Supporting Lives - Trust

Supporting Lives - Trust Supporting Lives. Free medical camps in all regions. Career counselling programs.

موسم بہار کی شجرکاری مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، اپنے لئے، انسانیت کے لئے، پاکستان کے لئے اور اپنی آئندہ نسلوں کے لئے۔۔۔...
22/03/2024

موسم بہار کی شجرکاری مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، اپنے لئے، انسانیت کے لئے، پاکستان کے لئے اور اپنی آئندہ نسلوں کے لئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Save waterSave lives
22/12/2023

Save water
Save lives

17/07/2023

اللہ پاک برکتیں اور کامیابیاں عطا فرمائے، آمین ثم آمین

16/07/2023

مملکت خداداد "پاکستان" میں سرکار کی کارکردگی کی تصویر۔۔۔۔۔

بادشاہ کا گزر اپنی سلطنت کے ایسے علاقے سے ہوا جہاں کے لوگ نہر سے ہی پانی لیکر پیتے تھے۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ عوام الناس کی سہولت کیلئے یہاں ایک گھڑا بھر کر رکھ دیا جائے تو زیادہ بہتر رہے گا اور ہر چھوٹا بڑا سہولت کے ساتھ پانی پی سکے گا۔

شاہی حکم پر ایک گھڑا خرید کر نہر کے کنارے رکھا جانے لگا تو ایک اہلکار نے مشورہ دیا یہ گھڑا عوامی دولت سے خرید کر شاہی حکم پر نصب کیا جا رہا ہے۔ ضروری ہے کہ اس کی حفاظت کا بندوبست کیا جائے اور ایک سنتری مقرر کیا جائے۔

سنتری مقرر ہونے کے ساتھ ہی ماشکی کی ضرورت پیش آئی۔ اور ہفتے کے سات دنوں گھڑا بھرنے کے لئے سات سنتری اور سات ہی ماشکی ملازم رکھے ،

ایک اور محنتی اہلکار نے رائے دی کہ نہر سے گھڑا بھرا ہوا اٹھا کر لانا نہ تو ماشکی کا کام بنتا ہے اور نہ ہی سنتری کا۔ اس محنت طلب کام کیلیئے سات باربردار بھی رکھے جانے چاہیئں جو باری باری روزانہ بھرے ہوئے گھڑے کو احتیاط سے اٹھا کر لائیں اور اچھے طریقے سے ڈھکنا لگا کر بند کر کے رکھیں بار بردار بھرتی کیے گئے،

ایک اور دور اندیش مصاحب نے مشورہ دیا کہ اتنے لوگوں کو رکھ کر کام کو منظم طریقے سے چلانے کیلیئے ان سب اہلکاروں کا حساب کتاب اور تنخواہوں کا نظام چلانے کیلیئے محاسب رکھنے ضروری ہونگے، اکاؤنٹنگ کا ادارہ بنانا ہوگا، اکاؤنٹنٹ متعیین کرنا ہونگے رکھ لیے گیے ،،

ایک اور ذو فہم و فراست اہلکار نے مشورہ دیا کہ یہ اسی صورت میں ہی یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ ہر کام اچھے طریقے سے چل رہا ہے تو ان سارے ماشکیوں، سنتریوں اور باربرداروں سے بہتر طریقے سے کام لینے کیلیئے ایک ذاتی معاملات کا ایک شعبہ قائم کرنا پڑے گا جو قائم کردیا گیا ،،

ایک اور مشیر آیا کہ یہ سب کچھ ٹھیک ہو رہا ہے مگر ملازمین کے درمیان میں لڑائی جھگڑا یا کوئی زیادتی ہو جاتی ہے تو ان کا تصفیہ اور ان کے درمیان میں صلح صفائی کون کرائے گا؟ تاکہ کام بلاتعطل چلتا رہے، اس لیئے میری رائے میں خلاف ورزی کرنے والوں اور اختلاف کرنے والوں کی تفتیش کے لیے ایک قانونی امور کا محکمہ قائم کیا جانا چاہیے وہ بھی قایم کر لیا گیا ،

ان سارے محکموں کی انشاء کے بعد ایک صاحب کا یہ مشورہ آیا کہ اس سارے انتظام پر کوئی ہیڈ بھی مقرر ہونا چاہیئے۔ ایک ڈائریکٹر بھی تعیینات کر دیا گیا۔

سال کے بعد حسب روایت بادشاہ کا اپنی رعایا کے دورے کے دوران اس مقام سے گزر ہوا تو اس نے دیکھا کہ نہرکے کنارے کئی کنال رقبے پر ایک عظیم الشان عمارت کا وجود آ چکا ہے جس پر لگی ہوئی روشنیاں دور سے نظر آتی ہیں اور عمارت کا دبدبہ آنکھوں کو خیرہ کرتا ہے۔ عمارت کی پیشانی پر نمایاں کر کے "وزارت انتظامی امور برائے گھڑا " کا بورڈ لگا ہوا ہے۔

بادشاہ اپنے مصاحبین کے ساتھ اندر داخل ہوا تو ایک علیحدہ ہی جہان پایا۔ عمارت میں کئی کمرے، میٹنگ روم اور دفاتر قائم تھے۔ ایک بڑے سے دفتر میں ، آرام کرسی پر عظیم الشان چوبی میز کے پیچھے سرمئی بالوں والا ایک پر وقار معزز شخص بیٹھا ہوا تھا جس کے سامنے تختی پر ڈائریکٹر جنرل برائے معاملات سرکاری گھڑا" لکھا ہوا تھا۔

بادشاہ نے حیرت کے ساتھ اپنے وزیر سے اس عمارت کا سبب پوچھا، اور ساتھ ہی اس عجیب و غریب محکمہ کے بارے میں پوچھا جس کا اس نے اپنی زندگی میں کبھی نام بھی نہیں سنا تھا۔

بادشاہ کے وزیر نے جواب دیا: حضور والا، یہ سب کچھ آپ ہی کے حکم پر ہی تو ہوا ہے جو آپ نے پچھلے سال عوام الناس کی فلاح اور آسانی کیلیئے یہاں پر گھڑا نصب کرنے کا حکم دیا تھا۔

بادشاہ مزید حیرت کے ساتھ باہر نکل کر اس گھڑے کو دیکھنے گیا جس کو لگانے کا اس نے حکم دیا تھا۔ بادشاہ نے دیکھا کہ گھڑا نہ صرف خالی اور ٹوٹا ہوا ہے بلکہ اس کے اندر ایک مرا ہوا پرندہ بھی پڑا ہوا ہے۔ گھڑے کے اطراف میں بیشمار لوگ آرام کرتے اور سوئے ہوئے پڑے ہیں اور سامنے ایک بڑا بورڈ لگا ہوا ہے:

"گھڑے کی مرمت اور بحالی کیلیئے اپنے عطیات جمع کرائیں۔ منجانب وزارت انتظامی امور برائے گھڑا"

میرے وطن کی کہانی ۔۔۔صدر مملکت، وزیراعظم، وفاقی وزیر ، وزیر مملکت ، صوبائی وزیر ، پرسنل سیکرٹری ، مشیر، بیوروکریٹ، مقتدر حلقے، اسٹاف۔۔ عہدے ، پروٹوکول اور کام صفر ۔
منقول۔

07/04/2023

‏بابا جی سے پوچھا کہ:-
" آج کل اتنی غربت کیوں ھے" ؟ - - -

بابا جی نے مسکرا کے جواب دیا کہ:-
" آج اتنی غربت نہیں ہے جتنا لوگوں نے شور مچا رکھا ھے۔ ۔
۔ پتر، آجکل ہم جس کو غربت بولتے ہیں وہ در اصل جائز ، ناجائز خواہشات کا پورا نہ ہونا ہے۔

اب سے کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ اسکول میں تختی خشک کرنے کے لئیے گاچی کے جب پیسے نہیں ہوتے تھے تو چکنی مٹی تختی پہ لگایا کرتے تھے۔۔
سلیٹ پر لکھنے کے لئیے سلیٹی خریدنے کے پیسے نہیں ہوتے تھے تو بجری کا کنکر استمعال کرتے تھے۔
سکول میں بیٹھنے کے لئیے بینچ اور کرسیاں نہیں ہوتی تھیں بلکہ ہم گھر سے بوری لے جاتے تھے جس پہ بیٹھ کے پڑھتے تھے۔
سکول میں بریک ٹائم کے لئیے روٹی اور اچار کا استعمال عام تھا۔
عید کے کپڑے جو لیتے تھے وہی سکول بھی پہن لیتے تھے۔
اگر کسی انتہائی قریبی عزیز کی شادی بیاہ کے لیے کپڑے لیتے تھے تو اسکول کلر کے ہی لیتے تھے۔۔
جوتا بھی اگر پھٹ جاتا تو بار بار سلائی کرواتے تھے۔۔
اکثر بڑے بوڑھوں کے پاس صرف تین سوٹ اور دو جوڑے جوتیاں ہوتی تھیں۔دو جوڑے اور ایک جوتی عموما گھر میں پہننے کے لئیے اور ایک جوڑا اور ایک جوتی کسی خوشی غمی میں آنے جانے کے لئیے مختص ہوتی تھی- -

پتر، آج کا موٹر سائیکل دوڑاتا نوجوان جو غربت کا رونا رو رہا ہوتا ھے اُسکی جیب میں کم از کم تیس ہزار کا موبائل، کپڑے کم سے کم تین ہزار کے، جوتا کم سے کم تین ہزار کا ہوتا ہیے۔

پتر، غربت کے دن تو ہمارے لئیے وہ بھی نہین تھے ہمارے گھر میں بتّی جلانے کے لیے تیل نہیں ہوتا تھا تو روئی کو سرسوں کے تیل میں ڈبو کر جلا لیتے۔ اور اس کی روشنی میں اپنی پڑھائی کرتے۔
کھانے کے لئیے سالن نہ ہوتا تو پیاز کو مکی مار کے توڑ کے اس کے ساتھ کھا لیتے یا پودینے کی چٹنی کوٹ کر اس سے روٹی کھا لیتے تھے۔ آج کسی برگر اور پیزا کی دوکان پر چلے جاو، گھنٹوں آپ کی باری نہیں آئے گی۔
مہنگے سے مہنگے برانڈ کی دوکانوں میں گاہکوں کے درمیان کیشیئر بمشکل سانس لے پاتا ہے۔
مہنگے انگلش میڈیم سکولوں سے کم کہیں بچے پڑھانا بے عزتی خیال کی جاتی ہے، سڑک کراس کرنا انتہائی مشکل کام ہو گیا ہے اور ہر سال باہر ملک کا یا اپنے ملک کہیں سیر و تفریح کا ٹرپ نہ لگانا شرمندگی کے زمرے میں آتا ہے۔
ایسی اور بیشمار چیزیں ہیں جو ضروریات نہیں بلکہ خواہشات ہیں لیکن ان کی تکمیل ہم نے اپنے اوپر فرض کر لی ہے۔

*آج خواہشات کا پورا نہ ہونے کا نام غربت ھے.*

*ہم ناشکرے ہوگئے ہیں, اسی لئے برکتیں اٹھ گئی ہیں.*

" پتر ! سچ بات یہ ہے کہ پہلے معاشرتی درجہ بندی کم تھی معاشرتی اسٹیٹس کم و بیش ایک جیسا تھا ، توکل بہت تھا، باہمی ہمدردی زیادہ تھی، مل کر رہنا اچھا سمجھتے تھے جبکہ آجکل تنہائی پسندی ہے، تب علم کم مگر عمل بہتر تھا ۔ ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کیا جاتا تھا

اس دور میں اللہ کی نعمتیں بدرجہا زیادہ ہیں، بلکہ پرانے دور کے بادشاہوں کو بھی وہ سہولیات میسر نہ ہوتی تھیں جو آجکل ایک عام انسان کو میسر ہیں ، لیکن اکثر شکر ، توکل اور باہمی تعلقات کمزور ہیں .
پتر، ہم بحیثیت مجموعی خواہشات کے غلام بن چکے ہیں ہوس گھٹی میں پڑچکی ہے، اپنے سے نچلے کو دیکھ کر شکر ادا نہیں کرتے بلکہ اپنے سے اوپر والے کو دیکھ کر نہ صرف حسد کرتے ہیں بلکہ اپنے رب سے شکوہ تک کر جاتے ہیں - - -

اللّہ کریم ہم سب کو کامل ہدایت بخشے اور صبر و شکر کرنے والا بنائے اور خواہشات کی غلامی سے بچائے۔
خواہشات حتی الامکان کم سے کم رکھیں، ضروریات رب العالمین پوری کرے گا۔ انشاءاللہ

آمین ثم آمین یا رب العالمین

"منقول"

Address

Rawalpindi
051

Telephone

+923115000370

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Supporting Lives - Trust posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share