Daar_Ul_Shifa Family Clinic.

Daar_Ul_Shifa Family Clinic. A Complete Family clinic for the People of Rural Areas.

23/02/2026
09/02/2026


😱کیونکہ رمضان آرہا ہے ۔ جوس کے شوقین جوس پئیں گے بغیر دھلی کھجوریں کھائیں گے 😱

نیپاہ وائرس (𝐍𝐢𝐩𝐚𝐡 𝐕𝐢𝐫𝐮𝐬) ایک خطرناک "زونوٹک" وائرس ہے، یعنی یہ جانوروں (خاص طور پر چمگادڑوں) سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے

🛑🛑🛑🛑پھیلاؤ کی وجوہات🛑🛑🛑🛑🛑🛑

❎چمگادڑیں❎یہ وائرس بنیادی طور پر "فروٹ بیٹس" (پھل کھانے والی چمگادڑوں) سے پھیلتا ہے۔
❎آلودہ خوراک❎چمگادڑوں کے ❗️جھوٹے پھل کھانے یا ❗️کھجور کا کچا رس پینے سے یہ انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔

❎انسانی رابطہ❎متاثرہ شخص کے قریب رہنے یا اس کے فضلے و لعاب کے رابطے میں آنے سے بھی یہ دوسرے انسانوں میں پھیل سکتا ہے۔

😱😱 اس کی علامات انفیکشن کے 4 سے 21 دن کے اندر ظاہر ہونا شروع ہوتی ہیں:
🔺تیز بخار، سر درد اور گلے میں سوزش۔
🔺کھانسی اور سانس لینے میں دشواری۔
🔺ذہنی الجھن، غنودگی اور شدید صورت میں دماغی سوزش (Encephalitis) جو کوما یا موت کا سبب بن سکتی ہے۔

✳️✳️✳️✳️بچاؤ اور احتیاط✳️✳️✳️✳️

✅چونکہ اس وائرس کی ابھی تک کوئی باقاعدہ #ویکسین یا علاج موجود نہیں ہے، اس لیے #احتیاط ہی واحد حل ہے:

🍎🍏پھلوں کی صفائی:🍑درختوں سے گرے ہوئے یا پرندوں کے کترے ہوئے پھل ہرگز نہ کھائیں اور استعمال سے پہلے پھل اچھی طرح دھوئیں۔
🍇🍋‍🟩کچے رس سے پرہیز: 🍍کھجور یا کسی بھی پھل کا کچا رس پینے سے گریز کریں، اسے ابال کر استعمال کرنا بہتر ہے۔

🐱🐝جانوروں سے دوری: 🦇🦇چمگادڑوں کے ٹھکانوں اور بیمار جانوروں (خاص طور پر سوروں) سے دور رہیں۔

🛑حفاظتی اقدامات: 🛑متاثرہ مریضوں کی تیمار داری کے دوران ماسک اور دستانوں کا استعمال کریں اور بار بار ہاتھ دھوئیں۔

میں نے طب کی پریکٹس کے 53 سالوں میں 4000 سے زیادہ لوگوں کو مرتے دیکھا۔میں نے ان کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر دستخط کیے۔ میں نے ان...
09/02/2026

میں نے طب کی پریکٹس کے 53 سالوں میں 4000 سے زیادہ لوگوں کو مرتے دیکھا۔
میں نے ان کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر دستخط کیے۔ میں نے ان کے آخری لمحوں میں ان کا ہاتھ تھاما۔ میں نے ان کے خاندانوں کو خبر دی۔ اور اب میں آپ کو ایک ایسی بات بتانے جا رہا ہوں جو ان میں سے زیادہ تر لوگوں میں مشترک تھی۔ وہ جینیات کی وجہ سے نہیں مرے۔ نہ بدقسمتی کی وجہ سے۔ وہ انتخاب کی وجہ سے مرے۔ ایسے رویے، ایسے اندازِ زندگی—جن کے نمونے میں نے 1972 میں پہچان لیے تھے۔ میں نے دہائیوں تک اپنے مریضوں کو خبردار کیا۔ زیادہ تر نے بات نہیں مانی۔ اور اب وہ سب جا چکے ہیں۔

میں 102 سال کا ہوں۔ میں یہ بات نہ تو ہمدردی کے لیے بتا رہا ہوں، نہ حیران کرنے کے لیے۔ میں یہ اس لیے بتا رہا ہوں کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ آپ سمجھیں:

میں نے مرتے ہوئے لوگوں کے ساتھ اتنا وقت گزارا ہے جتنا آج زمین پر کوئی زندہ انسان نہیں گزار سکا۔ اور میں بخوبی جانتا ہوں کہ وہ لوگ جو 100 تک پہنچے، اور وہ جو 68 پر اچانک مر گئے—ان میں فرق کیا تھا۔ ممکن ہے آپ اس وقت، آج ہی، ان میں سے کم از کم دو کام کر رہے ہوں اور آپ کو اندازہ بھی نہیں کہ وہ آپ کی زندگی کے سال کم کر رہے ہیں۔

پہلی چیز:

جو چیز سب سے تیزی سے انسان کو مارتی ہے—ہر چیز سے زیادہ—وہ ہے زیادہ دیر بیٹھنا۔ یہ مبالغہ نہیں ہے۔ میں نے یہ اپنی آنکھوں سے بار بار ہوتے دیکھا۔
1981 میں میں نے الگ نوٹس رکھنے شروع کیے: وہ مریض جو کام کے دوران بیٹھے رہتے تھے اور وہ جو دن بھر حرکت میں رہتے تھے۔ اکاؤنٹنٹ، سیکرٹریاں، ایگزیکٹو۔ وہ مختلف انداز میں بوڑھے ہوتے تھے۔ ان کے خون کے ٹیسٹ مختلف ہوتے تھے۔ ان کے دل جلدی فیل ہوتے تھے۔
1990 تک میرے پاس اتنا ڈیٹا تھا کہ میں یقین سے کہہ سکوں: جو شخص روزانہ 8–9 گھنٹے بیٹھتا ہے، وہ اندرونی طور پر اُس شخص سے 40٪ زیادہ تیزی سے بوڑھا ہوتا ہے جو دن میں حرکت کرتا رہتا ہے۔ بعد میں میڈیکل ریسرچ نے اس کی تصدیق کی۔ لیکن میں نے یہ سب اپنے مریضوں کے جسموں میں پہلے دیکھا۔
کیا ہوتا ہے؟
خون کی گردش سست ہو جاتی ہے۔ خون ٹانگوں میں جمع ہونے لگتا ہے۔ لمفی نظام—جو حرکت پر منحصر ہوتا ہے—جمود کا شکار ہو جاتا ہے۔ زہریلے مادے جمع ہونے لگتے ہیں۔ 60 کے بعد، اگر استعمال کم ہو جائے، تو پٹھے چند دنوں میں کمزور ہونے لگتے ہیں
اور یہ عمل بہت تیزی سے بڑھتا ہے۔
میرے پاس ایک ریٹائرڈ جج مریض تھا۔ وہ ہر صبح 45 منٹ ورزش کرتا تھا—باقاعدگی سے۔ اسے لگتا تھا وہ محفوظ ہے۔ لیکن ورزش کے بعد وہ 10–11 گھنٹے بیٹھ کر پڑھتا یا ٹی وی دیکھتا تھا۔ 71 سال کی عمر میں وہ فالج سے مر گیا۔
صبح کی ورزش نے اسے دوپہر کی بے حرکتی سے نہیں بچایا۔
حل مشکل نہیں: ہر گھنٹے حرکت کریں۔ کھڑے ہوں۔ کسی دوسرے کمرے تک چلیں۔ ایسا کچھ کریں جس میں ٹانگیں استعمال ہوں۔ میں 1974 سے ایسا کر رہا ہوں۔ ٹائمر لگائیں۔ میں 102 سال کا ہوں—اور آج بھی ایسا ہی کرتا ہوں۔

دوسری چیز: نیند

صرف زیادہ نیند نہیں بلکہ صحیح قسم کی نیند۔
کتنے ہی مریض فخر سے کہتے تھے: “مجھے صرف 5 یا 6 گھنٹے کی نیند کافی ہے۔”
یہ طاقت کی علامت نہیں تھی۔ یہ خود فریبی تھی۔
دماغ کو 7 سے 8 گھنٹے درکار ہوتے ہیں تاکہ وہ گہری نیند میں اپنی مرمت مکمل کر سکے۔ اسی دوران دماغ کا صفائی نظام وہ فاضل مادے خارج کرتا ہے جو یادداشت کی خرابی سے جڑے ہوتے ہیں۔
جب آپ مسلسل نیند کم کرتے ہیں، تو یہ زہریلے مادے ہر رات جمع ہوتے جاتے ہیں۔
میں نے دیکھا: جو لوگ اچھی نیند نہیں لیتے تھے وہ 10 سال پہلے یادداشت کے مسائل کا شکار ہو جاتے تھے۔ اتنا مضبوط تعلق تھا کہ میں 60 کی عمر میں ہی اندازہ لگا لیتا تھا کہ کون کب زوال کا شکار ہوگا—صرف نیند کی بنیاد پر۔
اور ایک بات: ٹکڑوں میں نیند۔ کم نیند سے بھی بدتر ہے۔ رات میں بار بار جاگنا۔ گہری نیند تک پہنچنے ہی نہیں دیتا۔ بہت سے مریضوں کو معلوم ہی نہیں تھا کہ وہ رات میں جاگ رہے ہیں ان کے شریکِ حیات جانتے تھے، وہ نہیں۔ اگر آپ 8 گھنٹے بستر پر گزار کر بھی تھکے ہوئے اٹھتے ہیں، تو کچھ غلط ہے۔

تیسری چیز: تنہائی

یہ نرم بات لگتی ہے۔ لیکن ہے نہیں۔
تنہائی جسم میں مسلسل دباؤ پیدا کرتی ہے۔ اسٹریس ہارمون بڑھ جاتے ہیں۔ مدافعتی نظام کمزور ہو جاتا ہے۔سوزش بڑھتی ہے۔
میں نے ایسے مریض دیکھے جو بظاہر صحت مند تھے لیکن اکیلے رہتے تھے کوئی قریبی تعلق نہیں۔ وہ ان لوگوں سے زیادہ تیزی سے بگڑے جنہیں شدید بیماریاں تھیں مگر مضبوط سماجی تعلقات تھے۔
60 کے بعد جب شریکِ حیات یا دوست بچھڑنے لگتے ہیں۔ تو تنہائی کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔آپ کو اس کے خلاف لڑنا ہوگا:کسی گروپ میں شامل ہوں۔کسی کو فون کریں۔ہفتوں تک بغیر بات چیت کے نہ رہیں۔

چوتھی چیز: خوراک

اور یہ مجھے غصہ دلاتی ہےکیونکہ ہماری میڈیکل برادری نے40 سال تک غلط مشورے دیے۔
ہم نے کہا: کم چکنائی کھائیں۔
ہم نے کہا: سارا اناج صحت مند ہے۔
ہم نے کہا: اورنج جوس اچھا ہے۔
اور ہم نے ایک ایسی نسل پیدا کی جو بڑھاپے میں ٹوست، جام اور سیریلز کھا رہی تھیاور حیران تھی کہ شوگر کیوں بڑھ رہی ہے۔60 کے بعد میٹابولزم بدل جاتا ہے۔انسولین کی حساسیت کم ہو جاتی ہے۔کاربوہائیڈریٹس ہضم کرنے کی صلاحیت گھٹ جاتی ہے۔جو 40 پر ٹھیک تھاوہ 70 پر سوزش پیدا کرتا ہے۔
میں نے 65 پر اپنی خوراک بدلی۔پروسیسڈ کاربوہائیڈریٹس کم کیے۔صحت مند چکنائی بڑھائی۔ سبزیاں اور پروٹین پر توجہ دی۔ تین ماہ میں میری سوزش کے ٹیسٹ بہتر ہو گئے۔میں نے یہی مریضوں کو کہا۔ جنہوں نے مانا، فائدہ ہوا۔زیادہ تر نے نہیں مانا۔وہ اب نہیں رہے۔

پانچویں چیز: مستقل فکر

یہ خطرناک ہے کیونکہ۔ یہ بیماری نہیں لگتی یہ عادت لگتی ہے۔مگر مسلسل پریشانی اسٹریس ہارمونز کو بلند رکھتی ہے جو پورے جسم کو نقصان پہنچاتی ہے۔میں نے ایسے ریٹائرڈ مریض دیکھےجو مالی طور پر محفوظ تھےخاندان کے درمیان تھےپھر بھی دن بھر بے قابو فکروں میں مبتلا رہتے تھے۔ان کا جسم تیزی سے بوڑھا ہوا۔نیند خراب ہوئی۔مدافعتی نظام کمزور ہوا۔جو چیز آپ کے قابو میں نہیں اسے چھوڑنا
صرف ذہنی سکون نہیں زندہ رہنے کا ذریعہ ہے۔

میں آپ کو اپنی بیوی کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں۔وہ آٹھ سال پہلے فوت ہو گئیں۔ہماری شادی کو 61 سال ہو چکے تھے۔انہوں نے میری کسی بات پر عمل نہیں کیا۔گھٹنوں کے درد کی وجہ سے وہ بیٹھتی رہیں۔نیند خراب تھی، مگر علاج سے انکار کیا۔خوراک وہی پرانی—روٹی، مٹھائیاں، کم چکنائی۔اور وہ ہر دن بچوں اور پوتوں کی فکر کرتی رہیں۔وہ 94 سال کی عمر میں فوت ہوئیں۔94 ایک اچھی عمر لگتی ہے—لیکن میں نے ان کے آخری 15 سالآہستہ آہستہ ختم ہوتے دیکھے۔وہ حرکت، ذہانت اور خودمختاری کھو بیٹھی تھیں۔وہ سال نعمت نہیں تھے—وہ مسلسل کمی تھے۔وہ بہتر زندگی کے مزید 10 سال پا سکتی تھیں۔انہوں نے بدلنے کا انتخاب نہیں کیا۔

میں 102 سال کا ہوں۔میں اکیلا رہتا ہوں۔خود کھانا پکاتا ہوں۔ہر دن چلتا ہوں۔
پڑھتا ہوں۔اپنے پوتوں کو فون کرتا ہوں۔ہر رات 7½ گھنٹے سوتا ہوں۔میں خاص نہیں ہوں۔میں خوش قسمت نہیں ہوں۔میں انتخاب کرتا ہوں۔اور آپ بھی
اسی لمحےانتخاب کر رہے ہیں۔آپ کو سب کچھ بدلنے کی ضرورت نہیں۔
صرف ایک چیز چنیں:
نیند،
تنہائی،
خوراک،
یا فکر۔
ایک ٹھیک کریں باقی خود آسان ہو جائیں گی۔

میں نے اپنے تین میں سے دو بچے دفن کیے۔میں نے اپنی بیوی دفن کی۔میں نے 4000 مریض دفن کیے۔میں اب بھی یہاں ہوں۔اور میں آپ کو بتا رہا ہوں۔ جن میں سے زیادہ تر کو میں نے دفن کیا—انہیں اس وقت نہیں جانا چاہیے تھا۔آپ ابھی یہاں ہیں

آپ اس کے بارے میں کیا کرنے والے ہیں؟

فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ۞
30/01/2026

فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ۞

وہ ہارمونل غلطی جو شوگر کو کنٹرول نہیں ہونے دیتیاکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ شوگر صرف انسولین کا مسئلہ ہے،لیکن حقیقت یہ ہے کہ ...
28/01/2026

وہ ہارمونل غلطی جو شوگر کو کنٹرول نہیں ہونے دیتی

اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ شوگر صرف انسولین کا مسئلہ ہے،
لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک اور ہارمون خاموشی سے شوگر کو بگاڑ رہا ہوتا ہے۔

⚠️ اصل مجرم: کورٹیسول (Cortisol)

👉 جسے Stress Hormone کہا جاتا ہے

کورٹیسول کیا کرتا ہے؟

جگر کو حکم دیتا ہے کہ
مزید گلوکوز خون میں چھوڑ دو

انسولین کے اثر کو کمزور کر دیتا ہے

شوگر کی دوائیں بھی کم اثر دکھانے لگتی ہیں

😵 کورٹیسول کیوں بڑھتا ہے؟

مسلسل ذہنی دباؤ

نیند کی کمی

زیادہ سوچنا (Overthinking)

سخت ڈائٹنگ یا بھوکا رہنا

دیر تک بیماری یا انفیکشن

صبح بہت دیر سے ناشتہ کرنا

🧪 نتیجہ کیا ہوتا ہے؟

شوگر خالی پیٹ بھی زیادہ

شوگر کھانے کے بعد بھی زیادہ

HbA1c کم نہیں ہوتا

وزن کم نہیں ہوتا

بار بار کمزوری اور تھکن

🔄 ایک خطرناک سائیکل

زیادہ دباؤ → زیادہ کورٹیسول
زیادہ کورٹیسول → زیادہ شوگر
زیادہ شوگر → مزید دباؤ

⚠️ یہی وجہ ہے کہ بعض مریض کہتے ہیں:
“دوائیں بھی کام نہیں کر رہیں”

✅ حل کیا ہے؟

7–8 گھنٹے نیند

ہلکی واک (زیادہ سخت ورزش نہیں)

وقت پر ناشتہ

سانس کی مشقیں / ذکر

کیفین اور رات کی جاگ کم کریں

شوگر کو صرف دواؤں سے نہیں،
روٹین سے کنٹرول کریں

✨ خلاصہ

❌ ہر شوگر کا مسئلہ انسولین نہیں
⚠️ بعض اوقات کورٹیسول ہی اصل رکاوٹ ہوتا ہے
✔️ جب دباؤ کم ہوگا، شوگر خود بہتر ہونے لگے گی

01/01/2026

*دعا وہ ہتھیار ہے جو کبھی بے کار نہیں جاتا...*
*جب دنیا کی ہر چیز جواب دے دے، جب ہر دروازہ بند ہو جائے، جب امید کی آخری کرن بھی مدھم پڑ جائے — تب دعا اٹھا لو۔ کیونکہ اللہ کا وعدہ ہے: "تم مجھے پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔"*
*دعا صرف زبان سے نہیں، دل کی گہرائیوں سے کی جاتی ہے۔ جب تم تنہائی میں روتے ہو، جب تمہاری آنکھیں نم ہوتی ہیں اور تم کہتے ہو "یا اللہ!" — وہ لمحہ اللہ کے نزدیک سب سے قیمتی ہے۔*
*کبھی دعا فوری قبول ہو جاتی ہے، کبھی وہ تمہارے لیے بہتر چیز کے بدلے روک دی جاتی ہے، اور کبھی آخرت میں بدلہ ملتا ہے جو دنیا کی تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہے۔*
*دعا کرنے والا کبھی ہار نہیں مانتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کا رب سن رہا ہے، دیکھ رہا ہے، اور اس کے لیے بہترین وقت پر بہترین چیز تیار کر رہا ہے۔*
*"اور تمہارا رب فرما رہا ہے: مجھ سے مانگو، میں تمہیں دوں گا۔ بے شک جو لوگ میری عبادت سے غرور کرتے ہیں، وہ ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے"*
`(سورۃ غافر: 60)`

25/12/2025

25/12/2025

شوگر کے مریض چاول کھا سکتے ہیں
، شوگر (ذیابیطس) کے مریض چاول کھا سکتے ہیں، لیکن **اعتدال اور صحیح انتخاب** کے ساتھ۔ میڈیکل سائنس کی روشنی میں (جیسے امریکن ڈائیبیٹس ایسوسی ایشن ADA، ہیلتھ لائن، اور مختلف سٹڈیز سے)، چاول کا استعمال بلڈ شوگر پر اثر انداز ہوتا ہے، خاص طور پر سفید چاول کا۔

# # # اہم میڈیکل نکات:
- **سفید چاول (white rice)**: اس کا گلیسیمک انڈیکس (GI) زیادہ ہوتا ہے (عام طور پر 70-89)، جو بلڈ شوگر کو تیزی سے بڑھاتا ہے۔ ساؤتھ ایشیا (پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش) میں سفید چاول کی زیادہ مقدار (روزانہ 450 گرام سے زیادہ پکا ہوا) ذیابیطس کا خطرہ بڑھاتی ہے (PURE سٹڈی اور دیگر ریسرچ کے مطابق 20-60% تک)۔
- **براؤن چاول (brown rice)**: بہتر آپشن ہے کیونکہ اس میں فائبر، وٹامنز اور معدنیات زیادہ ہوتے ہیں، GI کم (55-68) ہوتا ہے، جو بلڈ شوگر کو آہستہ بڑھاتا ہے۔ سفید چاول کی جگہ براؤن چاول استعمال کرنے سے ذیابیطس کا خطرہ 16-36% کم ہو سکتا ہے (ہارورڈ اور دیگر سٹڈیز)۔

# # # کتنی حد تک کھا سکتے ہیں؟
- ADA کی "ڈائیبیٹس پلیٹ میتھڈ" کے مطابق: ایک 9 انچ پلیٹ میں **چاول کو صرف 1/4 حصہ** رکھیں (یعنی آدھی پلیٹ سبزیاں، 1/4 پروٹین جیسے دال/چکن/مچھلی، اور 1/4 کاربوہائیڈریٹ جیسے چاول)۔
- عملی مقدار: **ایک کھانے میں 1/2 سے 1 کپ پکے ہوئے چاول** (تقریباً 100-150 گرام پکا ہوا، جو تقریباً 45 گرام کاربوہائیڈریٹ دیتا ہے)۔ روزانہ کل کاربس کا انحصار آپ کی عمر، وزن، ورزش اور دوائی پر ہوتا ہے، لیکن عام طور پر 100-150 گرام کاربس روزانہ تجویز کیے جاتے ہیں۔
- ساؤتھ ایشیا میں روزانہ 300 گرام سے زیادہ سفید چاول خطرناک ہو سکتا ہے۔ کم مقدار (

12/12/2025

وہ حیرت انگیز دریافت جب ایک ماں کے دودھ نے سائنس کو بھی چونکا دیا
روبینہ یاسمین ✍️

دودھ صرف خوراک نہیں تھا۔ یہ ایک پیغام تھا۔

دو ہزار آٹھ کی بات ہے۔ کیٹی ہِنڈےایک نوجوان سائنس دان کیلیفورنیا کی ایک لیبارٹری میں کھڑی تھی۔
اس کے سامنے بندر کی ماؤں
(rhesus macaque)
کے سینکڑوں دودھ کے نمونوں کا ڈیٹا پھیلا تھا۔
اور وہ ڈیٹا کسی بھی طرح سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔

پہلی حیرت

جن ماؤں کے بیٹے تھے، ان کے دودھ میں چکنائی اور پروٹین زیادہ تھا۔

جن ماؤں کی بیٹیاں تھیں، ان کا دودھ زیادہ مقدار میں پیدا ہوتا تھا، لیکن اس کے اجزاء مختلف تھے۔

یعنی دودھ ایک ہی نہیں تھا
وہ بچے کی جنس کے مطابق تیار ہو رہا تھا۔

اس کے مرد کولیگز نے فوراً طنز کر دیا
“یہ غلط پیمائش ہوگی۔”
“شاید اتفاق ہے۔”
“کوئی خاص بات نہیں۔”

لیکن کیٹی نے ڈیٹا کو نظرانداز نہیں کیا۔
اور ڈیٹا چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا
دودھ صرف خوراک نہیں ایک پیغام ہے۔

دوسری حیرت

کیٹی نے مزید دو سو پچاس ماؤں اور سات سو سے زیادہ نمونوں کا تجزیہ کیا۔
پھر ایک اور چونکانے والی بات سامنے آئی

نئی، کم عمر مائیں کم کیلوریز کا دودھ بناتی تھیں
مگر اسی دودھ میں کارٹیسول (اسٹریس ہارمون) بہت زیادہ ہوتا تھا۔

اور ایسے دودھ پینے والے بچے

تیزی سے بڑھتے تھے

مگر زیادہ چوکنّے، بےچین اور کم پُراعتماد ہوتے تھے

یعنی دودھ صرف جسم نہیں بنا رہا تھا
بچے کی شخصیت تک پروگرام کر رہا تھا۔

تیسری حیرت
تقریباً ناقابلِ یقین

جب بچہ دودھ پیتا ہے تو اس کے منہ کا تھوڑا سا لعاب (saliva)
ماں کے جسم میں واپس جاتا ہے۔

اور وہ لعاب ماں کو بتاتا ہے کہ
بچہ بیمار ہے یا نہیں۔

اگر بچہ کسی انفیکشن سے لڑ رہا ہو

ماں کے دکھائی نہ دینے والے نظام فوراً متحرک ہو جاتے

دودھ میں مخصوص اینٹی باڈیز چند گھنٹوں میں پیدا ہونا شروع

دودھ میں سفید خون کے خلیے دو ہزار سے بڑھ کر پانچ ہزار سے زیادہ اور

میکروفیج (مدافعتی خلیے) چار گنا تک بڑھ جاتے

اور جیسے ہی بچہ ٹھیک ہوتا
سب کچھ واپس نارمل۔

یہ خوراک نہیں تھی۔
یہ دو جسموں کے درمیان ایک مسلسل مکالمہ تھا
ایک حیاتیاتی گفتگو، جو سائنس صدیوں تک دیکھ نہ سکی۔

سائنس کی
انسان کی پہلی غذا
جس پر ہماری پوری نسلیں پروان چڑھیں
اسے سائنسی دنیا نے تقریباً نظرانداز کر رکھا تھا۔

تو کیٹی نے ایک بلاگ شروع کیا
“Mammals Suck… Milk!”
اور سال کے اندر اندر ایک ملین سے زیادہ لوگ اسے پڑھنے لگے۔

مزید انکشافات

دن کے مختلف وقتوں میں دودھ کی ساخت بدلتی ہے
صبح کا دودھ چکنائی میں سب سے زیادہ ہوتا ہے۔

ابتدا کا دودھ اور آخر کا دودھ مختلف ہوتا ہے

انسانی دودھ میں دو سو سے زیادہ ایسے شوگر مالیکیولز ہوتے ہیں جنہیں بچہ ہضم نہیں کرتا وہ صرف آنتوں کے اچھے بیکٹیریا کو خوراک دیتے ہیں

ہر ماں کا دودھ فنگر پرنٹ کی طرح منفرد ہوتا ہے

دو ہزار سترہ میں کیٹی کا
TED Talk
آیا لاکھوں لوگوں نے دیکھا۔

آج وہ ایریزونا سٹیٹ یونیورسٹی
کی لیبارٹری میں
نوزائیدہ بچوں کی صحت،
NICU کی دیکھ بھال،
اور دنیا بھر کی پبلک ہیلتھ پالیسی میں انقلاب لا رہی ہیں۔

اصل حقیقت

دودھ دو سو ملین سال سے ارتقاء کے سفر میں ہے
ڈائنوسار بھی جب زمین پر تھے، دودھ تب بھی اپنا کام کر رہا تھا۔

