The Herbal Clinic

The Herbal Clinic health related problems and there herbal treatments, all without side effects
100% pure herbal medicines, & complete treatments

10/05/2024

اگر آپ نے
سائیکل کی تاروں میں چھلے پروئے ہیں،
اسکول میں ٹاٹ پہ بیٹھ کے پڑھے ہیں،
چھپن چھپائی، اونچ یچ، ریڈی گو، لمبی گھوڑی اور چھون میٹی کھیلا ہے،
ایک اور دو روپے کا نوٹ استعمال کیا ہوا ہے،
استاد سے مار کھائی کوئی ہے،
ریاضی کا مسئلہ اثباتی حل کیا ہوا ہے اور عاد اعظم نکالا ہوا ہے،
پٹھو گرم کھیلے ہوئے ہیں،
سکول کی آدھی چھٹی کا لطف اٹھایا ہوا ہے،
تختی کو گاچی لگائی ہوئی ہے،
گھر سے آٹا لے جا کر تندور سے روٹیاں لگوائی ہوئی ہیں،
سکول کی دیوار پھلانگی ہوئی ہے،
غلے میں پیسے جمع کیے ہوئے ہیں،
سہ پہر چار بجے بولتے ہاتھ دیکھا ہوا ہے،
پی ٹی وی پہ کشتیاں دیکھی ہوئی ہیں،
چھت پہ چڑھ کے انٹینا ٹھیک کیا ہوا ہے،
بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی دیکھا ہوا ہے،
اپنے پی ٹی سی ایل فون کو لکڑی کے باکس میں تالا لگا کر بند کیا ہوا ہے،
میلے میں تین دن تک سائیکل چلتی دیکھی کوئی ہے،
کتاب کیلئے ابا جی سے پیسے لے کر عمران سیریز خریدی ہوئی ہے،
بارات میں پیسے لوٹے ہوئے ہیں،
کسی دشمن کی دیوار پہ کوئلے سے بھڑاس نکالی ہوئی ہے،
پانی کے ٹب میں موم بتی والی کشتی چلائی ہوئی ہے،
سرکاری ہسپتال سے اپنی ذاتی بوتل میں دوائی بھروائی ہوئی ہے،
سردیوں میں رضائی میں گھس کر ڈراؤنے قصے سنے ہوئے ہیں،
سر کٹے انسان کی افواہیں سنی ہوئی ہیں،
کھڑکھڑاتے ریڈیو پر گانے سنے ہوں,
رسی لپیٹ کر لٹو چلایا ہو,
گھر کی چھت پر مٹی کا لیپ کیا ہو،
گرمیوں میں چھت پر پانی کا چھڑکاؤ کیا ہو،
جون جولائی کی تپتی دوپہر میں گلی ڈنڈا کھیلا ہو،
پھولوں کی کڑھائی والے تکیے پر سنہری خواب دیکھے ہوں،
گھر کے کسی کونے میں خوش آمدید لکھا ہو،
لالٹین میں مٹی کا تیل بھروایا ہو،
ہاتھ والا نلکا چلا کر پانی کی بالٹیاں بھری ہوں،
یسو پنجو کھیلا ہو،
لڈو کھیلتے ہوئے انتہائی خطرناک موڑ پہ تین دفعہ چھ آیا ہو،
ڈھیلی تیلیوں والی جیپ کی ماچس استمعال کی ہو،
تختی کیلئے بازار سے قلم خرید کر اس کی نوک بلیڈ سے کاٹ کر درمیاں میں ایک کٹ لگایا ہو،
خوشخطی کیلئے مارکر کی نب کاٹی ہے،
ہولڈر استعمال کیا ہے،
زیڈ اور جی کی نب خریدی ہے،
فلاوری انگلش لکھی ہے،
گھی کے خالی پیپے کو تار سے باندھ کر دیسی گیزر کا لطف لیا ہے،
سر پر تیل کی تہہ اور سرمہ لگا کر خوبصورت لگنے کی کوشش کی ہے تو یقین کیجئے کہ آپ نے بہترین دور کی بہترین زندگی کا بھرپور مزہ لیا ہے اور آپ ایک بہترین جنریشن رہ چکے ہیں..

ہاں تو ان میں سے کون کون سے کام اپ نے کیے ہیں

18/04/2024

اعلان
کل فیس بک کا نیا اصول شروع ہوگا جہاں وہ آپ کی تصاویر استعمال کر سکتے ہیں۔ مت بھولنا آج آخری تاریخ ہے!! اسے آپ کے خلاف قانونی کارروائی میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ آپ نے جو کچھ بھی پوسٹ کیا ہے وہ آج سے عوامی ہو جائے گا - حتیٰ کہ وہ پیغامات بھی جو حذف کر دیے گئے ہیں۔ ایک سادہ کاپی اور پیسٹ کے لیے اس کی کوئی قیمت نہیں ہے، بہتر ہے کہ آپ محفوظ رہیں۔
---
میں Facebook یا Facebook سے وابستہ کسی بھی ادارے کو اپنی تصاویر، معلومات، پیغامات یا پوسٹس، ماضی یا مستقبل استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہوں۔ اس بیان کے ساتھ، میں فیس بک کو مطلع کرتا ہوں کہ اس پروفائل اور/یا اس کے مواد کی بنیاد پر میرے خلاف انکشاف، کاپی، تقسیم یا کوئی اور کارروائی کرنا سختی سے ممنوع ہے۔ رازداری کی خلاف ورزی پر قانون کے ذریعے سزا دی جا سکتی ہے۔
نوٹ: فیس بک اب ایک عوامی ادارہ ہے۔ تمام ممبرز ایسی وضاحت ضرور پوسٹ کریں۔
اگر آپ چاہیں تو اس ورژن کو کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کم از کم ایک بار بیان شائع نہیں کرتے ہیں، تو پروفائل اسٹیٹس اپ ڈیٹس میں آپ کی تصاویر اور معلومات کے استعمال کی اجازت ہوگی۔
شیئر نہ کریں۔ صرف متن کو کاپی کریں اور پیسٹ کریں۔
ان کا نیا الگورتھم انہی چند لوگوں کو منتخب کرتا ہے - تقریباً 25 - جو پوسٹس پڑھیں گے۔
یہ نظام کو نظرانداز کرے گا۔
میں فیس بک کو اپنے بارے میں کچھ شیئر کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔!

