Dr. Sana Ali - Gynaecologist

Dr. Sana Ali - Gynaecologist Dr. Sana Ali (MBBS/F.C.P.S) is specialised consultant Gynecologist. .

13/04/2026

Dr Sana Ali
Consultant Gynaecologist and Obstetrician
Ashraf Medical Centre Sargodha
Timing : 02PM - 05PM
Emergency 24/7

ڈاکٹر ثنا علی
ماہر امراض نسواں و زچہ بچہ
اشرف میڈیکل سینٹر سرگودھا

UAN : 048-3225200

14/09/2025

Urinary Tract Infection and Treatment
پیشاب کی نالی کے انفیکشن سے نجات:
آرام دہ علاج کے طریقےپیشاب کی نالی کا انفیکشن (یو ٹی آئی) پیشاب کے نظام کے کسی بھی حصے، جیسے گردے، مثانہ، یا پیشاب کی نالی کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس انفیکشن کی چند عام علامات رات کو نیند میں خلل ڈال سکتی ہیں، جن میں پیٹ کے نچلے حصے میں درد، بار بار پیشاب کی خواہش، پیشاب کے دوران جلن، اور تھوڑی مقدار میں مسلسل پیشاب آنا شامل ہیں۔ یو ٹی آئی کیسے ہوتا ہے؟یو ٹی آئی پیشاب کے نظام کے کسی بھی حصے میں ہو سکتا ہے، لیکن عام طور پر اس سے مراد مثانے کا انفیکشن ہوتا ہے۔ خواتین میں جسم کی ساخت کی وجہ سے، خاص طور پر تولیدی عمر میں، یہ انفیکشن زیادہ عام ہے۔ یو ٹی آئی کی علاماتصحت مند اور پانی کی وافر مقدار پینے والے افراد کا پیشاب عام طور پر درد سے پاک اور ہلکی سی امونیا کی بو کے ساتھ ہوتا ہے۔ اگر پیشاب میں غیر معمولی بو یا رنگ ہو، تو یہ انفیکشن کی نشاندہی کر سکتا ہے۔ یو ٹی آئی کی چند اہم علامات درج ذیل ہیں: بار بار اور فوری پیشاب کی ضرورت
انفیکشن مثانے کی اندرونی پرت میں سوزش اور حساسیت پیدا کرتا ہے، جس سے پیشاب کی خواہش بڑھ جاتی ہے۔ آپ کو فوری پیشاب کی ضرورت محسوس ہو سکتی ہے، لیکن پیشاب کم مقدار میں اور تکلیف کے ساتھ آتا ہے۔
پیشاب کے دوران درد یا جلن
پیشاب کرتے وقت جلن یا درد (ڈیسوریا) یو ٹی آئی کی ایک عام علامت ہے۔ یہ درد صرف یو ٹی آئی کی وجہ سے ہی نہیں، بلکہ اندام نہانی کے انفیکشن یا دیگر مسائل کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔
بدبودار یا گدلا پیشاب
پیشاب کا گدلا ہونا یا غیر معمولی بدبو یو ٹی آئی یا گردے کی پتھری کی علامت ہو سکتی ہے۔ اگر پیشاب ابر آلود اور بدبودار ہو، تو یہ انفیکشن کی نشاندہی کرتا ہے۔
مثانے پر کنٹرول کی کمی
یو ٹی آئی کے دوران مثانے پر کنٹرول کم ہو سکتا ہے۔ اگر انفیکشن گردوں تک پھیل جائے، تو اس کے ساتھ کمر درد، بخار، اور دیگر علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔

رات کے وقت یو ٹی آئی کی تکلیف سے نجات کے گھریلو طریقےیو ٹی آئی کی علامات نیند میں خلل ڈال سکتی ہیں۔ ان سے نجات کے لیے درج ذیل گھریلو اقدامات کیے جا سکتے ہیں: دن بھر وافر مقدار میں پانی پئیں تاکہ بیکٹیریا خارج ہو سکیں۔
کیفین والی اشیا جیسے چائے، کافی، یا لیموں کے رس والے مشروبات سے پرہیز کریں، کیونکہ یہ مثانے میں جلن بڑھاتے ہیں۔
سونے سے پہلے زیادہ سیال نہ پئیں۔
پیٹ کے نچلے حصے پر گرم پانی کی بوتل یا ہیٹنگ پیڈ رکھیں تاکہ دباؤ اور تکلیف کم ہو۔
سونے سے پہلے مثانہ مکمل طور پر خالی کریں۔
ڈاکٹر کی تجویز کردہ اینٹی بائیوٹکس باقاعدگی سے لیں۔
اگر درد کی دوا کی ضرورت ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

یو ٹی آئی کا طبی علاجانفیکشن کا خاتمہ
ڈاکٹر سے معائنہ کروائیں تاکہ انفیکشن کی نوعیت اور شدت کا پتا چل سکے۔ آپ کی صحت اور بیکٹیریا کی قسم کے مطابق ڈاکٹر اینٹی بائیوٹکس تجویز کر سکتا ہے۔ اینٹی بائیوٹک مزاحمت سے بچنے کے لیے مختصر مدت کا علاج (عام طور پر 7 دن سے کم) تجویز کیا جاتا ہے۔
درد کا علاج
اینٹی بائیوٹکس شروع کرنے کے چند دنوں میں تکلیف کم ہو جاتی ہے۔ ڈاکٹر درد کش ادویات یا دیگر نسخے کی دوائیں بھی تجویز کر سکتا ہے۔ یو ٹی آئی کے علاج کے لیے اینٹی بائیوٹکس ہی واحد حل نہیں ہیں؛ دیگر ادویات بھی ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کی جا سکتی ہیں۔

