Dr. Hina Ilyas

Dr. Hina Ilyas MBBS,FCPS,MRCP(IRELAND).CHPE( UK), CART.

Dr.Hina Ilyas is working as Assistant Prof.Gynae inSahiwal.She is young,hardworking.This page is to discuss your problems,pregnancy,child birth,weight loss after delivery,and other female related problems.

کیا پری ایجیکیولیٹ (پری کم) سے حمل ہوسکتا ہے؟ مکمل رہنمائیالسلام علیکم۔ نوجوان لڑکیاں اور شادی شدہ خواتین مجھ سے دھیمے ل...
13/12/2025

کیا پری ایجیکیولیٹ (پری کم) سے حمل ہوسکتا ہے؟
مکمل رہنمائی

السلام علیکم۔

نوجوان لڑکیاں اور شادی شدہ خواتین مجھ سے دھیمے لفظوں میں یہ سوال پوچھتی ہیں:
“ڈاکٹر صاحبہ، کیا پری کم سے بھی حمل ہوسکتا ہے؟”

یہ موضوع حساس ضرور ہے، لیکن اسے صحیح طرح سمجھنا بہت ضروری ہے—خاص طور پر ان خواتین کے لیے جو فیملی پلاننگ کر رہی ہیں، یا کچھ وقت کے لیے حمل سے بچنا چاہتی ہیں۔ اسی لیے آج میں یہ سب کچھ انتہائی آسان زبان میں سمجھانا چاہتی ہوں۔

1. پری ایجیکیولیٹ (پری کم) کیا ہوتا ہے؟

پری ایجیکیولیٹ، جسے عام زبان میں پری کم کہا جاتا ہے، ایک شفاف سا ہلکا سا مائع ہوتا ہے جو جنسی کشش یا جنسی عمل کے دوران اس وقت خارج ہوتا ہے جب ابھی مکمل انزال (منی کا آنا) نہیں ہوتا۔

یہ بغیر کسی کنٹرول کے خود بخود خارج ہوسکتا ہے۔

یہ جسم میں قدرتی طور پر چکناہٹ پیدا کرنے کے لیے بنتا ہے۔

یہ مین سیمن (منی) نہیں ہوتا، لیکن کچھ حالات میں اس میں نطفے (سپرم) شامل ہوسکتے ہیں۔

2. کیا پری کم سے حمل ہوسکتا ہے؟ (مختصر اور واضح جواب)

جی ہاں، پری کم سے حمل ہوسکتا ہے۔
امکان مکمل انزال کے مقابلے میں کم ضرور ہوتا ہے، لیکن یہ امکان صفر نہیں ہوتا۔

اگر پری کم میں موجود نطفہ بیضہ دانی تک پہنچ جائے اور وقت آپ کی زرخیز دنوں کے قریب ہو تو حمل ممکن ہے۔

3. پری کم سے حمل کیسے ہوسکتا ہے؟

اس کے دو بنیادی اسباب ہیں:

1. پچھلے انزال کے بعد بچ جانے والا سپرم

اگر مرد نے کچھ دیر یا چند گھنٹے پہلے انزال کیا ہو تو اس کے پیشاب کی نالی (یوری تھرا) میں کچھ نطفے رہ سکتے ہیں۔
یہ نطفے پری کم میں شامل ہو کر عورت کے جسم میں داخل ہوسکتے ہیں۔

2. ماہواری کے دنوں کا ٹائمنگ

اگر آپ کا تعلق ان دنوں میں ہو جب:

آپ ovulation کے قریب ہوں

آپ کے پیریڈ بے قاعدہ ہوں

آپ کی فطری زرخیزی زیادہ ہو

تو بہت تھوڑی مقدار کا نطفہ بھی حمل کا سبب بن سکتا ہے۔

4. پری کم سے حمل کتنی بار ہوسکتا ہے؟

بالکل درست شرح بتانا ممکن نہیں، لیکن بطور ڈاکٹر میں اعتماد کے ساتھ یہ کہہ سکتی ہوں:

