Farooq Memorial Hospital

Farooq Memorial Hospital جان ھے تو جہان ھے۔ آپ کی صحت ھماری اولین ترجیح ھے۔

21/05/2025

ہر وہ شخص جو بغیر تعلیم، بغیر رجسٹریشن، اور بغیر لائسنس کے علاج کر رہا ہے، وہ کوئیک ہے — اور وہ آپ کی صحت کے ساتھ کھلواڑ کر رہا ہے۔

عطائی سے:
بیماری کی صحیح تشخیص نہیں ہوتی
غلط دوا زندگی بھر کا نقصان دے سکتی ہے
وقتی سکون، لمبی بیماری میں بدل جاتا ہے
انفیکشن، زہر خورانی، اور معذوری جیسے خطرات بڑھ جاتے ہیں

یاد رکھیں:
صحیح علاج کا حق صرف ایک رجسٹرڈ اور تعلیم یافتہ ڈاکٹر ہی دے سکتا ہے۔
ہماری اپیل:
جعلی ڈاکٹروں کی نشاندہی کریں
رجسٹرڈ کلینکس پر جائیں
بچوں اور خاندان کو کوئیکوں سے بچائیں
حکومت سے مطالبہ کریں کہ کویکری کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہو



20/05/2025

اگر آپ ایک چیک بُک کے لیے مہینوں انتظار کر سکتے ہیں...
اگر نئی گاڑی کی مکمل قیمت ادا کر کے بھی اس کی ڈیلیوری کے لیے صبر سے مہینے گزار دیتے ہیں...
اگر آپ شناختی کارڈ، پاسپورٹ یا ویزا کی درخواست دے کر ہفتوں بے چینی سے اس کے مکمل ہونے کا انتظار کرتے ہیں...
اور اگر فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ میں ٹوکن لے کر خاموشی سے باری کا انتظار کر سکتے ہیں...

تو پھر اسپتال کے آؤٹ ڈور میں، جہاں روزانہ سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں مریض آتے ہیں،
وہاں صبر سے اپنی باری کا انتظار کرنا ذلت نہیں، شعور اور تہذیب کی علامت ہے۔

ھم ڈاکٹرز ہر مریض کو وقت دینا چاہتے ہیں سننا چاہتے ہیں، مگر ہمارے ہاتھ بھی محدود ہیں اور وقت بھی۔ہم کوشش کرتے ہیں کہ ایک ایک فرد کو اس کا حق ملے۔

مگر جب کوئی سفارش سے، جان پہچان سے یا غصے سے نظام توڑتا ہے، تو وہ کسی ایسے مریض کا حق چھین لیتا ہے جو خاموشی سے، عزت کے ساتھ اپنی باری کا انتظار کر رہا ہوتا ہے۔

اسپتال کا بیڈ، آپریشن کی تاریخ، یا ڈاکٹر کا وقت — یہ سب کسی کی زندگی کا سوال بن سکتے ہیں۔
انہیں "سہولت" نہ سمجھیں، یہ "امانت" ہیں۔

خدارا، اسپتالوں میں بھی وہی صبر اور شعور دکھائیے جو آپ بینک، شو روم یا امیگریشن آفس میں دکھاتے ہیں۔

شاید میری یہ بات آپ کے دل میں اُتر جائے۔۔۔۔۔۔۔✌️
Copied

Note down the date
15/05/2025

Note down the date

11/05/2025

پاکستان کیسے ترقی کرے گا؟
جب لوگوں کا یہ ماننا ہو کہ شوگر صرف چینی کھانے سے ہوتی ہے، لیکن دیسی شکر اور گُڑ بے ضرر سمجھے جائیں۔
جب یہ تصور عام ہو کہ دودھ اور چاول بلغم پیدا کرتے ہیں اور زخم میں "ریشہ" ڈال دیتے ہیں۔
جب سانس کے مریض انہیلر لینے کے بجائے پڑوس کی خالہ کی "چالیس سالہ تجربہ کاری" کو ترجیح دیں۔
جب شہر کے بڑے ڈاکٹر کی نسخہ لکھی دوا کا اعتبار ایک میڈیکل اسٹور کے سیلز مین سے پوچھ کر کیا جائے۔
جب شوگر کے مریض ایک دوسرے کو دوا یہ کہہ کر دیں کہ "مجھے آرام آیا، تم بھی کھاؤ"۔
جب لوگ انجیکشن کے ملی گرام اور گرام کا فرق سمجھے بغیر صرف "دو گرام" سن کر خوش ہو جائیں۔
جب 104 بخار والے بچے کو یہ کہہ کر ٹیکہ نہ لگوایا جائے کہ "بخار میں ٹیکہ منع ہوتا ہے"۔
جب زخم پر ڈیزل یا پٹرول لگایا جائے، اور جلی ہوئی جلد پر ٹوتھ پیسٹ مل دی جائے۔
جب سانپ کے کاٹے پر ویکسین کے بجائے کسی "بابے" کے منکے پر یقین کیا جائے۔
جب خسرہ، یرقان، ہسٹیریا جیسے امراض کو جادو، اثر یا جنات سے جوڑ دیا جائے۔
جب سرکاری اسپتالوں میں مریضوں سے بدسلوکی کی جائے اور وہی ڈاکٹر نجی کلینک میں اخلاقیات کا نمونہ بنے ہوں۔
جب گلی محلوں کے ناتجربہ کار ڈسپنسرز، کم پیسوں میں، دکھاوے کی رنگ برنگی دوائیں دے کر مستند ڈاکٹرز کا نعم البدل سمجھے جائیں۔
جب لوگ فون پر علاج کروانا بہتر سمجھیں اور وقت یا پیسہ بچاتے بچاتے اپنی صحت داؤ پر لگا دیں۔

ایسے معاشرے میں ترقی صرف خواب بن جاتی ہے، جب تک صحت کے بارے میں سنجیدہ شعور نہ بیدار کیا جائے۔

یہی مقصد ہمارا ہے: صحت کی آگاہی عام کرنا۔
کیونکہ آگاہی ہی علاج سے بہتر ہے۔
Farooq Memorial Hospital
0319 5966487

یہ پوسٹ دھیان سے سمجھ کر پڑھیں اور خوب شئیر کریں کیونکہ عوام کو ابھی تک سمجھ نہیں آ رہی کہ طبی عملہ کیوں ہسپتالوں میں ہڑ...
02/05/2025

یہ پوسٹ دھیان سے سمجھ کر پڑھیں اور خوب شئیر کریں کیونکہ عوام کو ابھی تک سمجھ نہیں آ رہی کہ طبی عملہ کیوں ہسپتالوں میں ہڑتال کر رہا ہے یہ تحریر اصل میں عوام کے لئے ہے۔

آپ کے گاؤں کا ہسپتال جب پرائیویٹ ہوجائے گا تو:
1. صرف گیارہ سو مریض چیک ہوسکیں گے۔
2. پورے مہینے میں صرف تیس نارمل ڈیلیوری ہو گی۔
3. پورے مہینے میں صرف دو سو حاملہ خواتین کا چیک اپ کرنے کی اجازت ہے۔
4. ڈلیوری کے بعد کے مسائل کے لئے صرف پچاس خواتین چیک اپ کرواسکے گی
5۔ فیملی پلاننگ کے لئے مریضوں کی تعداد صرف نوے رکھی گئی ہے
6۔ صرف دو سو بچوں کو حفاظتی ٹیکہ جات لگائیں جائیں گے۔
7۔ غذائی کمی، کمزوری اور بڑھوتری میں کمی کے شکار بچوں کو چیک کرنے کی زیادہ سے زیادہ تعداد دو سو پچاس رکھی گئ ہے اور فی بچہ کو دو سو روپے مالیت سے زیادہ کی دوائی نہیں دی جاسکے گی۔

اب جب مریضوں کی تعداد کا کوٹہ مکمل ہوجائے گا چاہے وہ دس دن میں ہوجائے اس کے بعد مریض چیک نہیں ہوسکے گا کیونکہ جو بھی آپ کے گاؤں کا ہسپتال ٹھیکے پر لے گا اسکو اضافی مریض (کوٹہ پورا ہونے کے بعد) چیک کرنے اور ان کو ادویات مہیا کرنے کے پیسے حکومت سے نہیں ملیں گے تو وہ یا تو چیک کرنے سے انکار کرے گا
Farooq Memorial Hospital
0319 5966487