یو ٹی آئی کی تکلیف سے نجات کے لیے ڈاکٹر سے مشورہ اور گھریلو علاج دونوں اہم ہیں۔ مناسب علاج سے آپ جلد صحت یاب ہو سکتے ہیں۔
Dr. Sana Ali (Consultant Gynaecologist)
Ashraf Medical Complex
Qainchi Mor Sargodha
Phone: 048-3225200
𝐍𝐨𝐭𝐞:
یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں۔ کسی بھی پیچیدگی کی صورت یا اس مسئلے کو اور اچھی طرح سمجھنے کے لیے اپنی قریبی گائناکالوجسٹ سے رابطہ کریں۔
Relief from Urinary Tract Infection:
Comforting Treatment MethodsA urinary tract infection (UTI) can affect any part of the urinary system, including the kidneys, bladder, or urethra. Certain common symptoms can disrupt sleep at night, such as pelvic pain, frequent urge to urinate, burning sensation during urination, and passing small amounts of urine frequently. How Does a UTI Occur?A UTI can occur in any part of the urinary system, but it typically refers to a bladder infection. Due to anatomical structure, women of reproductive age are more prone to this infection. Symptoms of a UTIFor healthy, well-hydrated individuals, urination should be painless, and urine should be odorless or have a mild ammonia-like smell. If this is not the case, a urinary infection may be present. Key symptoms of a UTI include: Frequent and Urgent Urination
The infection causes inflammation and irritation in the bladder lining, making it more sensitive. This leads to a frequent and urgent need to urinate, often with discomfort and in small amounts.
Pain or Burning During Urination
Burning or pain during urination (dysuria) is a common symptom of a UTI. This pain may not only indicate a UTI but could also be a sign of vaginal infections or other issues.
Foul-Smelling or Cloudy Urine
Cloudy urine or an unusual odor can be an early sign of a UTI or kidney stones, especially if the urine is both cloudy and foul-smelling.
Loss of Bladder Control
During a UTI, you may feel less control over your bladder. If the infection spreads to the kidneys, symptoms may include back pain, fever, and the above-mentioned signs.

Home Remedies for UTI Discomfort at NightUTI symptoms can make sleeping difficult. The following home remedies can help you rest comfortably: Drink plenty of water throughout the day to flush out bacteria.
Avoid caffeine-containing drinks like tea, coffee, or lemon-based beverages, as they irritate the bladder and increase urgency and frequency of urination.
Avoid consuming excessive fluids before bedtime.
Use a hot water bottle or heating pad on the lower abdomen to reduce discomfort or pressure.
Empty your bladder completely before going to bed.
Take prescribed antibiotics as directed by your doctor.
Consult your doctor about pain relief medication if needed for better sleep.

Medical Treatment for UTIEliminating the Infection
The first step is to consult a doctor for a proper diagnosis. Based on your health and the type of bacteria, the doctor may prescribe antibiotics. To minimize the risk of antibiotic resistance, a short course of treatment (typically less than 7 days) is recommended.
Pain Management
Within a few days of starting antibiotics, discomfort should subside. Your doctor may also prescribe analgesics or other medications. Antibiotics are not the only option; other prescription medications may be used under medical guidance.

Relief from UTI discomfort requires both medical consultation and home remedies. With proper treatment, you can recover quickly.

Note: This information is for awareness only. In case of any complications or to understand the problem in a better way, consult your nearest Gynecologist.






#
خواتین_کی_صحت

Headache during pregnancy حمل کے دوران سر درد ہارمونل تبدیلیوں کا اثرسر درد متعدد وجوہات سے پیدا ہو سکتا ہے، جن میں جینی...
07/09/2025

Headache during pregnancy حمل کے دوران سر درد
ہارمونل تبدیلیوں کا اثرسر درد متعدد وجوہات سے پیدا ہو سکتا ہے، جن میں جینیاتی عوامل اور غذائی عادات شامل ہیں۔ خواتین میں ہارمونز کی سطح میں تبدیلیاں شدید سر درد یا ماہواری سے متعلق درد شقیقہ کا باعث بنتی ہیں۔ ماہواری، حمل، یا رجونورتی کے دوران ہارمونز کی سطح میں اتار چڑھاؤ سر درد کی وجہ بنتا ہے۔
اس تکلیف سے نجات کے لیے مختلف ادویات اور علاج استعمال کیے جاتے ہیں۔ حمل کے دوران سر درد کا شکار خواتین عموماً بچے کی پیدائش کے بعد اس سے چھٹکارا پا لیتی ہیں۔ 1. ہارمونل سر درد کی وجوہاتہارمونل سر درد، بالخصوص درد شقیقہ، خواتین کے ہارمون ایسٹروجن سے منسلک ہوتا ہے۔ یہ ہارمون دماغ میں کیمیائی مادوں کو کنٹرول کرتا ہے جو درد کے احساسات کو متاثر کرتے ہیں۔ ایسٹروجن کی سطح میں کمی اس کی بنیادی وجہ ہوتی ہے۔ ہارمونز کی تبدیلی کئی عوامل سے ہو سکتی ہے: ماہواری:
ماہواری سے قبل ایسٹروجن اور پروجیسٹرون کی سطح اپنی کم ترین حد تک گر جاتی ہے، جو سر درد کا باعث بنتی ہے۔
حمل:
حمل کے دوران ایسٹروجن کی سطح بڑھ جاتی ہے۔ کچھ خواتین کو اس دوران ہارمونل سر درد ہوتا ہے، جبکہ کچھ کو ابتدائی حمل میں درد شقیقہ کا سامنا ہوتا ہے، جو دوسری سہ ماہی میں ختم ہو جاتا ہے۔ بچے کی پیدائش کے بعد ہارمونز کی سطح تیزی سے گرتی ہے، جو سر درد کو متحرک کر سکتی ہے۔
پری مینوپاز:
پری مینوپاز میں ہارمونز کی سطح میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے سر درد کی شکایت بڑھ جاتی ہے۔ تقریباً دو تہائی خواتین اس دوران درد شقیقہ کا تجربہ کرتی ہیں، لیکن رجونورتی کے بعد یہ علامات بہتر ہو جاتی ہیں۔
مانع حمل گولیاں اور ہارمونل تھراپی:
برتھ کنٹرول گولیاں اور ہارمون ریپلیسمنٹ تھراپی ہارمونز کی سطح میں تبدیلی کا باعث بنتی ہیں۔ یہ تبدیلیاں، خاص طور پر ماہواری کے آخری ہفتے میں، سر درد کے حملوں کو بڑھا سکتی ہیں۔

