H/Dr.Shahzad Anjum

H/Dr.Shahzad Anjum Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from H/Dr.Shahzad Anjum, Family doctor, Ghani Plaza Opposite Meezan Bank Shahabpura Road, Sialkot.

Homoeopathic medicine for 15 days package Rs.1750H/Dr.Shahzad Anjum DHMS RHMPwhatsaap # 0300 6270791Adress:Ghani plaza O...
07/04/2018

Homoeopathic medicine for 15 days package Rs.1750
H/Dr.Shahzad Anjum DHMS RHMP
whatsaap # 0300 6270791
Adress:Ghani plaza Opposite meezan Bank Shahab Pura Road Sialkot

H/Dr.Shahzad Anjum DHMS RHMPwhatsaap # 0300 6270791Adress:Ghani plaza Opposite meezan Bank Shahab Pura Road Sialkot
08/02/2018

H/Dr.Shahzad Anjum DHMS RHMP
whatsaap # 0300 6270791
Adress:Ghani plaza Opposite meezan Bank Shahab Pura Road Sialkot

04/02/2018

رٹّا اسکولنگ سسٹم -

شمالی یورپ کا ایک چھوٹا سا ملک فن لینڈ بھی ہے جو رقبے کے لحاظ سے 65 جبکہ آبادی کے اعتبار سے دنیا میں 114 ویں نمبر پر ہے۔ ملک کی کل آبادی 55 لاکھ کے لگ بھگ ہے لیکن آپ کمال دیکھیں اس وقت تعلیمی درجہ بندی کے اعتبار سے فن لینڈ پہلے نمبر پر ہے جبکہ " سپر پاور " امریکا 20ویں نمبر پر ہے۔
2020ء تک فن لینڈ دنیا کا واحد ملک ہوگا جہاں مضمون ( سبجیکٹ ) نام کی کوئی چیز اسکولوں میں نہیں پائی جائے گی۔ فن لینڈ کا کوئی بھی اسکول زیادہ سے زیادہ 195 بچوں پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ 19 بچوں پر ایک ٹیچر۔ دنیا میں سب سے لمبی بریک بھی فن لینڈ میں ہی ہوتی ہے، بچے اپنے اسکول ٹائم کا 75 منٹ بریک میں گزارتے ہیں، دوسرے نمبر پر 57 منٹ کی بریک نیو یارک کے اسکولوں میں ہوتی ہے جبکہ ہمارے یہاں اگر والدین کو پتہ چل جائے کہ کوئی اسکول بچوں کو " پڑھانے" کے بجائے اتنی لمبی بریک دیتا ہے تو وہ اگلے دن ہی بچے اسکول سے نکلوالیں۔

خیر، آپ دلچسپ بات ملاحظہ کریں کہ پورے ہفتے میں اسکولوں میں محض 20 گھنٹے " پڑھائی " ہوتی ہے۔ جبکہ اساتذہ کے 2 گھنٹے روز اپنی " اسکلز " بڑھانے پر صرف ہوتے ہیں۔ فن لینڈ میں ٹیچر بننا ڈاکٹر اور انجینئیر بننے سے زیادہ مشکل اور اعزاز کی بات ہے۔ پورے ملک کی یونیورسٹیز کے " ٹاپ ٹین " ماسٹرز کیے ہوئے طالبعلموں کو ایک خصوصی امتحان کے بعد اسکولوں میں بطور استاد رکھا جاتا ہے۔ سات سال سے پہلے بچوں کے لیے پورے ملک میں کوئی اسکول نہیں ہے اور پندرہ سال سے پہلے کسی بھی قسم کا کوئی باقاعدہ امتحان بھی نہیں ہے کہ جس میں ماں باپ بچے کی نیندیں حرام کردیں۔ ان کے کھیلنے اور بھاگنے دوڑنے پر پابندی لگ جائے، دروازے کھڑکیاں بند کر کے انہیں گھروں میں " نظر بند " کردیا جائے۔ گھر میں آنے والے مہمانوں سے ملنے تک پر پابندی عائد کردی جائے اور گھر میں مارشل لاء اور کرفیو کا سا سماں بندھ جائے۔ پورے ملک میں تمام طلبہ و طالبات کے لیے ایک ہی امتحان ہوتا ہے۔ ریاضی کے ایک استاد سے پوچھا گیا کہ آپ بچوں کو کیا سکھاتے ہیں تو وہ مسکراتے ہوئے بولے " میں بچوں کو خوش رہنا اور دوسروں کو خوش رکھنا سکھاتا ہوں، کیونکہ اس طرح وہ زندگی کہ ہر سوال کو با آسانی حل کرسکتے ہیں "۔

آپ جاپان کی مثال لے لیں تیسری جماعت تک بچوں کو ایک ہی مضمون سکھا یا جاتا ہے اور وہ " اخلاقیات " اور " آداب " ہیں۔ حضرت علیؓ نے فرمایا "جس میں ادب نہیں اس میں دین نہیں "۔ مجھے نہیں معلوم کہ جاپان والے حضرت علیؓ کو کیسے جانتے ہیں اور ہمیں ابھی تک ان کی یہ بات معلوم کیوں نہ ہو سکی۔ بہر حال، اس پر عمل کی ذمہ داری فی الحال جاپان والوں نے لی ہوئی ہے۔ ہمارے ایک دوست جاپان گئے اور ایئر پورٹ پر پہنچ کر انہوں نے اپنا تعارف کروایا کہ وہ ایک استاد ہیں اور پھر ان کو لگا کہ شاید وہ جاپان کے وزیر اعظم ہیں۔ یہ ہے قوموں کی ترقی اور عروج و زوال کا راز۔

اشفاق احمد صاحب کو ایک دفعہ اٹلی میں عدالت جانا پڑا اور انہوں نے بھی اپنا تعارف کروایا کہ میں استاد ہوں وہ لکھتے ہیں کہ جج سمیت کورٹ میں موجود تمام لوگ اپنی نشستوں سے کھڑے ہوگئے اس دن مجھے معلوم ہوا کہ قوموں کی عزت کا راز استادوں کی عزت میں ہے ۔ آپ یقین کریں استادوں کو عزت وہی قوم دیتی ہے جو تعلیم کو عزت دیتی ہے اور اپنی آنے والی نسلوں سے پیار کرتی ہے۔ جاپان میں معاشرتی علوم " پڑھائی" نہیں جاتی ہے کیونکہ یہ سکھانے کی چیز ہے اور وہ اپنی نسلوں کو بہت خوبی کے ساتھ معاشرت سکھا رہے ہیں۔ جاپان کے اسکولوں میں صفائی ستھرائی کے لیے بچے اور اساتذہ خود ہی اہتمام کرتے ہیں، صبح آٹھ بجے اسکول آنے کے بعد سے 10 بجے تک پورا اسکول بچوں اور اساتذہ سمیت صفائی میں مشغول رہتا ہے۔

