12/05/2026
کالام اور سوات صرف وہاں کے چند جیپ مالکان کی جاگیر نہیں، یہ پورے پاکستان خصوصاً ہم پنجاب والوں کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا وہاں کے مقامی لوگوں کا۔
ہم اپنے بچوں کو لے کر، لاکھوں روپے خرچ کر کے، محبت اور اعتماد کے ساتھ سوات جاتے ہیں، وہاں کی خوبصورتی کو دنیا بھر میں سراہتے ہیں، اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو بھی سوات کی سیر کا مشورہ دیتے ہیں۔ مگر افسوس کہ اب وہی رویہ سامنے آ رہا ہے جو کبھی مری میں سیاحوں کے ساتھ اختیار کیا گیا تھا۔
اگر کوئی خاندان اپنی گاڑی یا کوسٹر لے کر آیا ہے تو اسے زبردستی روکنا، دباؤ ڈالنا یا یہ کہنا کہ صرف جیپ پر ہی جانا ہوگا، یہ نہ صرف بدتمیزی ہے بلکہ سیاحوں کی تذلیل بھی ہے۔
ہر انسان کی اپنی سہولت، اپنی مجبوری اور اپنی پسند ہوتی ہے۔ ہر بندہ جیپ پر سفر نہیں کر سکتا، اور نہ ہی کسی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ زبردستی اپنی مرضی مسلط کرے۔
یہ راستے سرکاری ہیں، زمین سرکاری ہے، اور سیاحت پورے ملک کی مشترکہ امانت ہے۔
اگر یہی رویہ رہا، اگر لالچ اور اجارہ داری اسی طرح چلتی رہی، تو یاد رکھیں سیاحت ختم ہوتے دیر نہیں لگتی۔ لوگ وہاں جانا چھوڑ دیتے ہیں، اور نقصان پورے علاقے کو اٹھانا پڑتا ہے۔
ہم حکومتِ خیبرپختونخوا، ضلعی انتظامیہ، پولیس اور ٹورازم اتھارٹی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے۔
سیاحوں کو عزت، تحفظ اور آزادی دی جائے، نہ کہ زبردستی اور دھونس۔
سوات محبت سے آباد ہے، دھونس اور لالچ سے نہیں۔
#سوات
#کالام