10/05/2026
علم — صرف ڈگری نہیں، انسانیت کو سمجھنے کا سفر
دنیا کی سب سے بڑی طاقت نہ دولت ہے، نہ حکومت، نہ اسلحہ… بلکہ علم ہے۔ مگر وہ علم جو انسان کے دل میں روشنی پیدا کرے، سوچ کو وسعت دے، اور انسان کو انسانیت کی خدمت سکھائے۔ آج کے دور میں معلومات بہت ہیں، لیکن حقیقی شعور کم ہوتا جا رہا ہے۔ کتابیں ہاتھوں میں ہیں مگر برداشت، اخلاق، تحقیق اور انسان دوستی دلوں سے دور ہوتی جا رہی ہے۔
قرآنِ پاک نے سب سے پہلا پیغام ہی علم کے بارے میں دیا:
“اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ”
“پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔”
— Quran، سورۃ العلق
یہ صرف پڑھنے کا حکم نہیں بلکہ سوچنے، سمجھنے اور کائنات پر غور کرنے کی دعوت ہے۔ قرآن بار بار انسان کو تدبر، تحقیق اور عقل کے استعمال کی طرف بلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟”
— Quran، سورۃ الزمر
اصل علم وہ ہے جو انسان کے ذہن کے دروازے کھول دے۔ جو نفرت کے بجائے محبت، تعصب کے بجائے برداشت، اور غرور کے بجائے عاجزی پیدا کرے۔
Winston Churchill نے کہا تھا:
“The empires of the future are the empires of the mind.”
یعنی مستقبل کی سلطنتیں ذہنوں کی سلطنتیں ہوں گی۔
آج دنیا میں وہی قومیں ترقی کر رہی ہیں جو سوال پوچھتی ہیں، تحقیق کرتی ہیں، نئی سوچ پیدا کرتی ہیں اور اختلافِ رائے کو برداشت کرتی ہیں۔
بانیٔ پاکستان Muhammad Ali Jinnah نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا:
“Education is a matter of life and death for Pakistan.”
تعلیم پاکستان کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔
لیکن صرف ڈگری حاصل کرنا تعلیم نہیں۔ اگر ایک ڈاکٹر، انجینئر، استاد یا سیاستدان انسانیت کی خدمت نہ کرے تو اس کا علم ادھورا ہے۔ علم کا حسن اس کے عمل میں ہے۔
Allama Muhammad Iqbal نے نوجوانوں کو شاہین کی طرح بلند پرواز سوچ رکھنے کا درس دیا۔ وہ فرماتے ہیں:
“نگاہ بلند، سخن دل نواز، جاں پرسوز
یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے”
اقبال چاہتے تھے کہ مسلمان صرف کتابوں کے حافظ نہ بنیں بلکہ تحقیق، کردار اور خودی کے ذریعے دنیا کی رہنمائی کریں۔
امریکہ کے عظیم رہنما Abraham Lincoln نے کہا تھا:
“I do not think much of a man who is not wiser today than he was yesterday.”
یعنی جو انسان ہر دن کچھ نیا نہ سیکھے، وہ ترقی نہیں کر رہا۔
ہمیں اپنے بچوں کو صرف امتحان پاس کرنا نہیں بلکہ انسان بننا سکھانا ہوگا۔ انہیں کتابوں کے ساتھ اخلاق، برداشت، تحقیق، ادب، اور انسان دوستی بھی سکھانی ہوگی۔ ایک کھلا ذہن ہی ترقی یافتہ معاشرہ بناتا ہے۔ بند سوچ نفرت پیدا کرتی ہے جبکہ علم دلوں کو جوڑتا ہے۔
آئیں!
مطالعہ کریں…
سوال پوچھیں…
سوچیں…
اختلاف کو برداشت کریں…
اور سب سے بڑھ کر انسانیت سے محبت کرنا سیکھیں۔
کیونکہ اصل تعلیم وہ ہے جو انسان کو عاجزی، خدمت اور روشنی دے۔
آئیں علم کو صرف نوکری کا ذریعہ نہیں بلکہ انسانیت کی بھلائی کا مشن بنائیں۔
“Learn to read, learn to think, and learn to serve humanity.”
Dr. Nauman Rafi Rajput
Consultant Medical Specialist
Author | Columnist | Researcher | Public Speaker
0321-6266658 for contact
Dr Nauman Rafi Rajput Is ex Assistant Professor of Medicine MBBS\MD ,MCPS(CPSP).