Raziq Healthcare Center Tangi - Charsadda.

Raziq Healthcare Center Tangi - Charsadda. Health facilities are available 24/7 Free dispensing of injection, wound dressings and free admissions till recovery from acute pain in clinic.

02/05/2026

Ejaz Khan

With Ejaz Khan – I just got recognised as one of their top fans! 🎉zinda ao khosh raho. Ejaz khan.
20/04/2026

With Ejaz Khan – I just got recognised as one of their top fans! 🎉zinda ao khosh raho. Ejaz khan.

18/04/2026

لینولین (Lanolin)، اس کی بھیڑ سے اصل، وٹامن D3 سے تعلق اور استعمالات —

لینولین کیا ہے؟

Lanolin ایک قدرتی چکنائی (wax) ہے جو بھیڑ کی اون (wool) سے حاصل کی جاتی ہے۔ یہ دراصل بھیڑ کی جلد کے غدود (sebaceous glands) بناتے ہیں تاکہ اون کو پانی، گردوغبار اور موسم سے محفوظ رکھ سکیں۔

لینولین اور وٹامن D3 کا تعلق

لینولین میں ایک خاص مادہ ہوتا ہے جسے 7-dehydrocholesterol کہتے ہیں۔ جب اسے سورج کی الٹرا وائلٹ (UV) شعاعوں میں رکھا جاتا ہے تو یہ تبدیل ہو کر Cholecalciferol (وٹامن D3) بن جاتا ہے۔

اسی طریقے سے ہماری جلد میں بھی سورج کی روشنی سے وٹامن D3 بنتا ہے۔

اہم استعمالات

1. جلد کی حفاظت اور نمی

* خشکی (dry skin)، پھٹی ایڑیاں، ہونٹ
* بچوں کے لیے نرم کریمیں
* یہ جلد پر حفاظتی تہہ بنا کر نمی برقرار رکھتا ہے

2. کاسمیٹکس

* کریمز، لوشنز، لپ اسٹک
* جلد کو نرم اور ہموار بناتا ہے

3. میڈیکل استعمال

* مرہم (ointments) میں بیس کے طور پر
* نپل کریم (breastfeeding mothers کے لیے)
* زخموں کی ہلکی حفاظت

4. وٹامن D3 کی تیاری

* زیادہ تر سپلیمنٹس اور انجیکشن میں استعمال ہونے والا وٹامن D3 اسی سے تیار کیا جاتا ہے

احتیاط

* کچھ لوگوں کو لینولین سے الرجی ہو سکتی ہے
* حساس جلد والے افراد پہلے patch test کریں
* غیر صاف (impure) لینولین نقصان دہ ہو سکتا ہے، اس لیے میڈیکل گریڈ استعمال بہتر ہے

دلچسپ بات

اگرچہ لینولین جانور سے حاصل ہوتا ہے، لیکن اس سے بننے والا وٹامن D3 خالص اور محفوظ طریقے سے پروسیس کیا جاتا ہے، اس لیے دواؤں میں عام طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر فضل رازق۔

09/04/2026

عنوان:
“خود سے صلح — ایک دیرینہ سفر کی نرم واپسی”

زندگی عجیب ہے…
یہ ہمیں سکھاتی تو بہت کچھ ہے، مگر اکثر بہت دیر سے۔
کبھی ہم دوسروں کے لیے جیتے جیتے اپنی ذات کو کہیں پیچھے چھوڑ آتے ہیں،
اور پھر ایک دن اچانک احساس ہوتا ہے کہ
جس دل کو ہم نے سب کے لیے دھڑکایا،
وہ خود اپنے لیے کتنا اجنبی ہو چکا ہے۔

میں نے بھی برسوں یہی کیا—
رشتوں کی حرارت میں خود کو پگھلایا،
لوگوں کی خوشیوں کو اپنی ترجیح بنایا،
ان کے دکھوں کو اپنے اندر سمیٹا،
اور ہر بار خود کو ہی کٹہرے میں کھڑا کیا۔
شاید یہی میری فطرت تھی،
یا شاید محبت کا میرا انداز کچھ ایسا ہی تھا۔

