Dr Sajjad Hussain Gastroenterologist and Hepatologist

Dr Sajjad Hussain Gastroenterologist and Hepatologist ڈاکٹر سجاد حسین
ماہر امراض معدہ جگر آنت ،انڈوسکوپسٹ
ریجنل ہیڈ کوارٹر ہسپتال سکردو
سی ای او زاہدہ حسن میموریل ہسپتال سکردو

آپ آپ کے شہر سکردو میں ۔۔پہلی بار۔۔اپنا مکمل علاج کرائیں۔۔مستند اور ماہر امراض معدہ جگر آنت سے

مرکزی جامعہ مسجد حسین آباد سکردو میں شبِ نیمہ شعبان کی پرنور محفل اور صحتِ عامہ پر خصوصی نشست۔۔گزشتہ رات حسین آباد کی مر...
04/02/2026

مرکزی جامعہ مسجد حسین آباد سکردو میں شبِ نیمہ شعبان کی پرنور محفل اور صحتِ عامہ پر خصوصی نشست۔۔

گزشتہ رات حسین آباد کی مرکزی جامعہ مسجد میں منعقدہ "شبِ نیمہ شعبان" کے پروگرام میں ماہر امراض معدہ جگر آنت ریجنل ہیڈ کوارٹر ہسپتال سکردو ڈاکٹر سجاد حسین نے علماء کرام، بزرگوں اور نوجوانوں کی خصوصی دعوت پر شرکت کی۔
اس موقع پر ڈاکٹر صاحب کو حاضرین سے "صحتِ عامہ" کے اہم موضوع پر گفتگو کرنے کا موقع ملا۔ ایک روحانی اور مذہبی پروگرام میں اس طرح کا تنوع اور طبی آگاہی جیسے سماجی موضوعات کی شمولیت یقیناً ایک منفرد اور لائقِ تحسین اقدام ہے۔شرکاء اور ولی عصر کمیٹی کی طرف سے ڈاکٹر صاحب کا شکریہ ادا کیا گیا اور پرائز سے نوازا گیا۔
#ایڈمن

02/02/2026

زاہدہ حسن میموریل ہسپتال سکردو کل بروز منگل 3فروری کو شبِ برات (نیمہ شعبان) کے سلسلے میں بند رہے گا۔
#ایڈمن

شگر روڈ حادثہ: سسکتی زندگی، انتظامی غفلت اور ہماری اجتماعی ذمہ داری​شگر روڈ پر پیش آنے والا حالیہ المناک حادثہ، جس میں م...
01/02/2026

