Ali Family Clinic-Chak 102nb

Ali Family Clinic-Chak 102nb All your health issues under one roof under supervision of qualified Medical officer and Physician

11/11/2025

پاکستان کیسے ترقی کرے گا؟
جب لوگوں کا یہ ماننا ہو کہ شوگر صرف چینی کھانے سے ہوتی ہے، لیکن دیسی شکر اور گُڑ بے ضرر سمجھے جائیں۔
جب یہ تصور عام ہو کہ دودھ اور چاول بلغم پیدا کرتے ہیں اور زخم میں "ریشہ" ڈال دیتے ہیں۔
جب سانس کے مریض انہیلر لینے کے بجائے پڑوس کی خالہ کی "چالیس سالہ تجربہ کاری" کو ترجیح دیں۔
جب شہر کے بڑے ڈاکٹر کی نسخہ لکھی دوا کا اعتبار ایک میڈیکل اسٹور کے سیلز مین سے پوچھ کر کیا جائے۔
جب شوگر کے مریض ایک دوسرے کو دوا یہ کہہ کر دیں کہ "مجھے آرام آیا، تم بھی کھاؤ"۔
جب لوگ انجیکشن کے ملی گرام اور گرام کا فرق سمجھے بغیر صرف "دو گرام" سن کر خوش ہو جائیں۔
جب 104 بخار والے بچے کو یہ کہہ کر ٹیکہ نہ لگوایا جائے کہ "بخار میں ٹیکہ منع ہوتا ہے"۔
جب زخم پر ڈیزل یا پٹرول لگایا جائے، اور جلی ہوئی جلد پر ٹوتھ پیسٹ مل دی جائے۔
جب سانپ کے کاٹے پر ویکسین کے بجائے کسی "بابے" کے منکے پر یقین کیا جائے۔
جب خسرہ، یرقان، ہسٹیریا جیسے امراض کو جادو، اثر یا جنات سے جوڑ دیا جائے۔
جب سرکاری اسپتالوں میں مریضوں سے بدسلوکی کی جائے اور وہی ڈاکٹر نجی کلینک میں اخلاقیات کا نمونہ بنے ہوں۔
جب گلی محلوں کے ناتجربہ کار ڈسپنسرز، کم پیسوں میں، دکھاوے کی رنگ برنگی دوائیں دے کر مستند ڈاکٹرز کا نعم البدل سمجھے جائیں۔
جب لوگ فون پر علاج کروانا بہتر سمجھیں اور وقت یا پیسہ بچاتے بچاتے اپنی صحت داؤ پر لگا دیں۔

ایسے معاشرے میں ترقی صرف خواب بن جاتی ہے، جب تک صحت کے بارے میں سنجیدہ شعور نہ بیدار کیا جائے۔

یہی مقصد ہمارا ہے: صحت کی آگاہی عام کرنا۔
آئیے! اس پیغام کو پھیلائیں۔ اسے اپنے دوستوں، اہلِ خانہ اور جاننے والوں تک پہنچائیں۔
شئیر کریں، ٹیگ کریں، دعوت دیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ فائدہ اٹھا سکیں۔
کیونکہ آگاہی ہی علاج سے بہتر ہے۔

کینسر کی بھی بھلا ویکسین ہوتی ہے میں اپنی بیٹی کو ویکسین کیوں لگواؤں؟مریض (والدہ): ڈاکٹر صاحب، لوگ کہتے ہیں HPV ویکسین ل...
15/09/2025

کینسر کی بھی بھلا ویکسین ہوتی ہے میں اپنی بیٹی کو ویکسین کیوں لگواؤں؟

مریض (والدہ): ڈاکٹر صاحب، لوگ کہتے ہیں HPV ویکسین لگوانے سے لڑکی آگے جا کے بانجھ ہو جاتی ہے۔ میں ڈر رہی ہوں اپنی بیٹی کو یہ لگواؤں یا نہ لگواؤں۔

ڈاکٹر: آپ کا سوال بہت اہم ہے۔ سب سے پہلے میں یہ واضح کر دوں کہ HPV ویکسین کا بانجھ پن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ دنیا بھر میں لاکھوں بچیاں اور لڑکیاں یہ ویکسین لے چکی ہیں اور سب کے ہاں صحت مند بچے پیدا ہوئے ہیں۔

مریض: لیکن سوشل میڈیا پر تو یہی مشہور ہے کہ ویکسین سے نقصان ہوتا ہے۔

ڈاکٹر: جی، ایسی باتیں زیادہ تر غلط فہمیوں یا افواہوں کی وجہ سے پھیلتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ HPV ویکسین گردنِ رحم کے کینسر اور کچھ دوسرے کینسرز سے بچاؤ کرتی ہے۔ یہ بچیوں کی صحت کے لیے حفاظتی ڈھال ہے۔

مریض: تو کیا میری بیٹی کے لیے یہ ضروری ہے؟

ڈاکٹر: جی، اگر آپ کی بیٹی 9 سے 14 سال کی عمر میں ہے تو اس وقت ویکسین سب سے مؤثر رہتی ہے۔ اگر بعد میں لگوائیں تو فائدہ تب بھی ہوگا، لیکن زیادہ بہتر یہی ہے کہ جلدی لگوا لی جائے۔

مریض: اس کے کوئی سائیڈ ایفیکٹس بھی ہیں؟

ڈاکٹر: عام طور پر ہلکی سی درد یا سوجن بازو میں ہو سکتی ہے، یا کبھی ہلکا بخار، لیکن یہ وقتی ہوتا ہے۔ لمبے عرصے کے لیے کوئی نقصان ثابت نہیں ہوا۔

مریض: اچھا، تو یہ بانجھ پن کا سبب نہیں بنتی؟

ڈاکٹر: بالکل نہیں۔ یہ صرف ایک حفاظتی ویکسین ہے جو مستقبل میں بڑے خطرناک مرض سے بچاتی ہے۔

مریض (اطمینان سے): ٹھیک ہے ڈاکٹر صاحب، پھر میں اپنی بیٹی کو ضرور یہ ویکسین لگواؤں گی۔

30/07/2025

بچوں کے لیے انڈا ! کب کیسے اور کیوں دیں ۔

انڈا ایک مکمل اور متوازن غذا ہے، مگر ہمارے معاشرے میں اس کے حوالے سے مختلف توہمات پائی جاتی ہیں۔ اکثر والدین اس الجھن میں مبتلا ہوتے ہیں کہ بچے کو انڈہ کب سے دینا چاہیے، کتنی مقدار میں دینا مناسب ہے، اور کیا یہ الرجی یا جسم میں "گرمی" پیدا کرتا ہے؟ آئیے ان سوالات کے سادہ، سائنسی اور مستند جوابات جانتے ہیں

انڈا کیوں ضروری ہے؟
۔ انڈا ایک مکمل غذا ہے جو اعلیٰ معیار کی پروٹین، وٹامن B12، وٹامن D، آئرن، کولین اور اومیگا 3 فیٹی ایسڈز سے بھرپور ہوتا ہے (National Institutes of Health, USA)۔
۔ کولین بچے کے دماغ کی نشوونما، یادداشت اور نیورونل فنکشن کے لیے نہایت اہم ہے۔
۔ یہ اجزاء بچے کی جسمانی نشوونما اور ذہنی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

بچے کو انڈہ کس عمر سے دینا چاہیے؟
۔ بچے کو چھ ماہ کی عمر سے انڈہ دینا محفوظ اور مفید ہے۔
۔ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ انڈے میں تاخیر الرجی سے بچا سکتی ہے، لیکن LEAP Study (2015) اور AAP (American Academy of Pediatrics) کی تحقیق کے مطابق، انڈے سمیت ممکنہ الرجینز کو ابتدائی عمر میں دینا الرجی کے خطرے کو کم کر سکتا ہے۔
۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) بھی 6 ماہ کی عمر سے ٹھوس غذاؤں کی شروعات کی حمایت کرتا ہے۔


انڈہ کیسے تیار کر کے دیں؟
۔ انڈے کو اچھی طرح ابال کر دیں، یہاں تک کہ زردی اور سفیدی دونوں مکمل طور پر سخت ہو جائیں۔
۔ بچے کو انڈے کے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ کر کھلائیں۔
۔ کچا، ہاف بوائل یا فرائی انڈہ نہ دیں کیونکہ اس میں سالمونیلا بیکٹیریا موجود ہو سکتا ہے، جو ٹائیفائیڈ جیسی بیماری کا باعث بنتا ہے (CDC – Centers for Disease Control and Prevention)۔

