29/03/2026
*میرے مُصطفٰی ﷺ ہیں عظیم تر*
*سخاوتِ مصطفٰی ﷺ — وہ مثال جو کبھی دیکھی نہ سنی گئی*
نبی کریم ﷺ کی مبارک سیرت کا ایک روشن پہلو سخاوت اور دریا دلی ہے۔ آپ ﷺ کی ذات مبارکہ ایسی تھی کہ دینے میں کبھی کمی نہ کی، چاہے اپنے پاس کچھ موجود ہو یا نہ ہو، آپ ﷺ کا دل ہمیشہ امت کی خیر خواہی اور مدد کے لیے کھلا رہتا تھا۔
*اللہ پر کامل توکل اور بے مثال فیاضی*
ایک شخص نے بارگاہِ رسالت ﷺ میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:
“اس وقت میرے پاس کچھ نہیں، لیکن تم میرے نام پر اپنی ضرورت خرید لو، جب میرے پاس آئے گا تو ادا کر دوں گا۔”
یہ وہ مقامِ یقین تھا جہاں دنیاوی وسائل نہیں بلکہ اللہ کی ذات پر کامل بھروسہ تھا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اللہ نے آپ کو استطاعت سے زیادہ مکلف نہیں بنایا، مگر ایک انصاری صحابی نے عرض کیا:
“یا رسول اللہ ﷺ! آپ خرچ کرتے جائیں، مالکِ عرش آپ کو کبھی کمی میں نہیں ڈالے گا۔”
یہ سن کر حضور ﷺ مسکرا دیے اور فرمایا:
“مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے۔”
*دلوں کو جیت لینے والی سخاوت*
حضرت صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
“حضور ﷺ نے مجھے غزوہ حنین کے دن اتنا مال عطا فرمایا کہ پہلے آپ مجھے سب سے زیادہ ناپسند تھے، پھر آپ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہو گئے۔”
یہ صرف مال نہیں تھا، بلکہ محبت بانٹنے کا انداز تھا جس نے دلوں کو بدل دیا۔
*کبھی مال جمع نہ کیا*
حضرت بلال رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:
“نبی کریم ﷺ کے پاس کبھی مال جمع نہ رہتا، جو آتا فوراً اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتے۔”
اگر کوئی حاجت مند آتا تو آپ ﷺ قرض لے کر بھی اس کی مدد فرماتے۔
*قرض لے کر بھی عطا کرنا*
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ:
آپ ﷺ نے قرض لے کر ایک سائل کو دیا، اور جب قرض خواہ آیا تو اسے دگنا ادا فرمایا — آدھا قرض اور آدھا عطیہ۔
یہ ہے رحمتِ عالم ﷺ کی شانِ کرم۔
مانگنے والے کو کبھی خالی نہ لوٹایا
ایک صحابی نے وہ چادر مانگ لی جو آپ ﷺ نے خود پہن رکھی تھی، آپ ﷺ نے فوراً عطا فرما دی۔
حالانکہ صحابہ نے انہیں روکا بھی، مگر وہ جانتے تھے کہ:
“حضور ﷺ کبھی کسی سائل کو منع نہیں فرماتے۔”
اور واقعی وہ چادر بعد میں ان کا کفن بنی — یہ تھی نیت کی سچائی اور نبی ﷺ کی عطا۔
معاملات میں بھی کرم کا انداز
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اونٹ خریدا، قیمت بھی ادا کی، اور آخر میں اونٹ بھی واپس دے دیا اور دعا بھی دی:
“اللہ تمہیں برکت دے۔”
یہ صرف تجارت نہیں تھی، بلکہ محبت اور برکت کا سبق تھا۔
ہمیں کیا سیکھنا چاہیے؟
آج ہم اگر اپنے نبی ﷺ کی سیرت سے سبق لیں تو:
اللہ پر کامل بھروسہ پیدا کریں
اپنی استطاعت کے مطابق ضرورتمندوں کی مدد کریں
دینے میں خوشی محسوس کریں
کسی سائل کو خالی نہ لوٹائیں
حقیقی کامیابی یہی ہے کہ ہم اپنے نبی ﷺ کے اخلاق کو اپنائیں
اللہ تعالیٰ ہمیں حضور اکرم ﷺ کی سیرت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں بھی دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے والا بنائے۔ آمین
درود شریف پڑھیں اور آگے شیئر کریں تاکہ یہ پیغامِ محبت مزید پھیلے
مدنی مطب