شگر روڈ حادثہ: سسکتی زندگی، انتظامی غفلت اور ہماری اجتماعی ذمہ داری

​شگر روڈ پر پیش آنے والا حالیہ المناک حادثہ، جس میں محکمہ مال کے تین نوجوان لقمہ اجل بنے، بلاشبہ پورے خطے کے لیے ایک بڑا انسانی المیہ ہے۔ ان میں سے مرحوم شرافت اور مرحوم اسلم میرے پاس کئی دفعہ چیک اپ کے لیے آئے تھے، ان کے ساتھ کچھ بیتے لمحات آج بھی دل کو رنجیدہ کر دیتا ہے۔ اس حادثے پر قلم اٹھانے کا فیصلہ اس لیے کیا گیا کہ آج سے تین سال پہلے ہم خود ایسے ہی ایک المناک حادثے سے گزر چکے ہیں جس کے زخم شاید مندمل ہونے میں صدیاں لگیں، لہٰذا معاشرے کے زمہ دار فرد ،ایک معالج اور متاثرہ فرد کی حیثیت سے کچھ گزارشات پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں کیونکہ یہ حادثہ نہ پہلا ہے اور نہ آخری، اور روز بروز بڑھتی ٹریفک اور سیاحوں کی آمد اس سنگینی کو بڑھاتی رہے گی۔
​سب سے پہلے ہمیں سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال کو سمجھنا ہوگا جہاں "ایکسکلوسیو خبر یا بریکنگ نیوز" دینے کی دوڑ لواحقین کے لیے شدید اذیت کا باعث بن جاتی ہے کیونکہ بدقسمتی سے اب ہر ایک کے ہاتھ میں موبائل ہونے کی وجہ سے ہر ایک اپنے طور پر صحافی بن جاتا ہے۔ مرحومین و مجروحین کی خوں آلود تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرنا کسی بھی طور پر جائز نہیں؛ یہ لواحقین کی توہین اور ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ بلتستان کا ایک مخصوص اور باوقار سماجی طرزِ عمل رہا ہے جس میں بزرگوں اور عزیز اقارب کے ذریعے ایک خاص طریقہ کار سے صدمے کی خبر لواحقین تک سنائی جاتی تھی تاکہ انہیں ذہنی طور پر تیار کیا جا سکے، لیکن سوشل میڈیا نے اس روایت کو پامال کر دیا ہے جس کے نتیجے میں لواحقین پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر جیسے سنگین نفسیاتی نیز مشکل جسمانی مسائل کا بھی شکار ہو رہے ہیں۔
​اس طرح کے حادثات سے بچاؤ کے لیے صوبائی سطح کے ساتھ ساتھ ریجنل اور ضلعی سطح پر بھی ارلی وارننگ یعنی پہلے سے خطرے کی آگاہی دینے کے سسٹم کا قیام ضروری ہے تاکہ ریڈیو، ایف ایم اور سوشل میڈیا کے ذریعے شدید موسم یا لینڈ سلائیڈنگ کے الرٹس جاری کیے جا سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ روڈ سیفٹی میں شامل تمام تعمیراتی و انتظامی محکمہ جات کا کڑا احتساب وقت کی اشد ضرورت ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہماری سڑکوں پر خطرناک جگہوں اور موڑوں پر نہ صرف حفاظتی باڑ اور دیواریں غائب ہیں، بلکہ رات کے وقت ڈرائیونگ کو محفوظ بنانے والے لائٹ والے حفاظتی نشانات کیٹ آئیز اور ریفلیکٹرز کا بھی سرے سے وجود نہیں ہے۔ساتھ ساتھ روڈ پر کسی قسم کی نشانات موجود نہیں ہے جو آپ کو بتا سکیں کہ آگے موڑ ہے اترائی ہے وغیرہ ۔۔سیٹ بیلٹ باندھنے کے قانون کو سختی سے لاگو کرنے کی زمہ داری بھی متعلقہ محکمہ جات پر آتی ہے لہذا جب تک ان اداروں سے سڑک کی ناقص مرمت، حفاظتی باڑ کی عدم موجودگی اور گاڑیوں کی فٹنس چیک کرنے والے اداروں کی مجرمانہ کوتاہی پر باز پرس نہیں ہوگی، یہ خونی کھیل ختم نہیں ہوگا۔ ایسے بڑے حادثات کے بعد کبھی کسی ذمہ دار کی سرزنش یا سزا نہیں ہوئی، یہی وجہ ہے کہ ہر حادثے کے بعد سب کچھ بھلا دیا جاتا ہے۔
​اسی طرح لائسنس جاری کرنے والے اداروں کو اپنے نظام میں انقلابی تبدیلیاں لانی ہوں گی۔ بغیر ٹیسٹ کے ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنا ایک قانونی و اخلاقی جرم ہے جس کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔ ڈرائیونگ ٹیسٹ سے پہلے ایک مستند میڈیکل کمیٹی کے ذریعے نظر، سماعت اور اعصابی ردعمل کا معائنہ لازمی ہونا چاہیے، جس کے لیے متعلقہ محکمے میں پوری میڈیکل ٹیم موجود ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ پبلک ٹرانسپورٹ کے ڈرائیوروں کا وقتاً فوقتاً نشہ آور ادویات کے استعمال کے لیے معائنہ کرنا لازمی قرار دیا جائے تاکہ نشے کی حالت میں قیمتی جانوں سے کھیلنے والوں کا قلع قمع ہو سکے۔
​بطور شہری اور ڈرائیور ہماری اپنی ذمہ داری بھی اہم ہے۔ ہمیں گاڑی خریدتے وقت ایئر بیگز کی موجودگی کو یقینی بنانی چاہیے، جو کہ بدقسمتی سے اکثر این سی پی گاڑیوں میں موجود نہیں ہوتے؛ اس کا حل یہ ہے کہ انہیں دوبارہ لگوایا جائے یا ایسی گاڑیاں نہ خریدی جائیں۔ ہر سفر سے پہلے گاڑی کے بریک، ٹائر، لائٹس اور انجن کی فٹنس خود یا اپنے مکینک سے چیک کرائیں ۔نیز تیز رفتاری اور خطرناک جگہوں پر غلط اوور ٹیکنگ خودکشی کے مترادف ہے۔دوران سفر سیٹ بیلٹ باندھنا اپنے اور اپنے پیاروں کے اوپر فرض قرار دیں۔ طبی نقطہ نظر سے، اگر آپ غنودگی پیدا کرنے والی ادویات کھا رہے ہیں، تو اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کیے بغیر ہرگز ڈرائیونگ نہ کریں اور ڈاکٹر سے ان ادویات کے اثرات پر لازمی بات کریں۔ اسی طرح بہت زیادہ خالی پیٹ، شدید بھوک،تھکاوٹ ،غصے کی حالت یا نیند پوری نہ ہونے کی صورت میں ڈرائیونگ کرنا انتہائی خطرناک عمل ہے کیونکہ یہ آپ کے ردعمل کی رفتار کو سست کر دیتے ہیں۔ دورانِ سفر موبائل فون کا استعمال ترک کریں؛ اگر ضروری بات کرنی ہو تو گاڑی روک کر کریں۔ ایک ہی دن میں تمام کام نمٹانے کی جلد بازی سے گریز کریں، کیونکہ ذہنی تھکاوٹ اور عجلت حادثے کا بڑا سبب ہیں۔ نیز حتی الامکان ایمرجنسی کے علاوہ رات کو غیر ضروری سفر سے پرہیز کریں۔
​ایک اور حساس پہلو عام افراد کی ریسکیو ٹریننگ ہے تاکہ گردن یا کمر کی چوٹ والے مریضوں کو غلط طریقے سے نکال کر مستقل معذور ہونے سے بچایا جا سکے۔ مریض کو نکالتے وقت گردن، کندھے اور کمر کو ایک سیدھ میں رکھنا جانی نقصان کو روکنے کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ عوام کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ کی صورت میں مریض کو تب تک نہ ہلایا جائے جب تک گردن کو سہارا نہ دے دیا جائے۔
​سب سے بڑھ کر ایک اور تلخ المیہ یہ ہے کہ حادثات کے چند دن بعد لوگ لواحقین کو بھول جاتے ہیں۔ ہمیں ایک ایسے مربوط اور مضبوط سسٹم کی ضرورت ہے جو متاثرہ خاندانوں کی مسلسل مدد کر سکے۔ ان مریضوں کے لیے جو کمر یا سر کی چوٹ کے باعث طویل عرصے کے لیے بستر پر چلے جاتے ہیں، حکومتی سطح پر ایک "ہوم بیسڈ ری ہیبلیٹیشن سسٹم" ہونا چاہیے جس میں محکمہ صحت اور سوشل ویلفیئر کی ٹیمیں گھر آ کر طبی معائنہ، فزیوتھراپی سیشنز اور نفسیاتی بحالی کے اقدامات فراہم کریں۔ چاہے بچوں کی تعلیم ہو، صحت ہو یا گھر کا نظم و نسق، ان کی کفالت کے لیے ایک مستقل ادارہ جاتی نظام گورنمنٹ اور کمیونٹی سطح پر ہونا چاہیے تاکہ ان کے دکھوں کا مداوا ہو سکے۔
​آخر میں، ایئر ایمبولینس شاید ابھی ایک خواب ہو، لیکن گلگت بلتستان کے ہر ریجن میں جدید ٹراما سینٹرز کا قیام اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ اس سلسلے میں ہماری ڈاکٹروں کی تنظیم پی ایم اے نے بارہا اعلیٰ حکام کے سامنے آواز بلند کی ہے کہ حادثے کے بعد کے 'گولڈن آور' میں قیمتی جانیں بچانے کے لیے جدید آلات سے لیس ایمبولینسز اور ٹراما سینٹرز کا جال بچھایا جائے۔ جب تک حکومت، متعلقہ ادارے اور ہم بطور فرد اپنی ذمہ داریوں کا ادراک اور احتساب نہیں کریں گے، شگر روڈ جیسی شاہراہیں یوں ہی ہمارے پیاروں کا لہو پیتی رہیں گی۔ اللہ تعالیٰ تمام مرحومین کے درجات بلند کرے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔۔
ڈاکٹر سجاد حسین
#سجادیات
#ایڈمن