09/11/2023

*مردانہ کمزوری کی 10 ایسی وجوہات جن کا کسی کو علم نہیں*
قدرت نے نسل انسان کی بقاءکے لئے جنسی عمل کا ذریعہ پیدا کیا ہے جس کی انجام دہی کے لئے ضروری ہے کہ مرد وہ مخصوص تناﺅ کی صلاحیت رکھتا ہو جسے ایستادگی کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ایستادگی کے بغیر جنسی عمل کی انجام دہی ممکن نہیں اور اسے عرف عام میں نامردی کہا جاتاہے ۔ اس کی متعدد وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں سے کئی ایسی بھی ہیں کہ جنہیں آپ احتیاط کا دامن تھام کر اپنی زندگی سے دور رکھ سکتے ہیں۔ان کا احوال درج ذیل ہے۔
1۔ سگریٹ نوشی: 🚭،
ہر قسم کے نشے سے دل کی صحت متاثر ہوتی ہے اور اس میں سگریٹ بھی شامل ہے ۔ جب دل اعضاءکو خون مناسب مقدار میں فراہم نہیں کر پاتا تو نامردی ہونا یقینی بات ہے۔
ضرور پڑھیں:وہ عرب ملک جہاں خواتین کے لئے ہزاروں مردوں کی فوری اشد ضرورت ہے کیونکہ۔۔۔
2۔ ذیا بیطس:🚯،
اس بیماری کی وجہ سے خون میں گلوکوز کی مقدار نارمل نہیں رہتی اور اعصاب بھی متاثر ہوتے ہیں جس کی وجہ سے تقریباً 50فیصد مریض نامردی کا سامناکرتے ہیں۔
3۔ موٹاپہ:🚼،
موٹے لوگ دیگر مسائل کے علاوہ کولیسٹرول کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے خون کی روانی متاثر ہوتی ہے اور نتیجتاًنامردی پیدا ہوتی ہے۔ 4۔ دیگر بیماریاں: ہائی بلڈ پریشر، اعصابی بیماریاں، ریڑھ کی ہڈی یا دماغی چوٹ ، الزائمر اور فالج بھی نامردی پیدا ہو سکتی ہے۔
5۔ پیرانہ سالی:🚷
عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ دل اور دماغ کی صحت متاثر ہوتی ہے جس کی وجہ سے اعضاءکو خون کی سپلائی ماند پڑجاتی ہے۔
6۔ ذہنی دباﺅ:🛃
ذہنی دباﺅنامردی کی اہم وجوہات میں سے ایک ہے۔اس سے بچنے کے لئے ورزش کریں، نیند پوری کریں اور لڑائی جھگڑے اور غصے سے بچیں۔
7۔ ڈپریشن:💡،
یہ بیماری ذہنی دباﺅ کی شدید ترین حالت ہے اس کا اثر بھی شدید ہوتا ہے۔ ڈپریشن کی ادویات بھی نامردی پیدا کرتی ہیں ۔
8۔ فحش بینی:🛃،
فحش فلموں میں دکھائے جانے والے غیر فطری اور غیر حقیقی مناظر نوجوانوں کے ذہن میں احساس کمتری اور کمزوری کا احساس پیدا کرتے ہیں جو انہیں نا مرد بنا دیتا ہے۔
9۔ گنجہ پن: 🚼،
ڈاکٹر مائیکل اروگ کا کہنا ہے کہ گنجے پن کی دواء سٹرائڈ جنسی جوش میں کمی اور نا مردی پیدا کر سکتی ہے۔
10۔ سائیڈ افیکٹ:🚮،
بعض ادویات کے سائیڈ افیکٹ میں نامردی بھی شامل ہے۔ان میں بلڈ پریشر کی ادویات اینٹی ہسٹامین، ذہنی دباﺅاور ڈپریشن کی ادویات شامل ہیں۔
کسی بھی طبی مسئلہ کے لئے رابطہ کر ساکتے ہیں۔
پروفیسر محمد علی ملک۔
Whatsapp 0333 5555730

پاکستان ڈاکٹرز کی پریکٹس دیکھ کر ایک ریڈ الرٹ جاری کررہا ہوں۔ اس کو نوٹ کر لیجیے اور اس کو جتنا ہو سکے پھیلائیں۔ اپنے لی...
26/08/2023

پاکستان ڈاکٹرز کی پریکٹس دیکھ کر ایک ریڈ الرٹ جاری کررہا ہوں۔ اس کو نوٹ کر لیجیے اور اس کو جتنا ہو سکے پھیلائیں۔ اپنے لیے نہیں بلکہ اپنے بچوں اور ان کے بچوں کیلئے۔

پاکستان میں Antibiotics کا بے دریغ استعمال ہماری آنے والی نسلوں کیلئے ایسی تباہی لا رہا ہے جس کا ‏آپ تصور بھی نہیں کر سکتے۔ مجھے باقی جنوبی ایشیائی ممالک کا تو اندازہ نہیں ہے مگر پاکستان میں ایسی تباہی دیکھ رہا ہوں کہ جس کی ماضی میں کوئئ مثال نہیں ملتی۔
آج
تک جتنی بھی وبائی امراض سے اموات ہوئی ہیں antibiotic resistance پیدا ہونے سے جو اموات ہونگی وہ ان ‏تمام اموات کی مجموعی تعداد سے کہیں زیادہ ہونگی۔ مستقبل میں گلے یا چھاتی کی انفیکشن بھی لا علاج ہو جاۓ گی اور اتنی سی انفیکشن بھی جان لیوا ثابت ہو گی۔ بڑی انفیکشنز کو تو آپ بھول ہی جائیں۔ یہ اتنی بڑی میڈیکل ایمرجنسی ہے کہ اس پر فورا ایکشن ضروری ہے مگر اس طرف کسی کا

