقت پر کبھی شبہ نہ کریں۔ ورنہ یہ چیز آپ کیلئے بڑی خطرناک ثابت ہو گی۔ لہٰذا آپ ہمیشہ خود کو ایک کامیاب شخص کی حیثیت سے دیکھیں‘ خواہ حالات کتنے ہی غیر موافق کیوں نہ ہوں
۔(2)جب کبھی آپ کی صلاحیتوں سے متعلق کوئی تخریبی خیال آپ کے دماغ میں آئے تو فوراً اس کی مقابلے میں ایک تعمیری خیال لا کر اسے ذہن سے ختم کر دیں
۔(3)خیالوں ہی خیالوں میں مت سوچیں کہ فلاں کام کرنے کے راستے میں یہ دشواریاں ہوں گی۔ ان خیالی دشواریوں سے بچیں۔ اصلی دشواریوں کا بغور مطالعہ کریں اور ان پر قابو پانے کی کوشش کریں
۔(4) دوسرے لوگوں کے غم سے زیادہ متاثر نہ ہوں اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش مت کریں۔ یاد رکھیں کہ بعض لوگ بظاہر تو خود کو پُر اعتماد ظاہر کرتے ہیں مگر اندر سے ان کی وہی حالت ہوتی ہے جو آپ کی ہے۔
(5)دن میں دس مرتبہ یہ ہمہ گیر الفاظ ضرور دہرائیں کہ اگر رب کریم ہمارے ساتھ ہے تو پھر کون ہمارے خلاف ہو سکتا ہے۔
(6) اپنے اندر احساس کمتری اور خود اعتمادی کے فقدان کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ یہ چیزیں اکثر اوقات بچپن میں انسان کے ذہن پر سوار ہو جاتی ہیں۔ اپنے آپ کو پہچاننے سے بہت سی تکالیف کا علاج خود بخود ہو جاتا ہے۔
(7) اگر ہو سکے تو اونچی آواز میں ان الفاظ کو ہر روز دن میں دس بار دہرائیں کہ میں اللہ کی مدد سے ہر کام کر سکتا ہوں۔
(8) اپنی صلاحیتوں کا صحیح اندازہ لگانے کی کوشش کریں پھر انہیں دس فیصد بڑھا دیں ۔ خود پسند بننے کی کوشش مت کریں بلکہ اپنی عزت کرنا سیکھیں۔
(9)خود کو اللہ کی رضا پر چھوڑ دیں۔ پھر یقین کر لیں کہ اب وہ آپ کے اندر کی تعمیری قوتوں کا محرک بن رہا ہے۔
(10)اپنے آپ کو ہر وقت یہ یاد دلاتے رہیں کہ اللہ کی ذات آپ کے ساتھ ہے لہٰذا دنیا کی کوئی طاقت آپ کو شکست نہیں دے سکتی۔ جائیے اب خود اعتمادی کا ہتھیار آپ کے ساتھ ہے۔ آپ زندگی کے کسی میدان میں کبھی ناکا م نہیں رہیں گے۔ خود اعتماد ی ہی وہ خوبی ہے جو آپ کو پُر وقار بنائے گی۔ -

01/08/2020

Hi dear Family,,,These Beautiful images are for you. Hit like Button,React and post your Comments.

Address

Rawalpindi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Marriage Proposal Rwp,Isb,Attock,Fathy jang posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share