دوسری طرف آپ ہمارا تعلیمی نظام ملاحظہ کریں جو صرف نقل اور چھپائی پر مشتمل ہے، ہمارے بچے " پبلشرز " بن چکے ہیں۔ آپ تماشہ دیکھیں جو کتاب میں لکھا ہوتا ہے اساتذہ اسی کو بورڈ پر نقل کرتے ہیں، بچے دوبارہ اسی کو کاپی پر چھاپ دیتے ہیں، اساتذہ اسی نقل شدہ اور چھپے ہوئے مواد کو امتحان میں دیتے ہیں، خود ہی اہم سوالوں پر نشانات لگواتے ہیں اور خود ہی پیپر بناتے ہیں اور خود ہی اس کو چیک کر کے خود نمبر بھی دے دیتے ہیں، بچے کے پاس یا فیل ہونے کا فیصلہ بھی خود ہی صادر کردیتے ہیں اور ماں باپ اس نتیجے پر تالیاں بجا بجا کر بچوں کے ذہین اور قابل ہونے کے گن گاتے رہتے ہیں، جن کے بچے فیل ہوجاتے ہیں وہ اس نتیجے پر افسوس کرتے رہتے ہیں اور اپنے بچے کو " کوڑھ مغز " اور " کند ذہن " کا طعنہ دیتے رہتے ہیں۔
آپ ایمانداری سے بتائیں اس سب کام میں بچے نے کیا سیکھا، سوائے نقل کرنے اور چھاپنے کے؟ ہم 13، 14 سال تک بچوں کو قطار میں کھڑا کر کر کے اسمبلی کرواتے ہیں اور وہ اسکول سے فارغ ہوتے ہی قطار کو توڑ کر اپنا کام کرواتے ہیں، جو جتنے بڑے اسکول سے پڑھا ہوتا ہے قطار کو روندتے ہوئے سب سے پہلے اپنا کام کروانے کا ہنر جانتا ہے ۔ ہم پہلی سے لے کر اور دسویں تک اپنے بچوں کو " سوشل اسٹڈیز " پڑھاتے ہیں اور معاشرے میں جو کچھ ہورہا ہے وہ یہ بتانے اور سمجھانے کے لیے کافی ہے کہ ہم نے کتنا " سوشل " ہونا سیکھا ہے؟ اسکول میں سارا وقت سائنس " رٹتے " گزرتا ہے اور آپ کو پورے ملک میں کوئی " سائنس دان " نامی چیز نظر نہیں آئے گی کیونکہ بدقسمتی سے سائنس " سیکھنے " کی اور خود تجربہ کرنے کی چیز ہے اور ہم اسے بھی " رٹّا" لگواتے ہیں۔

آپ حیران ہوں گے میٹرک کلاس کا پہلا امتحان 1858ء میں ہوا اور برطانوی حکومت نے یہ طے کیا کہ بر صغیر کے لوگ ہماری عقل سے آدھے ہوتے ہیں اس لیے ہمارے پاس " پاسنگ مارکس " 65 ہیں تو بر صغیر والوں کے لیے 32 اعشاریہ 5 ہونے چاہئیں۔ دو سال بعد 1860ء میں اساتذہ کی آسانی کے لیے پاسنگ مارکس 33 کردیے گئے اور ہم 2018 میں بھی ان ہی 33 نمبروں سے اپنے بچوں کی ذہانت کو تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔

میرا خیال ہے کہ اسکولز کے پرنسپل صاحبان اور ذمہ دار اساتذہ اکرام سر جوڑ کر بیٹھیں اس " گلے سڑے " اور " بوسیدہ " نظام تعلیم کو اٹھا کر پھینکیں، بچوں کو " طوطا " بنانے کے بجائے " قابل " بنانے کے بارے میں سوچیں۔ یہ اکیسویں صدی ہے دنیا چاند پر پہنچ رہی ہے اور ہم ابھی تک " رٹّا سسٹم " کو سینے سے لگائے بیٹھے ہیں۔
نوٹ۔تحریر نقل شدہ

02/02/2018

ﺁﺋﯿﻮﮈﯾﻦ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺳﻨﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺍﺱ ﺟﺰ ﺳﮯ ﻣﻠﮯ ﻧﻤﮏ ﮐﯽ ﺑﺎﺯﺍﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﺳﺘﯿﺎﺑﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺟﺰ ﺯﺧﻤﻮﮞ ﮐﯽ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔
ﺁﺋﯿﻮﮈﯾﻦ ﺍﯾﺴﺎ ﻻﺯﻣﯽ ﻏﺬﺍﺋﯽ ﺟﺰ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺗﮭﺎﺋﯽ ﺭﺍﺋﯿﮉ ﮨﺎﺭﻣﻮﻧﺰ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺻﺤﺖ ﻣﻨﺪ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﻣﯿﮟ ﭘﻨﺪﺭﮦ ﺳﮯ ﺑﯿﺲ ﻣﻠﯽ ﮔﺮﺍﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺗﮭﺎﺋﯽ ﺭﺍﺋﯿﮉ ﮔﻠﯿﻨﮉ ﮐﮯ ﺍﻓﻌﺎﻝ ﮐﻮ ﺭﯾﮕﻮﻟﯿﭧ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺳﮑﮯ۔
ﭼﻮﻧﮑﮧ ﺟﺴﻢ ﻗﺪﺭﺗﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺎﺗﺎ ، ﺍﺳﯽ ﻟﯿﮯ ﯾﮧ ﻏﺬﺍﺅﮞ ﺳﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﻣﭽﮭﻠﯽ ، ﺩﻭﺩﮪ ، ﭘﻨﯿﺮ ، ﭘﮭﻞ ، ﺳﺒﺰﯾﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﺁﺋﯿﻮﮈﯾﻦ ﻣﻼ ﻧﻤﮏ۔
ﺍﮔﺮﭼﮧ ﯾﮧ ﻣﺘﻌﺪﺩ ﺍﺷﯿﺎﺀﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﺍﺳﮯ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﺟﺰﻭ ﺑﺪﻥ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ 40 ﻓﯿﺼﺪ ﺁﺑﺎﺩﯼ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ ﮐﺎ ﺧﻄﺮﮦ ﮨﮯ۔
ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺎﺕ ﺩﺭﺝ ﺫﯾﻞ ﮨﯿﮟ۔
ﮔﻠﮯ ﮐﺎ ﺳﻮﺟﻨﺎ
ﺗﮭﺎﺋﯽ ﺭﺍﺋﯿﮉ ﮔﻠﯿﻨﮉ ﮔﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺁﺋﯿﻮﮈﯾﻦ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﺍﯾﻨﺪﮬﻦ ﮨﮯ۔ ﺍﮔﺮ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯿﻮﮈﯾﻦ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺗﮭﺎﺋﯽ ﺭﺍﺋﯿﮉ ﻭﺍﻻ ﺣﺼﮧ ﭘﮭﯿﻠﻨﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺟﺴﻢ ﮐﯽ ﮨﺎﺭﻣﻮﻥ ﮐﯽ ﭘﯿﺪﺍﻭﺍﺭ ﮐﯽ ﻃﻠﺐ ﮐﻮ ﭘﻮﺭﺍ ﮐﺮﺳﮑﯿﮟ ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﻧﺘﯿﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﮔﻼ ﺳﻮﺝ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﮔﻠﮩﮍ ﮐﺎ ﻣﺮﺽ ﻻﺣﻖ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﺟﺴﻤﺎﻧﯽ ﻭﺯﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ
ﺍﮔﺮ ﺟﺴﻤﺎﻧﯽ ﻭﺯﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﻏﯿﺮﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺟﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﯿﮟ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺁﺋﯿﻮﮈﯾﻦ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ ﮐﺎ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﺟﺰ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ ﺗﮭﺎﺋﯽ ﺭﺍﺋﯿﮉ ﮐﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﺮﺽ ﮐﺎ ﺑﺎﻋﺚ ﺑﻨﺘﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺟﺴﻤﺎﻧﯽ ﻭﺯﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﺗﮭﮑﺎﻭﭦ ﺍﻭﺭ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ
ﺁﺋﯿﻮﮈﯾﻦ ﻣﯿﭩﺎﺑﻮﻟﺰﻡ ﮐﻮ ﺭﯾﮕﻮﻟﯿﭧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ ﮐﮯ ﻧﺘﯿﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻧﻈﺎﻡ ﭘﯿﭽﯿﺪﮔﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﮔﺮ ﻏﯿﺮﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﯾﺎ ﺗﮭﮑﺎﻭﭦ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮨﻮﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ۔
ﺧﺸﮏ ﺟﻠﺪ
ﺟﻠﺪ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺟﺴﻢ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻋﻀﻮ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﮭﺎﺋﯽ ﺭﺍﺋﯿﮉ ﺍﺳﮯ ﮨﻤﻮﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﺻﺤﺖ ﻣﻨﺪ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ، ﺗﺎﮨﻢ ﺗﮭﺎﺋﯽ ﺭﺍﺋﯿﮉ ﮐﻮ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯿﻮﮈﯾﻦ ﻧﮧ ﻣﻠﮯ ﺗﻮ ﺟﻠﺪ ﺧﺸﮏ ﺍﻭﺭ ﭼﮭﻠﮑﻮﮞ ﺟﯿﺴﯽ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ۔
ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﺎ ﮔﺮﻧﺎ
ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﺸﻮﻭﻧﻤﺎ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﺎﺭﻣﻮﻧﺰ ﮐﺎ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﮭﺎﺋﯽ ﺭﺍﺋﯿﮉ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﺎ ﮔﺮﻧﺎ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻭﺟﻮﮨﺎﺕ ﮐﺎ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﻋﻤﺮ ، ﺍﺩﻭﯾﺎﺕ ﻭﻏﯿﺮﮦ ، ﺗﺎﮨﻢ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﮔﺮ ﺑﺎﻝ ﮔﺮﺭﮨﮯ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﺁﺋﯿﻮﮈﯾﻦ ﮐﮯ ﻟﯿﻮﻝ ﮐﻮ ﭼﯿﮏ ﺿﺮﻭﺭ ﮐﺮﺍﻟﯿﮟ۔
ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺳﺮﺩﯼ ﻟﮕﻨﺎ
ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﺳﺮﺩﯼ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ ؟ ﭼﺎﮨﮯ ﻣﻮﺳﻢ ﮔﺮﻡ ﮨﯽ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﮨﻮ؟ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺟﺴﻤﺎﻧﯽ ﺩﺭﺟﮧ ﺣﺮﺍﺭﺕ ﺩﯾﮕﺮ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﻢ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺁﺋﯿﻮﮈﯾﻦ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ ﮨﻮﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺟﺴﻤﺎﻧﯽ ﺩﺭﺟﮧ ﺣﺮﺍﺭﺕ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﻣﺘﻌﺪﺩ ﺟﺴﻤﺎﻧﯽ ﺍﻓﻌﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺗﮭﺎﺋﯽ ﺭﺍﺋﯿﮉ ﺭﯾﮕﻮﻟﯿﭧ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﺑﮯ ﺗﺮﺗﯿﺐ ﺩﮬﮍﮐﻦ
ﺧﻮﻥ ﮐﯽ ﺷﺮﯾﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﮍﮮ ﻧﻈﺎﻡ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﺎﺋﯽ ﺭﺍﺋﯿﮉ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﺛﺮﺍﺕ ﻣﺮﺗﺐ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﻝ ﺗﮭﺎﺋﯽ ﺭﺍﺋﯿﮉ ﮨﺎﺭﻣﻮﻧﺰ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ' ﭨﺎﺭﮔﭧ ﻋﻀﻮ ' ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ، ﺍﮔﺮ ﺩﻝ ﮐﯽ ﺩﮬﮍﮐﻦ ﺍﮐﺜﺮ ﺗﯿﺰ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﻮ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯿﻮﮈﯾﻦ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ ﮐﺎ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮨﻮﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ۔
ﯾﺎﺩﺍﺷﺖ ﮐﮯ ﻣﺴﺎﺋﻞ
ﺁﺋﯿﻮﮈﯾﻦ ﺫﮨﻨﯽ ﭼﻮﮐﻨﮯ ﭘﻦ ﺍﻭﺭ ﺫﮨﺎﻧﺖ ﺳﮯ ﺟﮍﺍ ﺟﺰ ﮨﮯ ، ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﮐﻤﯽ ﺑﮭﯽ ﺫﮨﺎﻧﺖ ، ﯾﺎﺩﺩﺍﺷﺖ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﮑﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻋﻤﻞ ﭘﺮ ﺍﺛﺮﺍﻧﺪﺍﺯ ﮨﻮﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ۔

Address

Ghani Plaza Opposite Meezan Bank Shahabpura Road
Sialkot
51310

Telephone

+92-333-4005595

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when H/Dr.Shahzad Anjum posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category