Ghazali Health Center

Ghazali Health Center To inform people from drugs side effects and show good health tips.

18/04/2023
10/04/2023

Leg surgery....

*بناسپتی گھی ڈالڈا اور تیل کے نقصانات*گھی صرف دیسی گھی ہی ہے اور بناسپتی گھی یا آئل دراصل زہرآلود کیمیکل اور صابن کا فار...
02/10/2022

*بناسپتی گھی ڈالڈا اور تیل کے نقصانات*

گھی صرف دیسی گھی ہی ہے اور بناسپتی گھی یا آئل دراصل زہرآلود کیمیکل اور صابن کا فارمولا ہے،
جو کہ صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ ہے۔
یہ بات حکیم انقلاب جناب دوست محمد صابر ملتانی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے 60 سال پہلے لکھی تھی،

علاج بالغذاء میں لکھتے ہیں:
بناسپتی گھی دراصل گھی نہیں ہے اور نہ ہی حیوانی روغن ہے بلکہ نباتاتی تیلوں کو مصنوعی اور بناوٹی طور پر گھی کی شکل دے دی گئی ہے یہ عام طور پر کسی تیل کے ساتھ سوڈا کاسٹک یا کوئی دیگر قوی الکلائین (کھار) ملا کر تیار کیا جاتا ہے بالکل اسی طرح جس طرح صابن بنایا جاتا ہے فرق صرف یہ ہے کہ صابن کا قوام سخت ہوتا ہے اور بناسپتی کا قوام نرم مثل گھی کے رکھا جاتا ہے دراصل ہر بناسپتی گھی نرم قسم کا صابن ہے
(کلیات صابر ملتانی682/1)

مزید لکھتے ہیں
دیسی گھی کے استعمال نہ کرنے سے خوفناک امراض جیسے تپ دق وسل فالج ذیابیطس اور جنون پیدا ہو جاتے ہیں، یہ صحت کا اہم جزو ہے۔

(علاج بالغذاء، تحقیقات صابر ملتانی صفحہ نمبر 607/1)

ایک دوسرے مقام پر لکھتے ہیں:

گھی کا مزاج گرم تر ہے، جسم انسان کے اندر کسی قسم کی سوزش، ورم اور درد اور بخار ہو اس کا شرطیہ تریاق ہے، جس ملک میں خالص گھی ملتا ہو وہاں تپ دق و سل نہیں ہو سکتا فالج اور ذیابیطس کے لئے بے حد مفید ہے اس کا جسم پر ایسا ہی اثر ہوتا جیسے پرزوں پر تیل اثر کرتا ہے، یہ حیوانی گندھک ہے، دوسرے معنوں میں اس کو روغن گندھک کہ دیں جس کیلئے کیمیا بنانے والے ترستے ہیں کہ ہر دھات کو سونا بنا دیتا ہے اسی طرح یہ بھی جسم میں سونے کے خواص پیدا کر دیتا ہے ہماری رائے میں انسانی غذا صرف گھی ہے جو کبھی گوشت کبھی دودھ اور کبھی اناج کے ساتھ کھایا جاتا ہے اور زندگی و قوت اور صحت بخشتا ہے، بناسپتی اس کے مقابلے میں زہر ہے یہ تیل سے تیار ہوتا ہے ، تیل جسم میں تیزابیت پیدا کرتا ہے گندھک پیدا نہیں کرتا اور جب تیل میں تیز ادویات اور گیسیں شامل کرکے اس کو گھی بنایا جاتا ہے تو وہ زہر بن جاتا ہے دوسرے معنوں میں بناسپتی اور صابن کا نسخہ ایک ہے، صابن گاڑھا ہوتا ہے اور بناسپتی گھی رقیق ہوتا ہے، اس میں جس قدر چاہیں وٹامن نکالیں اس کے زہر ہونے اور نقصان پہنچانے میں کوئی کمی نہ ہوگی، گویا قوت اور صحت کے لیے نقصان عظیم ہے
(کلیات صابر ملتانی 657/1)

بناسپتی گھی کے نقصانات میں مزید ایک جگہ مزید لکھتے ہیں:
کہ بناسپتی گھی کے استعمال سے ضعف جگر اور گردے اور دل ڈوبنا شروع ہو جاتا ہے آخر مریض کی موت ہارٹ فیل سے ہو جاتی ہے سب سے بڑی خرابی بناسپتی گھی کے استعمال سے یہ شروع ہوتی ہے کہ مردوں میں منی کی پیدائش میں خرابی جریان اور ضعف باہ شروع ہو جاتا ہے اور اکثر پیدائش اولاد کی طاقت نطفہ میں نہیں رہتی، عورتوں میں بہت جلد ماہواری کی خرابی اور خون میں کمی کے ساتھ ساتھ سیلان کی شدت پیدا ہوتی ہے، اول تو میاں بیوی کی اولاد نہیں ہوتی یا بہت کم ہوتی ہے اور جب ہوتی ہے تو اکثر لڑکیاں ہوتی ہیں، اس کے نقصانات اس قدر زیادہ ہیں کہ اس پر دلائل کے ساتھ تفصیلی بحث کی ضرورت ہے۔
( کلیات تحقیقات صابر ملتانی، تحقیقات علاج بالغذا 683/1)
نیکسٹ پوسٹ میں انشاء الله آئل بنانے کا نسخہ بتائوں گا جو دیسی گھی کا نیم بدل ہوگا۔

