07/05/2022
ڈپریشن
عموما لوگ ہمارے ہاں دکھی ہونے کو ڈپریشن سمجھنا شروع کر دیتے ہیں اور بہت سے لوگ ہلکے سے دکھ کو بھی ڈپریشن کہنا شروع کر دیتے ہیں۔
مگر وہ دکھ ڈپریشن نہیں فقط پریشانی ہوتی ہے۔
اسی طرح تحقیق سے ثابت ہوچکا ہے کہ باقاعدگی کیساتھ ہفتے میں ایک دن ورزش کرنے سے آپ مستقبل میں ڈپریشن سے بچ سکتے ہیں۔
گیارہ سال تک 33 ہزار لوگوں پہ کی گئی تحقیق کے بعد محققین اس نتیجے پہ پہنچے تھے کہ اگر تحقیق کا حصہ بننے والے لوگ ہفتے میں ایک دن محض ایک گھنٹہ کسی بھی طرح کی ورزش کر لیتے تو ان کا 12% ڈپریشن سے بچ سکتا تھا۔ یاد رہے یہ لوگ پھر بھی انزائٹی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ڈپریشن اور انزائٹی دو الگ الگ چیزیں ہیں۔
ڈپریشن ایک بہت برے احساس کا نام ہے۔ جس سے گزرنا اذیت سے کم نہیں۔ اسی طرح ڈپریشن اور انزائٹی بہت نزدیکی تعلق رکھتے ہیں مگر ان میں بہت بڑا فرق ہے جیسا کہ،
ڈپریشن یہ ہے کہ آپ ناامید ہو جائیں۔ اپنے نزدیک خود کی وقعت کھو دیں اور کوشش کرنا وقت کا ضیاع سمجھیں۔
جبکہ انزائٹی یہ ہے کہ آپ حد سے زیادہ پریشان رہیں۔ بہت زیادہ سوچنا شروع کردیں اور لوگوں سے کترانے لگیں۔
جبکہ خودکشی کی سوچ دونوں میں آنے لگتی ہے۔
پہلے جملے کی سادہ سی تشریح یہ ہے کہ جو لوگ ڈپریشن جیسے تلخ احساس سے گزرتے ہیں تو وہ کسی بھی کام پہ توجہ نہیں دے پاتے۔ وہ دکھی نہیں ہوتے مگر ان کا دل کسی ایسے خوف میں مبتلا رہتا ہے جو ان کو زندگی میں کوئی مقصد نہیں دکھاتا۔ ان کا دل کسی بھی چیز میں نہیں لگتا بلکہ ان کی سوئی ایک ہی منفی خیال پہ اٹک کر رہ جاتی ہے۔ وہ خیال ان کے ذہن میں ہر وقت گھومتا رہتا ہے اور وہ زندگی کو بے معنی سمجھنا شروع کر دیتے ہیں اور "گھر" واپس جانے کا سوچنے لگتے ہیں ان کا دل کہیں نہیں لگتا۔
ایسے میں اگر آپ ڈپریشن میں ہیں؟ بہت پریشان ہیں؟ تو درج ذیل روٹین کو فالو کرنے کی کوشش کریں کہ؛
کل جب سو کر اٹھیں گے تو سب سے پہلے اپنا بستر خود ٹھیک کریں۔
اگر آپ مرد ہیں تو اپنے بال کٹوائیں اور شیو بنوائیں۔
گندے لباس کی بجائے صاف لباس پہنیں، اگر دو ہی سوٹ ہیں تو روزانہ دھو کر صاف لباس پہنیں۔
کچھ دنوں تک ان تین کاموں کی روٹین بنائے رکھیں۔ پھر کچھ مزید کام کرنا شروع کریں جیسا کہ؛
سونے سے اٹھنے کے بعد شاور ضرور لیں۔
روز رات کو سونے کا اور صبح جاگنے کا وقت سیٹ کریں۔ اور اس پر عمل کریں۔
کھانا چاہے ایک نوالہ کھائیں مگر وقت پہ کھائیں۔
ایک کتاب اور ڈائری لیں۔ کتاب کا ایک صحفہ روزانہ پڑھیں۔ اور ڈائری میں روز اپنی ایک اچھی بات نوٹ کریں وہ بات جو آپ کو خود میں بہت پسند ہے۔ اگر کچھ بھی پسند نہیں ہے تو آپکا دماغ آپ سے جھوٹ بول رہا ہے۔ کوشش کریں یہ آپ کو سچ بتائے۔
پانی زیادہ سے زیادہ پئیں۔
کوئی فزیکل گیم یا مشقت شروع کریں۔
یاد رہے!
روٹین لائف ڈپریشن سے نکلنے کی طرف اٹھا پہلا قدم ہے۔ کیونکہ ڈپریشن ہمارے دماغ کے اس حصے کو متاثر کرتی ہے جو کہ روٹین کو سیٹ کرتا ہے۔ جب ہم ڈپریشن میں جاتے ہیں تو سب سے پہلے یہ حصہ متاثر ہوتا ہے۔ اگر آپ ڈپریشن کی جڑ کو پکڑیں گے تو کچھ ہی عرصہ میں آپ بہت بہتر حالت میں آ جائیں گے۔ لیکن آپ یہ کام ایک ہی دن میں اچیو نہیں کر سکتے، بعض لوگوں کو ہفتے اور بعض کو مہینے لگ سکتے ہیں پھر جا کے یہ جنگ وہ جیت پاتے ہیں۔
لیکن!
ہر چھوٹی موٹی پریشانی ڈپریشن ہرگز نہیں ہے لیکن ہم اسے ڈپریشن سمجھ بیٹھتے ہیں۔ اسے ڈپریشن مت سمجھیں لیکن اس پریشانی میں بھی اسی روٹین کو ہی فالو کریں۔ یہ ایک سادہ سا کلیہ تمام سائیکالوجسٹ پریشانیوں میں گھرے کسی بھی شخص کو بتاتے ہیں کیونکہ اونٹ کو نکیل ڈالنے کے لئے اس پہ عمل کرنا بہت ضروری ہے۔