Daar_Ul_Shifa Family Clinic.

Daar_Ul_Shifa Family Clinic. A Complete Family clinic for the People of Rural Areas.

01/01/2026

*دعا وہ ہتھیار ہے جو کبھی بے کار نہیں جاتا...*
*جب دنیا کی ہر چیز جواب دے دے، جب ہر دروازہ بند ہو جائے، جب امید کی آخری کرن بھی مدھم پڑ جائے — تب دعا اٹھا لو۔ کیونکہ اللہ کا وعدہ ہے: "تم مجھے پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔"*
*دعا صرف زبان سے نہیں، دل کی گہرائیوں سے کی جاتی ہے۔ جب تم تنہائی میں روتے ہو، جب تمہاری آنکھیں نم ہوتی ہیں اور تم کہتے ہو "یا اللہ!" — وہ لمحہ اللہ کے نزدیک سب سے قیمتی ہے۔*
*کبھی دعا فوری قبول ہو جاتی ہے، کبھی وہ تمہارے لیے بہتر چیز کے بدلے روک دی جاتی ہے، اور کبھی آخرت میں بدلہ ملتا ہے جو دنیا کی تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہے۔*
*دعا کرنے والا کبھی ہار نہیں مانتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کا رب سن رہا ہے، دیکھ رہا ہے، اور اس کے لیے بہترین وقت پر بہترین چیز تیار کر رہا ہے۔*
*"اور تمہارا رب فرما رہا ہے: مجھ سے مانگو، میں تمہیں دوں گا۔ بے شک جو لوگ میری عبادت سے غرور کرتے ہیں، وہ ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے"*
`(سورۃ غافر: 60)`

25/12/2025

25/12/2025

شوگر کے مریض چاول کھا سکتے ہیں
، شوگر (ذیابیطس) کے مریض چاول کھا سکتے ہیں، لیکن **اعتدال اور صحیح انتخاب** کے ساتھ۔ میڈیکل سائنس کی روشنی میں (جیسے امریکن ڈائیبیٹس ایسوسی ایشن ADA، ہیلتھ لائن، اور مختلف سٹڈیز سے)، چاول کا استعمال بلڈ شوگر پر اثر انداز ہوتا ہے، خاص طور پر سفید چاول کا۔

# # # اہم میڈیکل نکات:
- **سفید چاول (white rice)**: اس کا گلیسیمک انڈیکس (GI) زیادہ ہوتا ہے (عام طور پر 70-89)، جو بلڈ شوگر کو تیزی سے بڑھاتا ہے۔ ساؤتھ ایشیا (پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش) میں سفید چاول کی زیادہ مقدار (روزانہ 450 گرام سے زیادہ پکا ہوا) ذیابیطس کا خطرہ بڑھاتی ہے (PURE سٹڈی اور دیگر ریسرچ کے مطابق 20-60% تک)۔
- **براؤن چاول (brown rice)**: بہتر آپشن ہے کیونکہ اس میں فائبر، وٹامنز اور معدنیات زیادہ ہوتے ہیں، GI کم (55-68) ہوتا ہے، جو بلڈ شوگر کو آہستہ بڑھاتا ہے۔ سفید چاول کی جگہ براؤن چاول استعمال کرنے سے ذیابیطس کا خطرہ 16-36% کم ہو سکتا ہے (ہارورڈ اور دیگر سٹڈیز)۔

# # # کتنی حد تک کھا سکتے ہیں؟
- ADA کی "ڈائیبیٹس پلیٹ میتھڈ" کے مطابق: ایک 9 انچ پلیٹ میں **چاول کو صرف 1/4 حصہ** رکھیں (یعنی آدھی پلیٹ سبزیاں، 1/4 پروٹین جیسے دال/چکن/مچھلی، اور 1/4 کاربوہائیڈریٹ جیسے چاول)۔
- عملی مقدار: **ایک کھانے میں 1/2 سے 1 کپ پکے ہوئے چاول** (تقریباً 100-150 گرام پکا ہوا، جو تقریباً 45 گرام کاربوہائیڈریٹ دیتا ہے)۔ روزانہ کل کاربس کا انحصار آپ کی عمر، وزن، ورزش اور دوائی پر ہوتا ہے، لیکن عام طور پر 100-150 گرام کاربس روزانہ تجویز کیے جاتے ہیں۔
- ساؤتھ ایشیا میں روزانہ 300 گرام سے زیادہ سفید چاول خطرناک ہو سکتا ہے۔ کم مقدار (