22/01/2021

ڈی آئی جی *نونت سکیرا جی* نے عبرت ناک داستان پوسٹ کی ھے۔

*ایک جج صاحب اپنی بیوی کو*
*طلاق کیوں دے رہے ہیں*، ؟؟؟؟

رونگٹے کھڑے کر دینے والا
سچا واقعہ۔۔

کل رات ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے زندگی کی کئی پہلوؤں کو چھو لیا۔
قریب شام کے7بجےھونگے ،موبائل کی گھنٹی بجی۔ اٹھایا تو ادھر سے رونے کی آواز ۔۔۔
میں نے چپ کرایا اور پوچھا کہ بھابی جی آخر ہوا کیا ؟؟
ادھر سے آواز آئی آپ کہاں ہیں؟ اور کتنی دیر میں آ سکتے ہیں؟
میں نے کہا آپ پریشانی بتایے اور بھائی صاحب کہاں ہیں؟ ۔ اور ماں کدھر ہیں۔آخر ہوا کیا ہے؟
لیکن ادھر سے صرف ایک ہی رٹ کے آپ فوراً آجاءیے۔
میں اسے مطمئن کرتے ہوئے کہا کہ ایک گھنٹہ لگے گا پہنچنے میں۔ جیسے تیسے گھبراہٹ میں پہونچا۔۔

دیکھا کہ بھائی صاحب، (جو یمارے جج دوست ہیں ) سامنے بیٹھے ہوے ہیں۔
بھابی جی رونا چیخنا کر رہی ہیں؛ ١٢ سال کا بیٹا بھی پریشان ہے اور ٩ سال کی بیٹی بھی کچھ کہ نہیں پا رہی ہے۔

میں نے بھای صاحب سے پوچھاکہ" آخر کیا بات ہے"؟
بھائی صاحب کچھ جواب نہیں دے رہے تھے۔۔

پھر بھابی جی نے کہا؛ یہ دیکھیے طلاق کے کاغذات۔

کورٹ سے تیار کرا کر لائے ہیں۔ مجھے طلاق دینا، چاہتے ہیں َ۔

میں نے پوچھا " یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟؟؟ اتنی اچھی فیملی ہے ؛ دو بچے ہیں۔ سب کچھ سیٹلڈ ھے۔ پہلی نظر میں مجھے لگا کے یہ مذاق ہے۔

لیکن میں نے بچوں سے پوچھا دادی کدھر ھے ۔ تو بچوں نے بتایا ؛ پاپا انہیں ٣ دن پہلے نوئیڈا کے "اولڈ ایج ھوم" میں شفٹ کر آئے ہیں۔

میں نے نوکر سے کہا؛ مجھے اور بھائی صاحب کو چاے پلاو؛
کچھ دیر میں چائے آئی َ بھائی صاحب کو میں نے بہت کوشش کی چائے پلانے کی۔ مگر انہوں نے نہیں پیا۔ اور کچھ ہی دیر میں وہ معصوم بچے کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ اور بولے میں نے ٣ دنوں سے کچھ بھی نہیں کھایا ہے۔ میں اپنی 61سال کی ماں کو کچھ لوگوں کے حوالے کر کے آیا ھوں۔

پچھلے سال سے میرے گھر میں ماں کے لیے اتنی مصیبتیں ہوگئیں کہ بیوی نے قسم کھا لی کی "میں ماں جی کا دھیان نہیں رکھ سکتی"
نا تو یہ ان سے بات کرتی تھی اور نہ میرے بچے ان سے بات کرتے تھے۔

روز میرے کورٹ سے آنے کے بعد ماں بہت روتی تھی۔
نوکر تک بھی ان سے خراب طرح سے پیش آتے تھے۔ اور اپنی منمانی کرتے تھے۔

ماں نے ۱۰ دن پہلے بول دیا ۔۔۔۔۔، تو مجھے اولڈ ایج ھوم میں ڈال دے۔۔ میں نے بہت کوشش کی پوری فیملی کو سمجھانے کی، لیکن کسی نے ماں سے سیدھے منہ بات تک نہیں کی۔

جب میں دو سال کا تھا تب ابو انتقال کرگئے تھے۔ ماں نے دوسروں کے گھروں میں کام کر کے *مجھے پڑھایا* اس قابل بنایا کے میں آج ایک جج ھوں،

لوگ بتاتے ہیں کہ ماں دوسروں کے گھر کام کرتے وقت کبھی بھی مجھے اکیلا نہیں چھوڑتی تھی۔

اس ماں کو میں آج اولڈ ایج ھوم میں چھوڑ آیا ہوں۔ میں اپنی ماں کی ایک ایک دکھ کو یاد کرکے تڑپ رہا ہوں جو انھوں نے صرف میرے لئے اٹھائے تھے۔

مجھے آج بھی یاد ھے جب میں میٹرک کے امتحان دینے والا تھا۔ ماں میرے ساتھ رات۔ رات بھر بیٹھی رہتی تھی۔

ایک بار جب میں اسکول سے گھر آیا تو ماں کو بہت زبردست بخار میں مبتلا پایا۔۔۔پورا جسم گرم اور تپ رہا تھا۔ میں نے ماں سے کہا تجھےتیز بخار ہے۔ تب ماں ہنستے ہوئے بولی ابھی کھانا بنا کر آی ہوں اس لئے گرم ہے۔

لوگوں سے ادھار مانگ کر مجھے دھلی یونیورسٹی سے *ایل ایل بی* تک پڑھایا۔

مجھے ٹیوشن تک نہیں پڑھانےدیتی تھی۔ کہیں میرا وقت برباد نہ ہو جائے۔
کہتے کہتے رونے لگے۔۔ ۔۔ اور کہنے لگے۔ جب ایسی ماں کے ہم نہیں ھو سکے تو اپنے بیوی اور بچوں کے کیا ہونگے۔

ہم جنکے جسم کے ٹکڑے ہیں، آج ہم انکو ایسے لوگوں کے حوالے کر آئے '؛ '''جو انکے عادت، انکی بیماری، انکے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے ہیں۔۔ جب میں ایسی ماں کے لئے کچھ بھی نہیں کر سکتا تو میں کسی اور کے لئے بھلا کیا کر سکتا ہوں۔

آذادی اگر اتنی پیاری ھے اور ماں اتنی بوجھ ہے تو، میں پوری آزادی دینا چاہتا ہوں۔

جب میں بغیر باپ کے پل گیا تو یہ بچے بھی پل جاینگے۔اسی لیے میں طلاق دینا چاہتا ہوں۔

ساری پراپرٹی میں ان لوگوں کے حوالے کرکے اس اولڈ ایج ھوم میں رہوں گا۔ وہاں کم سے کم ماں کے ساتھ رہ تو سکتا ہوں۔
اور اگر اتنا سب کچھ کر نے کے باوجود ماں، آشرم میں رہنے کے لئے مجبور ہے ۔
تو ایک دن مجھے بھی آخر جانا ہی پڑے گا۔

ماں کے ساتھ رہتے۔ رہتے عادت بھی ھو جائےگی۔
ماں کی طرح تکلیف تو نہیں ہوگی۔
جتنا بولتے اس سے بھی زیادہ رو رہے تھے۔

اسی درمیان رات کے 12:30ھوگیے۔ میں نے بھابی جی کے چہرے کو دیکھا۔
انکے چہرے پچھتاوے کے جذبات سے بھرے ہوئےتھے۔

میں نے ڈرائیور سے کہا " ابھی ہم لوگ نوئیڈا چلیں گے۔ بھابی جی ؛ بچے، اور ہم سارے لوگ نوئیڈا پہونچے،
بہت زیادہ گزارش کرنے پر گیٹ کھلا۔
بھای صاحب نے گیٹ کیپر کے پیر پکڑ لیے ۔ بولے میری ماں ہے۔ میں اسے لینے آیا ہوں۔

چوکیدار نے پوچھا "کیا کرتے ہو صاحب" ؟
بھای صاحب نے کہا۔ میں ایک جج ہوں۔

اس چوکیدار نے کہا "جہاں سارے ثبوت سامنے ہے۔ تب تو آپ اپنی ماں کے ساتھ انصاف نہیں کر پائے ۔ اوروں کے ساتھ کیا انصاف کرتے ہونگے صاحب۔

اتنا کہ کر ہم لوگوں کو وہیں روک کر وہ اندر چلا گیا۔

اندر سے ایک عورت آی جو وارڈن تھی۔ اسنے بڑے زہریلے لفظ میں کہا۔ 2 بجے رات کو آپ لوگ لے جاکے کہیں اسے مار دیں تو میں اللہ کو کیا جواب دونگی، ؟

میں نے وارڈن سے کہا "بہن آپ یقین کیجئے یہ لوگ بہت پچھتاوے میں جی رہے ہیں، ۔

آخر میں کسی طرح انکے کمرے میں لے گئی
۔ کمرے کا جو نظارہ تھا اسے لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔
صرف ایک فوٹو جس میں پوری فیملی ہے۔، وہ بھی ماں کے بغل میں جیسے بچے کو سلا رکھا ھے۔

مجھے دیکھی تو اسے لگا کہیں بات نہ کھل جائے۔
لیکن جب میں نے کہا کہ ھم لوگ آپ کو لینے آے ھیں۔ تو پوری فیملی ایک دوسرے سے لپٹ کر رونے لگی۔ آس پاس کے کمروں میں اور بھی بزرگ تھے۔ سب لوگ جاگ کر باہر تک ہی آگئے۔ انکی بھی آنکھیں نم تھیں۔

کچھ وقت کے بعد چلنے کی تیاری ھوی۔ پورے آشرم کے لوگ باہر تک آے۔ کسی طرح ہم لوگ آشرم کے لوگوں کو چھوڑ پائے ۔

سب لوگ اس امید سے دیکھ رہے تھے، شاید انہیں بھی کوئی لینے آئے۔

راستے بھر بچے اور بھابی جی تو چپ چاپ رہے۔ مگر ماں اور بھای صاحب ایک دوسرے کے جذبات کو اپنے پرانے رشتے پر بٹھا رہے تھے۔ گھر آتے آتے قریب 3:45 ھو گیا۔

بھابی جی بھی اپنی خوشی کی چابی کہاں ہے۔ یہ سمجھ گئی تھیں۔

میں بھی چل دیا لیکن راستے بھر وہ ساری باتیں اور نظارے آنکھوں میں گھومتے رھے۔

*ماں صرف ماں ھے*
اسکو مرنے سے پہلے نہ ماریں۔

ماں ہماری طاقت ہے۔ اسے کمزور نہیں ھونے دیں۔ اگر وہ کمزور ہو گئی تو ثقافت کی ریڑھ کمزور ھو جاۓگی ۔ اور بنا ریڑھ کا سماج کیسا ھوتا ھے۔ یہ کسی سے چھپا ہوا نہیں ھے۔

اگر آپ کے آس پاس یا رشتہ دار میں اسطرح کی کوئی مسئلہ ھو تو؛ انھیں یہ ضرور پڑھوایں اور اچھی طرح سمجھایں ؛ کچھ بھی کرے لیکن ھمیں جنم دینے والی ماں کو بے گھر ، بے سہارا نہیں ہونے دیں۔ اگر ماں کی آنکھ سے آنسو گر گئے تو یہ قرض کئی سالوں تک رہے گا۔

یقین مانیں سب ھوگا تمہارے پاس لیکن سکون نہیں ھوگا۔
سکون صرف ماں کے آنچل میں ھوتا ھے۔ اس آنچل کو بکھرنے مت دینا۔

اس دل کو چھو لینے والی داستان کو خود بھی پڑھیں۔ اور اپنے بچوں کو بھی پڑھنے کو دیں۔۔ تاکہ اس سے عبرت حاصل کر سکے۔۔

اس طرح کے مزید پوسٹوں کے لیے ہمارا پیج لائک اور شیر کریں۔
*🌹

22/01/2021

ازدواجیات ۔۔۔۔۔۔۔

خوشگوار ازدواجی زندگی کا انحصار بہترین اور متوازن رویوں پر ہے ۔ جیسے ایک جوتا دوسرے پئیر یا زوج کے بغیر بیکار ہوتا ہے ، خواہ وہ کتنا ہی خوبصورت ہو اسی طرح میاں بیوی بھی ایکدوسرے کے زوج ہوتے ہیں ، ایک کے بغیر دوسرے کی تکمیل نہیں ہوتی ۔
لیکن آجکل ہمارے ہاں ازدواجی زندگی خوشگوار نہیں رہی ، میاں بیوی کے باھمی جھگڑوں اور اختلافات نے اسے بہت تلخ بنا دیا ہے اسکی بہت سی وجوہات میں سے ایک اہم وجہ narcissism ہے ، یعنی نرگسیت یا خود پسندی ۔ یہ ایک نفسیاتی بیماری ہے اور اکثر لا علاج ہے ۔
یہ بیماری ازدواجی زندگی کو گھن کی طرح چاٹ جاتی ہے اور ازدواجی خوشیوں کو اسی طرح جلا دیتی ہے جیسے خشک لکڑیوں کو آگ ۔
لڑکوں اور لڑکیوں میں اسکی علامات شادی سے بہت پہلے نظر آجاتی ہیں ۔چنانچہ شادی سے پہلے رشتے ناطے جوڑتے وقت اگر اس کا دھیان رکھا جائے تو شادی کے بعد کے المیوں سے بچا حاسکتا ہے۔
اس عارضے کے شکار لوگوں کی پہچان آسان ہے ۔
ان میں چند نمایاں رویے پائے جاتے ہیں ۔
1: ایسے لڑکوں اور لڑکیوں میں خود پسندی حد سے بڑھی ہوتی ہے ۔ رشتوں میں کیڑے نکالنا ، دوسروں کو کمتر اور حقیر سمجھنا ، اپنی حیثیت سے اونچے سٹیٹس کی خواھش رکھنا ، ان میں نمایاں ہوتا ہے ۔ ایسی لڑکیاں اور لڑکے کبھی خوشگوار زندگی نہیں گزارتے انہیں ہمیشہ آئیڈیل نہ ملنے کا شکوہ اور تشنگی رہتی ہے ۔

2:- ایسے مرد اور عورتیں جو اپنی غلطیوں کے وکیل اور دوسروں کیلئے سخت گیرجج کی طرح ہوتے ہیں وہ اس بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں انکی ازدواجی زندگی بھی تلخ ہوتی ہے ۔

3:- ایک دوسرے پہ احسان جتلانے والے ۔ مثلا شادی جتنی مرد کی ضرورت ہے اتنی ہی عورت کی بھی ضرورت ہے۔
اگر کوئی عورت اس حوالے سے مرد پر احسان جتلاتی ہے کہ وہ اس کیلئے ماں باپ بہن بھائی گھر بار سب چھوڑ کر آئی ہے، وہ اسکے سٹیٹس کانہیں ۔ ایسی عورت مرد کی مشقت ، محنت اور ذمہ داریوں کو تو اسکا فرض قرار دیتی ہے لیکن خود جو گھریلو امور سر انجام دیتی ہے اسے شوہر پر احسان قرار دیتی ہے ۔تو ایسی عورت بھی نرگسیت میں مبتلا ہوتی ہے اور ایسا مرد بھی ۔

4:- ازدواجی زندگی میں ایسی خاتون یا مرد ، جس میں اپنی طرف سے تعلق نبھانے کی خواہش یا کوشش کم سے کم اور دوسرے فریق سے غیر یقینی حد تک توقعات پائی جائیں narcissism یعنی نرگسیت کی ذیل میں آتا ہے۔

5:- حاکمانہ مزاج رکھنے والی ساس یا شوھر جو بہو، بیوی کو باندی سمجھے ، اور توقع رکھے کہ وہ اسکے اشاروں پہ چلے اور اسکا ہر جائز و ناجائز حکم بجالائے ، ذرا سا بھی چوں چرا نہ کرے ، کسی بھی طرح خوش نہ ہو ، ایسا شوہر اور ساس بھی نرگسیت میں مبتلا ہوتے ہیں اور ایسی بیوی بھی۔

6:- اولاد کیلئے آزمائش بننے والے سخت گیر والدین جو اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزار رہے ہوتے ہیں لیکن بچوں کو اپنی خواہشات کے ریموٹ کنٹرول سے طرح چلانے کی تمنا رکھتے ہیں، چاھتے ہیں کہ بچوں کی زندگی کے اہم فیصلے جیسے شادی انہی کی پسند اور مرضی سے ہو۔ بچوں کی پسند کو محض اس وجہ سے ٹھکراتے ہیں کہ اس سے انکی انا کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ ایسے والدین بھی نرگسیت کے شکار ہوتے ہیں جو اپنے بچوں کی ازدواجی زندگی تلخ بنا دیتے ہیں ۔

ڈپریشن اور دیگر نفسیاتی بیماریوں کے مریض خصوصی توجہ ، ہمدردی اور علاج کے مستحق ہوتے ہیں، مگر norccisistic personality disorder کے مریض کسی توجہ کے مستحق نہیں ہوتے۔
یہ اپنے بدبودار رویے اور سوچ کے باعث ماحول میں آلودگی کے علاوہ اللہ تبارک تعالی کی زمین پر بھی بوجھ ہوتے ہیں ۔
ترقی یافتہ ممالک میں نرگسیت میں مبتلا ذھنی مریضوں کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جاتا ہے ، انہیں سماجی تنہائی ہی تحفے میں ملتی ہے۔
نرگسیت کی وجہ دل و دماغ میں بسا شیطانی تکبر اور رعونت ہے ۔ کہ میں اعلی' اور برتر ہوں ، یہ ایک شیطانی وصف ہے ۔ اسی تکبر کی بدولت اسے راندہ درگاہ قرار دیکر جنت سے نکالا گیا ۔ متکبر لوگ رحم اور ہمدردی کے لائق تو نہیں ہوتے ناں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صرف فوٹو نہ دیکھیں ، پوری پوسٹ دوبارہ پڑھ لیں ۔ بڑے کام کی باتیں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دل کی بیماری کیلئے حضوراکرمﷺ کا بتایا ہوا نسخہ دل کی ہر قسم کی بیماری سے ہمیشہ کیلئے چھٹکاراآج ہم آپ کو ایسا عمل جو آپﷺ ...
21/01/2021

دل کی بیماری کیلئے حضوراکرمﷺ کا بتایا ہوا نسخہ دل کی ہر قسم کی بیماری سے ہمیشہ کیلئے چھٹکاراآج ہم آپ کو ایسا عمل جو آپﷺ کابتایا ہوا ہے جو ہارٹ اٹیک کے مریضوں کیلئے پیش کرتا ہوں دل کی بیماری دل کی دھڑکن تیز ہو دل یوں محسوس ہوتا ہو کہ ڈوب رہا ہے اس کیلئے ایک مجرب عمل ہے ۔ فاتح ایران حضرت سعد بن وقاص ؓ فرماتے ہیں کہ میں بیما رہوگیا اور آپﷺ میری عیادت کیلئے تشریف لائے اور میرے دونوں کندھوں کے درمیان اپنا دست مبارک رکھا تو وہ فرماتے ہیںکہ میں نے سینے میں ٹھنڈک محسوس کی ۔ اللہ تعالیٰ ہم تمام مسلمان کو آپﷺ سے سچی محبت اور عقیدت نصیب فرمائے ۔ حضرت سعد بن وقاص ؓ کو جب آپ ﷺ نے دیکھا توکہا ان کو دل کا دورہ پڑا ہے ۔ انہیں سخیف کے حکیم حارث کے پاس لے جائیں اور کہیں انہیں مدینہ کی عجوہ کھجور کی سات گھٹلیاں پیس کر نہار منہ کھلائی جائیں۔ یہ دل کیلئے بہت ہی مفید ہے ۔سات دانے باریک پیس گھٹلی سمیت پیسنے اور نہار منہ کھانے ہیں اور مسلسل گیارہ دن یہ عمل کرنا ہے ۔انشاء اللہ اسے دل کا دورہ نہیں پڑیگا۔ اس کے ساتھ چھوٹا سا عمل یہ بھی کریں فجر کی نماز کے بعد جیسے ہی نماز مکمل کرتے ہیں بغیر کسی سے بات کیے ہوئے اسی طرح قبلہ رُخ بیٹھے بیٹھے چار مرتبہ ایک ہی سانس میں پڑھنا ہے ۔ اور دائیاں ہاتھ سینے پر رکھ کر پھوک مار دیں ۔اگر آپ سے فجر کی نماز کے بعد اس کی پابندی نہیں ہوسکتی تو جمعہ کی نماز سے پہلے یا بعد میں 111مرتبہ پڑھ کر اپنے سینے پرپھونک دیں۔رسول اکرمﷺ کاارشاد گرامی ہےکہ جوشخص ہر صبح سات عجوہ کھجوریں کھا لے تو اُس دن نہ تو کوئی زہر اورنہ ہی کو ئی جادواُس کو نقصان پہنچا سکتاہے۔(صحیح بخاری)امّ المومنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ نبی اکرمﷺ کاارشادپاک ہے کہ عجوہ کھجورمیں شفاہے اوراس کانہارمنہ کھانا زہرکا تریاق ہے۔(صحیح مسلم)جدید تحقیق کے مطابق کھجور میں فائبر، پوٹاشیم، کاپر، مینگنیز، میگنیشم اور وٹامن بی جیسے اجزاءشامل ہوتے ہیں جو کہ متعدد طبی فوائد کا باعث بنتے ہیں۔فائبر آنتوں کی صحت کے لیے انتہائی ضروری جزو ہے اور قبض کی روک تھام کرتاہے،نیزآنتوں کے نظام کی صفائی میں مدد دیتا ہے۔کھجور میگنیشم سے بھرپور ہوتی ہے،اس کے استعمال سے خون کی شریانوں کے امراض، جوڑوں کے امراض، الزائمر اور دیگر بیماریوں کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ جبکہ اس میں موجود پوٹاشیم بھی جسم کے لیے فائدہ مند ہے جو دل کو مناسب طریقے سے کام کرنے اور بلڈ پریشر میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ کھجور کے ان فوائد کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے عجوہ کھجور کے فوائد و ثمرات اور اس کی فضیلت و اہمیت پر نظر ڈالیے کہ یہ کھجوروں میں سب سے افضل ہے۔

نبی کریم ﷺ نے تلبینہ کا کیا حکم دیا تھا؟ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﷺ ﮐﮯ ﺍﮨﻞ ﺧﺎﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺟﺐ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﺣﮑﻢ ﮨﻮﺗﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺗﻠ...
19/01/2021

نبی کریم ﷺ نے تلبینہ کا کیا حکم دیا تھا؟ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﷺ ﮐﮯ ﺍﮨﻞ ﺧﺎﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺟﺐ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﺣﮑﻢ ﮨﻮﺗﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺗﻠﺒﯿﻨﮧ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﭘﮭﺮ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺗﻠﺒﯿﻨﮧ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮐﮯ ﺩﻝ ﺳﮯ ﻏﻢ ﮐﻮ ﺍُﺗﺎﺭ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﮐﻮ ﯾﻮﮞ ﺍﺗﺎﺭ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﻮ ﭘﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺩﮬﻮ ﮐﺮﺍﺱ ﺳﮯ ﻏﻼﻇﺖ ﺍُﺗﺎﺭ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ۔(”ﺍﺑﻦ ﻣﺎﺟﮧ) *ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧﷺ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺟﺒﺮﺋﯿﻞؑ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ: ﺟﺒﺮﺋﯿﻞؑ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮏ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﺟﺒﺮﺋﯿﻞؑ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ:ﺍﮮ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝﷺ ﺁﭖ ﺗﻠﺒﯿﻨﮧ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﯾﮟ ﺁﺝ ﮐﯽ ﺟﺪﯾﺪ ﺳﺎﺋﯿﻨﺴﯽ ﺗﺤﻘﯿﻖﻧﮯ ﯾﮧ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﻮ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺩﮪ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﻣﯿﮟ10ﮔﻨﺎ ﺫﯾﺎﺩﮦ ﮐﯿﻠﺸﯿﺌﻢ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﻟﮏ ﺳﮯ ﺫﯾﺎﺩﮦ ﻓﻮﻻﺩ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﺎﻡ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﻭﭨﺎﻣﻨﺰ ﺑﮭﯽ ﭘﺎﺋﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﮭﮑﻦ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺑﮭﯽ ﺗﻠﺒﯿﻨﮧ ﮐﺎ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻣﻠﺘﺎ ﮨﮯ۔ﻧﺒﯽ ﷺ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻣﺮﯾﺾ ﮐﮯ ﺩﻝ ﮐﮯ ﺟﻤﻠﮧ ﻋﻮﺍﺭﺽ ﮐﺎ ﻋﻼﺝ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﻝ ﺳﮯ ﻏﻢ ﮐﻮ ﺍُﺗﺎﺭ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ۔(”ﺑﺨﺎﺭﯼ’ﻣﺴﻠﻢ’ ﺗﺮﻣﺬﯼ’ﻧﺴﺎﺋﯽ’ﺍﺣﻤﺪ*) ﺟﺐ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﺒﯽ ﷺ ﺳﮯ ﺑﮭﻮﮎ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ ﮐﯽ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﻮ ﺍٓﭖ ﺍﺳﮯ ﺗﻠﺒﯿﻨﮧ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺘﮯ ﺍﻭﺭﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﺟﺲ ﮐﮯ ﻗﺒﻀﮧ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﺟﺎﻥ ﮨﮯ ﯾﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﭘﯿﭩﻮﮞ ﺳﮯ ﻏﻼﻇﺖ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺍﺗﺎﺭ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﻮ ﭘﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺩﮬﻮ ﮐﺮ ﺻﺎﻑ ﮐﺮﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ ۔ﻧﺒﯽ ﭘﺎﮎ ﷺ ﮐﻮﻣﺮﯾﺾ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺗﻠﺒﯿﻨﮧ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺟَﻮ ﮐﮯ ﻓﻮﺍﺋﺪ ﮐﮯ

نن غنی راتہ قیصے دا جنت اوکڑےویل ئے ھلتہ کے بہ  حورے وغلمان وینہ بہ لوگہ نہ بہ تندہ نہ بہ غم وینہ بہ ھلتہ کے نوکر چرتہ د...
15/01/2021

نن غنی راتہ قیصے دا جنت اوکڑے
ویل ئے ھلتہ کے بہ حورے وغلمان وی
نہ بہ لوگہ نہ بہ تندہ نہ بہ غم وی
نہ بہ ھلتہ کے نوکر چرتہ دا خان وی
ما ویل صبر کہ غنی زۂ یو تپوس کڑم
ھلتہ ھم بہ مئینتوب وی کہ تش زان وی
غنی رو غوندے مسکے شو بیا ئے اووے
ھر سڑی سرا بہ سنگ کے خپل جانان وی‎.

*کوئی شوہر اپنی بیوی سے پاگل پن کی حد تک پیار کیسے کر سکتا ہے؟*(سوشل میڈیا پر وائرل ایک عربی پوسٹ کی اردو ترجمانی)  ایک ...
15/01/2021

*کوئی شوہر اپنی بیوی سے پاگل پن کی حد تک پیار کیسے کر سکتا ہے؟*

(سوشل میڈیا پر وائرل ایک عربی پوسٹ کی اردو ترجمانی)

ایک بوڑھی خاتون کا انٹرویو جنہوں نے اپنے شوہر کے ساتھ پچاس سال کا عرصہ پرسکون طریقے سے ہنسی خوشی گزارا

خاتون سے پوچھا گیا کہ اس پچاس سالہ پرسکون زندگی کا راز کیا ہے؟

کیا وہ کھانا بنانے میں بہت ماہر تھیں؟

یا پھر ان کی خوبصورتی اس کا سبب ہے؟

یا ڈھیر سارے سارے بچوں کا ہونا اس کی وجہ ہے یا پھر کوئی اور بات ہے؟

بوڑھی خاتون نے جواب دیا : پرسکون شادی شدہ زندگی کا دار و مدار اللہ کی توفیق کے بعد عورت کے ہاتھ میں ہے، عورت چاہے تو اپنے گھر کو جنت بنا سکتی ہے اور وہ چاہے تو اس کے برعکس یعنی جہنم بھی بنا سکتی ہے.

اس سلسلے میں مال کا نام مت لیجیے،
بہت ساری مالدار عورتیں جن کی زندگی اجیرن بنی ہوئی ہے، شوہر ان سے بھاگا بھاگا رہتا ہے

خوشحال شادی شدہ زندگی کا سبب اولاد بھی نہیں ہے، بہت ساری عورتیں ہیں جن کے دسیوں بچے ہیں پھر بھی وہ شوہر کی محبت سے محروم ہیں بلکہ طلاق تک کی نوبت آجاتی ہے

بہت ساری خواتین کھانا پکانے میں ماہر ہوتی ہیں، دن دن بھر کھانا بناتی رہتی ہیں لیکن پھر بھی انہیں شوہر کی بدسلوکی کی شکایت رہتی ہے

انٹرویو لینے والی خاتون صحافی کو بہت حیرت ہوئی، اس نے پوچھا :
پھر آخر اس خوشحال زندگی کا راز کیا ہے ؟

بوڑھی خاتون نے جواب دیا : جب میرا شوہر انتہائی غصے میں ہوتا ہے تو میں خاموشی کا سہارا لے لیتی ہوں لیکن اس خاموشی میں بھی احترام شامل ہوتا ہے، میں افسوس کے ساتھ سر جھکا لیتی ہوں.

ایسے موقع پر بعض خواتین خاموش تو ہوجاتی ہیں لیکن اس میں تمسخر کا عنصر شامل ہوتا ہے اس سے بچنا چاہیے، سمجھدار آدمی اسے فوراً بھانپ لیتا ہے

نامہ نگار خاتون نے پوچھا : ایسے موقعے پر آپ کمرے سے نکل کیوں نہیں جاتیں؟

بوڑھی خاتون نے جواب دیا : نہیں، ایسا کرنے سے شوہر کو یہ لگے گا کہ آپ اس سے بھاگ رہی ہیں،
اسے سننا بھی نہیں چاہتی ہیں.

ایسے موقعے پر خاموش رہنا چاہیے اور جب تک وہ پرسکون نہ ہوجائے اس کی کسی بات کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے.

جب شوہر کسی حد تک پرسکون ہوجاتا ہے تو میں کہتی ہوں :
پوری ہو گئی آپ کی بات ؟

پھر میں کمرے سے چلی جاتی ہوں

کیونکہ شوہر بول بول کر تھک چکا ہوتا ہے اور چیخنے چلانے کے بعد اب اسے تھوڑے آرام کی ضرورت ہوتی ہے.

میں کمرے سے نکل جاتی ہوں اور اپنے معمول کے کاموں میں مصروف ہو جاتی ہوں.

خاتون صحافی نے پوچھا : اس کے بعد آپ کیا کرتی ہیں؟ کیا آپ بول چال بند کرنے کا اسلوب اپناتی ہیں؟ ایک آدھ ہفتہ بات چیت نہیں کرتی ہیں؟

بوڑھی خاتون نے جواب دیا : نہیں !

اس بری عادت سے ہمیشہ بچنا چاہیے،

یہ دودھاری ہتھیار ہے،
جب آپ ایک ہفتے تک شوہر سے بات چیت نہیں کریں گی ایسے وقت میں جب کہ اسے آپ کے ساتھ مصالحت کی ضرورت ہے تو وہ اس کیفیت کا عادی ہو جائے گا اور پھر یہ چیز بڑھتے بڑھتے خطرناک قسم کی نفرت کی شکل اختیار کر لے گی.

صحافی نے پوچھا : پھر آپ کیا کرتی ہیں؟

بوڑھی خاتون بولیں :
میں دو تین گھنٹے بعد شوہر کے پاس ایک گلاس جوس یا ایک کپ کافی لے کر جاتی ہوں اور محبت بھرے انداز میں کہتی ہوں: پی لیجیے.

حقیقت میں شوہر کو اسی کی ضرورت ہوتی ہے.

پھر میں اس سے نارمل انداز میں بات کرنے لگتی ہوں.

وہ پوچھتا ہے کیا میں اس سے ناراض ہوں؟

میں کہتی ہوں : نہیں.
اس کے بعد وہ اپنی سخت کلامی پر معذرت ظاہر کرتا ہے اور خوبصورت قسم کی باتیں کرنے لگتا ہے.

انٹرویو لینے والی خاتون نے پوچھا : اور آپ اس کی یہ باتیں مان لیتی ہیں؟

بوڑھی خاتون بولیں : بالکل، میں کوئی اناڑی تھوڑی ہوں، مجھے اپنے آپ پر پورا بھروسہ ہوتا ہے.

کیا آپ چاہتی ہیں کہ میرا شوہر جب غصے میں ہو تو میں اس کی ہر بات کا یقین کرلوں اور جب وہ پرسکون ہو تو تو اس کی کوئی بات نہ مانوں؟

خاتون صحافی نے پوچھا : اور آپ کی عزت نفس (self respect) ؟

بوڑھی خاتون بولیں :
پہلی بات تو یہ کہ میری عزت نفس اسی وقت ہے جب میرا شوہر مجھ سے راضی ہو اور ہماری شادی شدہ زندگی پرسکون ہو

دوسری بات یہ کہ شوہر بیوی کے درمیان عزت نفس نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی

جب مرد و عورت ایک دوسرے کے لباس ہیں تو پھر کیسی عزت نفس ؟؟

Address

Nari Wala Bazzar
Takht Bai
DOCTOR

Telephone

03437130843

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ghazali Health Center posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category