مگر وقت…
وقت ایک خاموش استاد ہے۔
یہ بولتا نہیں، مگر سکھا دیتا ہے کہ
ہر حد سے بڑھی ہوئی خوبی
کبھی نہ کبھی انسان کے خلاف بھی ہو جاتی ہے۔

آج اسی وقت نے میرے دل میں ایک نرم سا چراغ روشن کیا ہے—
ایک ایسا احساس جو نہ بغاوت ہے، نہ شکوہ…
بلکہ ایک گہری سمجھ، ایک میٹھی سی تھکن، اور ایک سچا اعتراف:

“میں نے جو کر سکا، کیا… اب میں اپنے لیے بھی جینا چاہتا ہوں۔”

یہ جملہ کسی رشتے کی نفی نہیں،
یہ کسی محبت کی کمی نہیں—
یہ تو بس ایک ادھورے حصے کو مکمل کرنے کی خواہش ہے۔
یہ خود سے بچھڑے ہوئے انسان کی
اپنے ہی در پر واپسی ہے۔

میں آج بھی وہی ہوں—
دل میں محبت لیے،
دوسروں کے لیے نرم گوشہ رکھے ہوئے،
مگر اب میں اپنے دل کو بھی وہی سکون دینا چاہتا ہوں
جو ہمیشہ دوسروں کے لیے مانگتا رہا۔

اگر میری خاموشی میں اضافہ ہو،
یا میں کچھ لمحے خود میں گم رہوں،
تو اسے دوری نہ سمجھا جائے—
یہ دراصل ایک بکھرے ہوئے وجود کا
آہستہ آہستہ سنورنے کا عمل ہے۔

زندگی کے اس موڑ پر آ کر
میں نے یہ سیکھا ہے کہ
سب کو خوش رکھنے کی کوشش میں
اگر انسان خود سے روٹھ جائے،
تو وہ سب کچھ پا کر بھی ادھورا رہ جاتا ہے۔

اس لیے اب…
میں خود سے صلح کرنا چاہتا ہوں،
اپنے دل کو تھامنا چاہتا ہوں،
اور باقی ماندہ زندگی کو
سکون، شعور اور سادگی کے ساتھ جینا چاہتا ہوں۔

دعا ہے کہ ہم سب
اپنے اندر کے اس خاموش انسان کو پہچان سکیں،
اسے قبول کریں،
اور اسے وہ محبت دے سکیں
جس کا وہ برسوں سے منتظر ہے۔

آپ سب کے دعاوں کا طلبگار۔۔

ڈاکٹر فضل رازق۔


#الحمدللّٰہ
#شکریہ
#نوجوان

09/04/2026

عنوان:
“خود سے صلح — ایک دیرینہ سفر کی نرم واپسی”

زندگی عجیب ہے…
یہ ہمیں سکھاتی تو بہت کچھ ہے، مگر اکثر بہت دیر سے۔
کبھی ہم دوسروں کے لیے جیتے جیتے اپنی ذات کو کہیں پیچھے چھوڑ آتے ہیں،
اور پھر ایک دن اچانک احساس ہوتا ہے کہ
جس دل کو ہم نے سب کے لیے دھڑکایا،
وہ خود اپنے لیے کتنا اجنبی ہو چکا ہے۔

میں نے بھی برسوں یہی کیا—
رشتوں کی حرارت میں خود کو پگھلایا،
لوگوں کی خوشیوں کو اپنی ترجیح بنایا،
ان کے دکھوں کو اپنے اندر سمیٹا،
اور ہر بار خود کو ہی کٹہرے میں کھڑا کیا۔
شاید یہی میری فطرت تھی،
یا شاید محبت کا میرا انداز کچھ ایسا ہی تھا۔

مگر وقت…
وقت ایک خاموش استاد ہے۔
یہ بولتا نہیں، مگر سکھا دیتا ہے کہ
ہر حد سے بڑھی ہوئی خوبی
کبھی نہ کبھی انسان کے خلاف بھی ہو جاتی ہے۔

آج اسی وقت نے میرے دل میں ایک نرم سا چراغ روشن کیا ہے—
ایک ایسا احساس جو نہ بغاوت ہے، نہ شکوہ…
بلکہ ایک گہری سمجھ، ایک میٹھی سی تھکن، اور ایک سچا اعتراف:

“میں نے جو کر سکا، کیا… اب میں اپنے لیے بھی جینا چاہتا ہوں۔”

یہ جملہ کسی رشتے کی نفی نہیں،
یہ کسی محبت کی کمی نہیں—
یہ تو بس ایک ادھورے حصے کو مکمل کرنے کی خواہش ہے۔
یہ خود سے بچھڑے ہوئے انسان کی
اپنے ہی در پر واپسی ہے۔

میں آج بھی وہی ہوں—
دل میں محبت لیے،
دوسروں کے لیے نرم گوشہ رکھے ہوئے،
مگر اب میں اپنے دل کو بھی وہی سکون دینا چاہتا ہوں
جو ہمیشہ دوسروں کے لیے مانگتا رہا۔

اگر میری خاموشی میں اضافہ ہو،
یا میں کچھ لمحے خود میں گم رہوں،
تو اسے دوری نہ سمجھا جائے—
یہ دراصل ایک بکھرے ہوئے وجود کا
آہستہ آہستہ سنورنے کا عمل ہے۔

زندگی کے اس موڑ پر آ کر
میں نے یہ سیکھا ہے کہ
سب کو خوش رکھنے کی کوشش میں
اگر انسان خود سے روٹھ جائے،
تو وہ سب کچھ پا کر بھی ادھورا رہ جاتا ہے۔

اس لیے اب…
میں خود سے صلح کرنا چاہتا ہوں،
اپنے دل کو تھامنا چاہتا ہوں،
اور باقی ماندہ زندگی کو
سکون، شعور اور سادگی کے ساتھ جینا چاہتا ہوں۔

دعا ہے کہ ہم سب
اپنے اندر کے اس خاموش انسان کو پہچان سکیں،
اسے قبول کریں،
اور اسے وہ محبت دے سکیں
جس کا وہ برسوں سے منتظر ہے۔

آپ سب کے دعاوں کا طلبگار۔۔

ڈاکٹر فضل رازق۔


#الحمدللّٰہ
#شکریہ
#نوجوان

میری کہانی۔ وقت کے دریچوں سےباب 1: ماں کی گود — محبت کا پہلا مکتبمیں بچہ تھا… ماں کی گود میں ایک چھوٹا سا جہاں سمائے ہوئ...
07/04/2026

میری کہانی۔ وقت کے دریچوں سے

باب 1: ماں کی گود — محبت کا پہلا مکتب

میں بچہ تھا… ماں کی گود میں ایک چھوٹا سا جہاں سمائے ہوئے۔
وہ گود صرف سکون کی جگہ نہ تھی، بلکہ زندگی کی پہلی درسگاہ تھی۔
ہر لمس، ہر مسکراہٹ، ہر دعا میرے دل میں محبت اور تحفظ کے بیج بو رہی تھی۔



باب 2: بےبے اور بابا — پرورش کی روشنی

بےبے اور بابا کی شفقت نے مجھے مضبوط اور خودمختار بنایا۔
ان کی محنت اور دعائیں میرے اندر زندگی کی پہلی بنیاد رکھ گئیں۔
زندگی کے سب سے اہم سبق—صبر، محبت اور عزت—میں نے انہی کی نظر میں پہچانا۔



باب 3: مسجد کی دہلیز — دین کی روشنی

سب سے پہلے میں استاد محترم سے قرآن پاک سیکھنے کی سعادت حاصل کی۔
ہر حرف، ہر آیت، روح کو ایک سمت دیتی، اور دل میں سکون بکھرتی۔
یہ وہ لمحے تھے جب علم کی بنیادیں صرف کتابوں میں نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں میں بھی رکھی گئیں۔