12/12/2025

وہ حیرت انگیز دریافت جب ایک ماں کے دودھ نے سائنس کو بھی چونکا دیا
روبینہ یاسمین ✍️

دودھ صرف خوراک نہیں تھا۔ یہ ایک پیغام تھا۔

دو ہزار آٹھ کی بات ہے۔ کیٹی ہِنڈےایک نوجوان سائنس دان کیلیفورنیا کی ایک لیبارٹری میں کھڑی تھی۔
اس کے سامنے بندر کی ماؤں
(rhesus macaque)
کے سینکڑوں دودھ کے نمونوں کا ڈیٹا پھیلا تھا۔
اور وہ ڈیٹا کسی بھی طرح سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔

پہلی حیرت

جن ماؤں کے بیٹے تھے، ان کے دودھ میں چکنائی اور پروٹین زیادہ تھا۔

جن ماؤں کی بیٹیاں تھیں، ان کا دودھ زیادہ مقدار میں پیدا ہوتا تھا، لیکن اس کے اجزاء مختلف تھے۔

یعنی دودھ ایک ہی نہیں تھا
وہ بچے کی جنس کے مطابق تیار ہو رہا تھا۔

اس کے مرد کولیگز نے فوراً طنز کر دیا
“یہ غلط پیمائش ہوگی۔”
“شاید اتفاق ہے۔”
“کوئی خاص بات نہیں۔”

لیکن کیٹی نے ڈیٹا کو نظرانداز نہیں کیا۔
اور ڈیٹا چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا
دودھ صرف خوراک نہیں ایک پیغام ہے۔

دوسری حیرت

کیٹی نے مزید دو سو پچاس ماؤں اور سات سو سے زیادہ نمونوں کا تجزیہ کیا۔
پھر ایک اور چونکانے والی بات سامنے آئی

نئی، کم عمر مائیں کم کیلوریز کا دودھ بناتی تھیں
مگر اسی دودھ میں کارٹیسول (اسٹریس ہارمون) بہت زیادہ ہوتا تھا۔

اور ایسے دودھ پینے والے بچے

تیزی سے بڑھتے تھے

مگر زیادہ چوکنّے، بےچین اور کم پُراعتماد ہوتے تھے

یعنی دودھ صرف جسم نہیں بنا رہا تھا
بچے کی شخصیت تک پروگرام کر رہا تھا۔

تیسری حیرت
تقریباً ناقابلِ یقین

جب بچہ دودھ پیتا ہے تو اس کے منہ کا تھوڑا سا لعاب (saliva)
ماں کے جسم میں واپس جاتا ہے۔

اور وہ لعاب ماں کو بتاتا ہے کہ
بچہ بیمار ہے یا نہیں۔

اگر بچہ کسی انفیکشن سے لڑ رہا ہو

ماں کے دکھائی نہ دینے والے نظام فوراً متحرک ہو جاتے

دودھ میں مخصوص اینٹی باڈیز چند گھنٹوں میں پیدا ہونا شروع

دودھ میں سفید خون کے خلیے دو ہزار سے بڑھ کر پانچ ہزار سے زیادہ اور

میکروفیج (مدافعتی خلیے) چار گنا تک بڑھ جاتے

اور جیسے ہی بچہ ٹھیک ہوتا
سب کچھ واپس نارمل۔

یہ خوراک نہیں تھی۔
یہ دو جسموں کے درمیان ایک مسلسل مکالمہ تھا
ایک حیاتیاتی گفتگو، جو سائنس صدیوں تک دیکھ نہ سکی۔

