03/05/2026
آج صبح ایک مریض کو ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ لے جانے کا اتفاق ہوا۔
ایمرجنسی میں موجود ڈاکٹر نے چیک اپ کے بعد OPD جانے کا مشورہ دیا۔ دل تو کیا کہ کسی پرائیویٹ کلینک کا رخ کر لیا جائے، مگر چونکہ آفس سے چھٹی لی ہوئی تھی، اس لیے سوچا وقت تو ہے ہی کیوں نا سرکاری ہسپتال کا نظام بھی دیکھ لیا جائے۔پرچی کی لمبی لائنیں کے تین کاؤنٹر دیکھ کر حوصلہ کچھ کم ہوا، مگر وہی خیال کہ اج تو وقت بھی ہے اس لیے لائن میں لگ گیا۔
اچانک نظر ہاتھ میں پکڑی ایمرجنسی کی پرچی پر پڑی جس پر ڈاکٹر صاحب نے "urgent" لکھا ہوا تھا۔ سوچا اسی پرچی پر چیک کروا لیتے ہیں۔ لائن توڑ کر وہی پرچی لے کر OPD کے کمرہ نمبر 19 پہنچ گیا۔ رش کافی تھا، انتظار شروع کیا، پھر خیال آیا کہ پرچی urgent ہے۔ دروازے پر موجود عملے کو بتایا تو انہوں نے فوراً اندر بھیج دیا۔
وہاں موجود لیڈی ڈاکٹر محترمہ حفصہ صاحبہ نے نہایت توجہ اور تسلی سے مریض کا معائنہ کیا اور صورتحال دیکھتے ہوئے الٹراساؤنڈ تجویز کیا۔ ایکسرے روم کے سامنے الٹراساؤنڈ کا بتایا گیا اور میں وہاں پہنچ گیا۔ وہاں سٹاف نرس نے رہنمائی کی، فیس جمع کروانے کو کہا جو باہر پرچی کاوںٹر کے پاس موجود تھا۔ وہاں کوئی رش نہیں تھا تو فیس جلدی جمع کرا کر رسید سٹاف نرس کو جمع کرا دی۔ تھوڑا انتظار کے بعد اندر بلا لیا۔ لیڈی ڈاکٹر محترمہ مریم صاحبہ نے تسلی بخش طریقے سے الٹراساؤنڈ مکمل کیا۔ رپورٹ لے کر دوبارہ ڈاکٹر حفصہ صاحبہ کے پاس گیا تو انہوں نے نہایت پروفیشنل انداز میں رپورٹ کے بارے بتایا کہ بالکل ٹھیک ہے۔ بعد ازاں ایمرجنسی میں دو ڈرِپس لگوانے کی تجویز دی۔ واپس ایمرجنسی میں موجود ڈاکٹر صاحب کورپورٹ دی ور انہوں نے ہدایات کے مطابق سٹاف نرس کو ڈرپ لگانے کی ہدایت کی۔ تقریباً ادھے گھنٹے کے بعد ڈرپ ختم ہوئیں۔ مزید ڈاکٹر صاحب سے ہدایات لیکر گھر روانہ ہو گئے۔
یہ ایک حیران کن دن تھا، کیونکہ ہمارے معاشرے میں ڈاکٹرز اور نرسز کے رویے کے بارے میں کافی بدگمانیاں پائی جاتی ہیں اور سرکاری ہسپتالوں میں علاج برائے نام بتایا جاتا ہے۔۔ مگر تقریباً ڈھائی گھنٹے کے قیام کے دوران نہ مجھے کسی ڈاکٹر کے رویے میں کوئی خرابی نظر آئی، نہ ہی وہاں مریضوں کی طرف سے کسی ناخوشگوار واقعے کا مشاہدہ ہوا۔
البتہ ایک بڑی کمی واضح نظر آئی: عملے کی کمی اور مریضوں کی کافی تعداد
تحصیل احمد پور شرقیہ کے اس ہسپتال میں OPD کی صبح و شام دو شفٹیں ہونی چاہئیں تاکہ عوام کی مشکلات میں کمی لائی جا سکے اور بروقت علاج کی سہولت میسر رہے۔
Via of ahmadpur east