20/04/2025

کیا واقعی ڈاکٹر قصائی ہیں؟ — ذرا رُک کر سوچیں

جب کوئی مریض اسپتال میں دم توڑتا ہے، جب کوئی بچہ وقت پر آکسیجن نہ ملنے سے جان ہار جاتا ہے، جب کسی کے پیارے کی بیماری بگڑ جاتی ہے… تو دل سے ایک فریاد نکلتی ہے، "یہ ڈاکٹر قصائی ہیں!"
مگر کیا کبھی آپ نے سوچا، اُس ڈاکٹر کے دل پر کیا گزرتی ہے؟

کیا آپ نے کبھی رات 3 بجے اسپتال کی ایمرجنسی میں، اپنی نیند اور اپنے سکون کو قربان کر کے، ایک اجنبی کی جان بچانے والے ڈاکٹر کی آنکھوں میں جھانکا ہے؟
کیا آپ نے دیکھا ہے کہ کیسے ایک نوجوان ڈاکٹر 36 گھنٹے کی ڈیوٹی کے بعد بھی بغیر شکایت کے اگلے مریض کو چیک کرتا ہے؟
نہیں… کیونکہ ہم صرف تب دیکھتے ہیں جب کچھ غلط ہو۔

ڈاکٹر صرف ہسپتال میں ڈاکٹر نہیں ہوتا !
آپ اُسے شادی میں روک کر دوائی پوچھ لیتے ہیں، راستے میں ایکسرے دکھا دیتے ہیں، گلی میں ملیں تو بچے کا بخار بتا دیتے ہیں اور وہ بغیر نخرے کے، بغیر فیس کے، آپ کو جواب دیتا ہے۔
کیا کسی اور پیشے کا شخص یہ کرتا ہے؟ جج، پولیس افسر، وکیل، یا انجینئر؟
پھر بھی تنقید صرف ڈاکٹر پر کیوں؟

ڈاکٹر بننے کا سفر ایک قربانیوں بھرا راستہ ہے۔
میٹرک ، انٹر میں مقابلے کی دوڑ، انٹری ٹیسٹ کا دباؤ، پھر پانچ سال کا مشکل ترین ایم بی بی ایس، ایک سال کی ہاؤس جاب، چار سے پانچ سال کی اسپیشلائزیشن، اور سپر اسپیشلسٹ بننے کے لیے مزید دو سال — وہ بھی سخت امتحانات، وسیع نصاب، اور مسلسل ذہنی دباؤ کے ساتھ۔
یہی نہیں، ایک ڈاکٹر کے لیے عید ہو یا کسی پیارے کی شادی، اکثر فرض پہلے ہوتا ہے۔ وہ ڈیوٹی پر ہوتا ہے جب سب خوشیاں منا رہے ہوتے ہیں۔ اُس کی سوشل زندگی، ذاتی لمحے، سب قربان ہوتے ہیں — صرف انسانیت کی خدمت کے لیے۔

جب ایک تجربہ کار پروفیسر ڈاکٹر، جس نے اپنی ساری زندگی طب کے شعبے کو دی، فیس لیتا ہے تو ہم اُسے لٹیرا کہتے ہیں؟
جبکہ وکیل مہنگا ہو تو "کامیاب"، انجینئر مہنگا ہو تو "قابل"، مگر ڈاکٹر مہنگا ہو تو "ظالم"؟
سینئر ڈاکٹر، پروفیسر، یا سپیشلسٹ — اُن کی فیس اُن کی مہارت، تجربے اور قربانیوں کی قیمت ہے۔
کیا ایک نوبیل انعام یافتہ سائنسدان اور ایک عام ٹیچر کی تنخواہ برابر ہو سکتی ہے؟
پھر ڈاکٹر کے ساتھ یہ دوہرا معیار کیوں؟

پاکستانی ڈاکٹرز بلا شبہ دنیا کے بہترین معالج ہیں۔
یہی ڈاکٹر جب امریکہ، برطانیہ یا کینیڈا جاتے ہیں، تو وہاں کے اسپتالوں میں پروفیسر، ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹس، اور ریسرچ لیڈرز بنتے ہیں۔
یہ وہی پاکستانی ڈاکٹر ہوتے ہیں جنہیں ہم یہاں “قصائی” کہہ دیتے ہیں۔
وہ دنیا میں میڈیکل بُکس کے مصنف، نامور اسپیشلسٹ، اور انسانی خدمت کی مثال ہیں — یہ ہمارے اصل ہیرو ہیں۔

پاکستان میں، آپ براہِ راست کسی بھی سپیشلسٹ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ آپ کا بچہ بیمار ہے؟ سیدھا چائلڈ سپیشلسٹ کے پاس جائیں۔دنیا کے کئی ممالک جیسے برطانیہ میں، آپ کو پہلے جنرل پریکٹشنر کے پاس جانا پڑتا ہے، وہاں سے ریفرل لینا پڑتا ہے، اور پھر مہینوں بعد اسپیشلسٹ سے ملنے کا وقت ملتا ہے۔
ایمرجنسی کی بات کریں تو وہاں بھی ٹرائیج سسٹم ہوتا ہے — آپ کی حالت زیادہ سنگین نہ ہو تو گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔
جبکہ پاکستان میں، آپ براہِ راست ایمرجنسی میں ڈاکٹر کے سامنے ہوتے ہیں۔

سرکاری اسپتالوں میں اکثر ایسا ہوتا ہے ڈاکٹرز ٹیسٹ اور ادویات کے لیے مریضوں کو اپنی جیب سے پیسے دے رہے ہوتے ہیں ،صرف اس لیے کہ اُس کے سامنے ایک انسان تکلیف میں ہے۔
مگر یہ کہانیاں کبھی وائرل نہیں ہوتیں، نہ ہی ہیڈلائن بنتی ہیں۔

کالی بھیڑیں ہر شعبے میں ہوتی ہیں اور میں اس سے انکاری نہیں،
جو ڈاکٹر بددیانتی کرتا ہے، کمیشن پر دوائیں لکھتا ہے، وقت پر نہیں آتا — وہ مجرم ہے۔
اُسے سزا ضرور ملنی چاہیے۔
مگر چند غلط چہرے، ہزاروں نیک نیت، محنتی ڈاکٹروں کو دھندلا نہ کریں۔

پاکستان کے بیشتر سرکاری اسپتال اپنی اصل صلاحیت سے پانچ گنا زیادہ مریضوں کا علاج کر رہے ہوتے ہیں۔ جہاں روزانہ سو مریضوں کا انتظام ہونا چاہیے، وہاں پانچ سو سے زائد مریض آ جاتے ہیں۔ او پی ڈی(OPD) مریضوں کا ہجوم روزانہ کی حقیقت ہے۔ قطاریں، شور، بےچینی اور درمیان میں ایک تھکا ہارا ڈاکٹر، جو سب کو سننے کی کوشش کرتا ہے۔
ڈاکٹر کو معلوم ہے کہ ہر مریض احترام، توجہ اور رہنمائی کا حق رکھتا ہے۔مگر اُسے جلدی کرنی پڑتی ہے چند منٹ میں چیک اپ، دوا، مشورہ… تاکہ زیادہ سے زیادہ مریض دیکھے جا سکیں۔
نتیجہ کئی مریض عدم اطمینان کا شکار ہو جاتے ہیں، اور الزام ڈاکٹر پر آتا ہے. نہ تو مریض قصوروار ہے، نہ ہی وہ ڈاکٹر جو اپنی نیند، تھکن اور ذاتی زندگی کو قربان کر کے سینکڑوں مریضوں کی خدمت کر رہا ہے۔
قصور نظام کا ہے — جس میں وسائل کم، آبادی زیادہ، اور دباؤ ناقابلِ تصور ہے۔

حکومت کو چاہیے کہ چھوٹے شہروں میں بنیادی سہولیات فراہم کرے، ریفرل سسٹم بنائے، اور میڈیکل شعبے میں اصلاحات لائے
اور ہمیں چاہیے کہ ہم ڈاکٹر کو صرف الزام کا نشانہ نہ بنائیں، اُس کی قربانی، اُس کی محنت، اُس کی انسانیت کو تسلیم کریں۔

آخر میں ایک سوال — اگر واقعی ڈاکٹر قصائی ہیں، تو پھر شفا کہاں سے آئے گی؟
Copied

Free medical camp Farooq Memorial Hospital 0319 5966487
16/04/2025

Free medical camp
Farooq Memorial Hospital
0319 5966487

جب آپ ہسپتال کی بجائے محلے کی ایل ایچ وی سے ڈیلیوری کروائیں گے تو اموات تو ہوں گیFarooq Memorial Hospital 0319 5966487
09/04/2025

جب آپ ہسپتال کی بجائے محلے کی ایل ایچ وی سے ڈیلیوری کروائیں گے تو اموات تو ہوں گی
Farooq Memorial Hospital
0319 5966487