سائنس کی
انسان کی پہلی غذا
جس پر ہماری پوری نسلیں پروان چڑھیں
اسے سائنسی دنیا نے تقریباً نظرانداز کر رکھا تھا۔

تو کیٹی نے ایک بلاگ شروع کیا
“Mammals Suck… Milk!”
اور سال کے اندر اندر ایک ملین سے زیادہ لوگ اسے پڑھنے لگے۔

مزید انکشافات

دن کے مختلف وقتوں میں دودھ کی ساخت بدلتی ہے
صبح کا دودھ چکنائی میں سب سے زیادہ ہوتا ہے۔

ابتدا کا دودھ اور آخر کا دودھ مختلف ہوتا ہے

انسانی دودھ میں دو سو سے زیادہ ایسے شوگر مالیکیولز ہوتے ہیں جنہیں بچہ ہضم نہیں کرتا وہ صرف آنتوں کے اچھے بیکٹیریا کو خوراک دیتے ہیں

ہر ماں کا دودھ فنگر پرنٹ کی طرح منفرد ہوتا ہے

دو ہزار سترہ میں کیٹی کا
TED Talk
آیا لاکھوں لوگوں نے دیکھا۔

آج وہ ایریزونا سٹیٹ یونیورسٹی
کی لیبارٹری میں
نوزائیدہ بچوں کی صحت،
NICU کی دیکھ بھال،
اور دنیا بھر کی پبلک ہیلتھ پالیسی میں انقلاب لا رہی ہیں۔

اصل حقیقت

دودھ دو سو ملین سال سے ارتقاء کے سفر میں ہے
ڈائنوسار بھی جب زمین پر تھے، دودھ تب بھی اپنا کام کر رہا تھا۔

سائنس اسے صرف “غذا” سمجھتی رہی۔
مگر یہ دراصل زمین کا سب سے ذہین، زندہ، مواصلاتی نظام تھا
ماں اور بچے کے درمیان ایک مسلسل، حساس گفتگو۔

کیٹی ہِنڈے نے دودھ کا مطالعہ نہیں کیا
انہوں نے وہ سچائی آشکار کی جو صدیوں سے پوشیدہ تھی
کہ یہ صرف غذا نہیں ماں اور بچے کے درمیان ایک ذہین کمیونیکیشن ہے۔

آپ کے خیال میں بچے کو فارمولا ملک دینا کیسا ہے؟ جبکہ قدرت نے اس کے لئے ایک بیش قیمت سسٹم تیار کر رکھا ہے ۔
کیا بچے کے ساتھ نا انصافی نہیں ہوتی جب اسے ڈبے کے دودھ پر لگا دیا جاتا یے؟

03/12/2025

*۔۔*سردیوں میں بچوں اور بوڑھوں کے لیے بہترین غذائیں
(یہ غذائیں جسم کی گرمی بڑھاتی ہیں، قوتِ مدافعت مضبوط کرتی ہیں اور سردی کے امراض سے بچاتی ہیں)

# # # # 1. صبح کا ناشتہ (سب سے اہم کھانا)
- **بچوں کے لیے**:
- دودھ + بادام + کھجور + ہلکی چینی والا بادام شیک
- انڈہ (ابلا یا آملیٹ) + پراٹھا (گھی والا)
- دلیہ (جَو یا گندم) میں مکھن، گڑ یا شہد ڈال کر
- مونگ پھلی یا اخروٹ 4-5 دانے ضرور

- **بوڑھوں کے لیے**:
- گرم دودھ میں ہلدی + ادرک + شہد (ہلدی والا دودھ)
- میتھی کا پراٹھا یا باجرے کی روٹی + گڑ
- ابلا انڈہ یا پنیر

# # # # 2. دن کا کھانا (دوپہر)
- **لازمی چیزیں شامل کریں**:
- دیسی گھی (1-2 چمچ روزانہ) → سردی سے لڑنے کی طاقت دیتا ہے
- گوشت/چکن/مچھلی (ہفتے میں 4-5 دن) → پروٹین اور زنک
- یخنی والا گوشت یا چکن سوپ
- گاجر، شلجم، پالک، میتھی، چقندر کا سالن یا ساگ
- دال (ماش، مونگ، چنا دال) + چاول یا روٹی

- **بہترین سردی والا سالن**:
- گاجر شلجم گوشت
- پالک گوشت
- میتھی آلو یا میتھی چکن

# # # # 3. شام کا ناشتہ (4-5 بجے)
- گرم گرم چیزیں:
- گڑ کی چائے یا ادرک والی چائے
- مونگ پھلی، بھنے چنے، تل کے لڈو
- گاجر کا حلوہ (گھر کا بنا ہوا)
- گرم سوپ (چکن/ویجیٹیبل)
- مکھن میں بھنا ہوا مکئی

# # # # 4. رات کا کھانا (ہلکا لیکن گرم)
- کھچڑی (ماش کی دال + چاول) + گھی + اچار
- دال + روٹی + گھی
- مرغی کا شوربہ یا یخنی
- مچھلی (اگر کھاتے ہیں) → اومیگا-3 سردی میں بہت فائدہ دیتا ہے

# # # # 5. سونے سے پہلے (رات 9-10 بجے)
- ایک گلاس گرم دودھ میں:
- ہلدی + دارچینی + شہد، یا
- کشمش + بادام + الائچی ڈال کر
- گڑ + تل کا لڈو یا پنیر کا ٹکڑا

# # # # سردیوں میں سب سے طاقتور غذائیں (روز کھائیں)
| چیز | فائدہ |
|-----------------|------------------------------------|
| گھی | جسم گرم رکھتا ہے، جوڑوں کا درد کم کرتا ہے |
| گڑ | خون بڑھاتا ہے، سردی سے بچاتا ہے |
| ادرک | گلے کی خراش، نزلہ، زکام ختم کرتا ہے |
| لہسن | اینٹی وائرل، قوتِ مدافعت بڑھاتا ہے |
| شہد | گلے کو نرم کرتا ہے، کھانسی روکتا ہے |
| خشک میوہ جات | (بادام، اخروٹ، کشمش، کھجور، مونگ پھلی) توانائی دیتے ہیں |
| تل/تل کا تیل | جسم میں گرمی پیدا کرتا ہے |

# # # # کیا کم کریں یا بالکل نہ کھائیں؟
- ٹھنڈا پانی، آئس کریم، کولڈ ڈرنکس
- سفید چینی کی میٹھائیں (گڑ استعمال کریں)
- زیادہ تیزاب والی چیزیں (ٹماٹر، لیموں زیادہ نہ)

اللہ سب کو صحت دے، گرم گرم کھائیں اور گرم گرم رہیں ♨️🍲

03/12/2025

# # # سردیوں میں بچوں اور بوڑھوں کے لیے اہم حفاظتی تدابیر
(بہت آسان اور عملی باتیں جو جانیں بچا سکتی ہیں)

# # # # ✓ بچوں کے لیے خاص احتیاط
1. **لباس**
- تین تہہ والا اصول: اندرونی (سوتی یا تھرمل) → درمیانی (فلیس/اونی) → باہر سے واٹر پروف جیکٹ
- سر، کان، ہاتھ اور پاؤں سب سے زیادہ ٹھنڈک کھو دیتے ہیں → ٹوپی، مفلر، دستانے اور موٹے جرابیں لازمی
- جوتوں میں پانی نہ جائے، اگر گیلے ہو جائیں تو فوراً بدلیں

2. **گھر کے اندر**
- کمرے کا درجہ حرارت کم از کم 20–22°C رکھیں
- سوتے وقت بچے کا منہ اور ناک کھلا رکھیں، بھاری کمبل سر پر نہ چڑھائیں
- ہیٹر یا بھٹہ استعمال کر رہے ہیں تو کمرے میں ہوا کا راستہ ضرور رکھیں (کاربن مونوآکسائیڈ زہر سے بچاؤ)

3. **باہر نکلتے وقت**
- 10 منٹ سے زیادہ باہر نہ رکھیں اگر ہوا چل رہی ہو یا درجہ حرارت 0°C سے نیچے ہو
- ناک، گال اور کان چیک کرتے رہیں — اگر سفید یا سخت ہو جائیں تو فوراً اندر لے آئیں اور گرم پانی سے سیکیں (نہ رگڑیں)

4. **خوراک**
- گرم مائع (دودھ، سوپ، یخنی) زیادہ دیں
- وٹامن سی والی چیزیں (مالٹے، لیموں) حسبِ توفیق

# # # # ✓ بوڑھوں (بزرگوں) کے لیے خاص احتیاط
1. **گرنے سے بچاؤ**
- گھر میں رگڑ یا کارپیٹ بچھائیں، پانی نہ ٹپکے
- باہر جاتے وقت چھڑی یا واکر استعمال کریں، برف پر چھڑی کے نیچے آئس اسپائیک لگائیں

2. **جسم کی گرمی برقرار رکھنا**
- بوڑھے لوگ ٹھنڈ محسوس کم کرتے ہیں، اس لیے وہ خود بھی نہیں بتا سکتے کہ ٹھنڈ لگ رہی ہے
- گھر میں گرم سویٹر، شال، ٹوپی اور جرابیں پہن کر رکھیں (چاہیں کمرہ گرم ہی کیوں نہ ہو)
- گرم پانی کی بوتل یا الیکٹرک ہیٹنگ پیڈ پیٹھ یا پیٹ پر رکھیں

3. **دل اور بلڈ پریشر کے مریض**
- برف ہٹانا، بھاری کام بالکل نہ کریں (دل پر زور پڑتا ہے)
- دوائیں وقت پر لیں، سردی میں بلڈ پریشر بڑھ سکتا ہے

4. **پانی کی کمی اور خشک جلد**
- بوڑھے لوگ پیاس کم لگتی ہے، پھر بھی دن میں 6–8 گلاس پانی ضرور پلائیں
- ویسلین یا لینولین والی کریم ہاتھوں، پیروں اور چہرے پر لگائیں

# # # # دونوں کے لیے فوری خطرے کی علامات
- بہت زیادہ کانپنا یا اچانک کانپنا بند ہو جائے
- بات کرنے میں دقت، نیند زیادہ آنا، چکر آنا
- ہاتھ پاؤں ٹھنڈے اور سفید ہو جائیں
→ فوراً گرم جگہ پر لے جائیں، گرم (گرم نہیں) کپڑے پہنائیں، میٹھا گرم پانی پلائیں اور ڈاکٹر کو کال کریں۔

سردی کو ہلکا نہ سمجھیں — بچوں اور بوڑھوں میں ہائپوتھرمیا (جسم کا درجہ حرارت خطرناک حد تک گرنا) چند منٹوں میں ہو
اللہ سب کو صحت و سلامتی دے۔ 🤍

18/11/2025
14/11/2025
13/11/2025


ذہنی دباؤ یا اسٹریس ایک نظر نہ آنے والی چیز ہے، مگر اس کا وزن انسان کو اندر تک توڑ دیتا ہے۔ بہت سے لوگ سوچتے ہیں کہ اسٹریس صرف دماغ کو متاثر کرتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ پورے جسم اور زندگی کے رویے تک کو بدل دیتا ہے۔ اسٹریس کی شدت کبھی معمولی سی ہوتی ہے اور کبھی اتنی گہری کہ انسان اپنی اصل شخصیت بھولنے لگتا ہے۔ جب ذہن بے چین ہو جاتا ہے، تو جسم بھی سکون کھو دیتا ہے۔