انڈہ کتنی مقدار میں دیا جائے؟
۔ آغاز میں ایک سے دو چائے کے چمچ ہفتے میں دو سے تین بار دینا مناسب ہے۔
۔ بچے کی عمر اور ہضم کی صلاحیت کے مطابق مقدار بتدریج بڑھائی جا سکتی ہے۔

گھر میں انڈے کو خراب ہونے سے کیسے بچائیں؟

انڈوں کو ہمیشہ ریفریجریٹر میں محفوظ کریں تاکہ وہ جراثیم سے محفوظ اور تازہ رہیں (FDA guidelines)۔

انڈے سے الرجی کی علامات کیا ہیں ؟
۔انڈے سے الرجی تقریباً 2–4٪ بچوں میں دیکھی جاتی ہے، جو عام طور پر وقتی ہوتی ہے اور عمر کے ساتھ ختم ہو سکتی ہے۔ علامات میں شامل ہیں:
- جلد پر دھپڑ، سرخی یا چھپاکی
- سینے کی بندش، سانس کی دقت
- قے، پیٹ درد یا دست
نوٹ: اگر ایسی علامات ظاہر ہوں، تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

گرمیوں میں انڈہ دینا چاہیے یا نہیں؟
یہ ایک غلط فہمی ہے کہ انڈہ گرمی پیدا کرتا ہے۔ سائنسی طور پر، انڈے کا گرمی یا سردی سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں۔ اگر انڈہ صحیح طریقے سے پکایا جائے تو یہ ہر موسم میں محفوظ ہے۔

اگر خاندان میں دمہ یا الرجی ہو تو کیا انڈہ دیا جا سکتا ہے؟
اگر بچے یا خاندان کے کسی فرد کو الرجی یا دمہ ہو، تب بھی بچے کو انڈہ دینا محفوظ ہے، جب تک کہ پہلے سے کوئی شدید الرجک ریکشن نہ دیکھا گیا ہو۔

انڈہ ایک غذائیت سے بھرپور، سستی اور مفید غذا ہے۔ اگر اسے محفوظ طریقے سے تیار کر کے مناسب وقت پر دیا جائے، تو یہ بچے کی صحت اور ذہنی نشوونما کے لیے نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

13/07/2025

”غلط انجکشن“
پچھلے ہفتے جب میں اپنے ہسپتال کے وارڈ میں صبح راٶنڈ کر رہا تھا تو مجھے پیچھے سےایک آواز آئی ”ڈاکٹر صاحب میرے بچے کو دیکھیں، نرس نے اسے انجکشن لگا دیا ہے“
یہ آواز ہمارے لیے ایمرجینسی کا پیغام ہوتی ہے۔
میں فورأاس بچے کے پاس پہنچا تو اس کی سانسیں رک رہی تھی،ہونٹ سیاہ ہورہے تھے اور ہاتھ پاؤں پیلے پڑ گئے تھے۔
فاٸل دیکھی توپتا چلا کہ اس مریض کو ابھی او پی ڈی سے ڈاٸریا کے مسلے سےداخل کیا گیا تھا۔
بچےکی ماں اور دادی کا فوری ردعمل یہ تھا کہ جناب ہمارا بچہ تو بالکل ٹھیک تھا، نرس نے ہمارے بچے کو غلط انجکشن لگا دیا ہے۔
انھوں نے چیخنا رونا اور پورے خاندان کو فون ملانا شروع کردیا ... مختلف کمروں سے مریض بھی وہاں جمع ہونا شروع ہو گئے اور ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔
الحمدللہ صورتحال فوری طور پر نمٹائی گئی، بچے کو تھوڑی دیر مصنوعی سانس دی گٸ کی گئی اور بچے کی حالت کے مطابق انجیکچشن لگاۓ گئے .. بچہ ٹھیک ہو گیا تو سب نے سکون کی سانس لی .

یہ وہ کہانی ہے جو زیادہ تر وقت غلط انجیکشن کی صورت میں ہوتی ہےجس کی ہم خبریں سنتے ہیں۔
اب عوام کے لیے تھوڑی سی تفصیل کہ یہ انجیکشن آخر کار غلط کیوں ہو جاتا ہے ؟؟
انسانی جسم کے اندر جب بھی باہر کی کوٸ چیز داخل ہوتی ہے تو جسم اسکو رد کر سکتا ہے۔اس ردعمل کوالرجی کہتے ہیں۔ یہ چیز کچھ بھی ہو سکتی ہے جیسے خوراک (انڈا,مچھلی)، دھواں گرد، ادویات جیسے شربت گولی یا انجیکشن۔
الرجی کسی بھی دواٸ کے انجیکشن سے ہو سکتی ہے اور زیادہ تر وقت اس کا پہلے سے اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے۔ کچھ دوائیوں سے الرجی کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے جیسے پینسلن اینٹی بائیوٹک یا سانپ کی ویکسین وغیرہ اس لیے انکو لگانے سے پہلے تھوڑی مقدار میں ٹیسٹ خوراک لگاٸ جاتی ہے اور پھر اسے شروع کرتے ہیں، لیکن زیادہ تر دوائیوں میں چونکہ الرجی کا خطرہ بہت کم ہوتا ہے تو بغیر ٹیسٹ کے لگاٸ جاتی ہیں۔ بہرحال الرجی کا خطرہ پھر بھی رہتا ہے ۔
انجیکشن سے ہونے اولی الرجی کی نوعیت ہلکی خارش,بخار سے لے کر شدید رد عمل تک سکتی ہے جس میں سے دل کا رکنا، سانس کا بند ہونا اور موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔
عوام کے سمجھنے کے لیے اہم بات یہ ہے کہ عام طور پر ایمرجنسی یا وارڈ میں آنے والے زیادہ تر مریضوں کو وہی روٹین دوا دی جاتی ہے۔اب سب کو تو اس سے مسلہ نہیں ہورہا ہوتا ۔جسکو الرجی ہو گی اسکو مسلہ ہوگا ۔وہاں کام کرنے والے عملے کی کسی آنے والے مریض سے کوئی ذاتی دشمنی تونہیں ہوتی کہ وہ اسے غلط ٹیکہ لگا دے گا ۔ اگر وہی دوا دوسروں کے لیے ٹھیک کام کر رہی ہو اور الرجی ہو جائے تو یہ جسم کا ردعمل ہے جس کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے اور اس میں ڈاکٹر یا نرس کی کوئی غلطی نہیں ہے۔
اب اگر خدانخواستہ یہ صورتحال آپ کے بچے کے ساتھ پیش آتی ہے تو کبھی بھی ہسپتال میں ہنگامہ آرائی شروع نہ کریں۔ اگر آپ براہ راست طبی عملے کو مورد الزام ٹھہرانا اور ہنگامہ شروع کر دیتے ہیں تو اس کا آپکے بچے کی جان پر اسکا اثر پڑے گا ۔ پہلے چند منٹ جو آپ کے بچے کی زندگی بچانے والے ہیں ضائع ہو جائیں گے۔ آپ اس ہنگامے سے کچھ نہیں حاصل کر پائیں گے بلکہ آپ کے بچے کا نقصان ہوگا۔
ہمیشہ اس صورت حال میں فوری طور پر اپنے ڈاکٹر کو بلاٸیں، انہیں اپنے بچے کی ابتدائی طبی امداد کرنے دیں۔
اگر آپ کو پھر بھی لگتا ہے کہ طبی عملے کی طرف سے کوئی کوتاہی ہوئی ہے تو آپ مناسب چینل کے ذریعے درخواست دائر کر سکتے ہیں اور اس کا پیروی کر سکتے ہیں، لیکن اس زندگی بچانے والے ٹاٸم کے دوران وارڈ میں ہنگامہ آرائی کرنے سے مریض کی زندگی بچانے والے منٹ ہی ضائع ہوں گے جسکے دوران اس کی جان بچائی جا سکتی ہے۔

Copied.

09/12/2024

*سردی میں فالج اور ہارٹ اٹیک کی دو بڑی وجوہات ہیں؟*

نمبر 1: لوگ اکثر پانی نہیں پیتے جس سے جسم میں پانی کم ہوجاتا ہے اور خون جم جاتا ہے۔

نمبر2: سردی میں خون کی رگیں تنگ ہوجاتی ہے۔لہذا سردی کے موسم میں گرم مشروبات اور نیم گرم پانی ذیادہ پئیں اور اپنے جسم کو گرم کپڑے،پاجامہ،جرابے، ٹوپی، داستانے چادر کوٹ پہن کر گرم رکھیں۔بوڑھے افراد اور بچوں کا خصوصی خیال رکھیں۔

جس نے ایک انسان کی جان بچائی اس نے گویا کہ ساری انسانیت کی جان بچائی۔

02/11/2024
علی فیملی کلینک چک 102nb میں ہم آپ کے خاندان کی صحت کو ترجیح دیتے ہیں۔ فی میل سٹاف اور لیباٹری کی سہولت موجود ہے۔ اپنا ب...
30/09/2024

علی فیملی کلینک چک 102nb میں ہم آپ کے خاندان کی صحت کو ترجیح دیتے ہیں۔ فی میل سٹاف اور لیباٹری کی سہولت موجود ہے۔ اپنا بلڈ سیمپل دینے کے لیے Ali Family Clinic-Chak 102nb پر تشریف لائیں۔
Google Map Address: https://maps.app.goo.gl/tcM5hkxw4K2rnAKt9


𝐘𝐨𝐮𝐫 𝐇𝐞𝐚𝐥𝐭𝐡, 𝐎𝐮𝐫 𝐏𝐫𝐢𝐨𝐫𝐢𝐭𝐲! علی فیملی کلینک چک 102nb میں ہم آپ کے خاندان کی صحت کو ترجیح دیتے ہیں۔ آج ہی اپنی ملاقات کا و...
30/08/2024

𝐘𝐨𝐮𝐫 𝐇𝐞𝐚𝐥𝐭𝐡, 𝐎𝐮𝐫 𝐏𝐫𝐢𝐨𝐫𝐢𝐭𝐲!
علی فیملی کلینک چک 102nb میں ہم آپ کے خاندان کی صحت کو ترجیح دیتے ہیں۔ آج ہی اپنی ملاقات کا وقت طےکریں۔ لیباٹری کی سہولت اب آپ کے اپنے علاقے میں۔ اپنا بلڈ سیمپل دینے کے لیے Ali Family Clinic-Chak 102nb پر تشریف لائیں۔


𝐘𝐨𝐮𝐫 𝐇𝐞𝐚𝐥𝐭𝐡, 𝐎𝐮𝐫 𝐏𝐫𝐢𝐨𝐫𝐢𝐭𝐲! علی فیملی کلینک چک 102nb میں ہم آپ کے خاندان کی صحت کو ترجیح دیتے ہیں۔ آج ہی اپنی ملاقات کا و...
26/08/2024

𝐘𝐨𝐮𝐫 𝐇𝐞𝐚𝐥𝐭𝐡, 𝐎𝐮𝐫 𝐏𝐫𝐢𝐨𝐫𝐢𝐭𝐲!
علی فیملی کلینک چک 102nb میں ہم آپ کے خاندان کی صحت کو ترجیح دیتے ہیں۔ آج ہی اپنی ملاقات کا وقت طےکریں۔ لیباٹری کی سہولت اب آپ کے اپنے علاقے میں۔ اپنا بلڈ سیمپل دینے کے لیے Ali Family Clinic-Chak 102nb پر تشریف لائیں۔


𝐘𝐨𝐮𝐫 𝐇𝐞𝐚𝐥𝐭𝐡, 𝐎𝐮𝐫 𝐏𝐫𝐢𝐨𝐫𝐢𝐭𝐲! علی فیملی کلینک چک 102nb میں، ہم آپ کے خاندان کی صحت کو ترجیح دیتے ہیں! آج ہی اپنی ملاقات کا ...
22/07/2024

𝐘𝐨𝐮𝐫 𝐇𝐞𝐚𝐥𝐭𝐡, 𝐎𝐮𝐫 𝐏𝐫𝐢𝐨𝐫𝐢𝐭𝐲!
علی فیملی کلینک چک 102nb میں، ہم آپ کے خاندان کی صحت کو ترجیح دیتے ہیں! آج ہی اپنی ملاقات کا وقت طےکریں اور ہماری اعلیٰ ترین نگہداشت کا تجربہ کریں۔ Test Care Lab &DC کے تعاون سے لیباٹری کی سہولت بھی دستیاب ہے۔ Ali Family Clinic-Chak 102nb ہر عمر کے لیے ذاتی نگہداشت فراہم کرنے کے لیے موجود ہے۔


Address

Chak 102nb
Sargodha
40100

Opening Hours

Monday 18:00 - 21:00
Tuesday 18:00 - 21:00
Wednesday 18:00 - 21:00
Thursday 18:00 - 21:00
Friday 18:00 - 21:00
Saturday 18:00 - 21:00
Sunday 18:00 - 21:00

Telephone

+923427668234

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ali Family Clinic-Chak 102nb posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Ali Family Clinic-Chak 102nb:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram