Dr Sajjad Hussain Gastroenterologist and Hepatologist

Dr Sajjad Hussain Gastroenterologist and Hepatologist ڈاکٹر سجاد حسین
ماہر امراض معدہ جگر آنت ،انڈوسکوپسٹ
ریجنل ہیڈ کوارٹر ہسپتال سکردو
سی ای او زاہدہ حسن میموریل ہسپتال سکردو

آپ آپ کے شہر سکردو میں ۔۔پہلی بار۔۔اپنا مکمل علاج کرائیں۔۔مستند اور ماہر امراض معدہ جگر آنت سے

جاگتے ہی موبائل فون کا استعمال دماغی صحت کیلئے کیسا ہے؟ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ جاگنے کے فوراً بعد موبائل فون چیک کرنے ...
04/04/2026

جاگتے ہی موبائل فون کا استعمال دماغی صحت کیلئے کیسا ہے؟
ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ جاگنے کے فوراً بعد موبائل فون چیک کرنے کی عادت دماغی کارکردگی اور مجموعی صحت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔

ڈیجیٹل دور میں موبائل فون دیکھنا بہت سے افراد کے لیے صبح اٹھتے ہی پہلی سرگرمی بن چکا ہے۔ تاہم، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ رویہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

حالیہ سروے رپورٹس کے مطابق یہ رجحان تیزی سے عام ہوتا جا رہا ہے، جس پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

اگرچہ ٹیکنالوجی نے زندگی کو آسان بنایا ہے، لیکن ماہرین کے مطابق اس کا ضرورت سے زیادہ یا غیر مناسب وقت پر استعمال صحت اور روزمرہ معمولات پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

سروے کے مطابق تقریباً 84 فیصد صارفین جاگنے کے فوراً بعد یا دن کے ابتدائی 15 منٹ کے اندر اپنا موبائل استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

تحقیقی مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جاگنے کے فوراً بعد دماغ مکمل طور پر متحرک نہیں ہوتا۔
ابتدائی مرحلے میں دماغ ڈیلٹا اسٹیٹ میں ہوتا ہے، جو گہری آرام کی کیفیت سے منسلک ہے۔ اس کے بعد یہ بتدریج الفا اسٹیٹ میں داخل ہوتا ہے، جہاں انسان بظاہر بیدار ہوتا ہے لیکن ذہن مکمل طور پر فعال نہیں ہوتا۔

بالآخر دماغ بیٹا اسٹیٹ میں پہنچتا ہے، جہاں وہ مکمل طور پر چوکنا اور روزمرہ سرگرمیوں کے لیے تیار ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق جاگتے ہی موبائل فون دیکھنے سے دماغ کو اچانک پرسکون حالت سے مکمل سرگرمی کی طرف منتقل ہونا پڑتا ہے۔ یہ اچانک تبدیلی ذہنی دباؤ میں اضافہ کر سکتی ہے اور انسان کو بے چینی، چڑچڑاہٹ یا ذہنی تھکن کا شکار بنا سکتی ہے۔ بعض صورتوں میں اس سے دن بھر کام میں دلچسپی اور حوصلہ بھی کم ہو سکتا ہے۔

ماہرینِ صحت تجویز کرتے ہیں کہ جاگنے کے بعد کم از کم 30 منٹ سے ایک گھنٹے تک موبائل فون کے استعمال سے گریز کیا جائے۔ یہ وقفہ دماغ کو قدرتی طور پر آرام سے مکمل بیداری کی طرف منتقل ہونے میں مدد دیتا ہے۔

ماہرین نے ایک اور بڑھتے ہوئے رجحان کی نشاندہی بھی کی ہے، جو سونے سے پہلے موبائل فون کے زیادہ استعمال سے متعلق ہے۔

رات کے وقت اسکرین دیکھنے سے نیند کے معمولات متاثر ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق نیند میں خلل جسمانی اور ذہنی صحت کے مسائل کے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے۔
Daily Jang


#ایڈمن

شریانوں میں جمی چکنائی کو کیسے دور کیا جائے؟جب طویل عرصے تک چکنائی والی غذا کھائی جائے تو شریانوں کی دیواروں میں چکنائی ...
01/04/2026

شریانوں میں جمی چکنائی کو کیسے دور کیا جائے؟

جب طویل عرصے تک چکنائی والی غذا کھائی جائے تو شریانوں کی دیواروں میں چکنائی جم جاتی ہے جو شریانوں کو تنگ کردیتی ہے اور فالج یا ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھ دیتا ہے۔

شریانوں کی جمی ہوئی چکنائی مکمل طور پر راتوں رات ختم نہیں ہوتی مگر درست طرزِ زندگی سے اسے ختم اور مزید بڑھنے سے روکا جا سکتا ہے۔

سب سے پہلے خوراک میں تبدیلی ضروری ہوتی ہے جو کہ سب سے اہم قدم ہے۔ فرائی، گھی، بناسپتی، فاسٹ فوڈ کم سے کم یا بالکل ترک کرنا ہوتا ہے۔

اس کیلئے سبزیاں، پھل، دالیں، ثابت اناج جیسے جو یا براؤن چاول وغیرہ زبرست آپشن ہے۔ مچھلی، السی کے بیج اور اخروٹ زیادہ کھائیں جن میں اومیگا-3 ہوتا ہے۔ یہ شریانوں میں جمی چکنائی کو دور کرتا ہے۔

اسی طرح لہسن (روز 1–2 پیس) کھائیں اور زیتون کا تیل استعمال کریں جبکہ چینی اور سفید آٹا ترک یا بالکل محدود کردیں۔

فائبر شریانوں میں جمی چکنائی کو کم کرنے میں خاص مدد دیتا ہے۔ باقاعدہ ورزش کو اپنا معمول بنائیں، روزانہ 30–45 منٹ تیز واک کریں۔ سائیکل، تیراکی وغیرہ بھی کریں۔ ورزش ایچ ڈی ایل بڑھاتی ہے جو شریانیں صاف رکھنے میں مددگار ہے۔

اسی طرح ہلدی، کالی مرچ اور سبز چائے استعمال کریں۔ میٹھا کم، نمک مناسب مقدار میں لیں۔ یہ بھی چکنائی کو دور کرنے میں انتہائی معاون ہیں۔
بشکریہ ایکسپریس


#ایڈمن

زاہدہ حسن میموریل ہسپتال سکردو ہم آپ کے بہتر علاج اور سہولت کے لیے پرعزم ہیں۔ آپ کے قیمتی وقت کے تحفظ اور انتظار کے اوقا...
31/03/2026

زاہدہ حسن میموریل ہسپتال سکردو

ہم آپ کے بہتر علاج اور سہولت کے لیے پرعزم ہیں۔ آپ کے قیمتی وقت کے تحفظ اور انتظار کے اوقات کو کم کرنے کے لیے درج ذیل ہدایات پر عمل کرنے کی گزارش ہے:

1️⃣ براہِ کرم اپنی وزیٹ سے کم از کم ایک دن قبل اپائنٹمنٹ لازمی بک کروائیں
آپ 03554843983 یا 03411084148 پہ کال کر کے اپائنٹمنٹ لے سکتے ہیں یا صبح کے اوقات کار میں 9 بجے کے بعد آکر براہ راست ہماری فارمیسی ڈی کیمیسٹ پہ آکر لے سکتے ہیں۔ معائنے کے لیے انتظامیہ کے بتائے گئے مخصوص وقت پر تشریف لائیں جس سے آپ کے قیمتی وقت کی بچت ہوگی اور انتظار کا دورانیہ کم ہو ں گے۔

3️⃣ٹیسٹ دیکھانے کے لیے اپنی باری کا انتظار کیجیے ۔۔

4️⃣نجی کام کے سلسلے میں ملنے کے لیے لازمی وقت لیکر تشریف لائیں کیونکہ ہسپتال کے اوقات مریضوں کے لیے مختص ہوتے ہیں ۔۔

5️⃣ مرض کی تشخیص کے مراحل میں وقت لگ سکتا ہے لہذا جلد بازی ہرگز نہ کیجیے ۔۔

6️⃣خدمات کی بہتری اور معیار کو بہتر بنانے کے لیے اپنی قیمتی مشوروں اور تجاویز سے ہمیں لازمی آگاہ کیجیے گا اس کے لیے آپ ہمارے ہسپتال استقبالیہ پر موجود شکایات تجاویز بکس میں اپنے قیمتی رائے تحریری شکل میں دے سکتے ہیں نیز ہمارے فیس بک پیج پہ کمنٹ سکیشن میں بھی دے سکتے ہیں ۔

7️⃣ ابھی تک ہم نے آن لائن کنسلٹیشن کا آغاز نہیں کیا ہے لہذا اس سلسلے میں کال کرنے سے گریز کریں۔ مزید برآں، ٹیسٹ رپورٹس صرف ہسپتال میں معائنے کے دوران ہی دیکھی جائیں گی۔ براہِ کرم رپورٹس واٹس ایپ یا میسنجر پر ہرگز نہ بھیجیں۔

آپ کے تعاون کا طلبگار

انتظامیہ:

زاہدہ حسن میموریل ہسپتال سکردو

نذد بینظیر انکم سپورٹ آفس
محب روڈ کھرگڑونگ سکردو


#ایڈمن

ماہرین امراض قلب کے مطابق نیند دل کی صحت کا سب سے زیادہ نظر انداز کیا جانے والا راز ہے، جو قدرتی طور پر بلڈ پریشر اور دل...
30/03/2026

ماہرین امراض قلب کے مطابق نیند دل کی صحت کا سب سے زیادہ نظر انداز کیا جانے والا راز ہے، جو قدرتی طور پر بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن کو کم کرتی ہے اور دل کو آرام و مرمت کا موقع دیتی ہے۔ نیشنل لائبریری آف میڈیسن امریکہ کی ایک رپورٹ کے مطابق 7 گھنٹے سے صرف ایک گھنٹہ کم نیند لینے سے دل کی بیماری کا خطرہ 11 فیصد بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند قلبی نظام کے لیے ری سیٹ بٹن کی طرح ہے جو تناؤ کم کر کے دل کو مضبوط اور صحت مند رکھتی ہے۔
شفا نیوز انٹرنیشنل


#ایڈمن

کیا آپ جانتے ہیں؟تپِ دق ایک قسم کے بیکٹیریا سے ہوتا ہے اور ہوا اور قریبی رابطے کے ذریعے پھیلتا ہے۔تپِ دق زیادہ تر پھیپھڑ...
28/03/2026

کیا آپ جانتے ہیں؟
تپِ دق ایک قسم کے بیکٹیریا سے ہوتا ہے اور ہوا اور قریبی رابطے کے ذریعے پھیلتا ہے۔
تپِ دق زیادہ تر پھیپھڑوں کو متاثر کرتا ہے لیکن جسم کے دیگر حصوں پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ اس کی علامات میں کھانسی، بخار اور وزن میں کمی شامل ہیں۔
تپِ دق قابلِ علاج ہے
WHO Pakistan

#ایڈمن

جگر کو صحت مند رکھنے میں مددگار غذائیںجگر انسانی جسم کا انتہائی اہم عضو ہے جو غذا کو ہضم ہونے، توانائی کے ذخیرے اور زہری...
27/03/2026

جگر کو صحت مند رکھنے میں مددگار غذائیں

جگر انسانی جسم کا انتہائی اہم عضو ہے جو غذا کو ہضم ہونے، توانائی کے ذخیرے اور زہریلے مواد کو نکالنے کا کام کرتا ہے۔

تاہم مختلف عادات یا وقت گزرنے کے ساتھ جگر کو مختلف امراض کا سامنا ہوسکتا ہے اور وائرسز جیسے ہیپاٹائٹس اے، بی اور سی سمیت دیگر جان لیوا بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

آپ اپنے جگر کو مختلف بیماریوں سے بچانا چاہتے ہیں تو ان صحت مند غذاؤں کو اپنالیں، جبکہ نقصان دہ کھانوں سے گریز کریں۔

لہسن:

زہریلے مواد کا اخراج جگر کو صحت مند رکھنے کے لیے ضروری ہوتا ہے اور لہسن اس حوالے سے بہترین غذاﺅں میں سے ایک ہے، لہسن میں ایک اینٹی آکسائیڈنٹ الیسین جسم کو تکسیدی تناﺅ سے ہوےن والے نقصان سے بچاتا ہے۔ الیسین وہ اہم بائیو ایکٹیو کمپاﺅنڈ ہے جو جگر کے انزائمے کو حرکت میں لاکر نقصان دہ مواد کو خارج کرنے میں مدد دیتا ہے۔

سبز پتوں والی سبزیاں:

اپنی پلیٹ کو سبز پتوں والی سبزیاں جیسے پالک یا ساگ وغیرہ سے جتنا بھریں گے، اتنا ہی جگر کے لیے فائدہ مند ہوگا۔ یہ سبزیاں قدرتی طور پر جگر کی صفائی میں مدد دیتی ہیں۔

چقندر:

چقندر میں اینٹی آکسائیڈنٹس موجود ہوتے ہیں اور ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ چقندر کا جوس پینے کی عادت ڈی این اے کے نقصان کو کم کرکے جگر کو نقصان پہنچانے والی انجری سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔

ہلدی:

ہلدی ایسا مصالحہ ہے جو صحت کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند سمجھا جاتا ہے، اور یہ جگر کی صحت کے لیے بھی موثر ثابت ہوتا ہے جو جگر کے خلیات کو دوبارہ بننے میں مدد دیتا ہے۔

گاجر:

گاجر اینٹی آکسائیڈنٹس، وٹامنز، منرلز اور غذائی فائبر موجود ہوتے ہیں اور اس کا جوس جگر میں ڈی ایچ اے، ٹرائی گلیسڈر اور مونو ان سچورٹیڈ فیٹی ایسڈز لیول کم کرتا ہے جبکہ جگر میں چربی چڑھنے اور زہریلے مواد سے ہونے والے نقصان سے بچنے میں بھی مدد دیتا ہے۔

اچھی چربی:

صحت کے لیے فائدہ مند فیٹ یا چربی جیسے زیتون کے تیل، وغیرہ جگر کی صفائی کے لیے اچھے سمجھے جاتے ہیں۔

سبزچائے:

سبز چائے پینے کی عادت کے متعدد طبی فوائد ہیں اور اس میں موجود پولی فینولز جگر کے کینسر، جگر کے امراض اور ہیپاٹائٹس جیسے امراض کا خطرہ کم کرتے ہیں۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ گرین ٹی ایکسٹریکٹ جگر کی چربی چڑھنے کا باعث بننے والے انزائمے کا خطرہ کم کرتا ہے، تاہم اس کا زیادہ استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہئے اور 2 سے 3 کہ ہی مناسب ہیں۔

وٹامن سی:

وٹامن سی سے بھرپور غذائیں جیسے ترش پھل وغیرہ زہریلے مواد کی صفائی کرکے جگر پر چربی چڑھنے کا خطرہ کم کرتی ہیں۔

سیب:

چین میں ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ سیب میں موجود پولی فینولز جگر کے ورم کا خطرہ کم کرتے ہیں جس سے مختلف امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے، بس ایک سیب روزانہ اس حوالے سے مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

پانی کا زیادہ استعمال:

پانی کی کمی جسم میں مختلف مسائل کا باعث بنتی ہے جن میں جگر کے افعال بھی شامل ہیں۔ روزانہ 8 سے 10 گلاس پانی کا استعمال جگر کی صفائی کے عمل کو بہتر بناتا ہے جو اسے امراض سے بچانے کے لیے بہت ضروری ہے۔

زیتون کا تیل:

جگر کے مسائل میں سب سے عام نان الکحلک فیٹی لیور ڈیزیز ہے جس کی وجہ طرز زندگی کی خراب عادتیں ہوتی ہیں، مگر طبی سائنس نے دریافت کیا ہے کہ جو لوگ زیتون کے تیل کا استعمال کرتے ہیں، ان میں جگر کے امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے، زیتون کا تیل نقصان دہ کولیسٹرول کو کم کرتے ہیں جبکہ انسولین کی حساسیت بڑھتی ہے۔

اومیگا تھری فیٹی ایسڈ:

جنک فوڈ کا استعمال کم اور اومیگا تھری ایسڈز سے بھرپور غذا کا زیادہ استعمال جگر کی صحت کے لیے ضروری ہوتا ہے، جنک فوڈ میں موجود چربی جگر پر جم جاتی ہے جو سوجن اور دیگر عوارض کا باعث بنتی ہے جبکہ جسم کے لیے مناسب چربی اس سوجن کے خلاف جدوجہد کرتی ہے۔

اخروٹ:

اکروٹ صحت بخش چربی سے بھرپور ہوتے ہیں جبکہ ورم کش خصوصیات بھی رکھتے ہیں۔ ایک تحقیق میں دریافت کای گیا کہ زیادہ حیوانی چربی کھانے سے جگر پر چربی چڑھنے کا خطرہ بڑھتا ہے مگر اخروٹ کا استعمال اس سے تحفظ فراہم کرسکتا ہے۔ اس کے لیے روزانہ چند اخروٹ کھانا کافی ہوتا ہے۔

اجناس کا استعمال:

چینی، سفید آٹے اور پراسیس فوڈ کا استعمال کم کریں اور سبزیوں، پھلوں اور اجناس کو ان کی جگہ ترجیح دیں جو موٹاپے ، ذیابیطس سمیت مختلف امراض سے تحفظ تو دیتے ہی ہیں اس کے ساتھ ساتھ جگر کو بھی صحت مند رکھتے ہیں۔

ٹماٹر:

ٹماٹر بھی جگر کے لیے صحت بخش ہوتے ہیں، ان میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس جگر کا ورم کم کرنے کے ساتھ انجری سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

کافی:

ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ کافی پینے کی عادت جگر کے امراض کا خطرہ کم کرنے میں مدد دیتی ہے جس کی وجہ اس مشروب میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس ہوتے ہیں۔ تاہم 4 کپ سے زیادہ کافی پینا فائدے کی بجائے نقصان پہنچا سکتا ہے۔

مچھلی:

مچھلی پروٹین کے حصول کا اچھا ذریعہ ہے جو کہ جگر کو صحت مند رکھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ مچھلی سے جسم کو امینو ایسڈز اور اومیگا تھری فیٹی ایسڈز بھی ملتے ہیں جو کہ جگر میں نقصان دہ چربی کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

گریپ فروٹ:

یہ پھل وٹامن سی اور اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے جو جگر سے زہریلے مواد کی صفائی میں مدد دیتے ہیں۔ ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ گریپ فروٹ میں موجود اجزا ایسے کیمیکلز کو حرکت میں لاتے ہیں جو کہ جگر پر چربی چڑھنے کا خطرہ کم کرتے ہیں۔۔

بشکریہ ڈان

#ایڈمن

زاہدہ حسن میموریل ہسپتال سکردونذد بینظیر انکم سپورٹ آفسمین محب روڈ کھرگڑونگ سکردواوقات کار:پیر تا ہفتہ دوپہر 4 بجے سے را...
26/03/2026

زاہدہ حسن میموریل ہسپتال سکردو
نذد بینظیر انکم سپورٹ آفس
مین محب روڈ کھرگڑونگ سکردو

اوقات کار:
پیر تا ہفتہ
دوپہر 4 بجے سے رات 8 بجے

برائے رابطہ:
03411084148,03554843983


#ایڈمن

25/03/2026

زاہدہ حسن میموریل ہسپتال سکردو عید کی تعطیلات کے بعد آج سے باقاعدہ کھلے گا۔
برائے رابطہ:03411084148٫03554843983
انتظامیہ

عید الفطر مبارک 🌙✨ اپنی دعاؤں میں مظلومین و مستضعفینِ جہاں کو خصوصی طور پر شامل رکھیں.   #ایڈمن
20/03/2026

عید الفطر مبارک 🌙✨
اپنی دعاؤں میں مظلومین و مستضعفینِ جہاں کو خصوصی طور پر شامل رکھیں.

#ایڈمن

19/03/2026

“رمضان کے بعد صحت مند عید گزارنے کیلئے مفید مشورے”

ان مفید نکات پر عمل کرکے آپ عید پر کئی مسائل سے بچ سکتے ہیں۔

عید الفطر ماہ رمضان کے اختتام پر مسلمانوں کے لیے ایک تحفہ سمجھی جاتی ہے، ایسا زبردست تہوار جو پورے خاندان کو قریب لاتا ہے، مگر ایک مہینے تک وقت سحر سے سورج غروب ہونے تک کھانے پینے سے دور رہنے کے بعد آپ خود کو کچھ چیزوں سے روک سکتے ہیں؟

میز پر خوراک سے لطف اندوز ہونے میں کوئی برائی نہیں مگر رمضان کے بعد اچانک بہت زیادہ کھانا پینا آپ کے جسمانی نظام کے لیے کافی نقصادن دہ ثابت ہوسکتا ہے اور آپ خود کو نڈھال اور موٹاپے کا شکار بھی بناسکتے ہیں۔

تاہم ان مفید نکات پر عمل کرکے آپ عید پر اس طرح کے احساسات سے بچ سکتے ہیں۔

1️⃣صبح کے وقت چہل قدمی:

جب آپ ورزش کرتے ہیں تو آپ کا جسم خوش رکھنے والا ہارمون ایڈروفین خارج کرتا ہے جو آپ کی کھانے کی اشتہا کو قابو میں رکھتا ہے اور مزاج پر خوشگوار اثرات مرتب کرتا ہے، اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ صبح کی چہل قدمی کے بعد کون ہے جو ذہنی فرحت محسوس نہیں کرتا؟

2️⃣کھانے سے پہلے پانی پینا:

کھانے سے پہلے دو کپ یا پانچ سو ملی لیٹر پانی پینے سے آپ کو کم کیلیوریز لینے میں مدد ملتی ہے، یہ اپنی بڑھتی خوراک میں کمی لانے کا بہترین طریقہ ہے۔

3️⃣یہ قول یاد رکھیں:

جب آپ مزیدار کھانوں سے بھری میز کے سامنے بیٹھے ہوں تو یہ مشہور قول ضرور یاد کرلیں کہ جینے کے لیے کھانا ہے، کھانے کے لیے نہیں جینا ہے، اگرچہ یہ کوئی انقلابی جملہ نہیں مگر یہ کچھ سوچنے پر ضرور مجبور کرتا ہے۔

4️⃣خوراک کا انتخاب:

صحت مند خوراک کے آپشنز کا دانشمندانہ استعمال کریں اور کوشش کریں کہ جنک فوڈ یا غیرصحت مندانہ انتخاب سے کچھ دور ہی آپ کی نشست ہو تاکہ ان کو کھانے کا موقع ہی نہ مل سکے۔

5️⃣زیادہ چبانا:

ہر ایک اس بات سے آگاہ نہیں کہ غذا کو ہضم کرنے کا سلسلہ درحقیقت ہمارے معدے سے نہیں بلکہ منہ میں چبانے سے شروع ہوتا ہے۔ ہمارے منہ میں موجود لعاب دہن میں ایسے خامرے موجود ہوتے ہیں جو خوراک کو نگلنے سے پہلے ہی قابل ہضم بنانا شروع کردیتے ہیں۔ نوالے کو مناسب چبانا جسم کو یہ سگنل بھیجتا ہے کہ وہ ہاضمے کے باقی بچ جانے والے پراسیس کے لیے تیار ہوجائے۔

6️⃣پھلوں اور سبزیوں کا زیادہ استعمال:

پھلوں اور سبزیوں میں موجود پانی اور فائبر آپ کی پیاس بجھانے کے ساتھ پیٹ بھرنے کا احساس بھی دلاتے ہیں، پھلوں میں موجود مٹھاس ہمارے جسم میں چینی کے لیے پائی جانے والی طلب کو مطمئن کرتی ہے جس سے آپ اتنا زیادہ میٹھا بھی استعمال نہیں کرتے جو وزن بڑھانے کا سبب بن جائے۔

7️⃣جلد اختتام:

کھانے کا مقصد بس بھوک مٹانا ہے نہ کہ پیٹ بھرنا، تو اگر آپ کا پیٹ آدھا بھی بھرجائے تو کھانے سے ہاتھ کھینچ لینا چاہیے اور میز سے اٹھ کر کسی منٹ سے منہ کا ذائقہ بدلیں اور دانت صاف کرلیں۔۔۔
اُردو ڈان صحت
#ایڈمن

18/03/2026

عیدِ پر کھانوں کی بہار مگر کھائیں اعتدال کے ساتھ۔۔

عید آپ کے دروازے پر کھڑی دستک دے رہی ہے اور روزےداروں کے لیے’’ عید الفطر،،خدا کا بہترین انعام ہے۔ ماہ صیام میں تیس دن کےروزے رکھنے کے بعدیکم شوال کا دن عید کی خوشیوں لےکرآتا ہے ۔ہر طرف ذائقہ دار کھانوں کی بہار اور مختلف اقسام کے لذیذ پکوانوں کی اشتہا انگیز خوشبو ہر سُوپھیلی ہوتی ہے ۔ایسے میں انسان کے لیے خود کو کھانے پینے کی لذیذچیزوں سے روکے رکھنا قدرے مشکل ہوتا ہے ۔اور خدا کی دی گئی ان گنت نعمتوں سے لطف اندوز ہونے میں کوئی برائی نہیںلیکن ایک ماہ روزے رکھنے کے بعد اچانک چٹ پٹےکھانے اور مرغن غذائیں آپ کے جسمانی نظام کو متاثر کرسکتی ہیںجس سے نہ صرف آپ نڈھال بلکہ موٹاپے کا شکار بھی ہوسکتے ہیں۔ اسی لیے ماہرین عید کےدن کھانا کھانےمیں اعتدال کا مشورہ دیتے ہیں۔

کھانے میں اعتدال :

کھانے کے لیے جب بھی بیٹھیں تو یہ مشہور قول ضرور یاد رکھیں کہ جینے کے لیے کھانا ہے، کھانے کے لیے نہیں جینا، اگرچہ یہ کوئی انقلابی جملہ نہیں مگر یہ کچھ سوچنے پر ضرور مجبور کرتا ہے۔ زیادہ کھانا صحت کے لئے نقصان دہ ہے کیونکہ اعصابی بیماریاں، دماغی کمزوری، بلند فشار خون، ذیابیطس اور پیٹ کے متعدد امراض زیادہ کھانے سے ہی پیدا ہوتے ہیں اس لئے کھانے میں اعتدال سے کام لیں۔

چٹ پٹے کھانوں میں احتیاط:

عید کے موقع پر چٹ پٹے کھانوں کا رواج عام ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق کچوریاں ،پراٹھے،حلوہ پوری کا ناشتہ جبکہ دوپہر اور رات میں لذیذ کھانوں کا استعمال معدے پر شدید دباو ڈالتاہے جس سے پیٹ خراب ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ اس لیے عید کے موقع پران کھانوں کے استعمال میں احتیاط برتنی چاہیے۔ بلند فشار خون اور ذیابیطس کے مریضوں کو عید کے دن چٹ پٹے کھانوں کے زیادہ استعمال سے گریز کرنا چاہیے۔

عید پر کھانے کا معمول:

ماہ صیام میں صبح فجر سے مغرب تک کھانے پینے کے وقفے کی وجہ سے معدے کی ایک خاص انداز میں تربیت ہوجاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ عید کے روز بہت زیادہ کھانا پینا معدےکےامراض کا سبب بن سکتا ہے۔اگر آپ اس مشکل سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں تواس روٹین پر عمل کریں۔سنت کے مطابق صبح کی شروعات میٹھا کھانے سے کیجیے ،یہ میٹھی شے کھیر ،سویاں شیر خورمہ اور میٹھے چاول ہوسکتے ہیں لیکن خیال رہےکہ عیدکے موقع پر تیار ہونے والاشیرخورمہ بہت زیادہ نہ کھائیں۔ان میٹھے کھانوں میں میوہ جات کا کثیر استعمال کیا جاتا ہے اور انھیں بغیر چبائے نگل جانا معدے کی گرانی کا سبب بنتاہے۔دوپہر کا کھانا سادہ ہونا ضروری ہے، رمضان کے فوری بعدبہت زیادہ مرغن اور چٹ پٹے کھانوں کا استعمال نقصان دہ ہے۔عید کے دن دوپہر اور رات کے کھانے میں کم از کم چھ گھنٹے کا وقفہ رکھنابے حد ضروری ہے کیونکہ روزے کے دوران معدہ15 سے 16 گھنٹے تک آرام کا عادی ہوچکا ہوتاہے اور ردِعمل کے طور پر صحت کے مسائل پیدا کرسکتا ہے۔

کولیسٹرول والے کھانےکے بعد کولڈرنک سے گریزطبی ماہرین کے مطابق رمضان المبارک میں اعتدال سے کھانے کے بعد عید کے موقع پربزرگ افراد بدپرہیزی کرتے ہیں اور زیادہ میٹھی، مرغن اور کولیسٹرول سے بھرپورغذاؤں کا استعمال کرتے ہیں۔کھانے کے بعد کولڈرنک کا استعمال کافی نقصان دہ ہوتاہے ۔اس لیے کوشش کریں کہ عیدالفطر پر کھانےکے ساتھ ساتھ کولڈرنک کے استعمال میں احتیاط برتی جائے۔ضرورت سے زیادہ ٹھنڈےپانی اور برف سے پرہیز کریں۔

عید کے روز بھی چہل قدمی نہ بھولیں:

ہم عید یا تہواروں کے موقع پر ورزش کرنا بھول جاتے ہیں لیکن ورزش سے متعلق یاد رکھیں کہ دوران ورزش انسان کا جسم خوش رکھنے والا ہارمون ایڈروفین خارج کرتا ہے جونہ صرف آپ کی کھانے کی اشتہا کو قابو میں رکھتا ہے بلکہ مزاج پر بھی خوشگوار اثرات مرتب کرتا ہے۔۔۔۔

یار رہیے امت مسلمہ پر دشمنان اسلام کی طرف سے مسلط جنگ کی وجہ سے کوشش کریں اس بار عید کو سادگی سے منائیں اور مظلومیں ومحکومین کے لیے خصوصی دعا ضرور کیجیے گا۔۔۔۔
#ایڈمن

Address

Skardu

Opening Hours

Monday 15:00 - 18:00
Tuesday 15:00 - 18:00
Wednesday 15:00 - 18:00
Thursday 15:00 - 18:00
Friday 15:00 - 18:00
Saturday 15:00 - 18:00

Telephone

+923554843983

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Sajjad Hussain Gastroenterologist and Hepatologist posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share