03/01/2026
خاموش وبا: اینٹی بایوٹک ریزسٹنس — جب دوائیں بھی ہار جائیں
یہ وہ بحران ہے جو شور نہیں مچاتا، مگر اندر ہی اندر پورے نظامِ صحت کو کھوکھلا کر رہا ہے۔
پاکستان میں اینٹی بایوٹک اس طرح استعمال ہو رہی ہیں جیسے درد کش گولیاں ہوں۔ بخار آیا تو خود سے دوا، نزلہ ہوا تو اینٹی بایوٹک، بچے کو دست ہوئے تو بغیر ٹیسٹ کے طاقتور انجیکشن۔ فارمیسی پر کوئی روک نہیں، نسخے کے بغیر دوائیں عام ہیں، اور جعلی یا غیر معیاری اینٹی بایوٹک بھی بازار میں دستیاب ہیں۔ اس سب کا نتیجہ یہ ہے کہ جراثیم مضبوط ہو رہے ہیں، اور دوائیں کمزور۔
آج صورتحال یہ ہے کہ وہ انفیکشن جو کبھی تین دن میں ٹھیک ہو جاتے تھے، اب ہفتوں ہسپتال میں رکھتے ہیں۔ عام سرجری، ڈلیوری، یا چھوٹا سا زخم بھی جان لیوا ہو سکتا ہے، کیونکہ جراثیم اب دواؤں سے نہیں ڈرتے۔ یہ مسئلہ صرف ڈاکٹر یا ہسپتال کا نہیں، یہ پورے معاشرے کا مسئلہ ہے۔
پرائمری ہیلتھ کیئر یہاں بھی نظر انداز ہے۔ اگر بنیادی سطح پر درست تشخیص، درست دوا، اور مریض کی صحیح رہنمائی ہو تو اینٹی بایوٹک کا بے جا استعمال خود بخود کم ہو جائے۔ مگر جب BHU میں وقت نہیں، سہولت نہیں، اور نظام کمزور ہے، تو لوگ خود علاج پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
ریاستی سطح پر فوڈ اینڈ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹیز کی کمزوری، فارماسیوٹیکل مافیا کی طاقت، اور نگرانی کے فقدان نے اس بحران کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔ جانوروں اور پولٹری میں بھی اینٹی بایوٹک کا بے تحاشا استعمال ہو رہا ہے، جو بالآخر ہماری پلیٹ میں آ کر ہماری صحت پر وار کرتا ہے۔
یہ یاد رکھنا ضروری ہے:
اینٹی بایوٹک ریزسٹنس مستقبل کا مسئلہ نہیں، یہ حال کا بحران ہے۔
جب دوائیں بے اثر ہو جائیں گی تو نہ پیسہ بچے گا، نہ ہسپتال، نہ مہنگی مشینیں۔
حل صرف ایک ہے:
طاقتور پرائمری کیئر، ذمہ دار مریض، جوابدہ ریاست، اور باخبر معاشرہ۔
اگر ہم نے آج یہ جنگ نہ لڑی، تو کل یہ جنگ ہمارے بچوں کو لڑنی پڑے گی—بغیر ہتھیار کے۔