Dr. Ashfaq ur Rehman Chest &TB Clinic

Dr. Ashfaq ur Rehman Chest &TB Clinic Chest/TB clinic at Timergara is a page created for the awareness of community about chest diseases

12/04/2026
10/04/2026

Performing Thoracoscopy atJasmine Hospital Timergara.

10/04/2026

Performing chest tube thoracostomy .

سینے کے مریضوں کو عام دنوں میں بھی ماسک استعمال کرنے کی ضرورت پڑتی ہے لیکن آجکل جبکہ ہوا میں پولن کی مقدار بہت زیادہ ہوت...
15/03/2026

سینے کے مریضوں کو عام دنوں میں بھی ماسک استعمال کرنے کی ضرورت پڑتی ہے لیکن آجکل جبکہ ہوا میں پولن کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے تو اماسک کی ضرورت اور اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے ۔ یہاں ایک بات کی وضاحت بہت ضروری ہے کہ عام کپڑے یا سکارپ سے منہ ڈھانپنے سے وہ تحفظ نہیں مل سکتی جو ماسک سے ملتی ہے۔ آئیے اس کو زرا تفصیل سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ماسک اور عام کپڑے (جیسے دوپٹہ یا اسکارف) میں بہت فرق ہے۔ عام کپڑا صرف آپ کے منہ کو ڈھانپتا ہے، جبکہ ماسک ایک انجینئرڈ پروڈکٹ ہے جو آپ کو جراثیم سے بچانے کے لیے ڈیزائن کیا جاتا ہے۔

دونوں میں ٹیکنیکل فرق کی تفصیل کچھ یوں ہے۔

1. فیبرک کا معیار اور ساخت (Fabric Quality & Structure)

· عام کپڑا (دوپٹہ/اسکارف) :
· یہ عام طور پر بُنا ہوا (Woven) ہوتا ہے، یعنی تانا اور بانا (Lengthwise اور Crosswise) دھاگے ایک دوسرے کے اوپر سے گزرتے ہیں۔
· اِس میں دھاگوں کے درمیان خالی جگہ (Pores) بہت بڑی ہوتی ہے، جو آنکھ سے دکھائی نہیں دیتیں، لیکن وائرس اور بیکٹیریا آسانی سے گزر سکتے ہیں۔
· ہوا کا گزر: اِس میں ہوا بڑی آسانی سے گزر جاتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ جراثیم بھی اُسی طرح گزر جائیں گے۔
· میڈیکل ماسک (Surgical Mask) :
· یہ غیر بُنا ہوا (Non-woven) فیبرک ہوتا ہے۔
· یہ تھری ڈی پرت (3D Layer) کی صورت میں ہوتا ہے، جس میں دھاگے نہیں ہوتے، بلکہ پلاسٹک (Polypropylene) کے ریشوں کو گرمی اور پریشر سے آپس میں جوش دے کر (Melt-blown technique) ایک بھول بھلیاں (Maze) جیسی ساخت بنائی جاتی ہے۔
· اِس میں ہوا کا گزر مشکل ہوتا ہے، لیکن ہوا کے ساتھ اُڑنے والے چھوٹے ذرات (Aerosols) اِس بھول بھلیاں میں پھنس جاتے ہیں۔

2. فلٹریشن (Filteration) کا عمل

یہ سب سے بڑا ٹیکنیکل فرق ہے:

· عام کپڑا:
· یہ صرف بڑے بوندوں (Droplets) کو روک سکتا ہے، جیسے چھینک میں منہ سے نکلنے والی بوندیں ۔
· یہ مکینیکل فلٹریشن (چھلنی کی طرح) کام کرتا ہے، یعنی ذرے کا سائز اگر کپڑے کے سوراخ سے بڑا ہے تو رک جائے گا، چھوٹا ہے تو نکل جائے گا۔
· میڈیکل ماسک:
· یہ تین طریقوں سے فلٹر کرتا ہے:
1. انٹرسیپشن (Interception): جب ذرہ ہوا کے بہاؤ کی لکیر کی پیروی کرتا ہے اور ریشے سے ٹکرا کر چپک جاتا ہے۔
2. امپیکشن (Impaction): بڑے ذرے جڑی ریشوں سے ٹکرا کر رک جاتے ہیں۔
3. ڈفیوژن (Diffusion): سب سے چھوٹے ذرات (وائرس) براؤنین موشن کی وجہ سے اِدھر اُدھر بھٹکتے ہیں اور ریشوں سے ٹکرا کر پھنس جاتے ہیں۔
· اِس میں الیکٹرو سٹیٹک چارج (Electrostatic Charge) بھی ہوتا ہے، جو چھوٹے ذرات کو اپنی طرف کھینچ کر پھنسا لیتا ہے، جیسے مقناطیس لوہے کو کھینچتا ہے۔ یہ خصوصیت عام کپڑے میں نہیں ہوتی۔

3. ایئر فلو اور سانس لینے میں آسانی (Breathability)

· عام کپڑا: اِس میں ہوا بہت آسانی سے گزرتی ہے، اس لیے سانس لینے میں کوئی دقت نہیں ہوتی، لیکن تحفظ بھی کم ہوتا ہے۔
· میڈیکل ماسک: یہ خاص طور پر ڈیفرینشل پریشر (Differential Pressure) کو مدنظر رکھ کر بنایا جاتا ہے۔ یعنی یہ اِتنے چھوٹے سوراخ بنائے جاتے ہیں کہ جراثیم تو رک جائیں، لیکن آپ کو سانس لینے میں دقت نہ ہو۔ یہ ایک بیلنس ہے۔

4. ہائیڈروفوبک پراپرٹی (پانی سے بچاؤ)

· عام کپڑا: سوتی کپڑا تو پانی جذب (Absorbent) کر لیتا ہے، جس کی وجہ سے وہ گیلے ہو کر جراثیم کو گزرنے کا راستہ دے دیتا ہے۔
· میڈیکل ماسک: اِس کی بیرونی تہہ ہائیڈروفوبک (Hydrophobic) ہوتی ہے، یعنی اگر آپ پر کوئی بوند گرے تو وہ ماسک میں جذب نہیں ہوتی، بلکہ اوپر ہی پڑی رہتی ہے یا پھسل جاتی ہے۔

اگر آپ کو مکمل تحفظ چاہیے تو میڈیکل ماسک ہی استعمال کریں۔ لیکن اگر ماسک دستیاب نہ ہو تو تین تہوں والا کپڑے والا ماسک استعمال کریں، سادہ دوپٹہ یا اسکارف بہت کم تحفظ فراہم کرتا ہے۔

آجکل بہار کا سیزن ہے اور ہوا میں پولن کی تعداد کافی زیادہ ہے جس کی وجہ اوپی ڈی میں پولن الرجی کے مریض زیادہ اتے ہیں ۔ آج...
14/03/2026

آجکل بہار کا سیزن ہے اور ہوا میں پولن کی تعداد کافی زیادہ ہے جس کی وجہ اوپی ڈی میں پولن الرجی کے مریض زیادہ اتے ہیں ۔ آج پولن الرجی کے بارے میں مختصر مگر جامع معلومات دینے کی کوشش کرتا ہوں ۔

1.پولن الرجی کیا ہے؟

· مدافعتی نظام کا پودوں کے زرگل (پولن) کے خلاف غیر معمولی ردعمل
· جسم میں اینٹی باڈیز اور ہسٹامین کا اخراج

2. عام علامات

· لگاتار چھینکیں آنا
· ناک کا بہنا یا بند ہونا
· آنکھوں میں خارش، لالی اور پانی آنا
· گلے میں خراش اور کھانسی
· سانس لینے میں دشواری
· تھکاوٹ اور سر درد

3. کسے زیادہ خطرہ ہے؟

· دمہ کے مریض
· خاندانی تاریخ میں الرجی کا ہونا
· کمزور مدافعتی نظام والے افراد
· بچے اور بزرگ

