The Herbal Clinic

health related problems and there herbal treatments, all without side effects
100% pure herbal medic

Operating as usual

08/06/2022

ڈاکٹر عفان قیصر صاحب کے لئے

✍🏻 سوشل میڈیا پر ڈاکٹر عفان قیصر صاحب کی ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ پنسار سٹور اور ہومیو ڈاکٹر سے علاج کو بنیاد بنا کر اطباء پر تنقید کررہے ہیں
✍🏻 یہاں اہم بات یہ ہے کہ پنسار سٹور والے ان کوالیفائیڈ ہونے کے باوجود مریضوں کا علاج کررہے ہیں تو انہیں روکنا حکومتی اداروں کی ذمّہ داری ہے طبیب کو اس کا الزام نہیں دیا جاسکتا
✍🏻 دوسری بات یہ ہے کہ عبد الرب نیاز ہومیو ڈاکٹر ہیں حکیم نہیں ہیں پوری معلومات اور تصدیق کے بغیر اطباء پر الزام تراشی کرکے ڈاکٹر عفان قیصر صاحب نے ذمہ داری کا ثبوت نہیں دیا
✍🏻 ڈاکٹر عفان قیصر صاحب نے ایک اور ویڈیو میں کہا ہے کہ یونانی اور حکیمی دوائیوں میں گندے کیمکل شامل ہوتے ہیں
ڈاکٹر صاحب کی اس بات سے پتہ چلتا ہے کہ طب کے بارے میں انہیں بنیادی معلومات ہی حاصل نہیں ہیں ایسی صورت میں انہیں طب کے بارے میں رائے دینے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے
✍🏻 ہم ڈاکٹر صاحب سے یہ معلوم کرنا چاہیں گے کہ
👈🏻 ایلوپیتھی کی کونسی دوا کیمیکلز ، ایسیڈز اور ایلیمنٹس سے خالی ہوتی ہے ؟
👈🏻 ڈاکٹر صاحبان اخلاقی جرات سے کام لے کر کیا ایلوپیتھی ادویات میں کیمیکلز ایسیڈز اور ایلیمنٹس کی موجودگی کے خلاف آواز اٹھا سکتے ہیں اور ان چیزوں کو اپنی ایلوپیتھی ادویات سے نکلوا سکتے ہیں ؟
👈🏻 کیا ایلوپیتھی ادویات میں اسٹیرائیڈ نہیں ہوتے ؟
👈🏻 کتنی ایلوپیتھی ادویات ہیں جن کے سائیڈ ایفیکٹس نہیں ہوتے ؟ کیا ہر دوا کی معلومات کے ساتھ ان کے سائیڈ ایفیکٹس ادویات کے معلوماتی پرچے اور نیٹ پر موجود نہیں ہیں ؟
👈🏻 سائیڈ ایفیکٹس کے باوجود وہ ایلوپیتھی ادویات استعمال کیوں کرائی جاتی ہیں ؟ ڈاکٹر صاحبان سائیڈ ایفیکٹس والی ان سب ایلوپیتھی ادویات کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھاتے ؟ ان پر پابندی کیوں نہیں لگواتے ؟ کم از کم وہ اتنا تو کرسکتے ہیں کہ سائیڈ ایفیکٹس والی کوئی بھی ایلوپیتھی دوا مریضوں کو تجویز نہ کریں آخر وہ ایسا کیوں نہیں کرتے؟ سائیڈ ایفیکٹس کے باوجود مریضوں کو وہ یہ ایلوپیتھی ادویات کیوں تجویز کرتے ہیں ؟ ایلوپیتھی ادویات کے سائیڈ ایفیکٹس معلوم ہوتے ہوئے وہ ادویات تجویز کرنا کیا یہ مریضوں پر ظلم نہیں ہے ؟ ڈاکٹر صاحبان کوئی بھی دوا تجویز کرتے وقت کیا مریضوں کو اس کے سائیڈ ایفیکٹس بتانے کی جرات کرسکتے ہیں ؟ تجویز کی جانے والی ایلوپیتھی ادویات کے سائیڈ ایفیکٹس کے بارے میں مریضوں کو اندھیرے میں کیوں رکھا جاتا ہے ؟ انہیں سائیڈ ایفیکٹس کے بارے میں کیوں نہیں بتایا جاتا ؟
👈🏻 ایلوپیتھی کے برصغیر میں آنے کے بعد اب تک کتنی ایلوپیتھی ادویات بہت زیادہ سائیڈ ایفیکٹس سامنے آنے کی وجہ سے بین کی جاچکی ہیں ؟ یہ بتانے میں کسی ڈاکٹر صاحب کو کیا کوئی شرمندگی تو محسوس نہیں ہوگی ؟
👈🏻 ایلوپیتھی ریسرچ کا کیا یہی معیار ہےاور کیا اسی معیار پر ایلوپیتھی اپنی ریسرچ پر فخر محسوس کرتی ہے کہ اعلیٰ ترین ریسرچ کے باوجود ایلوپیتھی کی کوئی دوا سائیڈ ایفیکٹس سے خالی نہیں ہے ؟
👈🏻 یورپ میں تو کہیں طب ہے نہ کوئی حکیم پھر وہاں گردے فیل ہونے کی شرحِ سب سے زیادہ کیوں ہے ؟ ڈاکٹر صاحبان طبی ادویات اور اطباء پر الزام تراشی سے پہلے کیا یورپ میں سامنے آنے والی اس اہم حقیقت پر غور کرنے کی زحمت کریں گے ؟
👈🏻 علاج کا مطلب بیماری سے مریض کی صحت یابی ہوتا ہے ایلوپیتھی کیسا طریقہ علاج ہے جس میں بیسیوں امراض میں مریض کو تاحیات دوا کھانی پڑتی ہے بیماری اور ایلوپیتھی ادویات ساری عمر ساتھ ساتھ چلتے ہیں سائیڈ ایفیکٹس کے نتیجے میں کئی اور بیماریاں ساتھ میں شامل ہوتی رہتی ہیں اور اصل بیماری کے ساتھ پھر سائیڈ ایفیکٹس سے ہونے والی بیماریوں کی ادویات کا بھی مسلسل اضافہ ہوتا رہتا ہے اور ساری عمر ادویات کھانے کے باوجود مریض پھر بھی اسی بیماری سے مرتا ہے کیا اسی کا نام علاج ہے اور اسی علاج پر ایلوپیتھی اور ڈاکٹر صاحبان کو فخر ہے ؟
1 سادہ سا گیسٹرائٹس کا مریض تک تو ساری زندگی omeprazol فیملی کی ادویات سی باہر نہیں نکل پاتا اگر ان معدہ و جگر کے سپیشلسٹ ڈاکٹروں کے ہتھے چڑھا رہے تو۔۔۔۔۔
جو کہ شاید پودینہ، سونف اور ہلدی کے مرکب سے مکمل طور پر شفاءیاب ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔
ڈاکٹر صاحب اگر اپنے تکبر سی باہر نکلیں تو ممکن ہے ان کو پتہ چل جائے کہ جس ایلوپیتھی پر آج یہ گھمنڈ کر رہے ہیں۔۔۔ اس کی عمارت سے اگر طب کی بنیاد نکال دی جائے تو یہ دھڑام سی نیچے آ گریں گے۔۔۔۔ جس جالینوس Galen ، یعقوب الکندی، ذہراوی کی کتب اور تحقیق پر ایلوپیتھی کی بنیاد رکھی گئی، وہ طب یونانی ھربل ادویات کے ماہرین (حکیم) ہی تھے۔
خیر میرا مقصد کسی کو اونچا یا نیچا دکھانا نہیں ہے، صرف اتنا کہوں گا کہ طب پر تنقید کرنے سے پہلے کسی اصلی حکیم کے پاس کچھ دیر بیٹھ کر تھوڑی سی معلومات ضرور حاصل کر لیں اور اپنا تکبر توڑ کر انسان ہونے کا ثبوت دیں۔ تنقید برائے تنقید سے کسی کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
اور ہربل ادویات کے فوائد اور اس کی صداقت کو مزید جاننے کے لیے اگر کسی قسم کی معلومات یا راہنمائی چاہیے ہو تو بندہ حاضر ہے، اور اگر تسلی نہ ہو اور کوئی بڑائی تنگ کرے تو WHO ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی سفارشات برائے طبی ادویات کو تھوڑا سا وقت دے دیں، کافی تسلی ملے گی۔
آخر میں بس اتنا کہوں گا کہ
👈🏻 کسی بڑے ہسپتال کے سامنے کھڑے ہو کر دیکھیں کہ روزانہ کتنے مریض مرتے ہیں مگر بدنام طب اور طبیب کو کیا جاتا ہے آخر کیوں ؟
ڈاکٹر صاحبان اطباء پر الزام تراشی کی بجائے اپنے گھر کی فکر کریں تو انسانیت پر ان کا یہ احسان عظیم ہوگا