07/04/2025

گرمی شروع ہو رہی ہے… اور اس کے ساتھ ایک عام لیکن نظرانداز کیا جانے والا مسئلہ بھی — Heat Rash (Prickly Heat)

جب گرمیوں میں humidity اور sweating بڑھ جاتی ہے، تو جلد پر چھوٹے چھوٹے سرخ یا گلابی دانے نکل آتے ہیں جو بہت itchy اور irritating محسوس ہوتے ہیں۔ یہ heat rash کہلاتی ہے۔

Heat Rash کیوں ہوتی ہے؟
جب sweat glands بند ہو جائیں اور پسینہ جلد میں ہی پھنس جائے تو جلد پر جلن اور دانے ظاہر ہوتے ہیں۔ یہ زیادہ تر گردن، کمر، بغلوں، سینے یا جسم کی تہوں میں ہوتے ہیں۔

علامات
چھوٹے سرخ یا گلابی دانے

خارش یا جلن

جلد پر چبھن یا burning sensation

بعض اوقات ہلکے چھالے

بچاؤ کے طریقے:

ہلکے، ڈھیلے اور cotton کپڑے پہنیں

ٹھنڈی، airy جگہ پر رہیں

روزانہ نہائیں، خاص طور پر پسینے کے بعد

جلد کو dry رکھیں اور جلد پر talcum یا medicated powder استعمال کریں

جگہ کو ٹھنڈے پانی سے دھو کر خشک کریں

calming lotions جیسے calamine lotion کا استعمال کریں

زیادہ scratching سے گریز کریں تاکہ infection نہ ہو

اگر چند دنوں میں بہتری نہ آئے یا rash بگڑنے لگے، تو dermatologist سے رجوع ضرور کریں۔
Farooq Memorial Hospital
0319 5966487

29/03/2025

کچھ خرافات/غلطیاں جن کا خاتمہ ضروری ہے۔ نئی ماؤں اور بچوں کو اس مخمصے سے باہر نکلنے دیں ”'کے ہم نہیں تو بچے ایسے ہی پالے ہیں'“
تمام والدین کو آگاھ کریں۔ صدقہ جاریہ ہے ۔جزاك الله

