Dr. Ahmad Qamar Malik

Dr. Ahmad Qamar Malik Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Dr. Ahmad Qamar Malik, Doctor, Shakargarr.

08/01/2025

Think, before its too late

01/01/2025

*کُمہار مَٹّی سے کُچھ بنا رہا تھا، کہ اُس کی بیوی نے پاس آکر پُوچھا، کیا کر رہے ہو،*

کمہار بولا حُقَّہ کی چِلَم بنا رہا ہُوں،
آج کل بہت بِک رہی ہے،
کمائی اچھی ہو جائے گی،

بیوی نے جواب دیا کہ
زِندگی کا مقصد صِرف کمائی کا ذریعہ ہی تَو نہیں،
کُچھ اور بھی ہے،
تُم میری مانو،

آج صُراحی (گھڑا) بناؤ،
گرمی ہے،
وہ بھی خُوب بِکے گی،
مگر!
ساتھ ساتھ لوگوں کی پیاس بُجھانے کے کام بھی آئے گی،

کمہار نے کُچھ سوچا،
اور مَٹّی کو نئے رُوپ میں ڈھالنا شروع کیا،
تَو اچانک مَٹّی نے پُوچھا،
یہ کیا کر رہے ہو،
میرا رُوپ بدل دیا،
کیوں؟

کمہار نے جواب دیا،
میری سوچ بدل گئی ہے،

پہلے تُمہارے پَیٹ میں آگ بھر رہا تھا،
اب پانی بھرے گا،
اور مَخلُوقِ خُدا نفع حاصل کرے گی،

مٹی بولی،
تُمہاری تَو صِرف سوچ بدلی ہے،
میری تَو زِندگی بدل گئی ھے،
مَیں تکلیف سے نِکل کر آسانی میں آگئی ہوں،

آپ سوچ بدلئے زِندگی خُود بَخُود بدل جائے گی۔

13/12/2024
11/11/2024




11/11/2024
11/11/2024

Adventure awaits on every winding road.🛣️





02/11/2024

ہم نے جب سے تعلیم خانوں میں قدم رکھا ہے، استاذہ و والدین یہی کہتے رہے ہیں کہ پڑھ لکھ کر اعلی عہدوں پر فائز ہوجاؤ، نہیں تو پھلوں کی ریڑھی لگانی پڑے گی، یا کسی ورکشاپ پر مزدوری کرنی پڑے گی، شادی کے لیے کوئی باپ اپنی بیٹی بھی نہیں دے گا وغیرہ وغیرہ اور ابھی بھی یہ نصیحت جوں کی توں جاری ہے، اور ہم ڈر جایا کرتے تھے کہ واقعی اگر ایسا کرنا پڑگیا تو دوستوں و رشتہ داروں میں کیا وقار باقی رہ جائے گا، لڑکپن سے لے کر جوانی تک اسی پیدا کی گئی فکر نے اپنا اسیر بنائے رکھا، دوستوں و یاروں کو طنزاً کچھ کہنا ہوتا تو یہی کہتے کہ، تو تو سبزی کی ریڑھی ہی لگائے گا، تیرے نصیب میں رکشہ ہی چلانا لکھا ہے تو بڑا آدمی نہیں بن سکتا، ہماری ایک استانی صاحبہ سکول کی بلڈنگ میں سے باہر کھڑے چھلی والے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگی، محنت کرکے اچھے نمبر لے لو ورنہ وہ سامنے۔۔۔۔ کھڑا ہے اسکی طرح بن جاؤ گے،، جامعہ کے ایک استاد صاحب اکثر ایک جملہ کہتے رہتے تھے، پڑھ لو پڑھ لو، نہیں تو چوکیدار۔۔۔۔ کی طرح کسی دورازے پر رکھوالی کے لیے بیٹھنا پڑے گا،،
توفیق الہی سے اب اس پراگندہ فکر کو نکال باہر کیا ہے، سن طفلی سے اب تک جو جو ذہن سازیاں کی گئی تھی، بارود شعور نے انہیں بھسم کردیا ہے،

ٹھیک ہے قرآن کا بیان ہے(وَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجاتٍ) لیکن کیا اس سے یہ سیکھ لے لی جائے کہ انکے علاوہ دنیا میں جو لوگ جی رہے ہیں انکی تحقیر و تذلیل کی جائے، انہیں نخچیر فتراک بنایا جائے، معاشرہ میں انہیں بری تماثیل کے طور پر یاد کیا جائے، معاذ اللہ ، ان لوگوں نے ایسا کیا جرم کیا ہے کہ جسکی وجہ سے آپ زمانہ میں انہیں ہیچ ثابت کرنے کے درپے ہیں، ایک شخص جو کسی کے رحم و کرم پر رہنے سے خود کو بچا رہا ہے، اپنی عزت نفس کی حفاظت کررہا ہے، مخلوق کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلا رہا ہے، بجائے اسکے کہ اسکی حوصلہ افزائی کی جائے اسکے عمل کی تحسین کی جائے الٹا اسے بدنام کررہے ہیں،
حفیف اس پر کہ تعلیمی درسگاہوں میں انکی تحقیر ہوتی ہے،، کسی اور پر کیا ہی بات کریں،،
تعجب ہوتا ہے کہ اس قدر زہریلی تربیت کے باوجود طالب علم سے یہ اچھے اخلاق اپنانے کا مطالبہ کرتے ہیں،،
اس تحقیر و تضحیک نے ایک بڑا نقصان یہ کیا ہے کہ، لوگوں میں محنت کرکے کھانے کی سوچ مٹادی ہے، مزدوری اور چھوٹے کاروبار میں عار محسوس کرنے لگے ہیں، ہر جوان بادشاہوں والی زندگی کا منتظر بیٹھا ہے، لڑکیوں کو بھی انکے والدین ایسے ہاتھوں میں دینا چاہتے ہیں جو مادی اشیاء میں لدے پڑے ہوں، مانیے تو آج کے والدین پر انکی بیٹیوں کے رشتوں کے حوالے سے بردہ فروشی کا جملہ ٹھیک ثابت ہوتا ہے،
یقیناً انکا الزام بھی ان ذہن سازوں پر ہی جاتا ہے، اور یہ عار صرف ہند و پاک میں ہی محسوس کی جاتی ہے دیگر ممالک میں اس پر فخر کیا جاتا ہے، اگر یہاں بھی انکی تحقیر کرنے کے بجائے حوصلہ افزائی کی جاتی تو یقیناً بےروزگاری گلے کا گلوبند نہ بنتی، کوئی اس کام میں شرم محسوس نہ کرتا ہر کوئی رزق حلال اور عزت نفس کی حفاظت کے لیے خوب دلجعمی و جان فرسائی سے کام کرتا ۔

17/09/2024

مشتاق احمد یوسفی صاحب لکھتے ہیں:-

میں آفس میں آتے ہی ایک کپ چائے ضرور پیتا ہوں۔ اُس روز ابھی میں نے پہلا گھونٹ ہی بھرا تھا کہ اطلاع ملی: کوئی صاحب مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔

میں نے کہا: بھجوا دیجیے۔ تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا اور شلوار قمیض پہنے گریبان کے بٹن کھولے گلے میں کافی سارا ٹیلکم پاؤڈر لگائےہاتھوں میں مختلف قسم کی مُندریاں اور کانوں میں رِنگ پہنے ہوئے ایک نیم کالے صاحب اندر داخل ہوئے۔ سلام لیا اور سامنے بیٹھ گئے۔

ان کا ڈیل ڈول اچھا تھا، اس لیے میں نے خود کو قابو میں رکھا اور آنے کا مقصد پوچھا۔ اُس نے محتاط نظروں سے اِدھر اُدھر دیکھا‘ پھر ٹیبل پر آگے کو جھک کر بولا ''میں بھی ایک مراثی ہوں۔ میں بوکھلا گیا، کیا مطلب.؟ وہ تھوڑا قریب ہوئے‏ اور بولے ''مولا خوش رکھے میں کافی دنوں سے آپ سے ملنا چاہ رہا تھا سنا ہے آپ بھی میری طرح.......... میرا مطلب ہے آپ بھی لوگوں کو ہنساتے ہیں؟‘‘

میں نے جلدی سے کہا، ہاں لیکن میں مراثی نہیں ہوں۔
“اچھی بات ہے‘‘ وہ اطمینان سے بولے ''میں نے بھی کبھی کسی کو اپنی حقیقت نہیں بتائی. میرا خون کھول اٹھا۔ عجیب آدمی ہو تم، تمہیں لگتا ہے کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں؟ یہ دیکھو میرا شناختی کارڈ... ہم یوسفزئی ہیں ۔وہ کارڈ دیکھتے ہی چہکا. “مولا خوش رکھے... وہی بات نکلی ناں.. میرا دل چاہا کہ اچھل کر اُس کی گردن دبوچ لوں‘ لیکن کم بخت ڈیل ڈول میں میرے قابو آنے والا نہ تھا۔

وہ پھر بولا مجھے نوکری چاہیے‘‘۔ میں پہلے چونکا‘ پھر غصے سے بھڑک اٹھا ''یہ کوئی کمرشل تھیٹر کا دفتر نہیں ہے‘تم نے کیسے سوچ لیا کہ یہاں مراثی بھرتی کیے جاتے ہیں؟‘‘

وہ کچھ دیر مجھے گھورتا رہا‘ پھر اپنی مندری گھماتے ہوئے بولا ''یہاں نہ سہی‘ کسی دوسرے دفتر میں ہی کام دلوا دیں۔ میں کوئی سخت جواب دینے ہی والا تھا‏ کہ اچانک میرے ذہن میں ایک اچھوتا خیال آیا اور میں مسکرا اٹھا۔

آفس بوائے سے اُس کے لیے بھی چائے لانے کے لیے کہا اور خود اُٹھ کر اُس کے ساتھ والی کرسی پر آ کر بیٹھ گیا۔ اس کی آنکھوں میں الجھن سی اُتر آئی۔ میں نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا، ‏سنو! تمہیں بہت اچھی نوکری مل سکتی ہے‘ اگر تم مجھے ہنسا کے دکھا دو۔

وہ ہونقوں کی طرح میرا منہ دیکھنے لگا۔ میں نے اُس کی حالت کا مزا اٹھاتے ہوئے اُسے زور سے ہلایا ''ہیلو! ہوش کرو بتاؤ‘ یہ چیلنج قبول ہے؟؟ اُس نے کچھ دیر پھر مندری گھمائی اور نفی میں سر ہلا دیا. میں حیران رہ گیا‘ وہ مراثی ہونے کے باوجود مجھ جیسے اچھے خاصے معزز انسان سے ہار مان رہا تھا۔ میں نے وجہ پوچھی تو اُس نے عجیب سا جواب دیا ''میں نے لوگوں کو ہنسانا چھوڑ دیا ہے۔

میں اچھل پڑا ''یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ اُس نے لمبا سانس لیا اور بیزاری سے بولا ''لوگ اب ہنسنا چھوڑ چکے ہیں۔ میں نے ایک زوردار قہقہہ لگایا ''یہ تمہاری غلط فہمی ہے.. دنیا آج بھی ہنستی ہے، مزاحیہ تحریریں پڑھتی ہے‘ مزاحیہ ڈرامے دیکھتی ہے، جگتیں پسند کرتی ہے۔ اُس نے اپنی مندری نکال کر دوسری انگلی میں پہنی. ‏اور اپنی بڑھی ہوئی شیو پر خارش کرتے ہوئے بولا ''دنیا ہنستی نہیں دوسروں کی ذلت پر خوش ہوتی ہے‘‘

میں نے پھر قہقہہ لگایا وہ کیسے؟ اُس نے قمیض کی سائیڈ والی جیب سے سستے والے سگریٹ کی مسلی ہوئی ڈبی نکالی اور میری طرف اجازت طلب نظروں سے دیکھا‘ میں نے ایش ٹرے اُس کے سامنے رکھ دی.

‏اُس نے شکریہ کہا اور سگریٹ سلگا کر گہرا کش لیا۔ میں اُس کےجواب کا منتظر تھا۔ تھوڑی دیر خاموشی رہی پھر اُس کی آواز آئی ''آپ کا منہ فلسطین کے لومڑ جیسا ہے"۔

مجھے گویا ایک کرنٹ سا لگا اور میں کرسی سے پھسل گیا۔ میری رگ رگ میں طوفان بھر گیا۔ وہ میرے دفتر میں بیٹھ کر‏ مجھے ہی لومڑ کہہ رہا تھا‘ بات تو سچ تھی مگر بات تھی رسوائی کی۔ میرا چہرہ سرخ ہو گیا‘ اس سے پہلے کہ میں اُس پر چائے کا گرم گرم کپ انڈیل دیتا‘ وہ جلدی سے بولا ''آپ کا ایک جگری دوست شہزاد ہے ناں؟‘‘

میں پوری قوت سے چلایا ''ہاں ہے...پھر؟ وہ فوراً بولا ''اُس کی شکل بینکاک کے جمعدار جیسی ہے"۔ میں نے بوکھلا کر اُس کا یہ جملہ سنا ... کچھ دیر غور کیا اور پھر بے اختیار میری ہنسی چھوٹ گئی... میں ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گیا۔

تین چار منٹ تک آفس میں میرے قہقہے گونجتے رہے بڑی مشکل سے میں نے خود پر قابو پایا اور ‏دانت نکالتے ہوئے کہا ''شرم کرو... وہ میرا دوست ہے۔
میری بات سنتے ہی مراثی نے پوری سنجیدگی سے کہا ''ایسی ہنسی آپ کو اپنے اوپر لگنے والی جگت پر کیوں نہیں آئی؟ میں یکدم چونک اٹھا‘ ساری بات میری سمجھ میں آ گئی تھی...

ہمارے معاشرے میں واقعی وہ چیز زیادہ ہنسی کا باعث بنتی ہے جس میں کسی دوسرے کی ذلت کا سامان ہو‘ یہی وجہ ہے کہ سٹیج ڈراموں اور عام زندگی میں جب ہم کسی دوسرے کو ذلیل ہوتے دیکھتے ہیں تو ہمارے دل و دماغ فریش ہو جاتے ہیں۔

کوئی بندہ چلتے ہوئے گر جائے، کسی کی گاڑی خراب ہو جائے‏ کسی کے پیچھے کتا دوڑ لگا دے، کسی کی بس نکل جائے اور وہ آوازیں لگاتا رہ جائے تو ہماری ہنسی نہیں رکتی۔ یہی عمل اگر ہمارے ساتھ ہو اور دوسرے ہنسیں تو ہم غصے سے بھر جاتے ہیں۔

گویا ہنسنے کے لیے کسی کا ذلیل ہونا لازمی امر قرار پا چکا ہے۔ ‏یہی رویہ ہماری زندگی کے ہر پہلو میں در آیا ہے. ہمیں اپنے سکھ سے اتنی راحت نہیں ملتی جتنے کسی کے دکھ ہمیں سکون دیتے ہیں۔

07/09/2024

ایک ہوتا "من پسند" اور ایک ہوتا "صحیح"
بزرگ کہتے ہیں جب آپ من پسند کو چھوڑتے جائیں اور صرف صحیح کرتے جائیں تو سمجھ لیں آپ کا بچپن مر چکا ہے۔۔
اپنے اندر کے بچے کو دل کے کسی کونے میں لازمی زندہ رکھیں تاکہ مرتے وقت تھوڑا اطمینان ضرور ہو کہ آپ نے زندگی صرف گزاری ہی نہیں بلکہ کچھ کچھ جی بھی ہے۔۔

یہ تصویر آپ کو کیا پیغام دیتی ہے؟؟
05/09/2024

یہ تصویر آپ کو کیا پیغام دیتی ہے؟؟

Address

Shakargarr
51800

Opening Hours

Monday 09:00 - 22:00
Tuesday 09:00 - 22:00
Wednesday 09:00 - 22:00
Thursday 09:00 - 22:00
Friday 09:00 - 22:00
Saturday 09:00 - 22:00
Sunday 09:00 - 22:00

Telephone

+923106343559

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Ahmad Qamar Malik posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category