01/02/2026

کول ڈرنک صحت کے لئے کس طرح نقصان دہ ہے؟ مسلسل کول ڈرنک کا استعمال شوگر اور موٹاپے سمیت کئی اقسام کی بیماریوں کا باعث بنتا ہے

Video Courtesy : Oladoc


#ایڈمن

زاہدہ حسن میموریل ہسپتال سکردو ہم آپ کے بہتر علاج اور سہولت کے لیے پرعزم ہیں۔ آپ کے قیمتی وقت کے تحفظ اور انتظار کے اوقا...
30/01/2026

زاہدہ حسن میموریل ہسپتال سکردو

ہم آپ کے بہتر علاج اور سہولت کے لیے پرعزم ہیں۔ آپ کے قیمتی وقت کے تحفظ اور انتظار کے اوقات کو کم کرنے کے لیے درج ذیل ہدایات پر عمل کرنے کی گزارش ہے:

1️⃣ براہِ کرم اپنی وزیٹ سے ایک دن قبل اپائنٹمنٹ لازمی بک کروائیں
آپ 03554843983 یا 03411084148 پہ کال کر کے اپائنٹمنٹ لے سکتے ہیں ۔یا صبح کے اوقات کار میں 9 بجے کے بعد آکر براہ راست اپائنمٹ لے سکتے ہیں۔۔

2️⃣ معائنے کے لیے انتظامیہ کے بتائے گئے مخصوص وقت پر تشریف لائیں جس سے آپ کے قیمتی وقت کی بچت ہوگی اور انتظار کا دورانیہ کم ہو ں گے۔

3️⃣ٹیسٹ دیکھانے کے لیے اپنی باری کا انتظار کیجیے ۔۔

4️⃣نجی کام کے سلسلے میں ملنے کے لیے لازمی وقت لیکر تشریف لائیں کیونکہ ہسپتال کے اوقات مریضوں کے لیے مختص ہوتے ہیں ۔۔

5️⃣ مرض کی تشخیص کے مراحل میں وقت لگ سکتا ہے لہذا جلد بازی ہرگز نہ کیجیے ۔۔

6️⃣خدمات کی بہتری اور معیار کو بہتر بنانے کے لیے اپنی قیمتی مشوروں اور تجاویز سے ہمیں لازمی آگاہ کیجیے گا اس کے لیے آپ ہمارے ہسپتال استقبالیہ پر موجود شکایات تجاویز بکس میں اپنے قیمتی رائے تحریری شکل میں دے سکتے ہیں نیز ہمارے فیس بک پیج پہ کمنٹ سکیشن میں بھی دے سکتے ہیں ۔

ہماری کوشش ہے کہ آپ کو بہترین طبی خدمات فراہم کریں۔ آپ کے تعاون سے ہم اس نظام کو مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔

آپ کے تعاون کا طلبگار

انتظامیہ:

زاہدہ حسن میموریل ہسپتال
نذد بینظیر انکم سپورٹ آفس محب روڈ کھرگڑونگ سکردو


#ایڈمن

سردیوں میں گھروں کو گرم رکھنے کے محفوظ طریقےسردیوں کے موسم میں گھروں کو گرم رکھنا ایک بنیادی ضرورت بن جاتا ہے، خاص طور پ...
29/01/2026

سردیوں میں گھروں کو گرم رکھنے کے محفوظ طریقے

سردیوں کے موسم میں گھروں کو گرم رکھنا ایک بنیادی ضرورت بن جاتا ہے، خاص طور پر اُن علاقوں میں جہاں درجۂ حرارت اچانک بہت کم ہوجاتا ہے۔ تاہم غیر محفوظ طریقوں سے حرارت حاصل کرنا جان و مال کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

ہر سال سردیوں میں گیس لیکیج، ہیٹر حادثات اور کاربن مونو آکسائیڈ کے باعث قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ گھروں کو گرم رکھنے کے محفوظ اور درست طریقے اپنائے جائیں۔

سردیوں میں گھروں کو گرم رکھنا کیوں ضروری ہے؟

کم درجۂ حرارت نہ صرف جسمانی تکلیف کا باعث بنتا ہے بلکہ بچوں، بزرگوں اور دل و سانس کے مریضوں کے لیے صحت کے سنگین مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ سرد ماحول میں نمونیا، نزلہ، فلو اور بلڈ پریشر کے مسائل بڑھ جاتے ہیں، اسی لیے گھریلو ماحول کو مناسب حد تک گرم رکھنا صحت کے لیے ناگزیر ہے۔

گیس ہیٹر استعمال کرتے وقت احتیاط

پاکستان میں گیس ہیٹر گھروں کو گرم رکھنے کا سب سے عام ذریعہ ہیں، مگر یہی سب سے زیادہ خطرناک بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔ ہیٹر کو ہمیشہ ہوادار کمرے میں استعمال کریں اور دروازے یا کھڑکی کا تھوڑا سا حصہ کھلا رکھیں تاکہ زہریلی گیسیں جمع نہ ہوں۔ سوتے وقت گیس ہیٹر بند کرنا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ کاربن مونو آکسائیڈ بے ہوشی اور جان لیوا حادثات کا باعث بن سکتی ہے۔

الیکٹرک ہیٹر: محفوظ مگر محتاط استعمال ضروری

الیکٹرک ہیٹر نسبتاً محفوظ سمجھے جاتے ہیں، مگر ان کے استعمال میں بھی احتیاط ضروری ہے۔ ہیٹر کو پردوں، بستر یا کپڑوں کے قریب نہ رکھیں اور غیر معیاری ایکسٹینشن بورڈ استعمال کرنے سے گریز کریں۔ زیادہ لوڈ لینے والے ہیٹر بجلی کے شارٹ سرکٹ اور آگ لگنے کا باعث بن سکتے ہیں، اس لیے معیاری وائرنگ اور ساکٹ کا استعمال کریں۔

کمرے کی مناسب انسولیشن

گھر کو گرم رکھنے کا ایک محفوظ اور مؤثر طریقہ یہ ہے کہ ٹھنڈی ہوا کو اندر آنے سے روکا جائے۔ دروازوں اور کھڑکیوں کے کناروں پر ربڑ پیکنگ یا کپڑے لگانے سے ٹھنڈک کم داخل ہوتی ہے۔ موٹے پردے اور قالین بھی کمرے کے درجۂ حرارت کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

دھوپ سے فائدہ اٹھائیں

سردیوں کے دوران دھوپ ایک قدرتی نعمت ہے۔ دن کے وقت پردے ہٹا کر سورج کی روشنی کمرے میں آنے دیں، اس سے کمرہ قدرتی طور پر گرم رہتا ہے۔ شام کے وقت پردے بند کر دینے سے گرمی باہر نہیں نکلتی اور کمرے کا درجۂ حرارت برقرار رہتا ہے۔

لحاف، کمبل اور گرم کپڑوں کا درست استعمال

گھر کو حد سے زیادہ گرم کرنے کے بجائے جسم کو گرم رکھنا زیادہ محفوظ طریقہ ہے۔ گرم کپڑے، سویٹر، موزے اور کمبل استعمال کرنے سے ہیٹر پر انحصار کم ہو جاتا ہے، جو نہ صرف محفوظ ہے بلکہ بجلی اور گیس کے بلوں میں بھی کمی لاتا ہے۔

انگیٹھی اور کوئلے کا استعمال: ایک خطرناک روایت

دیہی اور بعض شہری علاقوں میں آج بھی انگیٹھی یا کوئلے سے گرمی حاصل کی جاتی ہے، جو انتہائی خطرناک ہے۔ بند کمروں میں کوئلے یا لکڑی جلانے سے زہریلی گیسیں جمع ہو سکتی ہیں، جو خاموشی سے جان لے لیتی ہیں۔ ماہرین صحت کے مطابق بند کمرے میں انگیٹھی کا استعمال ہرگز نہیں کرنا چاہیے۔

بچوں اور بزرگوں کے لیے خصوصی احتیاط

گھر میں موجود بچوں اور بزرگ افراد کے لیے اضافی احتیاط ضروری ہے۔ ہیٹر کو بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں اور بزرگوں کے کمرے میں زیادہ ہواداری کا خاص خیال رکھیں۔ رات کے وقت گرم پانی کی بوتل یا اضافی کمبل زیادہ محفوظ متبادل ہو سکتے ہیں۔

محفوظ گرمی، پرسکون سردی

سردیوں میں گھر کو گرم رکھنا ضروری ہے، مگر حفاظت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ مناسب ہواداری، معیاری آلات اور سادہ احتیاطی تدابیر اپناتے ہوئے نہ صرف سردی سے بچا جا سکتا ہے بلکہ جان و مال کو بھی محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ محفوظ طریقے اپنانا ہی ایک بہتر اور ذمے دار لائف اسٹائل کی پہچان ہے۔
بشکریہ : ایکسپریس


#ایڈمن

28/01/2026

ہر قسم کے مستند اور معیاری ادویات کا مرکز
ڈی کیمیسٹ-D Chemist
زاہدہ حسن میموریل ہسپتال
محب روڈ کھرگڑونگ
سکردو

ہروقت تھکاوٹ کا سبب بننے والی 13 عادتیںکیا آپ ہر وقت خود کو تھکاوٹ کا شکار محسوس کرتے ہیں یا کوئی کام کرتے ہوئے بھی تھکن...
27/01/2026

ہروقت تھکاوٹ کا سبب بننے والی 13 عادتیں

کیا آپ ہر وقت خود کو تھکاوٹ کا شکار محسوس کرتے ہیں یا کوئی کام کرتے ہوئے بھی تھکن کا احساس غالب آجاتا ہے؟ اگر واقعی ایسا ہے تو یہ صرف نیند کی کمی نہیں جو آپ کو توانائی سے محروم کررہی ہوتی ہے بلکہ چند چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی جسمانی اور ذہنی طور پر آپ پر بھاری پڑتی ہیں۔

یہ وہ خراب عادتیں ہوتی ہیں جو طرز زندگی کو متاثر کرکے آپ کو تھکاوٹ کا ایسا شکار بنادیتی ہیں کہ زندگی کے ہر شعبے میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔

ورزش سے دوری

اگر تو آپ اپنی جسمانی توانائی کو بچانے کے لیے ورزش سے جان چھڑاتے ہیں تو یہ سوچ آپ پر ہی بھاری پڑسکتی ہے، ایک امریکی تحقیق کے مطابق صحت مند مگر سست طرز زندگی کے عادی بالغ افراد اگر ہفتہ بھر میں تین بار صرف بیس منٹ کی ورزش کو معلوم بنالیں تو وہ خود کو توانائی زیادہ بھرپور اور تھکاوٹ کا کم شکار ہوتے ہیں، معمول کی ورزشی جسمانی مضبوطی بڑھاتی ہے جبکہ آپ کا نظام قلب زیادہ موثر طریقے سے کام کرنے لگتا ہے۔

پانی کا کم استعمال

ڈی ہائیڈریشن یا پانی کی معمولی سی یعنی صرف دو فیصد کمی بھی توانائی کے ذخیرے پر اثر انداز ہوتی ہے، یہ ڈٰ ہائیڈریشن خون کی مقدار کو کم کردیتی ہے جس سے وہ گاڑھا ہوجاتا ہے، اس کے نتیجے میں دل کی کارکردگی بھی کم ہوجاتی ہے اور آپ کے پٹھوں اور اعضاءکو آکسیجن کی فراہم کم ہوجاتی ہے جس کا نتیجہ تھکاوٹ کی شکل میں نکلتا ہے۔

آئرن کا ناکافی استعمال

جسم میں آئرن کی کمی آپ کو کمزور، توجہ کی صلاحیت سے محروم، سست اور چڑچڑا بنادیتا ہے، جس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ آئرن کی کمی سے خلیات اور مسلز کو آکسیجن کو کم ملتی ہے جو تھکاوٹ کا سب بنتے ہیں، اور اس کی مستقل کمی مختلف سنگین امراض کا سبب بن سکتی ہے، تاہم سبز پتوں والی سبزیاں، انڈوں، نٹس اور وٹامن سی سے بھرپور اشیاءکے استعمال سے اس سے بچا جاسکتا ہے۔

کمالیت پسندی

ہر چیز میں پرفیکٹ نظر آنا یا کمالیت پسندی درحقیقت ایک ناممکن چیز ہے جس کے لیے آپ کو زیادہ محنت اور ضرورت سے زیادہ دورانیے تک کام کرنا پڑتا ہے، ایک تحقیق کے مطابق اگر کوئی ایسے مقاصد کو اپنا ہدف بنالے جن کا حصول ناممکن ہو تو آخر میں آپ اپنی زندگی سے غیرمطمئن نظر آئیں گے، جو بعد میں ذہنی تھکاوٹ اور اس کے بعد ہر وقت سست بنانے کا سبب بن جائے گا۔

غیر ضروری فکریں

اگر آپ کو باس کے طلب کرنے پر یہ ڈر لگے کہ وہ آپ کو برطرف کردے گا یا آپ آپ اپنی سائیکل کو چلانے سے پہلے حادثے کے خیال سے خوفزدہ ہوجائیں تو آپ بدترین نتائج والی سوچ کے حامل شخص ہیں، ہر وقت دہشت کا احساس آپ کو ذہنی طور پر مفلوج کرکے رکھ دے گا اور جسمانی طور پر بھی آپ کسی کام کے نہیں رہیں گے، مراقبے، گھر سے باہر نکلنے، ورزش یا اپنے خدشات دوستوں سے شیئر کرنے سے آپ کافی حد تک اس عارضے سے نجات پاسکتے ہیں۔

ناشتہ نہ کرنا

رات کو کھانے کے بعد سونے کے دوران آپ کا جسم اس سے حاصل ہونے والی توانائی کو خون کی پمپنگ اور آکسیجن کو پھیلانے کے لیے استعمال کرتا رہتا ہے، تو جب آپ اٹھتے ہیں آپ کو ناشتے کی شکل میں اپنی توانائی کے ایندھن کو دوبارہ بھرنے کی ضرورت ہوتی ہے، جسے چھوڑ دینا آپ کو کاہلی یا سستی کا شکار کردیتا ہے۔

جنک فوڈ پر زندگی گزارنا

بہت زیادہ چینی یا سادہ فائبر والی غذائیں جسم میں بلڈ شوگر کو بڑھا دیتا ہے اور اس میں کچھ دیر بعد اچانک ہی نمایاں کمی بھی آجاتی ہے، یہ اتار چڑھاﺅ آپ کو تھکاوٹ کا شکار بنادیتا ہے، متوازن غذا کا استعمال ہی دن بھر آپ کو چاق و چوبند رکھنے کے لیے اہم ثابت ہوتا ہے۔

انکار نہ کرپانا

اکثر لوگ اپنے کاموں کے لیے آپ کی توانائی اور خوشی کو خرچ کرنے کی درخواست کرتے ہیں، خاص طور پیاروں سے ہٹ کر ایسا کوئی شخص جسے آپ زیادہ پسند بھی نہ کرتے ہوں اور پھر بھی اس کے کام کو انکار نہ کرسکیں یہ چیززیادہ بدترین ثابت ہوتی ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ آپ کو ہر وقت افسردہ اور غصے میں رہنے کا سبب بنادیتی ہے۔

بے ترتیب دفتر

دفتر کی بے ترتیب ذہنی تھکاوٹ کا باعث بنتی ہے جو آپ کی توجہ کی صلاحیت اور اطلاعات کے تجزیے کی دماغی صلاحیت کو محدود کردیتی ہے، ہر دن کے اختتام پر اپنی دفتری چیزوں کو ترتیب سے نہ رکھنے پر اگلے روز کا آغاز تھکاوٹ کے بڑھنے کے احساس کے ساتھ ہوگا۔

تعطیلات کے دوران کام کرنا

گھر میں آرام کے دوران ای امیل کو چیک کرنے سے جسمانی توانائی سے محروم ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، ٹیکنالوجی سے دوری اختیار کرکے اپنے ذہن اور جسم کو دفتری امور سے آزاد چھوڑ دینا آپ کے کام کو ہی بہتر اور مضبوط بناتا ہے۔

سونے کے وقت موبائل فون کا استعمال

سونے کی جگہ پر ایک ٹیبلیٹ، اسمارٹ فون یا لیپ ٹاپ کی روشنی آپ کے جسم کے قدرتی شب روزہ تبدیلی کے لیے مضر ثابت ہوتی ہے کیونکہ اس سے وہ ہارمون متاثر ہوتا ہے جو نیند کو ریگولیٹ کرنے کا کام کرتا ہے، جس کے نتیجے میں نیند متاثر ہوتی ہے اور دن کا آغاز تھکاوٹ کے احساس کے ساتھ ہوتا ہے۔

کیفین پر انحصار

اپنے دن کا آغاز کافی یا چائے سے کرنا کافی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے، درحقیقت دن میں تین کپ کافی آپ کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے مگر کیفین کا بہت زیادہ استعمال نیند اور جاگنے کے سائیکل کو بری طرح متاثر کرتا ہے، جس کے نتیجے میں دن بھر تھکاوٹ کا احساس غالب رہتا ہے۔

تعطیل کے روز دیر تک جاگنا

ہفتے کو رات بھر جاگ کر اتوار کی صبح سونا اس روز کی شب کو سونا مشکل بنادیتا ہے اور پیر کی صبح کا آغاز نیند کی کمی سے ہوتا ہے اور جیسا کہ سب کو معلوم ہی ہے کہ نیند کی کمی انسانی جسم سے توانائی نچوڑ تھکن کا احساس بڑھا دیتا ہے۔
بشکریہ ڈان نیوز


#ایڈمن

25/01/2026

مسیحائی اور ڈیجیٹل یلغار: علاج سکرین پر یا بالمشافہ؟

موبائل فون اور انٹرنیٹ کے عام ہونے نے جہاں انسانی رابطوں کو سہل بنایا ہے، وہیں ایک معالج کے لیے یہ سہولت اب ایک مستقل ذہنی کوفت اور پیشہ ورانہ چیلنج بن چکی ہے۔ صبح کی پہلی کرن سے لے کر رات گئے تک، کالز اور وٹس ایپ پیغامات کا ایک لامتناہی سلسلہ رہتا ہے جس کا جواب دینا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ یہ صورتحال اس قدر سنگین ہو گئی ہے کہ میں نے اب فون اٹھانا اور پیغامات کا جو اب دینا تقریبا چھوڑ دیا ہے—اور یہ خاموشی کسی انا یا بے رخی کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس ذہنی تھکاوٹ اور پیشہ ورانہ اصولوں کی وجہ سے ہے جن پر مریض کی جان کا دارومدار ہوتا ہے۔ یہاں ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ معالج کا ذاتی نمبر اب مختلف ذرائع سے حاصل کر کے سب کے پاس پہنچ چکا ہے، لیکن عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی کا ذاتی نمبر مل جانے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اس پر کسی بھی وقت طبی مشورے کے لیے رابطہ کیا جائے۔ ڈاکٹر بھی ایک انسان ہے جس کی ایک نجی زندگی، بال بچے، نیند اور آرام کا حق ہے۔ ڈاکٹر کی زندگی کے ان نجی لمحات کا خیال رکھنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اگر ایک معالج خود ذہنی طور پر تھکا ہوا ہوگا تو وہ مریضوں کی تشخیص میں وہ توجہ نہیں دے پائے گا جس کا وہ حق رکھتے ہیں۔ اپائنٹمنٹ لینے یا ڈاکٹر کی موجودگی کے بارے میں جاننے کے لیے ہمیشہ آفیشل نمبر زپر ہی کال کرنی چاہیے، نہ کہ ڈاکٹر کے ذاتی نمبر پر، کیونکہ ذاتی نمبر پر بے جا دباؤ ڈاکٹر کی کارکردگی کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔
میرا پختہ یقین ہے کہ دوبدو اور بالمشافہ علاج میں جو انسانی ہمدردی، لمس اور دلاسے کا پہلو شامل ہوتا ہے، وہ کسی بھی آلے، سکرین یا ڈیجیٹل ذریعے سے ممکن ہی نہیں ہے۔ معالج اور مریض کا آمنے سامنے ہونا نہ صرف بہتر تشخیص میں مدد دیتا ہے بلکہ مریض کو وہ نفسیاتی سہارا بھی فراہم کرتا ہے جو کسی بھی دوا سے زیادہ کارگر ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے ابھی تک آن لائن سسٹم شروع کرنے کا فیصلہ نہیں کیا، کیونکہ میں علاج کے اس انسانی پہلو کو کھونا نہیں چاہتا۔ طبی سائنس کے اصول کے مطابق کسی بھی مریض کے درست علاج کے لیے سب سے پہلے اس کی مکمل ہسٹری یعنی بیماری کا پس منظر جاننا، پھر اس کا جسمانی معائنہ کرنا اور اس کے بعد ضرورت کے مطابق ٹیسٹ کروانا لازمی مراحل ہیں۔ ان مراحل کے بغیر محض فون پر علامات سن کر دوا تجویز کرنا مریض کے ساتھ دشمنی کے مترادف ہے، کیونکہ فون پر مریض اکثر اہم علامات بتانا بھول جاتا ہے یا انہیں معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتا ہے۔ مجھے یاد ہے ایک بار رات دس بجے ایک عزیز کا فون آیا کہ ان کے والد کو مغرب سے معدے میں درد ہے۔ میں نے بہت اصرار کیا کہ انہیں فوری ہسپتال لے جائیں، مگر ان کا اصرار تھا کہ انہیں پہلے بھی ایسا ہوتا ہے، آپ بس معدے کی کوئی دوا لکھ دیں، صبح ہسپتال دیکھ لیں گے۔ بادلِ ناخواستہ میں نے دوا لکھ دی، مگر صبح معلوم ہوا کہ انہیں رات میں دل کا ہلکا دورہ پڑا تھا۔ یہ محض اللہ کا کرم تھا کہ ان کی بیٹی کے اصرار پر انہیں صبح سویرے ہسپتال پہنچایا گیا اور ان کی جان بچ گئی۔ یہ واقعہ ثبوت ہے کہ فون پر بتایا گیا مشورہ کس قدر خطرناک ہو سکتا ہے کیونکہ علامت ایک تھی مگر اصل بیماری کچھ اور۔
ڈاکٹر کے لیے ایمرجنسی ایک حساس لفظ ہے، مگر عوام اسے اکثر غیر سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ مجھے یاد ہے، ایک بار رات کو ایک اٹینڈنٹ کی مسلسل کالز اور وٹس ایپ اور ایک مسج کہ “خدارا ڈاکٹر صاحب کا ل اٹیینڈ کرے ایمرجنسی ہے ُ”کے بعد جب میں نے گھبرا کر فون اٹھایا کہ شاید مریض کی حالت بگڑ گئی ہے، تو آگے سے سوال آیا کہ "ڈاکٹر صاحب، مریض کو چاول کھلا سکتے ہیں کیا؟"۔ ہسپتال کی مصروفیت کے دوران ایسے معمولی سوالات کے لیے ایمرجنسی کا لبادہ اوڑھ کر ایک معالج کو ذہنی طور پر مفلوج کر دینا ایک بڑی زیادتی ہے۔ اسی طرح وٹس ایپ پر گڈ مارننگ، سیاسی ویڈیوز اور غیر تصدیق شدہ طبی ٹوٹکوں کی بھرمار میں وہ ضروری پیغامات دب جاتے ہیں جو واقعی کسی کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہو سکتے ہیں۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فون پر وقت ضائع کرنے کے بجائے مریض کو فوری ہسپتال لے جانا چاہیے، کیونکہ وہاں چوبیس گھنٹے تمام شعبہ جات کے ماہرین "آن کال" موجود ہوتے ہیں۔ وہاں کا ڈیوٹی ڈاکٹر مریض کا معائنہ کر کے اس کی حالت کو متعلقہ ماہر تک زیادہ بہتر اور ٹیکنیکل انداز میں پہنچا سکتا ہے، جس سے وقت کی بچت بھی ہوتی ہے اور مریض کو بروقت علاج بھی مل جاتا ہے۔
میرا یہ پختہ نظریہ ہے کہ ہسپتال میں داخل ہوتے ہی ڈاکٹر کا ذاتی موبائل بند ہونا چاہیے۔ ہسپتال میں مریض دیکھتے وقت بار بار فون کا بجنا نہ صرف سامنے بیٹھے مریض کی توہین ہے بلکہ معالج کی توجہ بانٹ کر تشخیص میں بڑی غلطی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ ہسپتال کے اندرونی شعبہ جات میں کیسز ڈسکس کرنے کے لیے ذاتی موبائل کے بجائے ہسپتال کا اپنا انٹرنل ایکسچینج سسٹم ہونا چاہیے، تاکہ ڈاکٹر بیرونی مداخلت کے بغیر صرف مریض پر توجہ دے سکے۔ اگرچہ جدید طبی کتب، ویب سائٹس اور تازہ ترین ریسرچ دیکھنے کے لیے موبائل ایک مجبوری بن چکا ہے، مگر اس کا استعمال صرف اور صرف تعلیمی حد تک محدود رہنا چاہیے، نہ کہ ذاتی کالز کے لیے۔ اس کے علاوہ ان لوگوں کو بھی اپنے رویے پر غور کرنا چاہیے جو صرف اس لیے کال کرتے ہیں کہ ہسپتال میں پہلے سے موجود مریضوں کو بائی پاس کر کے اپنی باری پہلے لے سکیں، یہ عمل اخلاقی طور پر انتہائی ناپسندیدہ اور ان حقدار مریضوں کی حق تلفی ہے جو گھنٹوں سے انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔آن لائن رابطہ کرنے والے مریضوں کو مختلف طبقات میں تقسیم کیا جا سکتا ہے جن میں پہلا طبقہ ان نئے مریضوں کا ہے جنہوں نے کبھی بالمشافہ معائنہ نہیں کروایا ہوان کا فون پر علاج کرنا طبی و اخلاقی جرم ہے۔ دوسرا طبقہ ان غیر مستقل پرانے مریضوں کا ہے جنہوں نے ایک طویل عرصہ پہلے دکھایا تھا پھر ٹھیک رہا ہو اور اب دوبارہ نئے علامات کے ساتھ ہو،ان کا بھی دوبارہ معائنہ ناگزیر ہے کیونکہ بیماری کی نوعیت بدل سکتی ہے۔ تیسرا طبقہ ان قلیل مدت کے فالو اپ مریضوں کا ہے، جن میں آس پاس کے لوگوں کے ساتھ ساتھ دور دراز اور بیرونِ ملک مقیم احباب بھی شامل ہیں جو پہلے سے زیرِ علاج ہواور دور ہونے کی وجہ سے دوبارہ نہیں آ سکتے۔اور جنہیں مثلا ایک ماہ کی دوائی کے بعد دوبارہ دیکھنے کے لیے بلایاہو۔میں اس بارے میں غور کر رہا ہوں کہ کیا صرف اور صرف اس تیسرے طبقے کے لیے کوئی ایسا طریقہ کار وضع کیا جا سکتا ہے جہاں ایک مخصوص ضابطے کے تحت بات ہو سکے، مگر یہ صرف ان لوگوں کے لیے ہو گا جن کے لیے بالمشافہ آنا ممکن نہ ہو۔ میں تمام احباب سے بھی رائے چاہتا ہوں کہ کیا ایک منظم سسٹم، جس میں وقت اور مناسب فیس کا تعین ہو کیا اس ذہنی کوفت اور طبی خطرات کا حل ہو سکتا ہے؟ یا انسانی ہمدردی کے پیشِ نظر بالمشافہ معائنہ ہی واحد راستہ ہے؟ اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں تاکہ ہم مل کر ایک بہتر نظام بنا سکیں جس میں مریض کی جان بھی محفوظ رہے اور معالج کا سکون بھی۔
#سجادیات

"اور سنو! نعمتوں کی ایک نعمت مال کی فراوانی ہے ، اور مال کی فراوانی سے افضل تندرستی ہے"حضرت علی ع  #ایڈمن
23/01/2026

"اور سنو! نعمتوں کی ایک نعمت مال کی فراوانی ہے ، اور
مال کی فراوانی سے افضل تندرستی ہے"
حضرت علی ع


#ایڈمن

22/01/2026

ہیپاٹائٹس وائرس جگر کو نقصان پہنچاتا ہے اور کینسر کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ یہ وائرس گدلے پانی، یا پھر استعمال شدہ سرنجوں کے دوبارہ استعمال کے نتیجے میں بھی منتقل ہو سکتا ہے۔ لیکن آپ خود کو بچا کیسے سکتے ہیں؟
بشکریہ DW


#ایڈمن

سردیوں میں صحت مند رہنے کے 10 مؤثر طریقےاحتیاطی تدابیر اور طرزِ زندگی میں معمولی تبدیلیوں کے ذریعے اس موسم کو صحت مندی ک...
20/01/2026

سردیوں میں صحت مند رہنے کے 10 مؤثر طریقے

احتیاطی تدابیر اور طرزِ زندگی میں معمولی تبدیلیوں کے ذریعے اس موسم کو صحت مندی کے ساتھ گزارا جا سکتا ہے

سرد ہواؤں اور کم درجۂ حرارت کے ساتھ موسمِ سرما کی آمد جہاں خوشگوار احساسات لاتی ہے، وہیں صحت سے متعلق کئی چیلنجز بھی سامنے آتے ہیں۔

سردیوں میں نزلہ، زکام، فلو اور جسمانی سستی عام ہو جاتی ہے، تاہم چند سادہ احتیاطی تدابیر اور طرزِ زندگی میں معمولی تبدیلیوں کے ذریعے اس موسم کو صحت مندی کے ساتھ گزارا جا سکتا ہے۔

متوازن غذا

ماہرین کے مطابق سردیوں میں متوازن غذا سب سے اہم کردار ادا کرتی ہے۔ روزمرہ خوراک میں پھل، سبزیاں، ثابت اناج، دالیں، انڈے، مچھلی اور صحت مند چکنائیاں شامل کرنا مدافعتی نظام کو مضبوط بناتا ہے۔ خاص طور پر وٹامن سی، وٹامن ڈی اور زنک سے بھرپور غذائیں جسم کو موسمی بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔

جسم کو ہائیڈریٹ رکھیں

اگرچہ سرد موسم میں پیاس کم محسوس ہوتی ہے، مگر جسم کو ہائیڈریٹ رکھنا اتنا ہی ضروری ہوتا ہے۔ مناسب مقدار میں پانی پینے کے ساتھ ساتھ گرم ہربل چائے، سوپ اور یخنی بھی سیال کی کمی پوری کرنے کے ساتھ جسم کو حرارت فراہم کرتی ہیں۔

مکمل نیند لیجیے

نیند کو ترجیح دینا بھی سردیوں میں صحت مند رہنے کے لیے نہایت اہم ہے۔ روزانہ سات سے نو گھنٹے کی پُرسکون نیند نہ صرف توانائی بحال کرتی ہے بلکہ قوتِ مدافعت کو بھی بہتر بناتی ہے۔ سونے سے پہلے موبائل یا اسکرین کا استعمال کم کرنے سے نیند کے معیار میں اضافہ ہوتا ہے۔

ورزش اور جسمانی سرگرمیاں

سردیوں میں جسمانی سرگرمیاں کم ہو جاتی ہیں، مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ باقاعدہ ورزش ترک نہیں کرنی چاہیے۔ گھر کے اندر یوگا، اسٹریچنگ، ہلکی ورزش یا رقص جیسی سرگرمیاں جسم کو متحرک رکھنے کے ساتھ موڈ بھی بہتر بناتی ہیں۔

صفائی ستھرائی کا خیال

صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا سردیوں میں بیماریوں سے بچاؤ کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ بار بار ہاتھ دھونا، سینیٹائزر کا استعمال اور چہرے کو غیر ضروری طور پر چھونے سے گریز جراثیم کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد دیتا ہے۔

وٹامن ڈی اور زنک سپلیمنٹس

مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ڈاکٹر کے مشورے سے وٹامن ڈی، سی یا زنک سپلیمنٹس بھی لیے جا سکتے ہیں، خاص طور پر ان دنوں میں جب دھوپ کم میسر ہو۔ اس کے ساتھ مناسب گرم لباس پہننا بھی ضروری ہے تاکہ جسم کو سردی کے مضر اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔

مثبت سرگرمیاں اپنائیں

ماہرین ذہنی صحت کو بھی سردیوں میں اہم قرار دیتے ہیں۔ کم دھوپ اور مختصر دنوں کے باعث بعض افراد میں اداسی یا ڈپریشن کی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔ ایسے میں مراقبہ، گہری سانس کی مشقیں، مثبت سرگرمیاں اور اہلِ خانہ یا دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا ذہنی دباؤ کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

سماجی رابطہ

سماجی رابطے برقرار رکھنا بھی سردیوں میں تنہائی اور اداسی سے بچنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ چاہے ملاقات بالمشافہ ہو یا آن لائن، قریبی لوگوں سے رابطہ انسان کو جذباتی طور پر مضبوط رکھتا ہے۔

موسمی بیماریوں کی ویکسینیشن

ماہرین صحت فلو اور دیگر موسمی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ویکسین لگوانے کا مشورہ بھی دیتے ہیں۔ ڈاکٹر سے مشاورت کے بعد ویکسینیشن نہ صرف خود کو بلکہ دوسروں کو بھی بیماریوں سے محفوظ رکھتی ہے۔

سردیوں میں صحت مند رہنے کے فوائد نمایاں ہوتے ہیں۔ مضبوط قوتِ مدافعت، زیادہ توانائی، بہتر ذہنی سکون، اچھی نیند اور بیماریوں سے تیز صحتیابی ان میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ متوازن غذا اور باقاعدہ سرگرمی وزن میں اضافے اور موسمی چوٹوں کے خطرے کو بھی کم کرتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سردیوں میں صحت کا خیال رکھنا مجموعی معیارِ زندگی کو بہتر بناتا ہے۔ غذائیت، صفائی، ورزش اور ذہنی سکون پر توجہ دے کر نہ صرف بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے بلکہ موسمِ سرما کو بھرپور انداز میں انجوائے بھی کیا جا سکتا ہے۔ اگر کسی کو مخصوص طبی مسئلہ درپیش ہو تو ذاتی رہنمائی کے لیے معالج سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔
بشکریہ : ایکسپریس


#ایڈمن

Address

Skardu

Opening Hours

Monday 15:00 - 18:00
Tuesday 15:00 - 18:00
Wednesday 15:00 - 18:00
Thursday 15:00 - 18:00
Friday 15:00 - 18:00
Saturday 15:00 - 18:00

Telephone

+923554843983

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Sajjad Hussain Gastroenterologist and Hepatologist posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram