17/03/2026
زندگی کے اس پار کی روشنی
ایک عمر گزر جاتی ہے
روٹی کے ایک لقمے
اولاد کے مستقبل
اور زمانے کی سختیوں کے درمیان۔
انسان اپنی جوانی
ایک خاموش مزدور کی طرح
دن اور رات کی چکی میں پیس دیتا ہے
اور جب وہ پچپن برس کی دہلیز پر پہنچتا ہے
تو اچانک اسے یاد آتا ہے
کہ اس نے زندگی کمائی تو بہت
مگر جینا شاید تھوڑا سا رہ گیا تھا۔
اس لیے
جب عمر کا سورج ڈھلنے لگے
تو اپنی محنت کی کمائی کو
تالوں میں قید نہ رکھو۔
اسے اپنی مسکراہٹوں میں بدل دو
اپنی خواہشوں میں ڈھال دو
اپنی تھکی ہوئی روح پر خرچ کر دو۔
یہ دولت
ان لوگوں کے لیے نہ چھوڑو
جو یہ نہیں جانتے
کہ اس کے ہر سکے میں
تمہاری نیندوں کی قربانی
اور تمہارے خوابوں کی قیمت شامل ہے۔
اب وقت یہ نہیں
کہ تم نئی فکریں پال لو
یا سرمایہ کاری کے نئے بوجھ اٹھاؤ۔
اب وقت ہے
کہ تم صبح کی روشنی کو محسوس کرو
شام کی ہوا میں سانس لو
اور زندگی کے چھوٹے چھوٹے لمحوں کو
اپنی مٹھی میں تھام لو۔
اپنی صحت کو
اپنی سب سے بڑی دولت سمجھو۔
روز تھوڑا سا چلو
اچھی غذا کھاؤ
اور اپنے جسم کو وہ آرام دو
جس کا وہ برسوں سے منتظر ہے۔
اپنے آپ سے محبت کرو۔
اچھی چیزیں خریدو
خوبصورت کپڑے پہنو
اور اگر تمہارا ہم سفر تمہارے ساتھ ہے
تو اس کے ساتھ ہنسو
کیونکہ ایک دن
یہ ہنسی صرف یاد بن جائے گی
اور دولت اس یاد کو واپس نہیں لا سکے گی۔
ماضی کی گرد
اپنے دل پر نہ جمنے دو۔
جو بیت گیا وہ قصہ ہے
اور جو آنے والا ہے وہ راز۔
زندگی صرف اس لمحے میں ہے
جو اس وقت
تمہارے سانسوں میں زندہ ہے۔
نئی نسل کو سمجھو
ان کے خواب تم سے مختلف ہو سکتے ہیں
مگر وہی آنے والا کل ہیں۔
انہیں نصیحت دو
مگر اپنی کہانی کو
ان پر بوجھ نہ بناؤ۔
اگر دل میں کوئی شوق باقی ہے
تو اسے زندہ کر دو۔
سفر کرو
کتابیں پڑھو
باغ لگاؤ
ہوا کے ساتھ چلو
یا صرف بیٹھ کر
چاند کو دیکھو۔
اور سب سے بڑھ کر
دل میں نفرت نہ رکھو۔
جس نے تمہیں دکھ دیا
اسے معاف کر دو۔
اور اگر تم نے کسی کو دکھ دیا ہے
تو جھک کر معافی مانگ لو۔
کیونکہ عمر کے اس موڑ پر
سب سے قیمتی چیز
دل کا سکون ہوتا ہے۔
ہنسا کرو۔
کیونکہ تم خوش نصیب ہو
کہ تم نے اتنی لمبی زندگی دیکھی ہے۔
بہت سے لوگ
اس منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی
راستوں میں رہ جاتے ہیں۔
اس لیے
اپنے باقی دنوں کو۔
غم کی زنجیروں میں قید نہ کرو۔
انہیں آزادی دو
اور زندگی کو
ایک نرم مسکراہٹ کے ساتھ جیو۔