سائنس اسے صرف “غذا” سمجھتی رہی۔
مگر یہ دراصل زمین کا سب سے ذہین، زندہ، مواصلاتی نظام تھا
ماں اور بچے کے درمیان ایک مسلسل، حساس گفتگو۔

کیٹی ہِنڈے نے دودھ کا مطالعہ نہیں کیا
انہوں نے وہ سچائی آشکار کی جو صدیوں سے پوشیدہ تھی
کہ یہ صرف غذا نہیں ماں اور بچے کے درمیان ایک ذہین کمیونیکیشن ہے۔

آپ کے خیال میں بچے کو فارمولا ملک دینا کیسا ہے؟ جبکہ قدرت نے اس کے لئے ایک بیش قیمت سسٹم تیار کر رکھا ہے ۔
کیا بچے کے ساتھ نا انصافی نہیں ہوتی جب اسے ڈبے کے دودھ پر لگا دیا جاتا یے؟

03/12/2025

*۔۔*سردیوں میں بچوں اور بوڑھوں کے لیے بہترین غذائیں
(یہ غذائیں جسم کی گرمی بڑھاتی ہیں، قوتِ مدافعت مضبوط کرتی ہیں اور سردی کے امراض سے بچاتی ہیں)

# # # # 1. صبح کا ناشتہ (سب سے اہم کھانا)
- **بچوں کے لیے**:
- دودھ + بادام + کھجور + ہلکی چینی والا بادام شیک
- انڈہ (ابلا یا آملیٹ) + پراٹھا (گھی والا)
- دلیہ (جَو یا گندم) میں مکھن، گڑ یا شہد ڈال کر
- مونگ پھلی یا اخروٹ 4-5 دانے ضرور

- **بوڑھوں کے لیے**:
- گرم دودھ میں ہلدی + ادرک + شہد (ہلدی والا دودھ)
- میتھی کا پراٹھا یا باجرے کی روٹی + گڑ
- ابلا انڈہ یا پنیر

# # # # 2. دن کا کھانا (دوپہر)
- **لازمی چیزیں شامل کریں**:
- دیسی گھی (1-2 چمچ روزانہ) → سردی سے لڑنے کی طاقت دیتا ہے
- گوشت/چکن/مچھلی (ہفتے میں 4-5 دن) → پروٹین اور زنک
- یخنی والا گوشت یا چکن سوپ
- گاجر، شلجم، پالک، میتھی، چقندر کا سالن یا ساگ
- دال (ماش، مونگ، چنا دال) + چاول یا روٹی

- **بہترین سردی والا سالن**:
- گاجر شلجم گوشت
- پالک گوشت
- میتھی آلو یا میتھی چکن

# # # # 3. شام کا ناشتہ (4-5 بجے)
- گرم گرم چیزیں:
- گڑ کی چائے یا ادرک والی چائے
- مونگ پھلی، بھنے چنے، تل کے لڈو
- گاجر کا حلوہ (گھر کا بنا ہوا)
- گرم سوپ (چکن/ویجیٹیبل)
- مکھن میں بھنا ہوا مکئی

# # # # 4. رات کا کھانا (ہلکا لیکن گرم)
- کھچڑی (ماش کی دال + چاول) + گھی + اچار
- دال + روٹی + گھی
- مرغی کا شوربہ یا یخنی
- مچھلی (اگر کھاتے ہیں) → اومیگا-3 سردی میں بہت فائدہ دیتا ہے

# # # # 5. سونے سے پہلے (رات 9-10 بجے)
- ایک گلاس گرم دودھ میں:
- ہلدی + دارچینی + شہد، یا
- کشمش + بادام + الائچی ڈال کر
- گڑ + تل کا لڈو یا پنیر کا ٹکڑا

# # # # سردیوں میں سب سے طاقتور غذائیں (روز کھائیں)
| چیز | فائدہ |
|-----------------|------------------------------------|
| گھی | جسم گرم رکھتا ہے، جوڑوں کا درد کم کرتا ہے |
| گڑ | خون بڑھاتا ہے، سردی سے بچاتا ہے |
| ادرک | گلے کی خراش، نزلہ، زکام ختم کرتا ہے |
| لہسن | اینٹی وائرل، قوتِ مدافعت بڑھاتا ہے |
| شہد | گلے کو نرم کرتا ہے، کھانسی روکتا ہے |
| خشک میوہ جات | (بادام، اخروٹ، کشمش، کھجور، مونگ پھلی) توانائی دیتے ہیں |
| تل/تل کا تیل | جسم میں گرمی پیدا کرتا ہے |

# # # # کیا کم کریں یا بالکل نہ کھائیں؟
- ٹھنڈا پانی، آئس کریم، کولڈ ڈرنکس
- سفید چینی کی میٹھائیں (گڑ استعمال کریں)
- زیادہ تیزاب والی چیزیں (ٹماٹر، لیموں زیادہ نہ)

اللہ سب کو صحت دے، گرم گرم کھائیں اور گرم گرم رہیں ♨️🍲

03/12/2025

# # # سردیوں میں بچوں اور بوڑھوں کے لیے اہم حفاظتی تدابیر
(بہت آسان اور عملی باتیں جو جانیں بچا سکتی ہیں)

# # # # ✓ بچوں کے لیے خاص احتیاط
1. **لباس**
- تین تہہ والا اصول: اندرونی (سوتی یا تھرمل) → درمیانی (فلیس/اونی) → باہر سے واٹر پروف جیکٹ
- سر، کان، ہاتھ اور پاؤں سب سے زیادہ ٹھنڈک کھو دیتے ہیں → ٹوپی، مفلر، دستانے اور موٹے جرابیں لازمی
- جوتوں میں پانی نہ جائے، اگر گیلے ہو جائیں تو فوراً بدلیں

2. **گھر کے اندر**
- کمرے کا درجہ حرارت کم از کم 20–22°C رکھیں
- سوتے وقت بچے کا منہ اور ناک کھلا رکھیں، بھاری کمبل سر پر نہ چڑھائیں
- ہیٹر یا بھٹہ استعمال کر رہے ہیں تو کمرے میں ہوا کا راستہ ضرور رکھیں (کاربن مونوآکسائیڈ زہر سے بچاؤ)

3. **باہر نکلتے وقت**
- 10 منٹ سے زیادہ باہر نہ رکھیں اگر ہوا چل رہی ہو یا درجہ حرارت 0°C سے نیچے ہو
- ناک، گال اور کان چیک کرتے رہیں — اگر سفید یا سخت ہو جائیں تو فوراً اندر لے آئیں اور گرم پانی سے سیکیں (نہ رگڑیں)

4. **خوراک**
- گرم مائع (دودھ، سوپ، یخنی) زیادہ دیں
- وٹامن سی والی چیزیں (مالٹے، لیموں) حسبِ توفیق

# # # # ✓ بوڑھوں (بزرگوں) کے لیے خاص احتیاط
1. **گرنے سے بچاؤ**
- گھر میں رگڑ یا کارپیٹ بچھائیں، پانی نہ ٹپکے
- باہر جاتے وقت چھڑی یا واکر استعمال کریں، برف پر چھڑی کے نیچے آئس اسپائیک لگائیں

2. **جسم کی گرمی برقرار رکھنا**
- بوڑھے لوگ ٹھنڈ محسوس کم کرتے ہیں، اس لیے وہ خود بھی نہیں بتا سکتے کہ ٹھنڈ لگ رہی ہے
- گھر میں گرم سویٹر، شال، ٹوپی اور جرابیں پہن کر رکھیں (چاہیں کمرہ گرم ہی کیوں نہ ہو)
- گرم پانی کی بوتل یا الیکٹرک ہیٹنگ پیڈ پیٹھ یا پیٹ پر رکھیں

3. **دل اور بلڈ پریشر کے مریض**
- برف ہٹانا، بھاری کام بالکل نہ کریں (دل پر زور پڑتا ہے)
- دوائیں وقت پر لیں، سردی میں بلڈ پریشر بڑھ سکتا ہے

4. **پانی کی کمی اور خشک جلد**
- بوڑھے لوگ پیاس کم لگتی ہے، پھر بھی دن میں 6–8 گلاس پانی ضرور پلائیں
- ویسلین یا لینولین والی کریم ہاتھوں، پیروں اور چہرے پر لگائیں

# # # # دونوں کے لیے فوری خطرے کی علامات
- بہت زیادہ کانپنا یا اچانک کانپنا بند ہو جائے
- بات کرنے میں دقت، نیند زیادہ آنا، چکر آنا
- ہاتھ پاؤں ٹھنڈے اور سفید ہو جائیں
→ فوراً گرم جگہ پر لے جائیں، گرم (گرم نہیں) کپڑے پہنائیں، میٹھا گرم پانی پلائیں اور ڈاکٹر کو کال کریں۔

سردی کو ہلکا نہ سمجھیں — بچوں اور بوڑھوں میں ہائپوتھرمیا (جسم کا درجہ حرارت خطرناک حد تک گرنا) چند منٹوں میں ہو
اللہ سب کو صحت و سلامتی دے۔ 🤍

Address

Chowk Phullarwon
Sheikhpura
0563

Telephone

03461414000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Daar_Ul_Shifa Family Clinic. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category