1- ہر رونے میں پیناڈول دینا کے کوٸ تو تکلیف ہو گی .
2- بمشکل 3 ماہ کے بچے کو سیریلیک، گلوکو بسکٹ، کسٹرڈ وغیرہ دینا۔
3- دانتوں میں بائیو 21 دینا۔ یہ بہت راحت بخش ہے۔ لیکن ایف ڈی اے نے منظوری نہیں دی۔ یہ دانتوں کی اینکیلوسس کا سبب بن سکتا ہے۔
4- شیر خوار بچوں کے جسم کے بالوں کو ختم کرنے کے لیے آٹے کا گولا قسم کی چیز رگڑنا۔
5- بچے کا سر بنانے کے عمل کے لیے پلیٹ کو سر کے نیچے رکھنا۔ فلیٹ ہیڈ سنڈروم کا سبب بن سکتا ہے۔
6- ایک سال کی عمر سے پہلے شہد دینا بچے میں بوٹولزم کروا سکتا ہےجس میں جسم کے پٹھے کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔
7- ایک سال سے پہلے گائے کا دودھ دینا۔ گائے کے دودھ کی ساخت اور اس کا بچے کے گردے پر اثر ہے۔ اور اس کی وجہ سے بچے میں آئرن کی کمی ہوتی کیونکہ گاۓ کے دودھ میں آئرن کم ہوتا ہے اور جو ہوتا ہے وہ جزب نہیں ہو پاتا۔
8- ایک سال سے پہلے ضرورت سے زیادہ چینی اور نمک بچے کو دینا ۔
9- چھ ماہ سے پہلے پانی دینا۔ جیسا کہ مدر فیڈ کے معاملے میں اس کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔
10- کاجل/سورما لگانا۔ آنکھوں میں انفیکشن، آنسو کی نالی میں رکاوٹ اور آنکھوں کے دیگر مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔
11- فینرگن یا دیگر سکون آور ادویات دینا تاکہ بچہ سویا رہے,چار سال سے پہلے یہ سیرپ بچے کا سانس بھی بندکروسکتا ہے ۔
13- ماں کا یہ تصور کبھی بھی بچے کی خوراک کافی نہیں ہے۔ 'پیٹ نہیں بھرتا' اور پھر کھلا دودھ شروع کروا دینا
14- ایک سال کی عمر کے بعد ضرورت سے زیادہ دودھ دینا ۔
15- چھوٹے بچے کو ہونٹوں/گال پر بوسہ دینا بچے میں انفیکشن کا باعث بن سکتا ہے خاص کر جب آپکا گلا خراب یا فلو ذکام ہو۔
16- بچے کی نشوونما کا دوسرے بچوں سے موازنہ کرنا۔
17- واکر کا استعمال۔ آپ اس کے نتائج پر تحقیق کر سکتے ہیں۔
18- اوور لیئرنگ یا زیادہ کپڑے پہنا دینا۔جو بچے کو زیادہ گرم کرنے اور پانی کی کمی کا باعث بن سکتی ہے۔
19- وٹامن ڈی سپلیمنٹ کو خاطرناک سمجھنا۔ خصوصی دودھ پلانے والے بچے میں اس کی اہمیت کے بارے میں تحقیق کریں۔
20-پیداٸیش پر وٹامن کے کا انجیکشن نہ لگوانا کہ بچے کودرد ہوگا ۔ وٹامن کے کی کمی سے بچے میں خون پتلا ہوجاتا ہے اور دماغ میں بھی خون بہ سکتا ہے
21-بچے کی ناف پر تیل اور ایسی چیزیں لگانا ۔ناف کے انفیکشن اوردیر سے گرنے کا سبب بنتی ہیں
22-بچے کو ٹھنڈا گرم کے چکر میں اھم غزاٶں جیسے انڈہ ,دہی ,چاول اور سٹرس فروٹس سے محروم رکھنا
23- بچے کو خاص طور پردوسال سے پہلے موباٸل یا ٹی وی کارٹون دکھانا ۔۔یہ بچے میں آٹزم جیسے مساٸل پیدا کر سکتا ہے
24-بچے کی گروتھ کے لیے عرق ,گٹھی جیسی چیزیں دینا ۔انکی ساٸنسی افادیت ثابت نہیں ہو سکی
25-کوالیفاٸیڈ ڈاکٹر کے کہنے کے باوجود نارمل ڈلیوری پر اصرار کرنا۔ اگر اس دوران بچے کو دماغی آکسیجن کی کمی ہو جاۓ تو بچہ سی پی چاٸلڈ بن سکتاہے۔
26-بچے کی ویکسینیشن نہ کروانا یا ویکسینشن میں تاخیر کرنا۔ ویکسینشن مفت ہے اور بچے کو بارہ خطرناک جان لیوا بیماریوں سے بچاتی ہے
27- میڈیکل سٹور پر جاکر سیلز مین سے بچے کا مسلہ بتا کر دواٸ لینا خاص کر اینٹی باٸیوٹیکس اور ایک بچے کی دواٸ دوسرے بچے پر آزمانا

تمام والدین کو آگاھ کریں۔ صدقہ جاریہ ہے ۔جزاك الله
Farooq Memorial Hospital
0319 5966487

ہر نوزائیدہ بچے کو پیداٸیش پر چائلڈ اسپیشلسٹ سے  چیک کروانابےحد ضروری ہے۔ڈاکٹر کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ یہ چیک کریں کہ بچ...
26/03/2025

ہر نوزائیدہ بچے کو پیداٸیش پر چائلڈ اسپیشلسٹ سے چیک کروانابےحد ضروری ہے۔
ڈاکٹر کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ یہ چیک کریں کہ بچہ صحت مند ہے یا نہیں، بچے میں کوٸ پیداٸیشی نقص تو نہیں اور نئے والدین کو بچوں کی خوراک اور معمول کی دیکھ بھال کے بارے میں رہنمائی کریں۔
معاٸنے کے شروع میں بچے کے وائٹلز جن میں دل کی دھڑکن سانس کی شرح اور درجہ حرارت چیک کیاجاتایے ۔ پھر وزن، لمبائی اور سر کے سائز کی پیماٸیش ہوتی ہے۔ ان میں سے ہر ایک چیز کا پیداٸیش پر ریکارڈ انتہائی اہم ہے اور ساتھ ہی یہ ریکارڈ ہمیں اگلے مہینوں اور سالوں میں مدد کرے گا کہ بچہ صحیح طریقے سے بڑھ رہا ہے یا نہیں۔
اس کے بعد سر سے لے کر پاٶں تک تفصیلی معاٸنہ کیا جاتا ہے۔
سر کودیکھا جاتا ہے کہ پیدائش کے عمل کے دوران سر کی ہڈیوں پر کوئی چوٹ تو نہیں آٸ ہے، ہڈیاں آپس میں جڑی ہوٸ تو نہیں ہیں اور سر کے نرم دھبے مناسب سائز کے ہیں۔ آنکھوں کے معاٸنے میں بیناٸ، سفید موتیا، کالا موتیا یا آنکھ کے پردے کی رسولیکو چیک کیا جاتا ہے۔ناک کو دیکھا جاتا ہے کہ مکمل دونوں ساٸڈز کھلی ہوٸ ہیں .منہ کو پیداٸیشی دانتوں اور کٹے ہوۓ دانتوں کے لیے چیک کیا جاتا ہے . کانوں کا معائنہ کیا جاتا ہے۔
گردن پر پیداٸشی رسولیوں کے لیے چیک کیا جاتا ہے۔ ہنسلی کی ہڈی اور کندھے کی ہڈیوں کو فریکچر کے لیے دیکھاجاتا ہے۔ دل کی کسی بھی پیدائشی بیماری جیسے دل میں سوراخ یا خون کی نالیوں کا کھلا ر جاناچیک کیاجاتا ہے۔ کسی بھی پیدائشی نمونیا یا سانس لینے میں دشواری کے لیے پھیپھڑوں کی جانچ کی جاتی ہے۔ جگر، تلی گردے یا پیدائشی ٹیومر جیسے کسی بھی مسئلے کے لیے پیٹ کی جانچ کی جاتی ہے۔ کوہلے کے جوائنٹ چیک کیا جاتا ہے کہ اس کی پوزیشن نارمل ہے یا نہیں۔ پاخانہ کے راستے کو چیک کیا جاتا ہےکہ مکمل طور پر کھلا ہے ۔ بچے کے جنسی اعضاء کو دیکھا جاتا ہے کہ آیا وہ بچے کی جنس کے مطابق نارمل ہیں یا نہیں۔ جلد کو کسی بھی نقائص، رنگت کی تبدیلی یا دیگر مسائل کے لیے چیک کیا جاتا ہے۔ کلب فٹ یا ٹھیڑے پاٶں جیسے کسی بھی نقص کے لیے ہاتھ اور پاؤں کی جانچ کی جاتی ہے۔ ہڈیوں کے کسی بھی مسائل یا ریڑھ کی ہڈی سے متعلق مسائل کے لیے کمر کی جانچ کی جاتی ہے۔
یہ سب اتنی تفصیل سے لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ ڈاکٹر ان تمام مسائل کا جائزہ لیتے ہیں اور اگر اس مرحلے پر بچے میں کوئی مسئلہ سامنے آجائے تواس کا حل آسان ہوتا ہے بہ نسبت اسکے کہ اسکا علاج اور تشخیص دیر سے ہو۔
اگر بچہ صحت مند ہوتو ڈاکٹر کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچے کو دودھ پلانے ,صفاٸ رکھنے ،حفاظتی ٹیکوں اور نوزائیدہ بچوں کے حوالے سے ہمارے معاشرے میں رائج خرافات کو ختم کرنے کے بارے میں رہنمائی کریں .
اس سب کا مصصد نوزاٸیدہ بچے کو محفوظ ہاتھوں میں دینا ہوتا ہے۔جزاك الله

22/03/2025

روزانہ 1 گھنٹہ چلنا آپ کی شوگر کو حیرت انگیز طور پر کم کرتا ہے

روزانہ 2 انڈے کھانا آپ کی شوگر کو کم کرنے میں مدد کر سکتا ہے

روزانہ اچھی نیند لینا شوگر کنٹرول کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے

روزانہ اچھی مقدار میں پانی پینا شوگر کنٹرول کرنے میں مدد کرتا ہے

روزانہ ہر کھانے کے ساتھ سلاد کھانا شوگر کو کنٹرول کرتا ہے

روزانہ چینی گڑ شکر شہد کو نہ کھانا شوگر کو کنٹرول کرتا ہے

اگر شوگر کنٹرول کرنی ہے تو روزانہ کرنے والے کام کبھی کبھار مت کریں

Copied
Farooq Memorial Hospital

0319 5966487

Address

Bhong Road , Ahmadpur Lamma
Sadiqabad

Telephone

+923195966487

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Farooq Memorial Hospital posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category