SHAH Veterinary Clinic

SHAH Veterinary Clinic shah veterinary clinic provide health facilities at door step of each and every animal owner from large animal like buffalo to small animals cats and dogs

15/08/2023

انتہائی خوشی کے ساتھ اعلان کیا جاتا ہے کہ شاہ ویٹرنری کلینک Barikot Swat نے دوبارہ کام شروع کر دیا ہے۔ ڈاکٹر اعزاز علی شاہ اپنی خدمات 24/7 فراہم کریں گے۔ ہر قسم کے جانوروں کا علاج کیا جائے گا اور ہر قسم کے جانوروں کی ویکسینیشن کی سہولیات، جانوروں کے فارم کنسلٹنسی اور جانوروں کی سرجری ڈاکٹر اعزاز علی شاہ کی نگرانی میں کی جائے گی۔ کلینک سے نیچے دیئے گئے موبائل نمبر 03449614043 پر بلا جھجھک رابطہ کریں۔ 03361934563
with imence pleasure it is announced that shah veterinary clinic has started work again. Docotor Aizaz Ali Shah will provide his service 24/7. all kind of animals will be treated and each every kind of animals vaccination facilities, animal farm consultancies and animal surgeries, should be done under the supervision of Dr aizaz ali shah provided. feel free to contact clinic on below mobile cell numbers 03449614043. 03361934563.

دا عوامو دا اګاهئ لہ فارا۔۔۔۔۔۔او دا علاج معالجی لہ فارہ ہر وخت مستعند ڈاکٹر حاضرشاہ وٹرنری کلینک ہر وخت حاضر
25/08/2022

دا عوامو دا اګاهئ لہ فارا۔۔۔۔۔۔او دا علاج معالجی لہ فارہ ہر وخت مستعند ڈاکٹر حاضر
شاہ وٹرنری کلینک ہر وخت حاضر

17/08/2022

‏جانوروں میں لمپی سکن بیماری کی وجہ سے 80فیصد کسانوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے میڈیا کو اگر سیاست سے فرصت ملے تو اس قومی نقصان پر بھی رپورٹنگ کر لیں جانور پالنے والے بھی پاکستانی شہری ہیں....

لمپی سکن سے غریب کسانوں کا لاکھوں کروڑوں کا نقصان ہو رہا ہے
مگر کروڑوں ۔اربوں
کا فنڈ ز لینے والے پاکستانی کسی بھی تحقیقاتی ادارے نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ
یہ اتنی بڑی بیماری
لمپی سکن کہاں سے آئی.
اس کا کوئی تریاق
کوئی علاج اور
کوئی دوائی ہو سکتی ہے
کیا غریب آدمی جس کی ساری پراپرٹی ہی اس کے جانور ہوتے ہیں جب وہ مر جائیں گے اور ملک میں
دودھ اور گوشت کی قلت ہو جائے گی اس وقت سوچیں گے....🫢 من حیث القوم ہم نے ان کا درد محسوس نہیں کرنا تو کس نے کرنا ہے....
پوری قوم یہ فتویٰ تو بڑی جلدی دے دیتی ہے. کہ
گائے کا گوشت اور دودھ استعمال نہ کرو
مگر ان کسانوں کے نقصان کے بارے میں کوئی بھی شخص آواز بلند کرنے سے گریزاں ہے
کوئی سرکاری محکمہ اس بارے
بتانا پسند کرے گا..... نہیں
کیونکہ
ہم ایک قوم نہیں بلکہ ہجوم ہیں
۔😓😰بحثیت ڈاکٹر ان غریب کسانوں کا ساتھ دو ۔۔۔۔اور ویکسین کے نام پر ان سے ذیادہ رقوم وصول نہ کرو۔۔۔

09/08/2022

Lumpy Skin Disease

تحریر اعزاز احمد

دنیا میں جہاں وقتاً فوقتاً انسانی بیماریوں کی وبائیں آتی ہیں، وہاں جانور بھی ان سے محفوظ نہیں. بس فرق یہ ہے کہ وہ اپنی حالت بیان کرنے سے قاصر ہوتے ہیں.

آج کل بیشتر ترقی یافتہ ممالک بشمول ترقی پذیر ممالک جانوروں کے ایک وبا Lumpy Skin Disease کی لپیٹ میں ہے.

آئیے، اس بیماری پر آسان الفاظ میں روشنی ڈالتے ہیں :

1. یہ lumpy skin disease آخر کیا. بیماری ہے؟

جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، یہ وہ بیماری ہے جس میں جانوروں کے چمڑے کے اندر گلٹیاں بن جاتی ہیں جو بآسانی نظر آتی ہیں.

2. یہ بیماری کن جانوروں کو لگتی ہے؟

یہ بیماری صرف گائے اور بھینس کو متاثر کرتی ہے.

3. اس بیماری کی تاریخ کیا ہے؟

یہ بیماری سب سے پہلے Zambia میں 1929 میں آئی تھی مگر چونکہ یہ پہلے کیسز تھے، اس لیے اس بیماری کو چارے کا زہریلا اثر یا کسی انسیکٹ کے کاٹنے کی وجہ سے عارضی الرجی مان کر نظر انداز کیا گیا تھا. یہ بیماری 1945 کے اوائل میں کئی دوسرے ممالک میں نمودار ہوئی اور یوں وقتاً فوقتاً پھیلتی گئی.

4. یہ بیماری کس جراثیم سے لگتی ہے؟

یہ بیماری Poxviridae خاندان کے Capripoxvirus جینس کے وائرس کی وجہ سے لگتی ہے.

5. یہ بیماری کیسے پھیلتی ہے؟

یہ بیماری زیادہ تر حشرات کی وجہ سے پھیلتی ہے. جب مچھر یا horse fly یا چچڑی کسی متاثرہ جانور کو کاٹنے کے بعد صحت مند جانور کو کاٹے تو اسے بھی بیمار کرتا ہے. دوسری صورت یہ ہے کہ صحت مند جانور کے زخم پر متاثرہ جانور کا خون یا لعاب یا کوئی ایسا آلہ لگ جائے جس پر یہ وائرس موجود ہو، وہ جانور بھی بیمار ہو جاتا ہے.

6. اس بیماری کے علامات کیا ہیں؟

جب یہ وائرس کسی جانور کے جسم کے اندر چلا جاتا ہے، عموماً ایک ہفتے بعد اس بیماری کے علامات شروع ہو جاتے ہیں.

* سب سے پہلی علامت یہ ہوتی ہے کہ جانور کی ناک بہنے لگتی ہے اور آنکھوں سے آنسو بھی نکلنا شروع ہو جاتے ہیں.

* دوسری علامت میں ان کے اگلے اور پچھلے ٹانگوں کی بغلیں سوج جاتی ہیں. سوجی ہوئی جگہ چھونے پر سخت محسوس ہوتی ہے اور آسانی سے نظر آتے ہیں.

* مسلسل ایک ہفتے تک تیز بخار رہتا ہے.

* دودھ کی پیداوار میں ایک دم بہت کمی آجاتی ہے.

* اسی دوران جسم پر گلٹیاں بن جاتی ہیں جو زیادہ تر سر، گردن، تھن اور عضو تناسل پر موجود ہوتے ہیں. یہ گلٹیاں چمڑے کے اندر بنی ہوتی ہیں جبکہ بہت سے کیسز میں گوشت کے اندر بھی بن جاتے ہیں.

* منہ اور ناک میں موجود گلٹی کی وجہ سے جانور کے ناک اور منہ سے بہت زیادہ پانی نکلتا ہے جو وائرس سے بھرا ہوتا ہے.

* عموماً گلٹی والی جگہ درمیان سے پھٹ جاتی ہے اور وہ گلٹی کئی ماہ تک رہتی ہے.

* کبھی کبھار گلٹی جانور کی آنکھ میں بھی بن جاتی ہے جس سے جانور نابینا ہو جاتا ہے.

7. اس بیماری سے کیسے بچا جائے؟

اوپر بتائے گئے علامات میں سے اگر ایک بھی ظاہر ہو تو متاثرہ جانور کو فوراً دوسرے جانوروں سے الگ کریں اور ان کو خوراک کھلانے والا اور خیال رکھنے والا شخص صحت مند جانوروں کے پاس نہ آئے. دوسرے فارم میں کام کرنے والوں کو بھی جانوروں سے دور رکھیں. جانور کو ایک ہی جگہ رکھیں. فارم جانے سے پہلے ہاتھوں کو صابن سے دھو کر صاف کریں اور اس فارم کے اندر موجود کوئی بھی چیز باہر نہ لے جائیں اور نہ باہر سے کوئی چیز اندر لائیں. جانوروں کے اردگرد جالی دار کپڑا لگائیں تاکہ کوئی بھی مچھر یا مکھی اندر داخل نہ ہوں. اپنے فارم پر مسلسل نظر رکھیں تاکہ کوئی مچھر یا کوئی اور خون چوسنے والے حشرات کو فوراً ماریں.
اگر فارم میں ایک بھی متاثرہ جانور ملے، تو صحتمند جانوروں کا بھی ٹسٹ کریں.

8. کیا یہ بیماری جانوروں کے لیے جانلیوا ہے؟

جی، پر اس کے ہلاکت کی شرح کم ہے. عموماً جانور کے مرنے کے چانسز 1 سے لے کر 5 فیصد تک ہوتے ہیں پر کبھی کبھار اگر جانور شدید بیمار ہو تو یہ شرح چالیس فیصد تک بھی جا سکتی پر ایسا بہت کم صورتوں میں ہوتا ہے.

9. اس بیماری کا کیا علاج ہے؟

چونکہ یہ وائرل بیماری ہے، اس لیے اس کا کوئی بھی علاج نہیں. جانوروں کے لیے vaccines دستیاب ہیں جو بیماری سے پہلے لگائے جاتے ہیں تاکہ جانور متعلقہ بیماری سے محفوظ رہے. بیمار ہونے کے بعد جانور کو بخار کم کرنے، درد کم کرنے، کمزوری سے بچانے اور زخموں کی وجہ سے بیکٹیریا کی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ادویات دئے جاتے ہیں.

جانور ٹھیک ہونے میں کئی ماہ لیتا ہے جبکہ جسم سے گلٹی یا ان کے نشانات ختم ہونے میں ایک سال لگ سکتا ہے.

10. کیا متاثرہ جانور کا دودھ یا گوشت استعمال کیا جا سکتا ہے؟

جی بالکل. کئی مستند ریسرچ اور FAO کے ہدایات کے مطابق متاثرہ جانور کا گوشت اور دودھ دونوں قابل استعمال ہیں اور اس بیماری کا انسانوں پر کوئی منفی اثر نہیں.

11.مرے ہوئے جانوروں کو گاؤں سے دور لے جا کر دفنائیں تاکہ باقی جانور محفوظ رہیں. جانوروں کو ندی نالوں اور دریاؤں میں یا راستے کے کنارے پھینکنے سے گریز کریں.
تحریر
اعزاز احمد، خیبر پختونخوا ضلع صوابی

Address

Dawolat Khan Plaza Pirbaba Road Barikot Swat
Swat
19240

Opening Hours

09:00 - 17:00

Telephone

03449614043

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when SHAH Veterinary Clinic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to SHAH Veterinary Clinic:

Videos

Share

Nearby clinics


Other Swat clinics

Show All