26/04/2022

زبان کی لکنت کی وجوہات اور علاج
زبان کی لکنت یا ہکلانے سے مراد بولنے میں کسی قسم کی خرابی کا پیدا ہوجانا ہے جس سے کوئی بھی انسان یا تو رک رک کر بولتا ہے یا الفاظ بار بار دہرانے لگتا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے شخص کو دیگر مشکلات کا سامنا بھی رہتا ہے جیسے کے آنکھوں کا بار بار جھپکنایا ہونٹ کپکپانا۔ ایسے لوگوں کو دوسروں سے بات کرنے میں جھجک محسوس ہوتی ہے جس کے باعث ان کی زندگی کا معیار بھی متاثر ہوجاتا ہے ۔ زبان میں لکنت آسانی سے ظاہر ہو جاتی ہیں۔ عام طور پر ایسے لوگ فون پہ یا کسی حجوم میں بات کرتے ہوئے ہکلانے لگتے ہیں ۔ البتہ گانے ، زور زور سے پڑھنے اور بات کرنے سے وقتی طور پر اس میں کمی آسکتی ہے ۔

زبان کی لکنت کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں ۔ گھر ،اسکو ل یا دفتر میں ملنے والا ذہنی دباؤ ،جینز میں پایا جانے والا کوئی نقص یا کوئی جسمانی عضراس کی ممکنہ وجوہات میں شامل ہیں۔ بات کرنے کی اس تکلیف کا سب سے زیادہ شکار بچے ہوتے ہیں ۔ دو سے پانچ سال کی عمر میں اکثر بچے ہکلانے لگتے ہیں جب ان کی بولنے کی صلاحیت بڑھ رہی ہوتی ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق پانچ فیصد بچے اس عمر میں ہکلانے لگتے ہیں ۔ یہ ہکلاناعموماً وقتی ہوتا ہے جو آہستہ آہستہ ٹھیک بھی ہو جاتا ہے ۔

انسانی آواز کئی مربوط پٹھوں کی حرکت سے پیدا ہوتی ہے ۔ اس عمل میں سانس لینے، پٹھوں ، ہونٹوں اور زبان کے حرکت کرنے کا اہم کردار ہوتا ہے ۔ نرخرے اور اس کے اردگرد موجود پٹھوں کی حرکت کا تعلق ذہن سے ہوتا ہے ۔دماغ بولنے کے ساتھ ساتھ سننے اور چھونے کی صلاحیتوں کو بھی مانیٹر کرتا ہے ۔ زبان کی لکنت کی دو اقسام ہوتی ہیں ۔ ایک قسم کی لکنت و ہ ہوتی ہے جو عام طور پر بچوں کی زبان میں اس وقت پیدا ہوجاتی ہے جب ان کے بڑھنے کی عمر ہوتی ہے یعنی دو سے پانچ سال کی عمر میں۔ دوسرے قسم کی لکنت اعصابی ہوتی ہے جس کی وجہ سر پہ لگنے والی چوٹ، دل کا دورہ یا کوئی ذہنی دباؤ ہو سکتی ہے ۔ ایسے میں دماغ اور آواز پیدا کرنے والے پٹھوں میں رابطہ تعطل یا توقف کا شکا ر ہوجاتا ہے ۔

فی الوقت زبان کی لکنت سے بچنے کا طریقہ تو دریافت نہیں ہو پا یا ہے البتہ اس کے علاج کے لیے مختلف اقسام کے طریقے استعمال کیے جاتے ہیں ۔ علاج کی نوعیت انسان کی عمر ، تبادلہ خیال کرنے کے مقاصد اور دیگر عوامل پر منحصر ہوتی ہے ۔ چھوٹے بچوں کو عام طور پر اسپیچ تھیراپی دی جاتی ہے ۔ ماہرین طب کا ماننا ہے کہ ابتدائی عمر میں ہی اگر بچوں کی اس تکلیف کا علاج کرلیا جائے تو انھیں آگے چل کر اس کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ ہکلاہٹ کو دور کرنے کے لیے بچوں کے ماں باپ کو بچوں کو گھر میں ایک مثبت ماحول مہیا کرنے اور انہیں اپنی رائے کا اظہار کرنے کی اجازت دینے کا مشورہ دیا جاتا ہے ۔ جبکہ بچوں کو ہر وقت ٹوکنے سے منع کیا جاتا ہے۔ ایسے بچوں سے دھیمے لہجے میں دھیرے دھیرے بات کرنی چاہیے تاکہ ان پرزیادہ دباؤ نہ پڑے۔ ساتھ ہی کھل کر اور ایمانداری سے ایسے بچوں کی بات سننے اور سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔

اسپیچ تھیراپی میں بچوں کو رک رک کے بات کرنے ، گفتگو کے دوران زیادہ سے زیادہ سانس لینے اور چھوٹے چھوٹے جملے بولنے کا مشورہ دیا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ بچوں سے ان کی زندگی اور ذہنی تناؤ کے بارے میں بھی بات چیت کی جاتی ہے ۔ معالج بڑوں کو بھی عام طور پر اسپیچ تھیراپی لینے کا ہی مشورہ دیتے ہیں ۔ زبان کی لکنت کے لیے ادویات کا استعمال درست نہیں تصور کیا جاتا ، البتہ ڈپریشن یا اسٹریس دور کرنے کے لیے ادویات دی جاسکتی ہیں ۔

زبان کی لکنت دور کرنے کے لیے چند گھریلو توٹکے بھی اپنائے جاسکتے ہیں ۔ جن میں سے چند مندرجہ ذ یل ہیں:

*ایسے افرادکو صبح سویرے شہد اور کلونجی کا سفوف زمزم کے پانی کے ساتھ دینے کا مشور دیا جاتا ہے۔

*عاقر قرحا لاکر ایک قسم کی جڑی بوٹی ہے جو کسی بھی پنساری کی دکان پر مل جاتی ہے۔ اسے پیس کر اس کا چار گرام پسی ہوئی سیاہ مرچ کے ساتھ ملا لیں۔ اس سفوف کے دو بڑے کھانے کے چمچے شہد میں ملا کر رکھ لیں اور دن میں دو تین بار زبان کے نیچے اور اوپر انگلی پر لگا کر مل لیں ۔

*دو کھانے کے چمچ سہاگہ لیں ۔ اس کے پتھر کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں ٹوڑ کر توے پر رکھ کر پکائیں ۔ سہاگہ پگھل جائے تو چولھا بند کردیں اور توے پر ہی کچھ دیر چھوڑ دیں ۔ تھوڑی دیر بعد یہ پھولنا شروع ہوجائے گا ۔ اچھی طرح پھولنے کے بعد اسے پیس لیں اور اسٹور کرلیں ۔ روزآنہ ایک چائے کے چچ شہد میں چٹکی بھر سفوف دال کر زبان پر مل لیں ۔ اس عمل کو دن میں تین بار دہرائیں۔ ایک مہینے تک اس عمل کو جاری رکھنے سے زبان کی لکنت کافی حد تک کم ہوجائے گی ۔ہمارے مطب پر اکسیر لکنت تیار کی جاتی ہے جو کہ لکنت کے شکار افراد کے لیے بہت مفید ثابت ہوئی ہے۔

Learn Hijamah الحجامۃ in Urdu/ Hindi 18/04/2022

Learn Hijamah الحجامۃ in Urdu/ Hindi

https://youtu.be/lkyNm1fnb5A

Learn Hijamah الحجامۃ in Urdu/ Hindi Hijamah الحجامۃ is the sunnah way of detox. the treatment which is emphasized for regaining the health, in this Islamic Healing Practice, we work on proper p...

Learning Chiropractic Urdu/ Hindi Dr.Alimalik 17/04/2022

Learning Chiropractic Urdu/ Hindi Dr.Alimalik

https://youtu.be/r2Ga1hoOKto

Learning Chiropractic Urdu/ Hindi Dr.Alimalik this is the first video on learning Chiropractic in Urdu or Hindi. Dr. Muhammad Ali Malik is in practice for the last 3 years and he is helping people with s...

25/02/2022

"نزلہ زکام کا سادہ علاج"

نزلہ زکام یا کوریزا (Coryza) سانس کاایک عام مسئلہ ھے جس کی وجہ وائرل انفیکشن کی اقسام ھیں اور ان میں سب سے عام انفلوئنزا ھے۔
انفلوئنزا وائرس اور اس کی مختلف اقسام کی وجہ سے متاثرہ افراد میں مختلف تبدیلیاں دکھائی دیتی ھیں۔ اس بیماری میں حساسیت(الرجی) اور ماحولیاتی اثرات معاون عناصر ھو سکتےھیں۔

لفظ "نزلہ" ایک مکمل اصطلاح ھے جو مختلف علامات کو بیان کرتی ھے جیسے چھینکیں، گیلی ناک، بہتی ھوئی ناک، گلے میں خارش، سر کا بھاری پن ، جسم میں درد، سر درد، بدھضمی، متلی، پیٹ میں درد، الٹی، اسہال اور بخار۔
محمد یونس ھرگانوی صاحب کی ایک نظم ماہنامہ مسرت، پٹنہ(بھارت) جنوری 1967 میں شائع ھوئی۔ اس کا ایک قطعہ بہت دلچسپ ھے۔
فرماتے ھیں:
جب نکلتے ھیں چھینک کے بچے
آدمی کو زکام ھوتا ھے
آنکھ جلتی ھے ناک بہتی ھے
سانس لینا حرام ھوتا ھے

نزلہ کے بار بار حملے قوت مدافعت کی کمی کے عکاس ھیں جو اکثر ناکافی آرام کی وجہ سے ھوتی ھے۔ اس کے علاوہ بہت زیادہ روغنی کھانے، ذھنی تناؤ، سردی اور نمی کی موجودگی میں رھنا بھی وجہ ھو سکتی ھیں۔

بار بار کا نزلہ زکام، فرد کو ثانوی طور پر سانس کی نالی کے نچلے حصے میں انفیکشن کا شکار بنا سکتا ھے۔ ابتداء میں ھی مستقل توجہ اور مناسب علاج نزلہ زکام سے ھونے والی پریشانی سے بچا سکتا ھے۔

برصغیر میں رائج طبوں میں "تریکاٹو" ایک سادہ سا نباتاتی مرکب ھے جس کے نباتاتی اجزاء سونٹھ، کالی مرچ اور مگھاں ھیں۔ اس کو کتب میں تریکٹا بھی لکھا جاتا ھے۔
اس مرکب کے استعمال اور تجویز کردہ احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ھونے سے عام نزلہ زکام کا علاج کامیابی سے کیا جا سکتا ھے۔ اطباء حضرات اپنی حذاقت سے اگر اسے دور حاضر کے خوفناک انفلوئنزا پر بھی دیگر نسخہ جات کے امتزاج سے استعمال کرائیں تو بہتر نتائج کی توقع کی جا سکتی ھے۔

"تریکاٹو پاؤڈر"
یہ ایک سادہ سی فارمولیشن ھے جس میں عام طور پر استعمال ھونے والی تین خشک بوٹیوں یعنی ادرک (سونٹھ)، کالی مرچ (فلفل سیاہ) اور مگھاں (پپپلی، فلفل دراز) کو برابر مقدار میں باریک سفوف بنا کر مکس کیا جاتا ھے۔ یہ تینوں اجزاء برصغیر میں باورچی خانے میں استعمال ھونے والے عام مصالحے ھیں۔

تریکاٹو سنسکرت کا لفظ ھےاوراس کے لفظی معنی 'تین تیکھے'ھیں کیونکہ اس میں استعمال ھونے والے تینوں اجزاء بنیادی طور پر تیز ذائقہ والے ھوتے ھیں.

" تریکاٹو پاؤڈر میں شامل نباتات کے کیمیائی اجزاء"
سونٹھ کے اھم کیمیائی اجزاء:
روغن فراری، ایلکلائیڈ (جنجرول، شوگول)، رال اور نشاستہ۔
کالی مرچ کے اھم کیمیائی اجزاء:
الکلائڈز (پائپرین، chavicine، piperidine piplartine) اور روغن فراری( essential oils)۔
مگھاں کے اھم کیمیائی اجزاء:
روغن فراری اور الکلائڈز (پائپرائن، سیسامین اور پیپلارٹائن)۔

"تیاری کا طریقہ"
1) تینوں اجزاء 50, 50 گرام لے کر صاف کر کے نمی کو دور کرنے اورآسانی سے پیسنے کے لئےمزید خشک کریں۔
2) ھر جزو کو گرائنڈر میں باریک پاؤڈر ھونے تک پیس لیں۔
3) پاؤڈر کو 85 سائز کی جالی کے ذریعے چھلنی کر کے ریشے اور دیگر موٹے موٹے ذرات کو نکال دیں۔
4) تینوں اجزاء کے پاؤڈر کو برابر وزن میں مکس کر کے شیشے کی ائیر ٹائٹ خشک بوتل یا فوڈ گریڈ پلاسٹک کے کنٹینر میں براہ راست سورج کی روشنی سے دور خشک اور ٹھنڈی جگہ پر سٹور کریں۔
اس پاوڈر کی رنگت سیاہ بھوری ھوتی ھے اور یہ ایک سال تک استعمال کرنا بہتر رھتا ھے۔

"مرکب دوا کی خصوصیات"
یہ پاوڈر دافع سوزش، دردکش، مخرج بلغم اور ہاضمم ھوتا ھے.

"مقدار خوراک اور طریقہ استعمال"
بالغ افراد کی خوراک 2 گرام دن میں دو سے تین بار ھے۔اسے گرم دودھ یا پانی یا شہد کے ساتھ استعمال کریں۔
بچوں کو عمر کے مطابق 125 ملی گرام سے 500 ملی گرام تک دن میں دو سے تین بار شہد یا پانی کے ساتھ۔
دوسرا طریقہ یہ ھے کہ ایک کپ دودھ میں مقدار خوراک کے مطابق شامل کر کے اسے چند منٹ کے لیے ابالیں اور گرم گرم پی لیں یا پلا دیں۔
مزید یہ کہ
تریکاٹو بیماریوں کو دور کرنے کے لیے شہد کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جاتا ھے۔ جیسا کہ نزلہ، ناک کی سوزش، کھانسی، سانس پھولنا، دمہ، بدہضمیاور موٹاپا ۔ یہ نظام ہاضمہ کو بھی بہتر کرتا ھے۔

"نزلہ زکام میں احتیاطی تدابیر"
(1) عام نزلہ زکام میں مبتلا مریضوں کو براہ راست
ٹھنڈی ھوا کا سامنا، مرغن کھانا، ٹھنڈا پانی پینا، بول و براز کو روکنا، فرش پر لیٹنا اور دن کے وقت سونے سے روکنا چاھیے۔
(2) ہلکا مصالحہ دار کھانا ، نمکین ذائقہ والی اشیاء، دھی، لہسن، گرم پانی، بینگن کا بھرتہ اور سبز چنوں کا گرم سوپ پینا عام سردی لگنے میں مفید ھے۔
(3) سر کو ٹوپی یا کسی گرم کپڑے سے ڈھانپنا، بھاپ لینا، سر کی مالش، گرم نمکین پانی سے غرارے کرنا اور غصے سے بچنا عام نزلہ زکام سے بحالی میں معاونت کرتے ھیں۔
4) کولڈ ڈرنکس، کولڈ جوس، آئس کریم، زیادہ چکنائی دار اور بہت خشک خوراک سے پرھیز کریں۔ گرم اور ھوادار کمرے میں رھیں۔

"حفاظتی پہلو"
(1) تریکاٹو کا قدیم طبی کتب میں کسی قسم کے سائیڈ ایفیکٹ کا ذکر نہیں کیا گیا ھے۔ کلینیکل مطالعات نے بھی تجویز کردہ خوراک کے ساتھ علاج کیے جانے والے مریضوں میں منفی اثرات کا کوئی ثبوت نہیں دیا۔
2) چونکہ تریکاٹو پاؤڈر کا مزاج گرم ھے اس لئے بڑی خوراک سے گریز کیا جائے کیونکہ مریض معدہ میں جلن کی شکایت کر سکتا ھے یا پیشاب میں جلن وغیرہ۔ ایسے حالات میں فوری طور پر اس کا استعمال روک دیا جائے اور مریض کو دودھ وافر مقدار میں لینے کا مشورہ دیا جائے۔
(3) حاملہ خواتین کے لیے اس دوا کا استعمال مناسب نہیں ھے۔ تاھم اگر دودھ پلانے والی ماں لے رھی ھو تو یہ دوا بچے کے لیے محفوظ ھے۔

کچھ نازک مزاج افراد کو خاندان میں کسی ذمہ داری کے وقت اچانک زکام ھو جاتا ھے اور اس کا واویلا بھی خوب ھوتا ھے۔ ایسا زکام کام ھو جانے کے بعد بغیر کسی علاج کے ٹھیک ھو جاتا ھے۔
ایسے وقتی نزلہ بردار افراد کے لیے جناب مونس فراز صاحب کا شاعرانہ فرمان ھے کہ
" ٹی وی پہ نیوز آ گئی ان کے زکام کی
لیکن ھمارے قتل کا چرچا نہیں ھوا"

دعاگو: پروفیسر حکیم *محمد علی ملک*

21/02/2021

Benefits of olive oil for the heart, skin and hair,
Cholesterol and Heart Health

Despite the drama surrounding the use of fats and oils, these things are an essential part of a balanced eating plan. The key is to choose your fats wisely. Olive oil is one of the healthiest types of fat around. The monounsaturated fat in olive oil has been shown to control LDL (bad) cholesterol and raise HDL (good) cholesterol. This can potentially lower your risk of heart disease.

When you digest your food, free radicals that are naturally produced by the body can damage the cells. Free radicals from environmental factors such as dust, smog, cigarette smoke and pesticides don't help the situation. The antioxidants contained in olive oil can help fight off and repair some of the damage that free radicals can cause.

To get the best heart-healthy results from olive oil, the U.S Food and Drug Administration recommends eating two tablespoons daily. You can easily get this amount in your diet by following the examples of top chefs and using it in your favorite foods.

Skin and Hair

The antioxidants contained in olive oil can benefit more than your heart. Because this substance prevents cell destruction, it fights the signs of aging and gives you a more youthful appearance. When applied topically, olive oil moisturizes and softens dry skin. Since the product is natural, adverse reactions are not common.

The problem with a lot of commercial skincare products is that the moisturizing ingredients don't pe*****te the skin. Extra virgin olive oil is composed of more than 80 percent oleic acid. This substance easily pe*****tes the skin, and allows the oil to heal damage, reduce wrinkles and improve texture.

If you struggle with dry, brittle hair, keeping a bottle of olive oil handy can help. A weekly deep conditioner of olive oil can be used in the place of products that contain silicone ingredients to make the hair more manageable. Shampoos that contain sulfates will strip the moisture ou

27/03/2020

کورونا وائرس تحقیقات،تفصیلات و علاج علم طب کی روشنی میں...
راقم : حکیم محمد علی ملک.
اسسٹنٹ پروفیسر، اجمل طبیہ کالج، راولپنڈی. 03335555730
(COVID-19)
کورونا کے اوپر لکھنے سے پہلے بتاتا چلو کہ نیچے جو تحقیقات و تفضیلات لکھ رہا ہوں، یہ انٹرنیشنل ویب سائٹس جو چائنہ،یورپ اور پاکستان کی ہیلتھ انفارمیشن، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور نشنیل انسٹیوٹ آف ہیلتھ وغیرہ پر مبنی ہیں سے تجویز کردہ ہیں اور علاج ان سب علامات کو مدنظر رکھ کر تجویز کردہ ہیں اور بے شک اللہ تعالی ہی شفا دیتا ہے
کرونا وائرس ( COVID-19 )
کرونا وائرس (2019-nCoV) ایک متعدی اور وبائی مرض ہے جس کی پہلی مرتبہ نشاہدنی دسمبر 2019 میں چائنہ کے شہر ووہان میں ہوئی کرونا وائرس پیدا ہونے کی وجوہات جانوروں کے گوشت کھانے جیسا کہ چمگادڑ، کتا،بلی، گدھا وغیرہ اور تقریبا تمام حرام جانور اس میں شامل ہیں اور پاکستان کی ویب سائٹ نشینل انسٹیوٹ آف ہیلتھ کے مطابق اونٹ کا گوشت کھانے سے جبکہ فقیر بلکل بھی اس بات سے متفق نہیں ہے کیونکہ اونٹ کا گوشت مسلم ممالک میں بے تحاشہ استعمال کرنے کے باوجود بھی کوئی مریض اس سے متاثر نہیں ہوا اور بقول ہیلتھ آرگنائزیشن کے پاکستان میں تمام مریض غیر ملک سے ہی بیمار ہو کر آئے ناں کہ اونٹ کے گوشت سے لہذا اونٹ کا گوشت جو کہ حلال ہے بے دریغ استعمال کر سکتے ہیں انشاء اللہ اس سے وبا نہیں پھیلی گی بلکہ مسلم ممالک میں وبا پھیلنی کی وجہ جو مریض کرونا وائرس سے بیمار ہے اس کے قریب جانے اور ساتھ کھانے سے لاحق ہوئی ہیں

کرونا وائرس اور مرض کی حقیقت:
چائنہ کی انٹرنیشنل ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق کرونا وائرس جسے COVID19 کا نام دیا گیا ہے
کوڈ 19 سے مراد کورنا وائرس سے پیدا ہونے والا نمونیا نما مرض ہے

کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی علامات:
کورونا وائرس کی انفیکشن ہونے پر ایک ہفتہ کے اندر مندرجہ ذیل مسائل ظاہر ہوتے ہیں:
نظام تنفس کے مسائل جیسا کہ کھانسی،سانس پھولنا،سانس لینے میں شدید دشواری، شدید سر درد، گلے میں درد اور اس کے ساتھ بدنی علامات میں شدید تھکاوٹ محسوس کرنا اور بخار شامل ہیں. مگر بعض مریضوں میں کورونا وائرس کی انفیکشن بڑھنے پر بھی بخار نہ چڑھنا اور بعض مریضوں میں آنکھوں کی جھلی کی سوزش اور شدت مرض یعنی کورونا وائرس کی انفیکشن بڑھنے سے قلبی تکالیف، دھڑکن تیز ہونااور سانس رک جانے سے موت واقع ہو جانا شامل ہیں. کیونکہ پھیپھڑوں میں شدید تعدیہ(Infection) کی وجہ سے پھیپھڑے آکسیجن کو جسم میں جزب کروانے سے معزور ہو جاتے ہیں.

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بنیادی ذرائع:
نظام تنفس
رابط

ترسیل بذریعہ نظام تنفس
گفتگو یعنی بات چیت کے دوران کھانسنے یا چھینکنے سے تقریبا ایک تا دو میڑ تک حساس لعابی جھلی میں داخل ہو سکتے ہیں جس سے تندرست مریض مرض نمونیا سے لاحق ہو جاتا ہے.

ترسیل کرونا بذریعہ رابطہ:
قطرات متاثرہ مریض کے کسی چیز پر جمع ہو جائے اور پھر تندرست آدمی کے ہاتھ اس متعلقہ چیز پر ٹچ ہو جائے اور وہ ہاتھ پھر منہ،ناک،آنکھ یا دیگر اعضاء کی لعابی جھلی سے مس ہو تو کورونا وائرس سے متاثر ہو جاتا ہے

وبا کو روکنے کی حفاظتی تدابیر
باہر کم نکلیں.
ذیادہ لوگ جمع نہ ہو تاکہ ترسیل بذریعہ تنفس نہ ہو
چہرے پر ماسک پہنے (صرف سرجیکل ماسک یا این 95 یا اس سے اوپر والا ہی کورونا وائرس کی روک تھام کے لیئے کار آمد ہیں لہذا سوتی یا ریشمی ماسک سے پرہیز کریں )
باقاعدگی سے ہاتھ دھوئیں
( بقول ورلڈ ہیتلھ آرگنائزیشن کھلے پانی میں 75 فیصد الکحل یعنی شراب والا مرکب جراثیم کش دوا ڈال کر ہاتھ دھوئے جائے )
یہ بلکل غلط اور مسلم امہ پر اپنی رائے دھونسنے والی بات ہو گی. فقط سنت سمجھ کر نمازوں کے اوقات میں ہاتھ دھونا،کھانے سے پہلے اور بعد میں دھونا،کام سے فارغ ہو کر ہاتھوں کو صاف رکھنا مطلب جو سنت طریقہ ہے بس ان پر ہی اکتفا کرنا کافی و شافی ہو گا انشاءاللہ. لہذا الکوحل کے مرکبات استعمال نہ کریں. صابن سے چہرہ اور ہاتھ اچھی طرح دھو لینا کافی ہے.

