Nafees Clinical Lab Shahpur

Nafees Clinical Lab Shahpur Clinical pathology supports the diagnosis of disease using laboratory testing of blood and microscopic evaluation of individual cells.

27/11/2021
03/02/2021
26/03/2019

ملیریا کی مفت تشخیص اور علاج کے لیے نفیس کلینکل لیبارٹری تشریف لائیں.
ملیریا ایک متعدی مرض......
ملیریا بخار مچھر سے پھیلنے والا ایک متعدی مرض ہے ملیریا ایک جراثیمی بیماری ہے۔ یہ مچھروں کے کاٹنے کے باعث پھیلتی ہے۔ انسانوں میں ملیریا ان مچھروں سے منتقل ہوتا ہے جن میں ملیریا کے جراثیم ہوتے ہیں۔ جب ایک مچھر کسی ایسے انسان کو کاٹتا ہے جس میں ملیریا کے جراثیم ہوں تو یہ جراثیم اس میں داخل ہو جاتے ہیں۔ پھر جب یہ مچھر کسی دوسرے انسان کو کاٹتا ہے تو اس انسان میں ملیریا کے جراثیم داخل ہو جاتے ہیں اور یوں یہ چکر جاری رہتا ہے۔ ٍ اس شخص کے جگر میں یہ جرثومے ہفتوں سے مہینوں یا سالوں تک نمو پاتے ہیں تاہم اس کی علامات نظر آنے میں زیادہ دیر بھی لگ سکتی ہے اور جب ایک خاص تعداد میں جرثومے پیدا ہو جاتے ہیں تو ملیریا کا واضح حملہ ہوتا ہے۔ ملیریابخار کی علامات مچھر کے کاٹنے کے ایک سے چار ہفتے بعد تک ظاہر ہوتی ہیں۔ یہ جراثیم افزائش پا کر خون کے سرخ خلیوں کو تباہ کر دیتے ہیں۔ یہ قابل علاج مرض ہے تاہم اگر بگڑ جائے تو جان لیوا بھی ہو سکتا ہے۔ ملیریا کا بخار میں مریض کو سردی لگتی ہے اور بخار اترتے وقت مریض کوپسینہ آتا ہے۔ جب بخار ہوتا ہے تو کپکپی آتی ہے اور جب اترتا ہے تو پسینہ آتا ہے۔ شروع میں کمزوری‘ سردی کا احساس اور بخار ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ بچوں اور حاملہ عورتوں میں ملیریا بخارکے خطرات زیادہ ہوتے ہیں۔ یہ مرض دنیا کے ہر حصے میں خاص طور پر مشرق وسطیٰ کے ممالک میں پایا جاتا ہے مگر ایشیا اور افریقہ کے لوگ اس کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔

ملیریا کے جراثیم ایک انسان سے دوسرے تک منتقل ہوتے ہیں لہٰذا استعمال شدہ سرنج اور اوزار استعمال کرنے سے بچنا چاہئے اور پانی کی نکاسی کے نظام کو درست بنانا چاہئے۔ مریض کو زیادہ سے زیادہ آرام کرنا چاہئے۔ دنیا بھر میں ملیریابخار کی وجہ سے ہلاک ہونے والے 90 فیصد افراد کا تعلق غریب ممالک سے ہے۔ پاکستان میں سالانہ 16 لاکھ افراد براہ راست اس سے متاثر ہو رہے ہیں اور ہر سال 50 ہزار اموات ہوتی ہیں۔ دنیا بھر میں ہر 30 یا 40 سیکنڈ بعد ایک مریض ملیریا سے لقمہ اجل بن جاتا ہے اور سالانہ تقریباً 5 لاکھ افراد موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ملیریا کی علامات میں بخار اور سر درد شامل ہیں۔ شدید حملے میں اعصابی نظام بری طرح سے متاثر ہوتا ہے۔ اگر بروقت علاج نہ ہو سکے تو مریض بے ہوش ہونے کے بعد چند دنوں میں ہلاک ہو جاتا ہے۔ بخار‘ سردی‘ سر درد‘ متلی‘ الٹیاں‘ پیچش‘ شدید کمزوری‘ پٹھوں کا دکھنا‘ پیٹ‘ کمر اور جوڑوں میں درد‘ کھانسی‘ گھبراہٹ وغیرہ۔ ملیریا کے شدید حملے میں اعصابی نظام بری طرح سے متاثر ہوتا ہے۔ بار بار پسینہ آنا‘ کپکپی‘ سر درد‘ جسم درد‘ شدید تھکاوٹ‘ منہ کا ذائقہ کڑوا‘ جسمانی کمزوری‘ پٹھوں میں کھنچاؤ اور ہاضمہ کی خرابی اس کی علامات ہیں۔

ملیریا سے بچائوکے لئے احتیاطی تدابیر میں ماحول کو صاف رکھنے کے ساتھ کھلے آسمان تلے سونے سے گریز کیا جائے‘ مچھر دانی استعمال کی جائے اور مچھروں کو دور رکھنے والا تیل جسم پر لگایا جائے۔ پورے بازوؤں والی قمیض پہنیں۔ صرف مادہ مچھر ہی انسانوں کو کاٹتی ہیں اور ملیریا پھیلاتی ہیں اور اگر ان کی تعداد میں کمی آئے تو اس سے ملیریا کے پھیلاؤ میں بھی کمی آئے گی۔ ملیریا کا جرثومہ ایک انسان سے دوسرے انسان تک منتقل کرنے والے ان مچھروں کے خاتمے کی وجہ سے اس بیماری کا پھیلاؤ بھی رک جائے گا۔

09/02/2019

ٹائیفائڈ کا خطرناک جرثومہ جسے "سپر بَگ" کہا جا رہا ہے، تشویش ناک تیزی سے پھیل رہا ہے. سپر بَگ اس جرثومے کو کہتے ہیں جس پر متعدد اینٹی بائیوٹکس اثر نہ کریں.
ٹائیفائڈ مہلک بیماری ہے. علاج سے بہتر پرہیز اور احتیاطی تدابیر ہیں.
کرنے کے کام:
. ٹائیفائڈ کی ویکسین 2 سال سے بڑی عمر کے ہر فرد کو لگوائیں
. بازار سے ہرگز کوئی ایسی شے نہ کھائیں جو مکمل طور پر پکی ہوئی نہ ہو، مثلاً فروٹ چاٹ، چھلے ہوئے پھل، دہی بڑے، سلاد وغیرہ
. پانی ہمیشہ ابلا ہوا یا مستند کمپنی کا استعمال کریں. محلوں میں لگے فلٹرز قابل اعتماد نہیں. سب سے بہتر حل یہ ہے کہ اپنے گھروں میں "آر او" فلٹرز لگوائیں. شروع میں تقریباً 15 ہزار کا خرچہ ہے لیکن بعد کا لمبا سکون. سپر بگ کے علاج پر اس سے بھی زیادہ خرچہ آتا ہے
. کھانے سے پہلے اور بیت الخلاء کے استعمال کے بعد اچھی طرح ہاتھ دھوئیں
. پیپر کرنسی کی ایک نحوست جراثیم کا پھیلاؤ بھی ہے. لہٰذا نوٹ گننے کے بعد بھی ہاتھوں کو اچھی طرح دھوئیں
. ریسٹورنٹس میں کھاتے وقت برتن اور کٹلری کی صفائی کے بارے میں اطمینان کر لیں
. صدقہ و خیرات کو معمول بنا لیں
. ڈاکٹروں سے درخواست ہے کہ عام نزلہ زکام کھانسی وغیرہ میں ایزیتھرومائیسین اینٹی بائیوٹک استعمال نہ کریں. اسوقت یہ ٹائیفائڈ میں کام کر رہی ہے. خطرہ ہے کہ کہیں اسکے بے دریغ استعمال سے یہ بھی بیکار نہ ہو جائے.

اللہ ہمیں اپنی حفظ و امان میں رکھے... آمین.

Address

Village&P/O Shahpur
Shangla
KPK

Telephone

0333-9484144

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Nafees Clinical Lab Shahpur posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Nafees Clinical Lab Shahpur:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram