Esha Kidney & Medical Care

Esha Kidney & medical Care is the premier healthcare provider in Rawalpindi Islamabad with latest equipment and advance treatment technology.

Operating as usual

28/05/2021

Share your questions about #COVID19 vaccine.

It’s normal to have questions about COVID-19 vaccines and want to make the right decision for you and your loved ones. If someone you know – a friend, family member or colleague – asks questions or expresses concerns, follow this Guide for some tips on how to have conversations about vaccines or visit our website 👉 https://bit.ly/3uoxZEA

27/05/2021

شیاٹیکا کے درد کی وجوہات، علامات اور علاج
دورجدید میں شیاٹیکا (عرق النسا) کا درد عام ہو چکا۔اس درد میں زیادہ تر خواتین مبتلا ہوتی ہیں، اسی لیے اسے عرق النسا کہا جانے لگا۔ اسی نام کی وجہ سے لوگوں میں یہ غلط فہمی پھیل گئی کہ مرد اس تکلیف میں مبتلا نہیں ہوتے۔ ایسا نہیں ہے، مرد بھی اس درد کا شکار ہوتے ہیں مگر خواتین کی نسبت ان کی تعداد کم ہے۔ یہ درد پیٹرو (Pelvis) سے شروع ہو کر ٹانگ کے پچھلے حصے سے ہوتا ہوا ٹخنے تک جاتا ہے۔یہ ایک عصبی درد ہے کیونکہ یہ پیٹرو سے شروع ہونے والی ایک عصب (Nerve) شیاٹیکا (Sciatic) میں جنم لیتا ہے۔ یہ انسانی جسم میں پائی جانے والی سب سے لمبی عصب ہے۔ یہ ریڑھ کی ہڈی سے نکل کر پیر کی ایڑی تک جاتی ہے۔درد عموماً ایک ٹانگ میں ہوتا ہے اور اس کی شدت کم یا زیادہ ہوتی رہتی ہے۔ تکلیف میں مبتلا مریض مسلسل بے چینی کا شکار رہتا ہے۔ بعض اوقات متاثرہ ٹانگ بھاری ہو جاتی ہے اور مریض کے لیے اس پر بوجھ ڈالنا مشکل ہو جاتا ہے۔ متاثرہ ٹانگ میں کمزوری محسوس ہوتی ہے۔ اکثر ٹانگ سن ہو جاتی ہے۔ بیٹھنے اور کھڑے رہنے سے بھی درد کی شدت بڑھتی ہے۔اس درد کا خطرہ عموماً درمیانی عمر میں زیادہ ہوتا ہے۔ امریکن اکیڈمی آف آرتھوپیڈک سرجنز کے مطابق تیس سے پچاس برس کی عمر میں مریض اس کا زیادہ نشانہ بنتے ہیں۔ شیاٹیکا کی تکلیف مختلف وجوہ کی بنا پر جنم لیتی ہے۔ لہٰذا علاج سے قبل تشخیص بے حد ضروری ہے۔کمر کو شدید جھٹکا لگنے، ریڑھ کی ہڈی کے مہرے ہل جانے، مہروں کے درمیان خلا کم یا زیادہ ہونے، کولھے کے پٹھوں کی سوزش، قبض، زیادہ دیر نمدار جگہ پر بیٹھنے، بہت زیادہ بوجھ اٹھانے، اعصابی تنائو، مسلسل ایک ہی کروٹ لیٹے رہنے، غلط طریقوں سے چلنے، بیٹھنے، اٹھنے، کسی حادثے کے باعث، غرض وہ تمام عوامل جو شیاٹیکا عصب پر بوجھ ڈالیں اور تنائو کا باعث بنیں، وجہ درد بن سکتے ہیں۔ عمر کے ساتھ ہونے والی جسمانی توڑ پھوڑ بھی اس میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ نیز اونچی ایڑی پہننے والی خواتین، نرم گدوں پر سونے والے اور فربہ لوگ بھی اس درد کا شکار آسانی سے ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کی شیاٹیکا عصب پہ مسلسل دبائو پڑتا رہتا ہے۔شیاٹیکا کا مریض عموماً ٹانگ گھسیٹ کر چلتا ہے۔ متاثرہ ٹانگ میں اکثر بل بھی پڑ جاتا ہے اور نسیں اکڑ جاتی ہیں۔ مریض کرسی پر ٹانگ لٹکا کر بیٹھا ہو اور گھٹنے کو دبایا جائے تو اْسے ناقابل برداشت درد محسوس ہوتا ہے۔ بچاراٹانگ کو بآسانی پیٹ کی طرف موڑ نہیں سکتا کیونکہ کھچائو سے مزید تکلیف ہوتی ہے۔ ذرا سی بھی ٹھنڈک درد بڑھا دیتی ہے۔عرق النسا کے درد میں جس قدر دوا کی ضرورت ہوتی ہے، اتنا ہی پرہیز اور احتیاط بھی درکار ہے۔ دوا، پرہیز اور احتیاط سے عموماً چھے ہفتوں میں مریض صحت یاب ہو جاتا ہے۔ سب سے پہلے تو مریض کو اپنے اٹھنے، بیٹھنے، چلنے اور سونے کے طریقے بدلنے چاہئیں۔ مثال کے طور پر وہ بیٹھنے اور سونے کے دوران اپنی پوزیشن بدلتا رہے۔ زیادہ دیر کھڑے ہونے اور زیادہ دیر بیٹھنے سے گریز کرے۔ سیدھا سوتے وقت تکیہ اپنے گھٹنوں کے نیچے رکھے۔ کروٹ لے کر لیٹے‘ تو ٹانگیں ذرا موڑ کر گھٹنوں کے درمیان تکیہ رکھ کے سوئے۔ اس سے ریڑھ کی ہڈی اور اعصاب پر کم دبائو پڑتا ہے۔ بیٹھتے وقت کرسی کے پیچھے تکیہ اور کشن وغیرہ رکھے تاکہ کمر کو سہارا ملتا رہے۔عرق النسا سے چھٹکارا پانے میں غذا کا کردار بہت اہم ہے۔ مریض ایسی غذا کھائے جو غذائیت سے بھرپور ہو اورخصوصاً اْسے قبض سے بچائے۔ اس بیماری کے باعث شیاٹیکا عصب پر مزید دبائو پڑتا ہے۔ کیلشیم و وٹامن سے بھرپور غذا اعصاب اور پٹھوں کو تقویت بخشتی اور درد سے بچاتی ہے۔ پوٹاشیم بھی پٹھوں میں لچک پیدا کرنے میں معاون بنتا ہے۔ چناںچہ دہی، دلیہ، مغزیات، پھل اور تازہ سبزیاں اپنی غذا میں شامل رکھیے۔ گاجر اور چقندر کا رس نوش کیجیے۔ یہ شیاٹیکا سے جلد نجات دلانے میں مدد کرے گا۔ پانی خوب پیجئے۔ ادرک، لہسن، ہلدی کو اپنی غذا میں شامل رکھیے۔ یہ جڑی بوٹیاں سوزش کم کر کے درد سے آرام دیتی ہیں۔ تلسی، روز میری، بابونہ وغیرہ کی چائے بھی اس مرض میں مفید ہے۔شیاٹیکا کا علاج بس لیٹے رہنے نہیں بلکہ خود کو متحرک رکھنے میں مضمر ہے۔ کیونکہ اس سے اعصاب اور پٹھوں کو خون اور غذائی اجزا کی فراہمی بہتر طریقے سے ہوتی ہے۔ روزانہ ۲۰ سے ۴۰منٹ تک پیدل ضرور چلیے۔ ورزش بھی آرام دینے میں معاون ہوتی ہے۔ بشرطیکہ ماہر ڈاکٹر یا فزیوتھراپسٹ باقاعدہ تشخیص کے بعد اسے تجویز کرے۔ اس مرض میں غلط ورزش درد بڑھا دیتی ہے۔ لہٰذا احتیاط بہت ضروری ہے۔ مگر کچھ ورزشیں تمام مریضوں کے لیے مفید ثابت ہوتی ہیں۔ ان کی تفصیل درج ذیل ہے:۱۔ کمر کے بل لیٹ جائیے اور اپنی بائیں ٹانگ سینے تک موڑ کر لائیے اس طرح کہ گھٹنا آپ کے سینے کو چھو لے۔ اب ۱۰ تک گنتی گنیے۔ پھر دوسری ٹانگ کے ساتھ یہ عمل دہرائیے۔ یہ ورزش دونوں ٹانگوں کے ساتھ تقریباً پانچ بار دہرائیے پھر دونوں ٹانگیں اکٹھی سینے تک لے جائیے۔۲۔ کمر کے بل لیٹیے اور اپنی ٹانگیں دیوار پر بالکل سیدھی اپنے سامنے اٹھائیے۔ اس حالت میں ۱۵سیکنڈ تک رہیے۔ یہ ورزش بھی پانچ بار دہرائیے۔ ورزش کے علاوہ سانس کی مشقیں، یوگا، آکوپنکچر اور آکو پریشر بھی شیاٹیکا کے علاج میں معاون ہیں۔ اگر وجہ ایسی ہو جسے آپریشن کے ذریعے دور کیا جا سکے (جیسا کہ مہروں کے درمیان پٹھے دب جانا‘ ڈسک سِرک جانا وغیرہ) تو وہ بھی تجویز کیا جاتا ہے۔ ایپی ڈیورل سٹرائیڈانجکشن ( Injection Steriod Epidural) بھی درد سے نجات پانے میں مفید ہے، مگر اس کا اثر چند ہفتے یا مہینے تک رہتا ہے۔اور یہ ہر ایک پر اثرنہیں کرتا اور اس کے مضر اثرات بھی ہیں۔ مثلاً پٹھوںاور اعصاب کی کمزوری۔۳۔مساج یا مالش بھی شیاٹیکا کا ایک مستند علاج ہے۔ اگر فزیو تھراپسٹ یا کسی ماہر سے کرایا جائے تو چند دن میں درد جاتا رہتا ہے۔ زیتون کے تیل کی مالش بہتر ہے۔ ایک مفید نسخہ یہ ہے کہ سرسوں کے تیل میں چند لہسن کے جوئے جلا لیجیے۔ پھر اس تیل سے مالش کیجیے۔ وزن اٹھانے، مشقت والا کام کرنے اور نم آلود اور ٹھنڈی جگہوں پر بیٹھنے سے پرہیز کیجیے۔ سب سے بڑھ کر ذہنی دبائو اور پریشانی سے خود کو بچائیے تو آپ جلد اس درد سے نجات حاصل کر لیں گے۔
#sciaticapain #sciaticatreatment #sciaticarelief #spinecare #sciatica #healthylifestyle #ekmc #eshakidneyandmedicalcare

شیاٹیکا کے درد کی وجوہات، علامات اور علاج
دورجدید میں شیاٹیکا (عرق النسا) کا درد عام ہو چکا۔اس درد میں زیادہ تر خواتین مبتلا ہوتی ہیں، اسی لیے اسے عرق النسا کہا جانے لگا۔ اسی نام کی وجہ سے لوگوں میں یہ غلط فہمی پھیل گئی کہ مرد اس تکلیف میں مبتلا نہیں ہوتے۔ ایسا نہیں ہے، مرد بھی اس درد کا شکار ہوتے ہیں مگر خواتین کی نسبت ان کی تعداد کم ہے۔ یہ درد پیٹرو (Pelvis) سے شروع ہو کر ٹانگ کے پچھلے حصے سے ہوتا ہوا ٹخنے تک جاتا ہے۔یہ ایک عصبی درد ہے کیونکہ یہ پیٹرو سے شروع ہونے والی ایک عصب (Nerve) شیاٹیکا (Sciatic) میں جنم لیتا ہے۔ یہ انسانی جسم میں پائی جانے والی سب سے لمبی عصب ہے۔ یہ ریڑھ کی ہڈی سے نکل کر پیر کی ایڑی تک جاتی ہے۔درد عموماً ایک ٹانگ میں ہوتا ہے اور اس کی شدت کم یا زیادہ ہوتی رہتی ہے۔ تکلیف میں مبتلا مریض مسلسل بے چینی کا شکار رہتا ہے۔ بعض اوقات متاثرہ ٹانگ بھاری ہو جاتی ہے اور مریض کے لیے اس پر بوجھ ڈالنا مشکل ہو جاتا ہے۔ متاثرہ ٹانگ میں کمزوری محسوس ہوتی ہے۔ اکثر ٹانگ سن ہو جاتی ہے۔ بیٹھنے اور کھڑے رہنے سے بھی درد کی شدت بڑھتی ہے۔اس درد کا خطرہ عموماً درمیانی عمر میں زیادہ ہوتا ہے۔ امریکن اکیڈمی آف آرتھوپیڈک سرجنز کے مطابق تیس سے پچاس برس کی عمر میں مریض اس کا زیادہ نشانہ بنتے ہیں۔ شیاٹیکا کی تکلیف مختلف وجوہ کی بنا پر جنم لیتی ہے۔ لہٰذا علاج سے قبل تشخیص بے حد ضروری ہے۔کمر کو شدید جھٹکا لگنے، ریڑھ کی ہڈی کے مہرے ہل جانے، مہروں کے درمیان خلا کم یا زیادہ ہونے، کولھے کے پٹھوں کی سوزش، قبض، زیادہ دیر نمدار جگہ پر بیٹھنے، بہت زیادہ بوجھ اٹھانے، اعصابی تنائو، مسلسل ایک ہی کروٹ لیٹے رہنے، غلط طریقوں سے چلنے، بیٹھنے، اٹھنے، کسی حادثے کے باعث، غرض وہ تمام عوامل جو شیاٹیکا عصب پر بوجھ ڈالیں اور تنائو کا باعث بنیں، وجہ درد بن سکتے ہیں۔ عمر کے ساتھ ہونے والی جسمانی توڑ پھوڑ بھی اس میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ نیز اونچی ایڑی پہننے والی خواتین، نرم گدوں پر سونے والے اور فربہ لوگ بھی اس درد کا شکار آسانی سے ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کی شیاٹیکا عصب پہ مسلسل دبائو پڑتا رہتا ہے۔شیاٹیکا کا مریض عموماً ٹانگ گھسیٹ کر چلتا ہے۔ متاثرہ ٹانگ میں اکثر بل بھی پڑ جاتا ہے اور نسیں اکڑ جاتی ہیں۔ مریض کرسی پر ٹانگ لٹکا کر بیٹھا ہو اور گھٹنے کو دبایا جائے تو اْسے ناقابل برداشت درد محسوس ہوتا ہے۔ بچاراٹانگ کو بآسانی پیٹ کی طرف موڑ نہیں سکتا کیونکہ کھچائو سے مزید تکلیف ہوتی ہے۔ ذرا سی بھی ٹھنڈک درد بڑھا دیتی ہے۔عرق النسا کے درد میں جس قدر دوا کی ضرورت ہوتی ہے، اتنا ہی پرہیز اور احتیاط بھی درکار ہے۔ دوا، پرہیز اور احتیاط سے عموماً چھے ہفتوں میں مریض صحت یاب ہو جاتا ہے۔ سب سے پہلے تو مریض کو اپنے اٹھنے، بیٹھنے، چلنے اور سونے کے طریقے بدلنے چاہئیں۔ مثال کے طور پر وہ بیٹھنے اور سونے کے دوران اپنی پوزیشن بدلتا رہے۔ زیادہ دیر کھڑے ہونے اور زیادہ دیر بیٹھنے سے گریز کرے۔ سیدھا سوتے وقت تکیہ اپنے گھٹنوں کے نیچے رکھے۔ کروٹ لے کر لیٹے‘ تو ٹانگیں ذرا موڑ کر گھٹنوں کے درمیان تکیہ رکھ کے سوئے۔ اس سے ریڑھ کی ہڈی اور اعصاب پر کم دبائو پڑتا ہے۔ بیٹھتے وقت کرسی کے پیچھے تکیہ اور کشن وغیرہ رکھے تاکہ کمر کو سہارا ملتا رہے۔عرق النسا سے چھٹکارا پانے میں غذا کا کردار بہت اہم ہے۔ مریض ایسی غذا کھائے جو غذائیت سے بھرپور ہو اورخصوصاً اْسے قبض سے بچائے۔ اس بیماری کے باعث شیاٹیکا عصب پر مزید دبائو پڑتا ہے۔ کیلشیم و وٹامن سے بھرپور غذا اعصاب اور پٹھوں کو تقویت بخشتی اور درد سے بچاتی ہے۔ پوٹاشیم بھی پٹھوں میں لچک پیدا کرنے میں معاون بنتا ہے۔ چناںچہ دہی، دلیہ، مغزیات، پھل اور تازہ سبزیاں اپنی غذا میں شامل رکھیے۔ گاجر اور چقندر کا رس نوش کیجیے۔ یہ شیاٹیکا سے جلد نجات دلانے میں مدد کرے گا۔ پانی خوب پیجئے۔ ادرک، لہسن، ہلدی کو اپنی غذا میں شامل رکھیے۔ یہ جڑی بوٹیاں سوزش کم کر کے درد سے آرام دیتی ہیں۔ تلسی، روز میری، بابونہ وغیرہ کی چائے بھی اس مرض میں مفید ہے۔شیاٹیکا کا علاج بس لیٹے رہنے نہیں بلکہ خود کو متحرک رکھنے میں مضمر ہے۔ کیونکہ اس سے اعصاب اور پٹھوں کو خون اور غذائی اجزا کی فراہمی بہتر طریقے سے ہوتی ہے۔ روزانہ ۲۰ سے ۴۰منٹ تک پیدل ضرور چلیے۔ ورزش بھی آرام دینے میں معاون ہوتی ہے۔ بشرطیکہ ماہر ڈاکٹر یا فزیوتھراپسٹ باقاعدہ تشخیص کے بعد اسے تجویز کرے۔ اس مرض میں غلط ورزش درد بڑھا دیتی ہے۔ لہٰذا احتیاط بہت ضروری ہے۔ مگر کچھ ورزشیں تمام مریضوں کے لیے مفید ثابت ہوتی ہیں۔ ان کی تفصیل درج ذیل ہے:۱۔ کمر کے بل لیٹ جائیے اور اپنی بائیں ٹانگ سینے تک موڑ کر لائیے اس طرح کہ گھٹنا آپ کے سینے کو چھو لے۔ اب ۱۰ تک گنتی گنیے۔ پھر دوسری ٹانگ کے ساتھ یہ عمل دہرائیے۔ یہ ورزش دونوں ٹانگوں کے ساتھ تقریباً پانچ بار دہرائیے پھر دونوں ٹانگیں اکٹھی سینے تک لے جائیے۔۲۔ کمر کے بل لیٹیے اور اپنی ٹانگیں دیوار پر بالکل سیدھی اپنے سامنے اٹھائیے۔ اس حالت میں ۱۵سیکنڈ تک رہیے۔ یہ ورزش بھی پانچ بار دہرائیے۔ ورزش کے علاوہ سانس کی مشقیں، یوگا، آکوپنکچر اور آکو پریشر بھی شیاٹیکا کے علاج میں معاون ہیں۔ اگر وجہ ایسی ہو جسے آپریشن کے ذریعے دور کیا جا سکے (جیسا کہ مہروں کے درمیان پٹھے دب جانا‘ ڈسک سِرک جانا وغیرہ) تو وہ بھی تجویز کیا جاتا ہے۔ ایپی ڈیورل سٹرائیڈانجکشن ( Injection Steriod Epidural) بھی درد سے نجات پانے میں مفید ہے، مگر اس کا اثر چند ہفتے یا مہینے تک رہتا ہے۔اور یہ ہر ایک پر اثرنہیں کرتا اور اس کے مضر اثرات بھی ہیں۔ مثلاً پٹھوںاور اعصاب کی کمزوری۔۳۔مساج یا مالش بھی شیاٹیکا کا ایک مستند علاج ہے۔ اگر فزیو تھراپسٹ یا کسی ماہر سے کرایا جائے تو چند دن میں درد جاتا رہتا ہے۔ زیتون کے تیل کی مالش بہتر ہے۔ ایک مفید نسخہ یہ ہے کہ سرسوں کے تیل میں چند لہسن کے جوئے جلا لیجیے۔ پھر اس تیل سے مالش کیجیے۔ وزن اٹھانے، مشقت والا کام کرنے اور نم آلود اور ٹھنڈی جگہوں پر بیٹھنے سے پرہیز کیجیے۔ سب سے بڑھ کر ذہنی دبائو اور پریشانی سے خود کو بچائیے تو آپ جلد اس درد سے نجات حاصل کر لیں گے۔
#sciaticapain #sciaticatreatment #sciaticarelief #spinecare #sciatica #healthylifestyle #ekmc #eshakidneyandmedicalcare

24/05/2021

موسمِ گرما کی بیماریاں۔ احتیاط علاج سے بہتر ہے

گرمیوں کا موسم پھر اپنے عروج کی طرف گامزن ہے اور اس موسم
میں دیگر موسموں کے مقابلے میں بیماریوں کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ پیٹ ، آنتوں اور معدے کے مختلف مسائل کے ساتھ ساتھ سن سٹروک ،جسے اردو زبان میں' لُولگنا' کہتے ہیں ، کا مسئلہ بھی عام ہو جاتا ہے ۔جو لوگ گھر سے باہر زیادہ وقت گزارتے ہیں ان کو سن سٹروک یا ہیٹ سٹروک کا زیادہ خطرہ ہو تا ہے۔

گرمی کی شدت جب برداشت سے باہر ہو جاتی ہے تو انسانی جسم اس درجہ حرارت کو برداشت نہیں کر پاتا خاص طور پر یہ موسم بزرگوں ، بچوں اور خواتین پر بے حد اثر انداز ہوتا ہے ۔ سن سٹروک یالُولگنا کسی بیماری کا نام نہیں ہے بلکہ یہ انسانی دماغ کی ایک کیفیت کا نام ہے جس میں انسانی دماغ اور انسان کا جسم بیرونی درجہ حرارت کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے کام کرنا چھوڑ دیتا ہے ۔ ایسی حالت میں اگر بروقت اور درست طریقہ علاج مہیا نہ کیا جائے تو موت بھی واقع ہو سکتی ہے ۔ یہ کہناہر گز بے جانہ ہو گا کہ لولگنا یا سن سٹروک ایک طبی ہنگامی صورتحال ہے جس کا فوری علاج ضروری ہے۔

سن سٹروک کی علامات میں جلد خشک اور گرم ہو جاتی ہے ۔ پسینہ آنا بند ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے جسم کا خود کار نظام خود کو ٹھنڈا نہیں کر پاتا ۔ سانس لینے میںدقت ہوتی ہے اور تیز تیز بمشکل سانس لینے کی وجہ سے سانس پھولنے لگتا ہے ۔جسم کا درجہ حرارت اور دل کی دھڑکن اچانک بہت تیزی سے بڑھ جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ سر میں دھڑکن جیسا درد جسے Throbbing Head کہتے ہیں ، شروع ہو جاتا ہے ۔ بلڈپریشر ایک دم گر جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ چکر آتے اور پیاس کی شدت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ کمزوری اور پٹھوں میں کھنچا ئو پیدا ہو جاتا ہے ۔ اچانک تیز بخار سا ہو جاتا ہے اور متلی ، قے کی کیفیت شروع ہو جاتی ہے ۔ جس کے ساتھ بے ہوشی طاری ہو نا شروع ہو جاتی ہے ۔ بعض اوقات نکسیر بھی پھوٹ جاتی ہے ۔

وہ افراد جو اپنا زیادہ تر وقت باہر دھوپ میں گزارتے ہیں یا وہ لوگ جو گرم موسم میں پانی پئے بغیر بہت زیادہ جسمانی سرگرمیاں یا ورزش کرتے ہیں اور موسم گرما کی مناسبت سے لباس بھی زیب تن نہیں کرتے ان میں لو لگنے کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے ۔ بچے اور بزرگ افراد بھی زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور وہ لوگ جو طویل عرصے سے امراض قلب یا سانس کی تکلیف، ہائی بلڈ پریشر اور گردے کے مرض میں مبتلاہوں وہ بھی سن سٹروک کا بآسانی شکا ر ہو سکتے ہیں ۔

سن سٹروک کے شکار افراد کو فوری طورپر ہسپتال پہنچانا چاہئے لیکن اگرہسپتال دور ہے یا کسی وجہ سے دیر ہو جانے کا امکان ہو تو ابتدائی طبی امداد فوری فراہم کرنی چاہئے۔ کیونکہ لُو لگنے کی صورت میں ابتدائی طبی امدا د میں تا خیر موت کا باعث بھی بن سکتی ہے ۔ مریض کو فوری طور پر دھوپ والی جگہ سے ہٹا کر کسی سایہ دار اور ایئر کنڈیشنر والی جگہ پر ٹانگیں کسی اونچی چیز پر رکھ کر لٹا دینا چاہئے اور مریض کے کپڑے اگر تنگ ہیں تو انہیں ڈھیلا کر دیں اور جسم کے درجہ حرارت میں کمی لانے کے لئے گردن ، بغلوں ، کلائیوں ، ٹخنوں اور رانوں پر برف کی ٹکور کرنی چاہئے ۔ جتنا ممکن ہو سکے ٹھنڈا پانی پلائیں ۔

سن سٹروک کے دوران جسم میں نہ صرف پانی کی کمی ہو جاتی ہے بلکہ نمکیات اور ضروری الیکٹرولائٹس کی بھی کثیر مقدار ضائع ہو جاتی ہے لہٰذا اس صورت میں مریض کو نمکیات کی کمی کو دور کرنے کے لئے او ۔ آر ۔ ایس یا نمک ملا پانی پلانا چاہئے ۔ اور پھر کچھ دیر کے آرام کے بعد ٹھنڈے پانی سے ضرور نہلانا چاہئے۔

لُو لگنے کی صورت میں اگر مریض کو فوری طبی امداد نہ دی جائے تو مریض بے ہوشی یا کومے کی حالت میں بھی جا سکتا ہے ۔ کچھ افراد میں جسم کے درجہ حرارت کے بہت زیادہ بڑھ جانے کی وجہ سے دل بھی کام کرنا چھوڑ سکتا ہے ، گردے بھی ناکارہ ہو سکتے ہیں اور دماغ بھی اپنا کام کرنا چھوڑ دیتا ہے جس کی وجہ سے مریض کی موت واقع ہو جاتی ہے ۔

معدے اور آنتوں میں ورم جو کہ ایک بیکٹریا E.Coli کے ذریعے ہوتا ہے اور اس میں مریض کو اُلٹیاں ، بخار ، پیٹ کا درد ، ا سہال شروع ہو جاتے ہیں اور بہت زیادہ قے اور ا سہا ل کی وجہ سے مریض کے جسم میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے ۔ اس مرض میں مریض کو احتیاط کرنی چاہئے اور اس کو مزید پیچیدگیوں سے بچانے کے لئے مریض کے جسم میں پانی کی کمی کو پورا کرتے رہنا چاہئے۔ جراثیم زدہ خوراک اور پانی پینے سے گریز کرنا چاہئے اور صفائی کا خاص خیال رکھنا چاہئے ۔

ٹائیفائیڈ نامی مرض سالمونیلا ٹائفی (Salmonella Typhi) نامی بیکٹریا سے ہوتا ہے اوریہ باسی غذا اور آلودہ پانی کے استعمال سے انسانی صحت کو متاثر کرتا ہے ۔ ٹائیفائیڈ کے جراثیم مکھیوں اور گرد وغبار کے ذریعے کھانے پینے کی اشیاء میں شامل ہو جاتے ہیں یا پھر دوسری صورت میں ٹائیفائیڈ میں مبتلا مریض کے ہاتھ کی اشیاء یا خوارک یا آلودہ پانی کے ذریعے بھی صحت مند انسان میں منتقل ہو سکتا ہے ۔ ٹائیفائیڈ کی اہم علامات میں بخار کے ساتھ ساتھ سر اور پیٹ میں درد اور ا سہال شامل ہیں ۔ اس بیماری میں مریض کو مکمل آرام کے ساتھ ہلکی پھلکی غذائیں استعمال کرنی چاہئیں۔ چائے ، کافی اور دیگر کاربونیٹڈ مشروبات سے گریز کرنا چاہئے ۔ پانی ، سوپ اور تازہ جوس وغیرہ کا استعمال زیادہ کرنا چاہئے ۔ ٹائیفائیڈ جیسے مرض سے بچنے کے لئے صحت اور صفائی کا ہر ممکن خیال رکھنا چاہئے ۔ کھانے سے پہلے اور رفع حاجت سے فراغت کے بعد لازمی طورپر ہاتھوں کو اچھی طرح سے صابن سے دھونا چاہئے۔ مریض کے رفع حاجت اور پیشاب کو فوراََ اچھی طرح سے بہانا چاہئے یا مٹی سے ڈھانپ دینا چاہئے تاکہ مکھیاں اس پر نہ بیٹھ سکیں ۔ کنویں ، تالاب اور پانی کے ذخائر کے نزدیک رفع حاجت سے گریز کرنا چاہئے اور اپنے گھروں کے اندر اور گلیوں میں کوڑا کرکٹ اور غلاظت کے ڈھیر نہ لگنے دیں ورنہ اس میں مکھیاں پیدا ہو کر بیماریوں کا باعث بنتی ہیں ۔

ہیضہ جو کہe Vibrio Cholera نامی بیکٹریا کے ذریعے پھیلتا ہے ، کی وجہ زیادہ تر گندے پانی اور پرانی اور باسی خوارک ہے ۔ اور موسم گرما میں غذا کی لاپروائی اور گندے پانی کے سبب اس مرض میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔ جن لوگوں کا ہاضمہ کمزور ہوتا ہے وہ اس بیماری میں جلدی مبتلا ہوتے ہیں ۔ چھوٹے بچے بھی ہیضہ سے جلد متاثر ہوتے ہیں ۔ اگر مریض کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو وہ بے حد نڈھال ہو جاتاہے ۔ ہیضے کے مریض کو فوری طورپر جسم میں پانی کی کمی کو پورا کرنا بے حد ضروری ہوتا ہے جس کے لئے اس کو نمکیات والے محلول پلانا مفید ہوتا ہے ۔

ہیپاٹائٹس Aگندے پانی سے پھیلتا ہے اور مریض کے جسم میں وائرس داخل ہونے کے چار ہفتے بعد پیٹ میں درد، بخار ، قے ، آنکھیں اور پیشاب کا پیلا پڑجانا ، شدید کمزوری اور نقاہت کی علامتیں ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں ۔ ہیپاٹائٹس سے بچنے کے لئے صاف ستھرے پانی اور خوراک کا استعمال کریں ۔ سبزیاں اور تازہ پھلوں کو استعمال کرنے سے پہلے صاف پانی سے اچھی طرح دھولینا چاہئے ۔ کھانا کھانے سے پہلے اور رفع حاجت کے بعد ہاتھوں کو اچھے طریقے سے صابن سے دھونا اور بازاری کھانوں اور چاٹ برگر وغیرہ سے پرہیز کرنا چاہئے ۔

احتیاطی تدابیر

گرمیوں میں سن سٹروک یا ہیٹ سٹروک کے امکانات زیا دہ ہو تے ہیں، لہٰذا اس سے بچنے کے لئے مختلف تدابیر بھی اپنانی چاہئے تاکہ ممکنہ نقصان سے بچا جا سکے۔

٭لولگنے سے بچنے کے لئے خود کو گرمی اور دھوپ سے بچانا چاہئے۔

٭ روزمرہ کے زیادہ تر کام صبح یا شام کے اوقات میں کر لینے چاہئیں جب سورج کی حدت میں نسبتاََ کمی ہو تی ہے ۔ اور حتیٰ الامکان کوشش کرنی چاہئے بلاوجہ گھروں سے باہر نہ نکلیں

٭ زیادہ دیر تک تیز دھوپ میں نہ رہیں اور اگر بہت ضروری ہو تو چھتری یا کوئی گیلا کپڑا سر پر رکھ کر باہر جانا چاہئے اور اپنے ساتھ پانی کی ایک بوتل ضرور رکھیں ۔

٭ڈھیلے اور ہلکے رنگوں کے ملبوسات زیب تن کرنے چاہئیں اور گرمی میں گہرے رنگ خاص طور پر کالے رنگ کے لباس نہ پہنیں ۔

٭گرم موسم میں زیادہ سے زیادہ پانی اور ٹھنڈے مشروبات کا استعال کرنا چاہئے ۔ روزانہ کم از کم تین سے چار لیٹر پانی لازمی پینا چاہئے۔اس سے ہما رے جسم میں نمکیات اور پانی کا توازن برقرار رہتا ہے۔ گرمیوں کے موسم میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں مختلف مزید ار پانی سے بھرپور پھلوں سے نوازا ہے ان سے لازمی مستفید ہو نا چاہئے ۔ تربوز گرمی کا بہترین توڑ ہے اس کے ساتھ ساتھ کھیرا، فالسہ اور آلو بخارہ بھی گرمی کے موسم میں مفید ہیں۔

٭ اس موسم میں مر غن ، تلی ہوئی اشیائ،کھٹی غذائوں، باسی خوراک اور پیک شدہ کھانوں سے حتی الامکان گریز کرنا چاہئے کیونکہ ان سے ڈائریا کی شکایت بھی ہو سکتی ہے ۔

٭موسم گرما میں زیادہ تیل ، مرچ مسا لوں والے کھانے ،گرم اشیائ، چائے اور کافی کا استعمال کم سے کم کر نا چاہئے ۔

٭ موسم گرما میں خاص طور پر گھر میں پکے ہوئے تازہ اور صاف ستھرے کھانے کھانے چاہئیں اور کھانوں کو درست درجہ حرارت پر پکانا چاہئے ۔تیار ہونے کے بعد کھانے کو مناسب در جہ حرارت پر رکھنا چاہئے۔ گرمیوں کے موسم میں گوشت کے زیاوہ استعمال سے پیٹ بھی خراب ہو سکتا ہے۔

٭سڑکوں کے کنارے کھڑے ٹھیلے والے سے یا بازاروں میں فروخت کئے جانے والے کھلے کھانوں سے گریزکرنا چاہئے ۔ کھلی فروخت کی جانے والی کھانے پینے کی اشیاء جن پر مکھیاں اور کیڑے مکوڑ ے بیٹھتے ہیں، ٹائیفائیڈ، ہیضہ اور ہیپا ٹائٹس جیسے امراض کا باعث بنتے ہیں ۔

٭گرم موسم میں کچے سلاد اورایسے پھل کھانے چاہیئں جن میں پانی کی مقدار زیادہ ہو جیسے کھیرا، تربوز، آم ، خربوزہ اور گاجر وغیرہ۔

٭ گھر میں ہی تازہ پھلوں کا رس نکال کر اسے فوراً استعمال کر لینا چاہئے۔ فریج میںرکھنے سے اس میں جراثیم پیدا ہو سکتے ہیں۔آلودہ پانی اورگلے سڑے پھل بچوں اور عمر رسیدہ افراد کو ڈائریا کے مرض میں مبتلا کر سکتے ہیں۔

٭ گرمی میں دہی کا استعمال بڑھا دینا چاہئے۔

٭طبی ماہرین کے مشورے کے مطابق شدید گرمی میں اینٹی ڈپریشن ادویات استعمال نہیں کرنی چاہئے کیونکہ ان سے فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

موسم گرما میںلوگ گرمی کی شدت سے خود کو محفوظ رکھنے کے لئے عموماً سوئمنگ پول میں نہانا پسند کرتے ہیں جبکہ نگلیریا فائولیری Naegleria Fowleri جسے دماغ کھانے والا امیبا (Brain Eating Amoeba) بھی کہتے ہیں ، مختلف تالابوں ، چشموں ، سوئمنگ پولز اور نلکوں کے پانی میں پایا جاتا ہے اور موسم گرما میں درجہ حرارت کے اضافے کے ساتھ ساتھ اس کی افزائش کی رفتار بھی تیز ہو جاتی ہے۔ لہٰذا سوئمنگ کرتے ہوئے زیادہ گہری ڈبکی لگانے سے گریز کریں اور گرمیوں کے موسم میں صاف اورمناسب کلورین کی مقدار رکھنے والے سوئمنگ پولز کو ہی ترجیح دیں ۔

احتیاط علاج سے بہتر ہے اس لئے ضروری ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کرکے سن سٹروک اور دیگرموسمی بیماریوں سے بچا جائے اور موسم کی خوبصورتی سے لطف اٹھایا جائے۔

تحریر : ڈاکٹر سیدہ صدف اکبر
انتباہ : یہ تحریر مفاد عامہ کے لیے منقول کی گئی ہے

#summer2021 #hotweather #summerchallenge #dehydration #typhoidfever #heatstroke #ekmc #eshakidneyandmedicalcare

موسمِ گرما کی بیماریاں۔ احتیاط علاج سے بہتر ہے

گرمیوں کا موسم پھر اپنے عروج کی طرف گامزن ہے اور اس موسم
میں دیگر موسموں کے مقابلے میں بیماریوں کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ پیٹ ، آنتوں اور معدے کے مختلف مسائل کے ساتھ ساتھ سن سٹروک ،جسے اردو زبان میں' لُولگنا' کہتے ہیں ، کا مسئلہ بھی عام ہو جاتا ہے ۔جو لوگ گھر سے باہر زیادہ وقت گزارتے ہیں ان کو سن سٹروک یا ہیٹ سٹروک کا زیادہ خطرہ ہو تا ہے۔

گرمی کی شدت جب برداشت سے باہر ہو جاتی ہے تو انسانی جسم اس درجہ حرارت کو برداشت نہیں کر پاتا خاص طور پر یہ موسم بزرگوں ، بچوں اور خواتین پر بے حد اثر انداز ہوتا ہے ۔ سن سٹروک یالُولگنا کسی بیماری کا نام نہیں ہے بلکہ یہ انسانی دماغ کی ایک کیفیت کا نام ہے جس میں انسانی دماغ اور انسان کا جسم بیرونی درجہ حرارت کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے کام کرنا چھوڑ دیتا ہے ۔ ایسی حالت میں اگر بروقت اور درست طریقہ علاج مہیا نہ کیا جائے تو موت بھی واقع ہو سکتی ہے ۔ یہ کہناہر گز بے جانہ ہو گا کہ لولگنا یا سن سٹروک ایک طبی ہنگامی صورتحال ہے جس کا فوری علاج ضروری ہے۔

سن سٹروک کی علامات میں جلد خشک اور گرم ہو جاتی ہے ۔ پسینہ آنا بند ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے جسم کا خود کار نظام خود کو ٹھنڈا نہیں کر پاتا ۔ سانس لینے میںدقت ہوتی ہے اور تیز تیز بمشکل سانس لینے کی وجہ سے سانس پھولنے لگتا ہے ۔جسم کا درجہ حرارت اور دل کی دھڑکن اچانک بہت تیزی سے بڑھ جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ سر میں دھڑکن جیسا درد جسے Throbbing Head کہتے ہیں ، شروع ہو جاتا ہے ۔ بلڈپریشر ایک دم گر جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ چکر آتے اور پیاس کی شدت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ کمزوری اور پٹھوں میں کھنچا ئو پیدا ہو جاتا ہے ۔ اچانک تیز بخار سا ہو جاتا ہے اور متلی ، قے کی کیفیت شروع ہو جاتی ہے ۔ جس کے ساتھ بے ہوشی طاری ہو نا شروع ہو جاتی ہے ۔ بعض اوقات نکسیر بھی پھوٹ جاتی ہے ۔

وہ افراد جو اپنا زیادہ تر وقت باہر دھوپ میں گزارتے ہیں یا وہ لوگ جو گرم موسم میں پانی پئے بغیر بہت زیادہ جسمانی سرگرمیاں یا ورزش کرتے ہیں اور موسم گرما کی مناسبت سے لباس بھی زیب تن نہیں کرتے ان میں لو لگنے کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے ۔ بچے اور بزرگ افراد بھی زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور وہ لوگ جو طویل عرصے سے امراض قلب یا سانس کی تکلیف، ہائی بلڈ پریشر اور گردے کے مرض میں مبتلاہوں وہ بھی سن سٹروک کا بآسانی شکا ر ہو سکتے ہیں ۔

سن سٹروک کے شکار افراد کو فوری طورپر ہسپتال پہنچانا چاہئے لیکن اگرہسپتال دور ہے یا کسی وجہ سے دیر ہو جانے کا امکان ہو تو ابتدائی طبی امداد فوری فراہم کرنی چاہئے۔ کیونکہ لُو لگنے کی صورت میں ابتدائی طبی امدا د میں تا خیر موت کا باعث بھی بن سکتی ہے ۔ مریض کو فوری طور پر دھوپ والی جگہ سے ہٹا کر کسی سایہ دار اور ایئر کنڈیشنر والی جگہ پر ٹانگیں کسی اونچی چیز پر رکھ کر لٹا دینا چاہئے اور مریض کے کپڑے اگر تنگ ہیں تو انہیں ڈھیلا کر دیں اور جسم کے درجہ حرارت میں کمی لانے کے لئے گردن ، بغلوں ، کلائیوں ، ٹخنوں اور رانوں پر برف کی ٹکور کرنی چاہئے ۔ جتنا ممکن ہو سکے ٹھنڈا پانی پلائیں ۔

سن سٹروک کے دوران جسم میں نہ صرف پانی کی کمی ہو جاتی ہے بلکہ نمکیات اور ضروری الیکٹرولائٹس کی بھی کثیر مقدار ضائع ہو جاتی ہے لہٰذا اس صورت میں مریض کو نمکیات کی کمی کو دور کرنے کے لئے او ۔ آر ۔ ایس یا نمک ملا پانی پلانا چاہئے ۔ اور پھر کچھ دیر کے آرام کے بعد ٹھنڈے پانی سے ضرور نہلانا چاہئے۔

لُو لگنے کی صورت میں اگر مریض کو فوری طبی امداد نہ دی جائے تو مریض بے ہوشی یا کومے کی حالت میں بھی جا سکتا ہے ۔ کچھ افراد میں جسم کے درجہ حرارت کے بہت زیادہ بڑھ جانے کی وجہ سے دل بھی کام کرنا چھوڑ سکتا ہے ، گردے بھی ناکارہ ہو سکتے ہیں اور دماغ بھی اپنا کام کرنا چھوڑ دیتا ہے جس کی وجہ سے مریض کی موت واقع ہو جاتی ہے ۔

معدے اور آنتوں میں ورم جو کہ ایک بیکٹریا E.Coli کے ذریعے ہوتا ہے اور اس میں مریض کو اُلٹیاں ، بخار ، پیٹ کا درد ، ا سہال شروع ہو جاتے ہیں اور بہت زیادہ قے اور ا سہا ل کی وجہ سے مریض کے جسم میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے ۔ اس مرض میں مریض کو احتیاط کرنی چاہئے اور اس کو مزید پیچیدگیوں سے بچانے کے لئے مریض کے جسم میں پانی کی کمی کو پورا کرتے رہنا چاہئے۔ جراثیم زدہ خوراک اور پانی پینے سے گریز کرنا چاہئے اور صفائی کا خاص خیال رکھنا چاہئے ۔

ٹائیفائیڈ نامی مرض سالمونیلا ٹائفی (Salmonella Typhi) نامی بیکٹریا سے ہوتا ہے اوریہ باسی غذا اور آلودہ پانی کے استعمال سے انسانی صحت کو متاثر کرتا ہے ۔ ٹائیفائیڈ کے جراثیم مکھیوں اور گرد وغبار کے ذریعے کھانے پینے کی اشیاء میں شامل ہو جاتے ہیں یا پھر دوسری صورت میں ٹائیفائیڈ میں مبتلا مریض کے ہاتھ کی اشیاء یا خوارک یا آلودہ پانی کے ذریعے بھی صحت مند انسان میں منتقل ہو سکتا ہے ۔ ٹائیفائیڈ کی اہم علامات میں بخار کے ساتھ ساتھ سر اور پیٹ میں درد اور ا سہال شامل ہیں ۔ اس بیماری میں مریض کو مکمل آرام کے ساتھ ہلکی پھلکی غذائیں استعمال کرنی چاہئیں۔ چائے ، کافی اور دیگر کاربونیٹڈ مشروبات سے گریز کرنا چاہئے ۔ پانی ، سوپ اور تازہ جوس وغیرہ کا استعمال زیادہ کرنا چاہئے ۔ ٹائیفائیڈ جیسے مرض سے بچنے کے لئے صحت اور صفائی کا ہر ممکن خیال رکھنا چاہئے ۔ کھانے سے پہلے اور رفع حاجت سے فراغت کے بعد لازمی طورپر ہاتھوں کو اچھی طرح سے صابن سے دھونا چاہئے۔ مریض کے رفع حاجت اور پیشاب کو فوراََ اچھی طرح سے بہانا چاہئے یا مٹی سے ڈھانپ دینا چاہئے تاکہ مکھیاں اس پر نہ بیٹھ سکیں ۔ کنویں ، تالاب اور پانی کے ذخائر کے نزدیک رفع حاجت سے گریز کرنا چاہئے اور اپنے گھروں کے اندر اور گلیوں میں کوڑا کرکٹ اور غلاظت کے ڈھیر نہ لگنے دیں ورنہ اس میں مکھیاں پیدا ہو کر بیماریوں کا باعث بنتی ہیں ۔

ہیضہ جو کہe Vibrio Cholera نامی بیکٹریا کے ذریعے پھیلتا ہے ، کی وجہ زیادہ تر گندے پانی اور پرانی اور باسی خوارک ہے ۔ اور موسم گرما میں غذا کی لاپروائی اور گندے پانی کے سبب اس مرض میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔ جن لوگوں کا ہاضمہ کمزور ہوتا ہے وہ اس بیماری میں جلدی مبتلا ہوتے ہیں ۔ چھوٹے بچے بھی ہیضہ سے جلد متاثر ہوتے ہیں ۔ اگر مریض کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو وہ بے حد نڈھال ہو جاتاہے ۔ ہیضے کے مریض کو فوری طورپر جسم میں پانی کی کمی کو پورا کرنا بے حد ضروری ہوتا ہے جس کے لئے اس کو نمکیات والے محلول پلانا مفید ہوتا ہے ۔

ہیپاٹائٹس Aگندے پانی سے پھیلتا ہے اور مریض کے جسم میں وائرس داخل ہونے کے چار ہفتے بعد پیٹ میں درد، بخار ، قے ، آنکھیں اور پیشاب کا پیلا پڑجانا ، شدید کمزوری اور نقاہت کی علامتیں ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں ۔ ہیپاٹائٹس سے بچنے کے لئے صاف ستھرے پانی اور خوراک کا استعمال کریں ۔ سبزیاں اور تازہ پھلوں کو استعمال کرنے سے پہلے صاف پانی سے اچھی طرح دھولینا چاہئے ۔ کھانا کھانے سے پہلے اور رفع حاجت کے بعد ہاتھوں کو اچھے طریقے سے صابن سے دھونا اور بازاری کھانوں اور چاٹ برگر وغیرہ سے پرہیز کرنا چاہئے ۔

احتیاطی تدابیر

گرمیوں میں سن سٹروک یا ہیٹ سٹروک کے امکانات زیا دہ ہو تے ہیں، لہٰذا اس سے بچنے کے لئے مختلف تدابیر بھی اپنانی چاہئے تاکہ ممکنہ نقصان سے بچا جا سکے۔

٭لولگنے سے بچنے کے لئے خود کو گرمی اور دھوپ سے بچانا چاہئے۔

٭ روزمرہ کے زیادہ تر کام صبح یا شام کے اوقات میں کر لینے چاہئیں جب سورج کی حدت میں نسبتاََ کمی ہو تی ہے ۔ اور حتیٰ الامکان کوشش کرنی چاہئے بلاوجہ گھروں سے باہر نہ نکلیں

٭ زیادہ دیر تک تیز دھوپ میں نہ رہیں اور اگر بہت ضروری ہو تو چھتری یا کوئی گیلا کپڑا سر پر رکھ کر باہر جانا چاہئے اور اپنے ساتھ پانی کی ایک بوتل ضرور رکھیں ۔

٭ڈھیلے اور ہلکے رنگوں کے ملبوسات زیب تن کرنے چاہئیں اور گرمی میں گہرے رنگ خاص طور پر کالے رنگ کے لباس نہ پہنیں ۔

٭گرم موسم میں زیادہ سے زیادہ پانی اور ٹھنڈے مشروبات کا استعال کرنا چاہئے ۔ روزانہ کم از کم تین سے چار لیٹر پانی لازمی پینا چاہئے۔اس سے ہما رے جسم میں نمکیات اور پانی کا توازن برقرار رہتا ہے۔ گرمیوں کے موسم میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں مختلف مزید ار پانی سے بھرپور پھلوں سے نوازا ہے ان سے لازمی مستفید ہو نا چاہئے ۔ تربوز گرمی کا بہترین توڑ ہے اس کے ساتھ ساتھ کھیرا، فالسہ اور آلو بخارہ بھی گرمی کے موسم میں مفید ہیں۔

٭ اس موسم میں مر غن ، تلی ہوئی اشیائ،کھٹی غذائوں، باسی خوراک اور پیک شدہ کھانوں سے حتی الامکان گریز کرنا چاہئے کیونکہ ان سے ڈائریا کی شکایت بھی ہو سکتی ہے ۔

٭موسم گرما میں زیادہ تیل ، مرچ مسا لوں والے کھانے ،گرم اشیائ، چائے اور کافی کا استعمال کم سے کم کر نا چاہئے ۔

