Dr Noorul Hayat Urology Clinic

Dr Noorul Hayat Urology Clinic Being a urology clinic,this centre deals in management of all stone diseases,prostate issues,male se

30/12/2024

Sexually Transmitted Diseases (STDs) (جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریاں)

STDs ایسی بیماریاں ہیں جو جنسی تعلقات کے دوران ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہوتی ہیں۔ یہ وائرل، بیکٹیریل، یا فنگل انفیکشن کی وجہ سے ہو سکتی ہیں۔ کچھ STDs بغیر علامات کے بھی ہو سکتی ہیں، لیکن علاج نہ ہونے کی صورت میں سنگین پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہیں۔

---

عام طور پر پائی جانے والی STDs

1. بیکٹیریل انفیکشنز:

گونوریا (Gonorrhea):
پیشاب میں جلن، غیر معمولی ڈسچارج، یا خواتین میں پیڑو میں درد۔

کلیمائڈیا (Chlamydia):
عام طور پر بغیر علامات کے ہوتا ہے، لیکن بعد میں انفیکشن یا بانجھ پن کا سبب بن سکتا ہے۔

سفلس (Syphilis):
جلد پر زخم، بخار، یا بعد میں سنگین اعصابی مسائل۔

2. وائرل انفیکشنز:

ایچ پی وی (HPV - Human Papillomavirus):
جنسی اعضاء پر مسے اور بعض اوقات سروائیکل کینسر کا سبب۔

ایچ آئی وی (HIV - Human Immunodeficiency Virus):
مدافعتی نظام کو کمزور کر دیتا ہے اور ایڈز (AIDS) کا سبب بن سکتا ہے۔

ہرپیز (Herpes):
جنسی اعضاء پر خارش، چھالے، یا زخم۔

ہیپاٹائٹس بی (Hepatitis B):
جگر کی سوزش اور جگر کی خرابی۔

3. فنگل انفیکشنز:

ییسٹ انفیکشن:
خارش، جلن، یا وجائنا سے سفید مادہ۔

4.

ٹرائیکوموناس (Trichomoniasis):
جنسی اعضاء میں خارش، جلن، یا بدبو دار ڈسچارج۔

---

علامات:

STDs کی علامات مختلف ہو سکتی ہیں، لیکن عام علامات یہ ہیں:

غیر معمولی وجائنا یا عضو تناسل کا ڈسچارج۔

پیشاب کرتے وقت جلن یا درد۔

جنسی اعضاء پر زخم، چھالے، یا خارش۔

پیڑو میں درد (خواتین میں)۔

بخار یا تھکن۔

سوجن یا لمف نوڈز کا بڑھ جانا۔

---

تشخیص:

جسمانی معائنہ اور مریض کی ہسٹری۔

بلڈ ٹیسٹ، پیشاب کے ٹیسٹ، یا جنسی اعضاء کے نمونے کی جانچ۔

Pap smear یا HPV ٹیسٹ خواتین کے لیے۔

---

علاج:

1. بیکٹیریل انفیکشنز:

اینٹی بایوٹکس (مثلاً کلیمائڈیا، گونوریا، سفلس کے لیے)۔

2. وائرل انفیکشنز:

وائرل انفیکشنز کا مکمل علاج ممکن نہیں، لیکن علامات کم کرنے کے لیے دوائیں (مثلاً ہرپیز یا ایچ آئی وی کے لیے اینٹی وائرل دوائیں)۔

---

احتیاطی تدابیر:

محفوظ جنسی تعلق:
کنڈوم کا استعمال کریں۔

جنسی پارٹنر کی تعداد محدود رکھیں:
زیادہ شراکت دار ہونے سے خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

باقاعدہ ٹیسٹ کروائیں:
خاص طور پر اگر جنسی پارٹنر تبدیل ہو۔

ویکسین:
HPV اور ہیپاٹائٹس بی کے لیے ویکسین لگوائیں۔

صفائی کا خیال رکھیں:
جنسی اعضاء کو صاف اور خشک رکھیں۔

---

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں؟

اگر آپ کو جنسی اعضاء میں غیر معمولی تبدیلیاں محسوس ہوں۔

غیر محفوظ جنسی تعلق کے بعد کوئی علامات ظاہر ہوں۔

اگر آپ کے ساتھی میں STD کی تشخیص ہو۔

نوٹ:
STDs کا بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں بانجھ پن، پیچیدگیوں، یا دیگر سنگین مسائل ہو سکتے ہیں، اس لیے علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