باب 4: دادا جان اور سکول — علم کی ابتدائی راہیں

دادا جان نے میرا ہاتھ پکڑ کر سکول کے دروازے تک پہنچایا۔
وہ سب اس دنیا میں نہیں، مگر ان کی دعائیں آج بھی میرے ساتھ ہیں۔
کتابیں، کھیل، اور چھوٹی چھوٹی شرارتیں—سب مل کر میری شخصیت کے رنگ بنے۔



باب 5: لڑکپن — شرارتیں اور خوشی کے دن

لڑکپن وہ زمانہ تھا جب ہر دن کھیل، شرارت، اور حیرتوں سے بھرا ہوتا۔
کتابیں کبھی دشمن، کبھی دوست بن جاتیں، مگر دل ہمیشہ مستی اور بےپروائی کے عالم میں رہتا۔
یہ وہ وقت تھا جب دنیا بہت بڑی لگتی تھی، اور ہم سب چھوٹے مگر دل کے بڑے تھے۔



باب 6: جوانی — مستی، عشق اور بپرواہ لمحے

جوانی نے دل کو آزاد کر دیا۔
مستی، بےپرواہی، اور کہیں چھپی ہوئی عاشقانہ کیفیتیں زندگی کے رنگ بھر دیتیں۔
وہ لمحے آج بھی یاد ہیں—ہر قہقہہ، ہر خواب، ہر خوابیدہ آنکھوں کی چمک۔



باب 7: میڈیکل کالج — محنت اور لگن کا امتحان

پھر زندگی نے ایک سنجیدہ موڑ لیا۔
میڈیکل کالج میں دن رات کی تمیز مٹ گئی، اور علم عبادت بن گیا۔
ہر کامیابی ایک فتح، ہر مشکل ایک سبق، اور ہر پروفیسر کی ہمت افزائی میرے لیے نعمت۔



باب 8: ہاؤس جاب اور ہسپتال — انسانیت کا امتحان

ہاؤس جاب میں ہر مریض، ہر مشاہدہ، ہر مشکل سکھا گئی۔
پروفیسرز کی شفقت اور مریضوں کی داد و شکوے نے مجھے انسانیت سکھائی۔
ہسپتال کا ہر دن ایک کہانی، ہر مریض ایک نیا سبق۔



باب 9: آج — ریٹائرمنٹ اور شکرگزاری

آج میں ریٹائرڈ ہوں، مگر خدمت جاری ہے۔
مریضوں کی تیمارداری، بچوں کی پرورش، اور خاندان کی دیکھ بھال اب بھی زندگی کا حصہ ہیں۔
فرق صرف اتنا ہے کہ دل میں سکون، شکرگزاری، اور محبت کی روشنی ہے۔
سبحان اللہ، زندگی نے جو دیا، وہ بھی خوب، اور جو سکھایا، وہ اس سے بھی بڑھ کر۔

15/03/2026

زندگی کے نئے سفر کی دہلیز پر-

آج جب میں اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے طویل اور یادگار سفر کو سمیٹتے ہوئے ریٹائرمنٹ کی دہلیز پر کھڑا ہوں تو دل میں طرح طرح کے جذبات موجزن ہیں۔ یہ سفر محض ایک ملازمت نہیں تھا بلکہ زندگی کا ایک ایسا باب تھا جس میں محنت، خدمت، قربانی اور بے شمار خوبصورت یادیں شامل ہیں۔

اس سفر میں میرے اہلِ خانہ کا کردار سب سے نمایاں رہا۔ میری فیملی نے ہمیشہ میری مصروفیات، ذمہ داریوں اور مشکلات کو صبر اور محبت سے برداشت کیا اور ہر قدم پر میرا حوصلہ بڑھایا۔ اگر ان کی دعائیں، محبت اور تعاون شاملِ حال نہ ہوتے تو شاید یہ سفر اتنا آسان اور کامیاب نہ ہوتا۔

اسی طرح میرے عزیز دوست احباب بھی میری زندگی کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ آپ سب کی رفاقت، خلوص اور حوصلہ افزائی نے زندگی کے مشکل لمحات کو آسان اور خوشیوں کو دوبالا کیا۔ دوستی کے یہ رشتے میرے لیے ہمیشہ باعثِ فخر اور باعثِ مسرت رہیں گے۔

ریٹائرمنٹ دراصل اختتام نہیں بلکہ زندگی کے ایک نئے اور پُرسکون باب کی شروعات ہے۔ میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو صحت، سکون اور خوشیوں سے بھرپور زندگی عطا فرمائے اور ہمیں ہمیشہ ایک دوسرے کی محبت اور دعاوں میں قائم رکھے۔

آپ سب کی محبت، خلوص اور دعائیں میری زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔
دل کی گہرائیوں سے آپ سب کا بے حد شکریہ۔

12/03/2026

نشہ (Intoxication) اس حالت کو کہتے ہیں جب کوئی کیمیائی مادہ دماغ اور اعصابی نظام (Central Nervous System) پر اثر انداز ہو کر انسان کی احساس، سوچ، مزاج اور جسمانی کنٹرول کو بدل دے۔ یہ اثر شراب، اوپیائیڈز، Heroin، Morphine، Methamphetamine یا دیگر منشیات سے ہو سکتا ہے۔
جسم سن کیوں ہو جاتا ہے؟ (Mechanism)
نشہ آور ادویات جسم میں چند اہم طریقوں سے اثر کرتی ہیں:
1. دماغ کے نیوروٹرانسمیٹر پر اثر
زیادہ تر نشہ آور مادے دماغ کے کیمیکل پیغامات کو بدل دیتے ہیں جیسے:
Dopamine – خوشی اور انعام کا احساس
GABA – اعصاب کو سست کرنا
Serotonin – مزاج اور احساس
جب یہ کیمیکل غیر معمولی مقدار میں خارج ہوتے ہیں تو دماغ کا Pain perception اور sensory system متاثر ہو جاتا ہے۔
2. درد کے سگنلز کی بلاکنگ
کچھ نشہ آور ادویات (خاص طور پر اوپیائیڈز جیسے Morphine)
دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کے opioid receptors کو فعال کر دیتی ہیں۔
اس سے:
درد کے سگنل دماغ تک نہیں پہنچتے
جسم میں analgesia اور numbness پیدا ہو جاتی ہے
انسان کو جسم ہلکا یا سن محسوس ہوتا ہے۔
3. اعصابی نظام کی سست روی
بعض نشے (مثلاً شراب یا sedatives) Central Nervous System depressant ہوتے ہیں۔
اس سے:
nerve conduction کم ہو جاتی ہے
reflexes سست ہو جاتے ہیں
ہاتھ پاؤں یا پورا جسم سن سا لگنے لگتا ہے۔
4. خون کی نالیوں اور اعصاب پر اثر
کچھ نشے (جیسے Methamphetamine)
خون کی نالیوں کو سکیڑ دیتے ہیں
peripheral nerves کی perfusion کم ہو جاتی ہے
جس سے tingling یا numbness پیدا ہو سکتی ہے۔
مختصر خلاصہ:
نشہ اصل میں دماغ کے کیمیکل نظام کو بدل دیتا ہے۔ جب درد اور احساس کے اعصابی سگنلز دب جاتے ہیں تو انسان کو جسم سن، ہلکا یا بے حس محسوس ہونے لگتا ہے۔
ڈاکٹر فضلِ رازق۔
تنگی

13/02/2026

چوں کو میتھ سے بچائیں — ایک خاموش تباہی
آج کے دور میں ہمارے بچوں کے سامنے سب سے بڑا خطرہ صرف غربت، موبائل یا سوشل میڈیا نہیں، بلکہ ایک خاموش اور مہلک زہر ہے — میتھ ایمفیٹامین (آئس)۔
یہ وہ نشہ ہے جو وقتی طور پر خوشی، طاقت اور اعتماد کا جھوٹا احساس دیتا ہے، مگر حقیقت میں یہ دماغ، جسم اور کردار کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔
میتھ کیا کرتی ہے؟
میتھ براہِ راست دماغ کے “خوشی کے نظام” پر حملہ کرتی ہے۔
یہ ڈوپامین کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیتی ہے، جس سے وقتی سرشاری پیدا ہوتی ہے۔ لیکن چند ہی استعمال کے بعد:
دماغ کی قدرتی خوشی ختم ہونے لگتی ہے
چڑچڑاپن اور غصہ بڑھ جاتا ہے
نیند ختم ہو جاتی ہے
وہم اور بدگمانی پیدا ہوتی ہے
یادداشت کمزور ہو جاتی ہے
طویل استعمال کے بعد انسان میں نفسیاتی مریض جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔
نوجوان اس کی طرف کیوں مائل ہوتے ہیں؟
دوستوں کا دباؤ
تجسس
امتحان یا کام میں زیادہ جاگنے کی خواہش
وقتی خود اعتمادی
گھر میں جذباتی خلا
خاص طور پر ایسے بچے جن میں توجہ کی کمی، بے چینی یا اندرونی اضطراب ہو، وہ جلد اس جال میں پھنس سکتے ہیں۔
والدین کیا کریں؟
۱- تعلق مضبوط کریں
بچے کو صرف ہدایات نہیں، بلکہ وقت اور توجہ دیں۔
جس گھر میں مکالمہ زندہ ہو، وہاں نشہ کم داخل ہوتا ہے۔
۲- رویوں پر نظر رکھیں
اگر بچہ:
اچانک نیند کم کر دے
آنکھیں سرخ رہیں
وزن تیزی سے کم ہو
غصہ غیر معمولی ہو
تو خاموشی اختیار نہ کریں۔
۳- خوف نہیں، اعتماد دیں
سختی اور دھمکی اکثر بچے کو اور دور کر دیتی ہے۔
محبت اور اعتماد ہی اصل حفاظتی دیوار ہے۔
۴-خود مثال بنیں
بچے نصیحت سے کم، کردار سے زیادہ سیکھتے ہیں۔
معاشرے کی ذمہ داری
یہ صرف گھر کا مسئلہ نہیں، بلکہ اسکول، مسجد، کالج اور ریاست سب کی ذمہ داری ہے۔
نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیاں، کھیل، رہنمائی اور مثبت ماحول فراہم کرنا ہوگا۔
ایک اہم حقیقت
میتھ وقتی خوشی ہے، مگر دائمی بربادی۔
یہ صرف جسم کو نہیں، خاندان کو بھی توڑ دیتی ہے۔
اختتامیہ
ہمیں اپنے بچوں کو صرف تعلیم یافتہ نہیں، بلکہ باشعور اور مضبوط بنانا ہے۔
انہیں بتانا ہوگا کہ اصل طاقت نشے میں نہیں، بلکہ خود پر قابو میں ہے۔
اگر آج ہم نے خاموشی اختیار کی، تو کل بہت دیر ہو جائے گی۔
اپنے بچوں کے دوست بنیں، ان کے دشمن نہیں۔
کیونکہ جس دل میں محبت زندہ ہو، وہاں زہر جگہ نہیں بنا پاتا۔

ڈاکٹر فضل رازق


# methamphithamine
# youth

With Dr. Kifayat Ullah – I'm on a streak! I've been a top fan for 3 months in a row. 🎉
03/01/2026

With Dr. Kifayat Ullah – I'm on a streak! I've been a top fan for 3 months in a row. 🎉

Happy new year 2026
03/01/2026

Happy new year 2026

Address

Near THQ Hospital Tangi. District Charsadda KPK
Tangi
24540

Telephone

+923339483755

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Raziq Healthcare Center Tangi - Charsadda. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Raziq Healthcare Center Tangi - Charsadda.:

Share

Category