٭ موسم گرما میں خاص طور پر گھر میں پکے ہوئے تازہ اور صاف ستھرے کھانے کھانے چاہئیں اور کھانوں کو درست درجہ حرارت پر پکانا چاہئے ۔تیار ہونے کے بعد کھانے کو مناسب در جہ حرارت پر رکھنا چاہئے۔ گرمیوں کے موسم میں گوشت کے زیاوہ استعمال سے پیٹ بھی خراب ہو سکتا ہے۔

٭سڑکوں کے کنارے کھڑے ٹھیلے والے سے یا بازاروں میں فروخت کئے جانے والے کھلے کھانوں سے گریزکرنا چاہئے ۔ کھلی فروخت کی جانے والی کھانے پینے کی اشیاء جن پر مکھیاں اور کیڑے مکوڑ ے بیٹھتے ہیں، ٹائیفائیڈ، ہیضہ اور ہیپا ٹائٹس جیسے امراض کا باعث بنتے ہیں ۔

٭گرم موسم میں کچے سلاد اورایسے پھل کھانے چاہیئں جن میں پانی کی مقدار زیادہ ہو جیسے کھیرا، تربوز، آم ، خربوزہ اور گاجر وغیرہ۔

٭ گھر میں ہی تازہ پھلوں کا رس نکال کر اسے فوراً استعمال کر لینا چاہئے۔ فریج میںرکھنے سے اس میں جراثیم پیدا ہو سکتے ہیں۔آلودہ پانی اورگلے سڑے پھل بچوں اور عمر رسیدہ افراد کو ڈائریا کے مرض میں مبتلا کر سکتے ہیں۔

٭ گرمی میں دہی کا استعمال بڑھا دینا چاہئے۔

٭طبی ماہرین کے مشورے کے مطابق شدید گرمی میں اینٹی ڈپریشن ادویات استعمال نہیں کرنی چاہئے کیونکہ ان سے فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

موسم گرما میںلوگ گرمی کی شدت سے خود کو محفوظ رکھنے کے لئے عموماً سوئمنگ پول میں نہانا پسند کرتے ہیں جبکہ نگلیریا فائولیری Naegleria Fowleri جسے دماغ کھانے والا امیبا (Brain Eating Amoeba) بھی کہتے ہیں ، مختلف تالابوں ، چشموں ، سوئمنگ پولز اور نلکوں کے پانی میں پایا جاتا ہے اور موسم گرما میں درجہ حرارت کے اضافے کے ساتھ ساتھ اس کی افزائش کی رفتار بھی تیز ہو جاتی ہے۔ لہٰذا سوئمنگ کرتے ہوئے زیادہ گہری ڈبکی لگانے سے گریز کریں اور گرمیوں کے موسم میں صاف اورمناسب کلورین کی مقدار رکھنے والے سوئمنگ پولز کو ہی ترجیح دیں ۔

احتیاط علاج سے بہتر ہے اس لئے ضروری ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کرکے سن سٹروک اور دیگرموسمی بیماریوں سے بچا جائے اور موسم کی خوبصورتی سے لطف اٹھایا جائے۔

تحریر : ڈاکٹر سیدہ صدف اکبر
انتباہ : یہ تحریر مفاد عامہ کے لیے منقول کی گئی ہے

#summer2021 #hotweather #summerchallenge #dehydration #typhoidfever #heatstroke #ekmc #eshakidneyandmedicalcare

Videos (show all)

Hypertension is known as the silent killer and it's one of the risk factors to develop kidney disease  #high blood press...
Esha Kidney & medical care is most advanced & reliable health care service providers in Rawalpindi/Islamabad
wear mask save lives
Permanent tattoos can be removed now
How Laser Works
Esha kidney care is the best facility in twin cities for kidney related problems
we are here to help, to cure, making breakthroughs for our patients. Esha Kidney CareTaking healthcare to next level Cal...
Esha Kidney Care is State of the art dialysis unit with experienced qualified and certified staff .Email your CV at esha...

Location

Telephone

Address


B-1298, 4th-B Road , Satellite Town
Rawalpindi
47000

Opening Hours

Monday 09:00 - 22:00
Tuesday 09:00 - 22:00
Wednesday 09:00 - 22:00
Thursday 09:00 - 22:00
Friday 09:00 - 22:00
Saturday 09:00 - 22:00
Sunday 09:00 - 22:00
Other Hospitals in Rawalpindi (show all)
Meditrina Healthcare Meditrina Healthcare
11-D Sixth Road, Satellite Town
Rawalpindi

Meditrina is a specialized healthcare facility that focuses on high quality clinical services for mental health care & building capacity for mental health resources.

Anti Aging Clinic Anti Aging Clinic
PWD Colony
Rawalpindi

Best Way to get rid of diseases and live a healthy life style is to preserve ourselves and minimize the damage. Anti Aging Look younger, Feel Young

Ayesha hospital Ayesha hospital
E/5 Saidpur Road,Satellite Town
Rawalpindi, 46000

All indoor and outdoor facillities available. Quality assurance 24/7 LABORTORY , C.T scan , DOPPLER

Dr. Shahzad Khalid's Clinic Dr. Shahzad Khalid's Clinic
Phantom Plaza, National Police Foundation, Main PWD Road.
Rawalpindi

Benazir Bhutto Hospital, Rawalpindi Benazir Bhutto Hospital, Rawalpindi
Madopur Road
Rawalpindi

The hospital mainly consists of three Blocks, accident & emergency block, O.P.D block and Indoors block

Dental World Dental World
1st Floor , E-9 , Haidry Chowk , Saidpur Road, Satellite Town, Rawalpindi
Rawalpindi, 46000

Dental world is a family dental practice.Dr Rahila tabassum has earned a reputation for excellence, quality and pain free treatments for past 30 years..

Curelink Healthcare Pvt Ltd Curelink Healthcare Pvt Ltd
Asghar Mall Chowk, Saidpur Road
Rawalpindi

Curelink HC provides international standard mental health facilities which cater to the need of clients suffering from a range of mental health disorders and addiction related issues. The services are overseen by experienced UK qualified Psychiatrists.

China Internationale Hospital China Internationale Hospital
A -79,Hou Iran Road A Block,
Rawalpindi

Havi Homeopathic Clinic Havi Homeopathic Clinic
The MidCity Mall, Murree Road
Rawalpindi, 46000

Best Homeopathic Clinic in the town!

Hanif Hospital, Rawalpindi Hanif Hospital, Rawalpindi
Plot No 379, Saidpur Road
Rawalpindi, 46000

Hanif Hospital, Saidpur Road, Rawalpindi Open 24 Hours Phone No: 051-8487999 www.hanifmedical.com

American Fertility Centre Islamabad American Fertility Centre Islamabad
161, Race Course Road Rawalpindi
Rawalpindi, 44080

American Fertility Centre Pakistan is here to provide you the world`s best infertility evaluation & treatment with most advanced procedures and highly trained & experienced consultant in collaboration.

Bilal Hospital Rawalpindi Bilal Hospital Rawalpindi
38-A, Satellite Town, Sadiqabad Road
Rawalpindi, 44000

We are a 113-bed hospital and provide 24/7 hr coverage for all major specialties. Bilal Hospital offers IPD/OPD services and is fully equipped with latest diagnostic / therapeutic equipment for performing advanced laparoscopic surgeries.