علاج...
پرہیز علاج سے ہزار گنا بہتر ہے لہذا باہر جانے کی صورت میں سرجیکل ماسک پہنے اور واپس آ کر ہاتھ اور منہ صابن سے دھوئیں اور لباس تبدیل کریں. تمام حضرات حفاظتی تدابیر خود بھی اپنائیں اور دوسروں کو بھی آگاہ کریں.
قابل اعتماد اور مستند ذرائع سے ہی معلومات حاصل کریں اور وباء کو معقول انداز میں سمجھنے کی کوشش کریں اور افواہوں پر دھیان نہ دیں اور نہ ہی ان پر یقین کریں.

طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور حفاظتی ٹوٹکہ...
انجیر خشک 3 عدد
کلونجی 1 چٹکی
سوگی (کشمش) دیسی 20 گرام
بوقت صبح نہار منہ یا بوقت عصر نیم گرم پانی میں شہد ملا کر پی لیں.
اس کا استعمال آپ کی قوت مدافعت کو مظبوط کرے گا اور کرونا وائرس کی وبا سے محفوظ رکھے گا، انشاءاللہ اور اگر خدانخواستہ مرض لاحق ہو جائے تو نیچے والی ادویات سے فائدہ اٹھائیں.

ھو الشافی
اجزاء
زعفران 1گرام
عناب 35 گرام
لسوڑیاں 20 گرام
خطمی بیج 15 گرام
تخم جبازی 15 گرام
انجیر خشک 50 گرام
ملٹھی 30 گرام
زوفا 30 گرام
پروسیشاں 25 گرام
پانی 2 کلو
شکر دیسی 750 گرام
شہد خالص 250 گرام
طریقہ تیاری :
اوپر والی تمام ادویہ رات کو پانی میں بھگو کر اور صبح ہلکی آنچ پر رکھ دیں جب1لیٹر پانی رہ جائے تو مل چھان کر شکر اور شہد ملا کر حسب دستور شربت بنا لیں
طریقہ استعمال
تین بڑے کھانے کے چمچ 1کپ گرم پانی میں ملا کر دن میں 4 تا 5 مرتبہ پلائیں اور ممکن ہو تو اس کی بھاپ بھی دیں.
اور اس کے ساتھ خمیرہ بنفشہ میں کشتہ بارہ سنگا ایک رتی ملا کر صبح و شام دیں انشاءاللہ ہفتہ عشرہ میں مریض شفایاب ہو گا.
مزید کسی بھی راہنمائی کے لئیے رابطہ کر سکتے ہیں. 03335555730

11/02/2020

Back pain removed by Hijamah 1st session

08/02/2020

Clinic Plus Healthcare Center

گھٹنوں سے آوازیں کیوں آتی ہیں..؟

نوکنگ ، پوپپنگ ، نوائزی گھنٹوں کی آوازیں پچاس سال سے اوپر ہر دوسرے شخص کے گھٹنوں سے اٹھتے، بیٹھتے آوازیں آتی ہیں۔
کبھی کبھی زیادہ وزن کے نوجوان بھی گھٹنے کی آوازیں محسوس کرتے ہیں۔
عام طور پر یہ آوازیں سننے والے کو پریشان کر دیتی ہیں
اور خوف آتا ہے کہ، اندر کہیں کچھ ٹوٹ پھوٹ تو نہیں ہوگئی.. ؟

اس شعبے کے ماہرین بتاتے ہیں بغیر درد کے آنے والی آوازیں بالکل بے ضرر ہیں چاہے وہ کسی بھی ایج میں آئیں۔

یہ آواز پوپپنگ نوکنگ جیسی ہوتی ہےجیسے پوپ کورن کے پکتے وقت یا دروازہ کھلتے بند ہوتے وقت آتی ہیں
لیکن اگر آوازوں کے ساتھ ساتھ درد بھی ہوتو پھر ان آوازوں پر کان دھرنا چاہیے۔

🔹️ سب سے پہلے وزن کی فکر کرنی چاہیے۔
کیونکہ اگر زیادہ وزن والے افراد گھٹنوں کے درد کی شکایت کریں تو ان کی مثال ایسے ہی ہے کہ انہوں نے مکان کا نقشہ تو پاس کرایا تھاگراؤنڈ پلس ون، دو منزل کا
لیکن عمارت کھڑی کر لی چار منزلہ..!
اب بنیادیں شور تو کریں گی..!
اگر گھٹنوں کی آوازیں درد کے ساتھ ہیں تو سب سے پہلے وزن کم کیجئے۔

🔹️اس کے ساتھ ساتھ ورزش کی عادت ڈالیں۔
ایک بہت آسان اور مفید ورزش یہ ہےکہ اپنے بیڈ پر الٹے لیٹ جائیں پیٹ کے بل اور دونوں پیروں کو ملا کر کسی ململ کے کپڑے سےباندھ لیں اور دونوں ٹانگیں اپنی کمر کی طرف بند کریں۔
👈نوٹ
ابتداء میں ہر ورزش بہت آہستہ شروع کی جانی چاہیے
پہلے دو چار دن صرف دو سے تین منٹ کیجئےاور جس قدر آسانی سے موڑا جا سکتا ہو موڑیں زورہرگز نہ لگائیں۔
جب پریکٹس ہو جائے تو ایک سیشن کا دورانیہ پندرہ منٹ تک کیا جانا چاہیئے۔

🔹️اس کے ساتھ ساتھ گھٹنوں کی بیک پر سرسوں یا زیتون کے تیل سے مالش کرائیں خود بھی کر سکتے ہیں۔
نہانے سے پہلے گھٹنوں پر تیل کی مالش کو زندگی بھر کے لیے لازم کر لیں۔

🔹️ایک عادت مستقل بنا لی جائے بستر، صوفہ، کرسی، کموڈ، اور ٹوائلٹ سےاٹھتے وقت اپنا سر، کندھے اوپر کا پورا دھڑآگے کی جانب جھکا لیں جس قدر ممکن ہو آگے کی طرف جھک کر اٹھیں اس دوران دونوں گھٹنوں پر ہاتھ رکھ لیں کسی حد تک یہ کرسی پر نماز ادا کرتے وقت رکوع کرنےوالی پوزیشن ہےاس طرح اٹھنے سے آوازیں کم سے کم ہوجائںں گی یقینی بات ہے یہ بھی پریکٹس سے آسان ہوتا جائے گا۔

🔹️اپنی غذا میں بادی اشیاء سے پرہیز کریں۔
یعنی چاول، آلو، بیف ،بیکری کی سب چیزیں سفید چینی ،سفید آٹا ،سفید فارمی مرغی ہر وہ چیز جوپیٹ میں گیس پیدا کرتی ہےگھٹنوں کے درد کی بہت بڑی وجہ ہے۔