2. سر درد کے دیگر محرکاتدرد شقیقہ کی ایک بڑی وجہ جینیاتی عوامل بھی ہو سکتے ہیں۔ کئی عوامل مل کر درد شقیقہ کو متحرک کرتے ہیں، جیسے: کھانا چھوڑنا
نیند کی کمی یا ضرورت سے زیادہ نیند
تیز روشنی یا بلند آوازیں
موسم میں تبدیلی
شراب یا کیفین کا استعمال
تناؤ
پرانا پنیر، سویا مصنوعات، یا مصنوعی مٹھاس

3. ہارمونل سر درد کی علاماتہارمونل سر درد کی سب سے نمایاں علامت شدید درد یا درد شقیقہ ہے۔ دیگر علامات میں شامل ہیں: سر کی ایک جانب شدید درد
روشنی یا آواز سے حساسیت
متلی یا الٹی
بھوک میں کمی
تھکن
چہرے پر مہاسے
جوڑوں میں درد
پیشاب کی کمی
قبض
چاکلیٹ یا شراب کی شدید خواہش

4. ہارمونل سر درد کا علاجگھریلو علاج:
سر درد کے آغاز پر فوری علاج سے تیزی سے آرام مل سکتا ہے:

وافر پانی پئیں۔
اندھیرے کمرے میں آرام کریں۔
سر پر ٹھنڈا کپڑا یا آئس بیگ رکھیں۔
درد والی جگہ پر ہلکا مساج کریں۔
گہری سانس لینے کی مشقیں کریں۔
بائیو فیڈ بیک سے درد کی شدت کم کی جا سکتی ہے۔
ڈاکٹر کی تجویز پر میگنیشیم سپلیمنٹس لیں۔
تناؤ کم کرنے اور ایکیوپنکچر یا مساج سے بھی فائدہ ہوتا ہے۔

طبی علاج:
کچھ ادویات سر درد سے نجات دلاتی ہیں۔ بار بار سر درد کا شکار خواتین کو ڈاکٹر خصوصی ادویات یا ماہواری سے قبل دوائیں لینے کی ہدایت کر سکتے ہیں۔
ہارمونل تھراپی:
اگر ادویات کام نہ کریں تو ڈاکٹر ہارمونل تھراپی تجویز کر سکتا ہے۔ مانع حمل گولیاں ہارمونز کو متوازن کر کے سر درد کم کرتی ہیں۔ اگر گولیوں کے باوجود سر درد ہو تو ڈاکٹر خوراک میں تبدیلی کر سکتا ہے۔

ہارمونل سر درد، جو ماہواری یا ہارمونز کی کمی سے ہوتا ہے، طرز زندگی میں تبدیلیوں اور ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات سے کم کیا جا سکتا ہے۔
Dr. Sana Ali (Consultant Gynaecologist)
Ashraf Medical Complex
Qainchi Mor Sargodha
Phone: 048-3225200
𝐍𝐨𝐭𝐞:
یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں۔ کسی بھی پیچیدگی کی صورت یا اس مسئلے کو اور اچھی طرح سمجھنے کے لیے اپنی قریبی گائناکالوجسٹ سے رابطہ کریں۔
Headache Pain: The Impact of Hormonal Changes Headaches can arise from various causes, including genetic factors and dietary habits. In women, fluctuations in hormone levels often lead to severe headaches or menstrual migraines. These changes occur during menstruation, pregnancy, or menopause, triggering headaches.
Relief from this discomfort can be achieved through various medications and treatments. Women who experience headaches during pregnancy often find relief after childbirth. 1. Causes of Hormonal HeadachesHormonal headaches, particularly migraines, are linked to the hormone estrogen in women. This hormone regulates chemicals in the brain that affect pain perception. A drop in estrogen levels is a primary cause. Hormonal changes can stem from several factors: Menstruation:
Estrogen and progesterone levels drop to their lowest just before menstruation, leading to headaches.
Pregnancy:
Estrogen levels rise during pregnancy. Some women experience hormonal headaches, while others may face migraines in early pregnancy, which often subside by the second trimester. Postpartum, a rapid drop in estrogen can trigger headaches.
Perimenopause:
Hormonal fluctuations during perimenopause increase headache frequency. About two-thirds of women experience migraines during this phase, but symptoms often improve after menopause.
Contraceptive Pills and Hormone Replacement Therapy:
Birth control pills and hormone replacement therapy cause fluctuations in hormone levels. These changes, especially during the last week of the menstrual cycle, can intensify headache episodes.

2. Other Triggers of HeadachesGenetics is considered a significant cause of migraines. Several factors combine to trigger migraines, such as: Skipping meals
Insufficient or excessive sleep
Bright lights or loud noises
Weather changes
Alcohol or caffeine consumption
Stress
Aged cheese, soy products, or artificial sweeteners

3. Symptoms of Hormonal HeadachesThe most prominent symptom is severe headache or migraine. Other symptoms include: Intense pain on one side of the head
Sensitivity to light or sound
Nausea or vomiting
Loss of appetite
Fatigue
Acne
Joint pain
Reduced urination
Constipation
Cravings for chocolate or alcohol

4. Treatment of Hormonal HeadachesHome Remedies:
Prompt treatment at the onset of a headache can provide quick relief:

Drink plenty of water.
Rest in a dark room.
Place a cold cloth or ice pack on the head.
Gently massage the affected area.
Practice deep breathing exercises.
Biofeedback can help reduce pain intensity.
Take magnesium supplements as prescribed by a doctor.
Reducing stress and using acupuncture or massage can also provide relief.

Medical Treatment:
Certain medications help alleviate headaches. For women with frequent hormonal headaches, doctors may prescribe specific treatments or medications to be taken before or during the menstrual cycle.
Hormonal Therapy:
If medications are ineffective, a doctor may recommend hormonal therapy. Birth control pills are often used to balance hormones and reduce headaches. If headaches persist despite using these pills, the doctor may adjust the dosage.

Hormonal headaches, often linked to menstruation or a drop in estrogen levels, can be managed through lifestyle changes and doctor-prescribed medications.

Note: This information is for awareness only. In case of any complications or to understand the problem in a better way, consult your nearest Gynecologist.






#حمل

𝐕𝐢𝐭𝐚𝐧𝐦𝐢𝐧 𝐄 𝐚𝐧𝐝 𝐢𝐭𝐬 𝐫𝐨𝐥𝐞 𝐢𝐧 𝐛𝐝𝐲.وٹامن ای: آپ کی صحت اور خوبصورتی کا راز  زندگی ایک خوبصورت سفر ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ...
31/08/2025

𝐕𝐢𝐭𝐚𝐧𝐦𝐢𝐧 𝐄 𝐚𝐧𝐝 𝐢𝐭𝐬 𝐫𝐨𝐥𝐞 𝐢𝐧 𝐛𝐝𝐲.
وٹامن ای: آپ کی صحت اور خوبصورتی کا راز زندگی ایک خوبصورت سفر ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ہم سب کو عمر کے اثرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آج کل تو چھوٹی عمر میں ہی مرد و خواتین دباؤ، تھکاوٹ اور صحت کے مسائل سے دوچار ہو رہے ہیں۔ مردوں کو تناؤ، ذیابیطس، دل کے امراض اور موٹاپے جیسے مسائل گھیر رہے ہیں، جبکہ خواتین کو ہارمونز کی خرابی، پی سی او ایس، اور وقت سے پہلے رجونورتی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ لیکن فکر نہ کریں، ایک چھوٹا سا وٹامن ای کیپسول آپ کی صحت، خوبصورتی اور توانائی کو بحال کر سکتا ہے۔ آئیے جانیں کہ وٹامن ای کس طرح آپ کی زندگی بدل سکتا ہے۔ وٹامن ای کیا ہے؟وٹامن ای ایک طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ ہے جو جسم کے خلیوں کو نقصان سے بچاتا ہے اور صحت کو بہتر بناتا ہے۔ یہ جلد کی چمک، بالوں کی مضبوطی، دل کی صحت، اور ہارمونز کے توازن کے لیے ضروری ہے۔ آپ اسے اپنی روزمرہ کی غذا، جیسے کہ بادام، مونگ پھلی، پالک، ایوکاڈو، اور سورج مکھی کے بیجوں سے حاصل کر سکتے ہیں، لیکن وٹامن ای کا کیپسول (جیسے Evion 400 mg) اس کی کمی کو پورا کرنے کا آسان اور موثر طریقہ ہے۔ وٹامن ای کے جادوئی فوائدچمکتی ہوئی جلد: وٹامن ای جلد کے داغ دھبوں، جھریوں، ایکنی اور فریکلز کو کم کرتا ہے۔ تین ماہ کے مسلسل استعمال سے آپ کی جلد سولہ سال کی عمر جیسی چمکدار اور ہموار ہو سکتی ہے۔ یہ جلد کی نمی کو برقرار رکھتا ہے اور بڑھتی عمر کے اثرات کو روکتا ہے۔
صحت مند بال: بالوں کی جھڑن، سفیدی، اور خشکی کا حل وٹامن ای میں چھپا ہے۔ یہ بالوں کو گھنا، مضبوط اور چمکدار بناتا ہے۔ مسلسل استعمال سے گنج پن اور بالوں کے دیگر مسائل سے نجات ملتی ہے۔
دل کی حفاظت: وٹامن ای دل کی شریانوں کو مضبوط کرتا ہے اور ہارٹ اٹیک کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کرتا ہے۔ یہ خون کی روانی کو بہتر بناتا ہے اور دل کو صحت مند رکھتا ہے۔
ہارمونل توازن: خواتین میں حیض کے مسائل، پی سی او ایس، اور رجونورتی کی علامات کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ مردوں میں یہ جنسی صحت کو بہتر بناتا ہے اور بانجھ پن کے خطرے کو کم کرتا ہے۔
توانائی اور مدافعتی نظام: وٹامن ای جسم میں توانائی بڑھاتا ہے، تھکاوٹ اور تناؤ کو دور کرتا ہے، اور مدافعتی نظام کو مضبوط بناتا ہے۔ یہ آپ کو ہر وقت چاق و چوبند رکھتا ہے۔
اسقاط حمل سے تحفظ: یہ حمل کے دوران ماں اور بچے کی صحت کے لیے ضروری ہے، کیونکہ یہ اسقاط حمل کے خطرے کو کم کرتا ہے اور جنسی ہارمونز کو متوازن رکھتا ہے۔
کینسر سے تحفظ: اس کا اینٹی آکسیڈنٹ اثر جسم کو کینسر جیسے امراض سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔

استعمال کا طریقہکیپسول: Evion 400 mg کا کیپسول صبح ناشتے کے 10 منٹ بعد پانی کے ساتھ لیں۔
اہم ہدایات: صرف 400 ملی گرام والا کیپسول استعمال کریں۔ 200 یا 600 ملی گرام والے کیپسول سے گریز کریں، کیونکہ کم طاقت کا اثر کم ہوتا ہے اور زیادہ طاقت بعض افراد کو پریشان کر سکتی ہے۔
استعمال کا دورانیہ: دو ہفتوں تک روزانہ لیں، پھر دو دن کا وقفہ کریں۔ تین ماہ تک مسلسل استعمال سے حیرت انگیز نتائج ملیں گے۔
دستیابی: یہ کیپسول ہر میڈیکل سٹور پر آسانی سے مل جاتا ہے اور سستا بھی ہے۔
رات کے کھانے کے بعد: 15 منٹ کی ہلکی چہل قدمی شروع کریں، یہ نتائج کو مزید بہتر بنائے گی۔

وٹامن ای کی کمی کی علاماتپٹھوں کی کمزوری: وٹامن ای کی کمی سے پٹھوں اور اعصابی نظام کمزور ہو سکتا ہے، جس سے چلنے میں دشواری ہوتی ہے۔
تھکاوٹ: جسم میں توانائی کی کمی اور مسلسل تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے۔
ہاضمے کے مسائل: نظام ہضم ٹھیک سے کام نہیں کرتا، جو مدافعتی نظام کو کمزور کرتا ہے۔
جلد اور بالوں کے مسائل: جلد کی خشکی، داغ دھبے، اور بالوں کی کمزوری اس کی کمی کی علامات ہیں۔

خاص ہدایاتحاملہ اور دودھ پلانے والی مائیں بلا خوف اسے استعمال کر سکتی ہیں، لیکن ڈاکٹر سے مشورہ لازمی کریں۔
رات کو اس کا استعمال نہ کریں، کیونکہ اس سے موٹاپے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔
طویل مدتی استعمال سے پہلے ڈاکٹر سے تصدیق کریں تاکہ کسی ممکنہ مضر اثر سے بچا جا سکے۔

ہماری دعاہم امید کرتے ہیں کہ یہ معلومات آپ کی صحت اور خوبصورتی کے سفر کو مزید خوبصورت بنائے گی۔ وٹامن ای آپ کی زندگی میں ایک چھوٹا سا معجزہ لا سکتا ہے۔ اگر آپ کے کوئی سوالات ہیں تو اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو صحت، خوبصورتی اور خوشی عطا فرمائے۔ آمین۔
Dr. Sana Ali (Consultant Gynaecologist)
Ashraf Medical Complex
Qainchi Mor Sargodha
Phone: 048-3225200
𝐍𝐨𝐭𝐞:
یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں۔ کسی بھی پیچیدگی کی صورت یا اس مسئلے کو اور اچھی طرح سمجھنے کے لیے اپنی قریبی گائناکالوجسٹ سے رابطہ کریں۔
Vitamin E: The Secret to Your Health and Beauty: Life is a beautiful journey, but as time passes, the signs of aging and stress begin to show. Nowadays, even at a young age, men and women face challenges like stress, fatigue, and health issues. Men are grappling with tension, diabetes, heart diseases, and obesity, while women face hormonal imbalances, PCOS, and premature menopause. But don’t worry a small Vitamin E capsule, such as Evion 400 mg, can transform your health, beauty, and energy levels. Let’s explore how Vitamin E can change your life.
What is Vitamin E?Vitamin E is a powerful antioxidant that protects your body’s cells from damage and promotes overall well-being. It supports glowing skin, strong hair, heart health, and hormonal balance. You can find it in foods like almonds, peanuts, spinach, avocados, and sunflower seeds, but a Vitamin E capsule (like Evion 400 mg) is an easy and effective way to meet your needs.
Magical Benefits of Vitamin ERadiant Skin: Vitamin E reduces wrinkles, acne, scars, and freckles. With three months of regular use, your skin can look as radiant and smooth as a teenager’s. It keeps your skin hydrated and slows down aging signs.
Healthy Hair: It tackles hair fall, premature graying, and dandruff, making hair thick, strong, and shiny. Consistent use prevents baldness and other hair issues.
Heart Protection: Vitamin E strengthens heart arteries and significantly reduces the risk of heart attacks. It improves blood circulation and keeps your heart healthy.
Hormonal Balance: For women, it helps with irregular periods, PCOS, and menopausal symptoms. For men, it enhances sexual health and reduces the risk of infertility.
Energy and Immunity: Vitamin E boosts energy, eliminates fatigue and stress, and strengthens the immune system, keeping you active and vibrant.
Prevents Miscarriage: Essential during pregnancy, it reduces the risk of miscarriage and supports healthy hormonal function for both mother and baby.
Cancer Protection: Its antioxidant properties help protect against cancer by preventing harmful cell changes.

How to Use Vitamin ECapsule: Take one Evion 400 mg capsule with water 10 minutes after breakfast.
Important Instructions: Use only the 400 mg capsule. Avoid 200 mg (less effective) or 600 mg (may cause discomfort for some).
Duration: Take daily for two weeks, then take a two-day break. Three months of consistent use will yield remarkable results.
Availability: This capsule is easily available at any medical store and is affordable.
After Dinner: Start a 15-minute light walk after dinner to enhance results.

Signs of Vitamin E DeficiencyMuscle Weakness: Lack of Vitamin E can weaken muscles and the nervous system, causing difficulty in walking.
Fatigue: You may feel constant tiredness and low energy.
Digestive Issues: Vitamin E deficiency affects digestion and weakens immunity, especially in older adults.
Skin and Hair Problems: Dry skin, blemishes, and hair issues like thinning or graying are common signs.

Special InstructionsPregnant and breastfeeding women can safely use it, but always consult a doctor first.
Avoid taking it at night to prevent potential weight gain.
Confirm with a doctor before long-term use to avoid any side effects.

We hope this information enhances your journey toward health and beauty. Vitamin E can bring a small miracle to your life. If you have questions, consult your doctor. May Allah bless you with health, beauty, and happiness. Ameen.

Note: This information is for awareness only. In case of any complications or to understand the problem in a better way, consult your nearest Gynecologist.

𝐖𝐡𝐚𝐭 𝐢𝐬 𝐅𝐨𝐥𝐢𝐜 𝐀𝐜𝐢𝐝 𝐚𝐧𝐝 𝐰𝐡𝐚𝐭 𝐢𝐬 𝐢𝐭𝐬 𝐫𝐨𝐥𝐞 𝐝𝐮𝐫𝐢𝐧𝐠 𝐩𝐫𝐞𝐠𝐧𝐚𝐧𝐜𝐲?فولک ایسڈ کیا ہے اور حمل میں اس کا استعمال کیوں ضروری ہے؟فولک ا...
28/08/2025