جب انسان اسٹریس میں ہوتا ہے تو سب سے پہلے اس کے خیالات بدلتے ہیں۔ دماغ خود سے سوال پوچھنے لگتا ہے، کیا میں ٹھیک کر رہا ہوں؟ کیا سب کچھ میرے ہاتھ سے نکل رہا ہے؟ کیا لوگ مجھے غلط سمجھ رہے ہیں؟ ایسے سوال ذہن پر بوجھ بن جاتے ہیں اور ذہن جواب نہ پا کر تھکنے لگتا ہے۔ پھر نیند خراب ہو جاتی ہے۔ بندہ بستر پر لیٹا رہتا ہے مگر نیند نہیں آتی۔ سوچیں دائرے کی طرح گھومتی ہیں۔ صبح آنکھ کھلتی ہے تو جسم تھکا ہوا اور ذہن خالی محسوس ہوتا ہے۔

پھر جسم اس پریشانی کا جواب دینا شروع کرتا ہے۔ دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔ سانس بھاری لگتی ہے۔ کام کرنے کا دل نہیں چاہتا، جسم بوجھ سا لگتا ہے۔ کبھی پیٹ خراب ہوتا ہے اور کبھی سر چکرانے لگتا ہے۔ بعض لوگوں کو اسٹریس میں کھانا زیادہ لگتا ہے، اور بعض لوگ کھانا چھوڑ دیتے ہیں۔ جسم میں درد، کمر کی تھکن، کندھوں میں سختی، ہاتھوں میں کپکپی اور پسینہ بھی اسٹریس کے اثرات ہیں۔ وقت کے ساتھ یہ سب جسم کو اور کمزور کر دیتے ہیں۔

اسٹریس انسان کے جذبات کو بھی بدل دیتا ہے۔ چھوٹی بات پر غصہ آ جاتا ہے، معمولی غلطی پر خود کو برا سمجھنے لگتا ہے، انسان جلدی رو دینے والا یا جلدی ٹوٹنے والا بن جاتا ہے۔ وہ باتیں جو پہلے معمولی لگتی تھیں، اب بھاری محسوس ہوتی ہیں۔ انسان کو لگتا ہے جیسے دنیا اس کے خلاف ہے یا جیسے وہ کسی چیز کے قابل ہی نہیں۔ اس سوچ کے ساتھ انسان آہستہ آہستہ خود کو دوسروں سے دور کرنے لگتا ہے۔ وہ ہنستا کم اور خاموش زیادہ ہونے لگتا ہے، دوستوں سے دور، گھر والوں میں رہ کر بھی تنہا۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ اسٹریس کا سامنا کرتے ہوئے انسان اکثر خود کو تنہا سمجھ لیتا ہے۔ حالانکہ ہر شخص زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر اس کیفیت سے گزرتا ہے۔ مگر فرق اس بات سے پڑتا ہے کہ ہم اسے کیسے سنبھالتے ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ اسٹریس کیوں ہے، مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ہم اسے دل اور دماغ میں جگہ کتنی دیتے ہیں۔

اسٹریس کو کم کرنے کا طریقہ یہی ہے کہ ہم خود کو وقت دیں، اپنے احساسات کو قبول کریں اور ان پر بات کریں۔ روز پانچ دس منٹ اپنی سانس پر توجہ دیں، تھوڑا چلیں، کسی سے دل کی بات کریں، اپنے ذہن میں جمع خوف کو کاغذ پر لکھیں۔ خود کو یہ یقین دلائیں کہ یہ وقت ہے، مقدر نہیں۔ ہر مشکل گزرتی ہے، اور انسان جب ٹوٹتا ہے تو دراصل نئی طاقت کیلئے جگہ بناتا ہے۔

زندگی کی بھاگ دوڑ میں خود کو بھول جانا مشکلوں کو بڑھاتا ہے۔ کبھی اپنی دھڑکن سن کر دیکھیں، کبھی اپنی خواہشوں کی آواز سنیں۔ آپ کی زندگی صرف ذمہ داریوں کیلئے نہیں، آپ کیلئے بھی ہے۔ اپنے دل کو اتنی جگہ دیں کہ وہ سانس لے سکے،
اور اپنے ذہن کو اتنی مہلت دیں کہ وہ دوبارہ روشن ہو سکے۔

Address

Chowk Phullarwon
Sheikhpura
0563

Telephone

03461414000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Daar_Ul_Shifa Family Clinic. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category