14/03/2026
مسجد نبوی کے اندر ایک نبوی یادگار المسجد النبوي کے اندر ایک ایسی جگہ موجود ہے جو ایک عظیم صحابی کی بے مثال سخاوت اور اللہ کی رضا کے لیے قربانی کی یاد دلاتی ہے۔ حضرت ابو طلحہ انصاریؓ کا عظیم صدقہ
اس واقعے کے مرکزی کردار جلیل القدر صحابی
أبو طلحة الأنصاري رضی اللہ عنہ ہیں۔آپ مدینہ کے انصار میں سے تھے اور بہت زیادہ مالدار صحابہ میں شمار ہوتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں باغات، کھجوروں کے درخت، مویشی اور زمینوں کی کثرت عطا فرمائی تھی۔ لیکن ان کی سب سے محبوب ملکیت ایک باغ اور کنواں تھا جسے بئر حاء کہا جاتا تھا۔بئر حاء کی فضیلت یہ کنواں اس لیے بھی خاص تھا کہ محمد ﷺ اس جگہ تشریف لاتے، اس کا پانی پیتے اور اس سے وضو فرماتے تھے۔ یہ کنواں ان سات کنوؤں میں شمار کیا جاتا ہے جن سے نبی کریم ﷺ نے پانی نوش فرمایا۔ قرآن کی آیت اور عظیم قربانی
جب قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی
"لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ"
(آل عمران: 92)
یعنی: تم ہرگز نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک اپنی پسندیدہ چیز اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو۔تو حضرت ابو طلحہؓ فوراً رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا "یا رسول اللہ! میرے مال میں سب سے زیادہ محبوب بئر حاء ہے، میں اسے اللہ کی رضا کے لیے صدقہ کرتا ہوں۔"یہ سن کر رسول اللہ ﷺ بہت خوش ہوئے اور فرمایا
"بَخٍ بَخٍ، ذٰلِكَ مَالٌ رَابِحٌ"
یعنی: واہ! یہ تو بہت نفع والا مال ہے۔
پھر آپ ﷺ نے مشورہ دیا کہ اسے اپنے قریبی رشتہ داروں میں تقسیم کر دیں۔آج اس جگہ کی نشانی وقت گزرنے کے ساتھ جب المسجد النبوي کی توسیع ہوئی تو اس کنویں کو بند کر دیا گیا کیونکہ اس کا پانی خشک ہو چکا تھا۔آج اس جگہ کی نشانی مسجد نبوی کے اندر موجود ہے
باب الملك فهد کے قریب دروازہ 21 اور 22 کے درمیان
بائیں جانب فرش کے نیچے وہاں سنگِ مرمر کی تین گول نشانیاں رکھی گئی ہیں جو اس تاریخی کنویں کی جگہ کو ظاہر کرتی ہیں۔ اکثر اوقات یہ جگہ قالین سے ڈھکی ہوتی ہے، لیکن غور سے دیکھنے پر اس کا فرش اردگرد کے نقش و نگار سے مختلف نظر آتا ہے۔یہ مقام آج بھی اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کی راہ میں محبوب چیز قربان کرنے والا عمل صدیوں تک یاد رکھا جاتا ہے۔