Yasmin Sahar

Yasmin Sahar I'm Yoga instructor, palmiest and astrologist. You can ask me related questions about yoga and your Stars.

18/03/2026

پیج ایڈمن اس وقت اپنے نواسوں کے ساتھ سعودی عرب پارک میں انجوائے کر رہے ہیں۔

زندگی کے اس پار کی روشنیایک عمر گزر جاتی ہےروٹی کے ایک لقمےاولاد کے مستقبلاور زمانے کی سختیوں کے درمیان۔انسان اپنی جوانی...
17/03/2026

زندگی کے اس پار کی روشنی
ایک عمر گزر جاتی ہے
روٹی کے ایک لقمے
اولاد کے مستقبل
اور زمانے کی سختیوں کے درمیان۔
انسان اپنی جوانی
ایک خاموش مزدور کی طرح
دن اور رات کی چکی میں پیس دیتا ہے
اور جب وہ پچپن برس کی دہلیز پر پہنچتا ہے
تو اچانک اسے یاد آتا ہے
کہ اس نے زندگی کمائی تو بہت
مگر جینا شاید تھوڑا سا رہ گیا تھا۔
اس لیے
جب عمر کا سورج ڈھلنے لگے
تو اپنی محنت کی کمائی کو
تالوں میں قید نہ رکھو۔
اسے اپنی مسکراہٹوں میں بدل دو
اپنی خواہشوں میں ڈھال دو
اپنی تھکی ہوئی روح پر خرچ کر دو۔
یہ دولت
ان لوگوں کے لیے نہ چھوڑو
جو یہ نہیں جانتے
کہ اس کے ہر سکے میں
تمہاری نیندوں کی قربانی
اور تمہارے خوابوں کی قیمت شامل ہے۔
اب وقت یہ نہیں
کہ تم نئی فکریں پال لو
یا سرمایہ کاری کے نئے بوجھ اٹھاؤ۔
اب وقت ہے
کہ تم صبح کی روشنی کو محسوس کرو
شام کی ہوا میں سانس لو
اور زندگی کے چھوٹے چھوٹے لمحوں کو
اپنی مٹھی میں تھام لو۔
اپنی صحت کو
اپنی سب سے بڑی دولت سمجھو۔
روز تھوڑا سا چلو
اچھی غذا کھاؤ
اور اپنے جسم کو وہ آرام دو
جس کا وہ برسوں سے منتظر ہے۔
اپنے آپ سے محبت کرو۔
اچھی چیزیں خریدو
خوبصورت کپڑے پہنو
اور اگر تمہارا ہم سفر تمہارے ساتھ ہے
تو اس کے ساتھ ہنسو
کیونکہ ایک دن
یہ ہنسی صرف یاد بن جائے گی
اور دولت اس یاد کو واپس نہیں لا سکے گی۔
ماضی کی گرد
اپنے دل پر نہ جمنے دو۔
جو بیت گیا وہ قصہ ہے
اور جو آنے والا ہے وہ راز۔
زندگی صرف اس لمحے میں ہے
جو اس وقت
تمہارے سانسوں میں زندہ ہے۔
نئی نسل کو سمجھو
ان کے خواب تم سے مختلف ہو سکتے ہیں
مگر وہی آنے والا کل ہیں۔
انہیں نصیحت دو
مگر اپنی کہانی کو
ان پر بوجھ نہ بناؤ۔
اگر دل میں کوئی شوق باقی ہے
تو اسے زندہ کر دو۔
سفر کرو
کتابیں پڑھو
باغ لگاؤ
ہوا کے ساتھ چلو
یا صرف بیٹھ کر
چاند کو دیکھو۔
اور سب سے بڑھ کر
دل میں نفرت نہ رکھو۔
جس نے تمہیں دکھ دیا
اسے معاف کر دو۔
اور اگر تم نے کسی کو دکھ دیا ہے
تو جھک کر معافی مانگ لو۔
کیونکہ عمر کے اس موڑ پر
سب سے قیمتی چیز
دل کا سکون ہوتا ہے۔
ہنسا کرو۔
کیونکہ تم خوش نصیب ہو
کہ تم نے اتنی لمبی زندگی دیکھی ہے۔
بہت سے لوگ
اس منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی
راستوں میں رہ جاتے ہیں۔
اس لیے
اپنے باقی دنوں کو۔
غم کی زنجیروں میں قید نہ کرو۔
انہیں آزادی دو
اور زندگی کو
ایک نرم مسکراہٹ کے ساتھ جیو۔

ایک دن آپ بھی بوڑھے ہو جائیں گےآج اگر آپ جوان ہیںاور آپ کے ماں باپ بوڑھے ہو چکے ہیںتو ایک لمحہ رک کر سوچئے۔کل یہی وقتآپ ...
16/03/2026

ایک دن آپ بھی بوڑھے ہو جائیں گے
آج اگر آپ جوان ہیں
اور آپ کے ماں باپ بوڑھے ہو چکے ہیں
تو ایک لمحہ رک کر سوچئے۔
کل یہی وقت
آپ کے دروازے پر بھی دستک دے گا۔
پاکستان میں ایک عجیب المیہ ہے۔
یہاں ماں باپ
اپنی پوری زندگی
اپنے بچوں کے نام کر دیتے ہیں۔
باپ ساری عمر
گرمی، سردی اور تھکن کے درمیان
رزق کمانے میں گزار دیتا ہے۔
ماں
اپنی نیندیں، اپنی خواہشیں
اور اپنی جوانی
اولاد کے مستقبل کے نام لکھ دیتی ہے۔
بچے بڑے ہو جاتے ہیں
ان کی شادیاں ہو جاتی ہیں
اور پھر زندگی کا منظر بدل جاتا ہے۔
کبھی وہی ماں
جو پورے گھر کی روشنی ہوتی تھی
ایک کمرے میں تنہا بیٹھی ہوتی ہے۔
کبھی وہی باپ
جو کبھی گھر کا سہارا تھا
آج خاموشی سے دیوار کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔
کچھ خوش نصیب ہوتے ہیں
جن کے بچے ان کا سہارا بن جاتے ہیں۔
مگر بہت سے ایسے بھی ہیں
جنہیں اولڈ ہوم میں چھوڑ دیا جاتا ہے
یا وہ اپنی ہی اولاد کے گھروں میں
اجنبی بن کر رہ جاتے ہیں۔
اور سب سے زیادہ دکھ کی بات یہ ہے
کہ وہ ماں باپ
جو ساری عمر دوسروں کے لیے جیتے رہے
وہ بڑھاپے میں بھی
پوتے پوتیوں کی فکر میں گھلتے رہتے ہیں۔
اپنی دوائیوں سے زیادہ
بیٹے کے خرچ کی فکر کرتے ہیں۔
اپنی تنہائی سے زیادہ
اولاد کی خوشی کے لیے دعا کرتے ہیں۔
مگر دنیا کے کئی ملکوں میں
لوگ عمر کے اس حصے میں
زندگی کا سب سے خوبصورت باب شروع کرتے ہیں۔
کوئی سمندر کے کنارے بیٹھ کر
اورنج جوس پی رہا ہوتا ہے۔
کوئی سفر کر رہا ہوتا ہے
کوئی موسیقی سن رہا ہوتا ہے
کوئی زندگی کے باقی لمحوں کو
شکر کے ساتھ گزار رہا ہوتا ہے۔
کیونکہ انہوں نے سیکھ لیا ہے
کہ زندگی صرف قربانی کا نام نہیں۔
زندگی جینے کا نام بھی ہے۔
اے پاکستان کے ماں باپ…
اگر آپ نے ساری عمر
اپنے بچوں کے لیے قربانیاں دی ہیں
تو اب اپنی باقی زندگی کو
آنسوؤں کی نذر مت کریں۔
اپنی محنت کی کمائی
اپنی خوشیوں پر خرچ کریں۔
اپنے لیے جئیں
چلیں
گھومیں
دوستوں سے ملیں
اور زندگی کو محسوس کریں۔
کیونکہ ایک دن
سب کو اس دنیا سے جانا ہے۔
مگر جانے سے پہلے
انسان کو یہ حق ضرور ہونا چاہیے
کہ وہ اپنی زندگی کے آخری دن
وقار اور سکون کے ساتھ گزار سکے۔
یاد رکھیں…
بڑھاپا بوجھ نہیں ہوتا
یہ زندگی کی وہ شام ہے
جس میں انسان کو
سب سے زیادہ سکون ملنا چاہیے۔
اور اگر آپ آج جوان ہیں
تو اپنے ماں باپ کو دیکھیں۔
کیونکہ کل
کوئی آپ کو بھی اسی نظر سے دیکھے گا۔


#بڑھاپا




#انسانیت
#سچائی

08/03/2026
لاہور لاہور ہے حال ہی میں حکومت کی طرف سے یہ اعلان سامنے آیا ہے کہ درزی، کلینک اور بعض خدمات فراہم کرنے والے لوگ اپنی مر...
07/03/2026

لاہور لاہور ہے

حال ہی میں حکومت کی طرف سے یہ اعلان سامنے آیا ہے کہ درزی، کلینک اور بعض خدمات فراہم کرنے والے لوگ اپنی مرضی سے اضافی پیسے نہیں لے سکیں گے، بلکہ ان کے ریٹ مناسب حد میں رکھے جائیں گے تاکہ عام آدمی پر بوجھ نہ پڑے۔
یہ ایک اچھا قدم ہے، کیونکہ اس سے مہنگائی کے اس دور میں عوام کو کچھ سہولت ملے گی۔
مگر ایک سوال بہت شدت سے دل میں اٹھتا ہے…
کیا حکومت کی توجہ گھروں کے کرایوں کی طرف بھی نہیں ہونی چاہیے؟
آج حالت یہ ہے کہ دو کمرے، ایک چھوٹا سا واش روم اور سیڑھیوں کے نیچے بنا ہوا واش کچن — ایسے معمولی اور بعض اوقات انتہائی خستہ حال گھروں کا کرایہ بھی 25 سے 30 ہزار روپے مانگا جا رہا ہے۔
پانچ مرلہ گھر 50 ہزار
ایک مزدور، ایک درزی، ایک چھوٹا ملازم یا روزانہ اجرت پر کام کرنے والا انسان جب مہینے کے آخر میں 30 یا 35 ہزار روپے کماتا ہے تو وہ فیصلہ کرے بھی تو کیا کرے؟
وہ اپنے بچوں کو کھانا کھلائے؟
بجلی اور گیس کے بل ادا کرے؟
یا صرف گھر کا کرایہ دے؟
زمینیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، گھر کروڑوں میں جا پہنچے ہیں، اور کرایوں پر کوئی واضح نظام موجود نہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ عام آدمی کے لیے چھت کا حصول دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
اگر یہی حالات رہے تو وہ وقت بھی دور نہیں جب لوگ مجبوری میں سڑکوں کے کنارے خیمے لگا کر رہنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
اس لیے حکومت پاکستان سے مودبانہ گزارش ہے کہ جس طرح دیگر شعبوں کے نرخ مقرر کیے جا رہے ہیں، اسی طرح گھروں کے کرایوں کے لیے بھی ایک باقاعدہ قانون اور مناسب حد مقرر کی جائے۔
ہر شہر میں کرایوں کا ایک معقول معیار طے ہونا چاہیے، اور اس سے زیادہ کرایہ لینے والوں کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔
کیونکہ ایک محفوظ چھت صرف ایک سہولت نہیں بلکہ ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔
امید ہے کہ حکومت اس اہم مسئلے پر سنجیدگی سے توجہ دے گی تاکہ عام آدمی کی زندگی کچھ آسان ہو سکے۔


#مہنگائی

#پاکستان














07/03/2026
رمضان… اور پڑوس کا حقرمضان صرف ہمارے دسترخوان کا نام نہیں،یہ ہمارے دل کے دروازے کھولنے کا مہینہ ہے۔کبھی ہم نے سوچا…؟جب ہ...
25/02/2026

رمضان… اور پڑوس کا حق
رمضان صرف ہمارے دسترخوان کا نام نہیں،
یہ ہمارے دل کے دروازے کھولنے کا مہینہ ہے۔
کبھی ہم نے سوچا…؟
جب ہمارے گھر میں افطاری کی خوشبو پھیلتی ہے،
سموسوں کی آواز کڑاہی میں سنائی دیتی ہے،
کھجوریں پلیٹ میں سجی ہوتی ہیں —
تو کیا ہمارے پڑوس کے گھر میں بھی چولہا جل رہا ہوتا ہے؟
کہیں کوئی بیمار تو نہیں
جو دوا کے ساتھ ایک گلاس دودھ کا منتظر ہو؟
کہیں کوئی بچہ روزہ تو رکھے بیٹھا نہیں
اور افطار کے وقت اس کے پاس صرف پانی ہو؟
میں نہ ڈیفنس کی بات کر رہی ہوں
نہ کسی ہائی سوسائٹی کی —
میں اُس محلے کی بات کر رہی ہوں
جہاں دیواریں مشترک ہوتی ہیں
جہاں دروازوں کے پار بھی زندگی سانس لیتی ہے
جہاں سچ میں پڑوسی رہتے ہیں۔
رمضان ہمیں بھوکا رہ کر
دوسروں کی بھوک محسوس کرنا سکھاتا ہے۔
اگر ہماری پلیٹ بھری ہو
اور ہمارا دل خالی —
تو ہم نے روزہ صرف رکھا ہے، سمجھا نہیں۔
آئیے…
اس رمضان ایک دستک اپنے پڑوس کے دروازے پر بھی دیں۔
شاید وہاں کسی کی دعا ہمارا انتظار کر رہی ہو۔

18/02/2026

چندا ماما دور کے اپنے پوتے کو لوری سنا رہی ہوں

Address

Exit 5
Riyadh

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Yasmin Sahar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram