08/08/2025
ڈاکٹر بھی انسان ہوتے ہیں...
یہ ایک سادہ سی تصویر ہے!
ایک تھکا ہارا ڈاکٹر، ہاتھ میں چائے اور بسکٹ لیے بریک روم کی جانب بڑھ رہا ہے۔
مگر اُس کے پیچھے بیٹھے چند لوگ
ناراضی، بے صبری اور غصّے سے اُسے گھور رہے ہیں...
شاید اس لیے کہ اُنہیں کچھ دیر مزید انتظار کرنا پڑا۔
لیکن کیا ہم نے کبھی ایک لمحے کو یہ سوچا کہ:
• شاید وہ ڈاکٹر پچھلے کئی گھنٹوں سے لگاتار مریضوں کی دیکھ بھال کر رہا ہو؟
• شاید وہ ساری رات جاگتا رہا ہو، بغیر کچھ کھائے پیے،
• شاید وہ ابھی ابھی ایک نہایت نازک سرجری مکمل کر کے نکلا ہو؟
• یا شاید وہ کسی ماں، کسی باپ، یا کسی شوہر کو یہ دل دہلا دینے والی خبر دے کر آیا ہو… کہ اُن کا پیارا اب اس دنیا میں نہیں رہا؟
اور یہ سب کرنے کے بعد بھی، اُس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ تازہ دم، مسکراتا ہوا، اور مکمل توجہ کے ساتھ اگلے مریض کو دیکھے۔
کیا ایسا شخص چند لمحوں کے آرام کا حق دار نہیں؟
خاص طور پر پاکستان جیسے ملک میں، جہاں ڈاکٹرز بسا اوقات لگاتار 36 گھنٹے کی ڈیوٹیاں دیتے ہیں — ایک ایسی صورتحال جو انسانی جسم و دماغ کے لیے ممکن ہی نہیں — ہم سے یہ توقع کرنا کہ وہ ہر وقت مکمل توانائی کے ساتھ کام کریں، حقیقت سے بہت دور ہے۔
ہم جب انتظار کر رہے ہوتے ہیں،
تو ہمیں اپنا وقت سب سے قیمتی محسوس ہوتا ہے...
مگر جب ہمیں ضرورت پیش آتی ہے،
تو ہم چاہتے ہیں ایک ایسا ڈاکٹر جو فوری دستیاب ہو،
تازہ دم، نرم خو، مکمل توجہ دینے والا۔
تو کیوں نہ ہم اُسے وہ چند قیمتی لمحے دے دیں؟
تاکہ وہ خود کو بحال کر کے
ہماری، آپ کی، سب کی بہتر خدمت کر سکے؟
"ڈاکٹر روبوٹ نہیں ہوتے — وہ بھی ہماری طرح انسان ہیں۔
اور ہر انسان، آرام، سکون اور مہربانی کا مستحق ہے۔"