4. احتیاطی تدابیر

· صبح کی بجائے شام کو گھر سے باہر نکلیں
· ماسک اور دھوپ کے چشمے استعمال کریں
· گھر آنے پر منہ اور ہاتھ دھوئیں
· کھڑکیاں بند رکھیں، ایئر پیوریفائر استعمال کریں
· کپڑے گھر کے اندر خشک کریں

5. علاج

· اینٹی ہسٹامین ادویات
· ناک کے سپرے
· آنکھوں کے قطرے
· امیونو تھیراپی (الرجی سے بچاؤ کے انجیکشن)
· نمکین پانی سے غرارے، بھاپ لینا

6. ڈاکٹر سے کب رجوع کریں؟

· روزمرہ زندگی متاثر ہو
· سانس لینے میں دشواری ہو
· او ٹی سی دواؤں سے آرام نہ آئے
· بخار یا پیپ دار بلغم ہو

7. احتیاط

· الرجی کو نظر انداز نہ کریں
· دمہ اور سائنوسائٹس جیسی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے
· بروقت تشخیص اور علاج ضروری ہے

ڈاکٹر اشفاق الرحمن چسٹ اینڈ ٹی بی سپیشلسٹ تیمرگرہ

آپ نے بہت اہم اور نکتہ نظر پیش کیا ہے۔آپ بالکل درست فرماتے ہیں کہ طبّی نقطہ نظر سے MDI (Metered Dose Inhaler) چاہے کنٹرو...
26/02/2026

آپ نے بہت اہم اور نکتہ نظر پیش کیا ہے۔

آپ بالکل درست فرماتے ہیں کہ طبّی نقطہ نظر سے MDI (Metered Dose Inhaler) چاہے کنٹرولر ہو یا ریلیور، اس میں سے دوا اور گیسی محلول (Propellant) کا اخراج تیز رفتاری سے ہوتا ہے۔ منہ میں اسپرے ہونے کے بعد اس کا باریک ذرات (ذائقہ) حلق اور منہ میں محسوس ہوتا ہے، اور اگر اسے صحیح طریقے سے استعمال نہ کیا جائے یا Spacer کا استعمال نہ ہو، تو 80 فیصد دوا منہ اور حلق میں ہی جمع ہو جاتی ہے، جو بعد میں نگل لی جاتی ہے اور معدے میں داخل ہوتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ انہیلر استعمال کرنے کے بعد منہ دھونے اور غرارے کرنے کی تاکید کی جاتی ہے۔

تاہم، جہاں تک فقہی نقطہ نظر کا تعلق ہے، اکابر علماء کرام اور فقہی مجالس (جیسے مجلس التحقیق الاسلامی الہند، یورپین کونسل فار فتاء ریسرچ) نے جدید طبی تحقیق کی روشنی میں انہیلر پر غور کیا ہے۔ ان کا نتیجہ درج ذیل نکات پر مبنی ہے:

1. "داخل" ہونے کی تعریف

فقہائے کرام نے روزہ افطار کرنے والے امور میں "داخل" سے مراد وہ چیز لی ہے جو "منفذِ معتاد" (عام راستے) سے "جوفِ انسان" (انسان کے اندرونی خالی پن / معدہ یا دماغ) تک "تغذیہ یا استفادہ" (غذائی یا علاجی) کی نیت سے پہنچے۔

انہیلر میں موجود دوا کا مقصد پھیپھڑے ہیں، معدہ نہیں۔ اور پھیپھڑوں میں داخل ہونے والی انتہائی باریک دوا (Aerosol) کو فقہی اعتبار سے "غبار یا بخارات" کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔

2. معدے تک رسائی کا مسئلہ

آپ نے درست فرمایا کہ اس کا ذائقہ محسوس ہوتا ہے اور کچھ حصہ معدے میں بھی جا سکتا ہے۔

· عرف عام: روزہ دار عام طور پر گلی میں اڑتی دھول، پسینہ، یا تیل کی بھاپ سے بچ نہیں سکتا، اور ان کے حلق میں جانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
· بہت کم مقدار: انہیلر سے جو معمولی مقدار منہ میں رہ کر معدے تک پہنچتی ہے، وہ ناچیز (Non-Substantial) اور قابلِ معافی (معفو عنہ) ہے۔ یہ اُس غبارے کی مانند ہے جو روزمرہ زندگی میں حلق میں چلا جاتا ہے۔
· بخارات کی مانند: فقہی اصول ہے کہ بخارات، خوشبو، دھواں اور غبار سے روزہ نہیں ٹوٹتا، جب تک کہ وہ مائع کی شکل میں جمع ہو کر نگلا نہ جائے۔ انہیلر کی دوائی عام حالات میں مائع کی صورت جمع نہیں ہوتی۔

3. نیزہ کی حدت (حدتِ نیزہ)

اگر آپ انہیلر کی باریک دوا کو نیبولائزر کے باریک بخارات سے تشبیہ دے رہے ہیں تو یہ بھی درست ہے۔ البتہ، جدید علماء نے نیبولائزر کے بارے میں بھی اختلاف کیا ہے:

· بعض کا فتویٰ: نیبولائزر (جس میں پانی کی دھند پھیپھڑوں میں جاتی ہے) سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا، کیونکہ یہ دوا سانس کی نالی میں جاتی ہے نہ کہ غذائی نالی میں۔ (یہ فتویٰ آسان ہے لیکن طبّی اعتبار سے اس میں احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ نیبولائزر میں مائع کی بوندیں بڑی ہوتی ہیں)۔
· اکثر کا فتویٰ: تاہم، زیادہ تر اور احتیاطی فتویٰ یہی ہے کہ نیبولائزر سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، جبکہ انہیلر (MDI) سے نہیں ٹوٹتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیلر میں دوا گیس کے ذریعے اتنی باریک ہو جاتی ہے کہ وہ کھانے پینے کے زمرے میں نہیں آتی۔

نتیجہ

آپ کا طبی اعتراض بجا ہے کہ اس کا ذائقہ محسوس ہوتا ہے اور کچھ حصہ غذائی نالی میں جا سکتا ہے۔

لیکن فقہی اعتبار سے اصول یہ ہے:

1. روزہ افطار ہونے کے لیے شرط ہے: کوئی چیز جان بوجھ کر، عام راستے سے، اور غذائی یا علاجی مقدار میں پیٹ تک پہنچے۔
2. انہیلر میں: یہ مقدار بے حد معمولی، غیر ارادی (کیونکہ اصل مقصد پھیپھڑے ہیں)، اور راستہ بھی غذائی نالی کی بجائے سانس کی نالی ہے۔

لہٰذا، زیادہ تر علمائے کرام اور طبی ماہرین کا اتفاق ہے کہ کنٹرولر اور ریلیور دونوں طرح کے انہیلر استعمال کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ البتہ، اگر کوئی مریض شک میں مبتلا ہے اور مکمل طور پر براءتِ ذمہ چاہتا ہے تو وہ احتیاطاً رات کو کنٹرولر انہیلر استعمال کرے اور دن کے وقت صرف مجبوری کی صورت میں ریلیور استعمال کرے (جس سے روزہ ٹوٹنے کا امکان ہے اور قضا لازم آئے گی)۔

24/02/2026

آج اوپی ڈی میں ایک نوجوان مریض پیش ہوا۔ اس نے بتایا کہ سحری کے وقت کھانا کھاتے ہوئے اچانک اسے محسوس ہوا کہ کوئی چیز اس کے گلے میں پھنس گئی ہے۔ اس واقعے کے بعد اسے کھانا نگلنے میں شدید دشواری (Dysphagia) کا سامنا کرنا پڑا، اور ساتھ ہی سینے میں تیز درد بھی محسوس ہونے لگا۔

مریض پہلے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ پہنچا، جہاں ڈاکٹروں نے اس کا سینے کا ایکسرے (Chest X-ray) کروایا۔ تاہم، ایکسرے کی رپورٹ نارمل آئی اور کوئی غیر معمولی چیز نظر نہیں آئی۔ مریض کی ہسٹری سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہ تھا کہ کوئی خارجی چیز (Foreign Body) سانس کی نالی (Trachea) کی بجائے خوراک کی نالی (Esophagus) میں پھنس چکی ہے۔

اسی شبے کی بنیاد پر مریض کو معدے کے ماہرین (Gastroenterologist) کے پاس بھیجا گیا، لیکن کسی وجہ سے وہ وہاں سے واپس آ گیا۔ اس کے بعد ہم نے مریض کا سی ٹی اسکین (CT Chest) کروانے کا فیصلہ کیا، جو کہ انتہائی اہم ثابت ہوا۔

سی ٹی اسکین میں واضح طور پر دیکھا گیا کہ خوراک کی نالی میں ایک تیز دھار دھاتی چیز پھنسی ہوئی ہے۔ مریض کے اندازے کے مطابق، یہ چاول کی بوری کو سیل کرنے والا ایک سٹیپل (Staple) تھا، جو کھانے میں شامل ہو کر حلق میں پھنس گیا۔

یہ کیس اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بعض اوقات معمولی سی دکھائی دینے والی چیزیں کتنی خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ نیز، یہ بھی کہ اگر سادہ ایکسرے میں کوئی چیز نظر نہ آئے تو جدید ٹیکنالوجی جیسے سی ٹی اسکین کی مدد سے درست تشخیص ممکن ہے۔ مریض کو اب مناسب علاج کے لیے دوبارہ معدے کے سپیشلسٹ /ای این ٹی سرجن کے پاس ریفرکر دیا گیا ۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام مریضوں کو صحت یاب کرے۔

اپنے کھانے میں احتیاط برتیں، خاص طور پر کھانے کی پیکنگ کے مواد سے۔

ڈاکٹر اشفاق الرحمن چسٹ اینڈ ٹی بی سپیشلسٹ تیمرگرہ

11/02/2026

پلیورل ایفیوژن، جسے عام الفاظ میں پھیپھڑوں کے ارد گرد پانی جمع ہونا بھی کہا جاتا ہے، دراصل ایک علامت ہے جو مختلف بنیادی بیماریوں کے نتیجے میں ظاہر ہوتی ہے۔ اس کی وجوہات کو بنیادی طور پر دو بڑے گروپوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: ایک وہ حالات جن میں سیال میں پروٹین کی مقدار کم ہوتی ہے، اور دوسرے وہ حالات جن میں پلیورل جھلی خود براہ راست متاثر ہوتی ہے۔

پہلے گروپ میں وہ بیماریاں شامل ہیں جو جسم میں پروٹین کی سطح کم کر دیتی ہیں یا خون کے دباؤ میں عدم توازن پیدا کر دیتی ہیں، جس کے باعث خون کی نالیوں سے سیال باہر نکل کر پلیورل سپیس میں جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اس کی سب سے عام مثال دل کے امراض ہیں، خاص طور پر دل کی کمزوری، جب دل پورے جسم میں خون کو مؤثر طریقے سے پمپ نہیں کر پاتا، تو خون پیچھے کی طرف دباؤ ڈالتا ہے جس سے پھیپھڑوں میں سیال جمع ہونے لگتا ہے جو آخر کار پلیورل سپیس تک پہنچ جاتا ہے۔ اسی طرح جگر کے سروسس یا گردے کے امراض، جو جسم سے فالتو پانی اور نمکیات کے اخراج میں رکاوٹ بنتے ہیں یا پروٹین بننے کے عمل کو متاثر کرتے ہیں، بھی اسی قسم کے ایفیوژن کا سبب بن سکتے ہیں۔

دوسرا بڑا گروپ وہ ہے جہاں پلیورل جھلی خود کسی بیماری کا شکار ہو جاتی ہے اور سوزش یا خرابی کے باعث سیال پیدا کرنے لگتی ہے۔ اس کی سب سے نمایاں مثال نمونیا یا ٹی بی جیسے انفیکشنز ہیں، جو براہ راست پلیورا کو متاثر کر کے سوزش پیدا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ خود ایمنی بیماریاں، جیسے گٹھیا، بھی جسم کے دفاعی نظام کو پلیورل جھلی کے خلاف کام پر لگا سکتی ہیں۔ سرطان بھی ایک اہم وجہ ہے؛ خواہ وہ پھیپھڑے کا سرطان ہو جو براہ راست پلیورا تک پھیل جائے، یا جسم کے کسی دوسرے حصے کا سرطان جو وہاں تک منتقل ہو جائے۔ کینسر کے خلیے پلیورل جھلی کی ساخت کو تبدیل کر کے سیال کے جمع ہونے کے عمل کو تیز کر دیتے ہیں۔

کچھ دیگر مخصوص حالات بھی اس کا سبب بن سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، لبلبے کی سوزش، خون جمنا، یا تھائیرائیڈ gland میں شدید خرابی بھی پلیورل ایفیوژن سے جڑی ہو سکتی ہے۔ بعض ادویات کے مضر اثرات یا سینے پر چوٹ لگنے سے بھی یہ مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اس لیے، پلیورل ایفیوژن کی موجودگی درحقیقت جسم کے اندر کسی بھی گہری خرابی کی ایک اہم نشانی ہے، جس کی وجہ کا احتیاط سے جائزہ لینا اور اس کا علاج کرنا نہایت ضروری ہوتا ہے تاکہ بنیادی بیماری پر قابو پایا جا سکے۔

03/02/2026

باقاعدہ طبی چیک اپ اور اسکریننگ ٹیسٹوں کے ذریعے بہت سے موذی امراض، بشمول کینسر، کی بروقت تشخیص ممکن ہے، جو علاج کی کامیابی کے امکانات کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔ ایک صحت مند بالغ فرد کو سال میں ایک بار بنیادی لیب ٹیسٹ ضرور کروانے چاہئیں، جن میں مکمل خون کا ٹیسٹ، بلڈ شوگر، لیپڈ پروفائل، جگر اور گردے کے فنکشن ٹیسٹ شامل ہیں۔ تاہم، کینسر کی مخصوص اسکریننگ عمر اور جنس پر منحصر ہے۔ خواتین کو اکیس سال کی عمر کے بعد یا شادی کے بعد ہر تین سال بعد پاپ سمیر ٹیسٹ کروانا چاہیے تاکہ سروائیکل کینسر کی ابتدائی تشخیص ہو سکے۔ چالیس سے پینتالیس سال کی عمر تک پہنچتے ہوئے، خواتین کو چھاتی کے کینسر کی اسکریننگ کے لیے سالانہ یا دو سال بعد میموگرافی کروانی چاہیے۔ مردوں کے لیے، پراسٹیٹ کینسر کی اسکریننگ (پی ایس اے ٹیسٹ) کا مشورہ عام طور پر پچاس سال کی عمر سے دیا جاتا ہے، یا چالیس سال کی عمر سے اگر خاندان میں اس کی تاریخ ہو۔ پچاس سال کی عمر کے بعد، دونوں جنسوں کے افراد کو آنتوں کے کینسر کی اسکریننگ کے لیے ہر دس سال بعد کولونوسکوپی پر غور کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ، جلد کے کینسر کی جانچ کے لیے سالانہ جلد کا معائنہ بھی فائدہ مند ہے۔ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ یہ ایک عمومی رہنمائی ہے اور ہر فرد کی صحت کی ضروریات اس کی خاندانی تاریخ، ذاتی خطرے کے عوامل اور طرز زندگی کے لحاظ سے مختلف ہو سکتی ہیں۔ کسی بھی قسم کی غیر معمولی جسمانی علامت، جیسے بلا وجہ وزن میں کمی، مسلسل تھکاوٹ، یا کوئی نئی گلٹی محسوس ہونا، ظاہر ہونے پر فوری طور پر اپنے معالج سے رجوع کرنا سب سے اہم قدم ہے۔ احتیاط اور بروقت تشخیص ہی طویل اور صحت مند زندگی کی کنجی ہے، لہٰذا اپنے ڈاکٹر کے ساتھ باقاعدہ مشاورت کو اپنی صحت کا لازمی حصہ بنا لیں۔

ڈاکٹر اشفاق الرحمن

وزن کم کرنے اور گھٹنوں کی تکلیف :وزن کم کرنے کا گھٹنوں کی تکلیف سے گہرا تعلق ہے۔ درج ذیل نکات میں اس ربط کو تفصیل سے بیا...
30/01/2026

وزن کم کرنے اور گھٹنوں کی تکلیف :

وزن کم کرنے کا گھٹنوں کی تکلیف سے گہرا تعلق ہے۔ درج ذیل نکات میں اس ربط کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے:

1. میکانیکی دباؤ میں کمی

· ہر اضافی کلو گرام وزن گھٹنوں پر تقریباً چار گنا زیادہ دباؤ ڈالتا ہے۔یعنی 5 کلو وزن کم کرنے سے گھٹنوں پر 20 کلو تک کے دباؤ میں کمی آتی ہے۔یہ کمی گھٹنے کے جوڑ کے کارٹیلیج (نرم ہڈی) کو ٹوٹنے پھوٹنے سے بچاتی ہے۔

2. سوزش میں کمی

زیادہ چربی والے خلیے (adipose tissue) سوزش پیدا کرنے والے کیمیکلز خارج کرتے ہیں۔وزن کم کرنے سے جسم میں سوزش کی سطح کم ہوتی ہے، جس سے گھٹنوں کا درد اور سوجن کم ہوتی ہے۔

3. گھٹنے کے جوڑ کی صحت میں بہتری

کم دباؤ سے گھٹنے کے جوڑ کے کارٹیلیج کی حفاظت ہوتی ہے آسٹیوآرتھرائٹس (گھٹنے کا جوڑوں کا درد) کی ترقی سست ہوتی ہے۔

4. حرکت میں آسانی

وزن کم ہونے سے روزمرہ کی حرکات (چلنا، سیڑھیاں چڑھنا) آسان ہوتی ہیں۔کم وزن ہونے سے ورزش کرنا آسان ہوتا ہے، جو گھٹنوں کو مضبوط بنانے میں مدد دیتا ہے۔

5. سرجری کی ضرورت میں کمی

مطالعات سے ثابت ہوا ہے کہ وزن میں 10% کمی سے گھٹنے کی تبدیلی (کnee replacement) کی سرجری کی ضرورت کا خطرہ 50% تک کم ہو سکتا ہے۔

عملی تجاویز:
تدریجی وزن میں کمی: ہفتے میں 0.5-1 کلو وزن کم کرنا صحت کے لیے بہتر ہے۔
· کم اثر والی ورزشیں: تیراکی، سائیکلنگ، چہل قدمی گھٹنوں پر کم دباؤ ڈالتی ہیں۔
· متوازن غذا: پروٹین، کیلشیم اور وٹامن ڈی سے بھرپور غذا جوڑوں کی صحت کے لیے ضروری ہے۔
·گھٹنوں کے شدید درد کی صورت میں فزیوتھیراپسٹ یا آرتھوپیڈک ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

وزن میں محض 5-10% کمی بھی گھٹنوں کی تکلیف میں نمایاں بہتری لاسکتی ہے اور آپ کی روزمرہ زندگی کی معیار کو بہتر بنا سکتی ہے۔

ڈاکٹر اشفاق الرحمن

Address

Timurgara
18300

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Ashfaq ur Rehman Chest &TB Clinic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr. Ashfaq ur Rehman Chest &TB Clinic:

Share