‏دھیان تک نہیں۔ یہاں ہر کسی پر سیاست کا بھوت سوار ہے اور ساری عقل اور گیان سیاست پر مرکوز ہے۔ اپنی آنے والی نسلوں کی صحت کی کسی کو پرواہ نہیں ہے۔ خدارا اپنی نسلوں کے مستقبل کا خیال کیجیے۔ antibiotics کا اندھا دھند استعمال آپ کو فورا تو ریلیف دے دیتا ہے مگر مستقبل

‏کیلیے آپ کو لا علاج بنا دیتا ہے۔ برطانیہ میں ابھی تک بنیادی قسم کی اینٹی بائیوٹکس استعمال ہوُرہی ہیں اور ابھی تک موثر ہیں اور پاکستان میں high potency کی اینٹی بائیوٹکس بھی resistant آ رہی ہیں۔ اس ٹویٹ کو اگنور مت کریں۔ کچھ اور نہیں کر سکتے تو اس میسج کو اپنے

‏انداز میں پھیلائیں۔ شعور پیدا کریں۔ کسی بھی ڈاکٹر کے نسخے کو اندھا دھند استعمال نہ کریں۔ جب بھی کوئی ڈاکٹر آپ کو دوائی لکھ کے دے تو اس کی ڈوز کسی اچھی فارمیسی پر جا کر فارمسسٹ سے کنفرم کریں۔ ہمارے ہاں ڈاکٹرز کا علم دوائی کے معاملے میں نہ ہونے کے برابر ہے۔

‏میں نے آج تک پاکستانی ڈاکٹرز کی لکھی ایک بھی پرچی ایسی نہیں دیکھی جس میں کوئی خامی نہ ہو۔ کسی میں ڈوز غلط، کسی میں ڈوز کا دورانیہ غلط اور کسی میں مرض اور دوائی کا کوئی جوڑ ہی نہیں ہوتا۔ اس لیے دوائی کو ہمیشہ فارمسسٹ کے مشورے سے استعمال کریں۔ اینٹی بائیوٹکس کے

‏استعمال کو کم سے کم کریں۔ اگر شروع کریں تو کورس مکمل کریں۔ اب ڈاکٹر حضرات کو کون سمجھاے۔ اس پر گورنمنٹ کو ایکشن لینا ہوگا۔ ڈاکٹرز کو پابند کرنا ہو گا کہ دھڑا دھڑ ان ادویات کو نہ لکھیں۔ ایک دن ایک دوست کی فارمیسی پر بیٹھا تھا کہ

‏ایک پولیس کا اے ایس آئی آیا اور بضد تھا کہ اس کو انجیکشن لگایا جاۓ۔ جب میں نے اس کے ہاتھ میں ڈاکٹر کا نسخہ دیکھا تو میں حیران رہ گیا۔ جو دوائی اس کو لکھ کر دی ہوئی تھی وہ اتنی شدید تھی کہ ہاتھی کی انفیکشن بھی مر جاۓ۔ جب میں نے اسے پوچھا تو کہنے لگا کہ گلا خراب

‏اور بخار ہے۔ میں نے جب خود چیک آپ کیا تو بیکٹیرل انفیکشن کی کوئی بھی علامت نہیں تھی۔ وہ اس وقت ہکا بکا رہ گیا جب میں نے کہا کہ آپ کو دوائی کی ضرورت ہی نہیں۔ صرف پینا ڈول لیں اور گھر جا کر نہائیں اور ریسٹ کریں۔ بہرحال

ڈاکٹرز کے ساتھ ساتھ ہمارا اپنا کردار اس معاملے میں بہت افسوسناک ہے۔ جلدی ٹھیک ہونے کے چکر میں ہم اپنے بچوں کا مستقبل تاریک کر رہے ہیں۔ یاد رکھیں ڈاکٹر مرض کا ماہر ہوتا ہے، دوائی کا نہیں۔ خدارا اپنے بچوں پر رحم کیجیے، ان کا مستقبل روشن رکھیے🙏🙏🙏

Ch. Mehboob Aujla.
Clinical pharmacist
B. Pharm BZ University Pak.
Mpharm England ( Aston University, Birmingham)
Postgraduate Cert. in Clinical Pharmacy (De Montfort University Leicester, UK)
Independent Prescriber ( Wolverhampton University, UK)
(Speciality - Diabetes)
Ex. Academic Practitioner/ Lecturer in pharmacy practice at the University of Birmingham, UK

صدقہ جاریہ اللہ کی رضا اور اپنی آنے والی نسلوں کے لۓ اس میسج کو جتنا ممکن ہو شٸیر کیجے.


22/06/2023

انسانیت اور اخلاق کے رشتے سے بندھے ہم لوگ ایک دوسرے کو کچھ نہیں دے سکتے سوائے عزت و احترام کے اور یہی بہترین عمل ہے!
آپ انٹر نیٹ ، فیس بک ، واٹس اپ سوشل سائیٹس استعمال کرتے وقت اس بات کو کبھی مت بھولیں کہ یہاں آپ کے الفاظ ہی آپ کا چہرہ ہیں ، یہی الفاظ آپ کے اخلاقی مقام کا تعین کریں گے!
سلجھی ہوئی گفتگو آپ کی اعلیٰ تربیت اور اخلاق کی عکاسی کرے گی جبکہ عامیانہ اور گھٹیا گفتگو اس بات کو ظاہر کرے گی کہ آپ کی اخلاقی تربیت میں کہیں کوئی بہت بڑی کمی رہ گئی ہے. اسلئے جب بھی بولو تو اچھا بولو اور اگر آپ کے پاس کچھ اچھا بولنے کو نہیں تو خاموشی اختیار کرنا بھی بھلائی ہے۔ جزاک اللہ خیر۔
طالب دعا۔ ڈاکٹر محمد علی ملک۔