𝐖𝐡𝐚𝐭 𝐢𝐬 𝐅𝐨𝐥𝐢𝐜 𝐀𝐜𝐢𝐝 𝐚𝐧𝐝 𝐰𝐡𝐚𝐭 𝐢𝐬 𝐢𝐭𝐬 𝐫𝐨𝐥𝐞 𝐝𝐮𝐫𝐢𝐧𝐠 𝐩𝐫𝐞𝐠𝐧𝐚𝐧𝐜𝐲?
فولک ایسڈ کیا ہے اور حمل میں اس کا استعمال کیوں ضروری ہے؟فولک ایسڈ، وٹامن بی کی ایک اہم قسم ہے، جو ہمارے جسم کے لیے ایک انمول تحفہ ہے۔ یہ قدرتی طور پر مختلف غذاؤں جیسے کہ دال، مٹر، خشک پھلیاں، سنتری، گندم کی خالص مصنوعات، جگر، اسفراگس، چقندر، بروکولی، برسلز سپراؤٹس اور پالک میں پایا جاتا ہے۔ یہ جسم میں نئے خلیوں کی تشکیل اور ان کی دیکھ بھال میں مدد دیتا ہے، اور ڈی این اے میں نقصان دہ تبدیلیوں کو روک کر کینسر جیسے امراض سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ حمل میں فولک ایسڈ کی اہمیتفولک ایسڈ حمل کے دوران ماں اور بچے دونوں کے لیے ایک نعمت ہے۔ یہ ماں کو خون کی کمی (انیمیا) سے بچاتا ہے، جو فولک ایسڈ کی کمی سے ہو سکتی ہے۔ سب سے اہم بات، یہ بچے میں اعصابی ٹیوب کے نقائص کو 60 سے 70 فیصد تک کم کرتا ہے، جو بچے کی نشوونما کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ یہ اسقاط حمل کے خطرے کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ قبل از وقت پیدائش، نشوونما میں تاخیر، اور جسمانی کمزوری جیسے مسائل سے بھی بچاؤ فراہم کرتا ہے۔ فولک ایسڈ نہ صرف حمل کے دوران بلکہ 15 سے 45 سال کی عمر کی تمام خواتین کے لیے لازمی ہے، کیونکہ یہ جسم کو صحت مند رکھنے اور مستقبل میں حمل کی تیاری میں مدد دیتا ہے۔ یہ ماں کے جسم کو مضبوط بناتا ہے، خون کے سرخ خلیوں کی پیداوار کو بہتر کرتا ہے، اور بچے کی دماغی و جسمانی نشوونما کو فروغ دیتا ہے۔ مزید برآں، یہ ماں کے مدافعتی نظام کو مضبوط کرتا ہے اور حمل کے دوران توانائی کی سطح کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ہماری دعاہم امید کرتے ہیں کہ یہ معلومات آپ کے لیے رہنما ثابت ہوں گی اور آپ کے حمل کے سفر کو مزید خوبصورت بنائیں گی۔ اگر آپ کے کوئی سوالات ہیں، تو اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں یا ہم سے رابطہ کریں۔ اللہ تعالیٰ آپ اور آپ کے بچے کو صحت و تندرستی عطا فرمائے۔ آمین۔
Dr. Sana Ali (Consultant Gynaecologist)
Ashraf Medical Complex
Qainchi Mor Sargodha
Phone: 048-3225200
𝐍𝐨𝐭𝐞:
یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں۔ کسی بھی پیچیدگی کی صورت یا اس مسئلے کو اور اچھی طرح سمجھنے کے لیے اپنی قریبی گائناکالوجسٹ سے رابطہ کریں۔
What is Folic Acid?
Folic acid is a type of B vitamin commonly found in foods such as legumes, peas, lentils, oranges, whole wheat products, liver, asparagus, beets, broccoli, Brussels sprouts, and spinach. Folic acid helps your body produce and maintain new cells and aids in preventing changes to DNA that could lead to cancer.
Why is Folic Acid Important During Pregnancy?
During pregnancy, folic acid provides numerous benefits for both the mother and the baby.
Benefits for the Mother:
1. Prevention of Anemia: Folic acid helps prevent anemia caused by folic acid deficiency.
2. Supports Fetal Development: It is crucial for the baby's development, particularly for the development of the nervous system.
Benefits for the Baby:
1. Prevention of Neural Tube Defects: The use of folic acid can prevent neural tube defects and disabilities in the baby by approximately 60 to 70 percent.
2. Reduced Risk of Miscarriage: Folic acid use lowers the risk of miscarriage.
3. Reduced Risk of Preterm Birth: It protects against preterm birth, developmental issues, and physical weakness in the baby.
Importance for All Women:
Folic acid is essential not only for pregnant women but also for all women aged 15 to 45, as it is crucial for overall health and prepares the body for future pregnancies.
Key Dietary Sources of Folic Acid:
• Legumes and Lentils: Beans, chickpeas, lentils
• Fruits: Oranges, papaya
• Vegetables: Spinach, broccoli, asparagus
• Grains: Whole wheat products
• Meats: Liver
Recommended Intake of Folic Acid:
Pregnant women are generally advised to consume 400 to 600 micrograms of folic acid daily. However, the appropriate amount should be determined according to a doctor's recommendations.
Proper and regular intake of folic acid enhances the health of both the mother and the baby and helps prevent various medical issues.
𝐍𝐨𝐭𝐞: This information is for awareness only. In case of any complications or to understand the problem in a better way, consult your nearest Gynecologist.









𝐅𝐨𝐨𝐝 𝐆𝐮𝐢𝐝𝐞𝐥𝐢𝐧𝐞𝐬 𝐟𝐨𝐫 𝐍𝐞𝐰𝐥𝐲 𝐁𝐨𝐫𝐧بچوں کو نرم و ٹھوس غذائیں کب و کیسے متعارف کروائیں؟  بچے کی نشوونما ایک نازک و خوبصورت سفر...
21/08/2025

𝐅𝐨𝐨𝐝 𝐆𝐮𝐢𝐝𝐞𝐥𝐢𝐧𝐞𝐬 𝐟𝐨𝐫 𝐍𝐞𝐰𝐥𝐲 𝐁𝐨𝐫𝐧
بچوں کو نرم و ٹھوس غذائیں کب و کیسے متعارف کروائیں؟ بچے کی نشوونما ایک نازک و خوبصورت سفر ہے، اور اس سفر میں ماں کا دودھ بچے کی زندگی کے ابتدائی دنوں میں ایک بیش بہا نعمت ہے۔ آئیے، ہم آپ کی رہنمائی کرتے ہیں کہ آپ اپنے ننھے پھول کو نرم اور ٹھوس غذائیں کب اور کیسے متعارف کروائیں تاکہ وہ صحت مند، شاداب اور خوشحال رہے۔ پہلے چھ ماہ: ماں کا دودھ، بہترین غذاپہلے چھ ماہ تک بچے کی جسمانی و ذہنی نشوونما کے لیے ماں کا دودھ ایک مکمل غذا ہے۔ یہ بچے کی ہر ضرورت کو پورا کرتا ہے۔ اس لیے اس عرصے میں صرف ماں کا دودھ ہی دینا چاہیے۔ اگر کسی طبی وجہ سے ماں کا دودھ نہ مل سکے، تو ڈاکٹر کے مشورے سے فارمولا دودھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اہم نوٹ: ایک سال سے کم عمر بچوں کو کھلا دودھ (جیسے گائے یا بھینس کا دودھ) بالکل نہ دیں۔ اس کی وجوہات یہ ہیں: کھلے دودھ میں آئرن کی کمی ہوتی ہے، جو خون کی کمی (انیمیا) کا باعث بن سکتی ہے۔
اس میں پروٹین اور معدنیات ضرورت سے زیادہ ہوتے ہیں، جو بچے کے گردوں پر بوجھ ڈالتے ہیں۔
اس سے بچے کو پروٹین الرجی کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے۔

چھ ماہ کے بعد: نرم غذاؤں کا آغازجب بچہ چھ ماہ کا ہو جاتا ہے، تو ماں کے دودھ کے ساتھ ساتھ نرم غذائیں بھی اس کی نشوونما کے لیے ضروری ہوتی ہیں۔ اس عمر میں بچے کو آہستہ آہستہ نرم غذائیں متعارف کروائیں۔
بچے کی تیاری کی علامات: بچے کی بھوک بڑھ جاتی ہے اور وہ بار بار بھوک کی وجہ سے روتا ہے۔
جب کوئی اس کے قریب کھانا کھا رہا ہو، تو وہ منہ کھولتا ہے یا کھانے کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے۔
بچہ اپنی گردن خود سنبھال سکتا ہے اور سہارے کے ساتھ بیٹھ سکتا ہے۔

کون سی نرم غذائیں دی جائیں؟بچے کے لیے نرم غذاؤں کے انتخاب میں بہت سی صحت بخش چیزیں شامل کی جا سکتی ہیں: سبزیاں: ابلے ہوئے آلو، گاجر، شکرقندی، گوبھی، کدو، گھیا کدو، شلجم وغیرہ۔
دالیں: مونگ دال، چنا دال، موٹا لوبیا، چنے وغیرہ۔
تازہ پھل: کیلا، آم، پپیتا، خربوزہ، سیب، آڑو وغیرہ۔
اناج: چاول، گندم، سوجی، ساگودانہ۔
انڈے کی زردی: اچھی طرح پکا کر۔

نرم غذائیں دینے کا بہترین طریقہبچے کو نرم غذائیں متعارف کروانے کا عمل نرمی اور احتیاط سے کرنا چاہیے: ایک وقت میں ایک غذا: 6 سے 9 ماہ کی عمر میں ایک وقت میں صرف ایک قسم کی غذا دیں۔ مثال کے طور پر، اگر آپ نے ابلا ہوا میشڈ آلو شروع کیا، تو 5 سے 7 دن تک صرف یہی دیں۔ اس دوران: دیکھیں کہ بچے کو اس کا ذائقہ پسند آیا یا نہیں۔
چیک کریں کہ اس سے پیٹ کا کوئی مسئلہ تو نہیں ہو رہا۔
فوڈ الرجی کی علامات (جیسے جلد پر سرخی یا خارش) پر نظر رکھیں۔

اگر سب کچھ نارمل رہے، تو ہر 5 سے 7 دن بعد ایک نئی غذا متعارف کروائیں اور پچھلی غذا بند کر دیں۔ اس سے فوڈ الرجی کی وجہ بننے والی چیز کی نشاندہی بھی ہو جائے گی۔
فوڈ الرجی یا پیٹ کے مسائل: اگر بچے کو الرجی یا پیٹ کی تکلیف ہو، تو فوری طور پر وہ غذا بند کر دیں اور ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
غذا کی تیاری: ہر غذا کو اچھی طرح ابال کر پیوری کی شکل میں دیں۔
9 سے 12 ماہ: اس عمر میں مختلف غذاؤں کو ملا کر دینا شروع کر سکتے ہیں۔
نمک و چینی: معمولی مقدار میں نمک شامل کیا جا سکتا ہے، لیکن چینی بالکل نہ ڈالیں۔
گاڑھا پن: شروع میں پتلی پیوری دیں، پھر آہستہ آہستہ گاڑھا کریں اور مقدار بڑھائیں۔
پھلوں کا تعارف: تازہ پھلوں کو آخر میں متعارف کروائیں، کیونکہ میٹھا ذائقہ پہلے دینے سے بچہ دیگر غذاؤں کا ذائقہ قبول کرنے میں دشواری محسوس کر سکتا ہے۔

کتنی مقدار میں غذائیں دیں؟6 سے 9 ماہ: بچے کی بھوک کا 75% ماں کے دودھ سے اور 25% نرم غذاؤں سے پورا کریں۔
ایک وقت میں ایک قسم کی پکی ہوئی غذا دیں، جو میشڈ یا پیوری کی شکل میں ہو۔
شروع میں 2 سے 3 چھوٹے چمچ دیں، پھر آہستہ آہستہ مقدار بڑھائیں۔
9 ماہ کے آخر تک بچے کو تقریباً 125 ملی لیٹر (ایک چھوٹا کپ) جتنی مقدار لینی چاہیے۔
دن میں 2 سے 3 بار کھانا دیں اور درمیان میں تھوڑا پانی بھی پلا سکتے ہیں۔

9 سے 12 ماہ: بھوک کا 50% ماں کے دودھ سے اور 50% نرم غذاؤں سے پورا کریں۔
درمیانے گاڑھے کھانے دیں، جن میں نرم چھوٹے ٹکڑے ہوں تاکہ بچہ چبانے اور نگلنے کی عادت سیکھے۔
دن میں 3 سے 4 بار تقریباً 125 ملی لیٹر جتنی مقدار دیں۔
فنگر فوڈز (جیسے پکی ہوئی نرم گاجر کا لمبا ٹکڑا) متعارف کروائیں تاکہ بچہ خود کھانا سیکھے۔
کھانے کے درمیان پانی بھی پلا سکتے ہیں۔

