29/08/2024
غیر معیاری ٹیکس فائلنگ سے اوائڈ کریں
ٹیکس پریکٹس کی ہسٹری میں اتنے بندے ٹیکس کنسلٹینٹس نے رجسٹر کئے ہیں نہ ایف بی آر کے رجسٹریشن ونگ نے کئے ہیں جتنے بندے پراپرٹی رجسٹرارز کے دفتروں سے رجسٹر بھی ہوئے اور فائلر بھی بنائے گئے ہیں.
اور صحیح پیسہ بھی انہوں نے ہی کمایا ہے، ہر دفتر سے دس پندرہ لوگ روزانہ فائلر ہوتے ہیں، ایوریج تین چار لاکھ روپیہ مہینہ یہ فائلرز سے کماتے ہیں۔
ان لوگوں کے فائلر کئے ہوئے بندے کا نیکسٹ ریٹرن بنانا کنسلٹینٹ کیلئے اچھی خاصی پرابلم بن جاتا ہے کیونکہ بندے کے اوریجنل مالی معاملات کو ان کے فائل کئے ہوئے ریٹرن کیساتھ کوریلیٹ کرنا ممکن نہیں رہتا اور ان فائلرز کے ٹیکس پروفائل کا پاسورڈ تو کسی ایک کے پاس بھی نہیں ہوتا۔
کوشش کیا کریں کہ پراپرٹی رجسٹریشن سے پہلے کسی ماہر کنسلٹینٹ سے فائلر ہو کے جایا کریں تاکہ بعد کی پریشانیوں سے بچ سکیں۔
غیر معیاری ریٹرن فائلنگ کا معاملہ ایسے ہی ہے جیسے آپ ایک کاغذ پر کچھ بھی اول فول لکھ کے دراز میں رکھ دیں، یہ دس سال بھی کسی اتھارٹی کی نظروں سے اوجھل پڑا رہے گا تو کچھ مسئلہ نہیں کرے گا لیکن جب کسی محتسب کی نظر میں آگیا تو وہ اس پر باز پرس ضرور کرے گا۔