03/11/2024

عوامی اگاھی
اجکل پورے پاکستان میں یہ بیماری عام ھےاسلیے یہ ضروری سمجھا کہ اپ کو سمجھانے کی کوشیش کرون۔
چکن گونیا ایک وائرل بیماری ہے جو متاثرہ ایڈیز مچھروں، خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی اور ایڈیز البوپکٹس کے کاٹنے سے پھیلتی ہے۔ یہ بیماری زیادہ تر گرم اور مرطوب علاقوں میں عام ہے اور خاص طور پر ان علاقوں میں وبا کی صورت اختیار کر سکتی ہے جہاں پانی جمع ہو، کیونکہ یہ مچھر اسی میں افزائش پاتے ہیں۔
علامات
چکن گونیا کی علامات مچھر کے کاٹنے کے 4 سے 7 دن بعد ظاہر ہوتی ہیں اور شامل ہیں:
تیز بخار (اکثر 102°F یا 39°C سے زیادہ)
شدید جوڑوں کا درد (اکثر کلائی، گھٹنے، اور ٹخنوں میں) جو ہفتوں یا مہینوں تک رہ سکتا ہے
پٹھوں میں درد اور تھکن
سر درد اور آنکھوں میں درد
جلد پر خارش، جو عموماً ہاتھوں، پیروں اور جسم پر ظاہر ہوتی ہے
متلی یا قے (کچھ مریضوں میں)
اگرچہ چکن گونیا سے موت کا خطرہ کم ہوتا ہے، لیکن جوڑوں کا درد کئی مہینوں یا سالوں تک بھی پریشان کر سکتا ہے۔
بچاؤ
چکن گونیا سے بچاؤ کے لئے چونکہ کوئی مخصوص علاج یا ویکسین نہیں ہے، اس لئے بچاؤ مچھر کے کاٹنے سے بچنے پر مبنی ہے:
1. مچھر بھگانے والے اسپرے کا استعمال کریں، خاص طور پر کھلی جلد اور کپڑوں پر۔
2. لمبی آستین اور پتلون پہنیں تاکہ جلد زیادہ ڈھکی رہے۔
3. مچھر دانی میں سوئیں اگر اردگرد مچھر ہوں۔
4. کھڑکیوں اور دروازوں پر جالیاں لگائیں تاکہ مچھر اندر نہ آئیے
5. مچھر کی افزائش کو روکیں یعنی گھر کے آس پاس جمع پانی جیسے گملے یا نالیاں خالی کریں۔
مزید تفصیلات
تشخیص: چکن گونیا کی تشخیص خون کے ٹیسٹ سے کی جاتی ہے جس میں وائرس یا اینٹی باڈیز کا پتہ چلایا جاتا ہے۔
علاج: اس کا کوئی مخصوص علاج نہیں ہے۔ عموماً آرام، پانی کا زیادہ استعمال، اور درد کے لئے پیرسٹا مول یا ایسیٹامینوفن دی جاتی ہے۔ غیر اسٹیرائیڈل اینٹی انفلیمیٹری ادویات (NSAIDs) جیسے آئبروفن کا استعمال نہ کریں کیونکہ یہ خون کے بہاؤ کے خطرے کو بڑھا سکتی ہیں، خاص طور پر اگر ڈینگی کا شک بھی ہو۔
طویل المدتی اثرات: زیادہ تر لوگ ایک ہفتے میں ٹھیک ہو جاتے ہیں، لیکن بعض اوقات جوڑوں کا درد یا گٹھیا کی علامات مہینوں یا سالوں تک جاری رہ سکتی ہیں۔
اگر آپ کو چکن گونیا کا شبہ ہو یا حال ہی میں کسی ایسے علاقے کا سفر کیا ہو جہاں یہ بیماری عام ہے، تو درست تشخیص اور رہنمائی کے لیے کسی ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

Two Days Workshop on 𝐒𝐮𝐩𝐢𝐧𝐞 𝐏𝐂𝐍𝐋 & 𝐮𝐥𝐭𝐫𝐚𝐬𝐨𝐮𝐧𝐝 𝐠𝐮𝐢𝐝𝐞𝐝 𝐏𝐂𝐍𝐋 was held in the department of Urology SMC/SGTH, Swat on Friday...
22/09/2024

Two Days Workshop on 𝐒𝐮𝐩𝐢𝐧𝐞 𝐏𝐂𝐍𝐋 & 𝐮𝐥𝐭𝐫𝐚𝐬𝐨𝐮𝐧𝐝 𝐠𝐮𝐢𝐝𝐞𝐝 𝐏𝐂𝐍𝐋 was held in the department of Urology SMC/SGTH, Swat on Friday and Saturday, September-2024. The workshop was attended by the Master Trainers Dr. Naeem Cheema, Dr Muhammad Yasin Choudry, Dr. Riaz Ahmad Khan and Dr. Ahmad Bilal.
𝑷𝒓𝒐𝒇. 𝑫𝒓 𝑰𝒔𝒓𝒂𝒓 𝑼𝒍 𝑯𝒂𝒒, Principal/Chief Executive SMC/SGHT lauded the role of Department of Urology and Pakistan Association of Urological Surgeons Swat for organizing the workshop and advised the Doctors to use this New Technology for the benefits of patients.
𝑫𝒓. 𝑺𝒉𝒂𝒓𝒂𝒇𝒂𝒕 𝑨𝒍𝒊 𝑲𝒉𝒂𝒏, MS, SGTH, Swat and Head of various Department also graced the Occasion.
𝑷𝒓𝒐𝒇. 𝑫𝒓 𝑺𝒂𝒎𝒊 𝑼𝒍𝒍𝒂𝒉, 𝑷𝒓𝒐𝒇. 𝑫𝒓 𝑵𝒊𝒛𝒂𝒎𝒖𝒅𝒅𝒊𝒏, 𝑨𝒔𝒔𝒊𝒔𝒕𝒂𝒏𝒕 𝑷𝒓𝒐𝒇. 𝑫𝒓 𝑵𝒐𝒐𝒓𝒖𝒍 𝑯𝒂𝒚𝒂𝒕 highlighted the importance of the workshop for training Doctors & helping the community. Shield and Souvenirs were distributed among the participants and trainers.

18/06/2024

عید قربان اور گوشت کھانے کی احتیاط
عید الاضحٰی کے موقعے پر گھروں میں تازہ اور صحت بخش گوشت وافر مقدار میں میسّر ہوتا ہے،تو اس گوشت کی اہمیت اور اس کے مختلف اجزاء سے متعلق عوام النّاس کو معلومات بھی حاصل ہونی چاہئیں۔

قربانی کے جانوروں (ان جانوروں میں اونٹ، بیل، گائے، بھینس، دنبہ، بکرا، بھیڑ اور مینڈھا شامل ہیں ) کا گوشت اپنی نوعیت کے اعتبار سے سُرخ گوشت(Red meat) کہلاتا ہے، جب کہ مچھلی، مرغی اور دیگر پرندوں کے گوشت کو سفید گوشت (White meat) قرار دیا گیا ہے۔

مرغی اور مچھلی کا گوشت سفید ہوتا ہے کیونکہ اس میں میوگلوبن myoglobinکم ہوتا ہے، جو کہ پٹھوں میں آئرن سے بھرپور پروٹین ہوتا ہے جو گوشت کو سرخ رنگ دیتا ہے۔ سفید گوشت، جو مرغی کی سینے اور پروں سے آتا ہے، میں تقریباً 10 فیصد سرخ ریشے ہوتے ہیں، جب کہ نسبتا سیاہ گوشت، جو ٹانگوں اور رانوں سے آتا ہے، تقریباً 50 فیصد سرخ ریشے پر مشتمل ہوتا ہے۔میوگلوبن خون سے آکسیجن کو اس وقت تک ذخیرہ کرتا ہے جب تک کہ پٹھوں کے خلیوں کو اس کی ضرورت نہ ہو۔ وہ عضلات جو زیادہ کثرت سے استعمال ہوتے ہیں، جیسے ٹانگوں کو، زیادہ آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے اور اسے ذخیرہ کرنے کی زیادہ صلاحیت ہوتی ہے۔ گہرے گوشت کے پٹھوں میں زیادہ میوگلوبن ہوتا ہے، جو انہیں ایروبک سانس لینے کے لیے زیادہ موثر طریقے سے آکسیجن کا استعمال کرنے دیتا ہے۔ جب پکایا جائے تو میوگلوبن میٹمیوگلوبن میں بدل جاتا ہے، جو گہرے گوشت کو اپنا رنگ دیتا ہے۔

گائے کے گوشت کو سرخ گوشت کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں چکن یا مچھلی سے زیادہ میوگلوبن ہوتا ہے۔ آکسیجن خون میں سرخ خلیات کے ذریعے پٹھوں تک پہنچائی جاتی ہے۔ گوشت میں پروٹین میں سے ایک، میوگلوبن، پٹھوں میں آکسیجن رکھتا ہے. جانوروں کے پٹھوں میں میوگلوبن کی مقدار گوشت کے رنگ کا تعین کرتی ہے۔سفید گوشت عام طور پر سرخ گوشت کی نسبت چربی اور کیلوریز میں کم ہوتا ہے، اور اس میں سیر شدہ چکنائی کم ہوتی ہے۔ تاہم، آپ کی صحت اور غذائیت کے اہداف کے لحاظ سے سفید اور گہرا گوشت چکن دونوں صحت مند انتخاب ہو سکتے ہیں۔

بنیادی طور پر ہماری غذا میں چھے اہم اجزاء شامل ہوتے ہیں۔نشاستہ یا کاربوہائیڈریٹس، لحمیات یا پروٹین، چربی، نمکیات، وٹامن اور پانی۔یہ تمام اجزاء ہماری زندگی کے لیے بہت اہم ہیں کہ جسم کی مشینری کو اپنے افعال انجام دینے کے لیے ان کی ضرورت ہوتی ہے۔ خوش قسمتی سے یہ تمام اجزاء کسی نہ کسی درجے میں گوشت میں پائے جاتے ہیں۔یوں گوشت استعمال کرنے کے نتیجے میں یہ تمام اہم غذائی اجزاء ہمارے جسم کو فراہم ہو جاتے ہیں۔

گوشت زندگی کے لیے بہت ضروری ہے کیونکہ اس میں پروٹین کی مقدار سب سے زیادہ پائی جاتی ہے۔

اگرآپ 100 گرام گوشت استعمال کرتے ہیں تو آپ کو 26 گرام پروٹین ملتے ہیں۔ اگر آپ اس کا دال سے موازنہ کرتے ہیں تو 100 گرام دال سے آپ کو صرف نو گرام پروٹین ملتے ہیں۔‘
گوشت میں آئرن کی مقدار ہے جس سے زنک ملتا ہے۔
وٹامن ڈی 12 گوشت میں سب سے زیادہ پایا جاتا ہے۔
مٹن اور بیف کے استعمال سے آپ کی جلد اور بال اچھے ہوسکتے ہیں۔
مٹن اور بیف کھانے سے خون کی کمی یعنی اینیمیا سے بھی بچا جاسکتا ہے۔
یہ اعصابی نظام اور دماغی کارکردگی کو بھی بہتر بناتا ہے۔

بلاشبہ گوشت بہت اچھی غذا ہے، مگر اس کے استعمال میں اعتدال سے کام لینا چاہیے۔ اس ضمن میں ماہرینِ اغذیہ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ایک دِن میں کھائے جانے والے گوشت کی مقدار ایک سو گرام تک ہوسکتی ہے، البتہ پورے ہفتے میں یہ مقدار آدھا کلو گرام سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ ہفتے میں صرف دو بار سُرخ گوشت استعمال کیا جائے۔ تاہم ، یومیہ بنیادوں پر گوشت استعمال کرنے کی صُورت میں ہفتے بَھر کی مجموعی مقدار 500گرام یا آدھا کلو گرام سے زائد نہیں ہونی چاہیے۔

عیدالاضحٰی کے تینوں ایّام میں اگر ایک فرد 250گرام گوشت پورے دِن میں استعمال کرتا ہے، تو اس مقدار کو وقتی طور پر قابلِ قبول کہا جا سکتا ہے۔ اتنا گوشت کبھی نہیں استعمال کرنا چاہیے کہ ’’خمارِ لحم ‘‘ کی کیفیت طاری ہو جائے اور انسان عقل و خرد سے بیگانہ ہی ہو جائے۔ اب یہ یہاں سوال سامنے آتا ہے کہ قربانی کا گوشت کیسے اور کب استعمال کیا جائے؟ تو اس حوالے سے ذیل میں کچھ اہم نکات درج کیے جارہے ہیں، جن کا خیال رکھنا ہر فرد کے لیے فائدہ مندہے۔

