04/08/2025
✍️ کیا واقعی حکیم کا کشتہ زہر ہے؟ یا پروپیگنڈہ کا شکار؟ ایک تحقیقی جائزہ
ویسے تو اگر حقیقت کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں پتہ چلے گا کہ کشتہ جات آئیو ویدک طب کی ہی ایجاد ہیں سب سے پہلے کشتہ جات ہندوستان میں بننا شروع ہوئے اور ہندو وئید سینکڑوں سال سے کشتہ جات بنا رہے ہیں لیکن اب پاکستان میں کشتہ جات یونانی میڈیسن کا حصہ ہیں اس لیے جب ہم ان سے فوائد حاصل کرتے ہیں ان کا دفاع بھی ہم کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ
گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ بات عام کی جا رہی ہے کہ حکیم کا کشتہ گردے خراب کرتا ہے، جگر پر اثر ڈالتا ہے، یا جسم کو زہر آلود کرتا ہے۔ مگر اس پروپیگنڈے کے پیچھے کون ہے؟ کیا کبھی کسی نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ ایلوپیتھک ادویات میں جو دھاتیں، کیمیکلز، آکسائیڈز، اور اسٹیرائڈز استعمال کیے جا رہے ہیں وہ کیا ہیں؟
---
🌿 طبی کشتے: سائنسی اور قدرتی عمل سے تیار کیے جاتے ہیں جن کے اندر فطرتی عوامل شامل ہوتے ہیں
یونانی و وئیدک دوا میں کشتہ سازی ایک صدیوں پرانا فن ہے جو طویل مدتی قدرتی اور نباتاتی طریقوں سے دھاتوں کو انسانی جسم کے قابلِ قبول بناتا ہے۔ مثلاً:
🔥 کشتہ فولاد: نباتاتی اور دھاتی اجزاء کے ساتھ کئی سالہ عمل کے بعد تیار ہوتا ہے، جس میں فولاد کے دھاتی اثرات کو ختم کیا جاتا ہے
پانچ سال ایک کشتہ فولاد کو تیار کرنے میں صرف کیے جاتے ہیں جبکہ یہی کام ایلوپیتھک طب منٹوں سیکنڈوں میں کر لیتی ہے تیزاب ڈال کر اور کشتہ حکیم کا گردے خراب کرتاہے
🪨 کیلشیم کے زرائع طب یونانی میں: جیسے یاقوت، عقیق، نیلم، فیروزہ، شاخ مرجان، مروارید، صدف، سیپ، بیضہ مرغ، گئو دنتی وغیرہ۔ یہ تمام قدرتی معدنی ذرائع ہیں جن سے خالص، زہریلے اثر سے پاک کیلشیم حاصل ہوتا ہے۔ جبکہ ایلوپیتھک طب کیلشیم کے طور پر خالص چونا نورہ استعمال کرتی ہے جو کہ گردوں کی خرابی اور دائمی جوڑوں کے درد پیدا کرتا ہے
یہ کشتے تب ہی ادویات میں شامل کیے جاتے ہیں جب وہ مکمل تزکیہ (Purification) اور تعدیل (Moderation) کے مراحل سے گزر چکے ہوں، اور حکمت کا اصول بھی یہی کہتا ہے کہ "غذا سے دوا بناؤ، اور ہر کشتہ تب ہی استعمال کیا جاتا ہے جب مکمل تیاری کے مراحل طے کر لیتا ہے قابل ہضم بن جاتا ہے
---
💊 ایلوپیتھک نظام: دھاتوں اور کیمیکل کا سستا مگر مہلک کھیل
جبکہ دوسری طرف ایلوپیتھک کمپنیاں:
🌡 زنک آکسائیڈ (Zinc Oxide)
🌡 آئرن آکسائیڈ (Iron Oxide)
🌡 کاپر آکسائیڈ (Copper Oxide)
🌡 الومینیم ہائیڈرو آکسائیڈ (Al(OH)₃)
🌡 ٹائٹینیئم ڈائی آکسائیڈ (TiO₂)
🌡 کلشیم کاربونیٹ (CaCO₃) — عام چونا
یہ تمام سنتھیٹک/مصنوعی طریقے سے تیزاب، سالونٹس، یا ہائی ٹمپریچر پراسیس سے تیار کیے جاتے ہیں۔ ان کی خصوصیت یہ ہے کہ:
⚠ خالص دھاتیں جسم کے لیے زہریلی ہوتی ہیں
⚠ کیمیائی آکسائیڈز جگر اور گردوں پر بوجھ ڈالتے ہیں
⚠ یہ عناصر جسم سے خارج نہیں ہوتے بلکہ جمع ہوتے جاتے ہیں (Bioaccumulation)
---
🧪 ایلوپیتھک کیمیکلز: وقتی سکون، دائمی بربادی
ایلوپیتھک ادویات میں روزانہ کی بنیاد پر جو کیمیکل استعمال ہو رہے ہیں ان میں شامل ہیں:
❌ Paracetamol — جگر پر بوجھ، طویل مدتی نقصان
❌ Ibuprofen / Diclofenac — معدہ، گردہ، دل کی رگوں کو نقصان
❌ Proton Pump Inhibitors (Omeprazole, Pantoprazole) — معدہ کی تیزابیت ختم کر کے نظام ہضم کو خراب کرتے ہیں
❌ Antibiotics (Ciprofloxacin, Amoxicillin, etc.) — فائدہ مند بیکٹیریا کا خاتمہ
❌ Steroids (Prednisone, Dexamethasone) — جسمانی نظام کی قدرتی ہارمونی ترتیب تباہ
---
🧬 اسٹیرائڈز: وقتی معجزہ، دائمی بربادی
اسٹیرائڈز وہ دوا ہے جو:
وقتی طور پر درد، سوجن اور الرجی ختم کرتی ہے
مگر طویل استعمال سے:
😞 ہڈیوں کا کمزور ہونا (Osteoporosis)
😞 ہارمونی نظام کی تباہی
😞 ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر
😞 ذہنی دباؤ، نیند کی خرابی
😞 قوت مدافعت میں شدید کمی
---
💰 ڈاکٹرز اور کمپنیاں: اسپانسرڈ سچ کی حقیقت
آج سوشل میڈیا پر بڑے ڈاکٹرز:
اسپانسرڈ پوسٹیں، بوسٹڈ ویڈیوز
فارما کمپنیوں سے کمیشن
مہنگی دوا تجویز کر کے اپنا حصہ وصول کرتے ہیں
پرائیویٹ لیبارٹریز اور فارمیسیوں سے گٹھ جوڑ
یہ سب انٹرنیشنل فارما مافیا کا حصہ ہیں، جن کا مقصد صرف پیسہ کمانا ہے، علاج نہیں دینا۔
---
🌍 طب یونانی: بغیر تشہیر کے سچ
طب یونانی کو کسی اشتہار، کسی اسپانسر کی ضرورت نہیں۔ اس کی سچائی خود بولتی ہے، کیونکہ:
یہ قدرتی ذرائع پر مبنی ہے
جسم کی اصل اصلاح پر یقین رکھتی ہے
اور جڑ سے علاج کرتی ہے، نہ کہ عارضی ریلیف سے
---
🔚 نتیجہ: حکیم کا کشتہ زہر نہیں، زہر وہ ہے جو لیبل کے ساتھ بکتا ہے
حقیقت یہ ہے کہ:
✔️ یونانی کشتے قدرتی، سائنسی، اور روایتی علم کا نچوڑ ہیں
❌ ایلوپیتھک کی مصنوعی دھاتیں اور کیمیکل وقتی سکون، مگر دائمی بربادی ہیں
⚠️ ڈاکٹرز کا اسپانسرڈ سچ صرف کمیشن کی جنگ ہے، انسانی ہمدردی نہیں حقیقت تو یہ ہے کہ ایلو پیتھک علاج میں کسی بھی بیماری کا حقیقی علاج سرے سے موجود ہی نہیں ہے
جیسے کہ
گردوں کی خرابی کا علاج ڈائیلاسز سے کیا جاتا ہے گردوں کی بحالی پر کام نہیں کیا جاتا
کینسر کا علاج آپریشن سے کیا جاتا ہے کینسر کی پیدائش کو ایلوپیتھک طب روک نہیں سکتی
شوگر کا علاج انسولین سے کیا جاتا ہے
دوبارا انسولین کی پیدائش بڑھانے کی صلاحیت ایلوپیتھک طب میں موجود نہیں ہے
ٹی بی کے علاج میں مریض موت کے قریب پہنچ جاتا ہے ہیپاٹائٹس کے علاج میں بھی فوائد کم اور نقصان زیادہ ہیں پوری پوری عمر ادویات کھاتے گزر جاتی ہے اور مریض کی کنڈیشن یہ ہوتی ہے
مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی