Dr.Muhammad Adeel Akram

Dr.Muhammad Adeel Akram MBBS,RMP, PMDC🇵🇰,FMG🇨🇳. MEDICAL INFLUENCER, CONTENT CREATOR.

💥 پُل صراط کے پارگھر میں داخل ھوا تو دیکھا ، بیوی بیٹھی رو رھی ھے ۔۔کیا ھوا ۔ میں نے پوچھا ۔۔ یہ آنکھیں کیوں لال کر رکھی...
30/04/2026

💥 پُل صراط کے پار

گھر میں داخل ھوا تو دیکھا ، بیوی بیٹھی رو رھی ھے ۔۔
کیا ھوا ۔ میں نے پوچھا ۔۔ یہ آنکھیں کیوں لال کر رکھیں ھیں ۔۔ سب خیریت تو ھے نا ۔۔
آج ، اس کمینے نے ، بیوی کے کہنے پہ اس بڑھیا کو پھر مارا ھے ۔۔ وہ پھر ھچکیوں سے رونے لگی ۔۔
تمہیں کیا ۔ وہ اس کی ماں ھے ، تمہاری نہیں اور پھر بڑھیا ، زبان چلاتی ھو گی ۔ بہو کے معاملت میں دخل دیتی ھوگی ۔۔ میں نے اس کا غم غلط کرنے کے لیے کہا ۔
زبان چلاتی ھو گی ۔۔؟ معاملات میں دخل دیتی ھوگی ۔۔؟ آپ کو کچھ پتا بھی ھے ، اس بیچاری کو فالج ھے ۔ اٹھنے بیٹھنے کے لیے سہارے کی محتاج ھے ۔ اٹک اٹک کر اپنی بات پوری کرتی ھے ۔ بیوی نے تلخی سے جواب دیا ۔۔
پہلے تم نے کبھی بتایا نہیں کہ اس کو فالج ھے ۔۔ میں نے انجان بنتے ھوۓ کہا ۔۔
ھزار دفعہ تو بتایا ھے ۔ مگر آپ کو کپڑوں کے علاوہ کچھ یاد رھے نا ۔۔ بیوی بولی
اچھا چھوڑو ۔۔ ھم کر بھی کیا سکتے ھیں ؟ ۔۔ میں نے موضوع بدلنے کی کوشش کی ۔۔
میرا دل کرتا ھے کہ بڑھیا کو اپنے گھر لے آؤں کچھ دنوں کے لیے ۔۔ میری بیوی نے کہا
کیا ۔۔ کیا کہا ۔؟ ۔۔ پاگل ھو گئ ھو ۔۔ پرائ مصیبت اپنے گلے ڈالو گی ۔۔ مجھے اس کی سوچ پہ غصہ آگیا ۔۔
صرف ھفتے بھر کے لیے ۔۔ اس نے میرے غصے کو نظر انداز کرتے ھوۓ کہا ۔۔ شاید وہ پہلے سے ھی سب پلان بنا کے بیٹھی تھی ۔۔
نہیں ، نہیں ۔۔ یہ ناممکن ھے ۔۔ اور پھر وہ کیوں دینے لگا اپنی ماں ھم کو ۔۔ میں نے کہا ۔
اس کی بیوی کئ مرتبہ کہہ چکی ھے کہ بڑھیا ، کہیں دفع تو ھو نہیں سکتی ، کتے کی سی جان ھے ، مرتی بھی نہیں ۔۔ بیوی نے کہا
اچھا ، یہ کہتی ھے وہ ۔۔ میں نے بیوی کا دل رکھنے کے لیے کہا ۔۔
بس اب آپ مان جائیں اور اس کو اپنے گھر لے آئیں ۔۔ یہ کہتی ھوۓ وہ میرے پہلو میں آ بیٹھی ۔۔ اور یہی اس کا خطرناک حملہ ھوتا ھے ، اپنی بات منوانے کا ۔۔۔
اچھا جی اب اس بڑھیا کو گھر لانے کی ذمہ داری بھی مجھ پر ڈال رھی ھو ۔ اور یہ تو سوچو کہ تم اس کوسنبھال بھی لو گی ؟ ۔۔ میں نے کہا
اپنے بچے تو ھیں نہیں ، میں بھی گھر میں سواۓ ٹی وی دیکھنے کے اور کیا کرتی ھوں ۔۔ چلو وہ آ جاۓ گی تو میرا دل بھی بہلا رھے گا ۔ اس نے اداسی سے کہا
ھماری شادی کو دس سال ھو گۓ تھے ۔۔ مگر اولاد سے محرومی تھی ۔۔
میں نے سوچا -- چلو بات کر کے دیکھنے میں حرج نہیں ھے ۔
کونسا ، وہ اپنی ماں ، ھمیں دینے پہ راضی ھو جاۓ گا ۔۔
اگر راضی ھو گیا تو ۔۔؟ میں نے سوچا
پھر بھی ایک ھفتے کی ھی تو بات ھے ۔۔۔
اگر بعد میں اپنے ھی گلے پڑ گئ تو ۔۔ اچانک مجھے خیال آیا ۔۔۔
اگر وہ بڑھیا مستقل گلے پڑ گئ تو ۔۔ میں نے اپنے خدشے کا اظہار ، بیوی سے کیا ۔۔
یہ تو اور اچھی بات ھے ۔۔ اس نے خوش ھوتے ھوۓ کہا ۔۔
سچ کہتے ھیں ۔۔ عورت بے وقوف ھوتی ھے ۔۔ میں نے دل میں سوچا ۔۔

اگلے دن شام کو کافی سوچ بچار کے بعد میں ان کے گھر گیا ۔ کچھ بات کرنے کے بہانے ، ڈرائنگ روم میں بیٹھا ۔ اس نے جھوٹے مونہہ بھی چاۓ کا نہیں پوچھا تو میں نے اپنے پلان کے مطابق اس سے کہا کہ میری بیوی ، فالج کا علاج قران پاک سے کرنا جانتی ھے ۔ اور وہ آپکی والدہ کا علاج کرنا چاھتی ھے ۔
یہ سن کر اس نے کسی خوشی کا اظہار نہ کیا ۔ تو میں نے بات جاری رکھی ۔۔ کہ اس میں مسئلہ یہ ھے کہ آپ کی والدہ کو ھفتہ بھر ھمارے ھی گھر پر رھنا ھو گا ۔۔ آپ فکر نہ کریں ، ھم ان کا اچھے سے خیال رکھیں گے ۔۔ یہ سن کر اس کے چہرے پہ شرمندگی اور خوشی کے ملے جلے اثرات پیدا ھوۓ ۔۔
اس نے تھوڑی سی بحث کے بعد اجازت دے دی ۔ میں نے اٹھتے ھوۓ کہا کہ علاج میں پندرہ بیس دن بھی لگ سکتے ھیں۔ اس نے اور بھی خوشی محسوس کی ۔
کہنے لگا ۔۔ سلیم صاحب ، میں تو چاھتا ھوں کہ میری ماں ٹھیک ھو جاۓ ، بھلے مہینہ لگ جاۓ ۔۔
اور یوں ، اس طرح ، اماں ، مستقل ھماری ھی ھو کے رہ گئیں اگلے دن ، وہ بڑھیا ھمارے گھر منتقل ھو گئ ۔ بس وہ بڑھیا کیا تھی ۔۔ سفید روئ کا گالہ سی تھی ۔ نور کا اک ڈھیر سا تھا ۔ لاغر سی ، کمزور سی ۔ جیسے زمانے بھر کے غم ، اس کے نورانی جھریوں بھرے چہرے پہ تحریر تھے ۔ آنکھوں کے بجھتے چراغ ۔ کپکپاتے ھونٹ ۔
مناسب خوراک اور دیکھ بھال نہ ھونے کی وجہہ سے حالت اور زیادہ خراب تھی ۔۔
میری بیوی تو تن ، من ،دھن سے اس کی سیوا میں جٹ گئ ۔ اس کے لیے ھر چیز نئ خریدی گئ ۔۔ بستر ، کمبل ، چادریں ، کپڑے ۔۔
اچھی خوراک ، اور خدمت سے اماں کے چہرے پہ رونق آنے لگی ۔۔
پتا ھی نہ چلا ،مہینہ گزر گیا ۔۔ پہلے اس کی بہو ھر دو دن بعد آتی رھی ۔ پھر چار دن کا وقفہ ھوا ، پھر ھفتہ ھونے لگا ۔ اماں کو واپس لے جانے کی بات نہ اس نے کی ، نہ ھم نے ۔۔
دوسرا مہینے میں وہ ایک ھی دفعہ آئ ۔ گھر کی مصروفیت کا رونا روتی رھی ۔ تیسرے مہینے کے بعد ، اس نے آنا بند کر دیا ۔۔ میں نے بیوی سے کہہ دیا کہ اب اماں ، تمہاری ذمہ داری بن گئ ھے ، اب تم سنبھالو ۔ بیوی نے خوشی کا اظہار کیا ۔
یہ غالبن ساتواں مہینہ تھا کہ اس آدمی کو اس کی بیوی نے قتل کردیا اور بعد میں وہ خود بھی پکڑی گئ ۔
اور یوں ، اماں ، صرف ھماری ھی ھو کے رہ گئیں ۔
ادھر جیسے جیسے اماں کی توانائ بحال ھورھی تھی اور چہرے پہ رونق ، مسکان آنے لگی تھی ۔ ویسے ویسے ، میرا کاروبار ترقی کرنے لگا ۔ ایسے لگتا تھا جیسے مجھ پر دھن برسنے لگا ھو ۔ سال بھر میں میری تین دکانیں ھو چکیں تھیں ۔ تیسرے سال ھم تینوں ، میں ، بیوی اور اماں نے حج کی سعادت حاصل کی ۔ گلستان جوھر میں پانچ سو گز کا بنگلہ خرید کر وھاں شفٹ ھو گۓ ۔
اماں ، ھمارے ساتھ سات سال رھیں ، ھر پل ان کا ھمیں دعائیں دیتے گزرتا ۔اور ھم میاں بیوی ، خوشی سے پھولے نہ سماتے ۔
۔ عجیب کرامت یہ ھوئ کہ اماں کی برکت اور دعاؤں سے ، اللہ رب العزت نے مجھے اولاد سے نوازا ۔۔
آج وہ ھمارے درمیاں نہیں ، مگر ان کی کمی شدت سے محسوس ھوتی ھے ۔ جیسے کوئ اپنا کہیں کھو گیا ھو ۔ ھم نے بھی کبھی ان سے ان کا نام تک نہ پوچھا ۔ بس ان سے اک خلوص کا رشتہ تھا ۔۔
پچھلے دنوں ، میری بیوی بہت خوش تھی ۔ وجہہ پوچھی تو کہنے لگی ۔ میں نے ایک خواب دیکھا ھے ۔۔
کیسا خواب ۔۔؟
میں نے دیکھا ۔ کہ محشر کا دن ھے ۔ اور سب حیران و پریشان کھڑے ھیں ۔ ان میں ، میں بھی کھڑی ھوں کہ اتنے میں ، اماں آئیں اور میرا ھاتھ پکڑ کر کہنے لگیں ۔ منیرہ ، ادھر آ ، میرے ساتھ ، تجھے پل صراط پار کرا دوں ۔ میں ان کے ساتھ چلی ، ھم ایک باغ سے گزرے ، تھوڑی دیر میں باغ ختم ھوا تو ایک بڑا سا میدان آگیا تو اماں کہنے لگیں ، بس ھو گیا پل صراط پار ۔۔ میں حیران ھوئ ۔ تو وہ بھی زور سے ھنسے لگیں ۔ پھر میری آنکھ کھل گئ ۔۔
مبارک ھو بھئ ۔۔ بہت اچھا خواب ھے مگر تمہیں میرا خیال نہ آیا ۔ ؟
قسم سے میں اتنی پریشان تھی کہ ۔۔
چلو ۔ خیر ھمیں بھی کوئ نہ کوئ مل ھی جاۓ گا جو پل صراط پار کرا دے ۔۔
آمین ۔۔ بیوی نے جیسے دل کی گہرائیوں سے کہا ۔۔
اور پھر اس کو میں نے یہ نہیں بتایا کہ ایسا خواب میں بھی دیکھ چکا ھوں بس فرق یہ تھا کہ اماں نے میرا ھاتھ پکڑتے وقت کہا تھا ، چلو ، تمہیں منیرہ کے پاس لے چلوں وہ پل صراط کے پار ، تمہارا انتظار کر رھی ھے..!!

Thanks for being a top engager and making it onto my weekly engagement list! 🎉 Rai AD Marth, Shaista Azam, Iqra Imran, F...
28/04/2026

Thanks for being a top engager and making it onto my weekly engagement list! 🎉 Rai AD Marth, Shaista Azam, Iqra Imran, Faiza Haider

کتا مار مہم :اور ہمارا ایکو سسٹم ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہر چیز جو پیدا کی گئی ہے اس میں مصلحت ہے اور دانائی چھپی ہوئی...
27/04/2026

کتا مار مہم :اور ہمارا ایکو سسٹم ۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہر چیز جو پیدا کی گئی ہے اس میں مصلحت ہے اور دانائی چھپی ہوئی ہے۔ہر وہ جانور(جان) جو اللہ نے بنائی ہے اس کی جان اتنی ہی قیمتی ہے جتنی ہم انسانوں کی ہے۔ہر کسی کو زندہ رہنے کا حق ہے۔
ایکو سسٹم:اللہ تعالٰی نے جو چیز پیدا کی وہ ہمارے ماحول کے لئے ضروری ہے اگر ہم اس کو ختم کریں گے تو قدرت اسکا انتقام لے گی وہ چاہے ہمارے ماحول کی تباہی کی صورت میں ہو چاہے ماحول کا توازن بگڑے۔ایکو سسٹم کو برقرار رکھنے کے لئے یہ جانور ،چرند،پرند سب ضروری ہیں اسی لئے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔
کتوں کی نس بندی اور ماحول دوست اقدامات:
کتوں کی نس بندی (Sterilization/Neutering) آوارہ کتوں کی آبادی کو کنٹرول کرنے، ریبیز کے پھیلاؤ کو روکنے اور انہیں جارحانہ رویے سے بچانے کا ایک انسانی اور سائنسی طریقہ ہے۔ اس عمل میں ویکسینیشن کے بعد کتوں کی تولیدی صلاحیت ختم کر دی جاتی ہے، جس سے نہ صرف ان کی نسل بڑھنا رکتی ہے بلکہ وہ کم خطرناک اور پرسکون ہو جاتے ہیں۔

نس بندی کے اہم پہلو:
آبادی پر کنٹرول: نس بندی سے کتوں کی آبادی کو موثر طریقے سے کنٹرول کیا جاتا ہے، جس سے شہروں میں ان کی بہتات کم ہوتی ہے۔
خطرہ کم کرنا: نس بندی اور ویکسینیشن کے بعد کتے خطرناک نہیں رہتے اور ان کا مزاج نرم ہو جاتا ہے۔
بیماریوں کا خاتمہ: یہ کتوں میں ریبیز (پاگل پن) جیسی مہلک بیماریوں کو پھیلنے سے روکنے میں مددگار ہے۔
طریقہ کار: نس بندی کے بعد کتوں کو واپس انہی کے علاقوں میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔
قانونی اور شرعی حیثیت: جانوروں کی نس بندی، اگر کسی منفعت یا ضرر کو دور کرنے کے لیے ہو، تو جائز قرار دی گئی ہے۔

سوال:
کیا پالتو جانوروں (بلی وغیرہ ) کی نس بندی کروانا جائز ہے ؟

جواب
پالتوجانور (بلی)کی نس بندی ،کسی منفعت کی خاطرہویاکسی مضرت کودورکرنےکےلیےہوتوجائزہے۔

دررالحکام میں ہے:

"و‌‌خصاء البهائم(جاز)، وإنزاء الحمير على الخيل۔۔۔(قوله: وخصاء البهائم) شامل للسنور وبه صرح في البزازية".

(كتاب الكراهية، خصاءالبهائم، ج:1، ص:319، ط:دار احياءالكتب العربية)

البنایۃ میں ہے:

"قال: ولا بأس بإ‌‌خصاء البهائم و‌‌إنزاء الحمير على الخيل؛ لأن في الأول منفعة البهيمة والناس...(لأن في الأول منفعة البهيمة والناس) ش: أراد بالأول خصاء البهائم ومنفعة البهائم تسمينها ومنفعة الناس إزالة جماحها وشماسها".

(كتاب الكراهية، خصاء البهائم، ج:12، ص:242، ط:دار الكتب العلمية).
حکومت سے اپیل:
حکومت سے اپیل ہے کہ وہ کتوں کو مارنے کی بجائے ان کی ویکسینیشن اور سٹرلائزیشن کے انتظامات کرے اور ماحول دوست اقدامات کرے۔کتوں کو مارنا کوئی حل نہیں ہے،کسی سے جینے کا حق ہم نہیں چھین سکتے،دنیا آجکل بہت آگے نکل چکی ہے ہم ابھی تک وہی پرانے طریقے اپنا رہے ہیں۔

محکمہ لائیو سٹاک:
یہ ذمہ داری محکمہ لائیو سٹاک کو دیں وہ اس کو بہتر طریقے سے ہینڈل کر سکتے ہیں۔

ڈیوی ایٹڈ نیزل سیپٹم (DNS) ایک ایسی حالت ہے جس میں ناک کی درمیانی دیوار (جو ہڈی اور کارٹیلیج پر مشتمل ہوتی ہے) ٹیڑھی ہو ...
25/04/2026

ڈیوی ایٹڈ نیزل سیپٹم (DNS) ایک ایسی حالت ہے جس میں ناک کی درمیانی دیوار (جو ہڈی اور کارٹیلیج پر مشتمل ہوتی ہے) ٹیڑھی ہو جاتی ہے، جس سے ایک نتھنا دوسرے کے مقابلے میں چھوٹا ہو جاتا ہے۔
نمایاں علامات:

* ناک کی بندش: عام طور پر ایک طرف سے ناک زیادہ بند محسوس ہوتی ہے۔
* سانس لینے میں دشواری: خاص طور پر ناک کے ذریعے سانس لینے میں مشکل ہونا۔
* ناک سے خون آنا: ناک کے اندرونی حصے میں خشکی کی وجہ سے اکثر نکسیر پھوٹنا۔
* سائنس (Sinus) کے مسائل: بار بار ریشہ ہونا یا سر چکرانا۔
* خراٹے لینا: سوتے وقت سانس لینے میں تنگی اور خراٹوں کی آواز آنا۔

بنیادی وجوہات:

* پیدائشی: کچھ لوگ پیدائشی طور پر ٹیڑھی ہڈی کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔
* چوٹ لگنا: کھیل کود، حادثے یا لڑائی کے دوران ناک پر چوٹ لگنا۔

علاج کے طریقے:

1. ادویات: نیزل اسپرے، اینٹی ہسٹامائنز اور ڈی کنجسٹنٹس علامات (جیسے سوزش اور بندش) کو کم کرتے ہیں، لیکن یہ ہڈی کو سیدھا نہیں کر سکتے۔
2. سرجری (Septoplasty): اگر مسئلہ شدید ہو تو سرجری کے ذریعے ناک کی ہڈی کو سیدھا کیا جاتا ہے تاکہ سانس کا راستہ بحال ہو سکے۔

کیا آپ اس کے علاج (سرجری) کے بارے میں مزید تفصیل جاننا چاہتے ہیں یا کسی مخصوص علامت کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہیں؟
ViSIT .DR.MUHAMMAD ADEEL AKRAM AT DUA CLINIC.
دعا کلینک،صاحبِ لولاک چوک پیرمحل ۔
Appointment Booking:03106165343

نتھنوں کے غدود (Nasal Polyps) ناک کے اندرونی حصوں یا سائنسز (sinuses) میں نرم اور بے ضرر رسولیاں ہوتی ہیں۔ یہ عام طور پر...
21/04/2026

نتھنوں کے غدود (Nasal Polyps) ناک کے اندرونی حصوں یا سائنسز (sinuses) میں نرم اور بے ضرر رسولیاں ہوتی ہیں۔ یہ عام طور پر دائمی سوزش، الرجی، دمہ، یا انفیکشن کی وجہ سے بنتی ہیں۔
# # وجوہات اور خطرے کے عوامل
یہ ناک کی جھلی میں طویل مدتی سوزش (Chronic Sinusitis) کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ اہم وجوہات درج ذیل ہیں:

* دائمی سائنسائٹس: 12 ہفتوں سے زائد رہنے والی سوزش۔
* الرجی: ناک کی الرجی (Hay Fever) یا مستقل ردِعمل۔
* دمہ (Asthma): دمہ کے مریضوں میں ان غدود کے بننے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
* ایسپرین سے حساسیت: کچھ لوگوں کو ایسپرین سے الرجی ہوتی ہے جو غدود کا سبب بنتی ہے۔
* موروثی وجوہات: موروثی بیماریاں جیسے کہ سسٹک فائبروسس (Cystic Fibrosis)۔
*

# # علامات
چھوٹے غدود شاید محسوس نہ ہوں، لیکن بڑے غدود ناک کے راستے بند کر دیتے ہیں، جس سے یہ علامات ظاہر ہوتی ہیں:

* سانس لینے میں دشواری: ناک کا مسلسل بند رہنا یا بہنا۔
* سونگھنے اور چکھنے کی حس میں کمی: خوشبو محسوس نہ ہونا۔
* سائنس کا دباؤ: چہرے پر درد یا سر درد۔
* نیند میں خلل: خراٹے لینا یا سوتے ہوئے سانس رکنا۔
* کیرے کا گرنا: گلے میں ہر وقت ریشہ گرنے کا احساس۔
*

# # علاج کے طریقے
علاج کا مقصد سوزش کو کم کرنا اور غدود کو ختم کرنا ہوتا ہے:

* ادویات:
* سٹیرائیڈ نیزل اسپرے: یہ سوزش کو کم کرنے اور غدود کو سکیڑنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
* کھانے والی یا انجکشن والی ادویات: غدود کو تیزی سے چھوٹا کرنے کے لیے مخصوص دورانیے کے لیے دی جاتی ہیں۔
* سرجری:
* اینڈوسکوپک سائنس سرجری: اگر ادویات کام نہ کریں تو سرجری کے ذریعے ان غدود کو نکال دیا جاتا ہے۔
* احتیاطی تدابیر:
* ناک کی صفائی: نمکین پانی (Saline Irrigation) سے ناک کی صفائی کرنا۔
* الرجی اور دمے کا کنٹرول: بنیادی بیماریوں کا علاج تاکہ غدود دوبارہ نہ بنیں۔
*

نوٹ: علاج کے بعد بھی یہ غدود دوبارہ بن سکتے ہیں، اس لیے مستقل دیکھ بھال ضروری ہے۔
کیا آپ ان میں سے کسی مخصوص علامت یا علاج کی تفصیل کے بارے میں مزید جاننا چاہتے ہیں تو آپ تشریف لائیں :دعا کلینک،صاحبِ لولاک چوک پیرمحل
Appointment: M Abdullah.03106165343
Clinic Time. 9.00AM to 1.30 PM
Evening: 5.00PM till 8.00 PM.

19/04/2026

DARK CIRCLES AROUND THE EYES|HOME REMEDIES FOR DARK CIRCLES|


.

17/04/2026

شوگر کے مریضوں کیلئے ہفتے میں ایک دن لگانے والی انسولین|DIABETES MELLITUS AND INSULIN|

.

08/04/2026

HOW TO LOWER THE RISK OF HEART ATTACK AT AGE OF 30|



.

01/04/2026

NAILS FUNGUS INFECTION|
ناخنوں میں فنجگس لگ جانا اور اس کا علاج|

.

29/03/2026

Scabies Diagnose and Treatment||Ask Dr.Muhammad Adeel Akram|

.

دُعا کلینک کے نئے اوقات کار جاری کر دیئے گئے ہیں، جو اب روزانہ صبح 10 بجے سے 2 بجے تک اور شام 5 بجے سے 8 بجے تک کھلا رہے...
25/03/2026

دُعا کلینک کے نئے اوقات کار جاری کر دیئے گئے ہیں، جو اب روزانہ صبح 10 بجے سے 2 بجے تک اور شام 5 بجے سے 8 بجے تک کھلا رہے گا۔ ڈاکٹر محمد عدیل اکرم، سرکاری ہسپتال پیرمحل سے منسلک، ان اوقات میں مریضوں کا معائنہ کریں گے۔
For Appointment.
M Abdullah 0310 6165343
M Hassan 0318 6630789

21/03/2026

Eid Mubarak |بچپن دی عید دا چاہ |





Address

Toba Tek Singh
36300

Telephone

+923187744843

Website

https://youtube.com/@dr_vlogs786?si=690JIwBSpKOizVlt, https:/

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr.Muhammad Adeel Akram posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr.Muhammad Adeel Akram:

Share

Category