افراط و تفریط ومبالغہ آرائی ہمیشہ نقصان دہ ہوتا ہے یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ اپنے دائرہ کار نیں رہتے ہوئے حجامہ میں باق...
23/11/2022

افراط و تفریط ومبالغہ آرائی ہمیشہ نقصان دہ ہوتا ہے
یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ اپنے دائرہ کار نیں رہتے ہوئے حجامہ میں باقی چیزوں کی بنسبت شفاء کا تناسب زیادہ ہے ۔لیکن اگر ہم غور کریں تو
مشہور حدیث
جس میں شفاء کے تناسب کو تین حصوں میں بیان فرمایا گیا ۔
1)
شہد پینے
2)
حجامہ کرتے ہوئے
بلیڈ کے دھار
3)
آگ کے داغنے میں شفاء ہے ۔
اور باقی احادیث مبارکہ جس میں حجامہ کے علاوہ باقی چیزوں مثلا ثناء مکی ، شہد ، عجوہ ، زیتون ، انجیر ، وغیرہ میں ،شفاء کے حوالے سے ارشاد فرمایا گیا ہے ۔ اور طب نبوی کے مطالعے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے بوقت ضروت ہمیں باقی اشیاء سے علاج معالجہ کرسکتے ہیں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے تمام بیماریوں کا حل حجامہ بتانے والے مبالغہ ارائی سے کام لے رہے ہیں جو س بات پر دلیل ہے کہ وہ اپنے فن میں متعصب بنے کم علمی کی بنیاد پر ۔ لھذا
ان حضرات کہنا اور اصرار کرنا کہ ہر چیز کا علاج ہی حجامہ ہے
درست نہیں ۔
سالہا سال سے ہم یہی عرض کر رہے ہیں کہ حجامہ کے حدود وقیود کو پہچاننا اپنے اوپر لازم و فرض قرار دیں
وگرنہ افراط وتفریط و مبالغہ ارائی سے کام لینگے تو
انجام کار بہت برا ہوگا ۔ اور معاذ اللہ ہماری حماقتوں کی وجہ سے کہی یہ سنت اور مبارک علاج جگ ہنسائی کا باعث نہ بنے ۔

آپ کا خیر خواہ
پروفیسر حکیم محمد علی ملک۔
کسی بھی طرح کی طبی معلومات اور علاج کے لئے رابطہ کر سکتے ہیں۔
03085533900

ڈاکٹر عفان قیصر صاحب کے لئے ✍🏻  سوشل میڈیا پر  ڈاکٹر عفان قیصر صاحب کی ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ پنسار سٹور اور ہو...
08/06/2022

ڈاکٹر عفان قیصر صاحب کے لئے

✍🏻 سوشل میڈیا پر ڈاکٹر عفان قیصر صاحب کی ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ پنسار سٹور اور ہومیو ڈاکٹر سے علاج کو بنیاد بنا کر اطباء پر تنقید کررہے ہیں
✍🏻 یہاں اہم بات یہ ہے کہ پنسار سٹور والے ان کوالیفائیڈ ہونے کے باوجود مریضوں کا علاج کررہے ہیں تو انہیں روکنا حکومتی اداروں کی ذمّہ داری ہے طبیب کو اس کا الزام نہیں دیا جاسکتا
✍🏻 دوسری بات یہ ہے کہ عبد الرب نیاز ہومیو ڈاکٹر ہیں حکیم نہیں ہیں پوری معلومات اور تصدیق کے بغیر اطباء پر الزام تراشی کرکے ڈاکٹر عفان قیصر صاحب نے ذمہ داری کا ثبوت نہیں دیا
✍🏻 ڈاکٹر عفان قیصر صاحب نے ایک اور ویڈیو میں کہا ہے کہ یونانی اور حکیمی دوائیوں میں گندے کیمکل شامل ہوتے ہیں
ڈاکٹر صاحب کی اس بات سے پتہ چلتا ہے کہ طب کے بارے میں انہیں بنیادی معلومات ہی حاصل نہیں ہیں ایسی صورت میں انہیں طب کے بارے میں رائے دینے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے
✍🏻 ہم ڈاکٹر صاحب سے یہ معلوم کرنا چاہیں گے کہ
👈🏻 ایلوپیتھی کی کونسی دوا کیمیکلز ، ایسیڈز اور ایلیمنٹس سے خالی ہوتی ہے ؟
👈🏻 ڈاکٹر صاحبان اخلاقی جرات سے کام لے کر کیا ایلوپیتھی ادویات میں کیمیکلز ایسیڈز اور ایلیمنٹس کی موجودگی کے خلاف آواز اٹھا سکتے ہیں اور ان چیزوں کو اپنی ایلوپیتھی ادویات سے نکلوا سکتے ہیں ؟
👈🏻 کیا ایلوپیتھی ادویات میں اسٹیرائیڈ نہیں ہوتے ؟
👈🏻 کتنی ایلوپیتھی ادویات ہیں جن کے سائیڈ ایفیکٹس نہیں ہوتے ؟ کیا ہر دوا کی معلومات کے ساتھ ان کے سائیڈ ایفیکٹس ادویات کے معلوماتی پرچے اور نیٹ پر موجود نہیں ہیں ؟
👈🏻 سائیڈ ایفیکٹس کے باوجود وہ ایلوپیتھی ادویات استعمال کیوں کرائی جاتی ہیں ؟ ڈاکٹر صاحبان سائیڈ ایفیکٹس والی ان سب ایلوپیتھی ادویات کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھاتے ؟ ان پر پابندی کیوں نہیں لگواتے ؟ کم از کم وہ اتنا تو کرسکتے ہیں کہ سائیڈ ایفیکٹس والی کوئی بھی ایلوپیتھی دوا مریضوں کو تجویز نہ کریں آخر وہ ایسا کیوں نہیں کرتے؟ سائیڈ ایفیکٹس کے باوجود مریضوں کو وہ یہ ایلوپیتھی ادویات کیوں تجویز کرتے ہیں ؟ ایلوپیتھی ادویات کے سائیڈ ایفیکٹس معلوم ہوتے ہوئے وہ ادویات تجویز کرنا کیا یہ مریضوں پر ظلم نہیں ہے ؟ ڈاکٹر صاحبان کوئی بھی دوا تجویز کرتے وقت کیا مریضوں کو اس کے سائیڈ ایفیکٹس بتانے کی جرات کرسکتے ہیں ؟ تجویز کی جانے والی ایلوپیتھی ادویات کے سائیڈ ایفیکٹس کے بارے میں مریضوں کو اندھیرے میں کیوں رکھا جاتا ہے ؟ انہیں سائیڈ ایفیکٹس کے بارے میں کیوں نہیں بتایا جاتا ؟
👈🏻 ایلوپیتھی کے برصغیر میں آنے کے بعد اب تک کتنی ایلوپیتھی ادویات بہت زیادہ سائیڈ ایفیکٹس سامنے آنے کی وجہ سے بین کی جاچکی ہیں ؟ یہ بتانے میں کسی ڈاکٹر صاحب کو کیا کوئی شرمندگی تو محسوس نہیں ہوگی ؟
👈🏻 ایلوپیتھی ریسرچ کا کیا یہی معیار ہےاور کیا اسی معیار پر ایلوپیتھی اپنی ریسرچ پر فخر محسوس کرتی ہے کہ اعلیٰ ترین ریسرچ کے باوجود ایلوپیتھی کی کوئی دوا سائیڈ ایفیکٹس سے خالی نہیں ہے ؟
👈🏻 یورپ میں تو کہیں طب ہے نہ کوئی حکیم پھر وہاں گردے فیل ہونے کی شرحِ سب سے زیادہ کیوں ہے ؟ ڈاکٹر صاحبان طبی ادویات اور اطباء پر الزام تراشی سے پہلے کیا یورپ میں سامنے آنے والی اس اہم حقیقت پر غور کرنے کی زحمت کریں گے ؟
👈🏻 علاج کا مطلب بیماری سے مریض کی صحت یابی ہوتا ہے ایلوپیتھی کیسا طریقہ علاج ہے جس میں بیسیوں امراض میں مریض کو تاحیات دوا کھانی پڑتی ہے بیماری اور ایلوپیتھی ادویات ساری عمر ساتھ ساتھ چلتے ہیں سائیڈ ایفیکٹس کے نتیجے میں کئی اور بیماریاں ساتھ میں شامل ہوتی رہتی ہیں اور اصل بیماری کے ساتھ پھر سائیڈ ایفیکٹس سے ہونے والی بیماریوں کی ادویات کا بھی مسلسل اضافہ ہوتا رہتا ہے اور ساری عمر ادویات کھانے کے باوجود مریض پھر بھی اسی بیماری سے مرتا ہے کیا اسی کا نام علاج ہے اور اسی علاج پر ایلوپیتھی اور ڈاکٹر صاحبان کو فخر ہے ؟
1 سادہ سا گیسٹرائٹس کا مریض تک تو ساری زندگی omeprazol فیملی کی ادویات سی باہر نہیں نکل پاتا اگر ان معدہ و جگر کے سپیشلسٹ ڈاکٹروں کے ہتھے چڑھا رہے تو۔۔۔۔۔
جو کہ شاید پودینہ، سونف اور ہلدی کے مرکب سے مکمل طور پر شفاءیاب ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔
ڈاکٹر صاحب اگر اپنے تکبر سی باہر نکلیں تو ممکن ہے ان کو پتہ چل جائے کہ جس ایلوپیتھی پر آج یہ گھمنڈ کر رہے ہیں۔۔۔ اس کی عمارت سے اگر طب کی بنیاد نکال دی جائے تو یہ دھڑام سی نیچے آ گریں گے۔۔۔۔ جس جالینوس Galen ، یعقوب الکندی، ذہراوی کی کتب اور تحقیق پر ایلوپیتھی کی بنیاد رکھی گئی، وہ طب یونانی ھربل ادویات کے ماہرین (حکیم) ہی تھے۔
خیر میرا مقصد کسی کو اونچا یا نیچا دکھانا نہیں ہے، صرف اتنا کہوں گا کہ طب پر تنقید کرنے سے پہلے کسی اصلی حکیم کے پاس کچھ دیر بیٹھ کر تھوڑی سی معلومات ضرور حاصل کر لیں اور اپنا تکبر توڑ کر انسان ہونے کا ثبوت دیں۔ تنقید برائے تنقید سے کسی کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
اور ہربل ادویات کے فوائد اور اس کی صداقت کو مزید جاننے کے لیے اگر کسی قسم کی معلومات یا راہنمائی چاہیے ہو تو بندہ حاضر ہے، اور اگر تسلی نہ ہو اور کوئی بڑائی تنگ کرے تو WHO ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی سفارشات برائے طبی ادویات کو تھوڑا سا وقت دے دیں، کافی تسلی ملے گی۔
آخر میں بس اتنا کہوں گا کہ
👈🏻 کسی بڑے ہسپتال کے سامنے کھڑے ہو کر دیکھیں کہ روزانہ کتنے مریض مرتے ہیں مگر بدنام طب اور طبیب کو کیا جاتا ہے آخر کیوں ؟
ڈاکٹر صاحبان اطباء پر الزام تراشی کی بجائے اپنے گھر کی فکر کریں تو انسانیت پر ان کا یہ احسان عظیم ہوگا

26/04/2022

زبان کی لکنت کی وجوہات اور علاج
زبان کی لکنت یا ہکلانے سے مراد بولنے میں کسی قسم کی خرابی کا پیدا ہوجانا ہے جس سے کوئی بھی انسان یا تو رک رک کر بولتا ہے یا الفاظ بار بار دہرانے لگتا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے شخص کو دیگر مشکلات کا سامنا بھی رہتا ہے جیسے کے آنکھوں کا بار بار جھپکنایا ہونٹ کپکپانا۔ ایسے لوگوں کو دوسروں سے بات کرنے میں جھجک محسوس ہوتی ہے جس کے باعث ان کی زندگی کا معیار بھی متاثر ہوجاتا ہے ۔ زبان میں لکنت آسانی سے ظاہر ہو جاتی ہیں۔ عام طور پر ایسے لوگ فون پہ یا کسی حجوم میں بات کرتے ہوئے ہکلانے لگتے ہیں ۔ البتہ گانے ، زور زور سے پڑھنے اور بات کرنے سے وقتی طور پر اس میں کمی آسکتی ہے ۔

زبان کی لکنت کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں ۔ گھر ،اسکو ل یا دفتر میں ملنے والا ذہنی دباؤ ،جینز میں پایا جانے والا کوئی نقص یا کوئی جسمانی عضراس کی ممکنہ وجوہات میں شامل ہیں۔ بات کرنے کی اس تکلیف کا سب سے زیادہ شکار بچے ہوتے ہیں ۔ دو سے پانچ سال کی عمر میں اکثر بچے ہکلانے لگتے ہیں جب ان کی بولنے کی صلاحیت بڑھ رہی ہوتی ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق پانچ فیصد بچے اس عمر میں ہکلانے لگتے ہیں ۔ یہ ہکلاناعموماً وقتی ہوتا ہے جو آہستہ آہستہ ٹھیک بھی ہو جاتا ہے ۔

انسانی آواز کئی مربوط پٹھوں کی حرکت سے پیدا ہوتی ہے ۔ اس عمل میں سانس لینے، پٹھوں ، ہونٹوں اور زبان کے حرکت کرنے کا اہم کردار ہوتا ہے ۔ نرخرے اور اس کے اردگرد موجود پٹھوں کی حرکت کا تعلق ذہن سے ہوتا ہے ۔دماغ بولنے کے ساتھ ساتھ سننے اور چھونے کی صلاحیتوں کو بھی مانیٹر کرتا ہے ۔ زبان کی لکنت کی دو اقسام ہوتی ہیں ۔ ایک قسم کی لکنت و ہ ہوتی ہے جو عام طور پر بچوں کی زبان میں اس وقت پیدا ہوجاتی ہے جب ان کے بڑھنے کی عمر ہوتی ہے یعنی دو سے پانچ سال کی عمر میں۔ دوسرے قسم کی لکنت اعصابی ہوتی ہے جس کی وجہ سر پہ لگنے والی چوٹ، دل کا دورہ یا کوئی ذہنی دباؤ ہو سکتی ہے ۔ ایسے میں دماغ اور آواز پیدا کرنے والے پٹھوں میں رابطہ تعطل یا توقف کا شکا ر ہوجاتا ہے ۔

فی الوقت زبان کی لکنت سے بچنے کا طریقہ تو دریافت نہیں ہو پا یا ہے البتہ اس کے علاج کے لیے مختلف اقسام کے طریقے استعمال کیے جاتے ہیں ۔ علاج کی نوعیت انسان کی عمر ، تبادلہ خیال کرنے کے مقاصد اور دیگر عوامل پر منحصر ہوتی ہے ۔ چھوٹے بچوں کو عام طور پر اسپیچ تھیراپی دی جاتی ہے ۔ ماہرین طب کا ماننا ہے کہ ابتدائی عمر میں ہی اگر بچوں کی اس تکلیف کا علاج کرلیا جائے تو انھیں آگے چل کر اس کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ ہکلاہٹ کو دور کرنے کے لیے بچوں کے ماں باپ کو بچوں کو گھر میں ایک مثبت ماحول مہیا کرنے اور انہیں اپنی رائے کا اظہار کرنے کی اجازت دینے کا مشورہ دیا جاتا ہے ۔ جبکہ بچوں کو ہر وقت ٹوکنے سے منع کیا جاتا ہے۔ ایسے بچوں سے دھیمے لہجے میں دھیرے دھیرے بات کرنی چاہیے تاکہ ان پرزیادہ دباؤ نہ پڑے۔ ساتھ ہی کھل کر اور ایمانداری سے ایسے بچوں کی بات سننے اور سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔

اسپیچ تھیراپی میں بچوں کو رک رک کے بات کرنے ، گفتگو کے دوران زیادہ سے زیادہ سانس لینے اور چھوٹے چھوٹے جملے بولنے کا مشورہ دیا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ بچوں سے ان کی زندگی اور ذہنی تناؤ کے بارے میں بھی بات چیت کی جاتی ہے ۔ معالج بڑوں کو بھی عام طور پر اسپیچ تھیراپی لینے کا ہی مشورہ دیتے ہیں ۔ زبان کی لکنت کے لیے ادویات کا استعمال درست نہیں تصور کیا جاتا ، البتہ ڈپریشن یا اسٹریس دور کرنے کے لیے ادویات دی جاسکتی ہیں ۔

زبان کی لکنت دور کرنے کے لیے چند گھریلو توٹکے بھی اپنائے جاسکتے ہیں ۔ جن میں سے چند مندرجہ ذ یل ہیں:

*ایسے افرادکو صبح سویرے شہد اور کلونجی کا سفوف زمزم کے پانی کے ساتھ دینے کا مشور دیا جاتا ہے۔

*عاقر قرحا لاکر ایک قسم کی جڑی بوٹی ہے جو کسی بھی پنساری کی دکان پر مل جاتی ہے۔ اسے پیس کر اس کا چار گرام پسی ہوئی سیاہ مرچ کے ساتھ ملا لیں۔ اس سفوف کے دو بڑے کھانے کے چمچے شہد میں ملا کر رکھ لیں اور دن میں دو تین بار زبان کے نیچے اور اوپر انگلی پر لگا کر مل لیں ۔