٭قربانی کے فوری بعد گوشت استعمال کرنا مناسب نہیں۔ کم از کم تین سے چار گھنٹے گوشت کُھلی فضا میں ڈھک کر رکھنا بہتر ہوگا۔٭گوشت اچھی طرح دھویا لیا جائے، تاکہ خون صاف ہوجائے۔
٭گوشت چاہے، جس شکل میں بھی کھایا جائے، مرچ مسالا تیز نہ ہو۔
٭تکّے، کباب ضرور کھائیں، مگراعتدال کے ساتھ۔
٭گوشت کے ساتھ سلاد، لیموں اور دہی کا استعمال ضرور کریں۔
٭ دو وقت گوشت استعمال کرنے کی صُورت میں ایک وقت سبزی لازماً استعمال کی جائے۔
٭دو کھانوں کے درمیان چھے گھنٹے کا وقفہ ضروری ہے۔
٭زیادہ شوربے والے کھانوں کو ترجیح دی جائے۔
٭گوشت کے استعمال کے ساتھ پانی زیادہ سے زیادہ پیئں۔
٭کھانا آہستہ آہستہ اور چبا کر کھائیں۔ ٭گوشت کے پکوان کھانے کے بعد دِن بَھر آرام نہ کریں، بلکہ ہلکی پھلکی ورزش کا سلسلہ جاری رکھیں۔
بعض افراد یہ استفسار بھی کرتے ہیں کہ گوشت کے ساتھ مشروبات کا استعمال ٹھیک ہے یا نہیں؟ تو حقیقت یہ ہے کہ کاربولک اور تیزابی مشروبات کے استعمال سے اجتناب برتنا ہی بہتر ہے۔ کولڈڈرنکس کسی بھی طرح ہماری صحت کے لیے مفید نہیں۔ ان کے بجائے لیموں پانی اور تازہ پھلوں کا جوسز استعمال کیے جائیں۔ نیز، سبز چائے کا زائد استعمال بھی مفید ہے، تو اسپغول بھی نظامِ انہضام کے لیے مددگار اور معاون ثابت ہوتا ہے۔

قربانی کا گوشت تازہ، صحت بخش اور غذائیت سے بَھرپور ہونے کے باعث زیادہ کیلوریز پر مشتمل ہوتا ہے، اس لیے بھی اس کا زائد استعمال صحت کے لیے مختلف اعتبار سے مضر ثابت ہو سکتا ہے۔ مثلاً:
٭چکنائی کی زیادتی اور دِل کے امراض: سُرخ گوشت میں چکنائی زائد مقدار میں پائی جاتی ہے، تو اگر گوشت کا استعمال بڑھ جائے، تو ظاہر سی بات ہے کہ جسم میں کولیسٹرول کی مقدار بھی بڑھ جائے گی اور کولیسٹرول کی زیادتی انتہائی خطرناک ہے کہ اس سے دِل کے امراض لاحق ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ پھر زائد عُمر والوں کو تو خصوصی احتیاط برتنی چاہیے۔ چکنائی کی مقدار بڑھنے سے خون کی نالیوں میں تنگی ہو سکتی ہے اور دِل کا دورہ بھی پڑ سکتا ہے۔

٭بُلند فشارِ خون: عید الاضحٰی کے موقعے پر بُلند فشارِخون کے مریضوں کے لیے لازم ہے کہ احتیاط اور اعتدال کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ عموماً چٹ پٹے پکوانوں میں مختلف مسالوں اور نمک کا آزادانہ استعمال ہوتا ہے، تو ان پکوانوں کے استعمال سے خون کا دباؤ یقینی طور پر بڑھ سکتا ہے۔

٭عوارضِ جگر: کولیسٹرول کی مقدر بڑھنے سے جگر پر بھی مضر اثرات مرتّب ہوسکتے ہیں۔ بعض افراد فیٹی لیور کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اس مرض میں جگر کے خلیات میں غیر معمولی طور پر چربی کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ فیٹی لیور اور جگر کے دیگر امراض میں مبتلا مریض سُرخ گوشت کا استعمال انتہائی احتیاط سے کریں۔

٭نظامِ ہاضمہ کے مسائل: گوشت استعمال کرنے کے بعد ہر فرد کے معدے کا ردِّعمل یک ساں نہیں ہوتا۔ اِسی لیے سُرخ گوشت کے استعمال سے قبض اور اسہال دونوں قسم کی شکایات پیدا ہو سکتی ہیں۔ معدے کی تیزابیت اور جلن کا بھی خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ کئی افراد معدے کی گرانی اور گیس کی زیادتی کا بھی سامنا کرتے ہیں۔ اسی طرح اگر گوشت صاف ستھرا نہ ہو، تو معدے اور آنتوں کے انفیکشن یاGastroenteritisکا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے، جسے عرفِ عام میں گیسٹرو کہہ دیا جاتا ہے۔ پھر الٹی اور متلی کی شکایات بھی کثرت سے ہوتی ہیں۔ السر کے مریضوں کو تو مسالے دار گوشت سے قطعاً گریز کرنا چاہیے۔

٭یورک ایسڈ کی زیادتی: چوں کہ سُرخ گوشت کے استعمال سے خون میں یورک ایسڈ کی مقدار بڑھ جاتی ہے،لہٰذا گٹھیا یا گوٹ(Gout)اور جوڑوں کے بعض دیگر امراض میں مبتلا افراد کے لیے سُرخ گوشت کا استعمال خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

٭سرطان کا خدشہ: طبّی ماہرین کی تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ سُرخ گوشت کے زائد استعمال سے مختلف اقسام کے کینسرز جنم لے سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ افراد، جو پہلے ہی سے کسی قسم کے سرطان میں مبتلا ہوں، اُن کے لیے بھی سُرخ گوشت کا زائد استعمال ٹھیک نہیں کہ یہ مزید پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے۔ منجمد یا فروزن گوشت کا استعمال بھی بہت احتیاط سے کرنا چاہیے۔

٭امراضِ گُردہ: سُرخ گوشت کا زائد استعمال امراضِ گُردہ میں مبتلا مریضوں کے لیے مناسب نہیں۔ ان افراد کو گوشت خُوب گلا کر اور کم مقدار میں استعمال کرنا چاہیے۔ دراصل، گوشت میں موجود بعض اجزاء گُردوں پر کام کا اضافی بوجھ ڈال دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں کئی طبّی مسائل جنم لے سکتے ہیں۔

٭مسوڑھوں کے امراض: سُرخ گوشت کا ضرورت سے زائد استعمال مسوڑھوں میں وَرم یا سوزش کا سبب بنتا ہے، جب کہ مسوڑھوں کے دیگر امراض بھی لاحق ہو سکتے ہیں۔

٭زائد وزن: عید الاضحٰی کے موقعے پر اکثر وہ افراد بھی بداحتیاطی کا مظاہرہ کرتے ہیں، جو موٹاپے کا شکار ہوتے ہیں، تو سُرخ گوشت میں موجود مخصوص قسم کی چکنائی وزن میں مزید اضافے کا باعث بنتی ہے۔ وہ افراد جو غذائی ماہرین کے تجویز کردہ ڈائیٹ چارٹ کے مطابق غذا استعمال کرتے ہیں، اُنہیں عید الاضحٰی کے موقعے پر بھی ماہرین کی ہدایات فراموش نہیں کرنی چاہئیں۔

٭ذیابطیس: دیکھا گیا ہے کہ ذیا بطیس کے شکار افراد اس خوش گمانی کا شکار ہوتے ہیں کہ سُرخ گوشت میں چوں کہ شکر نہیں پائی جاتی، لہٰذا وہ اس کا آزادانہ استعمال کرسکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سُرخ گوشت کا زائد استعمال خون میں شکر کی مقدار بڑھا دیتا ہے۔ 2020ء میں کی جانے والی ایک امریکی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پچاس گرام سُرخ گوشت کا روزانہ استعمال ذیابطیس کے خطرے کو گیارہ فی صد بڑھا دیتا ہے۔ نیشنل یونی ورسٹی، سنگاپور نے بھی سُرخ گوشت کے زائد استعمال کو ذیابطیس کے مریضوں کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔

درج بالا تمام خطرات کے باوجود گوشت کا استعمال ہماری جسمانی ضرورت ہے، البتہ ایک مخصوص حد سے تجاوز ہرگز نہ کریں۔ عموماً عیدِ قرباں کے موقعے پر عزیز و اقارب اور مساکین میں گوشت تقسیم کرنے کے بعد بھی خاصی مقدار میں ہمارے پاس موجود رہتا ہے،جسے محفوظ رکھنا ہر گھر کی ضرورت ہے

گوشت محفوظ/فریز کرنے کے ضمن میں چند ایک اصولوں پر عمل کرلیا جائے، تو کئی طبّی مسائل سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔ مثلاً:
٭گوشت کے پارچے اچھی طرح دھو کر چھلنی میں رکھیں، تاکہ اضافی پانی نکل جائے۔
٭الگ الگ شفّاف پلاسٹک کی تھیلیوں میں گوشت کے پارچے رکھیں،تاکہ کرجلد فریز ہوجائیں۔
٭فریزڈ گوشت ایک ماہ کے اندر استعمال کرلیا جائے تو بہتر ہے۔ طویل عرصے کے لیے گوشت فریز کرنا صحت کے لیے مضر ثابت ہوسکتا ہے۔ مشاہدے میں ہے کہ بعض افراد عید الاضحٰی کے کئی ماہ بعد تک گوشت استعمال کرتے رہتے ہیں، جو مناسب نہیں۔
٭گوشت پکاتے ہوئے اس بات کا دھیان رکھیں کہ وہ کچّا پکّا نہ ہو، بلکہ مکمل طور پر پکایا جائے۔
٭اگر فریزڈ گوشت اچھی طرح نہ پکایا جائے،تو اس میں موجود بیکٹیریا ختم نہیں ہوتے اور پیٹ کی مختلف بیماریوں کا باعث بن سکتے ہیں۔
٭پکا ہوا سالن فریج میں رکھنا ہو، تو اُسے محض دو سے تین دِن ہی تک رکھا جائے۔

Eid Mubaraak to you all and your beloved families.
17/06/2024

Eid Mubaraak to you all and your beloved families.

20/02/2024

How to prevent Kidney stone formation .
گردے کی پتھری کی روک تھام کے اقدامات میں طرز زندگی میں تبدیلیاں اور
غذائی ایڈجسٹمنٹ شامل ہیں جن کا مقصد پتھری کی تشکیل سے وابستہ خطرے کے عوامل کو کم کرنا ہے۔ یہاں کچھ تفصیلی احتیاطی تدابیر ہیں:

1-ہائیڈریٹڈ رہیں:
سب سے اہم احتیاطی تدابیر میں سے ایک دن بھر وافر مقدار میں پانی پینا ہے۔ مناسب ہائیڈریشن پیشاب کو پتلا کرنے میں مدد کرتا ہے، معدنیات کے ارتکاز کو کم کرتا ہے جو پتھری بنا سکتے ہیں۔ روزانہ کم از کم 8-10 گلاس پانی پینے کا ارادہ کریں، یا آپ کے پیشاب کا رنگ ہلکا پیلا رکھنے کے لیے کافی ہے۔

2--سوڈیم کی مقدار کو محدود کریں:
سوڈیم کی زیادہ مقدار پیشاب میں کیلشیم کی سطح کو بڑھا سکتی ہے، جو پتھری کی تشکیل میں معاون ہے۔ پروسیسرڈ فوڈز، ڈبہ بند سوپ اور فاسٹ فوڈ سے پرہیز کرکے اپنے سوڈیم کی مقدار کو کم کریں، اور ٹیبل نمک کے استعمال کو محدود کریں۔

3- معتدل پروٹین کا استعمال:
حیوانی پروٹین کی زیادہ مقدار، جیسے سرخ گوشت، مرغی اور مچھلی، گردے کی پتھری کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے، خاص طور پر ان میں جو پیورین پر مشتمل ہیں۔ اس کے بجائے، پودوں پر مبنی پروٹین کے ذرائع جیسے پھلیاں، ٹوفو اور گری دار میوے کا انتخاب کریں۔

4-اکسالیٹ سے بھرپور غذاؤں کو کنٹرول کریں:
کیلشیم آکسیلیٹ پتھری گردے کی پتھری کی سب سے عام قسم ہے۔ اگرچہ کیلشیم ہڈیوں کی صحت کے لیے اہم ہے، لیکن آکسیلیٹ سے بھرپور غذائیں جیسے پالک، روبرب، بیٹ، گری دار میوے اور چائے پتھر کی تشکیل میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ ان کھانوں کو اعتدال میں کھائیں اور انہیں کیلشیم سے بھرپور غذاؤں کے ساتھ ملا کر آنتوں میں آکسیلیٹس کو باندھنے میں مدد کریں۔

5-کیلشیم کی مناسبت مقدار میں لیں:
عام عقیدے کے برعکس، کھانے کے ذرائع سے حاصل ہونے والا کیلشیم نظام انہضام میں آکسیلیٹس کے ساتھ منسلک ہو کر گردے کی پتھری کے خطرے کو کم کر سکتا ہے، ان کے خون میں جذب ہونے اور گردوں کے ذریعے اخراج کو روکتا ہے۔ کیلشیم سے بھرپور غذاؤں کا انتخاب کریں جیسے کم چکنائی والی دودھ کی مصنوعات، پتوں والی سبزیاں اور مضبوط غذا۔

6-وٹامن سی کے سپلیمنٹس کو محدود کریں:
وٹامن سی کے سپلیمنٹس کی بڑی مقدار جسم میں آکسیلیٹ میں تبدیل ہو سکتی ہے، جس سے پتھری بننے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ وٹامن سی کو سپلیمنٹس کے بجائے قدرتی غذائی ذرائع جیسے کھٹی پھل، اسٹرابیری اور گھنٹی مرچ سے حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

7-شوگر کی مقدار پر نظر رکھیں:
چینی اور فرکٹوز میں زیادہ غذائیں گردے کی پتھری کا خطرہ بڑھا سکتی ہیں، خاص طور پر ان لوگوں میں جو پتھر�

Please share your reports on WhatsApp number given below,we will reply you at earliest.
21/12/2023

Please share your reports on WhatsApp number given below,we will reply you at earliest.

21/12/2023

پیشاب کی نالی کا زخم /ہدایات اور روک تھام

1. حفظان صحت کے طریقے
اچھی حفظان صحت برقرار رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ بیت الخلا استعمال کرنے کے بعد آگے سے پیچھے کا مسح کرنا، تاکہ مقعد سے بیکٹیریا کو پیشاب کی نالی تک پہنچنے سے روکا جا سکے۔

2. ہائیڈریشن
بیکٹیریا کو ختم کرنے اور پیشاب کی نالی کو صحت مند رکھنے کے لیے وافر مقدار میں پانی پیئیں۔

3. جنسی ملاپ کے بعد پیشاب
وہ افراد، خاص طور پر خواتین کو جنسی سرگرمی کے بعد پیشاب کریں تاکہ پیشاب کی نالی میں داخل ہونے والے کسی بھی بیکٹیریا کو خارج کرنے میں مدد ملے۔

4. بیت الخلاء کی مناسب عادات
لمبے عرصے تک پیشاب کو روکنے سے گریز کریں اور باتھ روم جانے کے دوران اپنے مثانے کو مکمل طور پر خالی کریں۔

5. پریشان کن چیزوں سے بچیں
سخت صابن، نسائی سپرے اور ڈوچوں سے بچنے کے بارے میں تعلیم دیں جس پیشاب کی نالی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

6. کاٹن انڈرویئر
سوتی انڈرویئر پہننے کو ترجیح دیں کیونکہ اس سے ہوا کے اخراج بہتر ہوتا ہے اور نمی کو کم کرتا ہے، جس سے بیکٹیریا کی افزائش کے لیے ایک ناموافق ماحول پیدا ہوتا ہے۔

7. فوری علاج
اگر پیشاب کی نالی کے انفیکشن کی علامات کا سامنا ہو جیسا کہ بار بار پیشاب آنا، پیشاب کرتے وقت جلن کا احساس، یا ابر آلود پیشاب ہو تو طبی امداد حاصل کرنے کی اہمیت پر زور دیں۔ اینٹی بایوٹک کے ساتھ ابتدائی علاج انفیکشن کو گردوں میں پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔

ویریکوسیل کا علاج کیسے ممکن ہے؟مرد میں بانجھ پنے کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں ویریکوسیل (Varicocele)بھی ایک عام وج...
03/12/2023

ویریکوسیل کا علاج کیسے ممکن ہے؟

مرد میں بانجھ پنے کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں ویریکوسیل (Varicocele)بھی ایک عام وجہ ہے جسے سمجھنے کے لیے پہلے مردانہ نظامِ تولید (Male Reproductive System)کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سکروٹم (Scrotum)یہ ایک تھیلی نما شکل کی ساخت ہے جو کہ ٹانگوں کے درمیان عضو تناسل (Pen*s)کے بالکل نیچے لگی ہوتی ہے جس میں دو بیضوی شکل کے غدود جسے خصیے (Te**es)کہتے ہیں پڑے ہوتے ہیں اور جن کا کام مادہ تولید کی پیدوار میں اضافہ اور ذخیرہ کرنا ہوتا ہے اس کے علاوہ یہ تھیلی خصیوں کی حفاظت بھی کرتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور نالی نما ساخت قابل ذکر ہے جس کا نام (Spermatic Cord)ہے جو کہ خصیوں میں جانے والی نالیوں، اعصاب، پٹھوں اور دوران خون وغیرہ کا مجموعہ ہے یعنی کہ یہ سب پتلی پتلی نالیاں جن میں ہر ایک کا کام مختلف ہوتا ہے اس بڑی نالی میں موجود ہوتی ہیں جن میں دوران خون کی نالیاں بھی شامل ہیں جس کے ذریعے خصیوں تک خون کے ساتھ ساتھ آکسیجن کی ترسیل بھی ہوتی رہتی ہے اور یوں خصیوں کی نشوونما سمیت مادہ تولید کی افزائش ہوتی رہتی ہے۔

جب اسی بڑی نالی میں موجودہ خون کی پتلی نالیوں میں سوجن واقع ہوجائے یعنی پھول جائیں (Vein Enlargement) ہوجائے تو اس وجہ سے یہاں کا خون واپس دوران خون میں شامل نہیں ہوپاتا ۔پس اس صورتحال کو ویریکوسیل (Varicocele)کہا جاتا ہے جو کہ دونوں خصیوں میں ہوسکتا ہے لیکن زیادہ تر یہ بائیں طرف ہی ہوتا ہے۔اب جب ان خون کی نالیوں میں سوجن پیدا ہوگئی تو ظاہری بات ہے کہ ان میں دوران خون کی رفتار سست پڑ جاتی ہے جو کہ خصیوں (Te**es) کی نشوونما سمیت مادہ تولید(Sperm) کی افزائش میں رکاوٹ یا افزائش کی خرابی کا سبب بنتی ہے جس کی وجہ سے بانجھ پن پیدا ہوجاتا ہے۔
ویریکوسیل زیادہ تر بائیں طرف پیدا ہوتا ہے اور عموماً کچھ خاص علامات موجود نہیں ہوتی لیکن بعض اوقات یا کچھ لوگوں میں علامات سامنے آسکتی ہیں جن میں ہلکا یا شدید درد کا احساس جو کہ اُٹھنے بیٹھنے پر زیادہ محسوس ہوتا ہے، خصیوں کی تھیلی (Scrotum)میں بائیں طرف سوجن محسوس کی جاسکے یا خصیوں کی موٹائی میں فرق یعنی متاثرہ خصیہ چھوٹا نظر آناجیسی علامات کاسامنا ہوتا ہے۔

ویریکوسیل کی کوئی خاص وجہ تو تاحال معلوم نہ ہوسکی لیکن میڈیکل میں خیال کیا جاتا ہے کہ خصیوں کی تھیلی(Scrotum) میں موجود خون کی نالیوں میں خرابی پیدا ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے یہاں نظام دوران خون ٹھیک نہیں رہتا مطلب خصیوں میں سے خون واپس ہوکر خونی بہاؤ میں شامل نہیں ہوسکتا جس کی وجہ سے خصیوں کی تھیلی (Scrotum)میں واقع خون کی پتلی نالیاں سوج جاتی ہیں یعنی کہ بڑھ جاتی ہیں

(Vein Enlargement).اس کے علاوہ مریضوں میں مختلف وجوہات جن میں موروثیت، رہن سہن، موٹاپا سمیت دیگر وجوہات شامل ہوسکتی ہیں۔

عام طور پر روایتی ادویات میں اس کے علاج کے لیے کوئی دواء موجود نہیں ہے بلکہ اس کا واحد حل جراحی کو سمجھا جاتا ہے اور اس سے اس بیماری کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن جراحی کی کامیابی کی شرح بھی سو فیصد نہیں بلکہ یہ خدشہ ہوتا ہے کہ دیگر مسائل کے ساتھ (Varicocele)دوبارہ ہوجائے۔ البتہ خوردبینی جراحی (Microscopic Surgery)قابل تعریف ہے اور اس کی کامیابی کی شرح قدرے بہتر بھی ہے۔
Copied
۔

05/11/2023

بے اولاد جوڑوں کو جینے کا حق دو.

ڈاکٹر شفیق احمد

بیشک اولاد اللہ تعالی کی عطا کردہ نعمتوں میں سے اعلی اور بہترین نعمت ہے، جو نہ صرف انسانی نسل کی بقا کا سبب ہے بلکہ سب گھر والوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک، خوابوں کی تعبیر اور گھر کی رونق بھی ہوتی ہے۔ اس انمول تحفے کی اہمیت کا اندازہ وہی جوڑے لگا سکتے ہیں، جن کے آنگن میں کبھی کسی نومولود کی قلقاریاں نہیں گونجیں ہوں۔ اولاد اللہ رب العالمین کا سب سے بڑا قیمتی تحفہ ہے۔ یہ تحفہ ایسا ہے جس کے لئے انبیائے کرام نے بھی نیک اور صالح اولاد کی دعائیں مانگیں۔ مال و دولت اور اولاد دنیا کے لئے زینت تو ہے ہی لیکن یہ آزمائش بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ قران مجید میں ارشاد فرماتا ہے ''اور جان لو کہ یہ تمہاری اولاد اور تمہارے اموال ایک آزمائش ہیں'' انفال 28۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں 48.5 ملین شادی شدہ جوڑے کامیاب حمل کے حصول میں ناکام ہیں، ان میں خواتین کا تناسب 10فیصد اور مردوں کا 7 فی صد ہے۔ طبی اصطلاح میں حمل کا نہ ٹھہرنا یا اولاد کا نہ ہونے کے کو مرض بانجھ پن کہلاتا ہے۔ بانجھ پن کوئی عیب نہیں ہے بلکہ ایک مرض ہے اور اللہ کی طرف سے ایک آزمائش ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا اکثر گاؤں میں پیدائشی معذور لوگوں کے سب سے زیادہ بچے ہوتے ہیں ۔ بدقسمتی سے ایشیا کے اکثر ممالک میں اور خصوصا پاکستان اور افغانستان میں اولاد کا نہ ہونا عیب اور نحوست ، پتہ نہیں کیا کیا سمجھا جاتا ہے۔ نئی شادی شدہ جوڑے کو لوگ جینے نہیں دیتے ۔ چند مہینے بعد پوچھ گچھ شروع ہوجاتی ہے۔ پہلے صرف بڑی عمر کی عورتوں تک یہ پوچھنے والا کام محدود تھا لیکن اب بوڑھوں ، جوانوں ، عورتوں اور مردوں سب کا یہ مشغلہ بن چکا ہے کہ شادی شدہ جوڑے سے حمل کے بارے میں پوچھتے ہیں اور ان بیچاروں کو اضطراب اور اذیت میں مبتلا کرتے ہیں۔ خدانخواستہ جب کوئی بے اولاد جوڑا ان لوگوں کے ہاتھے چڑھ جائے تو پھر ان کی خیر نہیں ہوتی، لوگ پھر اس سے ایسے اذیت ناک ، درد ناک اور فضول سوالات پوچھتے ہیں کہ وہ بے اولاد جوڑا ٹینشن ، اضطراب اور پریشانی کا شکار ہوجاتا ہے ، جس کی وجہ سے ان کی بے اولادی کے علاج میں اور پیچیدگیاں سامنے آنا شروع ہوجاتی ہیں۔ یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ بے اولادی کے اسباب میں سب سے بڑا سبب ٹینشن اور پریشانی ہے جس کی وجہ سے انسان کی جنسی ہارمونز میں اتار چڑھاؤ آ جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بے اولاد جوڑوں کو لوگ جینے نہیں دیتے۔
لوگوں کے بے وجہ سوالات کی وجہ سے بے اولاد جوڑوں کو کافی تکلیف ہوتی ہے، ایک بے اولادی کی وجہ سے لوگ پہلے ہی پریشان ہوتے ہیں اوپر سے یہ جاہلانا سوالات ان کی بیماری دگنی کر دیتے ہیں جس سے ان میں مزید پیچیدگیاں جنم لینا شروع ہو جاتی ہیں۔ لوگوں کو اپنی راہ لینی چاہئے اور کوشش کرنی چاہئے کہ کسی بھی طرح ایسے سوالات نہ پوچھے جائیں جو انسان کے اختیار میں نہ ہوں۔دوسروں کی دکھڑے کیا سناؤں خود میں اس اذیت کا شکار ہوچکا ہوں ۔
میری شادی کے پہلے سال میری کم مدت اور پیدائشی کم وزن (1.2kg) بیٹی پیدا ہوگئی اور پھر پمز ہسپتال اسلام آباد میں 50 دن داخل رہی اور پھر اللہ کو پیاری ہوگئی۔ اس کے بعد طب کے اصولوں کے مطابق ہم نے دوسرے حمل کے لئے 6 مہینے کا وقفہ دیا ۔ ان چھ مہینوں میں لوگ بار بار پوچھتے رہے۔ پھر اللہ کی طرف سے آزمائش ائی اور حمل نہ ٹھہرنے کا مسئلہ پیش آیا۔ تین سال سے اب تک یہ مسئلہ چلتا رہا۔ ان تین سالوں میں لوگوں نے پوچھ پوچھ کے میری بیوی اور میری ماں کو اتنا ٹارچر اور پریشان کیا کہ وہ کسی رشتے دار کی شادی میں بھی بخوشی نہیں جاسکتی تھی کیونکہ ان کو ڈر ہوتا تھا کہ لوگ پھر طرح طرح کے سوالات پوچھیں گے ۔ پھر اللہ نے کرم کیا اور چار سال بعد اللہ تعالی نے بیٹی کی صورت میں اپنی رحمت سے نوازا جس کی وجہ سے میرے پورے خاندان میں خوشی کا سماں تھا لیکن تب بھی لوگوں نے ہمیں نہیں بخشا اور اس سلسلے میں پریشان کا سلسلہ جاری رہا۔ جب بھی کوئی ملتا تھا تو یہی کہتا تھا کہ پریشان نہ ہو۔ اگلی بار اللہ اپ کو بیٹا دے گا گویا بیٹی بچوں میں شمار ہی نہیں ہے ۔
حالانکہ ہمارے نظر میں بیٹا اور بیٹی ایک برابر ہے۔ یہ صرف میری کہانی نہیں بلکہ ہزاروں بے اولاد جوڑوں کی کہانی ہے ۔۔ لوگوں کی اس بیہودہ اور اذیت ناک سلوک کی وجہ سے بہت سارے بے اولاد جوڑے خودکشی کی طرف مائل ہوگئے ہیں۔ میں اپ سب سے ہاتھ جوڑ کر التجا کر رہا ہوں کہ بے اولاد جوڑوں کو خوشی ہنسی جینے کا حق دو۔ ان کی پریشانیوں میں اضافے کا سبب نہ بنو۔ بار بار پوچھ پوچھ کے ان کا جینا محال نہ کرو ورنہ کل تمہارے خاندان میں بھی لوگ اس کا شکار ہو سکتے ہیں ۔ نئی شادی شدہ جوڑوں کے حمل کے بارے میں پوچھنے کا یہ بے ہودہ رواج ختم کرو۔ لوگوں کو اپنی مرضی سے جینے کا حق دو۔ بے اولادی کے اسباب اور علاج کی رہنمائی کے بارے میں انشاء اللہ اگلی بار تفصیل سے لکھوں گا
Dr Shafiq Ahmad.

A very lovely Eid Ul Adha to you and your beloved family.
30/06/2023

A very lovely Eid Ul Adha to you and your beloved family.

A very Happy Eid Mubaraak to you all and your beloved families.Dr Noorul Hayat Assistant Professor Urology Saidu Teachin...
21/04/2023

A very Happy Eid Mubaraak to you all and your beloved families.

Dr Noorul Hayat
Assistant Professor Urology
Saidu Teaching Hospital Saidu Sharif Swat

Address

Saidu Sharif

Telephone

+923483998065

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Noorul Hayat Urology Clinic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr Noorul Hayat Urology Clinic:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category