امکان کم ہوتا ہے

لیکن حقیقی اور ممکن ہے

اور pull-out یعنی کھینچ کر باہر نکلنے والا طریقہ اکثر ناکام ہوجاتا ہے کیونکہ پری کم تو انزال سے پہلے ہی آجاتا ہے

اپنی پریکٹس کے دوران میں نے بہت سی غیر منصوبہ بند حمل دیکھے ہیں جو صرف اس لیے ہوئے کہ جوڑے نے سمجھا کہ پری کم سے حمل نہیں ہوتا۔

لہٰذا اگر حمل سے بچنا ہے تو پری کم کی “محفوظ ہونے” والی غلط فہمیوں پر کبھی بھروسہ نہ کریں۔

5. پاکستان میں پری کم اور حمل سے متعلق عام غلط فہمیاں
غلط فہمی: پری کم نقصان دہ نہیں ہوتا۔

حقیقت: اس میں سپرم ہوسکتا ہے۔

غلط فہمی: مکمل انزال اندر نہ ہو تو حمل نہیں ہوتا۔

حقیقت: بہت تھوڑا سا سپرم بھی حمل کے لیے کافی ہے۔

غلط فہمی: pull-out طریقہ ہمیشہ محفوظ ہے۔

حقیقت: یہ اکثر ناکام ہوجاتا ہے کیونکہ پری کم پہلے ہی جسم میں داخل ہوتا ہے۔

غلط فہمی: پیریڈز کے کچھ دن بعد حمل نہیں ہوسکتا۔

حقیقت: بے قاعدہ پیریڈز والی خواتین میں ovulation کسی بھی وقت ہوسکتا ہے۔

6. بغیر حفاظتی تعلق کے بعد کن علامات پر نظر رکھیں

اگر آپ نے بغیر تحفظ کے تعلق قائم کیا ہے (چاہے انزال باہر ہی کیوں نہ ہوا ہو)، تو ان علامات پر توجہ دیں:

مہینے کا لیٹ ہوجانا

سینوں میں بھاری پن

متلی یا قے

پیٹ کے نچلے حصے میں بھاری پن

غیر معمولی تھکاوٹ

اگر آپ کے پیریڈ پانچ سے سات دن سے زیادہ لیٹ ہوں تو ہوم پرگنینسی ٹیسٹ کرلیں۔

7. پری کم سے حمل سے کیسے بچا جاسکتا ہے (محفوظ طریقے)

اگر آپ واقعی محفوظ رہنا چاہتی ہیں، تو ان طریقوں پر بھروسہ کریں:

1. کنڈوم

آسان

مؤثر

اور جنسی بیماریاں روکنے میں بھی مددگار

2. برتھ کنٹرول گولیاں

زیادہ تر خواتین کے لیے محفوظ

باقاعدگی سے استعمال کرنے پر بہت مؤثر

3. طویل مدت کے طریقے (شادی شدہ خواتین کے لیے بہترین)

کاپر آئی یو ڈی

ہارمونل آئی یو ڈی

امپلانٹ

4. ایمرجنسی مانع حمل گولیاں

اگر اچانک رسک پیش آگیا ہو یا آپ کو شک ہو کہ پری کم سے خطرہ ہوا ہے، تو 72 گھنٹے کے اندر ایمرجنسی گولی لے لیں۔
جتنی جلدی لیں گی، اتنا ہی بہتر ہے۔

8. اگر آپ کو لگے کہ حمل کا خطرہ ہوا ہے تو کیا کریں؟

بطور ڈاکٹر میں ہمیشہ یہ مشورہ دیتی ہوں:

گھبرائیں نہیں

جس دن تعلق ہوا، وہ تاریخ لکھ لیں

اپنی اگلی ماہواری کی متوقع تاریخ یاد رکھیں

پیریڈ لیٹ ہو تو ٹیسٹ کریں

اگر پریشانی ہو تو گائنی سے رابطہ کریں

آپ اکیلی نہیں ہیں—بہت سی خواتین یہی سوالات لے کر میرے پاس آتی ہیں۔

ہمیشہ یاد رکھیں:

پری کم سے حمل ہوسکتا ہے

انزال سے پہلے نکلنے والا طریقہ کبھی بھی قابلِ اعتماد نہیں

اپنے جسم کو سمجھنا خود اعتمادی کی علامت ہے

اور شرم کی وجہ سے صحت پر سمجھوتہ نہ کریں

آپ کی صحت، آپ کی خوشی اور آپ کا مستقبل آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔

ڈاکٹر حنا الیاس سے رابطہ کریں – با اعتماد مشاورت

اگر آپ کو حمل کا شک ہے، علامات سمجھ نہیں آرہیں، یا آپ فیملی پلاننگ کے بارے میں درست رہنمائی چاہتی ہیں، تو میں آپ کے لیے حاضر ہوں۔
میں فراہم کرتی ہوں:

نجی اور بااعتماد مشاورت

فیملی پلاننگ رہنمائی

حمل سے متعلق مسائل

مانع حمل طریقوں کی رہنمائی

ماہواری اور ہارمونز کے مسائل کا علاج

آپ کا ہر سوال مکمل رازداری کے ساتھ سنا جائے گا۔
آپ کی صحت اور آپ کا اعتماد میری پہلی ترجیح ہے۔

22/11/2025

👩 🤰

بہت سی خواتین اپنے پیٹ کے ارد گرد وزن بڑھ جانے سے پریشن ہوتی ہیں۔ یہ ایک عام مسئلہ ہے جو مایوس کن ہے اور اس کا علاج کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ پیٹ کا وزن بڑھنا صرف ایک کاسمیٹک مسئلہ نہیں ہے۔ اس کے صحت عامہ پر بھی اثرات پڑ سکتے ہیں۔ یہ سمجھنا کہ خواتین کے پیٹ کے اطراف وزن کیوں بڑھتا اور اس کو کم کرنے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے بہتر صحت اور تندرستی کے حصول کے لیے ضروری ہے۔ پیٹ کی چربی دو شکلوں میں آتی ہے۔ ایک عصبی چربی اور ایک ذیلی چربی ہوتی ہے۔

💥 پیٹ کی چربی
چربی صرف جلد کے نیچے واقع ہوتی ہے اور یہ وہ قسم ہے جو عام طور پر پیٹ کی چربی سے وابستہ ہے۔ دوسری طرف ویسرل چربی گہری ہوتی ہے اور اندرونی اعضاء کو گھیر لیتی ہے۔ اگرچہ دونوں قسمیں عورت کی ظاہری شکل کو متاثر کر سکتی ہیں۔ عصبی چکنائی خاص طور پر تشویشناک ہے کیونکہ اس کا تعلق صحت کے مختلف مسائل سے ہے۔ ان مسائل میں دل کی بیماری، ٹائپ 2 ذیابیطس اور سوزش شامل ہیں۔

💥 ہارمونل تبدیلیاں
خواتین کے پیٹ کے گرد وزن بڑھنے کی ایک اہم وجہ ہارمونل تبدیلیاں ہیں۔ خاص طور پر عمر بڑھنے کے ساتھ۔ ایسٹروجن، پروجیسٹرون اور کورٹیسول جیسے ہارمونز پورے جسم میں چربی کی تقسیم میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

▪️1. کم ایسٹروجن
جیسے جیسے خواتین بڑھاپے کے قریب آتی ہیں ایسٹروجن کی سطح جو چربی کی تقسیم کو منظم کرنے میں مدد کرتی ہے، گرنا شروع ہو جاتی ہے۔ جب اس کی سطح کم ہوتی ہے تو کولہوں اور رانوں جیسے دیگر حصوں کی بجائے پیٹ میں چربی زیادہ جمع ہونے لگتی ہے۔ اس تبدیلی کی وجہ سے بہت سی خواتین کھانے یا ورزش کی عادت کو تبدیل نہ کرکے بھی پیٹ کی چربی میں اضافہ محسوس کرتی ہیں۔