*دو کھانے کے چمچ سہاگہ لیں ۔ اس کے پتھر کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں ٹوڑ کر توے پر رکھ کر پکائیں ۔ سہاگہ پگھل جائے تو چولھا بند کردیں اور توے پر ہی کچھ دیر چھوڑ دیں ۔ تھوڑی دیر بعد یہ پھولنا شروع ہوجائے گا ۔ اچھی طرح پھولنے کے بعد اسے پیس لیں اور اسٹور کرلیں ۔ روزآنہ ایک چائے کے چچ شہد میں چٹکی بھر سفوف دال کر زبان پر مل لیں ۔ اس عمل کو دن میں تین بار دہرائیں۔ ایک مہینے تک اس عمل کو جاری رکھنے سے زبان کی لکنت کافی حد تک کم ہوجائے گی ۔ہمارے مطب پر اکسیر لکنت تیار کی جاتی ہے جو کہ لکنت کے شکار افراد کے لیے بہت مفید ثابت ہوئی ہے۔

https://youtu.be/lkyNm1fnb5A
18/04/2022

https://youtu.be/lkyNm1fnb5A

Hijamah الحجامۃ is the sunnah way of detox. the treatment which is emphasized for regaining the health, in this Islamic Healing Practice, we work on proper p...

https://youtu.be/r2Ga1hoOKto
17/04/2022

https://youtu.be/r2Ga1hoOKto

this is the first video on learning Chiropractic in Urdu or Hindi. Dr. Muhammad Ali Malik is in practice for the last 3 years and he is helping people with s...

25/02/2022

"نزلہ زکام کا سادہ علاج"

نزلہ زکام یا کوریزا (Coryza) سانس کاایک عام مسئلہ ھے جس کی وجہ وائرل انفیکشن کی اقسام ھیں اور ان میں سب سے عام انفلوئنزا ھے۔
انفلوئنزا وائرس اور اس کی مختلف اقسام کی وجہ سے متاثرہ افراد میں مختلف تبدیلیاں دکھائی دیتی ھیں۔ اس بیماری میں حساسیت(الرجی) اور ماحولیاتی اثرات معاون عناصر ھو سکتےھیں۔

لفظ "نزلہ" ایک مکمل اصطلاح ھے جو مختلف علامات کو بیان کرتی ھے جیسے چھینکیں، گیلی ناک، بہتی ھوئی ناک، گلے میں خارش، سر کا بھاری پن ، جسم میں درد، سر درد، بدھضمی، متلی، پیٹ میں درد، الٹی، اسہال اور بخار۔
محمد یونس ھرگانوی صاحب کی ایک نظم ماہنامہ مسرت، پٹنہ(بھارت) جنوری 1967 میں شائع ھوئی۔ اس کا ایک قطعہ بہت دلچسپ ھے۔
فرماتے ھیں:
جب نکلتے ھیں چھینک کے بچے
آدمی کو زکام ھوتا ھے
آنکھ جلتی ھے ناک بہتی ھے
سانس لینا حرام ھوتا ھے

نزلہ کے بار بار حملے قوت مدافعت کی کمی کے عکاس ھیں جو اکثر ناکافی آرام کی وجہ سے ھوتی ھے۔ اس کے علاوہ بہت زیادہ روغنی کھانے، ذھنی تناؤ، سردی اور نمی کی موجودگی میں رھنا بھی وجہ ھو سکتی ھیں۔

بار بار کا نزلہ زکام، فرد کو ثانوی طور پر سانس کی نالی کے نچلے حصے میں انفیکشن کا شکار بنا سکتا ھے۔ ابتداء میں ھی مستقل توجہ اور مناسب علاج نزلہ زکام سے ھونے والی پریشانی سے بچا سکتا ھے۔

برصغیر میں رائج طبوں میں "تریکاٹو" ایک سادہ سا نباتاتی مرکب ھے جس کے نباتاتی اجزاء سونٹھ، کالی مرچ اور مگھاں ھیں۔ اس کو کتب میں تریکٹا بھی لکھا جاتا ھے۔
اس مرکب کے استعمال اور تجویز کردہ احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ھونے سے عام نزلہ زکام کا علاج کامیابی سے کیا جا سکتا ھے۔ اطباء حضرات اپنی حذاقت سے اگر اسے دور حاضر کے خوفناک انفلوئنزا پر بھی دیگر نسخہ جات کے امتزاج سے استعمال کرائیں تو بہتر نتائج کی توقع کی جا سکتی ھے۔

"تریکاٹو پاؤڈر"
یہ ایک سادہ سی فارمولیشن ھے جس میں عام طور پر استعمال ھونے والی تین خشک بوٹیوں یعنی ادرک (سونٹھ)، کالی مرچ (فلفل سیاہ) اور مگھاں (پپپلی، فلفل دراز) کو برابر مقدار میں باریک سفوف بنا کر مکس کیا جاتا ھے۔ یہ تینوں اجزاء برصغیر میں باورچی خانے میں استعمال ھونے والے عام مصالحے ھیں۔

تریکاٹو سنسکرت کا لفظ ھےاوراس کے لفظی معنی 'تین تیکھے'ھیں کیونکہ اس میں استعمال ھونے والے تینوں اجزاء بنیادی طور پر تیز ذائقہ والے ھوتے ھیں.

" تریکاٹو پاؤڈر میں شامل نباتات کے کیمیائی اجزاء"
سونٹھ کے اھم کیمیائی اجزاء:
روغن فراری، ایلکلائیڈ (جنجرول، شوگول)، رال اور نشاستہ۔
کالی مرچ کے اھم کیمیائی اجزاء:
الکلائڈز (پائپرین، chavicine، piperidine piplartine) اور روغن فراری( essential oils)۔
مگھاں کے اھم کیمیائی اجزاء:
روغن فراری اور الکلائڈز (پائپرائن، سیسامین اور پیپلارٹائن)۔

"تیاری کا طریقہ"
1) تینوں اجزاء 50, 50 گرام لے کر صاف کر کے نمی کو دور کرنے اورآسانی سے پیسنے کے لئےمزید خشک کریں۔
2) ھر جزو کو گرائنڈر میں باریک پاؤڈر ھونے تک پیس لیں۔
3) پاؤڈر کو 85 سائز کی جالی کے ذریعے چھلنی کر کے ریشے اور دیگر موٹے موٹے ذرات کو نکال دیں۔
4) تینوں اجزاء کے پاؤڈر کو برابر وزن میں مکس کر کے شیشے کی ائیر ٹائٹ خشک بوتل یا فوڈ گریڈ پلاسٹک کے کنٹینر میں براہ راست سورج کی روشنی سے دور خشک اور ٹھنڈی جگہ پر سٹور کریں۔
اس پاوڈر کی رنگت سیاہ بھوری ھوتی ھے اور یہ ایک سال تک استعمال کرنا بہتر رھتا ھے۔

"مرکب دوا کی خصوصیات"
یہ پاوڈر دافع سوزش، دردکش، مخرج بلغم اور ہاضمم ھوتا ھے.

"مقدار خوراک اور طریقہ استعمال"
بالغ افراد کی خوراک 2 گرام دن میں دو سے تین بار ھے۔اسے گرم دودھ یا پانی یا شہد کے ساتھ استعمال کریں۔
بچوں کو عمر کے مطابق 125 ملی گرام سے 500 ملی گرام تک دن میں دو سے تین بار شہد یا پانی کے ساتھ۔
دوسرا طریقہ یہ ھے کہ ایک کپ دودھ میں مقدار خوراک کے مطابق شامل کر کے اسے چند منٹ کے لیے ابالیں اور گرم گرم پی لیں یا پلا دیں۔
مزید یہ کہ
تریکاٹو بیماریوں کو دور کرنے کے لیے شہد کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جاتا ھے۔ جیسا کہ نزلہ، ناک کی سوزش، کھانسی، سانس پھولنا، دمہ، بدہضمیاور موٹاپا ۔ یہ نظام ہاضمہ کو بھی بہتر کرتا ھے۔

"نزلہ زکام میں احتیاطی تدابیر"
(1) عام نزلہ زکام میں مبتلا مریضوں کو براہ راست
ٹھنڈی ھوا کا سامنا، مرغن کھانا، ٹھنڈا پانی پینا، بول و براز کو روکنا، فرش پر لیٹنا اور دن کے وقت سونے سے روکنا چاھیے۔
(2) ہلکا مصالحہ دار کھانا ، نمکین ذائقہ والی اشیاء، دھی، لہسن، گرم پانی، بینگن کا بھرتہ اور سبز چنوں کا گرم سوپ پینا عام سردی لگنے میں مفید ھے۔
(3) سر کو ٹوپی یا کسی گرم کپڑے سے ڈھانپنا، بھاپ لینا، سر کی مالش، گرم نمکین پانی سے غرارے کرنا اور غصے سے بچنا عام نزلہ زکام سے بحالی میں معاونت کرتے ھیں۔
4) کولڈ ڈرنکس، کولڈ جوس، آئس کریم، زیادہ چکنائی دار اور بہت خشک خوراک سے پرھیز کریں۔ گرم اور ھوادار کمرے میں رھیں۔

"حفاظتی پہلو"
(1) تریکاٹو کا قدیم طبی کتب میں کسی قسم کے سائیڈ ایفیکٹ کا ذکر نہیں کیا گیا ھے۔ کلینیکل مطالعات نے بھی تجویز کردہ خوراک کے ساتھ علاج کیے جانے والے مریضوں میں منفی اثرات کا کوئی ثبوت نہیں دیا۔
2) چونکہ تریکاٹو پاؤڈر کا مزاج گرم ھے اس لئے بڑی خوراک سے گریز کیا جائے کیونکہ مریض معدہ میں جلن کی شکایت کر سکتا ھے یا پیشاب میں جلن وغیرہ۔ ایسے حالات میں فوری طور پر اس کا استعمال روک دیا جائے اور مریض کو دودھ وافر مقدار میں لینے کا مشورہ دیا جائے۔
(3) حاملہ خواتین کے لیے اس دوا کا استعمال مناسب نہیں ھے۔ تاھم اگر دودھ پلانے والی ماں لے رھی ھو تو یہ دوا بچے کے لیے محفوظ ھے۔

کچھ نازک مزاج افراد کو خاندان میں کسی ذمہ داری کے وقت اچانک زکام ھو جاتا ھے اور اس کا واویلا بھی خوب ھوتا ھے۔ ایسا زکام کام ھو جانے کے بعد بغیر کسی علاج کے ٹھیک ھو جاتا ھے۔
ایسے وقتی نزلہ بردار افراد کے لیے جناب مونس فراز صاحب کا شاعرانہ فرمان ھے کہ
" ٹی وی پہ نیوز آ گئی ان کے زکام کی
لیکن ھمارے قتل کا چرچا نہیں ھوا"

دعاگو: پروفیسر حکیم *محمد علی ملک*

Address

Near Muslim High School, Ajmal Tibbia College, Saidpur Road
Rawalpindi
46000

Opening Hours

Monday 10:00 - 14:00
16:00 - 20:00
Tuesday 10:00 - 14:00
16:00 - 20:00
Wednesday 10:00 - 14:00
16:00 - 20:00
Thursday 10:00 - 14:00
16:00 - 20:00
Friday 10:00 - 14:00
16:00 - 20:00
Saturday 10:00 - 14:00
16:00 - 20:00

Telephone

+923335555730

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Herbal Clinic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to The Herbal Clinic:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram