Mosa Homeopathic Clinic

Mosa Homeopathic Clinic Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Mosa Homeopathic Clinic, Medical and health, Sargodha.

14/05/2020
05/04/2020

نیکی کی سیلفی لینے سے اسکا ن
ضائع ہو جاتا ہے

Cool
30/03/2020

Cool

MASHALLAH
30/03/2020

MASHALLAH

28/03/2020

وائرس کی اپنی بائیو سنتھیٹک مشینری (biosynthetic machinery) نہیں ہوتی. جس کا مطلب ہے یہ خوراک نہیں کھا سکتا. یہ خوراک کو توڑ کر اس سے اپنی روزمرہ کی سرگرمیاں سر انجام دینے کے لئے انرجی حاصل نہیں کر سکتا. یہ خود سے اپنی تعداد نہیں بڑھا سکتا. یہ اپنے نیوکلیک ایسڈز کو ریپلیکیٹ (replicate) نہیں کر سکتا. حرکت نہیں کر سکتا. وائرس کو یہ سارے کام سرانجام دینے کے لئے ایک ہوسٹ (host) کی ضرورت ہوتی ہے. اسی لئے تمام وائرسز کو (obligate endoparasites) کہا جاتا ہے. یعنی یہ کسی دوسرے زندہ جاندار کے جسم کے اندر رہ کر ہی افزائش کرسکتے ہیں. عمل تولید کر سکتے ہیں. انہیں لیبارٹری میں آرٹی فيشل ميڈيا پر grow نہیں کیا جاسکتا. وائرس چونکہ خود سے حرکت بھی نہیں کر سکتا اس لئے یہ passively ہی کسی ہوسٹ تک پہنچتا ہے. ہوسٹ تک پہنچ کر سب سے پہلے یہ اس کے جسم کے سیلز میں گھستا ہے. وائرس کی آمد سے پہلے ہوسٹ کے جسم کے سیلز ہوسٹ کے لئے کام کر رہے ہوتے ہیں. اس کے لئے انرجی یعنی ATP پیدا کر رہے ہوتے ہیں. بیماریوں کے خلاف لڑ رہے ہوتے ہیں. مختصر یہ کہ جسم کو توازن یعنی homeostasis میں رکھنے کے لئے اپنا اپنا بہترین کام کر رہے ہوتے ہیں. جونہی وائرس ہوسٹ کے ان سیلز میں داخل ہوتا ہے تو سب سے پہلے ان کا مکمل کنٹرول اپنے اختیار میں کرتا ہے. سیلز کے میٹابولزم یعنی وہ ری ایکشنز جو ہوسٹ کے سیلز ہوسٹ کے لئے کر رہے ہوتے ہیں اب وہ وائرس کے لئے کرنا شروع کردیتے ہیں. وائرس اپنے ہوسٹ کے سیلز سے سب سے پہلے اپنے نیوکلیک ایسڈز کی کاپیز تیار کرواتا ہے. ایک سے دو. دو سے چار اور اسی طرح وائرس کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے. وہ ایک ہوسٹ سیل جس کو آغاز میں ایک وائرس نے ہائی جیک کیا تھا اب وہ ہزاروں وائرسز کی آماجگاہ بن چکا ہوتا ہے. اسی دوران یہ ہوسٹ سیل پھٹ جاتا ہے جسے لائسز (lysis) کہا جاتا ہے. ایک سیل کے پھٹنے سے ہزاروں وائرسز برآمد ہوکر ہوسٹ کے جسم کے ہزاروں نئے سیلز میں گھس جاتے ہیں. ایک بار پھر سے وہ تمام سیلز وائرس کی تعداد بڑھانے میں لگ جاتے ہیں. اور لاکھوں نئے سائیکلز شروع ہوجاتے ہیں. ان سارے مراحل کے دوران ابھی تک ہوسٹ بظاہر صحت مند رہتا ہے. کیونکہ ہوسٹ کا اپنا جسم بھی کھربوں سیلز کا بنا ہے اور لاکھوں سیلز تباہ ہوجانے کے باوجود نارمل دکھائی دیتا ہے. ان مراحل کو وائرس کا انکیوبیشن پیریڈ (incubation period) کہا جاتا ہے. بیماری کی علامات ظاہر ہونے تک یہ انکیوبیشن پیریڈ جاری رہتا ہے. جب ہوسٹ کے باڈی سیلز ایک خاص تعداد تک تباہ ہو جائیں تب جسم نارمل فنکشنز نہ کر سکنے کی وجہ سے بیماری کی علامات ظاہر کرنا شروع کرتا ہے.
اس ساری معلومات کا مقصد آپ کو یہ یقین دلانا ہے کہ اگر آپ اب تک کرونا میں مبتلا نہیں بھی ہیں پھر بھی آپ خود کو اور دوسروں کو بچائیں. آپ میں سے کوئی بھی وائرس کا کیرئیر ہوسکتا ہے مگر وائرس انکیوبیشن پیریڈ میں ہونے کے باعث علامات ظاہر نہیں کر رہا.
بہت سے لوگ سوال کر رہے ہیں کہ اگر کرونا وائرس کا اب تک کوئی خاص علاج دریافت نہیں ہوا ہے تو کرونا میں مبتلا لوگوں کی ایک خاص تعداد ہسپتالوں سے صحتیاب ہو کر کیسے ڈسچارج ہو رہی ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہسپتالوں اور قرنطینہ سنٹرز (quarantine) قائم کرنے کا واحد مقصد کرونا میں مبتلا لوگوں کو صحت مند لوگوں سے الگ تھلگ رکھنا ہے. تاکہ بیمار لوگ اپنے اردگرد صحت مند لوگوں تک وائرس کی منتقلی کا سبب نہ بنیں. آئزولیشن سنٹرز میں داخل مریضوں کو دنیا بھر میں صرف سادہ پین کلرز دی جا رہی ہیں. سانس اکھڑنے پر وینٹی لیٹرز پر شفٹ کیا جا رہا ہے. جو لوگ صحتیاب ہورہے ہیں وہ اپنے جسم کے مدافعتی نظام کے باعث ہورہے ہیں. مدافعتی نظام یا امیون سسٹم بیماری پیدا کرنے والے جراثیموں کے خلاف ہمارے جسم کا ایک قدرتی حفاظتی نظام ہے. اور یہی قدرتی حفاظتی نظام ہی لوگوں کو کرونا سے محفوظ کر رہا ہے.
لوگوں کا ایک دوسرا سوال بھی ہے کہ کرونا وائرس جسم کے کن حصوں کو متاثر کرتا ہے؟ کرونا وائرس سانس کی نالیوں اور پھیپھڑوں کو متاثر کرتا ہے. شروع میں جب وائرس سانس کی نالیوں کی دیواروں کے سیلز میں گھستا ہے تو ری ایکشن کے طور پر ریسپائیریٹری نالیاں میوکس پیدا کرتی ہیں جس سے نزلہ، زکام، کھانسی اور چھینکیں آنا شروع ہوجاتی ہیں. جسم وائرس کا قلع قمع کرنے کے لئے نارمل باڈی ٹمپریچر جوکہ 37 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے کو بڑھا دیتا ہے. اس وجہ سے بخار کی علامات ظاہر ہوتی ہیں. ان سارے عوامل سے یا تو وائرس کا قلع قمع ہوجاتا ہے اور مریض کے کرونا ٹیسٹس منفی آنے لگ جاتے ہیں. یا پھر اگر یہ سارے عوامل کام نہ دکھا پائیں تو ہم کہتے ہیں کہ مریض کا امیون سسٹم کمزور ہے اور پھر پھیپھڑوں کی تباہی شروع ہوتی ہے. اس کے بعد ہر لمحہ مریض کو بچا پانا مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا جاتا ہے.
ان ساری تفصیلات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہمیں اس عالمی وبا کے خلاف کھڑے ہوکر خود کو بچانا ہے. اپنے اہل خانہ کو بچانا ہے. اپنے ملک کو بچانا ہے. اور تمام نسل انسانی کو اس بحران سے پار اتارنا ہے. اپنے گھروں میں قیام کریں. اپنے ہاتھوں کو دھوتے رہیں. مصافحے اور معانقے سے پرہیز کریں. پرہجوم جگہوں سے دور رہیں. سیر سپاٹے ترک کریں. اللہ پر توکل برقرار رکھیں. بے شک اس کی مرضی کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں ہے. پنجگانہ نماز ادا کریں. وضو سے ہاتھ اور منہ بھی دھل جائیں گے اور یقین پختہ ہونے سے بیماری کے خلاف مدافعت بھی بڑھے گی. اللہ ہم سب کا حامی و ناصر رہے.
آمین.

Dr sohail
27/03/2020

Dr sohail

Becareful
26/03/2020

Becareful

25/03/2020

*Copied*

*⭕ سائنسدان یہ بات جان چکے ہیں کہ کرونا سب سے زیادہ ان لوگوں کو متاثر کر رہی ہے جنکے جسم کا قدرتی مدافعتی نظام (ایمیون سسٹم) کمزور تھا ۔۔*

♦ جہاں ڈاکٹر قرنطینہ کا مشورہ دیتے ہیں وہاں وہ ایسی غذاؤں کے استعمال کا مشورہ بھی دیتے ہیں جن سے قوت مدافعت طاقتور ہو کر بیماریوں اور انفیکشنز کو ختم کرۓ۔

*⭕ قوت مدافعت بڑھانے میں غذائوں کا بڑا اہم کردار ہوتا ہے۔*

♦ کچھ اہم غذائیں ایسی ہیں جن کے استعمال سے فوراً قوت مدافعت میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اگر جسم میں قوت مدافعت ہوتو کوئی بھی بیماری اور انفیکشن آسانی سے آپ پر حملہ آور نہیں ہو سکتا ۔

*⭕ ذیل میں چند گھریلو غذائیں ہیں جنکے استعمال سے آپ قوت مدافعت بڑھا سکتے ہیں*

*♦یخنی♦*

یخنی قوت مدافعت میں فوری طور پر اضافہ کرتی ہے۔ کمزور افراد کی فوری صحت یابی کے لئے یخنی بہترین آپشن ہے۔ دیسی مرغی یا مٹن کی یخنی ہڈیوں کی مضبوطی اور طاقت کا سبب بنتی ہے۔

*♦دہی♦*

دہی قوت مدافعت بڑھانے اور بیماریوں سے لڑنے کافوری اور سستا ذریعہ ہے ۔ وٹامن ڈی اور جسم کی قدرتی حفاظت کا خزانہ ہے۔

*♦بادام♦*

وٹامن ای صحت مند مدافعتی نظام کی کلید ہے اور بادام اس سے لبریز ہے۔ اگر روزمرہ کی بنیاد پر اسے اپنی غذا کا حصہ بنا لیا جائے تو اس میں موجود وٹامنز اور صحت بخش فیٹ آپ کی جسمانی ضروریات پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

*♦لہسن♦*

کھانوں میں لہسن کا ہونا آپ کی صحت کی ضمانت ہے۔ قوت مدافعت میں اضافہ کی خاصیت کے ساتھ ساتھ اسمیں مختلف طرح کے انفیکشن سے بچانے کی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔

*♦ادرک♦*

ادرک کا استعمال ہی صحت کی ضمانت ہے۔ مختلف بیماریاں، سوزش، درد ، کولیسٹرول کو کم کرنے میں اس کا کوئی ثانی نہیں۔

*♦پالک♦*

پالک وٹامن سی ، اے، بیٹاکیروٹین اور دیگر اہم غذائی اجزا پر مشتمل ہونے کے باعث مختلف انفیکشن سے لڑنے میں مدافعتی نظام کی مدد کرتی ہے۔ لیکن زیادہ دیر پکانے کے بجائے کم پکائی جائے تو اسکی غذائی صلاحیت برقرار رہتی ہے۔

*♦ہلدی♦*

برسوں سے آزمودہ ہلدی طب میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اپنی اینٹی انفلیمنٹری خصوصیات کے باعث صحت کے بہت سے مسائل فوری طورپر حل کرنے یہاں تک کینسر سے بھی محفوظ رکھتی ہے۔

*♦کھجور♦*

برسوں سے توانائی کی بحالی کیلئے کھجور کی اہمیت کو ترجیح دی جاتی ہے۔ روزانہ اگر کھجور کو اپنی غذا کا حصہ بنا لیا جائے تو بیماریاں خود بخود ہی آپ سے دور ہوجائیں گی۔ کیوی غذائی اجزا سے بھرپور ہونے کے باعث جسم کے باقی حصوں کو بہتر طریقے سے کام کرنے کے قابل بناتا ہے۔ اس میں موجود وٹامن سی انفیکشن سے لڑنے کے لئے خون میں سفید خلیات میں اضافہ کرتا ہے۔

Dr Sohail
25/03/2020

Dr Sohail

Address

Sargodha
40100

Telephone

+923137677888

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mosa Homeopathic Clinic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Mosa Homeopathic Clinic:

Share