▪️2. تناؤ اور کورٹیسول
تناؤ ایک اور بڑا عنصر ہے جو پیٹ کے وزن میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ جب تناؤ ہوتا ہے تو جسم کورٹیسول پیدا کرتا ہے۔ یہ ایک ہارمون ہے جو دوسری چیزوں کے علاوہ پیٹ کے علاقے میں چربی کو ذخیرہ کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ دائمی تناؤ کورٹیسول کی سطح کو مسلسل بڑھنے کا سبب بنتا ہے۔ اس سے امکان بڑھتا ہے کہ خواتین کے پیٹ کی چربی بڑھے گی اور برقرار رہے گی۔ اسی لیے تناؤ میں کمی کا انتظام کسی بھی وزن میں کمی کے منصوبے کا ایک لازمی جزو ہے۔

▪️ 3. انسولین مزاحمت
ہارمون انسولین خون میں شکر کی سطح کو منظم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ جب جسم انسولین کے خلاف مزاحم ہو جاتا ہے تو خاص طور پر پیٹ کے اطراف زیادہ چربی جمع کرنا شروع کر دیتا ہے۔ جسم انسولین کے خلاف مزاحم ناقص خوراک، ورزش کی کمی یا جینیات کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ انسولین کے خلاف مزاحمت ٹائپ 2 ذیابیطس کا پیش خیمہ ہے اور خواتین میں ان کی عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ یہ زیادہ عام ہے۔ خاص طور پر وہ خواتین جو بیٹھے ہوئے طرز زندگی گزارتی ہیں ان میں پیٹ کے اطراف چربی جمع ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔

💥 طرز زندگی کے عوامل
اگرچہ خواتین کا وزن کہاں اور کیسے بڑھتا ہے اس میں ہارمونز اہم کردار ادا کرتے ہیں، تاہم طرز زندگی کے عوامل کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ خوراک، جسمانی سرگرمی اور نیند پیٹ کی چربی کے جمع ہونے پر اثر انداز ہوتی ہے۔

🔸1. شکر اور کاربوہائیڈریٹ
شکر اور بہتر کاربوہائیڈریٹ سے بھرپور غذا انسولین کے خلاف مزاحمت کرتی اور وزن میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ یہ غذائیں خون میں شکر کی سطح کو بڑھانے کا باعث بنتی ہیں جس سے انسولین کی پیداوار اور چربی کا ذخیرہ بڑھ جاتا ہے۔ بہت زیادہ کیلوریز کا استعمال، خاص طور پر غیر صحت بخش غذاؤں سے، بھی وزن میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔

🔸2. جسمانی سرگرمی کی کمی
ایک بیٹھے رہنے والا طرز زندگی پیٹ کے علاقے میں وزن بڑھانے کی ایک اہم وجہ ہے۔ باقاعدہ ورزش کے بغیر جسم توانائی کے لیے چربی جلانے کے بجائے ذخیرہ کرنے کا زیادہ امکان رکھتا ہے۔ جسمانی سرگرمی پیٹ کی چربی کو کم کرنے اور مجموعی فٹنس کو بہتر بنانے میں مدد کر سکتی ہیں۔

🔸3. نیند کی بری عادت
نیند وزن کے انتظام میں ایک نظر انداز عنصر ہے لیکن یہ بہت اہم ہے. نیند کی خراب عادات، بشمول نیند کی کمی یا نیند کے بے قاعدہ انداز ہارمون کی سطح میں خلل ڈال سکتے اور بھوک اور وزن بڑھا سکتے ہیں۔

💥اہم اقدامات
اگرچہ پیٹ کے ارد گرد بڑھے ہوئے وزن کو کم کرنا مشکل ہے لیکن یہ ناممکن نہیں ہے۔ طرز زندگی میں تبدیلیوں اور ہدف کی حکمت عملیوں کا مجموعہ پیٹ کی چربی کو کم کرنے اور مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں مدد کر سکتا ہے۔

