28/12/2024
برونکائیولائٹس ایک عام پھیپھڑوں کا انفیکشن ہے جو زیادہ تر نومولود اور دو سال سے کم عمر کے چھوٹے بچوں کو متاثر کرتا ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب پھیپھڑوں کی چھوٹی ہوائیں (برونکائیولز) سوجن کا شکار ہو جائیں اور ان میں بلغم بھر جائے، جس سے سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے۔
وجوہات
برونکائیولائٹس کی سب سے عام وجہ وائرل انفیکشن ہوتی ہے، عام طور پر:
• ریسپائریٹری سنسیشیئل وائرس (RSV) (سب سے عام)
• انفلوئنزا
• رائنو وائرس
• ایڈینو وائرس
علامات
• ناک بہنا
• کھانسی
• سانس لیتے وقت سیٹی جیسی آواز (وائیزنگ)
• سانس لینے میں دشواری
• کبھی کبھار بخار
• تیز یا ہلکی سانسیں
• نومولود بچوں میں دودھ پینے میں دشواری
خطرے کے عوامل
• قبل از وقت پیدائش
• دل یا پھیپھڑوں کی موجودہ بیماریاں
• کمزور مدافعتی نظام
• سگریٹ کے دھوئیں کے سامنے آنا
• گنجان آبادی والے علاقے
تشخیص
• علامات اور عمر کی بنیاد پر کلینیکل معائنہ
• بعض اوقات وائرس کی شناخت کے لیے ایکس رے یا ناک کا نمونہ لیا جا سکتا ہے۔
علاج
• سپورٹو علاج سب سے مؤثر طریقہ ہے کیونکہ برونکائیولائٹس عام طور پر وائرل ہوتی ہے، جو اینٹی بائیوٹکس سے ٹھیک نہیں ہوتی۔
• فلوئیڈز: پانی کی کمی کو روکنے کے لیے۔
• آکسیجن: اگر سانس لینے میں دشواری ہو۔
• سکشننگ: بلغم صاف کرنے کے لیے۔
• ادویات: بعض اوقات برونکوڈائیلیٹرز یا کورٹیکوسٹیرائیڈز استعمال کیے جاتے ہیں۔
احتیاطی تدابیر
• باقاعدہ ہاتھ دھونا
• بیمار افراد سے دور رہنا
• وائرل سیزن میں بچوں کو رش سے بچانا
• زیادہ خطرے والے بچوں کے لیے حفاظتی ادویات (مثلاً پالیوزوماب)
زیادہ تر معاملات میں، برونکائیولائٹس 1-2 ہفتوں میں خود ہی ٹھیک ہو جاتی ہے، لیکن شدید کیسز میں اسپتال میں داخلے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اگر کسی بچے کو سانس لینے یا پانی کی کمی کی علامات ظاہر ہوں، تو فوری طور پر طبی امداد حاصل کریں۔