04/05/2026
یہ میری بیٹی نہیں ہے
جب ماں اپنی اولاد کو پہچان کر بھی نہ پہچانے
آج آن لائن سیشن کے دوران اسکرین پر ایک پُروقار خاتون بیٹھ تھیں۔
بات چیت بالکل نارمل۔ یادداشت درست۔ گفتگو میں ربط۔
مگر اچانک انہوں نے ایک جملہ کہ
“ڈاکٹر صاحب، یہ سب میرے جیسے لگتے ہیں… مگر یہ میرے اصل بچے نہیں ہیں۔ کسی نے انہیں بدل دیا ہے۔”
یہ سن کر عام آدمی چونک جاتا ہے
گھر والے گھبرا جاتے ہیں
اور اکثر لوگ فوراً کہہ دیتے ہیں: “یہ وہم کر رہی ہیں۔”
مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
یہ وہم نہیں… دماغ کا فریب ہے
اس کیفیت کو
Capgras Delusion
کہتے ہیں۔
1923
میں فرانسیسی ماہرِ نفسیات
Joseph Capgras
نے پہلی بار اسے بیان کیا۔
یہ ایک ایسا فریب ہے جس میں مریض اپنے کسی قریبی شخص کو “نقلی” سمجھنے لگتا ہے — حالانکہ وہ چہرہ، آواز اور انداز سب پہچان رہا ہوتا ہے۔
یہ تضاد کیسے ممکن ہے؟
دماغ کا راز آنکھ مان لے، دل انکار کر دے
جدید نیوروسائنس ہمیں بتاتی ہے کہ چہرہ پہچاننے کا ایک الگ نیورل سسٹم ہوتا ہے (Fusiform Face Area)
اور اُس چہرے سے جذباتی وابستگی کا الگ نظام (Amygdala اور Limbic System)۔
اگر چہرہ پہچاننے والا حصہ کام کر رہا ہو مگر جذباتی ردعمل پیدا نہ ہو
تو دماغ الجھن میں پڑ جاتا ہے۔
وہ کہتا ہے
“یہ چہرہ تو جان پہچان کا ہے…
مگر وہ اپنا سا احساس کیوں نہیں آ رہا؟”
اور پھر دماغ ایک کہانی بنا لیتا ہے:
“شاید یہ اصل نہیں… کوئی ہم شکل ہے۔”
دماغ خلا برداشت نہیں کرتا،
وہ وضاحت گھڑ لیتا ہے۔
یہ کیفیت کب سامنے آ سکتی ہے؟
تحقیقات کے مطابق Capgras Delusion عموماً ان حالات میں دیکھی گئی ہے:
شیزوفرینیا
الزائمر یا دیگر ڈیمنشیا
دماغی چوٹ
مرگی
یا دائیں دماغی حصے کی خرابی
یعنی یہ “پاگل پن” نہیں،
بلکہ ایک نیورولوجیکل اور سائیکاٹرک مسئلہ ہو سکتا ہے۔
سب سے دردناک پہلو
سب سے زیادہ اذیت مریض کو نہیں
اکثر خاندان کو ہوتی ہے۔
بیٹی کہتی ہے
“امی مجھے دیکھتی ہیں، نام سے پکارتی ہیں… مگر کہتی ہیں تم وہ نہیں ہو۔
تم میری بیٹی نہیں ہو
سوچئے، اس جملے کا وزن کیا ہوگا؟
یہ صرف ایک فریب نہیں،
یہ رشتوں کی بنیاد کو ہلا دینے والا تجربہ ہے۔
ہمیں کیا سمجھنا چاہیے؟
اگر کوئی بزرگ یا مریض ایسی بات کرے تو فوراً مذاق نہ بنائیں۔
یہ ضد نہیں ہوتی۔
یہ توجہ حاصل کرنے کی کوشش نہیں ہوتی۔
یہ دماغ کے اندر ایک ٹوٹا ہوا جذباتی سرکٹ ہوتا ہے۔
ہم سب سمجھتے ہیں کہ پہچان آنکھوں کا کام ہے۔
مگر اصل پہچان دل کے احساس سے ہوتی ہے۔
اگر احساس خاموش ہو جائے،
تو حقیقت بھی مشکوک لگنے لگتی ہے۔
ایک ذاتی احساس
آج کے سیشن کے بعد باربار یہی خیال ذہن میں آرہا تھا
انسانی دماغ کتنا حیران کن ہے۔
ایک چھوٹا سا نیورل کنکشن ٹوٹ جائے
تو ماں اپنی بیٹی کو “اجنبی” سمجھنے لگتی ہے۔
نفسیات ہمیں صرف بیماریوں کا علم نہیں دیتی،
یہ ہمیں انسان کی نزاکت سکھاتی ہے۔
ہر عجیب بات کے پیچھے
کوئی ٹوٹا ہوا کیمیکل،
کوئی خاموش نیورون،
یا کوئی ڈرا ہوا دماغ ہوتا ہے۔
اور ایسے دماغ کو تنقید نہیں،
سمجھ اور علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔
عدنان صدیق
Adnan Siddique