🔹1. متوازن غذا
ایک متوازن غذا جس میں پھل، سبزیاں، پروٹین اور مکمل اناج شامل ہو ضروری ہے۔ اسی طرح شکر، کاربوہائیڈریٹس اور پراسیسڈ فوڈز کی مقدار کو کم کرنے سے وزن میں اضافے کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔ پورشن کنٹرول بھی اہم ہے۔ چھوٹا اور زیادہ بار بار کھانا بلڈ شوگر کی سطح کو مستحکم رکھنے اور زیادہ کھانے کے امکان کو کم کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

🔹2. باقاعدگی سے ورزش
پیٹ کی چربی کو کم کرنے کے لیے اپنے روزمرہ کے معمولات میں باقاعدہ ورزش کو شامل کرنا بہت ضروری ہے۔ عصبی ورزش جیسے چلنا، دوڑنا اور سائیکل چلانا کیلوریز کو جلانے میں مدد کرتا ہے۔

🔹3. تناؤ کا انتظام
تناؤ سے نمٹنا اور اسے کم کرنا کورٹیسول کی سطح کو کنٹرول کرنے کی کلیدوں میں سے ایک ہے۔

🔹4. مناسب نیند
اس بات کو یقینی بنانا کہ آپ ہر رات 7 سے 9 گھنٹے کی معیاری نیند حاصل کریں وزن میں کمی پر بہت زیادہ اثر ڈال سکتے ہیں۔ نیند کا باقاعدہ نظام الاوقات قائم کرنا اور سونے کے وقت کا ایک پرسکون معمول بنانا سونے سے پہلے کیفین جیسے محرکات سے پرہیز کرنا بہتر نیند کا باعث بنتا ہے۔

12/11/2025

Invited by " Inner wheel club sahiwal " as a guest speaker for presentation on Cervical cancer Awareness.

About today....Clearance surgery for borderline ovarian cancer.  Surgeon: Dr. Hina IlyasP. S... pics taken after consent...
05/11/2025

About today....
Clearance surgery for borderline ovarian cancer.
Surgeon: Dr. Hina Ilyas

P. S... pics taken after consent of patient

 # # 🩺 پولی ہائیڈرایم نیوس (Polyhydramnios) کیا ہے؟یہ حالت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب حمل کے دوران **بچے کے ارد گرد پانی (ای...
31/10/2025

# # 🩺 پولی ہائیڈرایم نیوس (Polyhydramnios)
کیا ہے؟

یہ حالت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب حمل کے دوران **بچے کے ارد گرد پانی (ایمینیوٹک فلوئیڈ)** معمول سے زیادہ ہو جائے۔
یہ مسئلہ عام طور پر الٹراساؤنڈ کے ذریعے تشخیص کیا جاتا ہے۔

---

# # 🌸 **وجوہات (Causes):**

1. **ذیابیطس (Diabetes)**

* اگر ماں کو شوگر ہو، تو بچے کے گرد پانی زیادہ بن سکتا ہے۔

2. **بچے کی پیدائشی خرابی (Congenital anomalies)**

* خاص طور پر اگر بچے کا منہ یا نظامِ ہضم بند ہو (جیسے esophageal atresia)۔

3. **جڑواں یا زیادہ حمل (Twin pregnancy)**

* ایک بچے کو زیادہ پانی ملنے سے بھی یہ حالت پیدا ہو سکتی ہے۔

4. **انفیکشنز (Infections)**

* ماں یا بچے میں انفیکشن کی وجہ سے بھی پانی زیادہ بن سکتا ہے۔

5. **نامعلوم وجوہات (Idiopathic)**

* بعض اوقات کوئی خاص وجہ نہیں ملتی۔

---

# # ⚠️ **خطرات (Risks and Complications):**

1. **قبل از وقت زچگی (Preterm labor)**
2. **پانی کا جلدی پھٹ جانا (Premature rupture of membranes)**
3. **نالی کا باہر آ جانا (Umbilical cord prolapse)**
4. **پیدائش کے دوران زیادہ خون بہنا (Postpartum hemorrhage)**
5. **بچے کی غیر معمولی پوزیشن (Malpresentation)**
6. **ماں کو سانس لینے میں دشواری (Breathlessness)**

---

# # 🩷 **احتیاط اور علاج (Care and Management):**

* **الٹراساؤنڈ کے ذریعے باقاعدہ چیک اپ**
* **بلڈ شوگر کنٹرول** رکھنا
* **ڈاکٹر کے مشورے سے دوا یا پانی کی مقدار کم کرنے والے علاج**
* **ہسپتال میں قریبی نگرانی** اگر پانی بہت زیادہ ہو

---

# # 📞 **یاد رکھیں:**

پولی ہائیڈرایم نیوس خطرناک ضرور ہے مگر اگر بروقت تشخیص اور علاج کیا جائے تو ماں اور بچہ دونوں محفوظ رہ سکتے ہیں۔

**اپنے معالج سے رابطہ کریں اگر آپ کو پیٹ میں غیر معمولی تناؤ، سانس لینے میں مشکل یا زیادہ موومنٹس محسوس ہوں۔**

---
ڈاکٹر حنا الیاس
For appointment
03336914886

🌸 **حمل میں پانی کی کمی (Oligohydramnios) کیا ہے؟**حمل کے دوران بچے کے گرد جو پانی ہوتا ہے اُسے **ایمنیوٹک فلوئڈ (Amniot...
30/10/2025

🌸 **حمل میں پانی کی کمی (Oligohydramnios)
کیا ہے؟**

حمل کے دوران بچے کے گرد جو پانی ہوتا ہے اُسے **ایمنیوٹک
فلوئڈ (Amniotic Fluid)**
کہا جاتا ہے۔
یہ پانی بچے کی نشوونما، حرکت اور حفاظت کے لیے ضروری ہے۔
جب یہ مقدار معمول سے کم ہو جائے تو اسے **اولیگوہائیڈرامنیوس** کہا جاتا ہے۔

---

# # # ⚠️ **پانی کی کمی کی وجوہات**

1. **پلیسینٹا (نالی) کی خرابی** – نالی سے بچے کو مناسب آکسیجن یا غذا نہ ملنا۔
2. **ماں کو ہائی بلڈ پریشر یا شوگر** – خون کی روانی میں کمی۔
3. **بچے کے گردے یا پیشاب کے نظام میں نقص** – بچہ مناسب پیشاب نہ کر سکے۔
4. **پانی کا پہلے سے بہہ جانا (Leakage of membranes)**۔
5. **ڈیلیوری کی تاریخ گزر جانا (Post-term pregnancy)**۔
6. **ادویات کا استعمال** – کچھ بلڈ پریشر کی دوائیں (ACE inhibitors وغیرہ)۔
7. **جڑواں یا ایک سے زیادہ حمل** – پانی کی تقسیم غیر متوازن ہونا۔

---

# # # 💔 **ممکنہ خطرات**

* بچے کی **نشوونما رک جانا (IUGR)**
* **پیدائش سے پہلے بچہ دباؤ میں آنا (Fetal distress)**
* **ڈیلیوری کے دوران نال دب جانا (Cord compression)**
* **پیدائش کے وقت بچے کا سانس رکنا یا کمزور ہونا**
* **سیزرین سیکشن کی ضرورت بڑھ جانا**
* **ابتدائی زچگی یا مردہ پیدائش کا خطرہ**

---

# # # 🩺 **تشخیص**

* **الٹراساؤنڈ (Ultrasound)** کے ذریعے **ایمنیوٹک فلوئڈ انڈیکس (AFI)** چیک کیا جاتا ہے۔
* AFI اگر **5 cm سے کم** ہو تو اسے اولیگوہائیڈرامنیوس کہا جاتا ہے۔

---

# # # 🌼 **احتیاط اور دیکھ بھال**

1. **پانی زیادہ پئیں** (روزانہ 8-10 گلاس یا ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق)۔
2. **بلڈ پریشر اور شوگر کی باقاعدہ نگرانی کریں۔**
3. **ہر الٹراساؤنڈ رپورٹ کو سنجیدگی سے لیں۔**
4. **ڈاکٹر کی ہدایت پر ہسپتال داخل ہو کر فلوئڈ تھراپی یا مانیٹرنگ کروائیں۔**
5. **کبھی بھی خود سے دوائی بند یا شروع نہ کریں۔**
6. **اگر پانی بہنے کا شک ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔**

---

# # # 💖 **یاد رکھیں**

* حمل میں معمولی سی لاپرواہی بچے کی زندگی پر اثر ڈال سکتی ہے۔
* بروقت چیک اپ، مناسب پانی کی مقدار، اور ڈاکٹر کے مشورے پر عمل ہی بہترین حفاظت ہے۔

---
ڈاکٹر حنا الیاس
For appointment
03336914886

22/10/2025

# # **چھاتی کے کینسر سے آگاہی**

# # # **(Breast Cancer Awareness)**

# # # 💗 **چھاتی کے کینسر کی پہچان اور بچاؤ**

**چھاتی کا کینسر** خواتین میں سب سے عام کینسر ہے، لیکن اگر اسے جلد پہچان لیا جائے تو اس کا علاج ممکن ہے۔

---

# # # 🔍 **علامات (Symptoms)**

اگر درج ذیل میں سے کوئی بھی علامت ظاہر ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں:

* چھاتی میں گانٹھ یا گلٹی محسوس ہونا
* نپل (چھاتی کے سرے) سے غیر معمولی رطوبت (discharge) آنا
* چھاتی یا بغل میں سوجن یا درد
* چھاتی کی جلد میں تبدیلی (جھریاں، لالی، کھنچاؤ)
* نپل کے اندر دب جانا یا شکل بدل جانا

---

# # # 💪 **بچاؤ (Prevention)**

* اپنی **چھاتی کا خود معائنہ** ہر ماہ کریں (Self Examination)
* سال میں ایک بار **ڈاکٹر سے طبی معائنہ** کروائیں
* 40 سال سے زائد عمر کی خواتین ہر دو سال میں **میموگرافی (Mammogram)** کروائیں
* متوازن غذا، ورزش، اور وزن پر قابو رکھیں
* تمباکو نوشی اور الکحل سے پرہیز کریں

---

# # # 👩‍⚕️ **خود معائنہ کیسے کریں؟**

1. آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر دونوں چھاتیوں کی شکل اور سائز دیکھیں۔
2. ہاتھوں کو اوپر اٹھا کر دیکھیں کہ کوئی تبدیلی تو نہیں۔
3. ایک ہاتھ سے دوسری چھاتی کو آہستگی سے انگلیوں کی مدد سے دبائیں اور محسوس کریں۔
4. بغل کے نیچے والے حصے کو بھی چیک کریں۔

اگر کوئی غیر معمولی تبدیلی محسوس ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔

---

# # # 🎗️ **یاد رکھیں: جلد تشخیص = کامیاب علاج**

چھاتی کا کینسر اگر ابتدائی مرحلے میں پکڑا جائے تو 90٪ تک علاج ممکن ہے۔

---

# # # 📞 **رابطہ کریں:**

اپنے قریبی اسپتال یا بریسٹ کینسر اسکریننگ سینٹر سے رابطہ کریں۔
مزید معلومات کے لیے:
**پاکستان کینسر سوسائٹی**
📱 ہیلپ لائن: 0800-22722
🌐 [www.cancersociety.org.pk](http://www

An interesting case of a lady with seven normal births, presented with mass abdomen and HMB . Laparotomy was planned . T...
15/10/2025

An interesting case of a lady with seven normal births, presented with mass abdomen and HMB . Laparotomy was planned . There was a huge fibroid in post wall of the uterus and incidental finding of Bicornuate uterus which was never diagnosed previously.
Post op recovery uneventful. Patient is doing fine alhamdulillah.
Surgeon: Dr. Hina Ilyas

10/10/2025
 # # 🌿 **آئرن کی کمی اور حمل پر اس کے اثرات***(Iron Deficiency Anemia and its Impact on Pregnancy)*--- # # # 🩸 **آئرن کی...
10/10/2025

# # 🌿 **آئرن کی کمی اور حمل پر اس کے اثرات**

*(Iron Deficiency Anemia and its Impact on Pregnancy)*

---

# # # 🩸 **آئرن کی کمی کیا ہے؟**

آئرن ایک اہم غذائی جزو ہے جو خون میں ہیموگلوبن بنانے میں مدد دیتا ہے۔ ہیموگلوبن جسم میں آکسیجن پہنچانے کا کام کرتا ہے۔ جب جسم میں آئرن کم ہوجائے تو خون میں ہیموگلوبن کی مقدار گھٹ جاتی ہے، جسے **خون کی کمی (Anemia)** کہا جاتا ہے۔

---

# # # 🤰 **حمل کے دوران آئرن کی کمی کیوں ہوتی ہے؟**

حمل کے دوران ماں کے جسم کو بچے کی افزائش کے لیے زیادہ آئرن درکار ہوتا ہے۔ اگر خوراک میں آئرن کم ہو یا خون پہلے سے کمزور ہو تو آئرن کی کمی بڑھ جاتی ہے۔
وجوہات میں شامل ہیں:

* ناقص غذائیت
* بار بار حمل
* زیادہ خون بہنا
* آئرن کی گولیاں نہ لینا
* پرجیوی امراض (مثلاً کیڑے وغیرہ)

---

# # # ⚠️ **حمل پر آئرن کی کمی کے نقصانات:**

اگر آئرن کی کمی کا علاج نہ کیا جائے تو یہ ماں اور بچے دونوں کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

**ماں کے لیے:**

* شدید تھکن اور کمزوری
* سانس پھولنا
* زچگی کے دوران زیادہ خون بہنا
* قبل از وقت زچگی کا خطرہ
* موت کا خطرہ بڑھ جانا

**بچے کے لیے:**

* پیدائشی کم وزن
* دماغی اور جسمانی نشوونما میں کمی
* ماں کے پیٹ میں بچے کی موت کا خطرہ

---

# # # 🍎 **آئرن حاصل کرنے والی غذائیں:**

اپنی روزمرہ خوراک میں درج ذیل غذائیں شامل کریں:

* گوشت، کلیجی، مچھلی
* دالیں، چنے، لوبیا
* پالک، میتھی، بند گوبھی
* سیب، انار، کھجور
* آئرن والی سپلیمنٹ ڈاکٹر کے مشورے سے لیں

---

# # # 💊 **احتیاطی تدابیر:**

* حمل کے دوران آئرن اور فولک ایسڈ کی گولیاں ضرور استعمال کریں
* باقاعدہ خون کا ٹیسٹ کروائیں
* متوازن غذا لیں
* چائے یا کافی کھانے کے فوراً بعد نہ پئیں (یہ آئرن جذب ہونے میں رکاوٹ بنتی ہیں)

---

# # # 🌸 **یاد رکھیں:**

آئرن کی کمی ایک قابلِ علاج مسئلہ ہے۔
بروقت تشخیص اور علاج سے آپ اور آپ کا بچہ دونوں صحت مند رہ سکتے ہیں۔

---
ڈاکٹر حنا الیاس

An awareness seminar was conducted in Sahiwal Teaching Hospital Sahiwal, organised by department of Obs and gynae, STH. Sahiwal.

Address

Langriyal Surgimed Hospital Fateh Sher Colony Near Bloomfield Hall School . Sahiwal
Sahiwal
57000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Hina Ilyas posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram