Dr. Hina Ilyas

Dr. Hina Ilyas MBBS,FCPS,MRCP(IRELAND).CHPE( UK), CART.
(1)

Dr.Hina Ilyas is working as Assistant Prof.Gynae inSahiwal.She is young,hardworking.This page is to discuss your problems,pregnancy,child birth,weight loss after delivery,and other female related problems.

31/01/2026

Alhamdulillah, huge response from Sahiwal.
A successful gynae and infertility camp at jinnah medical complex, Sahiwal.

ivf center.

29/01/2026

Book your appointment today.

27/01/2026

Free camp.
Book your appointment today.
Limited slots.

03336914886
03336924065

**بانجھ پن قابلِ علاج ہے****اب ساہیوال میں خوشخبری!**بانجھ پن کے تمام جدید علاج**ایک ہی چھت کے نیچے**📅 **31 جنوری 2026 |...
18/01/2026

**بانجھ پن قابلِ علاج ہے**

**اب ساہیوال میں خوشخبری!**
بانجھ پن کے تمام جدید علاج
**ایک ہی چھت کے نیچے**

📅 **31 جنوری 2026 | بروز ہفتہ**

**فری میڈیکل کیمپ**
ماں بننے کے خواہشمند جوڑوں کے لیے خصوصی سہولت

**ماہر IVF کنسلٹنٹ کی موجودگی میں:**
**Dr. Ayesha Zafar**
Reproductive Endocrinologist
*(IVF Consultant)*
MBBS, MCPS (OBGY), MCE (Australia)

**نگرانی میں:**
**Dr. Hina Ilyas**
Assistant Professor Obs & Gynae
MBBS, MRCP (Gynae) Ireland, FCPS (Gynae) Pak
CART – Certificate in Infertility
(Hameed Latif Hospital Lahore)

**بانجھ پن کے تمام جدید علاج:**
• Ovulation Induction
• IUI
• IUTPI
• IVF / ICSI
• Tube Test (HSG)
• Pelvic Ultrasound
• Semen Analysis
• Azoospermia Treatment
• Testicular Biopsy

**خصوصی سہت:**
پاکستان میں **Low Cost IVF**
جدید لیبارٹری، جدید ٹیکنالوجی
مکمل رازداری اور ماہرین کی نگرانی

📍 **مقام:** جناح میڈیکل کمپلیکس، ساہیوال
📞 **رابطہ:** 0321 / 0333-6924065
03336914886
آج ہی اپنی اپاوئٹمنٹ بک کروائیں۔

*ہر ماں بننے کی خواہش قابلِ احترام ہے*
*ہم آپ کے خواب کی تکمیل میں آپ کے ساتھ ہیں*

TikTikTik....A good news for sahiwal...Here comes .... A ray of hope A ray of light... Coming soon...
17/01/2026

Tik
Tik
Tik....

A good news for sahiwal...

Here comes ....
A ray of hope
A ray of light...
Coming soon...

15/01/2026

🌸 ایسٹروجن ہارمون میں کمی — خواتین کی صحت پر خاموش مگر گہرا اثر 🌸
ایسٹروجن خواتین کا ایک نہایت اہم ہارمون ہے جو صرف ماہواری ہی نہیں بلکہ دماغ، ہڈیوں، جلد، وزن، جذبات، جنسی صحت اور مجموعی تندرستی کو بھی کنٹرول کرتا ہے۔
❗ جب جسم میں ایسٹروجن کی مقدار کم ہونے لگتی ہے — خاص طور پر
🔹 عمر کے بڑھنے
🔹 پری مینوپاز / مینوپاز
🔹 ہارمونل عدم توازن
🔹 PCOS
🔹 غیر ضروری ہارمون ادویات
🔹 بار بار ڈائٹنگ یا شدید اسٹریس
کی وجہ سے — تو جسم میں درج ذیل مسائل پیدا ہو سکتے ہیں:
⚠️ ایسٹروجن کی کمی کی عام علامات:
🧠 یادداشت اور توجہ میں کمی
بات بھول جانا، فوکس نہ رہنا، ذہنی دھند (Brain Fog)
🔥 شدید گرمی کے دورے (Hot Flashes)
اچانک پسینہ آنا، دل گھبرانا
😟 چڑچڑاپن، بے چینی اور موڈ سوئنگز
بلاوجہ غصہ، اداسی، Anxiety
🦴 ہڈیوں کی کمزوری اور Bone Loss
جو آگے چل کر Osteoporosis کا سبب بن سکتی ہے
🤱 چھاتی میں درد یا حساسیت
⚖️ وزن کا تیزی سے بڑھنا
خاص طور پر پیٹ، کولہوں اور رانوں پر چربی جمع ہونا
💑 جنسی خواہش میں کمی (Decreased Libido)
🦵 جوڑوں اور گھٹنوں میں درد
💧 اندام نہانی کی خشکی (Vaginal Dryness)
جس سے ازدواجی تعلقات میں تکلیف ہو سکتی ہے
❌ ایک خطرناک غلط فہمی:
اکثر خواتین ان علامات کو
“عمر کا تقاضا”
یا
“نارمل بات”
سمجھ کر نظر انداز کر دیتی ہیں،
جبکہ حقیقت میں یہ ہارمونل ڈسٹربینس کا واضح سگنل ہوتا ہے۔
✅ کیا کرنا چاہیے؟
✔️ خود سے ہارمون ادویات استعمال نہ کریں
✔️ Proper hormonal tests کروائیں
✔️ ڈاکٹر سے مشورے کے بغیر HRT یا سائیکل ریگولیٹر نہ لیں
✔️ متوازن غذا، وٹامن D، کیلشیم اور طرزِ زندگی پر توجہ دیں
✔️ بروقت تشخیص مستقبل کی بڑی بیماریوں سے بچا سکتی ہے
🌷 یاد رکھیں:
خاموش علامات بھی خطرناک ہو سکتی ہیں۔
اپنے جسم کے اشاروں کو سنیں، نظر انداز نہ کریں۔
📌 مزید رہنمائی کے لیے رابطہ کریں ۔
ڈاکٹر حنا الیاس

03336914886

05/01/2026

“پاکستانی عورتیں جلدی بوڑھی ہو جاتی ہیں” — مگر کوئی یہ نہیں پوچھتا کیوں؟

یہ کہنا آسان ہے کہ عورت جلدی بوڑھی ہو جاتی ہے،
مگر کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ وہ کتنی جلدی تھک جاتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ
پاکستانی خواتین کو کم عمری سے ہی
مسلسل ذہنی دباؤ،
سماج کی بے رحم توقعات،
اور خود کو ثابت کرتے رہنے کی تھکن جھیلنی پڑتی ہے۔

بار بار حمل،
جسم کو ریکور ہونے کا وقت نہ ملنا،
آئرن، وٹامن ڈی اور کیلشیم کی کمی،
ہارمونز کا بگڑ جانا،
نیند کی کمی —
یہ سب آہستہ آہستہ عورت کے جسم اور چہرے پر لکھا جاتا ہے۔

مگر مسئلہ یہ ہے کہ
اس سب کو “نارمل” کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے۔

اکثر شوہر یہی کہتے ہیں:
سب عورتوں کو ہوتا ہے
یہ کوئی بیماری نہیں
بعد میں دیکھ لیں گے

یوں عورت درد سہنا سیکھ لیتی ہے،
کمزوری کو قسمت
اور تھکن کو صبر سمجھ لیتی ہے۔

اس کی اپنی کوئی زندگی نہیں ہوتی،
نہ وقت، نہ توانائی، نہ اجازت۔

پھر جب وہ عمر سے بڑی لگنے لگتی ہے
تو فیصلہ بھی ہم ہی سنا دیتے ہیں۔

نہیں۔
وہ بوڑھی نہیں ہوئی،
وہ مسلسل نظرانداز ہوتی رہی ہے۔

مسئلہ عورت میں نہیں،
مسئلہ آگاہی، رویوں
اور عورت کی صحت کو غیر ضروری سمجھنے میں ہے۔

اگر پاکستانی خواتین
اپنی صحت کو سنجیدگی سے لینا شروع کریں،
اور اگر گھر والے، خاص طور پر شوہر،
وقت پر عورت کا ساتھ دیں،
تو وہ نہ صرف صحت مند
بلکہ دیر تک جوان، مضبوط اور متوازن رہ سکتی ہیں۔

عورت کی صحت کوئی luxury نہیں،
یہ پورے گھر کی بنیاد ہے۔

کیا پری ایجیکیولیٹ (پری کم) سے حمل ہوسکتا ہے؟ مکمل رہنمائیالسلام علیکم۔ نوجوان لڑکیاں اور شادی شدہ خواتین مجھ سے دھیمے ل...
13/12/2025

کیا پری ایجیکیولیٹ (پری کم) سے حمل ہوسکتا ہے؟
مکمل رہنمائی

السلام علیکم۔

نوجوان لڑکیاں اور شادی شدہ خواتین مجھ سے دھیمے لفظوں میں یہ سوال پوچھتی ہیں:
“ڈاکٹر صاحبہ، کیا پری کم سے بھی حمل ہوسکتا ہے؟”

یہ موضوع حساس ضرور ہے، لیکن اسے صحیح طرح سمجھنا بہت ضروری ہے—خاص طور پر ان خواتین کے لیے جو فیملی پلاننگ کر رہی ہیں، یا کچھ وقت کے لیے حمل سے بچنا چاہتی ہیں۔ اسی لیے آج میں یہ سب کچھ انتہائی آسان زبان میں سمجھانا چاہتی ہوں۔

1. پری ایجیکیولیٹ (پری کم) کیا ہوتا ہے؟

پری ایجیکیولیٹ، جسے عام زبان میں پری کم کہا جاتا ہے، ایک شفاف سا ہلکا سا مائع ہوتا ہے جو جنسی کشش یا جنسی عمل کے دوران اس وقت خارج ہوتا ہے جب ابھی مکمل انزال (منی کا آنا) نہیں ہوتا۔

یہ بغیر کسی کنٹرول کے خود بخود خارج ہوسکتا ہے۔

یہ جسم میں قدرتی طور پر چکناہٹ پیدا کرنے کے لیے بنتا ہے۔

یہ مین سیمن (منی) نہیں ہوتا، لیکن کچھ حالات میں اس میں نطفے (سپرم) شامل ہوسکتے ہیں۔

2. کیا پری کم سے حمل ہوسکتا ہے؟ (مختصر اور واضح جواب)

جی ہاں، پری کم سے حمل ہوسکتا ہے۔
امکان مکمل انزال کے مقابلے میں کم ضرور ہوتا ہے، لیکن یہ امکان صفر نہیں ہوتا۔

اگر پری کم میں موجود نطفہ بیضہ دانی تک پہنچ جائے اور وقت آپ کی زرخیز دنوں کے قریب ہو تو حمل ممکن ہے۔

3. پری کم سے حمل کیسے ہوسکتا ہے؟

اس کے دو بنیادی اسباب ہیں:

1. پچھلے انزال کے بعد بچ جانے والا سپرم

اگر مرد نے کچھ دیر یا چند گھنٹے پہلے انزال کیا ہو تو اس کے پیشاب کی نالی (یوری تھرا) میں کچھ نطفے رہ سکتے ہیں۔
یہ نطفے پری کم میں شامل ہو کر عورت کے جسم میں داخل ہوسکتے ہیں۔

2. ماہواری کے دنوں کا ٹائمنگ

اگر آپ کا تعلق ان دنوں میں ہو جب:

آپ ovulation کے قریب ہوں

آپ کے پیریڈ بے قاعدہ ہوں

آپ کی فطری زرخیزی زیادہ ہو

تو بہت تھوڑی مقدار کا نطفہ بھی حمل کا سبب بن سکتا ہے۔

4. پری کم سے حمل کتنی بار ہوسکتا ہے؟

بالکل درست شرح بتانا ممکن نہیں، لیکن بطور ڈاکٹر میں اعتماد کے ساتھ یہ کہہ سکتی ہوں:

امکان کم ہوتا ہے

لیکن حقیقی اور ممکن ہے

اور pull-out یعنی کھینچ کر باہر نکلنے والا طریقہ اکثر ناکام ہوجاتا ہے کیونکہ پری کم تو انزال سے پہلے ہی آجاتا ہے

اپنی پریکٹس کے دوران میں نے بہت سی غیر منصوبہ بند حمل دیکھے ہیں جو صرف اس لیے ہوئے کہ جوڑے نے سمجھا کہ پری کم سے حمل نہیں ہوتا۔

لہٰذا اگر حمل سے بچنا ہے تو پری کم کی “محفوظ ہونے” والی غلط فہمیوں پر کبھی بھروسہ نہ کریں۔

5. پاکستان میں پری کم اور حمل سے متعلق عام غلط فہمیاں
غلط فہمی: پری کم نقصان دہ نہیں ہوتا۔

حقیقت: اس میں سپرم ہوسکتا ہے۔

غلط فہمی: مکمل انزال اندر نہ ہو تو حمل نہیں ہوتا۔

حقیقت: بہت تھوڑا سا سپرم بھی حمل کے لیے کافی ہے۔

غلط فہمی: pull-out طریقہ ہمیشہ محفوظ ہے۔

حقیقت: یہ اکثر ناکام ہوجاتا ہے کیونکہ پری کم پہلے ہی جسم میں داخل ہوتا ہے۔

غلط فہمی: پیریڈز کے کچھ دن بعد حمل نہیں ہوسکتا۔

حقیقت: بے قاعدہ پیریڈز والی خواتین میں ovulation کسی بھی وقت ہوسکتا ہے۔

6. بغیر حفاظتی تعلق کے بعد کن علامات پر نظر رکھیں

اگر آپ نے بغیر تحفظ کے تعلق قائم کیا ہے (چاہے انزال باہر ہی کیوں نہ ہوا ہو)، تو ان علامات پر توجہ دیں:

مہینے کا لیٹ ہوجانا

سینوں میں بھاری پن

متلی یا قے

پیٹ کے نچلے حصے میں بھاری پن

غیر معمولی تھکاوٹ

اگر آپ کے پیریڈ پانچ سے سات دن سے زیادہ لیٹ ہوں تو ہوم پرگنینسی ٹیسٹ کرلیں۔

7. پری کم سے حمل سے کیسے بچا جاسکتا ہے (محفوظ طریقے)

اگر آپ واقعی محفوظ رہنا چاہتی ہیں، تو ان طریقوں پر بھروسہ کریں:

1. کنڈوم

آسان

مؤثر

اور جنسی بیماریاں روکنے میں بھی مددگار

2. برتھ کنٹرول گولیاں

زیادہ تر خواتین کے لیے محفوظ

باقاعدگی سے استعمال کرنے پر بہت مؤثر

3. طویل مدت کے طریقے (شادی شدہ خواتین کے لیے بہترین)

کاپر آئی یو ڈی

ہارمونل آئی یو ڈی

امپلانٹ

4. ایمرجنسی مانع حمل گولیاں

اگر اچانک رسک پیش آگیا ہو یا آپ کو شک ہو کہ پری کم سے خطرہ ہوا ہے، تو 72 گھنٹے کے اندر ایمرجنسی گولی لے لیں۔
جتنی جلدی لیں گی، اتنا ہی بہتر ہے۔

8. اگر آپ کو لگے کہ حمل کا خطرہ ہوا ہے تو کیا کریں؟

بطور ڈاکٹر میں ہمیشہ یہ مشورہ دیتی ہوں:

گھبرائیں نہیں

جس دن تعلق ہوا، وہ تاریخ لکھ لیں

اپنی اگلی ماہواری کی متوقع تاریخ یاد رکھیں

پیریڈ لیٹ ہو تو ٹیسٹ کریں

اگر پریشانی ہو تو گائنی سے رابطہ کریں

آپ اکیلی نہیں ہیں—بہت سی خواتین یہی سوالات لے کر میرے پاس آتی ہیں۔

ہمیشہ یاد رکھیں:

پری کم سے حمل ہوسکتا ہے

انزال سے پہلے نکلنے والا طریقہ کبھی بھی قابلِ اعتماد نہیں

اپنے جسم کو سمجھنا خود اعتمادی کی علامت ہے

اور شرم کی وجہ سے صحت پر سمجھوتہ نہ کریں

آپ کی صحت، آپ کی خوشی اور آپ کا مستقبل آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔

ڈاکٹر حنا الیاس سے رابطہ کریں – با اعتماد مشاورت

اگر آپ کو حمل کا شک ہے، علامات سمجھ نہیں آرہیں، یا آپ فیملی پلاننگ کے بارے میں درست رہنمائی چاہتی ہیں، تو میں آپ کے لیے حاضر ہوں۔
میں فراہم کرتی ہوں:

نجی اور بااعتماد مشاورت

فیملی پلاننگ رہنمائی

حمل سے متعلق مسائل

مانع حمل طریقوں کی رہنمائی

ماہواری اور ہارمونز کے مسائل کا علاج

آپ کا ہر سوال مکمل رازداری کے ساتھ سنا جائے گا۔
آپ کی صحت اور آپ کا اعتماد میری پہلی ترجیح ہے۔

22/11/2025

👩 🤰

بہت سی خواتین اپنے پیٹ کے ارد گرد وزن بڑھ جانے سے پریشن ہوتی ہیں۔ یہ ایک عام مسئلہ ہے جو مایوس کن ہے اور اس کا علاج کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ پیٹ کا وزن بڑھنا صرف ایک کاسمیٹک مسئلہ نہیں ہے۔ اس کے صحت عامہ پر بھی اثرات پڑ سکتے ہیں۔ یہ سمجھنا کہ خواتین کے پیٹ کے اطراف وزن کیوں بڑھتا اور اس کو کم کرنے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے بہتر صحت اور تندرستی کے حصول کے لیے ضروری ہے۔ پیٹ کی چربی دو شکلوں میں آتی ہے۔ ایک عصبی چربی اور ایک ذیلی چربی ہوتی ہے۔

💥 پیٹ کی چربی
چربی صرف جلد کے نیچے واقع ہوتی ہے اور یہ وہ قسم ہے جو عام طور پر پیٹ کی چربی سے وابستہ ہے۔ دوسری طرف ویسرل چربی گہری ہوتی ہے اور اندرونی اعضاء کو گھیر لیتی ہے۔ اگرچہ دونوں قسمیں عورت کی ظاہری شکل کو متاثر کر سکتی ہیں۔ عصبی چکنائی خاص طور پر تشویشناک ہے کیونکہ اس کا تعلق صحت کے مختلف مسائل سے ہے۔ ان مسائل میں دل کی بیماری، ٹائپ 2 ذیابیطس اور سوزش شامل ہیں۔

💥 ہارمونل تبدیلیاں
خواتین کے پیٹ کے گرد وزن بڑھنے کی ایک اہم وجہ ہارمونل تبدیلیاں ہیں۔ خاص طور پر عمر بڑھنے کے ساتھ۔ ایسٹروجن، پروجیسٹرون اور کورٹیسول جیسے ہارمونز پورے جسم میں چربی کی تقسیم میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

▪️1. کم ایسٹروجن
جیسے جیسے خواتین بڑھاپے کے قریب آتی ہیں ایسٹروجن کی سطح جو چربی کی تقسیم کو منظم کرنے میں مدد کرتی ہے، گرنا شروع ہو جاتی ہے۔ جب اس کی سطح کم ہوتی ہے تو کولہوں اور رانوں جیسے دیگر حصوں کی بجائے پیٹ میں چربی زیادہ جمع ہونے لگتی ہے۔ اس تبدیلی کی وجہ سے بہت سی خواتین کھانے یا ورزش کی عادت کو تبدیل نہ کرکے بھی پیٹ کی چربی میں اضافہ محسوس کرتی ہیں۔

▪️2. تناؤ اور کورٹیسول
تناؤ ایک اور بڑا عنصر ہے جو پیٹ کے وزن میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ جب تناؤ ہوتا ہے تو جسم کورٹیسول پیدا کرتا ہے۔ یہ ایک ہارمون ہے جو دوسری چیزوں کے علاوہ پیٹ کے علاقے میں چربی کو ذخیرہ کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ دائمی تناؤ کورٹیسول کی سطح کو مسلسل بڑھنے کا سبب بنتا ہے۔ اس سے امکان بڑھتا ہے کہ خواتین کے پیٹ کی چربی بڑھے گی اور برقرار رہے گی۔ اسی لیے تناؤ میں کمی کا انتظام کسی بھی وزن میں کمی کے منصوبے کا ایک لازمی جزو ہے۔

▪️ 3. انسولین مزاحمت
ہارمون انسولین خون میں شکر کی سطح کو منظم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ جب جسم انسولین کے خلاف مزاحم ہو جاتا ہے تو خاص طور پر پیٹ کے اطراف زیادہ چربی جمع کرنا شروع کر دیتا ہے۔ جسم انسولین کے خلاف مزاحم ناقص خوراک، ورزش کی کمی یا جینیات کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ انسولین کے خلاف مزاحمت ٹائپ 2 ذیابیطس کا پیش خیمہ ہے اور خواتین میں ان کی عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ یہ زیادہ عام ہے۔ خاص طور پر وہ خواتین جو بیٹھے ہوئے طرز زندگی گزارتی ہیں ان میں پیٹ کے اطراف چربی جمع ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔

💥 طرز زندگی کے عوامل
اگرچہ خواتین کا وزن کہاں اور کیسے بڑھتا ہے اس میں ہارمونز اہم کردار ادا کرتے ہیں، تاہم طرز زندگی کے عوامل کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ خوراک، جسمانی سرگرمی اور نیند پیٹ کی چربی کے جمع ہونے پر اثر انداز ہوتی ہے۔

🔸1. شکر اور کاربوہائیڈریٹ
شکر اور بہتر کاربوہائیڈریٹ سے بھرپور غذا انسولین کے خلاف مزاحمت کرتی اور وزن میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ یہ غذائیں خون میں شکر کی سطح کو بڑھانے کا باعث بنتی ہیں جس سے انسولین کی پیداوار اور چربی کا ذخیرہ بڑھ جاتا ہے۔ بہت زیادہ کیلوریز کا استعمال، خاص طور پر غیر صحت بخش غذاؤں سے، بھی وزن میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔

🔸2. جسمانی سرگرمی کی کمی
ایک بیٹھے رہنے والا طرز زندگی پیٹ کے علاقے میں وزن بڑھانے کی ایک اہم وجہ ہے۔ باقاعدہ ورزش کے بغیر جسم توانائی کے لیے چربی جلانے کے بجائے ذخیرہ کرنے کا زیادہ امکان رکھتا ہے۔ جسمانی سرگرمی پیٹ کی چربی کو کم کرنے اور مجموعی فٹنس کو بہتر بنانے میں مدد کر سکتی ہیں۔

🔸3. نیند کی بری عادت
نیند وزن کے انتظام میں ایک نظر انداز عنصر ہے لیکن یہ بہت اہم ہے. نیند کی خراب عادات، بشمول نیند کی کمی یا نیند کے بے قاعدہ انداز ہارمون کی سطح میں خلل ڈال سکتے اور بھوک اور وزن بڑھا سکتے ہیں۔

💥اہم اقدامات
اگرچہ پیٹ کے ارد گرد بڑھے ہوئے وزن کو کم کرنا مشکل ہے لیکن یہ ناممکن نہیں ہے۔ طرز زندگی میں تبدیلیوں اور ہدف کی حکمت عملیوں کا مجموعہ پیٹ کی چربی کو کم کرنے اور مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں مدد کر سکتا ہے۔

🔹1. متوازن غذا
ایک متوازن غذا جس میں پھل، سبزیاں، پروٹین اور مکمل اناج شامل ہو ضروری ہے۔ اسی طرح شکر، کاربوہائیڈریٹس اور پراسیسڈ فوڈز کی مقدار کو کم کرنے سے وزن میں اضافے کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔ پورشن کنٹرول بھی اہم ہے۔ چھوٹا اور زیادہ بار بار کھانا بلڈ شوگر کی سطح کو مستحکم رکھنے اور زیادہ کھانے کے امکان کو کم کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

🔹2. باقاعدگی سے ورزش
پیٹ کی چربی کو کم کرنے کے لیے اپنے روزمرہ کے معمولات میں باقاعدہ ورزش کو شامل کرنا بہت ضروری ہے۔ عصبی ورزش جیسے چلنا، دوڑنا اور سائیکل چلانا کیلوریز کو جلانے میں مدد کرتا ہے۔

🔹3. تناؤ کا انتظام
تناؤ سے نمٹنا اور اسے کم کرنا کورٹیسول کی سطح کو کنٹرول کرنے کی کلیدوں میں سے ایک ہے۔

🔹4. مناسب نیند
اس بات کو یقینی بنانا کہ آپ ہر رات 7 سے 9 گھنٹے کی معیاری نیند حاصل کریں وزن میں کمی پر بہت زیادہ اثر ڈال سکتے ہیں۔ نیند کا باقاعدہ نظام الاوقات قائم کرنا اور سونے کے وقت کا ایک پرسکون معمول بنانا سونے سے پہلے کیفین جیسے محرکات سے پرہیز کرنا بہتر نیند کا باعث بنتا ہے۔

12/11/2025

Invited by " Inner wheel club sahiwal " as a guest speaker for presentation on Cervical cancer Awareness.

About today....Clearance surgery for borderline ovarian cancer.  Surgeon: Dr. Hina IlyasP. S... pics taken after consent...
05/11/2025

About today....
Clearance surgery for borderline ovarian cancer.
Surgeon: Dr. Hina Ilyas

P. S... pics taken after consent of patient

 # # 🩺 پولی ہائیڈرایم نیوس (Polyhydramnios) کیا ہے؟یہ حالت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب حمل کے دوران **بچے کے ارد گرد پانی (ای...
31/10/2025

# # 🩺 پولی ہائیڈرایم نیوس (Polyhydramnios)
کیا ہے؟

یہ حالت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب حمل کے دوران **بچے کے ارد گرد پانی (ایمینیوٹک فلوئیڈ)** معمول سے زیادہ ہو جائے۔
یہ مسئلہ عام طور پر الٹراساؤنڈ کے ذریعے تشخیص کیا جاتا ہے۔

---

# # 🌸 **وجوہات (Causes):**

1. **ذیابیطس (Diabetes)**

* اگر ماں کو شوگر ہو، تو بچے کے گرد پانی زیادہ بن سکتا ہے۔

2. **بچے کی پیدائشی خرابی (Congenital anomalies)**

* خاص طور پر اگر بچے کا منہ یا نظامِ ہضم بند ہو (جیسے esophageal atresia)۔

3. **جڑواں یا زیادہ حمل (Twin pregnancy)**

* ایک بچے کو زیادہ پانی ملنے سے بھی یہ حالت پیدا ہو سکتی ہے۔

4. **انفیکشنز (Infections)**

* ماں یا بچے میں انفیکشن کی وجہ سے بھی پانی زیادہ بن سکتا ہے۔

5. **نامعلوم وجوہات (Idiopathic)**

* بعض اوقات کوئی خاص وجہ نہیں ملتی۔

---

# # ⚠️ **خطرات (Risks and Complications):**

1. **قبل از وقت زچگی (Preterm labor)**
2. **پانی کا جلدی پھٹ جانا (Premature rupture of membranes)**
3. **نالی کا باہر آ جانا (Umbilical cord prolapse)**
4. **پیدائش کے دوران زیادہ خون بہنا (Postpartum hemorrhage)**
5. **بچے کی غیر معمولی پوزیشن (Malpresentation)**
6. **ماں کو سانس لینے میں دشواری (Breathlessness)**

---

# # 🩷 **احتیاط اور علاج (Care and Management):**

* **الٹراساؤنڈ کے ذریعے باقاعدہ چیک اپ**
* **بلڈ شوگر کنٹرول** رکھنا
* **ڈاکٹر کے مشورے سے دوا یا پانی کی مقدار کم کرنے والے علاج**
* **ہسپتال میں قریبی نگرانی** اگر پانی بہت زیادہ ہو

---

# # 📞 **یاد رکھیں:**

پولی ہائیڈرایم نیوس خطرناک ضرور ہے مگر اگر بروقت تشخیص اور علاج کیا جائے تو ماں اور بچہ دونوں محفوظ رہ سکتے ہیں۔

**اپنے معالج سے رابطہ کریں اگر آپ کو پیٹ میں غیر معمولی تناؤ، سانس لینے میں مشکل یا زیادہ موومنٹس محسوس ہوں۔**

---
ڈاکٹر حنا الیاس
For appointment
03336914886

Address

Langriyal Surgimed Hospital Fateh Sher Colony Near Bloomfield Hall School . Sahiwal
Sahiwal
57000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Hina Ilyas posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram