Wellness Studio by Hadia Chaudhary

Wellness Studio by Hadia Chaudhary Welcome to "Wellness Studio by Hadia Chaudhary" –a page dedicated to mental wellness, self-care, and personal growth!

I’m Hadia Chaudhary, a clinical psychologist, working extensively with individuals facing addiction, trauma and emotional challenges.

Emotional Intelligenceآج میں نے اور میرے کلائنٹس نے ڈسکس کیا اور سیکھا کہ: جب کوئی ہمیں تکلیف دے تو پہلا ردعمل غصہ ہوتا ...
28/08/2025

Emotional Intelligence
آج میں نے اور میرے کلائنٹس نے ڈسکس کیا اور سیکھا کہ:
جب کوئی ہمیں تکلیف دے تو پہلا ردعمل غصہ ہوتا ہے، مگر جذباتی ذہانت یہ سکھاتی ہے کہ اُس لمحے رک کر سوچا جائے:
“کیا یہ ردعمل میرے رشتے کو جوڑ دے گا یا توڑ دے گا؟”
جب زندگی ہمیں دھکے دیتی ہے تو ہم یا تو مایوسی میں ڈوب جاتے ہیں یا اس سے سیکھ کر مضبوط ہو جاتے ہیں۔
نفسیات اسے Resilience کہتی ہے، اور یہ اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب ہم درد کو دشمن کے بجائے استاد سمجھنے لگیں۔
کلینیکل مشاہدہ یہ بتاتا ہے:
وہ لوگ جو اپنے جذبات کو نام دے سکتے ہیں ("میں غصے میں ہوں"، "میں خوفزدہ ہوں")، وہ اپنے جذبات کو بہتر کنٹرول بھی کر سکتے ہیں۔
وہ افراد جو دوسروں کے دکھ کو سمجھتے ہیں، اُن کے تعلقات دیرپا اور بامعنی ہوتے ہیں۔
جو اپنی غلطیوں کو مان لیتے ہیں، اُن کی شخصیت میں زیادہ اعتماد اور سکون ہوتا ہے۔
آخر میں، لوگ یا رشتے آپ کے الفاظ یا کام یاد رکھتے ہیں، لیکن سب سے زیادہ یہ یاد رکھتے ہیں کہ آپ نے انہیں کیسا محسوس کروایا تھا۔ یہی آپ کی اصل پہچان ہے۔
ہادیہ چوہدری ✨

Create healthy boundaries ✨
23/08/2025

Create healthy boundaries ✨

والدین کے لیے ایک اہم پیغام .... اپنے بچوں کی جذباتی دنیا کو سمجھیے ۔بچوں کی پرورش صرف کھانے، لباس اور تعلیم تک محدود نہ...
05/08/2025

والدین کے لیے ایک اہم پیغام ....
اپنے بچوں کی جذباتی دنیا کو سمجھیے ۔

بچوں کی پرورش صرف کھانے، لباس اور تعلیم تک محدود نہیں۔ ان کی جذباتی ضروریات (Emotional Needs) کو سمجھنا اور اُن کا خیال رکھنا بھی ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے جو کہ ہر والدین پر عائد ہوتی ہے۔
ہر بچے کی ذہنی و جذباتی نشوونما (development) مختلف مراحل سے گزرتی ہے:
بچپن: بچے کو غیر مشروط محبت، تحفظ، اور والدین کی موجودگی کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔
ابتدائی بلوغت: بچے کو خود اعتمادی اور اپنی اہمیت کا احساس دلانے کی ضرورت ہوتی ہے۔
نوجوانی : وہ اپنی شناخت تلاش کر رہا ہوتا ہے، یہاں جذباتی سپورٹ، رہنمائی، اور کھلے دل سے بات سننا بے حد ضروری ہے۔
اگر والدین ہر مرحلے کی ان مخصوص ضروریات کو سمجھیں اور وقت پر صحیح ردعمل دیں، تو بچہ ایک جذباتی طور پر متوازن، خود اعتماد، اور مثبت شخصیت بن کر اُبھرتا ہے۔ لیکن اگر انہیں مسلسل نظرانداز کیا جائے، تو یہی بچے احساسِ کمتری، اضطراب، چڑچڑے پن، بغاوت، یا حد سے زیادہ انحصار کا شکار ہو جاتے ہیں۔
اسلام نے صرف جسمانی پرورش کا حکم نہیں دیا بلکہ روحانی، اخلاقی اور جذباتی تربیت پر بھی زور دیا ہے۔
حضرت علیؓ کا فرمان ہے:
اپنے بچوں سے پہلے سات سال محبت اور شفقت سے پیش آؤ، اگلے سات سال ان کی تربیت کرو، اور پھر ان کے ساتھ مشورہ کرو، جیسے دوست۔
یہ فرمان ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ بچوں کے ہر developmental stage کے مطابق رویہ بدلنا ضروری ہے — شفقت، تربیت اور دوستی کی ترتیب میں۔
نبی کریم ﷺ کا اسوہ حسنہ بھی ہمارے سامنے ہے:
آپ ﷺ بچوں سے محبت سے بات کرتے، ان کو گود میں اٹھاتے، ان کی شرارتوں پر مسکرا دیتے، ان کے جذبات کا لحاظ رکھتے تھے۔
حضرت حسنؓ و حسینؓ کو بارہا گود میں اٹھایا، چوم لیا، اور یہاں تک کہ حالتِ سجدہ میں بھی ان کی دل جوئی کی۔
ایک بار ایک شخص نے عرض کیا:
یا رسول اللہ! میرے دس بچے ہیں، میں نے کبھی کسی کو نہیں چوما۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
جس کے دل میں رحم نہیں، اس پر رحم نہیں کیا جائے گا۔ (صحیح بخاری)
یہ حدیث بتاتی ہے کہ جذباتی محبت کا اظہار بھی دین کا حصہ ہے۔
والدین کے لیے چند رہنما اصول:
بچوں کو صرف سنیے نہیں، ان کے جذبات کو محسوس کیجیے۔
سزا سے زیادہ رہنمائی، شرمندہ کرنے سے زیادہ حوصلہ افزائی دیجیے۔
بچوں کو بولنے، غلطی کرنے، اور سیکھنے کا موقع دیجیے۔
ہر عمر کے تقاضوں کو سمجھ کر ان سے رابطہ رکھیں۔
5. جذباتی سپورٹ وہ غذا ہے جو بچے کے دل و دماغ کو سیراب کرتی ہے۔
اگر والدین محبت، توجہ، رہنمائی اور قبولیت دیتے ہیں، تو بچے زندگی میں مضبوط بنیادوں پر کھڑے ہوتے ہیں۔
ایک جذباتی طور پر محفوظ بچہ، ایک صحت مند معاشرے کی ضمانت ہے۔
ماہرِ نفسیات ہادیہ چوہدری ✨




27/07/2025

🧠 سائنس کے مطابق جسمانی حرکت دماغی صحت کو بہتر بنانے کے سب سے طاقتور طریقوں میں سے ایک ہے۔

اگرچہ ذہنی مشقیں اور دماغی پہیلیاں عام طور پر دماغی تیزی کے لیے تجویز کی جاتی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ورزش دماغی کارکردگی اور مزاحمت کو بہتر بنانے میں سب سے مؤثر ثابت ہوئی ہے۔

جسمانی سرگرمی نہ صرف خون کے بہاؤ کو بڑھاتی ہے بلکہ نئے نیورونز کی نشوونما کو بھی سپورٹ کرتی ہے اور ایسے مفید کیمیائی ردعمل کو متحرک کرتی ہے جو جینیاتی سطح پر دماغی کارکردگی اور بیماریوں سے بچاؤ میں کردار ادا کرتے ہیں۔

حرکت اور ذہنی صحت کے درمیان یہ تعلق ایپی جینیٹکس کی بنیاد ہے — یہ وہ سائنس ہے جو یہ بتاتی ہے کہ ہمارا رویہ اور ماحول ہماری جینز کے کام کرنے کے انداز کو کیسے بدل سکتے ہیں۔

ورزش جینیاتی کوڈ کو تو نہیں بدلتی، مگر یہ جینز کو اس انداز میں "آن یا آف" کر سکتی ہے کہ نیورونز کو تحفظ ملے، مزاج بہتر ہو، اور الزائمر جیسے اعصابی امراض کی آمد مؤخر ہو سکے۔

لہٰذا اگلی بار جب آپ دماغ کو تیز کرنا چاہیں، پہیلی کی کتاب کھولنے سے پہلے جوتے پہن کر تھوڑی چہل قدمی پر نکلیں — آپ کا دماغ اس واک کا شکر گزار ہوگا۔

Perlmutter, D. (2013). Grain Brain: The Surprising Truth about Wheat, Carbs, and Sugar--Your Brain's Silent Killers. Little, Brown Spark.

منفی خیالات سے نجات کیسے حاصل کی جائے؟ کچھ لوگ منفی خیالات اور منفی سوچنے کے انداز کے اس قدر عادی ہو جاتے ہیں کہ کسی کام...
20/07/2025

منفی خیالات سے نجات کیسے حاصل کی جائے؟

کچھ لوگ منفی خیالات اور منفی سوچنے کے انداز کے اس قدر عادی ہو جاتے ہیں کہ کسی کام یا موقع کے پیش آنے سے پہلے ہی بدترین نتائج کا تصور کرنے لگتے ہیں۔ مثلاً اگر انہیں کسی تقریب میں جانا ہو تو وہ پہلے ہی سوچنے لگتے ہیں کہ:
"وہاں جا کر مجھے سخت بوریت ہوگی، اور میں بالکل بھی لطف اندوز نہیں ہو سکوں گا۔"

کچھ لوگ ہر وقت اپنے بارے میں منفی سوچتے ہیں۔ جیسے کسی کام کے آغاز پر ہی ان کے ذہن میں آتا ہے:
میں یہ کام لازماً خراب کر دوں گا، اور دوسروں کو یہ کام مجھ سے کہیں بہتر آتا ہے۔

اسی طرح وہ ہر چیز کے بارے میں پہلے ہی بدترین نتیجہ اخذ کر لیتے ہیں، جیسے:
"میں جو بھی کام کرتا ہوں، اُسے بگاڑ دیتا ہوں۔"

یہ منفی سوچیں انسان کے حوصلے کو کمزور کرتی ہیں اور اس کی صلاحیتوں پر یقین کو کھا جاتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان منفی خیالات کو پہچانا جائے، ان کا مقابلہ کیا جائے، اور مثبت طرزِ فکر کو اپنایا جائے۔:

منفی خیالات کا بار بار آنا درحقیقت ایک "نیگیٹیو تھنکنگ پیٹرن" یعنی منفی سوچنے کے عادت بن جانے کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جب دماغ کسی مخصوص طرزِ فکر کا عادی ہو جائے تو وہ بغیر کسی خاص وجہ کے بھی ہر نئی صورتِ حال کو اسی زاویے سے دیکھنے لگتا ہے۔ یہ عادت اکثر ماضی کے تلخ تجربات، کم اعتمادی، یا تنقیدی ماحول میں پرورش پانے کی وجہ سے بنتی ہے۔ ایسے افراد کا دماغ "کگنیٹو ڈسٹورشنز" یعنی فکری بگاڑ کا شکار ہوتا ہے، جیسے:

کیٹاسٹروفائزیشن (Catastrophizing): ہر چیز کا بدترین انجام تصور کرنا۔
سیلف ڈیفیمیشن (Self-Defamation): خود کو کمتر سمجھنا اور اپنی صلاحیتوں کو ناقابلِ بھروسہ جاننا۔
بلیک اینڈ وائٹ تھنکنگ: چیزوں کو یا تو مکمل ناکامی یا مکمل کامیابی کے پیمانے پر تولنا۔

دماغ میں یہ پیٹرن بار بار دہرانے سے نیورل پاتھ ویز مضبوط ہو جاتے ہیں، جس سے انسان لاشعوری طور پر انہی خیالات کی طرف واپس آتا ہے۔ اگر اس دائرے کو نہ توڑا جائے تو یہ ذہنی صحت کے بڑے مسائل مثلاً ڈپریشن، انزائٹی اور سیلف ہارم کی طرف لے جا سکتا ہے:

فلسفہ میں منفی سوچ کو انسانی وجود کی غیر یقینی کیفیت سے بھی جوڑا جاتا ہے۔ Existentialism کے مطابق چونکہ زندگی میں کچھ بھی مکمل یقین کے ساتھ طے نہیں، اس لیے انسان اکثر غیر یقینی اور خوف میں پناہ لیتا ہے۔ اس خوف کی ایک شکل یہ منفی خیالات بھی ہوتے ہیں جو ہمیں یہ تسلی دیتے ہیں کہ "اگر میں پہلے ہی بُرا سوچ لوں تو بعد میں دھچکہ نہیں لگے گا۔"

اسی طرح Stoicismایک فلسفہ ہے جو کہتا ہے کہ ہمیں چیزوں کو ان کی اصل حیثیت میں دیکھنا سیکھنا چاہیے، نہ زیادہ امید باندھنی چاہیے نہ خوف زدہ ہونا چاہیے۔ منفی سوچ دراصل مستقبل کے خدشات کی پیداوار ہے، جبکہ حقیقت میں ہمیں "present moment" میں جینا چاہیے۔:

1۔ مائنڈ فلنس :اپنی سوچوں کا مشاہدہ کرنا اور یہ سمجھنا کہ ہر خیال حقیقت نہیں ہوتا۔
2۔ کگنیٹو ری اسٹرکچرنگ: خیالات کی جانچ کر کے ان کے غیر حقیقی پہلو کو چیلنج کرنا۔
3. سقراطی مکالمہ: خود سے سوال کرنا کہ "کیا میرے پاس اس خیال کا کوئی ثبوت ہے؟ کیا کوئی متبادل سوچ ہو سکتی ہے؟"
4۔ خود رحمدلی: اپنے ساتھ ویسا سلوک کرنا جیسا ہم کسی دوست کے ساتھ کرتے۔:

منفی خیالات کو سمجھنا، ان کا سامنا کرنا اور پھر فلسفیانہ اور نفسیاتی طریقوں سے انہیں مثبت سوچ میں ڈھالنا ایک مسلسل تربیت ہے۔ انسان اپنی سوچ کا غلام نہیں بلکہ اسے سدھارنے کی صلاحیت رکھتا ہے — بس شرط یہ ہے کہ شعور بیدار کیا جائے۔
۔

19/07/2025

Too often, mental health support is gated on both sides.
To get care, you need a diagnosis.
To give care, you need a credential.
ذہنی صحت کی مدد کو غیر ضروری طور پر رسمی اصولوں تک محدود کر دیا گیا ہے۔ جبکہ حقیقت میں ہمیں زیادہ کھلا، آسان اور کمیونٹی پر مبنی نظام چاہیے تاکہ ہر ضرورت مند کو مدد مل سکے۔

     ゚
07/07/2025

🌫 "We are more often frightened than hurt; and we suffer more from imagination than from reality.” — SenecaSo much of ou...
29/06/2025

🌫 "We are more often frightened than hurt; and we suffer more from imagination than from reality.” — Seneca

So much of our pain comes not from what is, but from what we think could be. Our minds, powerful as they are, can become prisons when we let fear, overthinking, and imagined worst-case scenarios take over.

Anxiety, doubt, and fear often stem from stories we tell ourselves — not from actual danger or harm. It's the imagined failures, the 'what ifs', and the unseen futures that drain our peace.

🧠 What if we paused and asked ourselves:
👉 Is this really happening? Or am I imagining it?

When we ground ourselves in the present moment, we reclaim our power. Because the now is rarely as terrifying as our thoughts make it seem.

🕊 Breathe. Let go. Come back to what is, not what might be.
✨✨Hadia Chaudhary ✨✨
🌟🌟Clinical Psychologist

\

14/06/2025

باہر کی جنگوں سے نہیں، انسان سب سے زیادہ تھکاوٹ اور تکلیف اپنی اندرونی جنگ سے محسوس کرتا ہے۔

ہم اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ زندگی کے مسائل، دنیا کی تلخیاں، یا دوسروں کا رویہ ہمیں سب سے زیادہ توڑتے ہیں۔ لیکن سچ یہ ہے کہ جو جنگ ہم روزانہ خود سے لڑتے ہیں — وہ خاموش، ان دیکھی، اور نہ ختم ہونے والی جنگ — وہی ہمیں سب سے زیادہ تھکاتی ہے۔

یہ وہ جنگ ہے جو خود سے سوال کرتی ہے:
کیا میں کافی ہوں؟
کیا میری محنت رائیگاں جا رہی ہے؟
کیا میری خاموشی کمزوری ہے یا حکمت؟
کیا جو میں محسوس کر رہا ہوں وہ جائز ہے؟
کیا میں کبھی خود کو مکمل محسوس کر پاؤں گا؟

اندر کی یہ جنگ تب بھی جاری رہتی ہے جب ہم ہنستے ہیں، تب بھی جب ہم دوسروں کے سامنے مضبوط نظر آتے ہیں، اور تب بھی جب ہم تنہائی میں خاموش بیٹھے ہوتے ہیں۔

یہ وہ جنگ ہے جس میں نہ کوئی تالی بجتی ہے، نہ کوئی جیت کا اعلان ہوتا ہے، بس دل کے اندر ایک خاموش چیخ سی گونجتی ہے۔
لیکن یاد رکھیں، جو روز اپنے اندر کے خوف، مایوسی، ماضی، اور خود شک سے لڑتا ہے — وہ اصل بہادر ہوتا ہے۔

اگر آپ بھی ایسی جنگ لڑ رہے ہیں، تو خود پر فخر کیجئے۔
یہی لڑائی آپ کو آئندہ کے لیے مضبوط، حساس، اور گہرا انسان بناتی ہے۔

دنیا آپ کو مضبوط تب سمجھے گی جب آپ کسی کو ہرا دیں گے۔
لیکن اصل جیت وہ ہے جب آپ خود کے منفی خیالات، مایوسی، خوف، اور اندر کے طوفان سے روز جیتتے ہیں۔
ماہرِ نفسیات ہادیہ چوہدری ✨

سالوں کے دوران، مجھے ایک عادت سی ہوگئی کہ جب بھی کوئی بات میرے سکون کو متاثر کرتی، تو لاشعوری طور پر میں "واللہ المستعان...
11/06/2025

سالوں کے دوران، مجھے ایک عادت سی ہوگئی کہ جب بھی کوئی بات میرے سکون کو متاثر کرتی، تو لاشعوری طور پر میں "واللہ المستعان" پڑھتی۔ لیکن مجھے کبھی اس طاقتور کلمے کی پس منظر کی کہانی کا علم نہیں تھا، یہاں تک کہ حال ہی میں نعمان علی خان کے سورہ یوسف پر ایک لیکچر میں اس کا ذکر سنا۔

"واللہ المستعان" قرآن میں اس وقت آیا جب یعقوب علیہ السلام کے بیٹے یوسف علیہ السلام کے ساتھ پیش آئے واقعے کے بارے میں جھوٹی کہانی بنا کر ان کے پاس آئے۔ یعقوب علیہ السلام نے سچ جاننے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن ان کے بیٹے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر اپنے ظلم اور جھوٹ کو بچانے لگے۔ صورتحال سے تھک کر، یعقوب علیہ السلام نے اللہ سے "صبرٌ جمیل" (خوبصورت صبر) کی دعا کی، اور اس کے بعد فرمایا "واللہ المستعان"۔

قرآن کے مفسرین کے مطابق، "واللہ المستعان" اس وقت کہا جاتا ہے جب آپ خود کو ایک ایسی حالت میں پائیں جہاں ہر طرف سے راستے بند ہوں، جب لوگ جھوٹ بول کر آپ کے خلاف اکٹھے ہو جائیں، جب آپ پر جھوٹا الزام لگایا جائے، جب آپ اپنی بھرپور کوشش کے باوجود نتائج کے منتظر ہوں، جب ہر طرف سے مایوسی چھا جائے۔

یہ گویا اللہ سے یہ کہنا ہے کہ: "یا اللہ، میں نے اپنی سی کوشش کر لی ہے، اب میں پیچھے ہٹ رہا/رہی ہوں، آپ آگے آئیں اور اپنے الہی نظام سے یہ معاملہ سنبھالیں"۔ اور جب انسان دل، دماغ اور روح کے ساتھ مکمل یقین سے معاملہ اللہ پر چھوڑ دیتا ہے، تو صبر خود بخود خوبصورت ہو جاتا ہے۔

میں یہ بات آپ سب کے ساتھ اس لیے شیئر کر رہی ہوں کہ شاید کسی کا دن روشن ہو جائے۔ اگر حالات ناممکن لگیں تو پریشان نہ ہوں، یاد رکھیں آپ اُس ذات سے مانگ رہے ہیں جسے صرف "کُن" کہنا ہوتا ہے، اور وہ ہو جاتا ہے۔ آپ اُس سے مانگ رہے ہیں جو خود کو "الفتاح" کہتا ہے — جو بند راستوں میں بھی راستہ پیدا کرتا ہے۔
تو بس پیچھے بیٹھ جائیں، اور اللہ کو اپنا کام کرنے دیں۔

واللہ المستعان ✨


عید مبارک 🌙
07/06/2025

عید مبارک 🌙

03/06/2025

ہر وہ چیز جو اہم ہے، ضروری نہیں کہ ناپی جا سکے۔ اور ہر کارکردگی ہمیشہ مصروف دکھائی دینے جیسی نہیں ہوتی۔ بعض اوقات آپ کی سب سے بڑی کامیابیاں سخت محنت سے نہیں بلکہ خاموشی، سکون اور ایماندارانہ غور و فکر کے لمحات سے جنم لیتی ہیں۔
سست رفتار ہونا رُک جانا نہیں ہوتا — یہ بھی ممکن ہے کہ آپ اندر ہی اندر پروان چڑھ رہے ہوں۔
ہادیہ چوہدری
ماہرِ نفسیات

Address

Rawalpindi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Wellness Studio by Hadia Chaudhary posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share