👈گھٹنوں کی شدید تکلیف دہ صورتحال میں کسی مستند حجامہ تھراپسٹ سے حجامہ ضرور کروا لیں۔
اس سے آپ جوڑ کی تبدیلی جیسے میجر آپریشن سے بچ سکتے ہیں ۔

اللہ، آپ کو آسانیاں عطا فرمائے آمین۔
گھٹنوں کی تکالیف کے بہت سےقدرتی علاج موجود ہیں۔
دنیا میں کوئی بیماری لاعلاج نہیں اپنے کھانے پینے، سونےجاگنے، چلنے پھرنےاور سوچنے کے انداز میں مثبت تبدیلی سےہر تکلیف میں کمی آسکتی ہے۔

01/02/2020

Chiropractic adjustment and pain relief

15/01/2020

say No to Arthritis Pains. 100% Satisfactory results without side effects

14/01/2020

say good bye to spine surgery....
now available in Pakistan by Foreign Qualified experts.

29/12/2019

ایک حدیث قدسی میں اللہ پاک ارشاد فرماتے ہیں کہ "تم مجھے جیسا گمان کرو گے ویسا ہی پاؤ گے".

ہالی وڈ نے ایک ڈاکومنٹری فلم بنائ " The Secret" کے نام سے جو کہ Law of Attraction پر مبنی ہے اور اس کی بہت خوب صورت تشریح ہے. انٹرویوز, ویڈیوز, واقعات, تھیوری, حالات اور تدبیر پر مبنی یہ فلم دیکھنے لائق ہے. اس فلم کو دیکھ کر آپ با آسانی اپنی زندگی بدلنے کا فن جان سکتے ہیں.

لاء آف اٹریکشن کیا ہے؟
ہم اسکی مدد سے اپنے خوابوں کو حقیقت کا روپ کیسے دے سکتے؟

لاء آف اٹریکشن یہ ہے کہ ایک جیسی چیزیں ایک دوسرے کو اٹریکٹ کرتی ہیں۔ جیسے مقناطیس صرف اپنی ہی ساخت کی دھات کو اٹریکٹ کرتا ہے اسی طرح قائنات کی ہر مادی اور غیر مادی چیز اپنی ہی جیسی چیزوں کو اٹریکٹ کرتی ہے. اس نظریے کے تحت ہم اپنی سوچ کے صحیح استعمال سے اپنی من پسند چیزیں اٹریکٹ کر سکتے ہیں جیسے خوشی, سکون, کامیابی اور خوشحالی وغیرہ.

جب ہم کچھ سوچتے ہیں تو ہماری سوچ احساسات کی شعائیں پیدا کرتی ہے جو لہروں کی صورت میں فضاء میں تحلیل ہوتے ہیں اور قائنات کے اطراف سے ٹکرا کر اس جیسے واقعات،حالات،اور مواقع اٹریکٹ اور پیدا کرتے ہیں.

احساسات یا سوچ دو طرح کے ہوتے ہیں۔ مثبت اورمنفی

اگر آپ کچھ بھی سوچ رہے ہیں اور اس سوچنے کی وجہ سے آپ کے احساسات منفی ہورہے ہیں تو وہ دوسروں تک پہنچ رہے, قائنات کے کونے کونے میں پہنچ رہے ہیں, یہ سوچ کی لہریں قائنات میں گردش کر رہی ہیں اور اسی طرح کے حالات اور واقعات پیدا کر رہی ہیں۔ ہم یہ کام لاشعوری طور پر کر رہے ہوتے ہیں۔ جب ہم یہ سمجھ جاتے ہیں کہ ہم نے اپنے احساسات یا سوچ کو کیسے کنٹرول میں رکھنا ہے تو پھر لاء آف اٹریکشن کو مینج کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

اگر ایک دن میں ہمارے زہن میں ساٹھ ہزار خیال آتے ہوں۔اتنے زیادہ خیالات کو مینج نہیں کیا جا سکتا یہ بات سچ ہے۔دنیا کا کوئی بندہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اتنے زیادہ خیالات کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ ممکن ہے کہ ہم اپنے احساسات کو مینج کر لیں۔اب ہوتا کیا ہے اگر آپ اچھا محسوس کر رہے ہیں تو خیالات بھی اچھے ہی آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ کی صبح کا اغاز اچھا نہیں ہوتاتو سارا دن بھی خراب گزرتا ہے۔

آسان الفاظ میں لاء آف اٹریکشن یہ کہتا ہے کہ اگر آپ زندگی میں خوشی چاہتے ہیں تو خوشی کے بارے میں زیادہ سے زیادہ سوچیں, ان شاء اللہ خوشی اٹریکٹ ہو گی اور خوشی مل کر رہے گی, اور اگر کامیابی چاہتے ہیں تو اس کے بارے میں سوچیں تو کامیابی اٹریکٹ ہو گی. دولت چاہتے ہیں تو اس کو ہی سوچیں تو دولت آپ کے مقدر میں ہو گی.

بس اتنا سا فلسفہ ہے لاء آف اٹریکشن کا.

لیکن ہم غلطی یہاں کرتے ہیں کہ چاہتے تو ہم خوشی ہیں لیکن سوچتے ہر وقت اپنی مشکلات کو ہیں کہ کبھی خوشی نہیں ملی, ہمیشہ غم ہی ملا وغیرہ وغیرہ. اس کی جگہ یہ سوچیں کہ ان شاء اللہ جلد ہی بہت خوشی ملے گی, اور جب خوشی نصیب ہو گی تو ایسا ماحول ہو گا, ہم ایسے ایسے اعمال کریں گے وغیرہ وغیرہ.

اسی طرح چاہتے تو ہم صحت ہیں لیکن سوچتے سارا دن بیماری کو ہیں تو صحت کیسے اٹریکٹ ہو گی.

ہماری چاہت اور سوچ متضاد ہیں. اگر ہم اپنی سوچ کو چاہت کے مطابق کر لیں تو ہم لاء آف اٹریکشن کے تحت اپنی چاہت کے نتائج حاصل کر سکتے ہیں.

اور سب سے اہم بات کہ یہ یقین پیدا کریں کہ ایسا ممکن ہے,
لاء آف اٹریکشن سے میرے خیالات اور حالات بدل سکتے ہیں. یقین پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اس تھیوری کو سجھ جائے ،جانا جائے۔

د ی سیکریٹ اس موضوع پر بنائ گئی ایک شاندار فلم ہے جو اس موضوع پر بننے والی پہلی فلم ہے. کوشش کریں اس فلم کو زندگی میں کم از کم ایک بار ضرور دیکھیں بلکہ اپنے چاہنے والوں کو بھی دکھائیں. انٹرنیٹ سے ڈاؤنلوڈ کی جا سکتی ہے. اس فلم میں بتایا گیا ہے کہ لاء اف اٹریکشن دور حاضر کا وہ علم اور اصول ہے جس سے آپ کوئی بھی کام لے سکتے ہیں.

اس فلم میں یہ نظریہ بھی دیا گیا ہے کہ ہماری زندگی میں جو بھی opportunities آتی رہتی ہیں اگر ہم ان opportunities کو avail کرتے رہیں تو یہ ساری زندگی آتی ہی رہتی ہیں اور اگر ہم ان کو reject کرنا شروع کر دیں تو ایک خاص حد کے بعد ہماری زندگی میں opportunities آنا ہی بند ہو جاتی ہیں. جیسا کہ بعض والدین بہترین سے بہترین رشتے کی تلاش میں جب آنے والے متعدد رشتوں کو انکار کرتے رہتے ہیں تو ایک وقت کے بعد رشتے آنے ہی بند ہو جاتے ہیں. اسی طرح بہترہن سے بہترین نوکری کی تلاش میں اپنی چاہت سے کم والی نوکریوں کو چھوڑتے رہتے ہیں تو ایک وقت ایسے آتا ہے کہ نوکریاں ملنا ہی بند ہو جاتی ہیں اور پھر وہ لوگ سوچتے ہیں کہ کاش وہ والی نوکری کر لی ہوتی یا فلاں رشتہ کر لیا ہوتا.

فلم کے بنیادی نظریے "جیسا سوچو گے ویسا پاؤ گے" کے تحت جب میں نے غور کیا تو مجھے یہ انکشاف ہوا کہ انگریزوں کی بنائ ہوی یہ فلم تو بلکل حدیث قدسی کی تشریح ہے.

حدیث قُدسی: ابو ذرغفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا ہے کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں : "میرا بندہ مجھ سے جو توقع رکھتا ہے اور جیسا گمان اس نے میرے متعلق قائم کر رکھا ہے ویسا ہی مجھے پائے گا۔ جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ اگر وہ مجھے تنہائی میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے تنہائی میں یاد کرتا ہوں ۔ اگر وہ کسی جماعت کے ساتھ بیٹھ کر مجھے یاد کرتاہے تو میں اس سے بہتر جماعت میں اس کو یاد کرتاہوں۔ اگر وہ میری طرف بالشت بھر بڑھتا ہے تو میں اس کی طرف ایک ہاتھ بڑھتا ہوں اور اگر وہ میری طرف ایک ہاتھ بڑھتا ہے تو میں اس کی طرف چار بڑھتا ہوں اور اگر وہ میری طرف آہستہ آہستہ آتا ہے تو میں اُس کی طرف دوڑ کر جاتا ہوں۔" (بخاری ومسلم ).

اس نظریے کو اپنائیں, ہمیشگی اختیار کریں اور نتائج خود دیکھیں. یہی اللہ نے ہمیں کرنے کو کہا ہے بیان کردہ حدیث پاک میں.

اللہ پاک ہم سب کو کامیاب, خوشحال اور صحت و ایمان والی زندگی عطا فرماۓ. آمین.
طالب دعا: محمد علی ملک

Videos (show all)

Back pain removed by Hijamah 1st session

Location

Telephone

Address


Near Muslim High School, Ajmal Tibbia College, Saidpur Road
Rawalpindi
46000

Opening Hours

Monday 10:00 - 14:00
16:00 - 20:00
Tuesday 10:00 - 14:00
16:00 - 20:00
Wednesday 10:00 - 14:00
16:00 - 20:00
Thursday 10:00 - 14:00
16:00 - 20:00
Friday 10:00 - 14:00
16:00 - 20:00
Saturday 10:00 - 14:00
16:00 - 20:00

Other Alternative & Holistic Health in Rawalpindi (show all)
Hearing Aids Hearing Aids
UG-65, Rania Mall, Bank Road, Saddar
Rawalpindi, 46000

a perfect place for all your hearing solutions

Fakhar Herbal Online Fakhar Herbal Online
Misrial Road
Rawalpindi, 46000

Fakhar Herbal Dawakhana deals in all types of Herbal Treatments with Natural Ingredients (herbs).

KHAN Homeopathic Clinic   www.drtariqkhan.com KHAN Homeopathic Clinic www.drtariqkhan.com
Rawalpindi, 46000

He is Member National Council for Homeopathy, Government of Pakistan and First Expert Member (Homeop

Ajmal Tibbia College Rawalpindi. 0321-5899587 Ajmal Tibbia College Rawalpindi. 0321-5899587
Rawalpindi, 46000

Ajmal Tibbia College , Rawalpindi, Pakistan. Cell:0334-7142128. 0333AJMAL51 0300-8842040 Web site:

Homoeopathic Dr. Rehan's Family Clinic Homoeopathic Dr. Rehan's Family Clinic
Street No. 3 Ayub Colony, Khayyaban-e-Tanveer, Chaklala Scheme III,
Rawalpindi, 46000

We HELP you to fight disease and WIN in life.

ھادی دواخانہ ھادی دواخانہ
Shop # 13, Zakki Shah Plaza, Kurri Road, Near Transformer Chowk, Sadiqabad
Rawalpindi, 44000

ھادی دواخانہ۔ راولپنڈی-پاکستان نیچرل وے آف ٹریٹمنٹ قدر

Pain Clinic at Fatima Hospital Pain Clinic at Fatima Hospital
Fatima Hospital Fazal Town Near Bank Alflah Airport Road
Rawalpindi, 46000

کمردرد مہروں کادرد گھٹنے کا درد کندھے کا درد. بغیر

Hijama Hijama
Alhijama Clinic Near Jinnah Park Opposite Askari 10 Jhunda
Rawalpindi, 46000

hijama is Sunnah of Holly Prophet Muhammad Peace Be Upon Him. The Sunnah Days for Hijama are 17,19,

Havi Homeopathic Clinic Havi Homeopathic Clinic
The MidCity Mall, Murree Road
Rawalpindi, 46000

Best Homeopathic Clinic in the town!

Pakistan National Heart Association (PANAH) Pakistan National Heart Association (PANAH)
Miltory Hospital AFIC / NIHD, The Mall
Rawalpindi, 46000

PANAH is a non Political, non-sectarian, voluntary association endeavoring to create awareness for p

Aisha Clinic & Shaza Laboratory. Aisha Clinic & Shaza Laboratory.
Ghazali Road,Sadiqabad
Rawalpindi, 46300

Clinic established since 2006 in Rawalpindi. But started practice in 1993 in KSA. I have interest to

Asthma Cure Center Asthma Cure Center
D-407/2 Bohar Bazar
Rawalpindi, 46000

Asthema cure center Offer All our The world Patients of Asthema Come And meet Us cure Asthema Proble