1 سے 2 سال: بھوک کا 75% گھریلو پکے ہوئے کھانوں سے اور 25% ماں کے دودھ سے پورا کریں۔
دن میں 3 سے 4 بار تقریباً 180 ملی لیٹر جتنی مقدار دیں۔

ایک سال سے پہلے یہ غذائیں نہ دیںکچھ غذائیں ایک سال سے کم عمر بچوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں، کیونکہ ان سے الرجی، چوکنگ یا دیگر مسائل ہو سکتے ہیں: ہر قسم کا گوشت
کھلا دودھ
شہد
سی فوڈ
خشک میوہ جات
دانے دار پھل (جیسے انگور)
زیادہ نمک یا چینی

آپ کے لیے دعاہم امید کرتے ہیں کہ یہ رہنمائی آپ کے لیے مفید ثابت ہوگی اور آپ کے بچے کی صحت و نشوونما کے سفر کو آسان بنائے گی۔ اگر آپ کے کوئی سوالات ہیں، تو براہ کرم تبصروں میں پوچھیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کے ننھے فرشتے کو صحت، خوشی اور خیر عطا فرمائے، اور آپ کے لیے اس کی پرورش میں آسانی پیدا فرمائے۔ آمین۔
Dr. Sana Ali (Consultant Gynaecologist)
Ashraf Medical Complex
Qainchi Mor Sargodha
Phone: 048-3225200
𝐍𝐨𝐭𝐞:
یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں۔ کسی بھی پیچیدگی کی صورت یا اس مسئلے کو اور اچھی طرح سمجھنے کے لیے اپنی قریبی گائناکالوجسٹ سے رابطہ کریں۔
When and How to Introduce Soft and Solid Foods to Your Baby
For the first six months, a mother's milk is sufficient for the baby's physical and mental growth. Therefore, during this period, the baby should only be fed breast milk.
🟥 Breastfeeding and Formula Milk:
• If the mother or baby has medical reasons preventing breastfeeding, formula milk can be given as per the doctor's advice.
• However, remember that before the age of one year, babies should not be given any kind of unprocessed milk for the following reasons:
1. It contains low amounts of iron, which can lead to anemia (iron deficiency) in babies.
2. It has excessive amounts of proteins and minerals, which can unnecessarily burden the baby's kidneys.
3. The proteins in it can cause allergies.
🟥 Introducing Soft Foods at 6 Months:
• At six months, along with milk, soft foods become essential for the baby's physical and mental development.
• Before starting, check for these signs to ensure your baby is ready for soft foods:
o The baby’s hunger increases, causing frequent crying due to hunger.
o The baby opens their mouth and tries to grab food when someone is eating nearby.
o The baby can hold their neck and sit with support.
🟥 Types of Soft Foods for Babies: There are many options for soft foods:
• Vegetables: Potatoes, carrots, sweet potatoes, cauliflower, pumpkin, bottle gourd, turnips, etc.
• Pulses: Moong dal, chickpeas, kidney beans, lentils, etc.
• Fresh Fruits: Bananas, mangoes, papaya, melons, apples, peaches, etc.
• Grains: Rice, wheat, semolina, sago.
• Egg Yolk
🟥 Best Practices for Introducing Soft Foods:
• During the 6-9 months period, do not introduce all foods at once; introduce them one by one. For instance, if you start with mashed boiled potatoes, continue giving them for the next 5-7 days while monitoring for:
o Whether the baby has developed a taste for it.
o Any stomach issues arising from it.
o Any signs of food allergies.
o If everything is fine, gradually introduce the next food while discontinuing the previous one. This will help identify any food causing allergies.
• If severe allergy or stomach issues arise, stop that food immediately and consult your doctor.
• Always give fully boiled and pureed food.
• From 9-12 months, you can mix different foods.
• Add a minimal amount of salt and avoid adding sugar.
• Start with thin foods in small quantities, gradually thickening and increasing the quantity.
• Try to introduce fresh fruits last, as early introduction of sweet foods can make it harder for the baby to develop a taste for other foods, sometimes leading to rejection of certain foods.
🟥 Quantity of Soft Foods:
🏥 6 to 9 Months:
• 75% of the baby’s hunger should be satisfied with breast milk and 25% with soft foods.
• Only give one type of food at a time, fully cooked.
• Initially give thin food and gradually make it thicker. Ensure it is in mashed or pureed form without solid pieces to prevent choking.
• Feed 2-3 times a day.
• Start with 2-3 small spoons and gradually increase the quantity.
• By the end of 9 months, the baby should be able to consume around 125 ml per meal.
• Offer a little water between meals.
🏥 9 to 12 Months:
• 50% of the baby’s hunger should be satisfied with breast milk and 50% with soft foods.
• You can mix different foods.
• Give moderately thick foods with small, soft pieces to help the baby develop chewing and swallowing habits.
• Feed 3-4 times a day.
• Give around 125 ml per meal.
• Offer finger foods like long soft vegetable sticks (e.g., cooked carrot) to help the baby learn to eat by themselves.
• Offer water between meals.
🏥 1 to 2 Years:
• 75% of the baby’s hunger should be satisfied with all types of home-cooked foods and 25% with breast milk.
• Feed 3-4 times a day.
• Give around 180 ml per meal.
🟥 Foods to Avoid Before One Year:
• All types of meat
• All kinds of unprocessed milk
• Honey
• Seafood
• Nuts
• Grape-like granular fruits
• Salt
• Sugar
𝐍𝐨𝐭𝐞:: This information is for awareness only. In case of any complications or to understand the problem in a better way, consult your nearest Gynecologist.









Address

Sargodha
40100

Opening Hours

Monday 15:30 - 18:00
Tuesday 15:30 - 18:00
Wednesday 15:30 - 18:00
Thursday 15:30 - 18:00
Friday 15:30 - 18:00
Saturday 15:30 - 18:00

Telephone

+92483225200

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Sana Ali - Gynaecologist posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category