07/04/2023
بابا جی سے پوچھا کہ:-
" آج کل اتنی غربت کیوں ھے" ؟ - - -
بابا جی نے مسکرا کے جواب دیا کہ:-
" آج اتنی غربت نہیں ہے جتنا لوگوں نے شور مچا رکھا ھے۔ ۔
۔ پتر، آجکل ہم جس کو غربت بولتے ہیں وہ در اصل جائز ، ناجائز خواہشات کا پورا نہ ہونا ہے۔
اب سے کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ اسکول میں تختی خشک کرنے کے لئیے گاچی کے جب پیسے نہیں ہوتے تھے تو چکنی مٹی تختی پہ لگایا کرتے تھے۔۔
سلیٹ پر لکھنے کے لئیے سلیٹی خریدنے کے پیسے نہیں ہوتے تھے تو بجری کا کنکر استمعال کرتے تھے۔
سکول میں بیٹھنے کے لئیے بینچ اور کرسیاں نہیں ہوتی تھیں بلکہ ہم گھر سے بوری لے جاتے تھے جس پہ بیٹھ کے پڑھتے تھے۔
سکول میں بریک ٹائم کے لئیے روٹی اور اچار کا استعمال عام تھا۔
عید کے کپڑے جو لیتے تھے وہی سکول بھی پہن لیتے تھے۔
اگر کسی انتہائی قریبی عزیز کی شادی بیاہ کے لیے کپڑے لیتے تھے تو اسکول کلر کے ہی لیتے تھے۔۔
جوتا بھی اگر پھٹ جاتا تو بار بار سلائی کرواتے تھے۔۔
اکثر بڑے بوڑھوں کے پاس صرف تین سوٹ اور دو جوڑے جوتیاں ہوتی تھیں۔دو جوڑے اور ایک جوتی عموما گھر میں پہننے کے لئیے اور ایک جوڑا اور ایک جوتی کسی خوشی غمی میں آنے جانے کے لئیے مختص ہوتی تھی- -
پتر، آج کا موٹر سائیکل دوڑاتا نوجوان جو غربت کا رونا رو رہا ہوتا ھے اُسکی جیب میں کم از کم تیس ہزار کا موبائل، کپڑے کم سے کم تین ہزار کے، جوتا کم سے کم تین ہزار کا ہوتا ہیے۔
پتر، غربت کے دن تو ہمارے لئیے وہ بھی نہین تھے ہمارے گھر میں بتّی جلانے کے لیے تیل نہیں ہوتا تھا تو روئی کو سرسوں کے تیل میں ڈبو کر جلا لیتے۔ اور اس کی روشنی میں اپنی پڑھائی کرتے۔
کھانے کے لئیے سالن نہ ہوتا تو پیاز کو مکی مار کے توڑ کے اس کے ساتھ کھا لیتے یا پودینے کی چٹنی کوٹ کر اس سے روٹی کھا لیتے تھے۔ آج کسی برگر اور پیزا کی دوکان پر چلے جاو، گھنٹوں آپ کی باری نہیں آئے گی۔
مہنگے سے مہنگے برانڈ کی دوکانوں میں گاہکوں کے درمیان کیشیئر بمشکل سانس لے پاتا ہے۔
مہنگے انگلش میڈیم سکولوں سے کم کہیں بچے پڑھانا بے عزتی خیال کی جاتی ہے، سڑک کراس کرنا انتہائی مشکل کام ہو گیا ہے اور ہر سال باہر ملک کا یا اپنے ملک کہیں سیر و تفریح کا ٹرپ نہ لگانا شرمندگی کے زمرے میں آتا ہے۔
ایسی اور بیشمار چیزیں ہیں جو ضروریات نہیں بلکہ خواہشات ہیں لیکن ان کی تکمیل ہم نے اپنے اوپر فرض کر لی ہے۔
*آج خواہشات کا پورا نہ ہونے کا نام غربت ھے.*
*ہم ناشکرے ہوگئے ہیں, اسی لئے برکتیں اٹھ گئی ہیں.*
" پتر ! سچ بات یہ ہے کہ پہلے معاشرتی درجہ بندی کم تھی معاشرتی اسٹیٹس کم و بیش ایک جیسا تھا ، توکل بہت تھا، باہمی ہمدردی زیادہ تھی، مل کر رہنا اچھا سمجھتے تھے جبکہ آجکل تنہائی پسندی ہے، تب علم کم مگر عمل بہتر تھا ۔ ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کیا جاتا تھا
اس دور میں اللہ کی نعمتیں بدرجہا زیادہ ہیں، بلکہ پرانے دور کے بادشاہوں کو بھی وہ سہولیات میسر نہ ہوتی تھیں جو آجکل ایک عام انسان کو میسر ہیں ، لیکن اکثر شکر ، توکل اور باہمی تعلقات کمزور ہیں .
پتر، ہم بحیثیت مجموعی خواہشات کے غلام بن چکے ہیں ہوس گھٹی میں پڑچکی ہے، اپنے سے نچلے کو دیکھ کر شکر ادا نہیں کرتے بلکہ اپنے سے اوپر والے کو دیکھ کر نہ صرف حسد کرتے ہیں بلکہ اپنے رب سے شکوہ تک کر جاتے ہیں - - -
اللّہ کریم ہم سب کو کامل ہدایت بخشے اور صبر و شکر کرنے والا بنائے اور خواہشات کی غلامی سے بچائے۔
خواہشات حتی الامکان کم سے کم رکھیں، ضروریات رب العالمین پوری کرے گا۔ انشاءاللہ
آمین ثم آمین یا رب العالمین
"منقول"